Sayyidna Miisa&s I prophetic address to the magicians Before the start of the contest Sayyidna Musa (علیہ السلام) addressed some words of friendly advice to the magicians to warn them of divine punishment if they persisted in denying God&s miracles and other manifestations of His power. His actual words were: وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُم بِعَذَابٍ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَىٰ Pity on you, do not fabricate a lie against Allah, lest He uproots you with a punishment. And loser is he who fabricates a lie - 20:61. It was hardly to be expected that the magicians who had entered the field with all the might of the Pharaoh-behind them would pay any heed to Sayyidna Musa&s (علیہ السلام) words of advice. However, the prophets and their followers possess a hidden power so that their plain and simple words penetrate the most unruly and perverse minds, and the address of Sayyidna Musa (علیہ السلام) caused discord and dissensions among the magicians, some of whom thought that these could not be the words of a magician but of a higher being and were therefore, against the contest. But others were adamant,
موسیٰ (علیہ السلام) کا جادوگروں کو پیغمبرانہ خطاب : جادو کا مقابلہ معجزات سے کرنے سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں کو ہمدردانہ نصیحت آمیز چند کلمات کہہ کر اللہ کے عذاب سے ڈرایا وہ الفاظ یہ تھے وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ ۚ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى یعنی تمہاری ہلاکت سامنے آ چکی ہے، اللہ تعالیٰ پر افتراء اور بہتان نہ لگاؤ کہ اس کے ساتھ خدائی میں فرعون یا کوئی اور شریک ہے، اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تم کو عذاب میں پیس ڈالے گا اور تمہاری جڑی بنیاد اکھاڑ دے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتا ہے وہ انجام کار ناکام اور محروم ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ فرعون کی طاغوتی طاقت و قوت اور چشم و خدم کے سہارے جو لوگ مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں آ چکے تھے ان واعظانہ کلمات کا ان پر کوئی اثر ہونا بہت ہی بعید تھا مگر انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کیساتھ حق کی ایک مخفی طاقت و شوکت ہوتی ہے ان کے سادے الفاظ بھی سخت سے سخت دلوں پر تیر و نشتر کا کام کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے یہ جملے سن کر ساحروں کی صفوں میں ایک زلزلہ پڑگیا اور آپس میں اختلاف ہونے لگا کہ یہ کلمات کوئی جادوگر نہیں کہہ سکتا ہی تو اللہ ہی کی طرف سے معلوم ہوتے ہیں اس لئے بعض نے کہا کہ ان کا مقابلہ کرنا مناسب نہیں اور بعض اپنی بات پر جمے رہے۔