Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 36

سورة الأنبياء

وَ اِذَا رَاٰکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ یَّتَّخِذُوۡنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ؕ اَہٰذَا الَّذِیۡ یَذۡکُرُ اٰلِہَتَکُمۡ ۚ وَ ہُمۡ بِذِکۡرِ الرَّحۡمٰنِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۶﴾

And when those who disbelieve see you, [O Muhammad], they take you not except in ridicule, [saying], "Is this the one who insults your gods?" And they are, at the mention of the Most Merciful, disbelievers.

یہ منکرین تجھے جب بھی دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق ہی اڑاتے ہیں کہ کیا یہی وہ ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر برائی سے کرتا ہے اور وہ خود ہی رحمٰن کی یاد کے بالکل ہی منکر ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How the Idolators mocked the Prophet, Allah tells His Prophet Allah says: وَإِذَا رَاكَ الَّذِينَ كَفَرُوا ... And when those who disbelieved see you, meaning, the disbelievers of the Quraysh, such as Abu Jahl and his like. ... إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلاَّ هُزُوًا ... they take you not except for mockery, means, they make fun of you and insult you, saying, ... أَهَذَا الَّذِي يَذْكُرُ الِهَتَكُمْ ... "Is this the one who talks about your gods!" meaning, is this the one who insults your gods and ridicules your intelligence! Allah says: ... وَهُم بِذِكْرِ الرَّحْمَنِ هُمْ كَافِرُونَ While they disbelieve at the mention of the Most Gracious. meaning, they disbelieve in Allah and yet they mock the Messenger of Allah. As Allah says: وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلاَّ هُزُواً أَهَـذَا الَّذِى بَعَثَ اللَّهُ رَسُولاً إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ ءَالِهَتِنَا لَوْلاَ أَن صَبْرَنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلً And when they see you, they treat you only in mockery (saying): "Is this the one whom Allah has sent as a Messenger He would have nearly misled us from our gods, had it not been that we were patient and constant in their worship!" And they will know, when they see the torment, who it is that is most astray from the path! (25:41-42) خُلِقَ الاِْنسَانُ مِنْ عَجَلٍ سَأُرِيكُمْ ايَاتِي فَلَ تَسْتَعْجِلُونِ

جلدباز انسان ابوجہل وغیرہ کفار قریش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ کی شان میں بے ادبی کرنے لگتے ۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو ، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں ۔ اللہ کے منکر ، رسول اللہ کے منکر اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کرکے فرمایا گیا ہے آیت ( ان کاد لیضلناعن الہتنا ) ۔ یعنی وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی ۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہوجائے گا کہ گمراہ کون تھا ؟ انسان بڑا جلدباز ہے ۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا شروع کیا شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی سر آنکھ اور زبان میں جب روح آگئی تو کہنے لگے الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہوجائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تمام دنوں میں بہتر وافضل دن جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے اسی میں قیامت قائم ہوگی اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے اللہ اسے عطا فرماتا ہے آپ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے اسی وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی ۔ پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھرک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لئے کہ انسانی جبلت میں جلدبازی ہے ۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں ۔ اسی لئے فرمایا کہ میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے ۔ میرے نبی کو مذاق میں اڑنے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے تم ابھی دیکھ لوگے ۔ جلدی نہ مچاؤ دیر ہے اندھیر نہیں مہلت ہے بھول نہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

