Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 44

سورة الأنبياء

بَلۡ مَتَّعۡنَا ہٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی طَالَ عَلَیۡہِمُ الۡعُمُرُ ؕ اَفَلَا یَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا ؕ اَفَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿۴۴﴾

But, [on the contrary], We have provided good things for these [disbelievers] and their fathers until life was prolonged for them. Then do they not see that We set upon the land, reducing it from its borders? So it is they who will overcome?

بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو زندگی کے سرو سامان دیئے یہاں تک کہ ان کی مدت عمر گزر گئی ۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں ، اب کیا وہی غالب ہیں؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How the Idolators are deceived by their long and luxurious Lives in this World, and the Explanation of the Truth Allah tells: بَلْ مَتَّعْنَا هَوُلاَء وَابَاءهُمْ حَتَّى طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ ... Nay, We gave the luxuries of this life to these men and their fathers until the period grew long for them. Allah explains that they have been deceived and misled by the luxuries that they enjoy in this world and the long life that they have been given, so they believe that they are following something good. Then Allah warns them: ... أَفَلَ يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الاَْرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ... See they not that We gradually reduce the land (in their control) from its outlying borders! This is like the Ayah: وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرَى وَصَرَّفْنَا الاٌّيَـتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ And indeed We have destroyed towns round about you, and We have shown the Ayat in various ways that they might return. (46:27) Al-Hasan Al-Basri said: "This means the victory of Islam over disbelief." The meaning is: Do they not learn a lesson from the fact that Allah supported those (believers) against their enemies, He destroyed the disbelieving nations and the evil-doing townships, and He saved His believing servants. So Allah says: ... أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ Is it then they who will overcome! meaning, on the contrary, they are the ones who will be overcome, who will be defeated, humiliated and brought low.

ذلت و رسوائی کے مارے لوگ کافروں کے کینہ کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتارہا ، لمبی لمبی عمریں ملیں ۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں ، اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کر دیں؟ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورۃ رعد میں ہم بیان کر آئے ہیں ۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں ۔ جیسے فرمایا آیت ( وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 27؀ ) 46- الأحقاف:27 ) ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمھیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں ۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے ہیں کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کردیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کردیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں ، ذلیل ہیں ، رذلیل ہیں ، نقصان میں ہیں ، بربادی کے ماتحت ہیں ۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں ، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے ۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کردی ہیں ، جن کے دل ودماغ بند کر دیئے ہیں انہیں اللہ کی یہ باتیں سود مند نہیں پڑتیں ۔ بہروں کو آگاہ کرنا بیکار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں ۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آجائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بےساختہ اپنے قصور کا اقرار کرلیتے ہیں ۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی ۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے ، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے ۔ اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سابھی ظلم نہ ہوگا ۔ اس لئے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لئے کافی ہے ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہوجائے گا ۔ اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا ۔ فرمان ہے آیت ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ 40؀ ) 4- النسآء:40 ) ، اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا ، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے ۔ حضرت لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں وہ اللہ اسے لائے گا وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے ۔ بخاری وسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو کلمے ہیں زبان پر ہلکے ہیں ، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم مسند احمد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا ؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلم کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تیرا کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے؟ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں ۔ پروردگار عالم فرمائے گا کیوں نہیں؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں ( اشہد ان لا الہ اللہ وان محمد الرسول اللہ ) لکھا ہوا ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسے پیش کرو ۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا ؟ جناب باری فرمائے گا تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا ۔ یہ جھک جائے گا اور اونچے ہوجائیں گے اور اللہ رحمان ورحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی ۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں روایت ہے ۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا ۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو ایک چیز اس کی ابھی باقی گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں لا الہ الا اللہ ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا ۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں ، میری خیانت بھی کرتے ہیں ، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں ۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو توچھوٹ گیا ۔ نہ عذاب نہ ثواب ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کافضل وکرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا ۔ یہ سن کر وہ صحابی رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کیا ہوگیا ؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت ( وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47؀ ) 21- الأنبياء:47 ) یہ سن کر اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں ۔ آپ گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

44۔ 1 یعنی ان کی یا ان کے آبا واجداد، کی زندگیاں اگر عیش و راحت میں گزر گئیں تو کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صحیح راستے پر ہیں ؟ اور آئندہ بھی انھیں کچھ نہیں ہوگا ؟ نہیں بلکہ یہ چند روزہ زندگی کا آرام تو ہمارے اصول مہلت کا ایک حصہ ہے، اس سے کسی کو دھوکا اور فریب میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ 44۔ 2 یعنی زمین کفر بتدریج گھٹ رہی ہے اور دولت اسلام وسعت پذیر ہے۔ کفر کے پیروں تلے سے زمین کھسک رہی ہے اور اسلام کا غلبہ بڑھ رہا ہے اور مسلمان علاقے پر علاقہ فتح کرتے چلے جا رہے ہیں۔ 44۔ 