Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 17

سورة الأنبياء

لَوۡ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نَّتَّخِذَ لَہۡوًا لَّاتَّخَذۡنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّاۤ ٭ۖ اِنۡ کُنَّا فٰعِلِیۡنَ ﴿۱۷﴾

Had We intended to take a diversion, We could have taken it from [what is] with Us - if [indeed] We were to do so.

اگر ہم یوں ہی کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that). Ibn Abi Najih said, narrating from Mujahid: لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لاَّتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا (Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us), "Meaning, `From Ourself,' He is saying, `We would not have created Paradise or Hell or death or the resurrection or the Reckoning."' ... إِن كُنَّا فَاعِلِينَ if We were going to do (that). Qatadah, As-Suddi, Ibrahim An-Nakha`i and Mughirah bin Miqsam said: "This means, `We will not do that."' Mujahid said, every time the word أَن (if) is used in the Qur'an, it is a negation.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 یعنی اپنے پاس سے ہی کچھ چیزیں کھیل کے لئے بنا لیتے اور اپنا شوق پورا کرلیتے۔ اتنی لمبی چوڑی کائنات بنانے کی اور پھر میں ذی روح اور ذی شعور مخلوق بنانے کی کیا ضرورت تھی ؟ 17۔ 2 ' اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے ' عربی اسلوب کے اعتبار سے یہ زیادہ ہے بہ نسبت اس ترجمہ کے کہ ' ہم کرنے والے ہی نہیں ' صحیح ہے (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا ۔۔ : یعنی بفرض محال اگر ہم اپنی دل لگی اور کھیل کے لیے کھیلنے کی کوئی چیز بناتے تو اپنے پاس بنا لیتے اور تمہیں اس کا پتا نہ چلنے دیتے، کیونکہ لہو و لعب تو نقص اور خامی کی بات ہے، اس لیے ہم اسے کسی کی نگاہ کے سامنے نہ آنے دیتے۔ تو یہ آسمان و زمین جو ہر وقت تمہارے سامنے ہیں، ہم کھیل اور دل لگی کے لیے کیسے بنا سکتے ہیں ؟ یہ ساری بات بطور فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کس قدر رحیم و کریم ہے کہ اس نے انسان کی چھوٹی عقل کو سمجھانے اور ہر طرح سے مطمئن کرنے کے لیے اس کی ذہنی سطح کے مطابق بات کی ہے، ورنہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کرے، کیونکہ لفظ ” لَوْ “ ہوتا ہی محال چیز کے بیان کے لیے ہے۔ 3 طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے ” لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ “ کا معنی نقل کیا ہے کہ ہم اس لہو و لعب کو اپنے پاس بنا لیتے، نہ جنت اور جہنم پیدا کرتے اور نہ ہی موت اور قیامت۔ یعنی پھر زمین و آسمان، انسان، جن اور ان کی جزا و سزا کے سلسلے کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ دیکھیے سورة مومنون (١١٥) ، سورة صٓ (٢٧) اور سورة ملک (٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

لَوْ أَرَ‌دْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا إِن كُنَّا فَاعِلِينَ (Had We intended to have a pastime, We would have had it from Our own, if We were to do so. - 21:17) It means that if We were to create something for amusement, there was no need to create the earth and the sky, and We could have done so from the things around Us. In Arabic language the word لَو is used for imaginary and non-existent things. Here also it is used in the same sense i.e. those foolish people who regard all the wonderful things of the earth and the sky objects of fun and frolic do not realize that creation on such a gigantic scale cannot be undertaken for amusement. The suggestion here is that even a person of ordinary common sense would not indulge in a project which has no serious purpose, to say nothing of Allah Ta` ala who is Supreme and Exalted. The commonly accepted meaning of لَھو is a purposeless pastime, and this meaning has been adopted in translating this verse. According to some commentators this word لَھو is also used sometimes for wife or children in which case the meaning of the verse would be a denial of the belief of the Jews and Christians, who thought that Sayyidna ` Uzair and Sayyidna Masih (علیہما السلام) were God&s sons. If Allah wished to have children why should they be from humans and not from other creatures around Him. (Allah knows best).

لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ ، یعنی اگر ہم کوئی مشغلہ بطور کھیل کے بنانا ہی چاہتے اور ہمیں یہ کام کرنا ہی ہوتا تو ہمیں اس کی کیا ضرورت تھی کہ زمین و آسمان وغیرہ پیدا کریں یہ کام اپنے پاس کی چیزوں سے بھی ہوسکتا تھا۔ عربی زبان میں حرف لو فرضی چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے جس کا کوئی وجود نہ ہو اس جگہ بھی اس حرف سے یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ جو احمق ان تمام علویات اور سفلیات آسمانی اور زمینی مخلوقات اور مصنوعات عجیبہ کو لہو و لعب سمجھتے ہیں کیا وہ اتنی بھی عقل نہیں رکھتے کہ اتنے بڑے بڑے کام لہو و لعب کے لئے نہیں ہوا کرتے یہ کام جس کو کرنا ہو وہ یوں نہیں کیا کرتا، اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ لہو و لعب کا کوئی کام بھی حق تعالیٰ کی عظمت شان تو بہت بلند وبالا ہے کسی اچھے معقول آدمی سے بھی متصور نہیں۔ لہو کے اصلی اور معروف معنی بیکاری کے مشغلہ کے ہیں اسی کے مطابق مذکورہ تفسیر کی گئی ہے۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ لفظ لہو کبھی بیوی کے لئے اور اولاد کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور یہاں یہ مراد لی جائے تو مطلب آیت کا یہود و نصاری پر رد کرنا ہوگا جو حضرت مسیح یا عزیر (علیہما السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں کہ اگر ہمیں اولاد ہی بنانی ہوتی تو انسان مخلوق کو کیوں بناتے اپنے پاس کی مخلوق میں سے بنا لیتے۔ واللہ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَہْوًا لَّاتَّخَذْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّآ۝ ٠ۤۖ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ۝ ١٧ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ لهو [ اللَّهْوُ : ما يشغل الإنسان عمّا يعنيه ويهمّه . يقال : لَهَوْتُ بکذا، ولهيت عن کذا : اشتغلت عنه بِلَهْوٍ ] «5» . قال تعالی: إِنَّمَا الْحَياةُ الدُّنْيا لَعِبٌ وَلَهْوٌ [ محمد/ 36] ، وَما هذِهِ الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ [ العنکبوت/ 64] ، ويعبّر عن کلّ ما به استمتاع باللهو . قال تعالی: لَوْ أَرَدْنا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْواً [ الأنبیاء/ 17] ومن قال : أراد باللهو المرأة والولد «6» فتخصیص لبعض ما هو من زينة الحیاة الدّنيا التي جعل لهوا ولعبا . ويقال : أَلْهاهُ كذا . أي : شغله عمّا هو أهمّ إليه . قال تعالی: أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] ، رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] ولیس ذلک نهيا عن التّجارة وکراهية لها، بل هو نهي عن التّهافت فيها والاشتغال عن الصّلوات والعبادات بها . ألا تری إلى قوله : لِيَشْهَدُوا مَنافِعَ لَهُمْ [ الحج/ 28] ، لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُناحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 198] ، وقوله تعالی: لاهِيَةً قُلُوبُهُمْ [ الأنبیاء/ 3] أي : ساهية مشتغلة بما لا يعنيها، واللَّهْوَةُ : ما يشغل به الرّحى ممّا يطرح فيه، وجمعها : لُهًا، وسمّيت العطيّة لُهْوَةً تشبيها بها، واللَّهَاةُ : اللّحمة المشرفة علی الحلق، وقیل : بل هو أقصی الفم . ( ل ھ و ) اللھو ۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اہم کاموں سے ہتائے اور بازر کھے یہ لھوت بکذا ولھیت عن کذا سے اسم ہے جس کے معنی کسی مقصد سے ہٹ کر بےسود کام میں لگ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنَّمَا الْحَياةُ الدُّنْيا لَعِبٌ وَلَهْوٌ [ محمد/ 36] جان رکھو کہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے ۔ پھر ہر وہ چیز جس سے کچھ لذت اور فائدہ حاصل ہو اسے بھی لھو کہہ دیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لَوْ أَرَدْنا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْواً [ الأنبیاء/ 17] اگر ہم چاہتے کہ کھیل بنائیں تو ہم اپنے پاس سے بنا لیتے ۔ اور جن مفسرین نے یہاں لھو سے مراد عورت یا اولادلی ہے انہوں نے دنیاوی آرائش کی بعض چیزوں کی تخصیص کی ہے جو لہو ولعب بنالی گئیں ہیں ۔ محاورہ ہے : الھاۃ کذا ۔ یعنی اسے فلاں چیز نے اہم کام سے مشغول کردیا ۔ قرآن میں ہے : أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] لوگوتم کو کثرت مال وجاہ واولاد کی خواہش نے غافل کردیا ۔ رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] یعنی ایسے لوگ جن کو خدا کے ذکر سے نہ سود اگر ی غافل کرتی ہے اور نہ خرید وفروخت ۔ اس آیت سے تجارت کی ممانعت یا کر اہتبیان کرنا مقصود نہیں ہے ۔ بلکہ اس میں پروانہ دار مشغول ہو کر نماز اور دیگر عبادات سے غافل ہونے کی مذمت کی طرف اشارہ ہے نفس تجارت کو قرآن نے فائدہ مند اور فضل الہی سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : لِيَشْهَدُوا مَنافِعَ لَهُمْ [ الحج/ 28] تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لئے حاضر ہوں ۔ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُناحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 198] اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ ( حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت ) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو ۔ اور آیت کریمہ : لاهِيَةً قُلُوبُهُمْ [ الأنبیاء/ 3] ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ ان کے دل غافل ہو کر بیکار کاموں میں مشغول ہیں ۔ اللھوۃ ۔ آٹا پیستے وقت چکی میں ایک مرتبہ جتنی مقدار میں غلہ ڈالا جائے ۔ اس لھوۃ کہا جاتا ہے اس کی جمع لھاء آتی ہے ۔ پھر تشبیہ کے طور پر عطیہ کو بھی لھوۃ کہدیتے ہیں ۔ اللھاۃ ( حلق کا کوا ) وہ گوشت جو حلق میں لٹکا ہوا نظر آتا ہے ۔ بعض نے اس کے معنی منہ کا آخری سرا بھی کئے ہیں ۔ لدن لَدُنْ أخصّ من «عند» ، لأنه يدلّ علی ابتداء نهاية . نحو : أقمت عنده من لدن طلوع الشمس إلى غروبها، فيوضع لدن موضع نهاية الفعل . قال تعالی: فَلا تُصاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْراً [ الكهف/ 76] ( ل دن ) لدن ۔ یہ عند سے اخص ہے کیونکہ یہ کسی فعل کی انتہاء کے آغاز پر دلالت کرتا ہے ۔ جیسے قمت عند ہ من لدن طلوع الشمس الیٰ غروبھا آغاز طلوع شمس سے غروب آفتاب اس کے پاس ٹھہرا رہا ۔ قرآن میں ہے : فَلا تُصاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْراً [ الكهف/ 76] تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا کہ آپ کو مجھے ساتھ نہ رکھنے کے بارے میں میری طرف سے عذر حاصل ہوگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧) کفار جو اس بات کے قائل تھے کہ معاذ اللہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، اس کی اب اللہ تعالیٰ تردید فرماتے ہیں کہ اگر ہمیں لڑکیاں یا بیوی یا یہ کہ اولاد ہی بنانی ہوتی تو خاص اپنے پاس کی چیز یعنی حوروں میں سے بناتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

