56. The part of the story relating to their journey from the Red Sea to the foot of Mount Toor has been omitted. This has already been given in (Surah Al-Aaraf, Ayats 138-147). It has also been stated there that the Israelites said to Moses: O Moses, make a god for us like the gods these people have. See (Surah Al-Aaraf, Ayat 138 and its E.N. 98).
57. That is, on the eastern side of Toor.
58. According to (Surah Al-Baqarah, Ayat 51) and (Surah Al-Aaraf, Ayat 142), Prophet Moses (peace be upon him) and the chiefs of the Israelites were summoned to Mount Toor for receiving the divine commandments on stone tablets for the guidance of the people. See (E.N. 71 of Surah Al-Baqarah).
59. For details please see (E.N. 73 of Surah Al-Baqarah )and (E.N. 119 of Surah Al-Aaraf). According to the Bible, manna and salva started being provided to the Israelites when they were passing through the wilderness between Elim and Sinai. According to Exodus, manna and salva were sent down thus.
And it came to pass, that at even the quails came up, and covered the camp: and in the morning the dew lay round about the host. And when the dew that lay was gone up, behold upon the face of the wilderness there lay a small round thing, as small as the hoar frost on the ground. And when the children of Israel saw it, they said one to another, It is manna: for they wist not what it was. And Moses said unto them, This is the bread which the Lord hath given you to eat. And the house of Israel called the name thereof manna: and it was like coriander seed, white; and the taste of it was like wafers made with honey. (16: 13-15, 31).
In Numbers, the following details have been given:
And the people went about, and gathered it, and ground it in mills, or beat it in a mortar, and baked it in pans, and made cakes of it: and the taste of it was as the taste of fresh oil. And when the dew fell upon the camp in the bight, the manna fell upon it. (11: 8-9).
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :56
سمندر کو عبور کرنے سے لے کر کوہ سینا کے دامن میں پہنچنے تک کی داستان بیچ میں چھوڑ دی گئی ہے ۔ اس کی تفصیلات سورۂ اعراف رکوع 16 ۔ 17 میں گزر چکی ہیں ۔ اور وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ مصر سے نکلتے ہی بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا کے ایک مندر کو دیکھ کر اپنے لیے ایک بناوٹی خدا مانگ بیٹھے تھے ( تفہیم القرآن ۔ جلد دوم ، الاعراف ، حاشیہ 98 )
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :57
یعنی طور کے مشرقی دامن میں ۔
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :58
سورہ بقرہ رکوع 6 ، اور سورہ اعراف رکوع 17 میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو شریعت کا ہدایت نامہ عطا کرنے کے لیے چالیس دن کی میعاد مقرر کی تھی جس کے بعد حضرت موسیٰ کو پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام عطا کیے گئے ۔
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :59
من و سلویٰ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول البقرہ ، حاشیہ 73 ۔ الاعراف ، حاشیہ 118 ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد جب بنی اسرائیل دشت سین میں ایلیم اور سینا کے درمیان گزر رہے تھے اور خوراک کے ذخیرے ختم ہو کر فاقوں کی نوبت آ گئی تھی ، اس وقت من و سلویٰ کا نزول شروع ہوا ، اور فلسطین کے آباد علاقے میں پہنچنے تک پورے چالیس سال یہ سلسلہ جاری رہا ( خروج ، باب 16 ۔ گنتی باب 11 ، آیت 7 ۔ 9 ۔ یشوع ، باب 5 ، آیت 12 ) کتاب خروج میں من و سلویٰ کی یہ کیفیت بیان کی گئی ہے
اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بٹیریں آئیں کہ ان کی خیمہ گاہ کو ڈھانک لیا ۔ اور صبح کو خیمہ گاہ کے آس پاس اوس پڑی ہوئی تھی اور جب وہ اوس جو پڑی تھی سوکھ گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول گول چیز ، ایسی چھوٹی جیسے پالے کے دانے ہوتے ہیں ، زمین پر پڑی ہے ۔ بنی اسرائیل اسے دیکھ کر آپس میں کہنے لگے مَن؟ کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے ( باب 16 ۔ آیت 13 ۔ 15 ) ۔
اور بنی اسرائیل نے اس کا نام من رکھا اور وہ دھنیے کے بیج کی طرح سفید اور اس کا مزہ شہد کے بنے ہوئے پوئے کی طرح تھا ( آیت 31 ) ۔
گنتی میں اس کی مزید تشریح یہ ملتی ہے ؟
لوگ ادھر ادھر جا کر اسے جمع کرتے اور اسے چکی میں پیستے یا اوکھلی میں کوٹ لیتے تھے ۔ پھر اسے ہانڈیوں میں ابال کر روٹیاں بناتے تھے ۔ اس کا مزہ تازہ تیل کا سا تھا ۔ اور رات کو جب لشکر گاہ میں اوس پڑتی تو اس کے ساتھ من بھی گرتا تھا اب 11 ۔ آیت 8 ۔ 9 )
یہ بھی ایک معجزہ تھا ۔ کیونکہ 40 برس بعد جب بنی اسرائیل کے لیے خوراک کے فطری ذرائع بہم پہنچ گئے تو یہ سلسلہ بند کر دیا گیا ۔ اب نہ اس علاقے میں بٹیروں کی وہ کثرت ہے ، نہ من ہی کہیں پایا جاتا ہے ۔ تلاش و جستجو کرنے والوں نے ان علاقوں کو چھان مارا ہے جہاں بائیبل کے بیان کے مطابق بنی اسرائیل نے 40 سال تک دشت نوردی کی تھی ۔ من ان کو کہیں نہ ملا ۔ البتہ کاروباری لوگ خریداروں کو بیوقوف بنانے کے لیے من کا حلوا ضرور بیچتے پھرتے ہیں ۔