3 یعنی کفر کو سمٹتا اور اسلام کو بڑھتا ہوا دیکھ کر بھی، کیا وہ کافر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ غالب ہیں ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی وہ غالب نہیں، مغلوب ہیں، فاتح نہیں، مفتوح ہیں، معزز و سرفراز نہیں، ذلت اور خواری ان کا مقدر ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٩] یعنی ان قریش مکہ کی حالت یہ ہے کہ ایک طویل مدت سے ان پر سختی کا کوئی دور نہیں آیا۔ کعبہ کی تولیت کی بنا پر ان کی عرب بھر میں عزت ہے۔ ان کے تجارتی قافلوں پر کوئی طبھی قبیلہ ڈاکہ ڈالنے کی جرأت نہیں کرتا۔ بلکہ جس قافلے کو یہ لوگ پروانہ راہداری دے دیں۔ وہ بھی لوٹ مار سے محفوظ و مامون ہوجاتا ہے۔ سردی اور گرمی کے تجارتی سفروں کی بنا پر بہت دولت کما رہے ہیں اور آسودہ حال ہیں۔ اسی آسودہ حال نے انھیں اللہ اور اس کی یاد سے غافل بنادیا ہے۔ اب ان کے دماغ اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک یہ اللہ کے عذاب کا مزا نہ چکھ لیں۔ [٤٠] یہ لوگ بچشم خود دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کو روکنے کی ان کی ساری تدبیروں اور کوششوں کے باوجود اسلام دن بدن بڑھتا اور پھیلتا جارہا ہے اور جوں جوں اسلام پھیل رہا ہے ان پر از خود عرصہ حیات تنگ ہوتا جارہا ہے اور ان کی پریشانیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس علاقہ میں اسلام آگیا وہاں سے کفر رخصت ہوا اور کفر کی سرزمین گھٹ گئی۔ اور یہ سلسلہ بدستور جاری رہے گا کفر کا علاقہ یا سرزمین گھٹتی، سمٹتی اور سکڑتی جائے گی اور اسلام کی سرزمین برھتی جائے گی۔ جس کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود کیا اب بھی وہ اس وہم میں مبتلا ہیں کہ وہ اسلام کو دبا لینے میں کامیاب ہوجائیں گے اور بالآخر انھیں کا بول بالا رہے گا ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

بَلْ مَتَّعْنَا هٰٓؤُلَاۗءِ وَاٰبَاۗءَهُمْ ۔۔ : یعنی ان کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بےپروا ہونے، پیغمبر کا مذاق اڑانے اور جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان پر جو مہربانی کی، انھیں اور ان کے آبا و اجداد کو دنیا کے سازو سامان سے فائدہ اٹھانے کا جو موقع دیا تو اس پر احسان مند ہونے کے بجائے اس غلط فہمی میں پڑگئے کہ یہ نعمت ہمیشہ رہے گی، کبھی زائل نہ ہوگی، جیسا کہ فرمایا : (اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ ) [ إبراہیم : ٤٤ ] ” اور کیا تم نے اس سے پہلے قسمیں نہ کھائی تھیں کہ تمہارے لیے کوئی بھی زوال نہیں۔ “ اور پھر ہوتے ہوتے اپنی خوش حالی میں اس قدر مست ہوگئے کہ سرے سے بھول ہی گئے کہ ان کے اوپر کوئی ان کا رب بھی ہے، جو جب چاہے عذاب بھیج کر ان کا نام و نشان مٹا سکتا ہے۔ اَفَلَا يَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا ۔۔ : یعنی کیا یہ مشرکین جو عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اس عذاب کے آثار اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ ہم ان کی زمین کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اسے مسلسل کم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مسلمان شہروں پر شہر اور علاقوں پر علاقے فتح کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ وقت آ رہا ہے کہ ان کی مقبوضہ زمین گھٹتے گھٹتے ساری کی ساری ان کے قبضے سے نکل جائے گی، تو کیا پھر بھی یہی غالب ہوں گے ؟ زمین کو اس کے کناروں سے کم کرتے چلے آنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ زمین سے مراد زمین کے رہنے والے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَسْـــَٔـلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا ) [ یوسف : ٨٢ ] ” اور اس بستی سے پوچھ لیجیے جس میں ہم تھے۔ “ یہاں بستی سے مراد بستی میں رہنے والے ہیں۔ یعنی کیا یہ کافر ہماری زبردست قدرت اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ بےسروسامان اور مظلوم و مقہور مسلمانوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور ان سرداروں کے ساتھی مسلمان ہوتے جا رہے ہیں، جس سے کفار کی تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے، جو آخر کار ختم ہوجانے والی ہے۔ تیسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ کیا یہ لوگ ہماری زبردست قدرت نہیں دیکھتے کہ ہم آسمانی اور زمینی آفات مثلاً طوفانوں، سیلابوں، زلزلوں، آتش فشاں پہاڑوں کی ہلاکت خیزیوں، جنگوں، وباؤں اور دوسرے عذابوں کی صورت میں ہزاروں لاکھوں لوگوں کو ہلاک کرکے آباد زمینوں کو بےآباد کردیتے ہیں ؟ ان کے اردگرد ہود (علیہ السلام) ، صالح (علیہ السلام) ، لوط (علیہ السلام) اور قوم سبا کی برباد شدہ بستیاں ان کی آنکھوں کے سامنے ہیں، بھلا ہماری اس عظیم الشان قوت کے مقابلے میں یہ لوگ غالب آسکتے ہیں ؟ پہلا مطلب الفاظ کے بہت قریب ہے، مگر سورت مکی ہونے کی وجہ سے آخری دو مطلب بیان کیے گئے ہیں، کیونکہ مکہ میں مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔ مزید دیکھیے سورة رعد (٤١) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بَلْ مَتَّعْنَا ہٰٓؤُلَاۗءِ وَاٰبَاۗءَہُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَيْہِمُ الْعُمُرُ ۝ ٠ۭ اَفَلَا يَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَا ۝ ٠ ۭ اَفَـہُمُ الْغٰلِبُوْنَ۝ ٤٤ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ أب الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] ( اب و ) الاب ۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ۔ { النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } [ الأحزاب : 6] میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مومنین کا باپ قرار دیا گیا ہے ۔ طول الطُّولُ والقِصَرُ من الأسماء المتضایفة كما تقدّم، ويستعمل في الأعيان والأعراض کالزّمان وغیره قال تعالی: فَطالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ [ الحدید/ 16] ، سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، ويقال : طَوِيلٌ وطُوَالٌ ، و عریض وعُرَاضٌ ، وللجمع : طِوَالٌ ، وقیل : طِيَالٌ ، وباعتبار الطُّولِ قيل للحبل المرخيِّ علی الدّابة : طِوَلٌ «3» ، وطَوِّلْ فرسَكَ ، أي : أَرْخِ طِوَلَهُ ، وقیل : طِوَالُ الدّهرِ لمدّته الطَّوِيلَةِ ، وَتَطَاوَلَ فلانٌ: إذا أظهر الطُّولَ ، أو الطَّوْلَ. قال تعالی: فَتَطاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ [ القصص/ 45] ، وَالطَّوْلُ خُصَّ به الفضلُ والمنُّ ، قال : شَدِيدِ الْعِقابِ ذِي الطَّوْلِ [ غافر/ 3] ، وقوله تعالی: اسْتَأْذَنَكَ أُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ [ التوبة/ 86] ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا[ النساء/ 25] ، كناية عمّا يصرف إلى المهر والنّفقة . وطَالُوتُ اسمٌ عَلَمٌ وهو أعجميٌّ. ( ط و ل ) الطول یہ اسمائے اضافیہ سے ہے ۔ اور اس کے معنی دراز اور لمبا ہونا کے ہیں یہ القصر کے مقابلہ میں آتا ہے اور اعیان واعرراض مثلا زمانہ وغیرہ سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ فَطالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ [ الحدید/ 16] پھر ان پر لمبا عرصہ گزر گیا ۔ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] بہت لمبے شغل ( ہوتے ہیں ) طول طول جیسے عریض و عریض دراز لمبا اس کی جمع طوال آتی ہے اور بعض نے طیال بھی کہا ہے اور لمبا ہونے کی مناسبت سے جانور کی پچھاڑی کی رسی کو طول کہا جاتا ہے طول کہا جاتا ہے طول فرسک اپنے گھوڑے کی پچھاڑی باندھ دے ۔ طوال الدھر عرصہ دارز ۔ تطاول فلان درازی یا وسعت کو ظاہر کرنا ۔ قرآن میں ہے ۔ فَتَطاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ [ القصص/ 45] پھر ان پر لمبا عرسہ گزر گیا ۔ اور طول کا لفظ خاص کر فضل و احسان کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ شَدِيدِ الْعِقابِ ذِي الطَّوْلِ [ غافر/ 3] سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے ۔ اور آیت کریمہ : اسْتَأْذَنَكَ أُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ [ التوبة/ 86] تو جو ان میں دولتمند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں میں اولوالطول سے خوش حال طبقہ مراد ہے اور آیت کریمہ : وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا[ النساء/ 25] اور جو شخص تم میں سے مقدر نہ رکھے ۔ میں طولا کنایہ ہے اس مال سے ( جو عورت کو ) مہر میں یا نان ونفقہ کے طور پر دینا پڑتا ہے ۔ طالوت یہ اسم عجمی ہے اور بنی اسرائیل کے ایک با اقبال بادشاہ کا نام تھا ۔ عمر ( زندگی) والْعَمْرُ والْعُمُرُ : اسم لمدّة عمارة البدن بالحیاة، فهو دون البقاء، فإذا قيل : طال عُمُرُهُ ، فمعناه : عِمَارَةُ بدنِهِ بروحه، وإذا قيل : بقاؤه فلیس يقتضي ذلك، فإنّ البقاء ضدّ الفناء، ولفضل البقاء علی العمر وصف اللہ به، وقلّما وصف بالعمر . والتَّعْمِيرُ : إعطاء العمر بالفعل، أو بالقول علی سبیل الدّعاء . قال : أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ ما يَتَذَكَّرُ فِيهِ [ فاطر/ 37] ، وَما يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهِ [ فاطر/ 11] ، وَما هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذابِ أَنْ يُعَمَّرَ [ البقرة/ 96] ، وقوله تعالی: وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ [يس/ 68] ، قال تعالی: فَتَطاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ [ القصص/ 45] ، وَلَبِثْتَ فِينا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ [ الشعراء/ 18] . والعُمُرُ والْعَمْرُ واحد لکن خُصَّ القَسَمُ بِالْعَمْرِ دون العُمُرِ «3» ، نحو : لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ [ الحجر/ 72] ، وعمّرک الله، أي : سألت اللہ عمرک، وخصّ هاهنا لفظ عمر لما قصد به قصد القسم، ( ع م ر ) العمارۃ اور العمر والعمر اس مدت کو کہتے میں جس میں بدن زندگی کے ساتھ آباد رہتا ہے اور یہ بقا سے فرو تر ہے چنناچہ طال عمر ہ کے معنی تو یہ ہوتے ہیں کہ اس کا بدن روح سے آباد رہے لیکن طال بقاء ہ اس مفہوم کا مقتضی نہیں ہے کیونکہ البقاء تو فناء کی ضد ہے اور چونکہ بقاء کو عمر پر فضیلت ہے اس لئے حق تعالیٰ بقاء کے ساتھ تو موصؤف ہوتا ہے مگر عمر کے ساتھ بہت کم متصف ہوتا ہے ۔ التعمیر کے معنی ہیں بالفعل عمر بڑھانا نا یا زبان کے ساتھ عمر ک اللہ کہنا یعنی خدا تیری عمر دراز کرے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ ما يَتَذَكَّرُ فِيهِ [ فاطر/ 37] کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا ۔ وَما يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهِ [ فاطر/ 11] اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے ۔ وَما هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذابِ أَنْ يُعَمَّرَ [ البقرة/ 96] اگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی ۔ اور آیت : ۔ وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ [يس/ 68] اور جس کو بڑی عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں ۔ فَتَطاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ [ القصص/ 45] یہاں تک کہ ( اسی حالت میں ) ان کی عمر ین بسر ہوگئیں ۔ وَلَبِثْتَ فِينا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ [ الشعراء/ 18] اور تم نے برسوں ہمارے عمر بسر کی ۔ العمر والعمر کے ایک ہی معنی ہیں لیکن قسم کے موقعہ پر خاص کر العمر کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے ۔ عمر کا لفظ نہیں بولا جاتا جیسے فرمایا : ۔ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ [ الحجر/ 72] تمہاری زندگی کی قسم وہ اپنی مستی میں عمرک اللہ خدا تمہاری عمر دارز کرے یہاں بھی چونکہ قسم کی طرح تاکید مراد ہے اس لئے لفظ عمر کو خاص کیا ہے ۔ نقص النَّقْصُ : الخُسْرَانُ في الحَظِّ ، والنُّقْصَانُ المَصْدَرُ ، ونَقَصْتُهُ فهو مَنْقُوصٌ. قال تعالی: وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوالِ وَالْأَنْفُسِ [ البقرة/ 155] ، وقال : وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ [هود/ 109] ، ( ن ق ص ) النقص ( اسم ) حق تلفی اور یہ نقصتہ ( ن ) فھو منقو ص کا مصدر بھی ہے جس کے معنی گھٹانے اور حق تلفی کر نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوالِ وَالْأَنْفُسِ [ البقرة/ 155] اور جانوں اور مالوں ۔۔۔۔ کے نقصان سے وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ [هود/ 109] اور ہم ان کو ان کا حصہ پورا پوارا کم وکاست دینے والے ہیں ۔ طرف طَرَفُ الشیءِ : جانبُهُ ، ويستعمل في الأجسام والأوقات وغیرهما . قال تعالی: فَسَبِّحْ وَأَطْرافَ النَّهارِ [ طه/ 130] ، أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهارِ [هود/ 114] ( ط رف ) الطرف کے معنی کسی چیز کا کنارہ اور سرا کے ہیں اور یہ اجسام اور اوقات دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَسَبِّحْ وَأَطْرافَ النَّهارِ [ طه/ 130] اور اس کی بیان کرو اور دن کے اطراف میں ۔ أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهارِ [هود/ 114] اور دن ۔ کے دونوں سروں ( یعنی صبح اور شام کے اوقات میں ) نماز پڑھا کرو ۔ غلب الغَلَبَةُ القهر يقال : غَلَبْتُهُ غَلْباً وغَلَبَةً وغَلَباً «4» ، فأنا غَالِبٌ. قال تعالی: الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] ( غ ل ب ) الغلبتہ کے معنی قہرا اور بالادستی کے ہیں غلبتہ ( ض ) غلبا وغلبتہ میں اس پر مستول اور غالب ہوگیا اسی سے صیغہ صفت فاعلی غالب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] الم ( اہل ) روم مغلوب ہوگئے نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوجائیں گے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٤) بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان مکہ والوں کو اور ان سے پہلے ان کے آباؤ اجداد کو بہت مہلت دی یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک زمانہ گزر گیا، کیا مکہ والے یہ نہیں دیکھتے کہ ہم ان کی سرزمین کو چارون طرف سے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر فتح کرتے چلے آرہے ہیں تو کیا یہ لوگ اب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلہ میں آئیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٤ (بَلْ مَتَّعْنَا ہٰٓؤُلَآءِ وَاٰبَآءَ ہُمْ حَتّٰی طَالَ عَلَیْہِمُ الْعُمُرُ ط) ” ہم انہیں مسلسل دنیوی نعمتوں سے نوازتے رہے ‘ یہاں تک کہ وہ ان کے عادی ہوگئے ‘ انہیں اپنی ملکیت سمجھنے لگے اور ان پر خوب اترانے لگے۔ (اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَا ط) ” کیا مشرکین مکہ کو یہ ٹھوس حقیقت نظر نہیں آرہی کہ اس سرزمین میں ان کا اثر و رسوخ روز بروز کم ہو رہا ہے۔ اسلام کا پیغام مسلسل پھیل رہا ہے۔ مکہ کے اندر سے بھی اس روشنی کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور باہر کے قبائل میں بھی دعوت اسلام کا تعارف رفتہ رفتہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ گویا مشرکین مکہ کے لیے زمین مسلسل سکڑتی چلی جا رہی ہے اور ہر آنے والے دن کے ساتھ اہل ایمان کی تعداد اور طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سے ملتے جلتے الفاظ میں یہ مضمون اس سے پہلے سورة الرعد میں بھی آچکا ہے : (اَوَلَمْ یَرَوْا اَ نَّا نَاْ تِی الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَاط واللّٰہُ یَحْکُمُ لاَ مُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖط وَہُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو گھٹاتے چلے آ رہے ہیں اس کے کناروں سے ؟ اور اللہ ہی فیصلہ کرنے والا ہے ‘ کوئی نہیں پیچھے ڈالنے والا اس کے حکم کو ‘ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ “ (اَفَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ) ” یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کیا ان کا خیال ہے کہ اس کش مکش میں وہی جیتیں گے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

44. In other words it means: These people have been deluded by Our favor and Our provisions. They think they are enjoying prosperity and good life as their personal right and there is none to take it away from them. They have forgotten that there is God above them Who is able to make or mar their fortune. 45. In this connection, see (Surah Ar-Raad, Ayat 41 and E.N. 60) thereof. Here it bears an additional meaning also: Do they not see that an All-Powerful Being is showing His signs every now and then everywhere on the earth in the form of famines, epidemics, floods, earthquakes and other calamities. Millions of people are killed, habitations and harvests are destroyed and other damages are caused, which frustrate all human designs? 