36۔ 1 اس کے باوجود یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہنسی و مذاق اڑاتے ہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ ( اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا ۭ اَھٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا) 25 ۔ الفرقان :41) جب اے پیغمبر ! یہ کفار مکہ تجھے دیکھتے ہیں تو تیرا مذاق اڑانے لگ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٤] یعنی مشرکین مکہ کے نزدیک ان کے اپنے معبودوں کی شان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلہ میں بہت ارفع و اعلیٰ تھی۔ لہذا وہ آپ کو دیکھ کر از راہ مذاق و استہزا یوں کہتے کہ دیکھو یہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کی باتیں کرتا ہے (یعنی ان کے مقابلہ میں اس کی اوقات ہی کیا ہے ؟ ) حالانکہ آپ ان کے معبودوں کو نہ گالی دیتے تھے اور نہ برا بھلا کہتے تھے۔ اور کہتے تھے تو صرف یہ کہتے تھے کہ تمہارے یہ معبود تمہارا نہ کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں۔ اور اسے ہی وہ اپنے لئے سب سے بڑی گالی سمجھتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے نزدیک آپ کے اس نظریہ سے ان کے معبودوں کی، ان کی اپنی اور ان کے آباؤ و اجداد کی سب کی توہین ہوجاتی تھی۔ اب وہ سنجیدگی سے معاملہ کو سمجھنے کی کوشش تو کرتے نہیں تھے۔ مگر ضد اور تعصب میں آکر آپ کا مذاق اڑانے لگتے تھے۔ اور اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ جب اس ہستی کا ذکر ہوتا جو فی الواقعہ ہر ایک کے نفع و نقصان کی مالک ہے تو انھیں یہ تکلیف شروع ہوجاتی کہ اللہ اکیلے کا کیوں ذکر کرتا ہے اور ہمارے معبودوں کو کیوں ساتھ شامل نہیں کرتا، حالانکہ اللہ کو وہ خود بھی اپنے معبودوں سے بڑا معبود سمجھتے تھے اور جب موت سامنے کھڑی نظر آتی تو اسے ہی پکارتے تھے۔ لہذا اللہ اکیلے کو پکارنے میں بھی تکلیف ہوتی تھی۔ اور رحمن کے لفظ سے تو انھیں ویسے بھی چڑ تھی جیسا کہ پہلا سورة رعد کی آیت نمبر ٣٠ کے حاشیہ نمبر ٣٩ میں گزر چکا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا ۔۔ : ” هُـزُوًا “ مصدر بمعنی مفعول ہے، یعنی جسے مذاق کیا جائے۔ پچھلی آیت میں لوگوں کو خیر و شر کے ساتھ آزمانے کا ذکر فرمایا۔ بنی نوع انسان کے لیے سب سے بڑی خیر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے اور آپ کی آمد لوگوں کے لیے سب سے بڑی آزمائش بھی ہے کہ کون نعمت کی قدر کرتے ہوئے آپ پر ایمان لاتا ہے اور کون ناشکری اور کفر کرتا ہے۔ اس آیت میں اس نعمت کے عطا ہونے پر ناشکری کرنے والے لوگوں یعنی کافروں کے رویے کا ذکر فرمایا کہ جب وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو مذاق ہی بناتے ہیں، سنجیدگی سے نہ کوئی بات سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔ اَھٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ : یہ جملہ ان کے ٹھٹھے کی تفسیر ہے، یعنی وہ آپ کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے ؟ ذکر کرنے سے مراد اچھائی سے ذکر کرنا بھی ہوتا ہے اور برائی سے بھی، تعین اس کا حال کے قرینے سے ہوتا ہے، مثلاً کوئی شخص آپ سے آپ کے کسی دوست کے متعلق بیان کرتا ہے کہ وہ آپ کا ذکر کر رہا تھا، تو ظاہر ہے اس کی مراد یہی ہے کہ وہ آپ کی تعریف کر رہا تھا اور اگر آپ کے کسی مخالف کے متعلق بیان کرے کہ وہ آپ کا ذکر کر رہا تھا تو اس سے مراد یہی ہوگی کہ وہ برائی کے ساتھ آپ کا ذکر کر رہا تھا۔ جیسا کہ بت توڑنے والے کو تلاش کرتے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں نے کہا تھا : (سَمِعْنَا فَـتًى يَّذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهٗٓ اِبْرٰهِيْمُ ) [ الأنبیاء : ٦٠ ] ” ہم نے ایک جوان کو سنا ہے، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ “ ” اَھٰذَا “ (کیا یہی ہے) میں ہمزہ تعجب کے اظہار کے لیے اور ” ھٰذَا “ تحقیر کے لیے استعمال ہوا ہے۔ وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ : یعنی ان کے معبودوں کا برائی سے ذکر کرنے پر آپ کا مذاق اڑانا انھیں کس طرح زیب دیتا ہے، جب کہ خود ان کا حال یہ ہے کہ وہ رحمٰن کے ذکر ہی سے منکر ہیں ؟ انھیں اس بیحد رحم والے کا ذکر گوارا نہیں جس نے انھیں پیدا کیا، ان پر انعام فرمایا اور جس اکیلے کے ہاتھ میں ان کا نفع اور ان کا نقصان ہے۔ پھر مذاق کے حق دار یہ لوگ ہیں یا ہمارا رسول ؟ ” بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ “ کی تفسیر بعض مفسرین نے قرآن مجید فرمائی ہے کہ (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ ) [ الحجر : ٩ ] یعنی وہ خود رحمٰن کے نازل کردہ ذکر کے منکر ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ يَّـتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا ہُـزُوًا۝ ٠ۭ اَھٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِہَتَكُمْ۝ ٠ۚ وَہُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ كٰفِرُوْنَ۝ ٣٦ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ هزؤ والاسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ( ھ ز ء ) الھزء الا ستھزاء اصل میں طلب ھزع کو کہتے ہیں اگر چہ کبھی اس کے معنی مزاق اڑانا بھی آجاتے ہیں جیسے استجا بۃ کے اصل منعی طلب جواب کے ہیں اور یہ اجابۃ جواب دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ،

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٦) اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوجہل اور اس کے ساتھی جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے اپنی گفتگو میں مذاق کرنے لگتے ہیں اور آپس میں کہتے ہیں کیا یہی صاحب ہیں جو تمہارے بتوں کا برائی سے ذکر کرتے ہیں حالانکہ یہ خود اللہ تعالیٰ کے ذکر پر انکار اور کفر کیا کرتے ہیں اور بدبخت کہا کرتے ہیں کہ ہم اللہ کو نہیں جانتے مسیلمہ کذاب جانتا ہے۔ شان نزول : ( آیت) ” واذا ارک الذین کفروا “۔ (الخ) اور ابن ابی حاتم (رح) نے سدی سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ابوجہل اور ابوسفیان کے پاس سے گزر ہوا یہ دونوں آپس میں گفتگو کررہے تھے جب ابوجہل نے آپ کو دیکھا تو بدبخت ہنسا اور ابوسفیان سے کہا کہ یہ بنی عبد مناف کے نبی ہیں، یہ سن کر ابوسفیان کو غصہ آیا اور کہا کیا تم اس بات کا انکار کرتے ہو کہ بنی عبد مناف میں کوئی نبی ہو غرض کہ دونوں کی یہ گفتگو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنی اور آپ ابوجہل کے پاس لوٹ کر آئے اور اس کو ڈرایا اور فرمایا کہ تو اس وقت تک اپنی باتوں سے باز نہیں آئے گا جب تک کہ تیرے اوپر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جو دوسروں پر ہوا اس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی یہ کافر لوگ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ سے مذاق کرنے لگتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٦ (وَاِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ط) ” یہ مشرکین مختلف انداز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر استہزائیہ فقرے کستے ہیں ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھتے ہیں تو ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمسخر اڑاتے ہیں : (اَہٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِہَتَکُمْ ج) ” یعنی کہتا ہے کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور اس طرح ان کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے ! (وَہُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ ) ” انہیں تو اپنے معبودوں کا ذکر اچھا لگتا ہے۔ لات و عزیٰ کا ذکر ہو تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کے دل بجھ جاتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

39. It should be noted that this sentence contains only the reason why they scoffed at him, but does not refer to the expression of scoff itself. Obviously, the disbelievers must have been using some other words or expressions of derision to avenge themselves on the Prophet (peace be upon him) for his rejecting their self-made deities. 40. This is to rebuke the disbelieves as if to say: You cherish so much love of your self-made idols and false gods that you cannot tolerate anything against them. So much so, that you scoff at the Messenger of Allah, and you are not ashamed when you hear the name of the Merciful and discard His mention with disdain.