Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 61

سورة طه

قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰی وَیۡلَکُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسۡحِتَکُمۡ بِعَذَابٍ ۚ وَ قَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰی ﴿۶۱﴾

Moses said to the magicians summoned by Pharaoh, "Woe to you! Do not invent a lie against Allah or He will exterminate you with a punishment; and he has failed who invents [such falsehood]."

موسٰی ( علیہ السلام ) نے ان سےکہا تمہاری شامت آچکی ، اللہ تعالٰی پر جھوٹ اور افتراء نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذابوں سے ملیامیٹ کردے ، یاد رکھو وہ کبھی کامیاب نہ ہوگا جس نے جھوٹی بات گھڑی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ لَهُم مُّوسَى وَيْلَكُمْ لاَا تَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ... Musa said to them: "Woe unto you! Invent not a lie against Allah..." This means, "Do not make an illusion before the people of something that is not real, making it appear as if it were a creature, when it is not really a creature. If you do this, then you would be lying on Allah." ... فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ ... lest He (Allah) should destroy you completely by a torment. This means, `He will destroy you with a destructive punishment that will not spare anything, or anyone.' ... وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

61۔ 1 جب فرعون اجتماع گاہ میں جادو گروں کو مقابلہ کی ترغیب دے رہا تھا اور ان کو انعامات اور قرب خصوصی سے نواز نے کا اظہار کر رہا تھا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی مقابلے سے پہلے انھیں وعظ کیا اور ان کے موجودہ رویے پر انھیں عذاب الٰہی سے ڈرایا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٣] مقابلہ سے پہلے فرعون کو موسیٰ کی تنبیہ :۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اکابرین قوم فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بار پھر تنبیہ کی اور فرمایا : شامت کے مارو ! اب بھی سمجھ جاؤ اور معجزہ کو جادو نہ بتلاؤ۔ جب تم حقیقت کو پوری طرح سمجھ چکے ہو تو دوسروں کی آنکھوں میں دھول نہ ڈالو۔ اور جو شخص حق کو سمجھ لینے کے بعد اس کا انکار کرے گا اللہ اسے اپنے عذاب سے دوچار کردے گا۔ تمہارا جھوٹا پروپیگنڈا جھوٹ ہی ثابت ہوگا اور جھوٹ کبھی تادیر چل نہیں سکتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا : ” وَيْلَكُمْ “ ” تمہاری بربادی ہو “ نصیحت کرتے ہوئے سختی کا لفظ بھی استعمال ہوسکتا ہے اور محبت اور بےتکلفی کا بھی، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبصیر (رض) کو فرمایا تھا : ( وَیْلُ أُمِّہِ مِسْعَرَ حَرْبٍ ) [ بخاری، الشروط، باب الشروط في الجھاد۔۔ : ٢٧٣١، ٢٧٣٢]” اس کی ماں مرے ! یہ تو لڑائی بھڑکانے والا ہے۔ “ موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے فرعون کو نصیحت کی تھی، اب اس کے امراء اور جادوگروں کو بھی نصیحت کرنا ضروری تھا، چناچہ انھیں سمجھایا بھی اور ڈرایا بھی۔ فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ : ” أَسْحَتَ یُسْحِتُ “ أَیْ ” اِسْتَأْصَلَ “ جڑ سے اکھاڑ پھینکنا۔ ” عذابٍ “ کی تنوین تنکیر کے لیے ہو تو ” کسی عذاب کے ساتھ “ ترجمہ ہوگا اور تعظیم کے لیے ہو تو ” بڑے عذاب کے ساتھ “ ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sayyidna Miisa&s I prophetic address to the magicians Before the start of the contest Sayyidna Musa (علیہ السلام) addressed some words of friendly advice to the magicians to warn them of divine punishment if they persisted in denying God&s miracles and other manifestations of His power. His actual words were: وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُ‌وا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُم بِعَذَابٍ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَ‌ىٰ Pity on you, do not fabricate a lie against Allah, lest He uproots you with a punishment. And loser is he who fabricates a lie - 20:61. It was hardly to be expected that the magicians who had entered the field with all the might of the Pharaoh-behind them would pay any heed to Sayyidna Musa&s (علیہ السلام) words of advice. However, the prophets and their followers possess a hidden power so that their plain and simple words penetrate the most unruly and perverse minds, and the address of Sayyidna Musa (علیہ السلام) caused discord and dissensions among the magicians, some of whom thought that these could not be the words of a magician but of a higher being and were therefore, against the contest. But others were adamant,

