Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 110

سورة الأنبياء

اِنَّہٗ یَعۡلَمُ الۡجَہۡرَ مِنَ الۡقَوۡلِ وَ یَعۡلَمُ مَا تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾

Indeed, He knows what is declared of speech, and He knows what you conceal.

البتہ اللہ تعالٰی تو کھلی اور ظاہر بات کو بھی جانتا ہے اور جو تم چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, He (Allah) knows that which is spoken aloud (openly) and He knows that which you conceal. Allah knows the Unseen in its entirety; He knows what His creatures do openly and what they do secretly. He knows what is visible and what is concealed; He knows what is secret and hidden. He knows what His creatures do openly and in secret, and He will requite them for that, for both minor and major actions. وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَـــهْرَ مِنَ الْقَوْلِ ۔۔ : سب کے سامنے کھلم کھلا عمل بھی ہوتا ہے اور قول بھی، اس لیے فرمایا کہ کوئی بھی کھلم کھلی اور بلند آواز میں ہونے والی بات ہو، اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتا ہے اور جو بات تم دل میں چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہے۔ یہ تنبیہ اور خبردار کرنے کا مؤثر ترین طریقہ ہے کہ کسی کو غلط کام سے روکنا ہو تو اسے روکنے کے بجائے کہا جائے کہ میں تمہاری سب حرکتیں دیکھ رہا ہوں، مطلب یہ کہ تم سے نمٹ لوں گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہاری بلند آواز کی باتیں بھی جانتا ہوں اور جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ بھی جانتا ہوں۔ مطلب یہ کہ تمہارا کفر بھی مجھے معلوم ہے اور تمہارا نفاق بھی، اس لیے کفر بھی چھوڑ دو اور نفاق بھی، ورنہ میری گرفت کے لیے تیار رہو۔ 3 یہاں ایک سوال ہے کہ چھپی ہوئی بات جاننا تو واقعی کمال ہے اور یہ اللہ ہی کی شان ہے، مگر جہر اور بلند آواز سے کی ہوئی بات تو ہر شخص سن سکتا ہے اور جان سکتا ہے، اس صفت کو خاص طور پر کیوں ذکر فرمایا گیا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بلند آواز سے ایک آدمی بات کرے تو واقعی وہ سمجھ میں آجاتی ہے مگر جب ایک ہی وقت میں دو چار یا دس پندرہ آدمی اپنی پوری بلند آواز کے ساتھ بات کرنا شروع کردیں تو آدمی کو کسی کی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی، یہ اللہ مالک الملک، سمیع وبصیر کی شان ہے کہ دس پندرہ نہیں کروڑوں، اربوں انسان، جن، فرشتے اور حیوانات اپنی پوری آواز کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں، تو وہ ان سب کی پکار سنتا ہے، جو کچھ وہ کہہ رہے ہوتے ہیں اسے جانتا ہے اور ان کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ مخلوق میں یہ وصف کہاں ؟ (بقاعی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّہٗ يَعْلَمُ الْجَـــہْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ۝ ١١٠ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا جهر جَهْر يقال لظهور الشیء بإفراط حاسة البصر أو حاسة السمع . أمّا البصر فنحو : رأيته جِهَارا، قال اللہ تعالی: لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55] ، أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً [ النساء/ 153] ( ج ھ ر ) الجھر ( ف) اس کے اصل معنی کسی چیز کا حاسہ سمع یا بصر میں افراط کے سبب پوری طرح ظاہر اور نمایاں ہونے کے ہیں چناچہ حاسہ بصر یعنی نظروں کے سامنے کسی چیز کے ظاہر ہونے کے متعلق کہا جاتا ہے رایتہ جھرا کہ میں نے اسے کھلم کھلا دیکھا قرآن میں ہے :۔ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55] کہ جب تک ہم خدا کو سامنے نمایاں طور پر نہ دیکھ لیں تم پر ایمان نہیں لائیں گے ۔ أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً [ النساء/ 153] ہمیں نمایاں اور ظاہر طور پر خدا دکھا دو ۔ كتم الْكِتْمَانُ : ستر الحدیث، يقال : كَتَمْتُهُ كَتْماً وكِتْمَاناً. قال تعالی: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] ، وقال : وَإِنَّ فَرِيقاً مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [ البقرة/ 146] ، وَلا تَكْتُمُوا الشَّهادَةَ [ البقرة/ 283] ، وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ [ آل عمران/ 71] ، وقوله : الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ ما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النساء/ 37] فَكِتْمَانُ الفضل : هو کفران النّعمة، ولذلک قال بعده : وَأَعْتَدْنا لِلْكافِرِينَ عَذاباً مُهِيناً [ النساء/ 37] ، وقوله : وَلا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً [ النساء/ 42] قال ابن عباس : إنّ المشرکين إذا رأوا أهل القیامة لا يدخل الجنّة إلّا من لم يكن مشرکا قالوا : وَاللَّهِ رَبِّنا ما كُنَّا مُشْرِكِينَ [ الأنعام/ 23] فتشهد عليهم جوارحهم، فحینئذ يودّون أن لم يکتموا اللہ حدیثا «2» . وقال الحسن : في الآخرة مواقف في بعضها يکتمون، وفي بعضها لا يکتمون، وعن بعضهم : لا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً [ النساء/ 42] هو أن تنطق جو ارحهم . ( ک ت م ) کتمہ ( ن ) کتما وکتما نا کے معنی کوئی بات چھپانا کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو جو اس کے پاس کتاب اللہ میں موجود ہے چھپائے ۔ وَإِنَّ فَرِيقاً مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [ البقرة/ 146] مگر ایک فریق ان میں سچی بات جان بوجھ کر چھپا رہا ہے ۔ وَلا تَكْتُمُوا الشَّهادَةَ [ البقرة/ 283] اور ( دیکھنا ) شہادت کو مت چھپانا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ ما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النساء/ 37] جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو ( مال ) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں ۔ میں کتمان فضل سے کفران نعمت مراد ہے اسی بنا پر اس کے بعد فرمایا : وَأَعْتَدْنا لِلْكافِرِينَ عَذاباً مُهِيناً [ النساء/ 37] اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً [ النساء/ 42] اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے کی تفسیر میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب قیامت کے روز مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں وہی لوگ داخل ہو رہے ہیں جو مشرک نہیں تھے ۔ تو چھٹ سے پکارا اٹھیں گے وَاللَّهِ رَبِّنا ما كُنَّا مُشْرِكِينَ [ الأنعام/ 23] خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے ۔ مگر اس کے بعد ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے تو اس وقت وہ تمنا کریں گے کہ خدا تعالیٰ سے کوئی بات نہ چھپائے ہوتی حسن بصری فرماتے ہیں کہ آخرت میں متدد واقف ہوں گے بعض موقعوں پر وہ اپنی حالت کو چھپانے کی کوشش کریں گے ۔ اور بعض میں نہیں چھپائیں گے بعض نے کہا ہے کہ کوئی چھپا نہ سکنے سے مراد یہ ہے کہ ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دینگے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٠) باقی میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب ہے یا دور اللہ تعالیٰ کو تمہاری پکار اور کی ہوئی بات کی بھی خبر ہے اور جو بات تم دل میں رکھتے ہو یا جو کام چھپ کر کرتے ہو اس کی بھی خبر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

