Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 25

سورة الأنبياء

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۲۵﴾

And We sent not before you any messenger except that We revealed to him that, "There is no deity except Me, so worship Me."

تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "There is no God but I, so worship Me." This is like the Ayat: وَاسْيلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَأ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـنِ ءَالِهَةً يُعْبَدُونَ And ask those of Our Messengers whom We sent before you: "Did We ever appoint gods to be worshipped besides the Most Gracious!" (43:45) وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah, and avoid Taghut (all false deities)." (16:36) Every Prophet who was sent by Allah called people to worship Allah Alone, with no partner or associate. The natural inclination of man (Al-Fitrah) also bears witness to that. The idolators have no proof and their dispute is of no use before their Lord; on them is wrath, and for them will be a severe torment.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

25۔ 1 یعنی تمام پیغمبر بھی یہی توحید کا پیغام لے کر آئے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢١] مشرکوں سے ایسی دلیل کے مطالبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے خود ہی یہ وضاحت فرما دی کہ میں نے تو جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی کرتا رہا کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پھر ان منزل من اللہ کتابوں میں کوئی ایسی بات نکل بھی کیسے سکتی ہے جس میں شرک کے لئے جواز کی سند موجود ہو ؟ اور اتفاق کی بات ہے کہ سابقہ الہامی کتب میں اگرچہ بہت سی تحریف ہوچکی ہے پھر بھی وہ توحید ہی کے دلائل مہیا کرتی ہیں ان میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی جس سے شرک کی تائید ہوسکے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ ۔۔ : پچھلی آیت میں ” ھٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ “ کہہ کر جو بات اختصار کے ساتھ کہی گئی تھی اب وہ واضح الفاظ میں تاکید کے ساتھ دہرائی گئی ہے اور جس بات کا حوالہ صرف چند کتابوں کے ساتھ خاص تھا اب تمام رسولوں کے ذکر کے ساتھ اسے عام کرکے بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرمایا کہ آپ سے پہلے جو بھی رسول ہم نے بھیجا، خواہ اسے کتاب دی یا نہ دی، اسے یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، سو میری عبادت کرو۔ مزید دیکھیے سورة نحل (٣٦) معلوم ہوا تمام رسول توحید الوہیت کی دعوت دینے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے کہ عبادت صرف اللہ کی کرو اور اسی سے دعا اور فریاد کرو، کیونکہ توحید ربوبیت کے تو اکثر کفار بھی قائل تھے، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو خالق، مالک اور رازق مانتے تھے، مگر پکارتے وقت غیر اللہ کو بھی پکارتے اور انھیں نفع نقصان کا مالک سمجھتے تھے، یا یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اپنی بات اللہ تعالیٰ سے منوا سکتے ہیں اور ہماری حاجتیں پوری کروا سکتے ہیں۔ دیکھیے سورة یونس (١٨) اور سورة زمر (٣) ۔ 3 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر پہلے اپنی صفات کے تعدد کی بنا پر جمع متکلم کے ساتھ کیا ہے، مراد اپنی عظمت کا اظہار ہے، پھر جب توحید کا ذکر آیا تو اپنا ذکر واحد متکلم کے ساتھ فرمایا کہ ” لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ “ اس میں ” فَاعْبُدُوْنِ “ (میں) بھی واحد ہے اور ” فاعبدون “ (جو اصل میں ” فَاعْبُدُوْنِيْ “ تھا) کی یائے متکلم بھی واحد ہے، یہاں جمع کا صیغہ استعمال نہیں فرمایا، تاکہ شبہ بھی پیدا نہ ہو کہ معبود ایک سے زیادہ ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْہِ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ۝ ٢٥ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٥) ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس کے پاس یہ وحی نہ بھیجی ہو کہ اپنی قوم کو تبلیغ کرو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، تاکہ وہ اس کے قائل ہوجائیں اور میری ہی عبادت کیا کرو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٥:۔ اوپر مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا گیا تھا کہ ملت ابراہیمی میں شرک کی کوئی سند ہو تو پیش کی جائے اس آیت میں فرمایا ملت ابراہیمی تو درکنار پچھلے کسی رسول کی شریعت میں سے بھی یہ لوگ شرک کی کوئی سند پیش نہیں کرسکتے کیونکہ مصلحت وقت کے موافق ہر ایک شریعت کے نماز ‘ روزے ‘ حلال و حرام کے احکام جدا ہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور شرک کی برائی سے پچھلی کوئی شریعت خالی نہیں ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے ١ ؎ حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا مسئلہ پچھلی ہر ایک شریعت میں موجود ہے ‘ اس حساب سے ایک باپ کی اولاد کی طرح سب انبیاء گویا اس میں بھائی بھائی ہیں ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جس طرح بھائی سے بھائی جدا نہیں ہوتا اسی طرح پچھلی کوئی شریعت اللہ کی وحدانیت اور شرک کی برائی سے خالی نہیں ہے ‘ پھر کسی مشرک کی کیا طاقت ہے کہ کسی شریعت میں سے وہ شرک کی سند ڈھونڈ کر پیش کرسکتا ہے ‘ سلف کا یہ قول مشہور ہے کہ جس نے ایک رسول کو جھٹلایا ‘ اس نے سب رسولوں کو جھٹلایا ‘ اس کا مطلب اس آیت اور حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سب رسولوں کی شریعتوں میں ہے اس واسطے ایک رسول کی شریعت جھٹلانے سے سب شریعتوں کا جھٹلانا لازم آجاتا ہے۔ (١ ؎ مشکوٰۃ باب بداء الخق وذکر الانبیاء (علیہم السلام) )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:25) نوحی۔ مضارع بمعنی ماضی جمع متکلم۔ ہم وحی بھیجتے تھے ہم نے (اس کی طرف) وحی بھیجی ۔ فاعبدون۔ ای فاعبدونی۔ سو میری ہی عبادت کیا کرو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی توحید ہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف گزشتہ تمام انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں۔ پس توحید کا ثبوت اور شرک کا رد جس طرح عقلی دلائل سے ہوتا ہے اسی طرح نقلی طور پر بھی ہوتا ہے۔ تمام ادیان میں یہ حقیقت مسلمہ ہے اور تمام انبیاء کا یہ اجماعی عقیدہ ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا مقصد لوگوں کو ” اللہ “ کی الوہیت سے آگاہ کرنا ہے اور یہی پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت اور عقیدہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) دنیا میں مبعوث فرمائے ان سب کو یہ حکم تھا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ لوگو ! تمہارے رب کا فرمان ہے کہ میرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ اس ارشاد میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی یہی حکم ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ جب اس کے سوا کوئی حاجت روا، مشکل کشا اور عبادت کے لائق نہیں تو صرف اس ایک ہی کی عبادت کرنا اور اس ایک کا ہی حکم ماننا چاہیے۔ یہی دعوت پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تھی اور اسی سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کام کا آغاز فرمایا تھا۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو یہی بات بتلانے اور سمجھانے کی کوشش کی کہ لوگو ! لااِلٰہ الا اللہ پڑھو اور اس کے تقاضے پورے کرو۔ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوجاؤ گے۔ اسی دعوت کی خاطر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں نے مکہ میں ہر قسم کے مظالم برداشت کیے اسی کے لیے آپ طائف تشریف لے گئے۔ طائف والوں نے آپ کے ساتھ بدترین سلوک کیا۔ اسی بنیاد پر بدر، احد، خندق، حنین، تبوک اور مکہ کا معرکہ پیش آیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح یاب فرمایا اور وہ وقت بھی آپہنچا کہ جب آپ نے اعلان فرمایا : (عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَرَجَ یَوْمًا فَصَلَّی عَلَی أَہْلِ أُحُدٍ صَلاَتَہُ عَلَی الْمَیِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنِّی فَرَطٌ لَکُمْ وَأَنَا شَہِیدٌ عَلَیْکُمْ وَإِنِّی وَاللَّہِ لأَنْظُرُ إِلَی حَوْضِیَ الآنَ وَإِنِّی قَدْ أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ خَزَاءِنِ الأَرْضِ أَوْ مَفَاتِیحَ الأَرْضِ وَإِنِّی وَاللَّہِ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِی وَلَکِنْ أَخَافُ عَلَیْکُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فیہَا) [ رواہ البخاری : باب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِیِّنَا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَصِفَاتِہِ ] ” حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن گھر سے باہر نکلے آپ نے احد کے شہداء پر نماز پڑھی جس طرح نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے پھر آپ ممبر کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ نے فرمایا میں تم پر خوش ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور اللہ کی قسم میں اس وقت حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عنایت کی گئی ہیں یا فرمایا مجھے زمین کی چابیاں دیں گئی ہیں راوی کو شک ہے۔ اللہ کی قسم میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا میں مشغول ہوجاؤ گے۔ “ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کی فضیلت : (عَنْ عُبَادَۃَ ابْنِ الصَّامِتِ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ےَقُوْلُ مَنْ شَھِدَ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَےْہِ النَّارَ ) [ رواہ مسلم : باب مَنْ لَقِیَ اللَّہَ بالإِیمَانِ وَہُوَ غَیْرُ شَاکٍّ فیہِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَحَرُمَ عَلَی النَّارِ ] ” حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا جس نے توحید و رسالت کی گواہی دی اس پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ حرام کردی ہے۔ (عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رض) یَقُولُ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللَّہَ سَیُخَلِّصُ رَجُلاً مِنْ أُمَّتِی عَلَی رُءُ وسِ الْخَلاَءِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیَنْشُرُ عَلَیْہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ سِجِلاًّ کُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ ثُمَّ یَقُولُ أَتُنْکِرُ مِنْ ہَذَا شَیْءًا أَظَلَمَکَ کَتَبَتِی الْحَافِظُونَ فَیَقُولُ لاَ یَا رَبِّ فَیَقُولُ أَفَلَکَ عُذْرٌ فَیَقُولُ لاَ یَا رَبِّ فَیَقُولُ بَلَی إِنَّ لَکَ عِنْدَنَا حَسَنَۃً فَإِنَّہُ لاَ ظُلْمَ عَلَیْکَ الْیَوْمَ فَتَخْرُجُ بِطَاقَۃٌ فیہَا أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ فَیَقُولُ احْضُرْ وَزْنَکَ فَیَقُولُ یَا رَبِّ مَا ہَذِہِ الْبِطَاقَۃُ مَعَ ہَذِہِ السِّجِلاَّتِ فَقَالَ إِنَّکَ لاَ تُظْلَمُ قَالَ فَتُوضَعُ السِّجِلاَّتُ فِی کِفَّۃٍ وَالْبِطَاقَۃُ فِی کِفَّۃٍ فَطَاشَتِ السِّجِلاَّتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَۃُ فَلاَ یَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللَّہِ شَیْءٌ) [ رواہ سنن ابن ماجہ : باب مَا یُرْجَی مِنْ رَحْمَۃِ اللَّہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ : رواہ احمد : مسند عبداللہ بن عمروبن العاص ] ” حضرت عبداللہ عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت سے ایک آدمی کو ساری مخلوقات میں سے الگ فرمائیں گے اور اس کے سامنے ننانوے دفتر کھولے جائیں گے اور ہر دفتر حد نگاہ تک پھیلا ہوگا۔ اللہ فرمائیں گے کیا تو ان میں سے کسی ایک کا انکار کرتا ہے یا تجھ پہ لکھنے والے میرے کاتبوں نے ظلم کیا ہے ؟ وہ کہے گا اے میرے پروردگار بالکل نہیں۔ اللہ فرمائیں گے کیا تیرا کوئی عذر ہے وہ کہے گا اے میرے پروردگار ! نہیں۔ اللہ فرمائیں گے ہاں ! ہمارے ہاں تیری ایک نیکی ہے آج کے دن تجھ پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا پھر ایک کاغذ نکالا جائے گا جس میں کلمۂ شہادت ثبت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس کا وزن کیا جائے وہ کہے گا اتنے بڑے دفتروں کے سامنے اس کاغذ کی کیا حیثیت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تجھ پر ظلم نہیں ہوگا۔ وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں رکھ دئیے جائیں گے اور کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا۔ گناہوں والا پلڑا اوپر اٹھ جائے گا اور ” لا الٰہ اِلّا اللہ “ والا پلڑا بھاری ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نام سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہے۔ “ (عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدُ اللّٰہِ الْمُحَارَبِیُّ قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَرَّ بِسُّوْقِ ذِی الْمَجَازِ وَاَنَا فِیْ بِیَاعَۃٍ لِیْ فَمَرَّ وَعَلِیْہِ حُلَّۃٌ حَمْرَاءُ فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ یٰا اَیُّہَا النَّاسُ قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْا وَرَجَلٌ یَتْبَعُہٗ یَرْمِیْہِ بالْحِجَارَۃِ قَدْ اَدَمِیْ کَعْبَیْہِ یَعْنِیْ اَبَا لَہَبٍ ) [ السنن الکبری للبیہقی ] حضرت طارق بن عبداللہ المحاربی بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذی المجاز کے بازار سے گزرتے ہوئے دیکھا اور میں بھی خریدو فروخت کرنے کے لیے وہاں پر موجود تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سرخ رنگ کا حلہ پہنے ہوئے تھے میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا آپ کہہ رہے تھے اے لوگو ! لا الہ الا اللہ کہو فلاح پاؤ گے۔ ایک آدمی آپ کو پیچھے سے پتھر مار رہا تھا جس سے آپ کے قدم خون آلود ہوگئے۔ (پتھر مارنے والا ابو لہب تھا) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول مبعوث فرمائے ان کی یہی دعوت تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ ٢۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی لوگوں کو لا اِلٰہ الا اللہ کی دعوت دیتے تھے۔ ٣۔ اِلٰہ کا پہلا معنٰی یہ ہے کہ ایسی ہستی جس کے ساتھ غایت درجے کی محبت کرتے ہوئے عاجزی کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے۔ وہ ہستی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت : ١۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی۔ (الانبیاء : ٢٥) ٢۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (ہود : ٢) ٣۔ حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔ (العنکبوت : ١٦) ٤۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور فرمایا کہ شیاطین کی عبادت نہ کرو۔ (المومنون : ٢٣) ٥۔ حضرت شعیب نے ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے منع کیا۔ (ہود : ٨٤) ٦۔ حضرت ھودنے فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ (ھود : ٥٠) ٧۔ حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور دوسروں کی عبادت سے منع کیا۔ (ھود : ٦١) ٨۔ حضرت عیسیٰ نے فرمایا بیشک میرا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے اسی کی عبادت کرو۔ (مریم : ٣٦) ٩۔ ہم نے ہر جماعت میں رسول بھیجے انہوں نے لوگوں کو کہا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت نہ کرو۔ (النحل : ٣٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاعبدون (١٢ : ٥٢) ” ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے ‘ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو “۔ اللہ نے جب سے لوگوں کی ہدایات کے لیے رسول بھیجے ہیں ان کی دعوت اور تعلیمات کا قاعدہ اساسی عقیدہ توحید رہا ہے۔ آج تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ یعنی الہٰ اور معبود ایک ہی ہے۔ وہی رب ہے ‘ الوہیت اور ربوبیت کے درمیان جدائی ممکن نہیں ہے جو الہٰ ہے وہی رب ہے۔ لہٰذا ان تعلیمات میں الوہیت حاکمیت اور بندگی میں کوئی شرک نہیں اور یہ عقیدہ اسی طرح مستحکم ہے جس طرح اس کائنات کا نظام مستحکم ہے۔ یاد رہے کہ رسولوں کی تعلیمات بھی دراصل اس کائنات کے قوانین فطرت کا ایک حصہ ہیں۔ اب روئے سخن ایک دوسرے شرکیہ عقیدے کی طرف مڑجاتا ہے۔ عقائد جاہلیت میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد پید کررکھی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّہٗ لَآاِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) (اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی بھی رسول نہیں بھیجا جس کے پاس ہم نے یہ وحی نہ بھیجی ہو، کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو تم میری عبادت کرو) اس میں مشرکین اہل کتاب کی تردید ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی معبود بتاتے تھے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے جو بھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے ہماری طرف سے یہی بات پہنچائی ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم اس کی خلاف ورزی کیوں کرتے ہو۔ اور اپنے دین شرک کو نبیوں کی طرف منسوب کرنے کی گمراہی میں کیوں مبتلا ہو ؟ اس کے بعد ان لوگوں کی تردید فرمائی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔ ا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

20:۔ یہ توحید پر تمام انبیاء (علیہم السلام) سے دلیل نقلی اجمالی ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) اسی مسئلہ توحید کے مبلغ تھے۔ ان کے بعد ناخلف اور گمراہ لوگوں نے شرک پھیلایا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

25 اور اے پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا رسول نہیں بھیجا جس پر یہ وحی نہ بھیجی ہو کہ میرے سوا کوئی قابل پرستش معبود نہیں ہے پس میری ہی بعبادت کیا کر۔ یعنی آپ سے پہلے جتنے رسول بھی ہم نے بھیجے ان کو ہم نے یہی حکم بھیجا کہ میں ہی حقیقی معبود ہوں میرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے پس میں ہی عبادت کے لائق ہوں اور میری ہی عبادت کیا کرو۔