Allah said,إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ |"I am surely with you both. I hear and I see.|" - 20:46) Here the word |"with you|" is used in the sense of divine help and support which human senses cannot perceive. Sayyidna Musa (علیہ السلام) called upon the Pharaoh to embrace the True Faith and also to deliver the Bani Isra&il from bondage This shows that the prophets have the duty of guiding mankind towards their salvation as well as to liberate their people from worldly and economic bondages. Therefore, in this verse Sayyidna Musa (علیہ السلام) is reminded of both these duties. God created everything; and everything is performing the functions assigned to it by Him This point calls for some elucidation which is given in the following lines. The guidance which Allah gives to the prophets and which is in the nature of a duty imposed upon them is a special kind of guidance which is addressed only to human beings and Jinns who are gifted with intellect. There is also another kind of guidance known as guidance of Takwin (creation) which every created thing possesses. Allah has given to fire, water, earth and air, and their compounds a special kind of feeling and perception which are not of the same nature as given to human beings and Jinns. This is the reason why the laws governing things which are permissible and those which are forbidden do not apply to them. Through this feeling and perception Allah has assigned duties to all created things and in obedience to this command of Takwin and guidance, the earth, the sky and every other created thing is busy performing its allotted tasks. Air, water, fire and earth are all fulfilling the purpose for which they were created. They do not deviate from their destined course except by the command of Allah. And when He so commands the fire turns into a bed of flowers (as for Sayyidna Ibrahim علیہ السلام), and water acts as fire as for the people of Sayyidna Nuh أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا - 71:25). Who has taught a newly born baby to draw milk from its mother&s breast or to cry when hungry or in pain? It is this same Divine guidance which every created thing receives without any formal training. In brief, every created thing has been programmed, by Allah, with a guidance of Takwin (creation) which it is genetically bound to follow and deviating from the same is beyond its power. The other kind of guidance which is given to the human beings and to Jinns is not inherent in the nature and thus, is not compulsory but optional. It is this freedom of choice which renders them liable to reward for good deeds and to punishment for their sins. The verse
اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سب کچھ سنتا اور دیکھتا رہوں گا۔ معیت سے مراد نصرت و امداد ہے جس کی پوری حقیقت و کیفیت کا ادراک انسان کو نہیں ہو سکتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو دعوت ایمان کے ساتھ اپنی قوم کو معاشی مصیبت سے بھی چھڑانے کی دعوت دی : اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) جیسے خلق خدا کو ہدایت ایمان دینے کا منصب رکھتے ہیں اسی طرح اپنی امت کو دنیوی اور معاشی مصائب سے آزاد کرنا بھی ان کے منصب میں شامل ہوتا ہے اس لئے قرآن کریم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت فرعون میں دونوں چیزیں شامل ہیں اول اللہ پر ایمان، دوسرے بنی اسرائیل کی آزادی خصوصاً اس آیت مذکورہ میں تو صرف اسی دوسرے جزء کے ذکر پر اکتفا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور پھر ہر ایک کے وجود کے مناسب اس کو ہدایت فرمائی جس سے وہ اس کام میں لگ گئی : تفصیل اس کی یہ ہے کہ ایک ہدایت جو انبیاء (علیہم السلام) کا وظیفہ اور فرض منصبی ہے وہ تو خاص ہدایت ہے جس کے مخاطب اہل عقول انسان اور جنات ہی ہوتے ہیں۔ ایک دوسری قسم کی تکوینی ہدایت بھی ہے جو مخلوقات میں ہر چیز کے لئے عام اور شامل ہے۔ آگ، پانی، مٹی اور ہوا اور ان سے مرکب ہونے والی ہر شئی کو حق تعالیٰ نے ایک خاص قسم کا ادراک و شعور دیا ہے جو اگرچہ انسان و جن کی برابر نہیں، اسی لئے احکام حلال و حرام ان چیزوں پر عائد نہیں ہوتے مگر ادراک و شعور سے خالی نہیں، اسی ادراک و شعور کے راستہ حق تعالیٰ نے ہر شئے کو اس کی ہدایت کردی کہ تو کس کام کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ تجھے کیا کرنا ہے۔ اسی تکوینی حکم اور ہدایت کے تابع زمین و آسمان اور ان کی تمام مخلوقات اپنے اپنے کام اور اپنی اپنی ڈیوٹی پر لگے ہوئے ہیں۔ چاند سورج اپنا کام کر رہے ہیں اور دوسرے سیارے و ثوابت اپنے اپنے کام میں اس طرح لگے ہوئے ہیں کہ ایک منٹ یا سیکنڈ کا بھی کبھی فرق نہیں ہوتا۔ ہوا، پانی، آگ اور مٹی اپنی اپنی منشاء پیدائش میں لگے ہوئے ان سے بغیر حکم ربانی سرمو فرق نہیں کرتے۔ ہاں جب ان کا حکم ہوتا ہے تو کبھی آگ گلزار بھی بن جاتی ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اور کبھی پانی آگ کا بھی کام کرنے لگتا ہے جیسے قوم نوح کے لئے اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا بچہ کو ابتداء پیدائش کے وقت جبکہ اس کو کوئی بات سکھانا کسی کے بس میں نہیں یہ کس نے سکھایا کہ ماں کی چھاتی سے اپنی غذا حاصل کرے، اس کے لئے چھاتی کو دبا کر چوسنے کا ہنر کس نے بتلایا، بھوک پیاس سردی گرمی کی تکلیف ہو تو رو پڑنا اس کی ساری ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔ مگر یہ رونا کس نے سکھایا ؟ یہ وہی ہدایت ربانی ہے جو ہر مخلوق کو اسی کی حیثیت اور ضرورت کے مطابق غیب سے بغیر کسی کی تعلیم کے عطا ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے ایک عام ہدایت تکوینی ہر ہر مخلوق کے لئے ہے جس کی ہر مخلوق تکوینی طور پر پابند ہے اور اس کے خلاف کرنا اس کی قدرت سے خارج ہے، دوسری ہدایت خاص اہل عقول انسان و جن کے لئے ہے یہ ہدایت تکوینی اور جبری نہیں بلکہ اختیاری ہوتی ہے، اسی اختیار کے نتیجہ میں اس پر ثواب یا عذاب مرتب ہوتا ہے۔