Surat Tahaa
Surah: 20
Verse: 9
سورة طه
وَ ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ مُوۡسٰی ۘ﴿۹﴾
And has the story of Moses reached you? -
تجھے موسیٰ ( علیہ السلام ) کا قصہ بھی معلوم ہے؟
وَ ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ مُوۡسٰی ۘ﴿۹﴾
And has the story of Moses reached you? -
تجھے موسیٰ ( علیہ السلام ) کا قصہ بھی معلوم ہے؟
A Discussion of the Message of Musa Allah tells, وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى
آگ کی تلاش ۔ یہاں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ شروع ہوتا ہے ۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ آپ اس مدت کو پوری کر چکے تھے جو آپ کے اور آپ کے خسر صاحب کے درمیان طے ہوئی تھی اور آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے وطن مصر کی طرف جا رہے تھے سردی کی رات تھی راستہ بھول گئے تھے پہاڑوں کی گھاٹیوں کے درمیان اندھیرا تھا ابر چھایا ہوا تھا ہر چند چقماق سے آگ نکالنا چاہی لیکن اس سے بالکل آگ نہ نکلی ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو دائیں جانب کے پہاڑ پر کچھ آگ دکھائی دی تو بیوی صاحبہ سے فرمایا اس طرف آگ سی نظر آ رہی ہے میں جاتا ہوں کہ وہاں سے کچھ انگارے لے آؤں تاکہ تم سینک تاپ کر لو اور کچھ روشنی بھی ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں کوئی آدمی مل جائے جو راستہ بھی بتا دے ۔ بہر صورت راستے کا پتہ یا آگ مل ہی جائے گی ۔
[٨] قرآن کے انداز بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس قدر تفصیل کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ پہلی بار اسی سورة میں بیان ہوا ہے اور قرآن کے مخصوص طرز بیان کی بنا پر اس میں قریش کے کئی اعتراضات کے جواب از خود آگئے ہیں جو وہ وقتا ً فوقتا ً کرتے رہتے تھے۔
وَهَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى : قرآن کی عظمت کے ذکر اور دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مشقت اور تکلیف کی طرف اشارہ فرما کر اب یہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے، اس سے مقصود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے، کیونکہ جن دنوں یہ سورت نازل ہوئی مکہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسے ہی حالات درپیش تھے، جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش آچکے تھے۔ اس کے علاوہ گزشتہ آیت میں ” اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ “ کے ساتھ توحید کا جو بیان ہوا تھا اس کی مزید وضاحت مقصود ہے کہ ہر نبی یہی دعوت لے کر آیا۔ خصوصاً گزشتہ انبیاء میں سے جس نبی کے واقعات سب سے زیادہ مشہور ہیں انھیں بھی پہلی وحی میں آگاہ کردیا گیا : (اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِيْ ) [ طٰہٰ : ١٤ ] اور سورت کے آخر میں بھی یہی بات دہرائی : (اِنَّمَآ اِلٰــهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا) [ طٰہٰ : ٩٨ ] ” تمہارا معبود تو اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔ “ ” وَهَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى“ یہ ” مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓي “ پر عطف ہے، یعنی نزول وحی آپ کے لیے باعث شقاوت نہیں بلکہ باعث سعادت ہے، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے یہ نعمت باعث سعادت تھی۔ اور کیا آپ کو موسیٰ کی خبر پہنچی کہ ان کو یہ سعادت ملنے کا آغاز کیسے ہوا ؟ استفہام ان کی خبر سننے کا شوق دلانے کے لیے ہے، پوچھنے کے لیے نہیں۔ آگ دیکھنے کا ذکر مزید شوق دلانے کے لیے ہے کہ معلوم ہو آگ دیکھنے کے بعد کیا ہوا ؟ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب مدین میں دس سال تک جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اپنے اہل و عیال سمیت مصر آ رہے تھے۔ اس قصے کا کچھ حصہ سورة یونس اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ یہاں جو بات ذکر ہوئی ہے اس سے پہلے کی سرگزشت کا ذکر سورة قصص میں ہے۔ ” جب اس نے آگ دیکھی “ سے معلوم ہوا کہ یہ رات کا وقت تھا اور سردی کا موسم تھا۔ گھر والے ساتھ تھے اور سب کو رات گزارنے کے لیے آگ کی ضرورت تھی۔ سورة قصص (٢٩) اور سورة نمل (٧) میں ہے : (لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ ) ” تاکہ تم تاپ لو۔ “ ” اَوْ اَجِدُ عَلَي النَّارِ هُدًى“ سے معلوم ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) راستہ بھول گئے تھے، آگ جلانے کا پتھر (چقماق) پاس نہیں تھا، اگر تھا تو سردی کی شدت یا لکڑیوں کی نمی کی وجہ سے آگ نہیں جل رہی تھی۔ اندھیرے میں آگ کے ذریعے سے متوجہ کرنے میں ایک مناسبت یہ بھی ہے کہ اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) گمراہی کی تاریکی میں ہدایت کی روشنی کا باعث بنیں گے۔ [ التحریر والتنویر ] اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا : ” آنَسَ “ (افعال) اس نے واضح طور پر دیکھا، اسی لیے آنکھ کی پتلی کو ” انسان العین “ کہتے ہیں، کیونکہ اسی سے کوئی چیز واضح معلوم ہوتی ہے۔ ” إِنَّ “ کے ساتھ تاکید اور لفظ ” اٰنَسْتُ “ کے استعمال سے ظاہر ہو رہا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پورے یقین کے ساتھ ایک بہت بڑی آگ دیکھنے کا ذکر فرما رہے ہیں، کیونکہ ” نَاراً “ کی تنوین بھی تعظیم کے لیے ہے۔ یہ آگ موسیٰ (علیہ السلام) کو متوجہ کرنے کے لیے تھی جو انھیں ایک درخت میں لگی ہوئی نظر آئی اور درخت ہی سے آواز آئی کہ بیشک میں تیرا رب ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور نہیں تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی درخواست کی تو جواب ” لَنْ تَرَانِیْ “ ملا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (١٤٣) ۔ لَّعَلِّيْٓ اٰتِيْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ : ” قَبَسٌ“ مصدر بمعنی مفعول، اخذ کی ہوئی چیز۔ آگ جلانے کے لیے جلتی ہوئی آگ میں سے لکڑی یا سرکنڈے وغیرہ کے سرے پر آگ کا شعلہ لیا جائے تو اسے ” قَبَسٌ“ کہتے ہیں اور ” جَذْوَۃٌ“ بھی۔ ” جَذْوَۃٌ“ کا ایک معنی انگارا بھی ہے۔ (قاموس) ھُدیً : یعنی کوئی راستہ بتانے والا مل جائے، یا آگ کی روشنی میں راستے کے آثار مل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر وہی چیز جاری فرما دی جو فی الواقع وجود میں آنے والی تھی، چناچہ انھیں کفر کی برودت سے بچانے والا ایمان کا شعلہ بھی مل گیا اور صراط مستقیم کی رہنمائی بھی حاصل ہوگئی۔ ” نُوْدِيَ “ (آواز دی گئی) یہ آواز ایک درخت سے آرہی تھی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قصص (٣٠) فعل مجہول لانے میں بھی یہ جاننے کا شوق ابھارنا مقصود ہے کہ آواز دینے والا کون تھا اور اس نے کیا آواز دی ؟
