Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 80

سورة طه

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ قَدۡ اَنۡجَیۡنٰکُمۡ مِّنۡ عَدُوِّکُمۡ وَ وٰعَدۡنٰکُمۡ جَانِبَ الطُّوۡرِ الۡاَیۡمَنَ وَ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ﴿۸۰﴾

O Children of Israel, We delivered you from your enemy, and We made an appointment with you at the right side of the mount, and We sent down to you manna and quails,

اے بنی اسرائیل! دیکھو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہ طور کی دائیں طرف کا وعدہ اور تم پر من و سلویٰ اتارا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

A Reminder for the Children of Israel of Allah's Favors upon Them Allah reminds the Children of Israel; يَا بَنِي إِسْرَايِيلَ قَدْ أَنجَيْنَاكُم مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوَاعَدْنَاكُمْ جَانِبَ الطُّورِ الاْاَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى O Children of Israel! We delivered you from your enemy, and We made a covenant with you on the right side of the Mount, and We sent down to you manna and quail, Allah reminds of His tremendous favors upon the Children of Israel and His numerous blessings. He saved them from their enemy, Fir`awn, and He relieved their eyes by drowning him and his hosts all at one time while they watched. Allah said, وَأَغْرَقْنَا ءَالَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ And We drowned Fir`awn people while you were looking. (2:50) Al-Bukhari recorded that Ibn Abbas said, "When the Messenger of Allah came to Al-Madinah, he found the Jews fasting the day of `Ashura'. Therefore he asked them about it and they said, `This is the day that Allah gave Musa victory over Fir`awn.' Then, the Prophet said, نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى فَصُومُوه We have more right to Musa (than them), so fast it. Muslim also recorded this narration in his Sahih. Then, Allah made a covenant with Musa and the Children of Israel on the right side of the Mountain, after the destruction of Fir`awn. This is the Mountain upon which Allah spoke to Musa and He told Musa's people to look at it when they requested to see Allah. It is also the same Mountain upon which Musa was given the Tawrah, while at the same time the Children of Israel began worshipping the (statue of a) calf, as Allah relates in the forth coming Ayat. The manna and quails have previously been discussed in Surah Al-Baqarah and other Surahs. Manna was a sweet substance that descended upon them from the sky and the quail (Salwa) was a type of bird that would fall down to them. They would fill every pot with them as ample provisions until the following day. This was a kindness and a mercy from Allah upon them. It was a manifestation of Allah's good treatment of them. For this reason Allah says,

احسانات کی یاد دہانی ۔ اللہ تبارک وتعالی نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے انہیں یاددلارہا ہے ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی ۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا ۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا جیسے فرمان ہے ( واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون ) ۔ یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر کامیاب کیا تھا ۔ آپ نے فرمایا پھر توہمیں بہ نسبت تمہارے ان سے زیادہ قرب ہے چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا حکم دیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ دیا ۔ آپ وہاں گئے اور پیچھے سے بنو اسرائیل نے گوسالہ پرستی شروع کردی ۔ جس کا بیان ابھی آگے آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اسی طرح ایک احسان ان پر یہ کیا کہ من وسلوی کھانے کو دیا اس کا پورا بیان سورۃ بقرۃ وغیرہ کی تفیسر میں گزر چکا ہے من ایک میٹھی چیز تھی جو ان کے لئے آسمان سے اترتی تھی اور سلوی ایک قسم کے پرند تھے جو بہ حکم خداوندی ان کے سامنے آجاتے تھے یہ بقدر ایک دن کی خوراک کے انہیں لے لیتے تھے ۔ ہماری یہ دی ہوئی روزی کھاؤ اس میں حد سے نہ گزر جاؤ حرام چیزیا حرام ذریعہ سے اسے نہ طلب کرو ۔ ورنہ میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب اترے یقین مانو کہ وہ بدبخت ہو گیا ۔ حضرت شغی بن مانع رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ایک اونچی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں کافر کو جہنم میں گرایا جاتا ہے تو زنجیروں کی جگہ تک چالیس سال میں پہنچتا ہے یہی مطلب اس آیت کاہے کہ وہ گڑھے میں گر پڑا ۔ ہاں جو بھی اپنے گناہوں سے میرے سامنے توبہ کرے میں اس کی توبہ قبول کرتا ہوں ۔ دیکھو بنی اسرائیل میں سے جہنوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی ان کی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا ۔ غرض جس کفر و شرک گناہ و معصیت پر کوئی ہو پھر وہ اسے بخوف الہی چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے ہاں دل میں ایمان اور اعمال صالحہ بھی کرتا ہو اور ہو بھی راہ راست پر ۔ شکی نہ ہو سنت رسول اور جماعت صحابہ کی روش پر ہو اس میں ثواب جانتا ہو یہاں پر ثم کا لفظ خبر کی خبر پر ترتیب کرنے کے لئے آیا ہے جیسے فرمان ( ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ 17؀ۭ ) 90- البلد:17 )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

80۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر تمہیں یعنی تمہارے نمائندے بھی ساتھ لے کر آئیں تاکہ تمہارے سامنے ہی ہم موسیٰ (علیہ السلام) سے ہم کلام ہوں، یا ضمیر جمع اس لئے لائی گئی کہ کوہ طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو بلانا، بنی اسرائیل ہی کی خاطر اور انہی کی ہدایت و رہنمائی کے لئے تھا۔ 80۔ 2 من وسلویٰ کے نزول کا واقعہ، سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے۔ من کوئی میٹھی چیز تھی جو آسمان سے نازل ہوئی تھی اور سلویٰ سے مراد بٹیر پرندے ہیں جو کثرت سے ان کے پاس آتے اور وہ حسب ضرورت انھیں پکڑ کر پکاتے اور کھالیتے۔ (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ قَدْ اَنْجَيْنٰكُمْ ۔۔ : یہ تین آیتیں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کے درمیان جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے دو آیات (٥٥، ٥٦) گزر چکی ہیں۔ اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کے بنی اسرائیل مخاطب ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے یہود کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کروائی جا رہی ہوں، جیسا کہ : (يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ ) [ البقرۃ : ٤٠، ٤٧، ١٢٢ ] میں ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تین نعمتیں یاد دلائیں۔ سب سے پہلے غلامی سے نجات کی عظیم نعمت، اس کے بعد طور پر بلا کر دینی احکام پر مشتمل کتاب عطا کرنے کی نعمت اور آخر میں بلامشقت من وسلویٰ کا پاکیزہ اور لذیذ ترین رزق عطا کرنے کی نعمت۔ من وسلویٰ کی تفسیر کے لیے دیکھیں سورة بقرہ (٥٧) ۔ وَوٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ ۔۔ : اس واقعہ کا ذکر سورة بقرہ (٥٢) میں بھی ہے اور اس کی تفصیل سورة اعراف (١٤٢ تا ١٤٧) میں ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہاڑ کی دائیں جانب سے مراد کیا ہے ؟ کیونکہ پہاڑ کی ہر جانب ہی کھڑے ہونے والے شخص کے لحاظ سے دائیں بھی ہوسکتی ہے اور بائیں بھی۔ جواب اس کا یہ ہے کہ زمانۂ جاہلیت اور اسلام میں جغرافیہ اور محل وقوع میں جہتوں کے تعین کے لیے مشرق کو اصل قرار دیا گیا ہے، چناچہ یمن اور شام کے نام اسی مناسبت سے رکھے گئے ہیں کہ کعبہ سے مشرق کی طرف رخ کریں تو دائیں طرف یمن ہے، جس کا معنی دایاں ہے اور بائیں طرف شام۔ امرؤ القیس نے بھی ایک بادل کے برسنے کا محل وقوع بیان کرتے ہوئے کہا ہے ؂ عَلٰی قَطَنٍ بالشَّیْمِ أَیْمَنُ صَوْبِہِ وَ أَیْسَرَہُ عَلَی السِّتَارِ فَیَذْبُلِ ” غور سے دیکھنے پر اس کی بارش کا دایاں حصہ قطن مقام پر تھا اور اس کا بایاں حصہ ستار پھر یذبل نامی مقام پر تھا۔ “ اس صورت میں اگر ” الْاَيْمَنَ “ سے مراد دائیں جانب لیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کے طور کی مغربی جانب اس کی طرف رخ کرکے کھڑے ہونے پر پہاڑ کی دائیں طرف (جنوب) مراد ہوگی، جیسا کہ مدین سے مصر کو آتے ہوئے پہلی وحی کے وقت وہ پہاڑ کی مغربی جانب میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : (وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ اِذْ قَضَيْنَآ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَمَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِيْنَ ) [ القصص : ٤٤ ] ” اور اس وقت تو مغربی جانب میں نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم کی وحی کی۔ “ اور اگر ” الْاَيْمَنَ “ کو ” یَمِیْنٌ“ (دائیں) کے بجائے ” یُمْنٌ“ (برکت) سے اسم تفضیل مانیں تو دائیں بائیں کی تعیین کی ضرورت ہی نہیں بلکہ طور کی جانب ایمن (بابرکت جانب) اور اس سورت کی آیت (١٢) : (اِنَّكَ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ) میں مذکور وادی مقدس دونوں سے مراد وادی طویٰ ہوگی۔ (ابن عاشور)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَوَاعَدْنَاكُمْ جَانِبَ الطُّورِ‌ الْأَيْمَنَ (And appointed for you the right side of the mount Tur. (20:80) ) After their deliverance from the threat of the Pharaoh, and when they were safe across the river, Allah made a promise to Sayyidna Musa (علیہ السلام) and through him to the Bani Isra&il that they should move to the right side of the mount of Tur so that Sayyidna Musa (علیہ السلام) might be given the Torah and so that they might witness him speak with Allah. وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ (And sent down for you the Mann and Sa1w. - 20:80) This incident occurred when, having crossed the river, they were commanded to enter a sacred city, but they refused and as punishment they were confined to a valley which is known as the valley of Tih (Sinai). They stayed there for forty years and in spite of the punishment which they were undergoing they continued to receive gifts from Allah, and the Mann and Salwa (a special kind of food) was one such gifts which was given to them for their sustenance.

وَوٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ ، فرعون سے نجات اور دریا سے پار ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اور ان کے واسطے سے تمام بنی اسرائیل سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ کوہ طور کی داہنی جانب چلے آئیں تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا کی جائے اور بنی اسرائیل خود بھی ان کے شرف ہم کلامی کا مشاہدہ کرلیں۔ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل عبور دریا کے بعد آگے بڑھے اور ایک مقدس شہر میں داخل ہونے کا ان کو حکم ملا۔ انہوں نے خلاف ورزی کی اس کی یہ سزا دی گئی کہ اس وادی میں جس کو وادی تیہ کہتے ہیں قید کردیئے گئے۔ یہاں سے چالیس سال تک باہر نہ نکل سکے۔ اس سزا کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برکت سے ان پر اس قید کے زمانے میں بھی طرح طرح کے انعامات ہوتے رہے انہیں میں سے من وسلوی کا انعام تھا جو ان کی غذا کے لئے دیا جاتا تھا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ قَدْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى۝ ٨٠ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ عدو العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ «3» ، أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال : رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] ( ع د و ) العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونا ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو یہ عداوۃ اور معاداۃ کہلاتی ہے اور اگر رفتار سے ہو تو اسے عدو کہا جاتا ہے اور اگر عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں ہو تو اسے عدوان اور عدو کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں ۔ اور اگر اس کا تعلق کسی جگہ کے اجزاء کے ساتھ ہو تو اسے عدواء کہہ دیتے ہیں جیسے مکان ذوعدوء ناہموار مقام چناچہ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے رجل عدو وقوم عدو اور یہ واحد جمع دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ جنب أصل الجَنْب : الجارحة، وجمعه : جُنُوب، قال اللہ عزّ وجل : فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ [ التوبة/ 35] ، وقال تعالی: تَتَجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ [ السجدة/ 16] ، وقال عزّ وجلّ : قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] . ثم يستعار من الناحية التي تليها کعادتهم في استعارة سائر الجوارح لذلک، نحو : الیمین والشمال، ( ج ن ب ) الجنب اصل میں اس کے معنی پہلو کے ہیں اس کی جمع جنوب ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے ۔ فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ [ التوبة/ 35] پھر اس سے ان ( بخیلوں ) کی پیشانیاں اور پہلو داغے جائیں گے ۔ تَتَجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ [ السجدة/ 16] ان کے پہلو بچھو نوں سے الگ رہنے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ پہلو کی سمت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسا کہ یمین ، شمال اور دیگر اعضا میں عرب لوگ استعارات سے کام لیتے ہیں ۔ طور طَوَارُ الدّارِ وطِوَارُهُ : ما امتدّ منها من البناء، يقال : عدا فلانٌ طَوْرَهُ ، أي : تجاوز حدَّهُ ، ولا أَطُورُ به، أي : لا أقرب فناء ه . يقال : فعل کذا طَوْراً بعد طَوْرٍ ، أي : تارة بعد تارة، وقوله : وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً [ نوح/ 14] ، قيل : هو إشارة إلى نحو قوله تعالی: خَلَقْناكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ [ الحج/ 5] ، وقیل : إشارة إلى نحو قوله : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] ، أي : مختلفین في الخَلْقِ والخُلُقِ. والطُّورُ اسمُ جبلٍ مخصوصٍ ، وقیل : اسمٌ لكلّ جبلٍ وقیل : هو جبل محیط بالأرض «2» . قال تعالی: وَالطُّورِ وَكِتابٍ مَسْطُورٍ [ الطور/ 1- 2] ، وَما كُنْتَ بِجانِبِ الطُّورِ [ القصص/ 46] ، وَطُورِ سِينِينَ [ التین/ 2] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وَرَفَعْنا فَوْقَهُمُ الطُّورَ [ النساء/ 154] . ( ط و ر ) طوارا لدار وطوارھ کے معنی گھر کی عمارت کے امتداد یعنی لمبا ہونے اور پھیلنے کے ہیں محاورہ ہے : ۔ عدا فلان طوارہ فلاں اپنی حدود سے تجاوز کر گیا ۔ لاوطور بہ میں اسکے مکان کے صحن کے قریب تک نہیں جاؤں گا ۔ فعل کذا طورا بعد طور اس نے ایک بار کے بعد دوسری باریہ کام کیا اور آیت کریمہ : ۔ وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً [ نوح/ 14] کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ کہ اطوارا سے ان مختلف منازل ومدارج کی طرف اشارہ ہے جو کہ آیت : ۔ خَلَقْناكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ [ الحج/ 5] ہم نے تم کو ( پہلی بار بھی ) تو پیدا کیا تھا ( یعنی ابتداء میں ) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بناکر پھر اس سے خون کا لوتھڑا بناکر پھر اس سے بوٹی بناکر ۔ میں مذکور ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مختلف احوال مراد ہیں جن کی طرف آیت : ۔ وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا ۔ میں اشارہ فرمایا ہے یعنی جسمانی اور اخلاقی تفاوت جو کہ ہر معاشرہ میں نمایاں طور پر پا یا جاتا ہے ۔ الطور ( ایلہ کے قریب ایک خاص پہاڑ کا نام ہے) اور بعض نے کہا ہے کہ ہر پہاڑ کو طور کہہ سکتے ہیں اور بعض کے نزدیک طور سے وہ سلسلہ کوہ مراد ہے جو کرہ ارض کو محیط ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَالطُّورِ وَكِتابٍ مَسْطُورٍ [ الطور/ 1- 2] کوہ طور کی قسم اور کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے ۔ وَما كُنْتَ بِجانِبِ الطُّورِ [ القصص/ 46] اور نہ تم اس وقت طور کے کنارے تھے ۔ وَطُورِ سِينِينَ [ التین/ 2] اور طورسنین کی ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب سے پکارا ۔ وَرَفَعْنا فَوْقَهُمُ الطُّورَ [ النساء/ 154] اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کر کھڑا کیا ۔ يمین ( دائیں طرف) اليَمِينُ : أصله الجارحة، واستعماله في وصف اللہ تعالیٰ في قوله : وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] علی حدّ استعمال الید فيه، و تخصیص اليَمِينِ في هذا المکان، والأرض بالقبضة حيث قال جلّ ذكره : وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] «1» يختصّ بما بعد هذا الکتاب . وقوله :إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ [ الصافات/ 28] أي : عن الناحية التي کان منها الحقّ ، فتصرفوننا عنها، وقوله : لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ [ الحاقة/ 45] أي : منعناه ودفعناه . فعبّر عن ذلک الأخذ باليَمِينِ کقولک : خذ بِيَمِينِ فلانٍ عن تعاطي الهجاء، وقیل : معناه بأشرف جو ارحه وأشرف أحواله، وقوله جلّ ذكره : وَأَصْحابُ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 27] أي : أصحاب السّعادات والمَيَامِنِ ، وذلک علی حسب تعارف الناس في العبارة عن المَيَامِنِ باليَمِينِ ، وعن المشائم بالشّمال . واستعیر اليَمِينُ للتَّيَمُّنِ والسعادة، وعلی ذلک وَأَمَّا إِنْ كانَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 90- 91] ، وعلی هذا حمل : 477- إذا ما راية رفعت لمجد ... تلقّاها عرابة باليَمِين ( ی م ن ) الیمین کے اصل معنی دایاں ہاتھ یا دائیں جانب کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لیپٹے ہوں گے ۔ میں حق تعالیٰ کی طرف یمن نسبت مجازی ہے ۔ جیسا کہ ید وغیر ہا کے الفاظ باری تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوتے ہیں یہاں آسمان کے لئے یمین اور بعد میں آیت : ۔ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی ۔ میں ارض کے متعلق قبضۃ کا لفظ لائے میں ایک باریک نکتہ کی طرف اشارہ ہے جو اس کتاب کے بعد بیان ہوگا اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ [ الصافات/ 28] تم ہی ہمارے پاس دائیں اور بائیں ) اسے آتے تھے ۔ میں یمین سے مراد جانب حق ہے یعنی تم جانب حق سے ہمیں پھیرتے تھے اور آیت کریمہ : ۔ لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ [ الحاقة/ 45] تو ہم ان کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے ۔ میں دایاں ہاتھ پکڑ لینے سے مراد روک دینا ہے جیسے محاورہ ہے : ۔ یعنی فلاں کو ہجو سے روک دو ۔ بعض نے کہا ہے کہ انسان کا دینا ہاتھ چونکہ افضل ہے سمجھاجاتا ہے اسلئے یہ معنی ہو نگے کہ ہم بہتر سے بہتر حال میں بھی اسے با شرف اعضاء سے پکڑ کر منع کردیتے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَصْحابُ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 27] اور دہنے ہاتھ والے ۔ میں دہنی سمت والوں سے مراد اہل سعادت ہیں کو ین کہ عرف میں میامن ( با برکت ) ) کو یمین اور مشاے م ( منحوس ) کو شمالی کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے اور استعارہ کے طور پر یمین کا لفظ بر کت وسعادت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَأَمَّا إِنْ كانَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 90- 91] اگر وہ دائیں ہاتھ والوں یعنی اصحاب خیر وبر کت سے ہے تو کہا جائیگا تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام اور ایس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( 426 ) اذا ما رایۃ رفعت ملجد تلقا ھا عرا بۃ بالیمین جب کبھی فضل ومجد کے کاموں کے لئے جھنڈا بلند کیا جاتا ہے تو عرابۃ اسے خیر و برکت کے ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا منّ ( من و سلوي) في قوله : وَأَنْزَلْنا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوى[ البقرة/ 57] فقد قيل : المنّ شيء کالطّلّ فيه حلاوة يسقط علی الشجر، والسّلوی: طائر، وقیل : المنّ والسّلوی، كلاهما إشارة إلى ما أنعم اللہ به عليهم، وهما بالذّات شيء واحد لکن سماه منّا بحیث إنه امتنّ به عليهم، وسماه سلوی من حيث إنّه کان لهم به التّسلّي . ومَنْ عبارة عن النّاطقین، ولا يعبّر به عن غير النّاطقین إلا إذا جمع بينهم وبین غيرهم، کقولک : رأيت مَنْ في الدّار من النّاس والبهائم، أو يكون تفصیلا لجملة يدخل فيهم النّاطقون، کقوله تعالی: فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي الآية [ النور/ 45] . ولا يعبّر به عن غير النّاطقین إذا انفرد، بعض نے کہا ہے منۃ بالقول بھی اسی سے ہے کیونکہ احسان جتلانے نعمت کو قطع کر دیاتا ہے اور شکر گزرای کئ انقطاع کو مقتضی ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَنْزَلْنا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوى[ البقرة/ 57] اور تمہارے لئے من سلوی اتارتے رہے ۔ میں من سے شبنمی گوند مراد ہے جو رات کو درخت کو درخت کے پے وں پر چم جاتی تھی اور سلویٰ ایک پرند کا نام ہے بعض نے کہا ہے کہ من اور سلوی سے احسانات کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کئے تھے اور یہ دونوں اصل میں ایک ہی چیز سے عبارت ہیں ؛لیکن ان پر احسان کرنے کے لحاظ سے اسے من کہا ہے اور اس لحاظ سے کہ وہ نعمت ان کے لئے باعث اطمینا ن تھی اسے سلویٰ فرمایا ہے جو کہ تسلی سے ماخوذ ہے ۔ اس سے ذوی العقول مراد ہوتے ہیں اور غیر ذوی العقول پر اس کا اطلاق یا تو اس وقت ہوتا ہے ۔ جب وہ ذوی العقول کے ملتبع مراد ہوں مثلا رایت من فی الدار کہہ کر گھر کے لوگ اور بہا ئم دونوں مراد لئے جائیں ۔ اور یا اس وقت جب اہل نطق کے ساتھ شامل کر کے پھر ان کی تفصیل بیان کرنا مقصود ہوتی ہے جیسے فرمایا : ۔ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي الآية [ النور/ 45] تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور یہ یہ تنہا غیر ذوی العقول کے لئے استعمال نہیں ہوتا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٠) اے بنی اسرائیل دیکھو ہم نے تمہیں فرعون سے نجات دی اور ہم نے تمہارے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور کے دائیں جانب آنے کا اور وہاں آنے کے بعد کتاب توریت دینے کا وعدہ کیا اور وادی تیہ میں تم پر من وسلوی نازل فرمایا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٠ (یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ عَدُوِّکُمْ وَوٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ ) ” یہ اسی مقام کا ذکر ہے جہاں پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

56. The part of the story relating to their journey from the Red Sea to the foot of Mount Toor has been omitted. This has already been given in (Surah Al-Aaraf, Ayats 138-147). It has also been stated there that the Israelites said to Moses: O Moses, make a god for us like the gods these people have. See (Surah Al-Aaraf, Ayat 138 and its E.N. 98). 57. That is, on the eastern side of Toor. 58. According to (Surah Al-Baqarah, Ayat 51) and (Surah Al-Aaraf, Ayat 142), Prophet Moses (peace be upon him) and the chiefs of the Israelites were summoned to Mount Toor for receiving the divine commandments on stone tablets for the guidance of the people. See (E.N. 71 of Surah Al-Baqarah). 59. For details please see (E.N. 73 of Surah Al-Baqarah )and (E.N. 119 of Surah Al-Aaraf). According to the Bible, manna and salva started being provided to the Israelites when they were passing through the wilderness between Elim and Sinai. According to Exodus, manna and salva were sent down thus. And it came to pass, that at even the quails came up, and covered the camp: and in the morning the dew lay round about the host. And when the dew that lay was gone up, behold upon the face of the wilderness there lay a small round thing, as small as the hoar frost on the ground. And when the children of Israel saw it, they said one to another, It is manna: for they wist not what it was. And Moses said unto them, This is the bread which the Lord hath given you to eat. And the house of Israel called the name thereof manna: and it was like coriander seed, white; and the taste of it was like wafers made with honey. (16: 13-15, 31). In Numbers, the following details have been given: And the people went about, and gathered it, and ground it in mills, or beat it in a mortar, and baked it in pans, and made cakes of it: and the taste of it was as the taste of fresh oil. And when the dew fell upon the camp in the bight, the manna fell upon it. (11: 8-9).