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :39 یعنی برائی کے ساتھ ان کا ذکر کرتا ہے ۔ یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ یہ فقرہ ان کے مذاق کا مضمون نہیں بتا رہا ہے ، بلکہ مذاق اڑانے کی وجہ اور بنیاد پر روشنی ڈال رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ فقرہ بجائے خود کوئی مذاق کا فقرہ نہیں ہے ۔ مذاق تو وہ دوسرے ہی الفاظ میں اڑاتے ہوں گے اور کچھ اور ہی طرح کے آوازے کستے اور فقرے چست کرتے ہوں گے ۔ البتہ یہ سارا دل کا بخار جس وجہ سے نکالا جاتا تھا وہ یہ تھی کہ آپ ان کے خود ساختہ معبودوں کی خدائی کا رد کرتے تھے ۔ سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :40 یعنی بتوں اور بناوٹی خداؤں کی مخالفت تو انہیں اس قدر ناگوار ہے کہ اس کا بدلہ لینے کے لیے تمہاری تضحیک و تذلیل کرتے ہیں ، مگر انہیں خود اپنے حال پر شرم نہیں آتی کہ خدا سے پھرے ہوئے ہیں اور اس کا ذکر سن کر آگ بگولہ ہو جاتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو بتوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کی خدائی کی کوئی حقیقت نہیں، اس پر یہ لوگ عیب لگاتے ہیں کہ آپ ہمارے خداؤں کا برائی سے ذکر کر رہے ہیں، لیکن ان کا اپنا حال یہ ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کا نام ’’ رحمن‘‘ ذکر کرتے ہیں تو یہ اس کا انکار کرتے ہیں کہ رحمن کیا ہوتا ہے؟ دیکھئے سورۃ فرقان : 60

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٦۔ ٤١:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم ٤ ؎ میں چند روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف میں مشرکوں کے بتوں کی مذمت کی آیتیں جو نازل ہوتی تھیں اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ آیتیں مشرکوں کو پڑھ کر سناتے تھے تو مشرک لوگ اپنے بتوں کی مذمت سن کر دل میں تو بہت چڑتے اور برا مانتے تھے اور ظاہر میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسخراپن میں اڑاتے تھے ‘ چلتے پھرتے جہاں کہیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھتے تو ابوجہل وغیرہ آپس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھیڑنے کو کہتے تھے ‘ کیا قریش کی ہدایت کو یہی نبی آئے ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ جو عذاب ان مشرکوں کے لیے آخرت میں تیار کیا گیا ہے ‘ اگر اس کو یہ لوگ جان لیویں تو یہ مسخراپن کی سب باتیں بھول جاویں اور یہ بھی فرما دیا کہ دنیا چند روزہ ہے ‘ آنکھوں کے سامنے ان کے بڑے مرگئے ان کو بھی اسی طرح آخر مرنا ہے مرتے ہی اس طرح کے ناگہانی عذاب میں یہ لوگ پھنس جاویں گے کہ پھر ان کا کچھ بس نہ چلے گا۔ قرآن کی آیتوں اور صحیح حدیثوں سے یہ ذکر اللہ تعالیٰ نے اس واسطے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کے منہ اور پشت پر قبض روح کے وقت فرشتے دنیا میں ہی کوڑے مارتے ہیں ‘ جس کا ذکر سورة محمد میں آوے گا۔ اس لیے سب سے پہلے جو عذاب شروع ہوگا ‘ اس کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا گیا ہے حاصل مطلب ان پوری آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے ‘ اے رسول اللہ کہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ یہ مشرک لوگ جب تم کو دیکھتے ہیں تو مسخراپن کے طور پر آپس میں چرچا کرتے ہیں کہ ہمارے ٹھاکروں کی مذمت کرنے والے یہ جارہے ہیں ‘ عربی زبان میں ذکر کا لفظ مذمت اور تعریف دونوں موقعوں پر بولا جاتا ہے ‘ اگر یہ لفظ دوست کے منہ سے نکلے تو تعریف کا موقعہ ہوتا ہے ‘ نہیں تو مذمت کا ‘ پھر فرمایا یہ لوگ پتھر کے بتوں کا نام تو تعریف سے لینے کی خواہش دل میں رکھتے ہیں اور اللہ کی رحمت کی صفت کے سبب سے اس کا نام رحمن جو قرار پایا ہے ‘ ان کی سراپا نادانی ہے کیونکہ یہ بت جن نیک لوگوں کی شکلوں کی یہ مورتیں ہیں ‘ وہ لوگ تو ان مشرکوں کی صورتوں سے بیزار ہیں اور بت تو پھر آخر پتھر کی مورتیں ہیں جن میں نہ کسی کو نفع پہنچانے کی قدرت ہے نہ ضرر پہنچانے کی ‘ پھر ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا قابل مذمت کام نہیں ‘ تو اس کے قابل تعریف ہونے کی کیا سند ان لوگوں کے پاس ہے ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ (رض) بن