102. This refers to their secret schemes, plots and their whispering campaign which have been mentioned in (verse 3). There, too, the Prophet (peace be upon him) had said: My Lord has the knowledge of everything that is said in the heavens or the earth for He is All-Hearing, All-Knowing. (verse 4). This was to warn them that they would be taken to task for these things, too.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :102 اشارہ ہے ان مخالفانہ باتوں اور سازشوں اور سرگوشیوں کی طرف جن کا آغاز سورہ میں ذکر کیا گیا تھا ۔ وہاں بھی رسول کی زبان سے ان کا یہی جواب دلوایا گیا تھا کہ جو باتیں تم بنا رہے ہو وہ سب خدا سن رہا ہے اور جانتا ہے ۔ یعنی اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ یہ ہوا میں اڑ گئیں اور کبھی ان کی باز پرس نہ ہو گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ۔ یعنی تمہاری سب سازشوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے۔ ان کی سزا وہ تمہیں ضرور دے گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انہ یعلم الجھر من القول ویعلم ماتکتمون (٢١ : ١١٠) ” اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو با آواز بلند کہی جاتی ہیں اور وہ بھی جو تم چھپا کر کرتے ہو۔ “ تمہارے سب معاملات اس کے سامنے کھلے ہیں۔ وہ اگر تمہیں سزا دے گا تو اس لئے دے گا کہ تمہارے ظاہری اور خفیہ سب معاملات سے وہ باخبر ہے اور اگر وہ عذاب کو مئوخر کرتا ہے تو پھر بھی کوئی حکمت اس کے پیش نظر ہوگی۔ وان ادری لعلہ فتنۃ لکم و متاع الی حین (٢١ : ١١١) ” میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شاید یہ تمہارے لئے ایک فتنہ ہے اور تمہیں ایک وقت تک کے لئے مزے کرنے کا موقعہ دیا جا رہا ہے۔ “ یعنی تمہاری سزا میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے ؟ یہ میرے علم کے مطابق تمہارے لئے مزید آزمائش ہے۔ تمہیں مزید مہلت دی جا رہی ہے اور اس کے بعد تمہیں بڑی سختی سے پکڑا جائے گا۔ وقت عذاب کے عدم تعین میں بھی ان کے لئے احساس کرنے کا ایک موقع ہے۔ جب کسی وقت کا تعین نہ ہو تو اس امر کے واقع ہونے کا احتمال ہر وقت رہتا ہے اور ایک عقلمند اس سے ڈر سکتا ہے کہ کہیں اچانک ہی سر پر نہ آجائے۔ یہ بھی امکان ہے کہ ان کے دل غفلت کے پردوں سے باہر نکل آئیں اور یہ سمجھ لیں کہ اس آزمائش اور مہلت کے بعد کہیں مصیبت نہ آجائے۔ اگر کسی مصیبت کو آنا ہو اور وقت معلوم نہ ہو تو ایک سمجھدار انسان کو ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ ابھی پردہ گرتا ہے اور یہ مصیبت سامنے آتی ہے۔ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان ان امور سے غافل ہوتا ہے جو پردہ غیب کے پیچھے سے اس کے انتظار میں ہوتے ہیں اور دنیا کا ساز و سامان و عیش و طرب انسان کو مزید دھوکہ دیتا ہے۔ انسان ان امور کو بھول جاتا ہے جو پردے کے پیچھے ہوتے ہیں ، لہٰذا وہ عدم علم کی وجہ سے غافل ہوجاتا ہے اس لئے اللہ نے لوگوں کو اور ایسے غافلوں کو متنبہ کرنا ضروری سمجھا ہے تاکہ وہ وقت آنے سے پہلے ہی خبردار ہوجائیں اور اپنے لئے کوئی بندوبست کریں۔ حضور نے امانت پہنچا دی ، پیغام لوگوں کو دے دیا اور علی اعلان دے دیا۔ ان کو اچانک عذاب الٰہی سے بھی خبردار کردیا۔ اب آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائیں اور اللہ سے یہ درخواست کریں کہ وہ سچا فیصلہ کر دے اور ان لوگوں کی سازشوں ، ان کی تکذیب اور ان کے مذاق کا صلہ خود ان کو دیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَکْتُمُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ جانتا ہے زور سے کہی ہوئی بات کو بھی اور ان چیزوں کو بھی جنہیں تم چھپاتے ہو) تم زبانوں سے حق کا انکار کرو یا دلوں سے اس کی تردید کرو، اس کی سزا پالو گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے اور وہی سزا دینے والا ہے۔ اگر کفر اور شرک کی باتوں کو اپنے دل میں چھپاتے ہو تو اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ چونکہ زبان سے نہیں نکالا اس لیے مواخذہ نہ ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

89:۔ ” اِنَّهٗ یَعْلَمُ الخ “ یہ ماقبل کی دلیل اور علت ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(110) بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس بات کو بھی جانتا ہے جو پکار کر کہی جائے اور اس کو بھی جانتا ہے جو بات تم دل میں چھپاتے ہو یعنی کوئی بات حضرت حق تعالیٰ سے مخفی نہیں ہے۔