Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 109

سورة الأنبياء

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ اٰذَنۡتُکُمۡ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ وَ اِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ اَمۡ بَعِیۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾

But if they turn away, then say, "I have announced to [all of] you equally. And I know not whether near or far is that which you are promised.

پھر اگر یہ منہ موڑ لیں تو کہہ دیجئے کہ میں نے تمہیں یکساں طور پر خبردار کر دیا ہے مجھے علم نہیں کہ جس کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا دور ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَإِن تَوَلَّوْا ... But if they turn away, means, if they ignore that to which you call them. ... فَقُلْ اذَنتُكُمْ عَلَى سَوَاء ... say: "I give you a notice to be known to us all alike..." meaning, `I declare that I am in a state of war with you as you are in a state of war with me. I have nothing to do with you just as you have nothing to do with me.' This is like the Ayah: وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّى عَمَلِى وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُمْ بَرِييُونَ مِمَّأ أَعْمَلُ وَأَنَاْ بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ And if they belie you, say: "For me are my deeds and for you are your deeds! You are innocent of what I do, and I am innocent of what you do!" (10:41) وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ If you fear treachery from any people, throw back (their covenant) to them (so as to be) on equal terms (that there will be no more covenant between you and them). (8:58) which means: so that both you and they will know that the treaty is null and void. Similarly, Allah says here: فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ اذَنتُكُمْ عَلَى سَوَاء But if they turn away say: "I give you a notice to be known to us all alike..." meaning, `I have already informed you that I have nothing to do with you and you have nothing to do with me.' No one knows when the Hour will come And He (Muhammad) says: ... وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٌ مَّا تُوعَدُونَ And I know not whether that which you are promised (i.e., the Day of Resurrection) is near or far. meaning: `it will inevitably come to pass, but I have no knowledge of whether it is near or far.' إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

109۔ 1 یعنی جس طرح میں جانتا ہوں کہ تم میری دعوت توحید و اسلام سے منہ موڑ کر میرے دشمن ہو، اسی طرح تمہیں بھی معلوم ہونا چاہیے کہ میں بھی تمہارا دشمن ہوں اور ہماری تمہاری آپس میں کھلی جنگ ہے۔ 109۔ 2 اس وعدے سے مراد قیامت ہے یا غلبہ اسلام و مسلمین کا وعدہ یا وہ وعدہ جب اللہ کی طرف سے تمہارے خلاف جنگ کرنے کی مجھے اجازت دی جائے گی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٧] اِذْانْتُمْ عَلٰی سَوَاءٍ کا معنی یہ کہ میں نے تم کو برابری کی سطح پر خبردار کردیا ہے۔ یعنی تمہیں دو باتوں میں سے کسی بھی ایک کا اختیار ہے۔ چاہے میری دعوت کو قبول کرلو اور چاہے تو انکار کردو۔ انکار کی صورت میں تم پر عذاب آئے گا ضرور، لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ عذاب کب آئے گا ؟ جلد آئے گا یا دیر سے آئے گا کیونکہ عالم الغیب نہیں ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ ۔۔ : ” إِنْ “ کا لفظ شک کے لیے آتا ہے، یعنی اول تو اتنے یقینی دلائل کے بعد ممکن نہیں کہ وہ مسلم نہ بنیں، لیکن اتنے واضح اور قطعی دلائل کے بعد بھی اگر وہ منہ موڑیں اور مسلم نہ بنیں تو ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارے اسلام اور توحید سے منہ موڑنے کے بعد میں تمہیں صاف آگاہ کر رہا ہوں کہ تم نے توحید سے منہ موڑا تو میں نے بھی تمہارے شرک سے منہ موڑا، تاکہ یہ بات جاننے میں ہم تم دونوں برابر ہوجائیں۔ سورة کافرون میں بھی یہ اعلان صاف الفاظ میں سنا دیا گیا ہے۔ ۭ وَاِنْ اَدْرِيْٓ اَقَرِيْبٌ ۔۔ : یعنی توحید سے منہ موڑنے کی وجہ سے عذاب کا تم پر آنا لازم ہے، مگر مجھے معلوم نہیں کہ تم سے جس دنیوی یا اخروی عذاب کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا دور ؟ کیونکہ اس کا ٹھیک وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ سورة جن میں فرمایا : (قُلْ اِنْ اَدْرِيْٓ اَقَرِيْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ يَجْعَلُ لَهٗ رَبِّيْٓ اَمَدًا) [ الجن : ٢٥ ] ” کہہ دے میں نہیں جانتا آیا وہ چیز قریب ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، یا میرا رب اس کے لیے کچھ مدت رکھے گا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ۝ ٠ۭ وَاِنْ اَدْرِيْٓ اَقَرِيْبٌ اَمْ بَعِيْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ۝ ١٠٩ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ وأَذِنَ : استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه بالسماع، نحو قوله : فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ البقرة/ 279] . ( اذ ن) الاذن اور اذن ( الیہ ) کے معنی تو جہ سے سننا کے ہیں جیسے فرمایا ۔ { وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ } ( سورة الِانْشقاق 2 - 5) اور وہ اپنے پروردگار کا فرمان سننے کی اور اسے واجب بھی ہے اور اذن کا لفظ اس علم پر بھی بولا جاتا ہے جو سماع سے حاصل ہو ۔ جیسے فرمایا :۔ { فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة البقرة 279) تو خبردار ہوجاؤ کہ ندا اور رسول سے تمہاری چنگ ہے ۔ دری الدّراية : المعرفة المدرکة بضرب من الحیل، يقال : دَرَيْتُهُ ، ودَرَيْتُ به، دِرْيَةً ، نحو : فطنة، وشعرة، وادَّرَيْتُ قال الشاعر : وماذا يدّري الشّعراء منّي ... وقد جاوزت رأس الأربعین والدَّرِيَّة : لما يتعلّم عليه الطّعن، وللناقة التي ينصبها الصائد ليأنس بها الصّيد، فيستتر من ورائها فيرميه، والمِدْرَى: لقرن الشاة، لکونها دافعة به عن نفسها، وعنه استعیر المُدْرَى لما يصلح به الشّعر، قال تعالی: لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] ، وقال : وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 111] ، وقال : ما كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتابُ [ الشوری/ 52] ، وكلّ موضع ذکر في القرآن وما أَدْراكَ ، فقد عقّب ببیانه «1» ، نحو وما أَدْراكَ ما هِيَهْ نارٌ حامِيَةٌ [ القارعة/ 10- 11] ، وَما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ [ القدر/ 2- 3] ، وَما أَدْراكَ مَا الْحَاقَّةُ [ الحاقة/ 3] ، ثُمَّ ما أَدْراكَ ما يَوْمُ الدِّينِ [ الانفطار/ 18] ، وقوله : قُلْ لَوْ شاءَ اللَّهُ ما تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْراكُمْ بِهِ [يونس/ 16] ، من قولهم : دریت، ولو کان من درأت لقیل : ولا أدرأتكموه . وكلّ موضع ذکر فيه : وَما يُدْرِيكَ لم يعقّبه بذلک، نحو : وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى [ عبس/ 30] ، وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ [ الشوری/ 17] ، والدّراية لا تستعمل في اللہ تعالی، وقول الشاعر : لا همّ لا أدري وأنت الدّاري فمن تعجرف أجلاف العرب ( د ر ی ) الدرایۃ اس معرفت کو کہتے ہیں جو کسی قسم کے حیلہ یا تدبیر سے حاصل کی جائے اور یہ دریتہ ودریت بہ دریۃ دونوں طرح استعمال ہوتا ہے ( یعنی اس کا تعدیہ باء کے ساتھ بھی ہوتا ہے ۔ اور باء کے بغیر بھی جیسا کہ فطنت وشعرت ہے اور ادریت بمعنی دریت آتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ع اور شعراء مجھے کیسے ہو کہ دے سکتے ہیں جب کہ میں چالیس سے تجاوز کرچکاہوں قرآن میں ہے ۔ لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے کے بعد کوئی ( رجعت کی سبیلی پیدا کردے ۔ وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 111] اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو ۔ ما كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتابُ [ الشوری/ 52] تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے ۔ اور قرآن پاک میں جہاں کہیں وما ادراک آیا ہے وہاں بعد میں اس کا بیان بھی لایا گیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَما أَدْراكَ ما هِيَهْ نارٌ حامِيَةٌ [ القارعة/ 10- 11] اور تم کیا سمجھتے کہ ہاویہ ) کیا ہے ؟ ( وہ ) دھکتی ہوئی آگ ہے ۔ وَما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ [ القدر/ 2- 3] اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ۔ وَما أَدْراكَ مَا الْحَاقَّةُ [ الحاقة/ 3] اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا چیز ہے ؟ ثُمَّ ما أَدْراكَ ما يَوْمُ الدِّينِ [ الانفطار/ 18] اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ قُلْ لَوْ شاءَ اللَّهُ ما تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْراكُمْ بِهِ [يونس/ 16] یہ بھی ) کہہ و کہ اگر خدا چاہتا تو ( نہ تو ) میں ہی یہ کتاب ) تم کو پڑھکر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا ۔ میں سے ہے کیونکہ اگر درآت سے ہوتا تو کہا جاتا ۔ اور جہاں کہیں قران میں وما يُدْرِيكَآیا ہے اس کے بعد اس بیان مذکور نہیں ہے ( جیسے فرمایا ) وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى [ عبس/ 30] اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے ۔ وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ [ الشوری/ 17] اور تم کیا خبر شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو یہی وجہ ہے کہ درایۃ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال نہیں ہوتا اور شاعر کا قول ع اے اللہ ہی نہیں جانتا اور تو خوب جانتا ہے میں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوا ہے بےسمجھ اور اجڈ بدر دکا قول ہے ( لہذا حجت نہیں ہوسکتا ) الدریۃ ( 1 ) ایک قسم کا حلقہ جس پر نشانہ بازی کی مشق کی جاتی ہے ۔ ( 2 ) وہ اونٹنی جسے شکار کو مانوس کرنے کے لئے کھڑا کردیا جاتا ہے ۔ اور شکار اسکی اوٹ میں بیٹھ جاتا ہے تاکہ شکا کرسکے ۔ المدوی ( 1 ) بکری کا سینگ کیونکہ وہ اس کے ذریعہ مدافعت کرتی ہے اسی سے استعارہ کنگھی یا بار یک سینگ کو مدری کہا جاتا ہے جس سے عورتیں اپنے بال درست کرتی ہیں ۔ مطعن کی طرح مد سر کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی بہت بڑے نیزہ باز کے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے وہ ایک چیز ہے جسے سمندر کنارے پر پھینک دیتا ہے ۔ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ «3» ، وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ( ق ر ب ) القرب والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ قرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے بعد البُعْد : ضد القرب، ولیس لهما حدّ محدود، وإنما ذلک بحسب اعتبار المکان بغیره، يقال ذلک في المحسوس، وهو الأكثر، وفي المعقول نحو قوله تعالی: ضَلُّوا ضَلالًابَعِيداً [ النساء/ 167] ( ب ع د ) البعد کے معنی دوری کے ہیں یہ قرب کی ضد ہے اور ان کی کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ ایک ہی جگہ کے اعتبار سے ایک کو تو قریب اور دوسری کو بعید کہا جاتا ہے ۔ محسوسات میں تو ان کا استعمال بکثرت ہوتا رہتا ہے مگر کبھی کبھی معافی کے لئے بھی آجاتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ضَلُّوا ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 167] وہ راہ ہدایت سے بٹھک کردور جا پڑے ۔ ۔ ان کو ( گویا ) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٩) پھر بھی اگر یہ لوگ ایمان اور اخلاص سے سرکشی کریں تو آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تمہیں واضح اطلاع کرچکا ہوں جس میں کچھ بھی پوشیدہ نہیں کہ میری مدد کی جائے گی اور تمہیں انکار پر سزا ملے گی ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٩ (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُکُمْ عَلٰی سَوَآءٍ ط) ” میں نے تم سب لوگوں تک برابر اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ میں نے تمہارے سرداروں پر بھی اتمام حجت کردیا ہے اور عوام کے سامنے بھی حق واضح انداز میں پیش کردیا ہے۔ الغرض تمہارے معاشرے کا کوئی چھوٹا ‘ کوئی بڑا ‘ کوئی امیر اور کوئی غریب فرد ایسا نہیں جس تک میری یہ دعوت نہ پہنچی ہو۔ لہٰذا جو کام اللہ نے میرے ذمے لگایا تھا میں نے اپنی طرف سے اس کا حق ادا کردیا ہے۔ (وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ ) ” تم لوگوں کو جو وعید سنائی جا رہی ہے ‘ جس عذاب یا قیامت کے وقوع پذیر ہونے سے متعلق تم لوگوں کو خبردار کیا جا رہا ہے ‘ اس کے بارے میں کوئی ” ٹائم ٹیبل “ میں تم لوگوں کو نہیں دے سکتا۔ میں نہیں جانتا کہ اللہ کا وہ وعدہ کب پورا ہوگا ‘ البتہ یہ بات طے ہے کہ اپنے کرتوتوں کے نتائج و عواقب بہر حال تم لوگوں کو بھگتنے ہوں گے۔ قیامت کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں قطعی علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ‘ البتہ قرآن میں جابجا قیامت اور آثار قیامت کے بارے میں اشارے ملتے ہیں۔ احادیث نبویہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کتاب الملاحم ‘ کتاب اشراط الساعۃ اور کتاب الفتن کے اندر بھی قرب قیامت کے زمانہ کے حالات و واقعات بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں سابقہ الہامی کتب کے اندر بھی بہت سی پیشین گوئیاں موجود ہیں۔ اگرچہ ان کتب میں بڑی حد تک ردّ و بدل کردیا گیا ہے ‘ لیکن ان کی بعض عبارات اپنی اصلی حالت میں آج بھی موجود ہیں۔ ان پیشین گوئیوں کے حوالے سے بائبل کی آخری کتاب Book of Revelation بھی بہت اہم ہے جو حضرت یوحنا (John) کے مکاشفات پر مشتمل ہے ‘ جو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے حواریوں میں سے تھے اور حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) پیغمبر (یوحنا : John the Baptist) کے ہم نام تھے۔ ماضی قریب کی شخصیات میں Nostradamous ‘ نعمت شاہ ولی ‘ گاندھی جی (ان کی ذاتی ڈائری کی دریافت کے بعد یہ پیشین گوئیاں سامنے آئی ہیں) اور وائن برگر کی پیشین گوئیاں ملتی ہیں۔ اس سب کچھ کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت سے پہلے اس دنیا پر بہت مشکل حالات آنے والے ہیں۔ آثار وقرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت اب زیادہ دور نہیں ‘ لیکن اس کے وقوع کے بارے میں قطعی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

101. That is, I do not know the time and the form of the punishment of Allah for your rejection of the message. It may come at any time in any shape.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :101 یعنی خد اکی پکڑ جو دعوت رسالت کو رد کر دینے کی صورت میں آئے گی ، خواہ کسی نوعیت کے عذاب کی شکل میں آئے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:109) تولوا۔ اصل میں تولیء (تفعل) سے بمعنی منہ پھیرنا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تتولوا تھا۔ ایک تا حذف ہوگئی اور اس سے قبل نون اعرابی ان کے عمل گرگیا۔ اذنتکم۔ اذنت ایذان سے ماضی کا صیغہ واحد متکلم ہے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں نے تم کو خبر کردی۔ میں نے تم کو اطلاع دے دی۔ الاذان الاعلام ومنہ الاذان للصلوۃ علانیہ طور پر مطلع کرنا۔ علی الاعلان علی سوائ۔ خوب مفصل اور مدلل طور پر۔ واضح طور پر پوری طرح۔ اذنتکم علی سوائ۔ میں نے واضح طور پر خوب تفصیل سے اور دلیل سے تم کو مطلع کردیا ہے احکام الٰہی کا اور عدم تعمیل میں دردناک نتائج کا۔ ان ادری۔ ان نافیہ ہے۔ ای ما ادری۔ میں نہیں جانتا۔ مجھے نہیں معلوم۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ کہ اب میرا اور تمہارا کوئی اشتراک نہیں یا تمہیں قبول وعدم قبول میں برابر کا اختیار ہے یا پورے طور پر آگاہ کردیا ہے اور کسی قسم کے کتمان سے کام نہیں لیا۔ (قرطبی) 3 ۔ کیونکہ اس کا ٹھیک وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فان تولو افقل اذئتکم علی سوآء (٢١ : ١٠٩) ” اگر وہ منہ پھیریں تو پھر کہو کہ میں نے علی الاعلان تم کو خبردار کردیا ہے۔ “ یعنی میں نے اپنا مدعا پورا پورا تمہارے سامنے رکھ دیا ہے۔ اب میں اور تم برابر ہیں۔ ” ایذان “ تو دراصل اس اعلان اور الٹی میٹم کو کہتے ہیں جو امن کا زمانہ ختم ہونے کے وقت کیا جاتا ہے اور فریق دوئم سے کہا جاتا ہے کہ اب دونوں فریقوں کے درمیان جنگ ہے۔ یہ سورة مکی ہے ، اس وقت قتال فرض نہ ہوا تھا ، تو یہاں اعلان کا مطلب یہ ہے کہ میں نے جو کچھ کہنا تھا ، کہہ دیا ہے۔ اب تم جانور اور تمہارا انجام۔ یعنی اب یہ آخری اعلان آگیا ہے اور آئندہ تمہارے لئے عذر و معذرت کا کوئی جواز نہ ہوگا۔ اگر وہ جانتے بوجھتے اپنے راستے پر چلتے رہیں تو اس کا وبال بھی ان پر ہوگا کیونکہ ان کو علم ہے۔ و ان ادری اقریب ام بعیدماتوعدون (٢١ : ١٠٩) ” اب میں نہیں جانتا کہ وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے قریب ہے یا دور۔ “ میں نے تمہیں اعلانیہ کہہ دیا ہے۔ لیکن میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ جس عذاب کے تم مستحق ہو وہ کب آئے گا۔ کیونکہ یہ تو اللہ کے مخفی علوم میں سے ایک غیبی علم ہے۔ اس کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ تمہیں دنیا میں پکڑتا ہے یا آخرت میں۔ وہ تمہارے راز سے بھی واقف ہے اور کھلی باتوں سے بھی۔ تمہاری کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُکُمْ عَلٰی سَوَآءٍ ) کہ اگر یہ لوگ آپ کی دعوت قبول نہ کریں اور رو گردانی کریں تو آپ فرما دیجیے کہ میں حجت پوری کرچکا ہوں۔ نہایت صاف طریقہ پر بتاچکا ہوں۔ توحید کی دعوت بھی تمہیں دے دی، اسلام کی حقانیت پر دلائل بھی دے دیئے۔ معجزات بھی پیش کردیئے۔ اب ذرہ برابر بھی تم پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہی۔ نہ مانو گے تو اپنا برا کرو گے۔ پھر فرمایا کہ تم کو جو یہ بتایا ہے کہ دین حق قبول نہ کرنے پر دنیا میں عذاب آئے گا اور قیامت کے دن بھی عذاب میں مبتلا ہو گے یہ وعدہ سچا ہے لیکن اس کے وقوع میں جو دیر لگ رہی ہے اس کی وجہ سے یہ نہ سمجھنا کہ اس کا وقوع نہ ہوگا۔ خود مجھے بھی معلوم نہیں کہ وہ قریب ہی واقع ہونے والا ہے یا اس کے وقوع میں دیر ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کی اجل مقرر ہے۔ میرا اور تمہارا اس اجل کو نہ جاننا اس بات کی دلیل نہیں کہ موعودہ عذاب کا وقوع نہیں ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

87:۔ ” فَاِنْ تَوَلَّوْا الخ “” اٰذَنْتُکُمْ “ کا مفعول ثانی محذوف ہے ای ما اوحی الی اور ” عَلیٰ سَوَاءٍ “ مفعول اول سے حال واقع ہے یعنی جن امور کی بذریعہ وحی مجھے اطلاع دی گئی ہے اور جن کی تبلیغ کا حکم مجھے دیا گیا ہے مثلاً مسئلہ توحید، انکار کرنے والوں کے لیے عذاب شدید کی وعید اور آخر کار غلبہ اسلام وغیرہ ان امور کی میں نے بلا تخصیص تم سب کو اطلاع دے دی ہے ایسا نہیں کیا کہ کچھ لوگوں کو بتائے ہوں اور کچھ لوگوں سے ان کو چھپا رکھا ہو ای کائنین علی سواء فی الاعلام بذلک لم اخص احدا منکم دون احد (روح ج 17 ص 107) ۔ فقد اعلمتکم ما ھو الواجب علیکم من التوحید وغیرہ علی سواء، فلم افرق فی الابلاغ والبیان بینکم لانی بعثبت معلما۔ (کبیر ج 6 ص 204) ۔ یا ” عَلی سواء “ فاعل اور مفعول دونوں سے حال ہے یعنی میں نے تمہیں مسئلہ توحید عقل و نقل اور وحی کے دلائل سے اس طرح واضح اور عیاں کر کے بتا اور سمجھا دیا ہے کہ اب اس مسئلہ کے جاننے اور سمجھنے میں اور تم برابر ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ضد اور عناد کی وجہ سے تم اس کا اقرار نہ کرو۔ ای مستویا انا وانتم فی العلم بما اعلمتکم بہ من وحدانیۃ اللہ تعالیٰ لقیام الادلۃ علیھا (روح ) ۔ 88:۔ ” وَ اِنْ اَدْرِيْ الخ “ یہ دعوی سورت کا اعادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں یعنی میں نے تمہیں یہ بات تو صاف صاف بتا دی ہے کہ مسئلہ توحید نہ مانوگے تو آخرت میں ذلت آمیز عذاب اور ہولناک عقاب میں متبلاء کیے جاؤ گے اور دنیا میں بھی آخر تم مغلوب ہوگے اور اسلام کا بول بالا ہوگا۔ یہ سب کچھ ضرور ہوگا مگر اس بات کا علم نہیں کہ یہ امور کب واقع ہوں گے۔ تمہاری تباہی و بربادی ہوجا کر اسلام کو کس سنہ میں غلبہ نصیب ہوگا اور قیامت کب قائم ہوگی۔ ان امور کا علم اللہ تعالیٰ مجھے عطاء نہیں فرمایا وھذا الایذان ھو اعلان بما یحل بمن تولی من العقاب وغلبۃ الاسلام ولکنی لا ادری متی یکون ذلک (بحر ج 6 ص 346) ۔ ” مَا تُوْعَدُوْنَ “ کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں۔ غلبہ اسلام، مشرکین پر دنیوی عذاب اور قیامت وغیرہ بہرحال اس سے جو بھی مراد ہو۔ وہ نزول آیت کے بعد زمانہ مستقبل میں واقع ہونے والا ہے اپنی ذات سے جس کے علم کی نفی کرنے کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا ہے۔ سید محمود آلوسی لکھتے ہیں۔ ” ما توعدون “ من غلبۃ المسلمین و ظہور الدین او الحشر مع کونہ اتیا لا محالۃ (روح) ۔ امام رازی فرماتے ہیں۔ اقریب ام بعید ما توعدون من یوم القیامۃ و من عذاب الدنیا ان ما یوعدون بہ من غلبۃ المسلمین علیھم کائن لا محالۃ ولابد ان یلحقہھم بذالک الذل والصغار وان کنت لا ادری متی یکون ذلک لان اللہ تعالیٰ لم یطلعنی علیہ (کبیر ج 6 ص 205) ۔ یعنی جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہے گی مگر مجھے یہ معلوم نہیں کہ وہ کب واقع ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی اطلاع نہیں دی اور مجھے اس کے معین وقت کا علم عطاء نہیں فرمایا۔ امام ابو البرکات نسفی حنفی رقمطراز ہیں ای لادری متی یکون یوم القیامۃ لان اللہ تعالیٰ لم یطلعنی علیہ ولکنی اعلم بانہ کائن لامحالۃ او لا دری متی یحل بکم العذاب ان لم تومنوا (مدارک ج 3 ص 71) ۔ علامہ خازن راقم ہیں ” ماتوعدون “ یعنی یوم القیامۃ لا یعلمہ الا اللہ (خازن ج 4 ص 264) ۔ علامہ قرطبی خامہ فرسا ہیں ” ما توعدون “ یعنی اجل یوم القیامۃ لا یدریہ احد لا نبی مرسل ولا ملک مقرب قالہ ابن عباس وقیل اذنتکم بالھرب ولکنی لا ادری متی یوذن لی فی محاربتکم (قرطبی ج 11 ص 350) ۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں۔ ای ھو واقع لا محالۃ ولکن لا علم لی بقربہ ولا ببعدہ (قبن کثیر ج 3 ص 202) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(109) پھر اگر یہ لوگ روگردانی کریں اور اسلام قبول کرنے سے انکار کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں نے تم کو آگاہ اور یکساں طور پر خبردار کردیا۔ میں نے تم کو اطلاع کردی دونوں طرف برابر جس چیز کا تم کو وعدہ دیا گیا ہے اور جس عذاب اور سزا کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ نزدیک ہے یا دور ہے یعنی میں نے صاف صاف تم کو اطلاع دے دی کہ اب نہ مجھ پر کوئی بار ہے اور نہ تمہارے لئے کوئی حجت اور عذر ہے۔ تمہارا راستہ الگ اور میرا راستہ جدا۔ رہی یہ بات کہ جس عذاب کا تم کو خوف دلایا جاتا ہے اور نافرمانی کی صورت می جس سزا سے ڈرایا جاتا ہے وہ عذاب یا سزا کیوں نہیں واقع ہوتی تو اس کے متعلق مجھے وقت نہیں معلوم کہ وہ دور ہے یا نزدیک ہے۔ صرف اتنا جانتا ہوں کہ حق کو نہ ماننے اور حق بات جو دلائل سے ثابت ہوچکی ہو اس کا انکار کرنے کی سزا ضرور ملے گی چاہے جب ملے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دونوں طرف برابر یعنی ابھی تم دونوں بات کرسکتے ہو ایک طرف کا زور نہیں آیا۔ 12۔ یعنی دونوں باتیں برابر ہیں چاہے قبول کرو یا رد کردو اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے۔