مسعود کی ‘ اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایتیں کئی جگہ گزر چکی ہیں ‘ جن کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار مکہ کے سب بتوں کو زمین میں گرا دیا ‘ ان روایتوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جن کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ اپنے جن بتوں کی عزت بڑھانے کے لیے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ مسخراپن کرتے تھے جن کا ذکر آیتوں میں ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلہ میں اپنے رسول کے ہاتھ سے ان بتوں کو خوب ذلت دلوائی ‘ مشرکین مکہ مسیلمہ کذاب کو رحمن کہتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے اس نام کے منکر تھے ‘ صحیح بخاری ١ ؎ وغیرہ میں صلح حدیبیہ کے قصہ میں چند روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح نامہ کے شروع میں حضرت علی (رض) سے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کو کہا تو مشرکین مکہ نے صلح نامہ کے لکھے جانے سے انکار کیا اور کہنے لگے کہ رحمن کو ہم نہیں جانتے صلح نامہ کے شروع میں قدیم کے مطابق باسمک اللھم لکھا جائے آخر مشرکین کی ضد کے سبب سے باسمک اللھم صلح نامہ کے شروع میں لکھا گیا ‘ اس حدیث سے وھم بذ کر الرحمن ھم کفرون کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کا نام رحمن ہونے کے سخت منکر تھے ‘ معتبر سند سے مسند سعید بن منصور ‘ تفسیر ابن المنذر ‘ تفسیر سدی وغیرہ ٢ ؎ میں سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) کے پتلے میں روح پھونکی گئی تو پیروں میں جان پڑجانے سے پہلے آدم (علیہ السلام) نے کھڑے ہونے کا قصد کیا اور گر پڑے اس قول سے خلق الانسان من عجل کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر کام میں جلدی اور شتابی کرنا انسان کے خمیر میں پڑا ہوا ہے ‘ آگے فرمایا ‘ انسان کے خمیر میں ہر ایک کام میں جلدی کا کرنا جو پڑا ہوا ہے اس کے موافق یہ لوگ عذاب کی جلدی جو کرتے ہیں اور گھڑی گھڑی جو کہتے ہیں کہ جس عذاب سے ڈرایا جاتا ہے آخر وہ عذاب کب آوے گا ‘ اے رسول اللہ کے ان جلد بازوں سے کہہ دیا جائے کہ عذاب کی جلدی کیوں کرتے ہو ‘ بہت جلد اللہ تعالیٰ عذاب کی گھڑی بھی تم کو دکھادے گا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ مشرکین مکہ میں سے بڑے بڑے عذاب کی جلدی کرنے والے بدر کی لڑائی کے وقت دنیا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا۔ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پالیا ‘ عذاب کے جلدی کرنے والوں کو عذاب کی گھڑی کے دکھانے کا جو وعدہ آیتوں میں تھا اس وعدہ کا ظہور اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے آگے فرمایا اگر ان لوگوں کو اس دن کا حال کھل جائے جس دن یہ لوگ اپنے منہ اور اپنی پیٹھ کو آگ کے صدمہ سے نہ خود بچا سکیں گے ‘ نہ کوئی دوسرا ان کی مدد کرکے ان کو اس آگ سے بچا سکے گا اور نہ کہیں بھاگ کر یہ لوگ اس عذاب کو ٹال سکیں گے کیونکہ وہ عذاب ایسی بیخبر ی میں آوے گا کہ ان کو بھاگنے کی مہلت بھی نہ مل سکے گی ‘ سورة محمد میں آوے گا کہ اللہ کے فرشتے نافرمان لوگوں کی روح قبض کرنے کے وقت ایسے لوگوں کے منہ اور ان کی پیٹھ پر لوہے کی گرم موگریاں مارتے ہیں ‘ مسند امام احمد اور ابو داؤد میں براء بن العازب کی صحیح روایت ہے ‘ اس میں بھی نافرمان لوگوں کی روح قبض کرنے کے وقت سختی کرنے کا ذکر ہے اس سختی کا مطلب بھی وہی ہے جو سورة محمد کی آیتوں کا اوپر بیان کیا گیا کہ نافرمان لوگوں کی روح قبض کرنے کے وقت فرشتے ایسے لوگوں کے منہ اور ان کی پیٹھ پر طرح طرح کی مار دھاڑ کرتے ہیں ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں فضل منہ اور پیٹھ پر عذاب کے ہونے کا جو ذکر ہے ‘ سورة محمد کی آیتوں اور براء بن العازب کی حدیث سے اس کا مطلب سمجھ میں آجاتا ہے کہ یہ عذاب نافرمان لوگوں کی قبض روح کے وقت کا ہے۔ موت اور قیامت کے وقت کی کسی کو خبر نہیں ‘ اسی واسطے موت اور قیامت کے عذاب کو بیخبر ی کے وقت کا عذاب فرمایا ‘ آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی یہ تسکین فرمائی ہے کہ منکر شریعت لوگ اسی طرح قدیم سے اللہ کے رسولوں سے مسخراپن کرتے رہے ہیں تمہارے ساتھ ہی کچھ یہ بات نہیں ہے اور یہ بھی فرمایا کہ انجام ان کے مسخراپن کا یہ ہوا کہ دنیا میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اور آخرت کے عذاب میں جدا پکڑے جاویں گے مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے جو لوگ ان پچھلے لوگوں کے قدم بقدم چلیں گے۔ یہی انجام ان کا بھی ہوگا ‘ اللہ سچا ہے ‘ اللہ کا کلام سچا ہے اس انجام کا ذکر انس بن مالک کی صحیح بخاری ومسلم کی روایت سے ابھی اوپر گزر چکا ہے۔ (٤ ؎ تفسیر الدر المنثورص ٣١٩ ج ٤ ) (١ ؎ صحیح بخاری ص ٣٨٩ جلد اول کتاب الشروط ) (٢ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٣١٩ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:36) واذا راک الذین کفروا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ الذین کفروا فعل رای کا فاعل جب وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ تم کو دیکھتے ہیں۔ ان یتخذونک الا ھزوا۔ ان نافیہ یتخذون مضارع جمع مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ھزوا بمعنی مھزوأ بہ (جس کا مذاق اڑایا جائے) مفعول ثانی یتخذون کا یہ جملہ اذا کے جواب میں ہے۔ نہیں سلوک کرتے تم سے مگر ایک مسخرے کا سا جس کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے یعنی جب آپ کو دیکھتے ہیں تو تمسخر کرنے لگتے ہیں۔ ا ھذا الذی یذکر الھتکم۔ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا (برائی سے) ذکر کرتا ہے۔ یہ جملہ یا تو معطوف ہے ان یتخذونک الا ھزوا جملہ پر یعنی جب یہ کافر لوگ تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے تمسخر کرنے لگتے ہیں (اور یہ کہتے ہیں) کیا یہ شخص ہے۔۔ الخ۔ یا یہ حال ہے یعنی یہ تمسخر کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ کیا یہ شخص ہے۔۔ الخ۔ یہاں یذکر وہ ذکر کرتا ہے بمعنی من وجہہ الذم ذکر کرتا ہے برائی سے ان کو یاد کرتا ہے یا ان کا ذکر کرتا ہے۔ اس معنی میں اور جگہ آیا ہے قالوا سمعنا فتی یذکرہم (21:60) انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے جو ان کا (ہمارے معبودوں کا) ذکر برائی سے کرتا ہے۔ وہم بذکر الرحمن ہم کفرون۔ یہ جملہ کلام مقدرہ کی ضمیر سے حال ہے ای انہم یعیبون علیہ ان یذکر الہتہم بالسوء والحال انہم بالقران الذی انزل رحمۃ کافرون۔ وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراج کرتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان (باطل) کو برائی سے یاد کرتے ہیں اور حال یہ ہے کہ وہ خود قرآن سے جو سراسر رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے منکر ہیں۔ یہاں ذکر سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور اقرار توحید الٰہی بھی۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب کو دوبارہ تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی خود ان کی حالت قابل استہزا ہے۔ یہاں ” ذکر الرحمٰن “ سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار کا موت سے بےپرواہ ہونے کی وجہ سے سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رویہّ ۔ انسان جب اپنی موت کو بھول جائے اور اپنے رب کے حضور حاضر ہونے کے عقیدے کا انکار کردے تو نا صرف حق بات کو ٹھکرا تا ہے بلکہ وہ حق کی دعوت دینے والے کی جان کا دشمن بن جاتا ہے۔ یہی حال سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفین کا تھا۔ وہ نا صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور دعوت کا مذاق اڑاتے تھے بلکہ یہ الزام بھی لگاتے کہ یہ شخص ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے۔ حالانکہ ان کے اپنے اخلاق کی پستی کا یہ عالم تھا کہ وہ رب رحمن کا انکار کرتے تھے۔ یہودی اور عیسائی اللہ تعالیٰ کو ” اَلرَّحْمٰنُ “ کے نام سے بھی پکارا کرتے تھے۔ لیکن مکہ کے لوگ اللہ تعالیٰ کے نام ” اَلرَّحْمٰنُ “ سے چڑ رکھتے تھے۔ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کو اللہ کے ساتھ الرَّحْمٰنُ کے نام سے پکارانا اور متعارف کروانا شروع کیا تو مکہ والوں نے نا صرف اللہ تعالیٰ کے اس مبارک نام کا انکار کیا بلکہ وہ پہلے سے زیادہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یہ کہہ کر مخالف ہوگئے کہ یہ شخص ہمارے معبودوں کی توہین کرتا ہے۔ حالانکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی بھی کسی کے خلاف ایسی زبان استعمال نہیں کی جس میں کسی کی توہین پائی جائے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم اور اعلیٰ کردار سے سرفراز فرمایا اور یہ تعلیم دی کہ آپ اپنے ساتھیوں کو بھی تلقین فرمائیں کہ کسی کے باطل معبود کو برا نہ کہیں۔ (وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَھُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّھِمْ مَّرْجِعُھُمْ فَیُنَبِّءُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) [ الانعام : ١٠٨] ” مشرک جن لوگوں کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ کہیں یہ بھی اللہ کو بےادبی اور بےسمجھے برا نہ کہیں۔ “ (الانعام : ١٠٨) الّرحمن کی رحمتیں : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ عِنْدَہُ فَوْقَ عَرْشِہِ ، إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ تَعَالَی (وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ )] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت اللہ کے عرش پر لکھا ہوا تھا بیشک میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے جا چکی ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ لِلّٰہِ ماءَۃَ رَحْمَۃٍ قَسَمَ مِنْہَا رَحْمَۃً بَیْنَ جَمِیعِ الْخَلَاءِقِ فَبِہَا یَتَرَاحَمُونَ وَبِہَا یَتَعَاطَفُونَ وَبِہَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَی أَوْلَادِہَا وَأَخَّرَ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ رَحْمَۃً یَرْحَمُ بِہَا عِبَادَہُ ، یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزہد، باب مایرجی من رحمۃ اللہ یوم القیامۃ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے پاس رحمت کے سو حصے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک حصہ تمام مخلوق میں تقسیم کیا ہے۔ اسی وجہ سے وہ باہم محبت و شفقت سے پیش آتے ہیں اور اسی وجہ سے ہی وحشی جانور اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں۔ باقی ننانوے حصے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھے ہیں جن سے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ “ مسائل ١۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کفار مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ٢۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کفار اپنے معبودوں کی توہین کا الزام لگاتے تھے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب نام ” الرحمن “ کا کفار انکار کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی میں اسم الرّحمن کی اہمیت : ١۔ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن۔ اللہ کے لیے اچھے نام ہیں۔ (الاسراء : ١١٠) ٢۔ اللہ کے اچھے، اچھے نام ہیں اسے ان ناموں کے ساتھ پکارو۔ (الاعراف : ١٨٠) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام الرّحمن ٥٧ بار اور الرّحیم ٩٥ بار استعمال ہوا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ١٤١ ایک نظر میں اس سے قبل کے سبق میں ہم نے دور تک اس کائنات کا سفر کیا۔ اس کائنات میں قوانین قدرت کا مطالعہ کیا ‘ انسانیت کا انجام تاریخی واقعات کی روشنی میں دیکھا۔ اس سبق میں روئے سخن اسی مضمون کی طرف مڑ جاتا ہے جس کا سورة کے آغاز میں ہم نے مطالعہ کرلیا ہے کہ مشرکین نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اور آپ پر آنے والی وحی کا استقبال مذاق سے کیا اور شرک پر اصرار کرتے رہے۔ اس کے بعد اس سبق میں انسان کی فطرت کی عجلت پسندی اور سیہاہیت کا ذکر ہوا ہے یہاں تک کہ یہ لوگ عذابالہٰی لے آنے میں بھی بہت جلدی کرتے ہیں۔ ان کو ان کی اس حرکت پر متنبہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مذاق کرنے کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ان کو ان کی اس حرکت پر متنبہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مذاق کرنے کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ان کو اس سبق میں یہاں با اثر ‘ غالب اور اقتدار قبضہ کرنے والوں کے سایہ اقتدار کے سکڑنے کا ایک منظر بھی دکھایا جاتا ہے اور عذاب آخرت کا ایک منظر بھی دیکھا یا جاتا ہے۔ سبق کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ یوم آخرت میں مجرمین سے سخت حساب لیاجائے گا۔ چناچہ آخر میں حساب آخرت ‘ قوانین فطرت ‘ انسان کی فطرت اور انسان کی زندگی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور داعیان اسلام کے بارے میں سنت الہیہ کے مضامین کو باہم ملایا جاتا ہے۔ واذا راک الذین۔۔۔۔ کفرون (٦٢) یہ کفار خود تو رحمن کے وجود ہی کا انکار کرتے ہیں ‘ حالانکہ وہ اس کائنات کا خالق اور مدبر ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب ان کے الہوں اور بتوں پر جو معقول تبصرہ کیا جاتا ہے اسے پسند نہیں کرتے لیکن وہ خود جب رحمن کا انکار کرتے ہیں تو اس میں کوئی ہرج محسوس نہیں کرتے حالانکہ وہ رحمن کے بندے ہیں اور پھر قرآنی تعلیمات کا انکار کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی فطرت میں بےحد بگاڑ پیدا ہوچکا ہے اور وہ جس پیمانے سے دیتے ہیں اس سے لیتے نہیں ‘ اور حقائق کا فیصلہ غلط کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو جس عذاب الٰہی سے ڈراتے ہیں ‘ اس کے بارے میں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جلدی کیوں نہیں اتا حالانکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو اس سے ڈراتے ہیں۔ یہ جلدی وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انسان کی فطرت میں جلد بازی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا (وَاِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ھُزُوًا) (جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کی ذات کو تمسخر کا ذریعہ بنا لیتے ہیں) اور یوں کہتے ہیں (اَھٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِھَتَکُمْ ) (کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے) یعنی تمہارے معبودوں کا انکار کرتا ہے اور ان کی عبادت پر اعتراض کرتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ یہ بےجان ہیں نفع اور ضرر کے مالک نہیں۔ وہ لوگ یہ بات آپ کی شان معظم کو گھٹانے کے لیے کہتے تھے اور ان کا مطلب یہ تھا کہ کوئی صاحب حیثیت دنیاوی جاہ و مرتبہ والا نہیں تھا جسے نبی بنایا جاتا ؟ کیا اس آدمی کو نبوت دی گئی ہے جو ہمارے معبودوں کو برائی کے ساتھ یاد کرتا ہے۔ (وَ ھُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ) (اور یہ لوگ رحمان کے ذکر کے منکر ہیں۔ یعنی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو ان کے باطل معبودوں کو برا کہا وہ تو انہیں کھل رہا ہے اور نا گوار ہو رہا ہے لیکن جو خود ان کی حرکت ہے اس پر توجہ نہیں دیتے۔ رحمن جل مجدہ جس نے انہیں اور ساری مخلوق کو پیدا فرمایا ہے نہ اس کی توحید کے قائل ہوتے ہیں نہ اس کی ذات عظیمہ اور صفات جلیلہ پر ایمان لاتے ہیں۔ ان کو تو خود اپنی ذات پر ہنسنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ اپنی حماقت اور ضلالت کا خیال نہیں اور حال یہ ہے کہ اللہ کے سچے نبی کا مذاق اڑاتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

25:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ جوحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ کر آپ سے استہزاء کرتے اور حقارت آمیز لہجہ میں کہتے تھے۔ یہ ہے وہ جو تمہارے معبودوں کی توہین اور بےادبی کرتا ہے ” وَ ھُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ “ خدا کا پیغمبر تو ان کے جھوٹے معبودوں کو نہیں مانتا اور صاف اعلان کرتا ہے کہ وہ حاجت روا، مشکل کشا، غیب داں اور متصرف و کارساز نہیں مگر یہ ظالم تو خدائے رحمان کی توحید کا انکار کرتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

36 اور یہ منکر جب کہیں آپ کو دیکھتے ہیں تو ان کا کام سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوتا کہ آپ کا مذاق بنائیں او آپ سے ٹھٹا کرنا شرع کردیں اور آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کیا یہی وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کو برائی کے ساتھ یاد کرتا ہے اور تمہارے ٹھاکروں کا نام لیتا ہے حالانکہ ان کافروں کا حال یہ ہے کہ یہ رحمان کے نام سے انکار کرتے ہیں اور رحمان کے منکر ہیں۔ یعنی ان بدنصیبوں کی حالت یہ ہے کہ خود تو رحمٰن جل مجدہ کے منکر ہیں اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا محض اس بنا پر مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ ہمارے ٹھاکروں اور معبودوں کا تحقیر کے ساتھ کیوں نام لیتے ہیں اور ان کی برائی کیوں کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں نام لیتا ہے ٹھاکروں کا یعنی برا کہتا ہے۔ 12