موسیٰ (علیہ السلام) کا جادوگروں کو پیغمبرانہ خطاب : جادو کا مقابلہ معجزات سے کرنے سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں کو ہمدردانہ نصیحت آمیز چند کلمات کہہ کر اللہ کے عذاب سے ڈرایا وہ الفاظ یہ تھے وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ ۚ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى یعنی تمہاری ہلاکت سامنے آ چکی ہے، اللہ تعالیٰ پر افتراء اور بہتان نہ لگاؤ کہ اس کے ساتھ خدائی میں فرعون یا کوئی اور شریک ہے، اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تم کو عذاب میں پیس ڈالے گا اور تمہاری جڑی بنیاد اکھاڑ دے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتا ہے وہ انجام کار ناکام اور محروم ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ فرعون کی طاغوتی طاقت و قوت اور چشم و خدم کے سہارے جو لوگ مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں آ چکے تھے ان واعظانہ کلمات کا ان پر کوئی اثر ہونا بہت ہی بعید تھا مگر انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کیساتھ حق کی ایک مخفی طاقت و شوکت ہوتی ہے ان کے سادے الفاظ بھی سخت سے سخت دلوں پر تیر و نشتر کا کام کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے یہ جملے سن کر ساحروں کی صفوں میں ایک زلزلہ پڑگیا اور آپس میں اختلاف ہونے لگا کہ یہ کلمات کوئی جادوگر نہیں کہہ سکتا ہی تو اللہ ہی کی طرف سے معلوم ہوتے ہیں اس لئے بعض نے کہا کہ ان کا مقابلہ کرنا مناسب نہیں اور بعض اپنی بات پر جمے رہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللہِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ۝ ٠ۚ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى۝ ٦١ ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] ( و ی ل ) الویل اصمعی نے کہا ہے کہ ویل برے مونں میں استعمال ہوتا ہے اور حسرت کے موقع پر ویل اور تحقیر کے لئے ویس اور ترحم کے ویل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ اور جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ان پر افسوس ہے اس لئئے کہ بےاصل باتیں اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور پھر ان پر افسوس ہے اس لئے کہ ایسے کام کرتے ہیں وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] اور کافروں کے لئے سخت عذاب کی جگہ خرابی ہے ۔ فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، ( ف ری ) القری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جھوٹ شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ سحت السُّحْتُ : القشر الذي يستأصل، قال تعالی: فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذابٍ. [ طه/ 61] ، وقرئ : فَيَسْحِتَكُمْ يقال : سَحَتَهُ وأَسْحَتَهُ ، ومنه : السَّحْتُ والسُّحْتُ للمحظور الذي يلزم صاحبه العار، كأنه يسحت دينه ومروء ته، قال تعالی: أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ [ المائدة/ 42] ، أي : لما يسحت دينهم . وقال عليه السلام : «كلّ لحم نبت من سحت فالنّار أولی به» وسمّي الرّشوة سحتا لذلک، وروي «كسب الحجّام سحت» فهذا لکونه سَاحِتاً للمروءة لا للدّين، ألا تری أنه أذن عليه السلام في إعلافه الناضح وإطعامه المماليك ( س ح ت ) السحت ۔ اصل میں اس چھلکے کو کہتے ہیں جو پوری طرح اتار لیا جائے ( اور اس سے ہلاک کردینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ) چناچہ قرآن میں ہے :َفَيُسْحِتَكُمْ بِعَذابٍ «1» . [ طه/ 61] اور نہ وہ تم ( پر کوئی ) عذاب ( نازل کر کے اس ) سے تم کو ملیامیٹ کر دے گا ۔ اس میں ایک قرات ( فتح یاء کے ساتھ ) بھی ہے اور سحتہ ( ض ) و اسحتہ ( افعال کے ایک ہی معنی آتے ہیں یعنی بیخ کنی اور استیصال کرنا ۔ پھر اسی سے سحت کا لفظ ہر اس ممنوع چیز پر بولا جانے لگا ہے جو باعث عار ہو کیونکہ وہ انسان کے دین اور مروت کی جڑ کاٹ دیتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ [ المائدة/ 42] اور مال حرام کو کھاتے چلے جاتے ہیں ۔ یعنی وہ چیز جو ان کے دین کا ناس کرنے والی ہے ۔ ایک حدیث میں ہے (171) کل لحم نبت من سحت فالنار اولی بہ ۔۔۔۔ جو گوشت مال حرام کے کھانے سے پیدا ہو وہ آگ کے لائق ہے اور اسی سے رشوت کو سحت کہا گیا ہے (172) ایک روایت میں ہے (173) کہ حجام ( پچھنا لگانے والے ) کی کمائی |" سحت |" ہے ۔ تو یہاں سحت بمعنی حرام نہیں ہے جو دین کو برباد کرنے والا ہو بلکہ سحت بمعنی مکروہ ہے یعنی ایسی کمائی مروت کے خلاف ہے کیونکہ آنحضرت نے ایسی کمائی سے اونٹنی کو چارہ ڈالنے اور غلاموں کو کھانے کھلانے کا حکم دیا ہے ۔ خاب الخَيْبَة : فوت الطلب، قال : وَخابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ [إبراهيم/ 15] ، وَقَدْ خابَ مَنِ افْتَرى [ طه/ 61] ، وَقَدْ خابَ مَنْ دَسَّاها [ الشمس/ 10] . ( خ ی ب ) خاب ( ض ) کے معنی ناکام ہونے اور مقصد فوت ہوجانے کے ہیں : قرآن میں ہے : ۔ وَخابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ [إبراهيم/ 15] تو ہر سرکش ضدی نامراد ہوگیا ۔ وَقَدْ خابَ مَنِ افْتَرى [ طه/ 61] اور جس نے افتر ا کیا وہ نامراد رہا ۔ وَقَدْ خابَ مَنْ دَسَّاها [ الشمس/ 10] اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦١) موسیٰ (علیہ السلام) نے ان جادوگروں سے فرمایا ارے لعنتیو اللہ تعالیٰ پر بہتان مت لگاؤ کہیں اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے عذاب سے ہلاک ہی نہ کر دے۔ اور جو اللہ تعالیٰ پر بہتان لگاتا ہے وہ ناکام رہتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦١ (قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰی وَیْلَکُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍج ) ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آخری حجت کے طور پر انہیں خبردار کیا کہ دیکھو تم لوگ اللہ پر افترا بازی نہ کرو ‘ میں جو کچھ پیش کر رہا ہوں یہ جادو نہیں ہے ‘ یہ اللہ کا عطا کردہ معجزہ ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