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :56 سمندر کو عبور کرنے سے لے کر کوہ سینا کے دامن میں پہنچنے تک کی داستان بیچ میں چھوڑ دی گئی ہے ۔ اس کی تفصیلات سورۂ اعراف رکوع 16 ۔ 17 میں گزر چکی ہیں ۔ اور وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ مصر سے نکلتے ہی بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا کے ایک مندر کو دیکھ کر اپنے لیے ایک بناوٹی خدا مانگ بیٹھے تھے ( تفہیم القرآن ۔ جلد دوم ، الاعراف ، حاشیہ 98 ) سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :57 یعنی طور کے مشرقی دامن میں ۔ سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :58 سورہ بقرہ رکوع 6 ، اور سورہ اعراف رکوع 17 میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو شریعت کا ہدایت نامہ عطا کرنے کے لیے چالیس دن کی میعاد مقرر کی تھی جس کے بعد حضرت موسیٰ کو پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام عطا کیے گئے ۔ سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :59 من و سلویٰ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول البقرہ ، حاشیہ 73 ۔ الاعراف ، حاشیہ 118 ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد جب بنی اسرائیل دشت سین میں ایلیم اور سینا کے درمیان گزر رہے تھے اور خوراک کے ذخیرے ختم ہو کر فاقوں کی نوبت آ گئی تھی ، اس وقت من و سلویٰ کا نزول شروع ہوا ، اور فلسطین کے آباد علاقے میں پہنچنے تک پورے چالیس سال یہ سلسلہ جاری رہا ( خروج ، باب 16 ۔ گنتی باب 11 ، آیت 7 ۔ 9 ۔ یشوع ، باب 5 ، آیت 12 ) کتاب خروج میں من و سلویٰ کی یہ کیفیت بیان کی گئی ہے اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بٹیریں آئیں کہ ان کی خیمہ گاہ کو ڈھانک لیا ۔ اور صبح کو خیمہ گاہ کے آس پاس اوس پڑی ہوئی تھی اور جب وہ اوس جو پڑی تھی سوکھ گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول گول چیز ، ایسی چھوٹی جیسے پالے کے دانے ہوتے ہیں ، زمین پر پڑی ہے ۔ بنی اسرائیل اسے دیکھ کر آپس میں کہنے لگے مَن؟ کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے ( باب 16 ۔ آیت 13 ۔ 15 ) ۔ اور بنی اسرائیل نے اس کا نام من رکھا اور وہ دھنیے کے بیج کی طرح سفید اور اس کا مزہ شہد کے بنے ہوئے پوئے کی طرح تھا ( آیت 31 ) ۔ گنتی میں اس کی مزید تشریح یہ ملتی ہے ؟ لوگ ادھر ادھر جا کر اسے جمع کرتے اور اسے چکی میں پیستے یا اوکھلی میں کوٹ لیتے تھے ۔ پھر اسے ہانڈیوں میں ابال کر روٹیاں بناتے تھے ۔ اس کا مزہ تازہ تیل کا سا تھا ۔ اور رات کو جب لشکر گاہ میں اوس پڑتی تو اس کے ساتھ من بھی گرتا تھا اب 11 ۔ آیت 8 ۔ 9 ) یہ بھی ایک معجزہ تھا ۔ کیونکہ 40 برس بعد جب بنی اسرائیل کے لیے خوراک کے فطری ذرائع بہم پہنچ گئے تو یہ سلسلہ بند کر دیا گیا ۔ اب نہ اس علاقے میں بٹیروں کی وہ کثرت ہے ، نہ من ہی کہیں پایا جاتا ہے ۔ تلاش و جستجو کرنے والوں نے ان علاقوں کو چھان مارا ہے جہاں بائیبل کے بیان کے مطابق بنی اسرائیل نے 40 سال تک دشت نوردی کی تھی ۔ من ان کو کہیں نہ ملا ۔ البتہ کاروباری لوگ خریداروں کو بیوقوف بنانے کے لیے من کا حلوا ضرور بیچتے پھرتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:80) انجینکم۔ ہم نے تمہیں نجات دی۔ وعدنکم۔ ہم نے تم سے وعدہ کیا (اس بات کا کہ تمہارے پیغمبر اور تمہارے اکابر یہاں آئیں ۔ جانب الطور الایمن۔ جانب مضاف الطورمضاف الیہ الایمن صف ہے جانب کی۔ یعنی طور کی دائیں جانب۔ اور تمہارے لئے احکام و ہدایات یہاں سے لے جائیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 کیونکہ اس نے جب بنی اسرائیل کا پیچھا کرنے کیلئے اپنی قوم کو ساتھ لیا تھا یہ کہا تھا کہ موسیٰ اور ان کے ساتھی ہم سے بچ کر نہیں جاسکتے اس لئے کہ وہ خشک راستے پر جا رہے ہیں اور ان کے سامنے سمندر ہے۔ مگر ہوا یہ کہ بنی اسرائیل تو بچ کر نکل گئے، اور فرعون اپنی پوری قوم سمیت تباہ ہوگیا۔2 مراد پہاڑ کی وہی جانب ہے جہاں پہلے حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوئے تھے۔ مصر سے شام جاتے ہوئے کوہ طور داہنی جانب پڑتا ہے۔ سورة بقرہ رکوع 6 اور سورة اعراف رکوع میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تورۃ دینے کے لئے چلایس دن کی معیاد مقرر کی تھی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ طور سے تختیوں پر لکھی ہوئی توراۃ لے کر واپس ہوئے پہلی نعمت دنیوی ہے اور یہ نعمت دینی ہے۔3 تیسری بار پھر نعمت دنیوی کا ذکر فرمایا۔ من وسلویٰ کی تفسیر کے لئے دیکھیے۔ ( سورة بقرہ :57)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ جانب طور کو ایمن اس لئے فرمایا کہ وہ جانب اس طرف جانے والے کے داہنے ہاتھ پڑتی ہے، اور بعض نے یمن سے لیا ہے یعنی برکت یعنی جانب مبارک، اس کی توحید ظاہر ہے کیونکہ محل وحی کے مبارک ہونے میں کیا شبہہ ہے۔ چناچہ اس کو مقدس بھی کہا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل کے احوال کا ذکر۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو غرق کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہارے دشمن سے تمہیں نجات دی اور اور پر اپنی طرف سے من اور سلویٰ نازل کرنے کے بعد تمہیں حکم دیا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں حلال طیب عطا فرمایا ہے۔ اسے کھاؤ اور حد سے گزرنے کی کوشش نہ کرو۔ اگر تم حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کروگے تو میرا غضب تم پر نازل ہوگا۔ جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا۔ پہلی آیت میں نہایت اختصار کے ساتھ تین واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ١۔ بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کے ساتھیوں سے نجات دلانا۔ دیگر مقامات پر اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اے بنی اسرائیل ! اپنے رب کے اس احسان کو یاد کرو جب اس نے تمہیں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے مظالم سے نجات دی۔ فرعون تمہیں بدترین سزائیں دینے کے ساتھ تمہارے بیٹوں کو قتل کرتا اور تمہاری بیٹیوں کو باقی رہنے دیتا تھا۔ یہ تمہارے لیے بہت بڑی آزمائش تھی۔ ہم نے تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ دیا تاکہ تم سلامتی کے ساتھ اس سے گزر جاؤ اور تمہارے سامنے فرعون اور اس کے لاؤ و لشکر کو غرق کردیا۔ (البقرۃ : ٤٩۔ ٥٠) ٢۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ بیت المقدس میں داخل ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی فتح تمہارے مقدر میں لکھ دی ہے۔ لیکن تم نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ ہم بیت المقدس میں داخل نہیں ہوں گے کیونکہ وہاں بڑے طاقتور لوگ رہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تمہیں بار بار سمجھایا لیکن تم نے ان کا حکم ماننے کی بجائے اس حد تک گستاخی کی کہ اے موسیٰ تو اور تیرا خدا جا کر لڑو ہم تو یہاں بیٹھے رہیں گے۔ تفصیل کے لیے المائدۃ : ٢٠ تا ٢٤ آیات کی تلاوت کریں۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تم پر من وسلویٰ نازل کیا اور حکم فرمایا اللہ کے دیے ہوئے حلال و طیب کو کھاؤ اور سرکشی اختیار نہ کرنا۔ جس نے سرکشی اختیار کی اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوگا اور جس پر اس کا غضب نازل ہوا وہ دنیا میں برباد ہوا اور آخرت میں اسے اذیّت ناک عذاب ہوگا۔ جس نے تائب ہو کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کی اور صالح اعمال کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ اسے معاف کرتے ہوئے ہدایت سے سرفراز کرے گا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ اے موسیٰ ! طورپہاڑ کی دائیں جانب فلاں جگہ پر پہنچ جاؤ تاکہ تمہیں تورات عنایت کی جائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی ذمہ داری دے کر کوہ طور کے دامن میں مقررہ وقت اور مقام پر پہنچے تو ان کے پیچھے بنی اسرائیل نے بچھڑے کی عبادت شروع کردی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول فرمائی۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر من وسلویٰ نازل کیا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور کے دامن میں تورات عطا فرمائی۔ ٤۔ اللہ کے باغیوں کے لیے دنیا میں بربادی اور آخرت میں ذلت ہوگی۔ ٥۔ جو اپنے رب کے حضور تائب ہوگا وہ مزید ہدایت پائے گا۔ تفسیر بالقرآن بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک : ١۔ اے بنی اسرائیل میری نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام فرمائیں۔ (البقرۃ : ٤٧) ٢۔ بنی اسرائیل کو ساری دنیا پر فضیلت دی گئی۔ (البقرۃ : ٤٧) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون سے نجات دی۔ (البقرۃ : ٤٩) ٤۔ بنی اسرائیل کے لیے سمندر کو پھاڑا گیا۔ ( البقرۃ : ٥٠) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر من وسلویٰ نازل کیا۔ ( طٰہٰ : ٨٦) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے بارہ چشمے جاری فرمائے۔ (الاعراف : ١٦٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب تو خطرے کا علاقہ گزر گیا۔ بنی اسرائیل کامیابی سے طور کی طرف سینئای کے میدان میں آگئے۔ فرعون اور اس کی افواج سمندر میں غرق ہوگئیں۔ بنی اسرائیل کی اس نجات پر ابھی تک زیادہ عرصہ نہیں گزرا ، یہ ان کے حافظے میں تازہ واقعہ ہے لیکن اس تازہ ترین نعمت کی طرف بھی باری تعالیٰ ان کی توجہ مبذول کراتے ہیں کہ تم اس واقعہ کو کہیں بھول نہ جائو۔ غور کرو اور شکر کرو۔ یہاں بنی اسرائیل کے ساتھ طور ایمان کے جس وعدے کا ذکر ہے ، یہ واقعہ ہوچکا ہے۔ مصر سے اخراج کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے طور پر بلایا تھا تاکہ وہ اللہ کے ساتھ ملاقات کے لئے تربیت حاصل کریں گی اور اللہ وہ تعلیمات سنیں جو الواح میں انہیں دی جاتی تھیں۔ جن کا تعلق دین اور شریعت سے تھا اور بنی اسرائیل اس عالم کردار کے لئے تیار اور منظم ہوں جو انہوں نے ارض مقدس میں سرانجام دینا تھا۔ پھر ان کے لئے من نازل کرنا ، من ایک ایسا میٹھا مادہ تھا جو درختوں کے پتوں پر جمع ہوجاتا تھا اور سلویٰ ایک پرندہ تھا جو وہاں بکثرت ان کے لئے صحرا میں جمع ہوجاتا تھا ، جسے بہ سہولت پکڑا اور کھایا جاسکتا تھا۔ یہ دونوں چیزیں ان کے لئے اس چٹیل میدان اور غیر آباد صحرا میں خصوصی انعام تھیں۔ یہ چیزیں ان کو روزمرہ کے کھانے میں فراہم ہوجاتی تھیں اور بڑی سہولت سے فراہم ہوجاتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو یہ انعامات یاد دلا کر یہ نصیحت کرتا ہے کہ ان کو کھائو لکین سرکشی مت کرو اور عیش و عشرت میں گم ہو کر ان مقاصد اور اس نصب العین کو نہ بھول جائو جس کے لئے تم مصر سے نکلے ہو ، اور جس بات سے یہاں خصوصاً انہیں منع کیا جا رہا ہے وہ سرکشی ہے۔ سرکشی کو تو وہ مصر میں دیکھ چکے تھے۔ اس کے تحت وہ مظالم سہہ چکے تھے اور اس کا انجام بھی دیکھ چکے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور تمہارے لیے من وسلویٰ نازل فرمایا ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا اور انہیں اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں اور احکام کی خلاف ورزی پر غضب الٰہی کے نازل ہونے کی وعید سے باخبر فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور پھر فرمایا کہ تم سے کوہ طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا یعنی تمہارے نبی کو کوہ طور پر بلایا اور اس کی داہنی جانب ان کو تو ریت شریف عطا کی۔ جب ان کو بلایا تھا تو توریت دینے کا وعدہ تھا اور چونکہ یہ توریت تمہارے نفع کے لیے تھی اس لیے یہ وعدہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی تھا اور تم سے بھی۔ قال صاحب الروح ای و واعدناکم بواسطۃ نبیکم فی ذلک الجانب اتیان موسیٰ (علیہ السلام) للمناجات وانزال التوراۃ علیہ الی آخر ماقال (ج ١٦ ص ٢٣٩) طور کی اس جانب کو ایمن فرمایا جو موسیٰ کے داہنے ہاتھ کو پڑی تھی اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ایمن بابرکت کے معنی میں ہے لفظی اعتبار سے یہ معنی لینا بھی صحیح ہے اور بابرکت ہونا ظاہر ہے کیونکہ وہاں توریت شریف عطا کی گئی۔ تیسرے یہ فرمایا کہ ہم نے تمہیں من اور سلویٰ عطا فرمایا اس کی تشریح سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ (انوارا لبیان ص ١١٠، ج ١) مزید فرمایا کہ ہم نے جو کچھ تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ کھاؤ تو سہی لیکن حد سے نہ بڑھنا یعنی ناشکری نہ کرنا اور گناہ نہ کرنا اور ہماری دی ہوئی چیزوں کو گناہوں میں استعمال نہ کرنا۔ اور آپس میں ایک دوسرے پر ظلم زیادتی نہ کرنا، فضول خرچی نہ کرنا اور شیخی مت بگھارنا وغیرہ، قال صاحب الروح بالاخلال بشکرہ وتعدی حدود اللہ تعالیٰ فیہ بالسرف والبطر والاستعانۃ بہ علی معاصی اللہ تعالیٰ ومنع الحقوق الواجبۃ فیہ (فَیَحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبِیْ ) (ورنہ تم پر میرا غصہ نازل ہوگا) (وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْہِ غَضَبِیْ فَقَدْ ھَوٰی) (اور جس پر میرا غصہ نازل ہوا سو وہ گرگیا ) یعنی وہ ہلاک ہوا اور دوزخ میں گرا۔ (وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی) (اور بلاشبہ میں اسے بخشنے والا ہوں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا۔ اور نیک عمل کئے پھر ہدایت پر قائم رہا) اس میں شرک اور کفر سے توبہ کرنا مراد ہے اس لیے امن سے پہلے ذکر فرمایا جو آدمی کفر و شرک سے توبہ کرے اور ایمان قبول کرے اور نیک اعمال میں لگا رہے اور ہدایت پر مستقیم رہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا وعدہ ہے۔ لفظ غفار مبالغہ کا صیغہ ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

52:۔ قوم فرعون کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے انعامات یاد دلا کر ان کا شکر ادا کرنے، ان کو ایمان و اطاعت پر قائم رہنے اور طغیانی و سرکشی سے اجتناب کی ترغیب فرمائی۔ لما انجھم من فرعون قال لھم ھذا لیشکروا (قرطبی ج 11 ص 230) ۔ 53:۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا۔ کہ وہ فرعون کی تباہی کے بعد کوہ طور کی داہنی جانب پر پہنچ جائیں۔ ان کو تورات دی جائے گی۔ جو سراپا نور ہدایت اور بنی اسرائیل کے لیے مشعل راہ ہوگی۔ یہاں اس وعدہ کی طرف اشارہ ہے یہ وعدہ اگرچہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا۔ لیکن تھا پوری قوم کی فلاح و بہبود کے لیے۔ اس لیے ” وَوٰعَدْنٰکُمْ “ سے ساری قوم کو خطاب فرمایا۔ ” وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْويٰ “۔ من وسلوی (ترنجبین اور بٹیروں) کا نزول میدانِ تیہ میں ہوا تھا۔ اس کی زیادہ تفیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو ص 37 حاشیہ 115 ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

80 اب بنی اسرائیل کو خطاب فرمایت ہوئے ارشاد ہوتا ہے اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہ طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا اور ہم نے تم پر من اور سلویٰ نازل کیا۔ یعنی فرعون کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد جب تم نے دستور العمل کی خواہش کی تو ہم نے توریت عطا کرنے کا وعدہ کیا اور کوہ طور کی داہنی جانب موسیٰ کو بلا کر توریت عطا فرمائی اور تم کو تیہ کے میدان میں من وسلویٰ کھانے کو دیا من وسلویٰ کی تفسیر پہلے پارے میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔ من وسلویٰ دیتے وقت ارشاد فرمایا۔