Commentary وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ (And has there come to you the story of Musa? - 20:9) In the earlier verses, reference was made to the greatness of the Qur’ an and also to the reverence due to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Thereafter, the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) has been related so that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) should become fully aware of the trials and tribulations which afflict the prophets in the discharge of their missions, and which were rendered with courage and fortitude by the earlier prophets. This was to prepare the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for the great mission which was entrusted to him. There is another verse which conveys the same sense: وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ |"And We narrate to you everything from the events of the messengers with which We strengthen your heart.|" (11:120) It means that these stories are narrated to prepare you (the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) and make you strong to undertake the responsibilities of the mission. The story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) which is related here begins like this. At Madyan he stayed with Sayyidna Shu` aib (علیہ السلام) with the understanding that he would serve the latter for a period of eight or ten years. According to Tafsir Al-Bahr ul-Muhit, after the expiry of this period he sought the permission of Sayyidna Shu` aib (علیہ السلام) to proceed to Egypt to see his mother and sister. He had fled earlier from Egypt fearing capture or death by the soldiers of the Pharaoh but this danger had now passed through the lapse of so many years. Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) willingly gave the permission and sent him away, with his wife (who was the latter&s daughter). He also gave him some money and a few articles which they might use during their journey. Since he was apprehensive of the hostility of some of the rulers in Syria, he adopted a less frequented route. It was winter season and his pregnant wife was very close to confinement. The route which he had taken was unfamiliar to him, and he lost his bearings. He came out to the west, i.e. the right side of the mount of Tur. It was a dark and cold night and to add to the misery, his wife began to experience birth pangs. He tried to strike fire with flint but did not succeed. In this state of utter confusion he saw light on the Tur mountain which, in fact, was the Nur (the light symbolizing the truth). So he said to his family, |"I have noticed fire. I am going there to bring for you a live coal and I may also find someone who could tell me the way to Egypt.|" The presence of his wife on the journey is well established. According to some traditions there was a servant with him who is also addressed. Others say that there were some other companions also who were separated when they lost their way. (Al-Bahr ul-Muhit)
خلاصہ تفسیر اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام کے قصہ) کی خبر پہنچی ہے (یعنی وہ سننے کے قابل ہے کہ اس میں توحید و نبوت کے متعلق علوم ہیں جن کی تبلیغ نافع ہوگی وہ قصہ یہ ہے کہ) جب کہ انہوں نے (مدین سے آتے ہوئے ایک رات جس میں سردی بھی تھی اور رستہ بھی بھول گئے تھے کوہ طور پر) ایک آگ دیکھی (کہ واقع میں وہ نور تھا مگر شکل آگ کی سی تھی) سو اپنے گھر والوں سے (جو صرف بی بی تھی یا خادم وغیرہ بھی) فرمایا کہ تم (یہاں ہی) ٹہرے رہو (یعنی میرے پیچھے پیچھے مت آنا کیونکہ یہ تو احتمال ہی نہ تھا کہ بدون ان کے آگے سفر کرنے لگیں گے) میں نے ایک آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں اس میں سے تمہارے پاس کوئی شعلہ (کسی لکڑی وغیرہ میں لگا کر) لاؤں (تاکہ سردی کا علاج ہو) یا (وہاں) آگ کے پاس رستہ کا پتہ (جاننے والا کوئی آدمی بھی) مجھ کو مل جاوے سو وہ جب اس (آگ) کے پاس پہنچے تو (ان کو منجانب اللہ) آواز دی گئی کہ اے موسیٰ میں تمہارا رب ہوں، پس تم اپنی جوتیاں اتار ڈالو، (کیونکہ) تم ایک پاک میدان یعنی طویٰ میں ہو (یہ اس میدان کا نام ہے) اور میں نے تم کو (نبی بنانے کے لئے منجملہ دیگر خلائق کے) منتخب فرمایا ہے سو (اس وقت) جو کچھ وحی کی جارہی ہے اس کو غور سے سن لو (وہ یہ ہے کہ) میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود (ہونے کے لائق) نہیں، تو تم میری ہی عبادت کیا کرو اور میری ہی یاد کے لئے نماز پڑھا کرو (دوسری بات یہ سنو کہ) بلاشبہ قیامت آنے والی ہے میں اس کو (تمام خلائق سے) پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں (اور قیامت اس لئے آوے گی تاکہ ہر شخص باز نہ رکھنے پاوے جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی (نفسانی) خواہشوں پر چلتا ہے (یعنی تم ایسے شخص کے اثر سے قیامت کے لئے تیاری کرنے سے بےفکر نہ ہوجانا) کہیں تم (اس بےفکری کی وجہ سے) تباہ نہ ہوجاؤ۔ معارف ومسائل وَهَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى، سابقہ آیات میں قرآن کریم کی عظمت اور اس کے ضمن میں تعظیم رسول کا بیان ہوا تھا اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اس مناسبت سے ذکر کیا گیا کہ منصب رسالت و دعوت کی ادائیگی میں جو مشکلات اور تکلیفیں پیش آیا کرتی ہیں اور انبیاء سابقین نے ان کو برداشت کیا ہے وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم میں آجائیں تاکہ آپ اس کے لئے پہلے سے مستعد اور تیار ہو کر ثابت قدم رہیں جیسا کہ ایک آیت میں ارشاد ہے (آیت) وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤ َادَكَ ، یعنی رسولوں کے یہ سب قصے ہم آپ سے اس لئے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ کا قلب مضبوط ہوجائے اور منصب نبوت کا بار اٹھانے کے لئے تیار ہوجائے۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قصہ جو یہاں مذکور ہے اس کی ابتداء یوں ہوئی کہ جب وہ مدین پہنچ کر حضرت شعیب (علیہ السلام) کے مکان پر اس معاہدہ کے ساتھ مقیم ہوگئے کہ آٹھ یا دس سال تک ان کی خدمت کریں گے اور انہوں نے تفسیر بحر محیط وغیرہ کی روایت کے مطابق ابعد الاجلین یعنی دس سال پورے کر لئے تو شعیب (علیہ السلام) سے رخصت چاہی کہ میں اب اپنی والدہ اور بہن سے ملنے کے لئے مصر جاتا ہوں اور جس خطرہ کی وجہ سے مصر چھوڑا تھا کہ فرعونی سپاہی ان کی گرفتاری اور قتل کے درپے تھے عرصہ دراز گزر جانے کے بعد اب وہ خطرہ بھی باقی نہ رہا تھا۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان کو مع اہلیہ یعنی اپنی صاحبزادی کے کچھ مال اور سامان دے کر رخصت فرما دیا راستہ میں ملک شام کے بادشاہوں سے خطرہ تھا اس لئے عام راستہ چھوڑ کر غیر معروف راستہ اختیار کیا۔ موسم سردی کا تھا اور اہلیہ محترمہ حاملہ قریب الولادت تھیں کہ صبح شام میں ولادت کا احتمال تھا۔ غیر معروف راستہ اور جنگل میں راستہ سے ہٹ کر طور پہاڑ کی مغربی اور داہنی سمت میں جا نکلے، رات اندھیری سردی برفانی تھی اسی حال میں اہلیہ کو درد زہ شروع ہوگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سردی سے حفاظت کے لئے آگ جلانا چاہا۔ اس زمانے میں دیا سلائی (ماچس) کے بجائے چقماق پتھر استعمال کیا جاتا تھا جس کو مارنے سے آگ پیدا ہوجاتی تھی اس کو استعمال کیا مگر اس سے آگ نہ نکلی۔ اسی حیرانی و پریشانی کے عالم میں کوہ طور پر آگ نظر آئی جو درحقیقت نور تھا تو گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے وہاں جاتا ہوں تاکہ تمہارے لئے آگ لاؤں اور ممکن ہے کہ آگ کے پاس کوئی راستہ جاننے والا مل جائے تو راستہ بھی معلوم کرلوں۔ گھر والوں میں اہلیہ محترمہ کا ہونا تو متعین ہے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خادم بھی ساتھ تھا۔ وہ بھی اس خطاب میں داخل ہے بعض روایات میں ہے کہ کچھ لوگ رفیق سفر بھی ساتھ تھے مگر راستہ بھولنے میں یہ ان سے جدا ہوگئے تھے۔ (بحر محیط)
وَہَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى ٩ۘ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے حدیث وكلّ کلام يبلغ الإنسان من جهة السمع أو الوحي في يقظته أو منامه يقال له : حدیث، قال عزّ وجلّ : وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] ، وقال تعالی: هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] ، وقال عزّ وجلّ : وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] ، أي : ما يحدّث به الإنسان في نومه، حدیث ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے اسے حدیث کہا جاتا ہے عام اس سے کہ وہ وحی خواب میں ہو یا بحالت بیداری قرآن میں ہے ؛وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] اور ( یاد کرو ) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی ۔ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] بھلا ترکو ڈھانپ لینے والی ( یعنی قیامت کا ) حال معلوم ہوا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ میں احادیث سے رویا مراد ہیں
(٩۔ ١٠) اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابھی تک آپ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کی خبر نہیں پہنچی ہے، اب آپ کو بتاتے ہیں جب کہ انہوں نے (مدین سے واپسی پر) اپنے بائیں طرف ایک آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں یعنی اپنی بیوی سے کہا تم ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں اس میں سے تمہارے پاس کوئی شعلہ لاؤں کیوں کہ اس رات میں سردی بھی بہت تھی اور راستہ بھی بھول گئے تھے یا شاید وہاں آگ کے پاس راستہ بتانے والا بھی کوئی مجھے مل جائے۔
٩۔ ١٦:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے ذکر سے یہاں یہ مطلب ہے کہ جس طرح قریش میں کے سرکش لوگ اے رسول اللہ کے تم سے وہ گستاخی کی باتیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سرکشی کی باتیں کیں تھیں لیکن آخر کو اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہوا اور فرعون ڈوب کر ہلاک ہوگیا وقت مقررہ پر یہی انجام اب ہونے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہو کر مکہ کی ہر گلی کوچہ میں کلمہ گو نظر آئیں گے اور جن بتوں کی حمایت میں یہ مشرک لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں ان بتوں کی اور ان کے پوجنے والوں کی نہایت ذلت ہوگی اللہ سچا ہے۔ چناچہ قرآن شریف کی اس غیب کی خبر کا ظہور فتح مکہ کے وقت جو کچھ ہوا صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود (رض) اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ (رض) کی روایتوں کے حوالہ سے اس کا ذکر کئی جگہ گزر چکا ہے کہ ان بتوں کو اللہ کے رسول (رض) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار کی زمین پر گرا دیا ١ ؎۔ اور کسی مشرک کا اتنا حوصلہ نہ ہوا کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں کی حمایت کرتا۔ مسند امام احمد کے حوالہ سے عبداللہ بن عباس کی یہ معتبر روایت بھی گزر چکی ہے ٢ ؎۔ کہ شیطان اس غلبہ اسلام کو دیکھ کر بہت رویا حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کو اپنی ماں اور اپنے بھائی ہارون سے ملنے کے لیے آر ہے تھے تو اس سفر میں ان کی بی بی بھی ان کے ساتھ تھیں زنانے ساتھ کے سبب سے موسیٰ (علیہ السلام) راتوں کو راستہ چلتے تھے وہ سخت جاڑے کا موسم تھا برف کے پڑنے سے ایک رات بڑی سردی ہوئی اور اتفاق سے اس رات کو موسیٰ (علیہ السلام) راستہ میں بھول گئے اسی حالت میں پہاڑ کی داہنی طرف ان کو کچھ آگ کی سی روشنی دکھائی دی اس روشنی کو دیکھ کر انہوں نے اپنی بی بی سے کہا تم یہیں ٹھہری رہو میں جہاں یہ آگ کی روشنی ہے وہاں جاتا اپنے کے لیے کچھ آگ بھی لے آتا ہوں اور آگ کے پاس کوئی آدمی ملا تو اس سے راستہ بھی پوچھ لوں گا جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس پہنچے تو ان کو آواز آئی کہ اے موسیٰ میں تمہارا رب ہوں تم طوٰی نام کے پاک میدان میں ہو اس لیے تم اپنی جوتیاں اتار ڈالو اور اللہ تعالیٰ نے تم کو نبوت کے لیے پسند کیا ہے اس واسطے تم کو جو حکم دیا جاتا ہے اس کو سنو وہ حکم یہ ہے کہ سوا اللہ کے اور کوئی معبود نہیں ہے اسی کی عبادت کیا کرو اور اس کی یاد قائم رہنے کے لیے نماز پڑھا کرو اور یاد رکھو کہ دنیا نیک وبد کے امتحان کے لیے پیدا کی گئی ہے اس واسطے نیکی وبدی کی جزاو سزا کے واسطے قیامت ایک روز ضرور آنے والی ہے جس کے آنے کا وقت سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی دوسرے کو معلوم نہیں ہے جو لوگ قیامت کے آنے کے قائل نہیں ہیں وہ عقبیٰ کی بہبودی کے کاموں سے غافل ہیں اور جو ان کا جی چاہتا ہے سو کرتے ہیں ایسے لوگوں کا کہنا نہ مانوں کیونکہ وہ راستہ ہلاکت کا ہے پاک جوتیوں سے نماز پڑھنے اور یہود سے مخالفت کرنے کی جن حدیثوں کا حوالہ شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں بیان کیا ہے اس میں سے یہود سے مخالفت کرنے کی حدیث شداد بن اوس کی روایت سے ابوداؤد اور صحیح ابن حبان میں ہے ٣ ؎۔ اور اس کی سند بھی معتبر ہے اسی طرح جوتیوں کے پاک ہونے کی حدیث ابوداؤد میں ابوسعید خدری کی روایت ہے ٤ ؎۔ اس کی سند بھی صحیح ہے ان حدیثوں کی بنا پر اکثر علماء کا قول ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں ناپاک تھیں کچھ نجاست ان میں لگی ہوئی تھی اس واسطے ان کے اتار دینے کا حکم ہوا۔ حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ وہ روشنی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو نظر آئی وہ اللہ تعالیٰ کا نور تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس نور کی روشنی کو آگ کی روشنی سمجھے تھے اس لیے ان کے کلام میں نور کو نار فرمایا بعضے علماء کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے منہ کے آگے جو پردے ہیں ان میں ایک پردہ آگ کا بھی ہے یہ اسی کو روشنی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو نظر آئی۔ صحیح مسلم میں ابو موسیٰ اشعری سے جو روایتیں اللہ تعالیٰ کے منہ کے آگے کے پردوں کے ذکر میں ہیں ان میں نور اور نار دونوں لفظ آئے ہیں ٥ ؎۔ اس واسطے دونوں قول صحیح معلوم ہوتے ہیں ابو موسیٰ اشعری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اگر اللہ کے منہ کے آگے سے پردے اٹھ جائیں تو اس کے جلال سے تمام عالم جل جائے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے یہ جو فرمایا کہ وہ روشنی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو نظر آئی وہ اللہ تعالیٰ کا نور تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے منہ پر نور کا جو پردہ ہے وہ اس نور کے پردہ کا نور تھا کیونکہ اس حدیث کے موافق اللہ تعالیٰ کی تجلی کے دیکھنے کی تمام عالم میں کسی کو تاب نہیں سورة الاعراف میں جو قصہ گزرا کہ اللہ تعالیٰ کی تجلی سے پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑا اور موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہوگئے اس سے اس حدیث کا مطلب اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے صحیح مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں کہ دنیا کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نہیں دیکھ سکتا ٦ ؎۔ ان سے بھی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کا وہی مطلب قرار پاتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ وہ روشنی جو موسیٰ (رض) کو نظر آئی وہ اللہ تعالیٰ کے نور کے پردہ کی روشنی تھی اسی واسطے اس نور کے دیکھنے کے بعد سورة الاعراف کے قصہ کی طرح موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش نہیں ہوئے منہ اور اس کے آگے کے پردے دنیا میں جسم کے ساتھ خصوصیت رکھنے کی چیزیں ہیں اور اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے اس لیے جس طرح متشابہ آیتوں کی تفصیلی کیفیت کا اللہ تعالیٰ کے علم پر سونپنے کا طریقہ سلف نے اختیار کیا ہے وہی طریقہ سلف نے اس قسم کی حدیثوں کے معنے میں بھی اختیار کیا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں عدی بن حاتم سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حساب و کتاب کے وقت قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بلا واسطہ ہر شخص سے کلام کرے گا ٧ ؎۔ معتزلہ فرقہ کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دینے اور ان سے کلام کرنے کا یہ مطلب جو بیان کیا ہے کہ طور پہاڑ کی داہنی طرف جو پیڑ تھا اللہ تعالیٰ نے اس میں گویائی کی قوت پیدا کردی تھی اسی آواز کو موسیٰ (علیہ السلام) نے سنا کیونکہ بلا واسطہ بات چیت کرنے کا جو صاف ذکر ہے اس سے معتزلہ فرقہ کے اعتقاد کی غلطی اچھی طرح ثابت ہوتی ہے اس کی زیادہ تفصیل سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک سے جو روایتیں ہیں ان میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واقم الصلوۃ لذکری کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ جو شخص کسی وقت کی نماز پڑھنی بھول جائے تو جب یاد آئے اسی وقت وہ بھولی ہوئی نماز پڑھ لے کہ اس بھول کا یہی کفارہ ہے ٨ ؎۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٦١٤ ج ٢ باب این رکز البنی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الرایۃ یوم الفتح۔ ٢ ؎ تفسیر ہذاص ٢٧٠ ج ٣۔ ٣ ؎ ابوداؤد ص ٩٥ ج ١ باب الصلوٰۃ فی النعل۔ ٤ ؎ ابوداؤد ص ٩٨ ج ١ باب الصلوٰۃ فی النعل۔ ٥ ؎ صحیح مسلم ص ٩٩ ج ١ اثبات رویتۃ المومنین الخ۔ ٦ ؎ صحیح مسلم ص ٩٥٩ ج ١ باب معنی قول اللہ عزوجل ولقدراہ نزلۃ اخری الخ۔ ٧ ؎ صحیح بخاری ص ١١١٩ ج ٢ باب کلام الرب یوم القیمۃ الخ۔ ٨ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١٤٤ ج ٢ مشکوٰۃ ص ٦١ باب تعجیل الصلوٰۃ فصل اول۔
ف 8 قرآن کی عظمت کے ذکر اور تبلیغ کے سلسلے میں آنحضرت کی تکلیف کی طرف اشارہ فرما کر اب یہاں سے حضرت موسیٰ کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سے مقصود آنحضرت کو تسلی دینا ہے کیونکہ جن دنوں یہ سورت نازل ہوئی مکہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسے ہی حالات درپیش تھے جیسے حضرت موسیٰ کو پیش آچکے تھے۔
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 16 حدیث بات چیت، خبر۔ اھل گھر والے، بیوی۔ امکثوا تم ٹھہر جاؤ ۔ رک جاؤ۔ انست میں نے دیکھا ہے۔ لعلی شاید کہ میں۔ قبس سلگتی لکڑی۔ انگارہ، نودی آواز دی گئی۔ اخلع اتار دے۔ نعلیک (نعلین) دونوں جوتے۔ الواد میدان۔ المقدس پاک صاف، مقدس۔ طوی میدان۔ اخترتک میں نے تجھے چن لیا، پسند کرلیا۔ استمع غور سے سنو۔ الساعۃ گھڑی، قیامت۔ اکاد میں قریب ہوا۔ اخفی میں چھپا کر رکھوں۔ تسعی دوڑتا ہے۔ لاتصدن نہ روک دے ۔ تردیٰ ہلاک ہوجائے۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 16 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک قبطی کو مار ڈالنے کے الزام اور فرعون کے ظلم و ستم اور بےانصافی کے خوف سے مصر سے مدین تشریف لے گئے تھے۔ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی سے آپ کا نکاح ہوگیا۔ حضرت شعیب کی شرط کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چند سال مدینے میں رہ کر اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر کے لئے روانہ ہوگئے۔ ان آیات میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایک اندھیری رات تھی۔ سردی شباب پر تھی، بکریوں کا گلہ ساتھ میں تھا اس حالت میں راستہ بھول گئے۔ بکریاں ادھر ہوگئیں اور ان کی اہلیہ کو زچگی کا درد شروع ہوگیا۔ اندھیرے کی وجہ سے سخت پریشانی تھی جس کو تاپنے اور سینکنے کے لئے آگ بھی موجود نہ تھی۔ اچانک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دور ایک آگ نظر آئی۔ حضرت موسیٰ نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ تم یہیں ٹھہرو، میں جا کر آگ کا ایک انگارہ یا شعلہ لے کر آجاتا ہوں۔ ممکن ہے کوئی ایسا شخص بھی مل جائے جس سے راستہ کا پتہ معلوم کرلوں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب میدان میں پہنچے تو دیکھا ایک درخت سے آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں ۔ انہوں نے ایک عجیب بات دیکھی کہ آگ جتنی زور سے بھڑکتی ہے وہ آگ والا درخت اتنا ہی خوبصورت اور سرسبز و شاداب ہوجاتا ہے۔ وہ درخت سے قریب ہوتے گئے تاکہ اگر کوئی شاخ جل کر گرے تو اس کو اٹھالیں۔ لیکن وہ آگ سے جتنا قریب ہوتے، آگ دور ہوتی جاتی پیچھے ہٹتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ آگ ان کا پیچھا کر رہی ہے۔ حضرت موسیٰ اس آگ سے ایک نامعلوم سا خوف محسوس کرنے لگے۔ اچانک اس درخت میں سے آواز آئی کہ اے موسیٰ یہ میں ہوں تیرا پروردگار امام احمد نے وہب سے نقل کیا ہے کہ جب انہوں نے یا موسیٰ ! سنا تو کئی مرتبہ چاروں طرف پلٹ کر دیکھتے ہوئے ” لبیک “ کہا اور عرض کیا، میں آپ کی آواز تو سن رہا ہوں مجھے کچھ آہٹ سی محسوس ہو رہی ہے۔ مگر آپ کہاں ہیں ؟ مجھے آپ نظر نہیں آ رہے ہیں۔ آواز آئی میں تیرے اوپر ہوں، تیرے ساتھ ہوں، تیرے سامنے ہوں، تیرے پیچھے ہوں اور تیری جان سے زیادہ قریب ہوں۔ کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) روئے تو میں سے اللہ کا کلام سن کر ایک عجیب لذت اور کیف محسوس کر رہے تھے۔ (معارف القرآن) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ سے قریب ہوئے تو درخت سے آواز آئی۔ اے موسیٰ ! یہ آگ نہیں ہے، بلکہ میں تمہارا پروردگار ہوں، اس وقت ایک پاکیزہ اور مقدس وادی طوی میں کھڑے ہو، اس مقام کے تقدس کا تقاضا ہے کہ اپنے دونوں جوتے اتار دو ، میں نے تمہیں اپنا رسول منتخب کیا ہے۔ اس لئے جو کچھ کہا جائے اس کو سنو اور اس کے مطابق عمل کرو، فرمایا (1) بیشک میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ (2) میری عبادت و بندگی کرو۔ (3) نماز قائم کرو کیونکہ مجھے یاد کرنے کا بہترین ذریعہ نماز ہی ہے۔ (4) یہ دنیا مستقل رہنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ ایک دن فنا ہوجانے والی ہے۔ پھر وہ وقت آنے والا ہے جب دنیا ختم ہوجائے گی اور قیامت آجائے گی۔ (5) ہم نے قیامت کے دن کو اس لئے پوشیدہ رکھا ہے تاکہ ہر شخص اس کے انتظار میں حسن عمل کرتا رہے۔ (6) قیامت کا واقع ہونا ایک ایسا اٹل فیصلہ ہے جس میں شک و شبہ تک گنجائش نہیں ہے لیکن لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور اس دن کو بھولے ہوئے ہیں جو بہت جلد آنے والا ہے۔ (7) آپ ان لوگوں کی پروانہ کیجیے جو اس پر یقین نہیں رکھتے وہ اپنی بربادی کا خود سامان کر رہے ہیں۔ (8) آپ اس ہلاکت میں نہ پڑیں۔ اس کے بعد کی آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بقیہ واقعہ اور اس کی تفصیلات آرہی ہیں جو آیات آپ نے اس وقت پڑھی ہیں اور اس کی تشریح ملاحظہ کی ہے ان میں چند باتیں ایسی ہیں جن کی تفصیل عرض کی جا رہی ہے۔ (1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جان بوجھ کر قبطی شخص کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ وہ ایک اسرائیلی کو بچانے کے لئے آگے بڑھے تھے اور اچانک ایک مکہ کی چوٹ سے اس قبطی کی موت واقع ہوگئی تھی جس پر خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی افسوس ہوا۔ جب حضرت موسیٰ کو کسی نے بتایا کہ قبطی کے قتل کے الزام میں فرعون ان کو ناحق سزا دینا چاہتا ہے تو وہ خاموشی اور احتیاط کے ساتھ مصر سے مدین کی طرف ہجرت کر گئے تاکہ فرعون کے ظلم سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔ کیونکہ فرعون ایک جابر و ظالم شخص تھا جس سے کسی انصاف کی امید نہیں کی جاسکتی تھی۔ لہٰذا حضرت موسیٰ بشری تقاضے کے تحت اپنی جان کو حفاظت کے لئے مدین کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جان بچانا اور بےانصافی کے ماحول میں خوف محسوس کرنا شان نبوت کے خلاف نہیں ہے۔ جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش مکہ کے ظلم و ستم اور بےانصافی کو دیکھتے ہوئے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور تین دن اور تین راتوں تک آپ نے غار ثور میں چھپ کر پناہ لی۔ (2) اپنے گھر والوں کی حفاظت اور ان کے لئے اتنے سامان زیست کی فکر کرنا ہر شخص کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ زندگی کی کڑی دھوپ میں اپنے آپ کو محفوظ تصور کرسکے۔ (3) اللہ ہر جگہ موجود ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس آگ کو دیکھ رہے تھے وہ درحقیقت دنیاوی آگ نہ تھی بلکہ اللہ کا نور جمال و جلال، تجلی الٰہی یا حجاب نوری تھا جس کو حضرت موسیٰ آگ سمجھ بیٹھے تھے۔ (4) جس طرح اللہ نے زمین کے بعض حصوں اور عمارتوں کو ایک خاص اعزازو اکرام اور شرف و امتیاز بخشا ہے جیسے بیت اللہ شریف، مسجد نبوی شریف اور مسجد اقصیٰ کو اسی طرح کوہ طور کے دامن میں ایک مقدس ” وادی طوی “ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو شریف نبوت سے نوازا گیا ۔ وہ بھی ایک مقدس و محترم مقام ہے۔ (5) ایک طرف تو قرآن کریم کی اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وادی طوی ایک مقدس وادی ہے جس کا احترام یہ سکھایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جوتے اتار دیں لہٰذا ہر مقدس و محترم مقام پر جوتے اتار دینا چاہئے۔ اس لئے یہودی اپنی عبادت کے وقت اپنے عبادت خانے میں جوتے اتار کر عبادت کرتے ہیں۔ دوسری طرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا ہے کہ یہود کی مخالفت کرنے کیلئے جوتے پہن کر بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے (اس کی مزید تفصیل معارف القرآن ج 5 ص 70 پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے) اس سلسلہ میں اتنی بات عرض ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا اگر یہود کی مخالفت کے لئے ہو تو جائز ہے لیکن اس کو ایک اصول کے طور پر نہیں لیا جاسکتا کیونکہ اس سے بہت سے اسلامی اصولوں کی نفی ہوجائے گی۔ مثلاً جوتے وہ ہوتے ہیں جو گندگی سے گزرتے ہیں جب کہ پاکی اور ستھرائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے اور عبادت گاہوں میں اس اصول کی پابندی زیادہ ضروری ہے ۔ لہٰذا اگر میں وادی طویٰ میں جاؤں گا تو ضرور جوتے اتار دوں گا تاکہ اللہ کے حکم کی تعمیل ہوجائے لیکن بیت اللہ اور مسجد نبوی میں جاتے وقت میں کبھی جوتے نہیں پہنوں گا کیونکہ اس سے بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی کا احترام ممکن نہیں ہے۔ جس طرح چارشادیوں کی اجازت دی گئی ہے لیکن یہ کوئی ایسا حکم نہیں ہے کہ ہر شخص جب تک چار شادیاں نہیں کرے گا تو نعوذ باللہ وہ مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک ضرورت ہے اگر کوئی شخص عدل و انصاف کرسکتا ہے تو اس کے لئے مزید شادیاں (شریعت کے مطابق) کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بعض موقعے ایسے ہوتے ہیں جہاں جوتوں کے اندر ہی نماز پڑھنا ضروری ہوتا ہے جیسے فوجی جب میدان جنگ میں ہوتا ہے وہاں جوتے اتارنے میں دشمن کے اچانک حملہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا یہاں جوتے پہن کر ہی نماز پڑھی جاسکے گی۔ لیکن ہر جگہ اس حکم پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے اس کو ایک اصول کے طو پر کبھی نہیں لیا۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ آج قرآن کریم میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو وادی مقدس میں جوتے اتارنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم سب سے پہلے قرآن کریم کے اس اصول پر عمل کریں گے اور جہاں ضرورت ہوگی وہاں حدیث کے مطابق عمل کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (6) اللہ کی عبادت و بندگی اور اس کی یاد کا اعلیٰ اور افضل ترین طریقہ نماز پڑھنا ہے۔ کیونکہ نماز دین کا ستون، دل کا سکون اور ایمان کا نور ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اور آپ کی امت کو بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کی طرح نمازوں کی ادائیگی اور اہتمام کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کو دن بھر میں صبح و شام دو وقت کی نمازوں کا حکم تھا جب کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت پر دن بھر میں پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ (7) قیامت کب آئے گی، اس کی کیفیات کیا ہوں گی اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اس کے سوا کسی کو بھی اس کا علم نہیں دیا گیا اس کے پوشیدو رکھنے کی وجہ یہ ارشاد فرمائی گئی تاکہ لوگ قیامت کے ہولناک دن کے خوف سے حسن عمل میں لگے رہیں اگر غور کیا جائے تو قیامت صغریٰ ہر انسان سے بہت قریب ہے کیونکہ جو شخص مرگیا اس کی قیامت تو شروع ہوگئی کیونکہ اب وہ ایک لمبی سی نیند لے کر حشر کے دن اٹھے گا۔ لہٰذا قیامت انسان سے دور نہیں ہے لیکن وہ قیامت کبری جس سے اس پورے نظام کائنات کو الٹ پلٹ دیا جائے گا وہ ایک ایسے مقررہ وقت پر آئے گی جس کا علم کسی کو بھی نہیں دیا گیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیامت کی کچھ نشانیاں بتائی ہیں جن کی تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیامت کبری بھی اب انسان سے دور نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس قیامت کے دن پر ایما نہیں رکھتا اور وہ اپنی نفسانی خواہشات میں لگا رہتا ہے فرمایا کہ ” اے نبی ! آپ اس شخص کو اہمیت نہ دیں کیونکہ وہ تو آپ کو روکنے اور ہلاکت میں ڈالنے کی کوششیں کرتا رہے گا۔ “
فہم القرآن ربط کلام : اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ جس ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دیتے ہیں یہی دعوت موسیٰ (علیہ السلام) دیا کرتے تھے۔ اس لیے آپ کو ان کے حالات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پوری طرح متوجہ فرمانے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ کیا آپ کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر نہیں پہنچی ؟ لو اب سماعت فرمائیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے فرمایا ٹھہریں میں آپ کے تاپنے کے لیے آگ کا انگارہ لاتا ہوں یا پھر اس روشنی سے راستے کا پتہ معلوم کرتا ہوں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے قریب آئے تو انھیں آواز دی گئی۔ اے موسیٰ میں آپ کا رب ہوں آپ مقدس وادی میں پہنچ چکے ہیں۔ اس لیے اپنے جوتے اتار دیں، یہ بات پہلے معلوم ہونا چاہیے کہ بےمثال جدوجہد اور لوگوں کی مخالفت کے لحاظ سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قریب ہیں اس لیے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جدوجہد اور فرعون کی مخالفت کا تفصیلی بیان ہوا ہے۔ یہاں اس بات کا جوں آغاز فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر آپ کو نہیں پہنچی ؟ شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ تو مکہ میں محترم اور قابل اعتماد ہیں تبھی تو لوگ آپ کو صادق اور امین کہتے ہیں تھوڑے ہی سہی لیکن آپ کے جانثار ساتھی بھی موجود ہیں۔ لہٰذا آپ کو تو دل چھوٹا اور آپ کے ساتھیوں کو حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات جانیں کہ کن حالات میں پیدا ہوئے۔ اس کی والدہ نے اپنے رب کے حکم پر عمل کرتے ہوئے کس دل گردے کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا کی لہروں کے سپرد کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح اس کے جانی دشمن فرعون کے گھر پالا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) بڑے ہوئے تو ان کے ہاتھوں غیرارادی طور پر ایک شخص قتل ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) خوف کے مارے مدین کی طرف بھاگ گئے۔ وہاں آٹھ، دس سال رہنے کے بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے وطن مصر واپس آرہے تھے کہ انھوں نے آگ جلتی ہوئی دیکھی۔ راستہ معلوم کرنے اور سردی کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) آگ کی طرف گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آوازدی کہ آپ مقدس زمین پر پہنچ گئے ہیں۔ لہٰذا جوتے اتار دیں اور جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا جاتا ہے اسے توجہ سے سنیں۔ اس خوف اور کسمپرسی کے عالم میں موسیٰ (علیہ السلام) مصرواپس پہنچ کر اپنے کام کا آغاز کرتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے حالات پر غور فرمائیں کہ وہ کتنے آسان اور سازگار ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بحکم خداوندی جوتا اتار کر وادئ مقدس میں آگے بڑھے تو آواز آئی اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میں نے تجھے اپنی ذات اور کام کے لیے پسند کرلیا ہے۔ جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اسے پوری توجہ کے ساتھ سنو۔ یقین کرو کہ میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بس میری ہی عبادت کرنا اور مجھے یاد رکھنے کے لے نماز ادا کرتے رہنا۔ بیسویں پارہ میں اس واقعہ کی یوں تفصیل بیان ہوئی ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس معاہدہ کے تحت اپنی مدت پوری کرچکے تو وہ اپنی اہلیہ کو لے کر اپنے وطن مصر کی طرف چل پڑے۔ راستہ میں موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پہاڑ کے دائیں جانب ایک روشنی دیکھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ کو فرمایا آپ یہاں ٹھہریں میں اس روشنی کے پاس جا کر آپ کے تانپنے کے لیے آگ لاتا ہوں یا راستہ کے بارے میں معلومات لاؤں گا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) طور پہاڑ کے قریب اس کے دائیں جانب پہنچے تو ایک درخت تجلیات اور اللہ کی برکات کا مرکز بنا ہوا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے آواز سنی جس میں یہ پیغام تھا کہ میں ہی رب العالمین ہوں۔ (فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَھْلِہٖٓ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا قَالَ لِاَھْلِہِ امْکُثُوْٓا اِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِنْھَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ فَلَمَّآ اَتٰھَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَۃِ الْمُبٰرَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنْ یّٰمُوْسٰٓی اِنِّیْٓ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْن) [ القصص : ٢٩، ٣٠] ” پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مقرر مدت پوری کردی اور وہاں سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر چلے تو طور کے ایک جانب آگ دیکھی موسیٰ نے اپنے اہل خانہ سے کہا تم ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے میں وہاں جاتا ہوں شاید میں تمہارے پاس وہاں سے کوئی خبریا آگ کی کوئی چنگاری لاؤں تاکہ تم اسے تاپ سکو۔ جب موسیٰ وہاں گئے تو وادی کے دائیں کنارہ سے اس بابرکت مقام میں ایک درخت سے آواز آئی کہ اے موسیٰ ! بلاشبہ میں ہی اللہ رب العالمین ہوں۔ “ یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ ارشاد ہوا کہ میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ” اِلٰہ “ کے بارے میں کئی مرتبہ بیان ہوچکا ہے۔ اس موقعہ پر مختصر مفہوم جاننے کے لیے درج ذیل تفسیر بالقرآن ملاحظہ فرمائیں۔ یاد رہے کہ عقیدۂ توحید کے بعد انسان پر جو سب سے پہلا فرض عائد ہوتا ہے وہ پانچ وقت کی نماز ہے۔ یہ ایسی عبادت اور ذکر ہے جس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو کوئی عبادت اور ذکر محبوب نہیں۔ (عن عَبْدِ اللّٰہِ ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ قَال الصَّلاَۃُ عَلَی وَقْتِہَاقَالَ ثُمَّ أَیُّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قَالَ ثُمَّ أَیُّ قَالَ الْجِہَادُ فِی سَبِیل اللّٰہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلوٰۃ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ہُرَیْرَۃَفرماتے ہیں میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : نماز وقت پر ادا کرنا۔ پھر پوچھا تو فرمایا : والدین کے ساتھ اچھاسلوک کرنا۔ اس کے بعد پوچھنے پر آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ تفسیر بالقرآن اِلٰہ کے چیدہ چیدہ مرکزی معانی : ١۔ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ رحمن ورحیم ہے (البقرۃ۔ ١٦٣) ٢۔ یقیناً اللہ ایک ہی الٰہ ہے وہ اولاد سے پاک ہے آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کے لیے ہے (النساء۔ ١٧١) ٣۔ اسکے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہ اکیلا ہی ہے ( المائدۃ : ٧٣) ٤۔ فرما دیجیے کہ اللہ ایک ہی الٰہ ہے اور میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : ١٩) ٥۔ اللہ نے فرمایا دو الٰہ نہ بناؤ یقیناً الٰہ ایک ہی ہے۔ (النحل : ٥١)
وھل اتک حدیث موسیٰ (٠٢ : ٩) ” کیا موسیٰ ؐ کا قصہ تمہیں معلوم ہے “۔ اگر نہیں تو سنئے ‘ حضرت موسیٰ ؐ مدین سے واپسی مصر جارہے تھے۔ وہ طور کے دامن میں سفر کررہے تھے ‘ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی تھی اور ان کے اور اللہ کے نبی شعیب (علیہ السلام) کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ پوراہو گیا تھا۔ معاہدہ یہ تھا کہ حضرت شعیب اپنی بیٹیوں میں سے ایک کو انکے نکاح میں دے دے گا اگر وہ انکی آٹھ سال تک خدمت کرتا رہے یا دس سال تک۔ میعاد پوری کرنے کے بعد حضرت موسیٰ ؐ عازم مصر ہوئے تاکہ وہاں وہ اپنی بیوی کیساتھ مستقلاً زندگی گزاریں۔ مصر میں جہاں ان کی ولادت ہوئی اور جہاں ان کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل آباد ہیں ‘ فرعون کے ظلم و ستم سہ رہے ہیں اور غلامانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔ یہ کیوں واپس ہو رہے ہیں جبکہ مصر سے تو وہ خارج البلد ہوگئے تھے۔ مفرور ہوگئے تھے ‘ جب ایک بار انہوں نے دیکھا کہ ایک قبطی ان کے ہم قوم بنی اسرائیلی سے لزرہا ہے ‘ اس جھگڑے میں قبطی ان کے ہاتھوں قتل ہوگیا تھا۔ حضرت موسیٰ ؐ مصر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے جبکہ بنی اسرائیل پر انواع والوان کے مصائب کے پہاڑ توڑے جارہے تھے۔ مدین میں اللہ کے نبی شعیب (علیہ السلام) کے ہاں ان کو پناہ مل گئی جہاں انہوں نے دامادی اختیار کرلی اور ان کی ایک بیٹی سے ان کا نکاح ہوگیا۔ دست قدرت نے حضرت موسیٰ ؐ کے لئے ایک اہم رول تجویز کر رھکا تھا لیکن بظاہر وطن کی محبت اور اہل و عیال اور قوم کی کشش ان کو مجبور کررہی ہے کہ وہ مدین سے مصر کی طرف واپس ہوجائیں۔ اس دنیا میں بطور انسان ہم لوگ اسی طرح ادھر ادھر گھومتے رہتے ہیں ‘ جذبات ‘ میلانات اور محبتیں ہمیں ادھر ادھر گھماتی رہتی ہیں ‘ جدوجہد اور منافع ‘ مصائب اور امیدیں ‘ یہ باتیں ہمیں ادھر ادھر حرکت دیتی رہتی ہیں ‘ لیکن یہ محض ظاہری چیزیں ہیں ‘ دراصل محرک ایک خفیہ دست قدرت ہے جسے ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔ یہ دست قدرت پوشیدہ مقاصد کے لئے ہمیں حرکت دے رہا ہے۔ یہ مدبرکائنات ‘ اور عزیز اور جبار کا دست قدرت ہے جس کے پاس ہماری ڈائری ہے۔ غرض دست قدرت نے حضرت موسیٰ ؐ کو مدین سے اٹھایا۔ صحرائے سینا میں وہ راہ گم کر بیٹھے ‘ ان کی بیوی ان کے ساتھ ہے ‘ ممکن ہے کوئی خادم بھی ساتھ ہو ‘ رات کا وقت ہے ‘ اندھیری رات ہے ‘ اور صحرا وسیع ہے۔ یہ صورت حال اس آیت سے معلوم ہوتی ہے انہوں نے اہلیہ سے کہا : انی انست نارا۔۔۔۔۔۔۔۔ علی النار ھدی (٠٢ : ٠١) ” ذرا ٹھہرو ‘ میں نے ایک آگے دیکھی ہے ‘ شاید میں تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آئوں یا اس آگ پر مجھے کوئی راہنمائی مل جائے۔ کیونکہ دیہاتی لوگ اونچی جگہ آگ جلایا کرتے ہیں تاکہ صحرا میں چلنے والے گم کردہ راہ لوگ اسے دیکھ لیں اور ان کو راستہ معلوم ہوجائے یا ان کو کھانے پینیکا سامان مل جائے یا ایسا شخص مل جائے جو انہیں سیدھی راہ بتلادے۔ حضرت موسیٰ ؐ نے ایک ٹیلے پر آگ دیکھی تو خوش ہوئے ‘ اس طرف چل دیئے تاکہ وہاں سے کوئی انگارہ لے آئیں اور اس سے آگ جلا کر رات کے وقت یہ لوگ تاپیں۔ رات سرد ہے اور صحرائوں کی راتیں تو بہت سرد ہوتی ہیں یا کوئی راہنما مل جائے یا اسے آگ کی روشنی میں راستہ دیکھا جاسکے۔ وہ گئے تو اس لئے کہ آگ کا انگارہ لے آئیں یا صحرا میں کوئی راہنمائی کرنے والا مل جائے لیکنوہاں وہ اچانک ایک عظیم الشان واقعہ سیدوچار ہوگئے۔ یہاں انہیں ایسی آگ ملی جو جسم کے تاپنے کے کام نہ آتی تھی بلکہ روح کی تپانے کے لیے کار گر تھی۔ یہ آگ صرف صحرا میں رہنمائی کے لئے مفید مطلب نہ تھی بلکہ یہآگ زندگی کے عظیم سفر کے لئے راہ دکھانے والی تھی۔
مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آنا اور نبوت سے سرفراز کیا جانا اور دعوت حق لے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم ہونا پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے تمام قبیلے (جو تعداد میں بارہ تھے) مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہاں ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہ رہی پردیسی ہونے کی وجہ سے مصر کے اصل باشندے یعنی قبطی لوگ انہیں بری طرح ستاتے تھے سخت کاموں میں پیلتے تھے اور بیگاریں لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ فرعون ہی کے گھر میں انہوں نے ایک قبطی (یعنی مصری قوم کے آدمی) کو دیکھا کہ وہ ایک بنی اسرائیل کے آدمی سے لڑرہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے ایک گھونسا مارا اس سے وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک شخص نے بتایا کہ فرعون کے لوگ مشورہ کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کردیں لہٰذا یہاں سے نکل جاؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے نکل گئے اور مدین میں قیام فرمایا، وہاں دس سال رہے شادی بھی وہیں ہوئی جب وہاں سے اپنی بیوی کو لیکر واپس مصر آرہے تھے تو یہ واقعہ پیش آیا جو یہاں سورة طہ میں اور سورة نمل میں اور سورة قصص میں مذکور ہے۔ ہوا یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں کو راستہ میں سردی بھی لگی اور راستہ بھی بھول گئے۔ اسی حال میں تھے کہ طور پہاڑ پر آگ نظر آئی۔ اسے دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم یہیں رہو مجھے آگ نظر آرہی ہے میں جاتا ہوں ابھی تمہارے لیے کوئی خبر لاؤں گا کوئی رہبر ملے گا تو راستہ معلوم کرلو نگایا آگ کا کوئی شعلہ لے آؤں گا تاکہ تم آگ جلا کر تاپ لو۔ (اس سے معلوم ہوا کہ اپنی حاجات کے ساتھ اہل خانہ کی حاجت روائی کا بھی خیال کرنا لازم ہے چونکہ ان کی اہلیہ بھی سردی سے متاثر ہو رہی تھیں اس لیے ان کے گرمی حاصل کرنے کے لیے آگ کا شعلہ لانے کا ارادہ فرمایا) جب آگے بڑھے اور آگ کی جگہ پہنچے تو وہاں ماجراہی دوسرا تھا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو نبوت سے سر فراز فرمانا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے موسیٰ میں تمہارا رب ہوں تم جس جگہ پر ہو یہ مقدس پاک میدان ہے جس کا نام طویٰ ہے تم اپنی جوتیاں اتار دو ۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں گدھے کی کھال سے بنی ہوئی تھیں جس کو دباغت نہیں دی گئی تھی اور عکرمہ و مجاہد نے فرمایا کہ جوتیاں اتارنے کا حکم اس لیے ہوا کہ مقدس سر زمین کی مٹی ان کے قدموں کو لگ جائے (معالم التنزیل ج ٣ ص ٢١٣) اللہ جل شانہ نے خطاب کرتے ہوئے مزید فرمایا (وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی) (اور میں نے تمہیں چن لیا لہٰذا جو وحی کی جاتی ہے اسے ٹھیک طریقہ سے سنو) (اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَافَاعْبُدْنِیْ وَ اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ ) (بلا شبہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا تم میری عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز کو قائم کرو) یوں تو موسیٰ (علیہ السلام) پہلے ہی سے مومن تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی ربوبیت اور الوہیت کی مزید معرفت عطا فرمائی اور انہیں اپنی عبادت کی تلقین فرمائی اور قیامت کے آنے اور قیامت کے دن ہر عمل کرنے والے کو اپنے اپنے عمل کا بدلہ دیئے جانے کا تذکرہ بھی فرمایا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ قیامت آنے کا بھی عقیدہ رکھو، جو لوگ قیامت کو نہیں مانتے اور اپنی خواہشات نفس کے پیچھے چلتے ہیں اللہ کے احکام اور اخبار کی تصدیق نہیں کرتے ان کی بات نہ ماننا اگر منکرین میں سے کسی کی بات مان لی تو تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے تو یہ بات بہت بعید ہے کہ کسی منکر مکذب کی بات مانیں ان کو خطاب کر کے دوسروں کو تنبیہ فرما دی کہ منکرین قیامت کی بات مان کر بربادنہ ہوجانا۔ چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجنا تھا اور ایسی نشانی بھی دینی تھی جس سے فرعون پر حجت قائم ہوجائے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دونشانیاں عطا فرما دیں۔ ان میں سے ایک تو ان کا عصا تھا اور دوسرا ید بیضاء تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین میں دس سال بکریاں چرائی تھیں اس لیے ان کے ہاتھ میں ایک لکڑی رہتی تھی جو اس وقت بھی ان کے ہاتھ میں تھی جواب میں عرض کیا کہ یہ میری لاٹھی ہے۔ اور تھوڑے سے جواب پر اکتفاء نہیں کیا چونکہ خالق کائنات جل مجدہ سے باتیں ہونے کا موقع تھا اس لیے بات لمبی کردی اور اور مزید عرض کیا کہ میں اس پر ٹیک بھی لگاتا ہوں اور اس کے ذریعہ اپنی بکریوں کے لیے پتے بھی جھاڑتا ہوں اور ان کے علاوہ بھی دوسرے کاموں میں استعمال کرتا ہوں (مثلاً موذی جانوروں کو مارنا اور اس کے ذریعہ پانی کا مشکیزہ اور زادراہ اٹھانا وغیرہ)
7:۔ یہ دوسری آیت تشجیع ہے اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ یاد دلایا کہ دیکھو مسئلہ توحید کی تبلیغ کے لیے انہوں نے کسی قدر مصائب اٹھائے۔ لہذا آپ بھی اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر جس قدر تکلیفیں آئیں ان پر صبر کریں۔ مسوق لترغیب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی الائتساء بموسی (علیہ السلام) فی تحمل اعباء النبوۃ والصبر علی مقاساۃ الخطوب فی تبلیغ احکام الرسالۃ۔ (روح ج 16 ص 164) ۔
9 اور اے پیغمبر ! کیا آپ کو موسیٰ کی بات اور اس کی خبر پہونچی ہے۔ یعنی استفہام تشویق کی بنا پر پوچھا گیا تاکہ شوق دلا کر واقعہ ذکر کیا جائے اور وہ واقعہ سنایا جائے جس میں ان کو نبوت دینے کا ذکر ہے اور یہ واقعہ نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور آپ کی نبوت پر ایک دلیل ہو۔