16. That is, this world has been created with a definite purpose and not as a plaything. For, if We had wanted to enjoy a sport, We would have done so without creating a sentient, rational and responsible creature like you. Far be it from Us to put man to trial and conflict for the sake of mere fun.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :16 یعنی ہمیں کھیلنا ہی ہوتا تو کھلونے بنا کر ہم خود ہی کھیل لیتے ۔ اس صورت میں یہ ظلم تو ہرگز نہ کیا جاتا کہ خواہ مخواہ ایک ذی حس ، ذی شعور ، ذمہ دار مخلوق کو پیدا کر ڈالا جاتا ، اس کے درمیان حق و باطل کی یہ کشمکش اور کھینچا تانیاں کرائی جاتیں ، اور محض اپنے لطف و تفریح کے لیے ہم دوسروں کو بلا وجہ تکلیفوں میں ڈالتے ۔ تمہارے خدا نے یہ دنیا کچھ رومی اکھاڑے ( Coliseum ) کے طور پر نہیں بنائی ہے کہ بندوں کو درندوں سے لڑوا کر اور ان کی بوٹیاں نچوا کر خوشی کے ٹھٹھے لگائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

7: یعنی اول تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور کرنا حماقت ہے کہ وہ کوئی کھیل کرنا چاہتا ہے، دوسرے اگر بفرض محال اسے کوئی دل لگی کرنی ہوتی تو اس کے لیے کائنات کا یہ سارا کارخانہ پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی، وہ اپنے پاس ہی سے کوئی مشغلہ بنا سکتا تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:17) لو اردنا ان نتخذ لھوا۔ اگر ہمارا ارادہ ہوتا کہ ہم کوئی محض کھیل کا شغف اختیار کریں (تو یقینا ہم از خود اپنی طرف سے ہی کوئی ہی کھیل اختیار کرسکتے تھے۔ یہ مخلوق اس کی مختلف صورتیں اس کی مختلف آزمائشیں۔ اس کی دنیاوی زندگی کی صعوبتیں اور آخرت کی جزاء وسزا یہ سب دھندا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تخلیق کائنات خود مخلوق ہی کے نفع و مصلحت کے لئے ہے جیسا کہ مولانا روم (رح) نے فرمایا ہے ؎ من نہ کر دم امر تاسو دے کسنم ۔ بلکہ تابر بندگاں جو دے کسنم ان کنا فعلین۔ میں ان شرطیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں معنی ہوں گے اگر ہمیں ایسا کرنا ہی تھا تو۔ یا یہ نافیہ ہے اور معنی ہیں۔ ہم ایسا کرنے والے نہ تھے یعنی ایسا کرنا (لہو ولعب کے لئے ) ہمارا مقصود ہی نہ تھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اور یہ جنت و دوزخ حساب و کتاب کا سلسلہ نہ بناتے۔ (جامع البیان) عام مفسرین نے یہاں لھو سے بیوی یا اولاد مراد لی ہے اور لکھا ہے کہ اس میں نصاریٰ کا رد ہے جو یہ غلط عقیدہ، رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی کنواریوں میں حضرت مریم کو پسند کیا اور پھر ان کے بطن سے اپنے اکلوتے بیٹے حضرت مسیح کو پیدا کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو اولاد بنانا ہی منظور ہوتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتے مثلاً فرشتے وغیرہ کو منتخب کرلیتے مگر اللہ کی شان ان چیزوں سے بلند اور پاک ہے۔ (نیز دیکھیے سورة زمر :4)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ مثلا اپنی صفات کمال کے مشاہدہ کو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

17 اور اگر ہم کو کوئی کھیل یا مشغلہ کرنا ہی ہوتا اور ہم کھیل کا ارادہ کرتے تو اپنے پاس ہی کی چیزوں کو مشغلہ کرتے بشرطیکہ ہم ایسا کرنیوالے ہوتے۔ یعنی ہماری شان کے لائق نہیں کہ عالم کو عبث بنائیں اور اگر مقصد کھیل ہوتا تو عالم روحانیت اور عالم مغیبات کی چیزوں سے کھیلتے یا یہ مطلب ہے کہ اگر بیٹا اور بیوی کا مشغلہ منظور ہوتا تو عالم روحانیت کی مخلوق کو بیٹا اور بیوی بنا کر ان سے اپنا دل بہلاتے آخری تفسیر حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے منقول ہے آیت کی تفسیر کئی طرح کی گیء ہے ہم نے تیسیر میں بعض اقوال کو اختیار کرلیا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کھلونا یعنی بیٹا 12