Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 46

سورة طه

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیۡ مَعَکُمَاۤ اَسۡمَعُ وَ اَرٰی ﴿۴۶﴾

[ Allah ] said, "Fear not. Indeed, I am with you both; I hear and I see.

جواب ملا کہ تم مطلقاً خوف نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا دیکھتا رہوں گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

He (Allah) said: "Fear not, verily, I am with you both, hearing and seeing." meaning; "Do not fear him (Fir`awn), for verily, I am with you and I hear your speech and his speech as well. I see your place and I see his place as well. Nothing is hidden from Me of your affair. Know that his forehead is in My Hand, and he does not speak, breathe, or use any force, except by My leave and after My command. I am with you by My protection, My help and My support."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

46۔ 1 تم فرعون کو جا کر کہو گے اور اس کے جواب میں جو کہے گا، میں وہ سنتا اور تمہارے اور اس کے طرز عمل کو دیکھتا رہوں گا۔ اس کے مطابق میں تمہاری مدد اور اس کی چالوں کو ناکام کروں گا، اس لئے اس کے پاس جاؤ، فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ : بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں، اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ساتھ ہے، فرمایا : (وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ) [ الحدید : ٤ ] ” اور وہ تمہارے ساتھ ہے، تم جہاں کہیں بھی ہو۔ “ مگر یہاں اس سے مراد خاص معیت (ساتھ) ہے، یعنی میں تمہاری ہر طرح سے حفاظت و نصرت کروں گا، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) سے فرمایا تھا : ( لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا) [ التوبۃ : ٤٠ ] ” غم نہ کر، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ “ غور کیجیے پورے مصر کے وسائل کے مالک، بےپناہ فوج کے پہرے میں رب اور معبود ہونے کے دعوے دار کے پاس مقہور و مجبور اور غلام قوم کے دو آدمی جاتے ہیں، جن کے پاس بظاہر ایک لاٹھی کے سوا کچھ نہیں، نہ انھیں کوئی پہرے دار روک سکتا ہے اور نہ فوج کو روکنے کی جرأت ہوتی ہے۔ وہ سیدھے فرعون کے بھرے دربار میں بلاخوف و خطر جا کر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اس کے ہر سوال کا جواب دیتے ہیں اور اس کے ہر مغالطے کا پردہ چاک کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ لاجواب ہو کر قید کی دھمکی دیتا ہے، مگر اسے نہ قید کرنے کی جرأت ہوتی ہے اور نہ کسی اور زیادتی کی، اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونے کا مظاہرہ اور کیا ہوگا ؟ اَسْمَعُ وَاَرٰى : میں دوسرے بھیجنے والوں کی طرح نہیں جو اپنا قاصد بھیج کر نہ اسے دیکھ سکتے ہیں اور نہ اس کی بات سن سکتے ہیں، بلکہ میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں، تمہاری اور سب کی ہر بات سن رہا ہوں اور ہر عمل دیکھ رہا ہوں۔ ایسی کوئی بات اور ایسا کوئی کام نہ ہونے دوں گا جس کا تمہیں خوف ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Allah said,إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَ‌ىٰ |"I am surely with you both. I hear and I see.|" - 20:46) Here the word |"with you|" is used in the sense of divine help and support which human senses cannot perceive. Sayyidna Musa (علیہ السلام) called upon the Pharaoh to embrace the True Faith and also to deliver the Bani Isra&il from bondage This shows that the prophets have the duty of guiding mankind towards their salvation as well as to liberate their people from worldly and economic bondages. Therefore, in this verse Sayyidna Musa (علیہ السلام) is reminded of both these duties. God created everything; and everything is performing the functions assigned to it by Him This point calls for some elucidation which is given in the following lines. The guidance which Allah gives to the prophets and which is in the nature of a duty imposed upon them is a special kind of guidance which is addressed only to human beings and Jinns who are gifted with intellect. There is also another kind of guidance known as guidance of Takwin (creation) which every created thing possesses. Allah has given to fire, water, earth and air, and their compounds a special kind of feeling and perception which are not of the same nature as given to human beings and Jinns. This is the reason why the laws governing things which are permissible and those which are forbidden do not apply to them. Through this feeling and perception Allah has assigned duties to all created things and in obedience to this command of Takwin and guidance, the earth, the sky and every other created thing is busy performing its allotted tasks. Air, water, fire and earth are all fulfilling the purpose for which they were created. They do not deviate from their destined course except by the command of Allah. And when He so commands the fire turns into a bed of flowers (as for Sayyidna Ibrahim علیہ السلام), and water acts as fire as for the people of Sayyidna Nuh أُغْرِ‌قُوا فَأُدْخِلُوا نَارً‌ا - 71:25). Who has taught a newly born baby to draw milk from its mother&s breast or to cry when hungry or in pain? It is this same Divine guidance which every created thing receives without any formal training. In brief, every created thing has been programmed, by Allah, with a guidance of Takwin (creation) which it is genetically bound to follow and deviating from the same is beyond its power. The other kind of guidance which is given to the human beings and to Jinns is not inherent in the nature and thus, is not compulsory but optional. It is this freedom of choice which renders them liable to reward for good deeds and to punishment for their sins. The verse

اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سب کچھ سنتا اور دیکھتا رہوں گا۔ معیت سے مراد نصرت و امداد ہے جس کی پوری حقیقت و کیفیت کا ادراک انسان کو نہیں ہو سکتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو دعوت ایمان کے ساتھ اپنی قوم کو معاشی مصیبت سے بھی چھڑانے کی دعوت دی : اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) جیسے خلق خدا کو ہدایت ایمان دینے کا منصب رکھتے ہیں اسی طرح اپنی امت کو دنیوی اور معاشی مصائب سے آزاد کرنا بھی ان کے منصب میں شامل ہوتا ہے اس لئے قرآن کریم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت فرعون میں دونوں چیزیں شامل ہیں اول اللہ پر ایمان، دوسرے بنی اسرائیل کی آزادی خصوصاً اس آیت مذکورہ میں تو صرف اسی دوسرے جزء کے ذکر پر اکتفا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور پھر ہر ایک کے وجود کے مناسب اس کو ہدایت فرمائی جس سے وہ اس کام میں لگ گئی : تفصیل اس کی یہ ہے کہ ایک ہدایت جو انبیاء (علیہم السلام) کا وظیفہ اور فرض منصبی ہے وہ تو خاص ہدایت ہے جس کے مخاطب اہل عقول انسان اور جنات ہی ہوتے ہیں۔ ایک دوسری قسم کی تکوینی ہدایت بھی ہے جو مخلوقات میں ہر چیز کے لئے عام اور شامل ہے۔ آگ، پانی، مٹی اور ہوا اور ان سے مرکب ہونے والی ہر شئی کو حق تعالیٰ نے ایک خاص قسم کا ادراک و شعور دیا ہے جو اگرچہ انسان و جن کی برابر نہیں، اسی لئے احکام حلال و حرام ان چیزوں پر عائد نہیں ہوتے مگر ادراک و شعور سے خالی نہیں، اسی ادراک و شعور کے راستہ حق تعالیٰ نے ہر شئے کو اس کی ہدایت کردی کہ تو کس کام کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ تجھے کیا کرنا ہے۔ اسی تکوینی حکم اور ہدایت کے تابع زمین و آسمان اور ان کی تمام مخلوقات اپنے اپنے کام اور اپنی اپنی ڈیوٹی پر لگے ہوئے ہیں۔ چاند سورج اپنا کام کر رہے ہیں اور دوسرے سیارے و ثوابت اپنے اپنے کام میں اس طرح لگے ہوئے ہیں کہ ایک منٹ یا سیکنڈ کا بھی کبھی فرق نہیں ہوتا۔ ہوا، پانی، آگ اور مٹی اپنی اپنی منشاء پیدائش میں لگے ہوئے ان سے بغیر حکم ربانی سرمو فرق نہیں کرتے۔ ہاں جب ان کا حکم ہوتا ہے تو کبھی آگ گلزار بھی بن جاتی ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اور کبھی پانی آگ کا بھی کام کرنے لگتا ہے جیسے قوم نوح کے لئے اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا بچہ کو ابتداء پیدائش کے وقت جبکہ اس کو کوئی بات سکھانا کسی کے بس میں نہیں یہ کس نے سکھایا کہ ماں کی چھاتی سے اپنی غذا حاصل کرے، اس کے لئے چھاتی کو دبا کر چوسنے کا ہنر کس نے بتلایا، بھوک پیاس سردی گرمی کی تکلیف ہو تو رو پڑنا اس کی ساری ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔ مگر یہ رونا کس نے سکھایا ؟ یہ وہی ہدایت ربانی ہے جو ہر مخلوق کو اسی کی حیثیت اور ضرورت کے مطابق غیب سے بغیر کسی کی تعلیم کے عطا ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے ایک عام ہدایت تکوینی ہر ہر مخلوق کے لئے ہے جس کی ہر مخلوق تکوینی طور پر پابند ہے اور اس کے خلاف کرنا اس کی قدرت سے خارج ہے، دوسری ہدایت خاص اہل عقول انسان و جن کے لئے ہے یہ ہدایت تکوینی اور جبری نہیں بلکہ اختیاری ہوتی ہے، اسی اختیار کے نتیجہ میں اس پر ثواب یا عذاب مرتب ہوتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى۝ ٤٦ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:46) اسمع واری۔ میں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں یہ معکما کی تفسیر ہے یعنی ڈرومت میں تمہارے ساتھ ہوں اور جو تمہارے اور اس کے درمیان قولاً وفعلاً گذرے گا میں اسے اچھی طرح سننے اور دیکھنے والا ہوں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 لہٰذا تیرے لئے یہی بہتر ہے کہ سرکشی چھوڑ کر سیدھی راہ اختیار کرے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال لاتخافآ اننی معکما اسمع واری (٠٢ : ٦٣) ” فرمایا ڈرو مت ، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔ “ میں تمہارے ساتھ ہوں ، اگر وہ قوی ہے ، بڑا ہے اور سرکش ہے تو اللہ تو پانے تمام بندوں کے اوپر کنٹرول کرنے والا ہے۔ ھو القاھر فوق عبادہ وہ تمام کائنات ، تمام انسانوں ، تمام حیوانات اور تمام اشیاء کو صرف کن سے پیدا کرتا ہے۔ کن سے زیادہ اسے کچھ نہیں کہنا پڑتا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں بس یہ اجمالی تسلی کافی ہے۔ لیکن اللہ ان کے اندر مزید طمانیت اور احساس جگانے کے لئے فرماتے ہیں : اسمع واری (٠٢ : ٦٣) ” میں سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں۔ “ فرعون کیا ہوتا ہے ؟ اس کی ملکیت میں کیا ہے ؟ وہ کیونکر زیادتی اور سرکشی کرسکتا ہے ؟ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ یہ اطمینان دلانے کے بعد ان کو انداز دعوت بھی سکھایا جاتا ہے اور مختصر دعوت بھی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

27:۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلا دیا کہ تم بےخوف و خطر جا کر میرا پیغام پہنچاؤ میری مدد تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ قال العلماء لما لحقھما ما یلحق البشر من الخوف علی انفسھما عرفھما اللہ سبحانہ ان فرعون لا یصل الیھما ولا قومہ (قرطبی ج 11 ص 202) ۔ ” فَاْتِیٰهُ “ لہذا تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے صاف کہہ دو ہم تیرے رب کے پیغمبر ہیں، اس لیے تم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو اور ان کو عذاب مت دو ۔ اور ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزات لے کر آئے ہیں اور یاد رکھو دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے سلامتی صرف اس شخص کے لیے ہے، جس نے وہ ہدایت قبول کرلی جو ہم لے کر آئے ہیں۔ ای السلام ۃ من العزاب فی الدارین لمن اتبع ذلک بتصدیق ایات اللہ تعالیٰ الھادیۃ الی الحق (روح ج 16 ص 198) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

46 حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا تم بالکل خوف نہ کرو اور کچھ اندیشہ نہ کرو بلاشبہ می تم دونوں کے ساتھ ہوں سب سنتا اور دیکھتا ہوں۔ یعنی میں تمہارا محافظ اور نگراں ہوں خوف کی کوئی وجہ نہیں۔