33. The adversaries whom Prophet Moses addressed were Pharaoh and his courtiers who had dubbed him as a sorcerer, and not the common people, who had yet to see the encounter between him and the magicians. 34. The inventing of lie was that they had dubbed Allah’s Messenger as a sorcerer and his miracles as a piece of sorcery.

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :33 یہ خطاب عوام سے نہ تھا جنہیں ابھی حضرت موسیٰ کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا وہ معجزہ دکھاتے ہیں یا جادو ، بلکہ خطاب فرعون اور اس کے درباریوں سے تھا جو انہیں جادوگر قرار دے رہے تھے ۔ سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :34 یعنی اس کے معجزے کو جادو اور اس کے پیغمبر کو ساحر کذاب نہ قرار دو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

23: یعنی کفر کی راہ اختیار نہ کرو، کیونکہ کفر کا ہر باطل عقیدہ اﷲ تعالیٰ پر بہتان باندھنے کے مرادف ہے

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦١:۔ تاریخ مقررہ پر جادوگر میدان میں آئے اور فرعون بھی مع اپنے مصاحبوں کے وہاں آیا اور ایک اونچی جگہ تخت بچھا کر بیٹھا اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے کہا کہ اے کم بختو تم جادو کی جھوٹی باتوں کو جادو کے زور سے سچی کر کے جو لوگوں کو دکھاتے ہو اس سے تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو کیونکہ مثلا اللہ کی پیدا کی ہوئی لکڑی کے سانپ ہونے کا اقرار جو تم لوگوں سے کراتے ہو تو اس میں اللہ کو جھٹلاتے ہو کہ یہ رسی اور لکڑی نہیں بلکہ سانپ ہیں اس جھوٹ کے جرم میں اللہ تعالیٰ تمہیں کسی آفت سے ہلاک کردے گا کس لیے کہ جھوٹا شخص کبھی فلاح کو نہیں پہنچتا۔ صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کی عادت کرے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹوں میں لکھ لیا جاتا ہے ١ ؎۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ کے حوالہ سے ابوہریرہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جیسا کوئی شخص جاتا ہے تمام دنیا کے لوگ اس کو ویسا ہی جاننے لگتے ہیں ٢ ؎۔ ان حدیثوں سے وقدخاب من افتٰری کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں ایسا شخص جھوٹا مشہور ہوجاتا ہے اور عقبیٰ میں اس کو جھوٹ کی سزا ملے گی غرض دین ودنیا میں کہیں ایسا شخص فلاح کو نہیں پہنچ سکتا۔ ١ ؎ صحیح مسلم ص ٣٢٥ ج ٢ باب قبح الکذب الخ ٢ ؎ نیز مشکوٰۃ ص ٤٤٥ باب الحب فی اللہ والبغض فی اللہ ضصل اول۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:61) ویلکم۔ اے کم بختو۔ تمہاری کم بختی۔ لا تفتروا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم افترا نہ کرو۔ تم جھوٹ مت باندھو۔ افتراء (افتعال) مصدر۔ فری مادہ۔ یسحتکم۔ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اسحات مصدر۔ (افعال) سے وہ تم کو ہلاک کردے گا۔ وہ تم کو تباہ کر دے گا۔ السحت اصل میں اس چھلکے کو کہتے ہیں جو اچھی طرح اتار لیا جاوے۔ اور اس لئے ہلاک ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ۔ اکلون للسحت بڑے حرام کھانے والے (کیونکہ حرام بھی دین کو تباہ کرنے والا ہے) ۔ خاب۔ ماضی واحد مذکر غائب خیبۃ مصدر (باب ضرب) وہ نامراد ہوا۔ وہ خراب ہوا اس کا مطلب فوت ہوا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ یعنی اس میدان میں جہاں وعدہ ٹھہرا تھا آیا۔ 8۔ کہ اس کے وجود یا توحید کا انکار کرنے لگو، یا اس کے ظاہر کئے ہوئے معجزات کو سحر بتلانے لگو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال لھم ……من افتری (١٦) دل سے جو بات نکلتی ہے ، اثر رکھتی ہے۔ نظر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس بات کا اثر بعض جادوگروں پر ہوا تھا۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے یہ الفاظ نہایت ہی اخلاص اور دلسوزی سے ادا کئے تھے۔ اس کا ان پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے اس قدر پر نظرثانی کے لئے تیار ہوگئے لیکن جو لوگ اس مقابلے میں اصرار کر رہے تھے اس کا ان پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے اس اقدام پر نظرثانی کے لئے تیار ہوگئے لیکن جو لوگ اس مقابلے پر اصرار کر رہے تھے انہوں نے دوسروں کے ساتھ جھگڑنا شروع کردیا لیکن سرگوشی کی شکل میں تاکہ موسیٰ نہ سن سکے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

6 1 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ایک عام خطاب فرمایا اور مخالفوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تمہارے لئے خرابی ہو اللہ تعالیٰ کے اوپر جھوٹ افترا اور بہتان نہ لگائو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم کو کسی عذاب سے نیست و نابود کر دے اور کسی سزا سے تم کو برباد کر دے اور جس نے افتراء پردازی کا شیوہ اختیار کیا وہ برباد ہوا اور اپنے مقصد میں ناکام ہوا۔ یعنی یا تو یہ جادوگروں کو فرمایا یا اعیان سلطنت اور جادوگروں کو سب کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور انبیاء کے معجزات کو جادو کہہ کر ان کا مقابلہ نہ کرو ورنہ مارے جائو گے اور تباہ و برباد کردیئے جائو گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب فرعون نے ساحر جمع کئے اور سب امیروں کو اسی بات پر اٹھا تب حضرت موسیٰ نے ہر شخص کو نصیحت کردی جدا جدا۔ 12