46. It means: When they know that all the resources and provisions of life are in Our hands and that We can increase or decrease them as We will, do they have the power and strength to defend themselves against Our punishment? Can they not see from these signs that their power, prosperity and luxury are not everlasting and that there is an All-Powerful Allah to seize and punish them.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :44 یعنی ہماری اس مہربانی اور پرورش سے یہ اس غلط فہمی میں پڑ گئے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کا کوئی ذاتی استحقاق ہے جس کا چھیننے والا کوئی نہیں ۔ اپنی خوشحالیوں اور سرداریوں کو یہ لازوال سمجھنے لگے ہیں اور ایسے سرمست ہو گئے ہیں کہ انہیں کبھی یہ خیال تک نہیں آتا کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو ان کی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کی قدرت رکھتا ہے ۔ سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :45 یہ مضمون اس سے پہلے سورہ رعد آیت 41 میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی تشریح بھی کر چکے ہیں ( ملاحظہ ہو حاشیہ 60 ) ۔ یہاں اس سیاق و سباق میں یہ ایک اور معنی بھی دے رہا ہے ۔ وہ یہ کہ زمین میں ہر طرف ایک غالب طاقت کی کار فرمائی کے یہ آثار نظر آتے ہیں کہ اچانک کبھی قحط کی شکل میں ، کبھی وبا کی شکل میں ، کبھی سیلاب کی شکل میں ، کبھی زلزلے کی شکل میں ، کبھی سردی یا گرمی کی شکل میں ، اور کبھی کسی اور شکل میں کوئی بلا ایسی آ جاتی ہے جو انسان کے سب کیے دھرے پر پانی پھیر دیتی ہے ۔ ہزاروں لاکھوں آدمی مر جاتے ہیں ۔ بستیاں تباہ ہو جاتی ہیں ۔ لہلہاتی کھیتیاں غارت ہو جاتی ہیں ۔ پیداوار گھٹ جاتی ہے اور کبھی کسی طرف سے ۔ اور انسان اپنا سارا زور لگا کر بھی ان نقصانات کو نہیں روک سکتا ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو ، تفہیم القرآن ، جلد 4 ، السجدہ ، حاشیہ 33 ) ۔ سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :46 یعنی جبکہ ان کے تمام وسائل زندگی ہمارے ہاتھ میں ہیں ، جس چیز کو چاہیں گھٹا دیں اور جسے چاہیں روک لیں ، تو کیا یہ اتنا بل بوتا رکھتے ہیں کہ ہمارے مقابلے میں غالب آ جائیں اور ہماری پکڑ سے بچ نکلیں ؟ کیا یہ آثار ان کو یہی اطمینان دلا رہے ہیں کہ تمہاری طاقت لازوال اور تمہارا عیش غیر فانی ہے اور کوئی تمہیں پکڑ نے والا نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

21: یعنی ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو عیش و عشرت کا جو سامان دے دیا تھا، اس سے وہ لمبے عرصے تک مزے اراتے رہے، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ ان کا حق ہے، اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں، ٹھیک کر رہے ہیں۔ اس غرور میں مبتلاہو کر وہ حق کے انکار پر آمادہ ہوگئے۔ 22: یہ وہی بات ہے جو سورۃ رعد آیت 41 میں بھی گذری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جزیرہ عرب کے مختلف اطراف سے شرک اور مشرکین کا اثر و رسوخ گھٹتا چلا جا رہا ہے، اور اسلام اور مسلمانوں کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:44) بل۔ حرف اضراب ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 2:135) اور یہاں اضراب (رو گردانی کرنا) کے معنی ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف منتقل ہونے کے ہیں۔ یہاں بل کا ماقبل (ذکر رحمن سے روگردانی۔ ان کی سرکشی۔ اور لجاجت فی الکفر) اپنی اصل حالت پر قائم رہنا ہے۔ یہاں ایک مزید وجہ ان کی سرکشی کی بیان کی ہے۔ بلکہ ہم نے ان کے آباء و اجداد کو سامان تعیش دئیے رکھا اور اسی عیش و عشرت میں عرصہ بعید گذر گیا (اور یہ سمجھنے لگے کہ وہ حق پر ہیں اور یہ کہ یہ سارا سامان عیش و آرام ان کو بوجہ استحقاق مل رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ کسی داعی الی الحق کی بات سننے کے لئے تیار نہیں اور اپنی سرکشی اور کفر کی حالت پر مصر ہیں حالانکہ بات یہ نہیں) متعنا۔ ماضی جمع متکلم تمتیع (تفعیل) ہم نے دنیاوی مال ومتاع سے بہرہ مند کیا۔ یہاں ھؤلاء کا اشارہ انہی کفار قریش سے جن سے خطاب ہو رہا تھا قل من یکلؤکم خطاب سے غیبت کی طرف التفات حقارت اور تحقیر کی بنا پر ہوا ہے۔ ننقصھا۔ مضارع جمع متکلم۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (باب نصر) ہم اس کو کم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ جملہ انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا ہم (ان کی) زمین کو اس کی ہر طرف سے (برابر) گھٹاتے چلے جا رہے ہیں : کے متعلق مختلف اقوال ہیں : (1) مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد زمین کی ویرانی اور اہل کی ہلاکت ہے۔ (2) عکرمہ کا قول ہے کہ نقص زمین سے مراد ساکنان زمین کی ہلاکت ہے۔ (3) عطاء کا قول ہے کہ نقص زمین سے مراد علما کی ہلاکت ہے۔ (4) حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت قتادہ اور جماعت اہل تفسیر نے اس کی تشریح کی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اہل کفر کی زمینیں اہل ایمان کے قبضہ میں آرہی ہیں۔ اور اس طرح کافروں کی زمینیں کم ہوتی چلی جارہی ہیں۔ اس تشریح کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ یہ سورة مکی ہے اور جہاد ہجرت کے بعد فرض ہوا تھا تو پھر زمین کفر کے کم کردینے کا کیا معنی ؟ علامہ جلال الدین سیوطی (رح) نے اپنی تفسیر الاتقان میں لکھا ہے کہ :۔ یہ آیات مدنیہ ہیں۔ دوم یہ کہ یہ ایک پیشین گوئی ہے اور جس امر کا ہونا یقینی ہو اس کو ہو ہی گیا کہہ کر تعبیر کرتے ہیں۔ اس تشریح کی تائید اس آیتہ کے آخری الفاظ افہم الغلبون کرتے ہیں (بھلا یہ لوگ غالب آنے والے ہیں ؟ استفہام انکاری ہے۔ بلکہ انجام کا رفتح اور غلبہ صرف خدا اور اس کے رسول ہی کو ہوگا) ۔ اور جگہ ارشاد ہے اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا (13:41)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ۔ یعنی ہم نے جو ان پر مہربانی کی اس پر احسان مند ہونے کی بجائے اس غلط فہمی میں پڑگئے کہ یہ ان کے ذاتی کمالات کا کرشمہ ہے اور پھر ہوتے ہوتے اپنی خوشحالی میں اس قدر مست ہوگئے کہ سرے سے بھول ہی گئے کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے۔ وہ جب چاہے ان سے سب کچھ چھین سکتا ہے اور ان کو فاقہ کشی میں مبتلا کرسکتا ہے۔ (شوکانی، کبیر) 6 ۔ یعنی یہ جلدی عذاب مانگنے والے ہمارے قدرت کے آثار پر غور نہیں کرتے اور اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ہر طرف اسلام کو فتح نصیب ہورہی ہے اور کفر کا دائرہ اختیار سکڑتا جارہا ہے۔ مزید دیکھئے سورة رعد آیت :14 (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کا اپنے رب کی ذات اور اس کے فرمان سے اعراض کرنے کا بنیادی سبب۔ اللہ تعالیٰ جب کسی فرد یا قوم کو طویل مدت تک اسباب عطا کرنے کے ساتھ ڈھیل دیتا ہے تو وہ اس کے شکر گزار بندے بننے کی بجائے یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر ناراض نہیں جس وجہ سے دنیا کے اسباب و وسائل، اقتدار اور وقار دئیے جا رہا ہے۔ خاص طور پر یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہے تو نافرمان لوگوں کا یہ اعتقاد بن جاتا ہے کہ واقعی ہی ہم میں ایسے اوصاف ہیں جس بناء پر ہم وسائل، اقتدار اور وقار کا حق رکھتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسے لوگوں پر اچانک برے حالات و ارد کردیے جاتے ہیں جن کا یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ یہی صورتحال اہل مکہ کی تھی۔ وہ کئی نسلوں سے بیت اللہ کی وجہ سے دنیا میں بالعموم اور عرب میں بالخصوص نہایت وقار کی زندگی بسر کر رہے تھے اور وسائل کے اعتبار سے بھی عرب کے قبائل میں متمول سمجھے جاتے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت قبول کرکے اپنے رب کے شکر گزار بندے بن جاتے لیکن وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت پر دن رات کمربستہ ہوگئے۔ جوں جوں وہ مخالفت میں تیز ہو رہے تھے اسی رفتار سے دن بدن اسلام کا غلبہ اور مسلمانوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ بالاخر وہ وقت بھی آیا جب ان کے لیے مکہ کی زمین تنگ ہوگئی اور انھیں اسلام کے سامنے سرنگوں ہونا پڑا۔ اسی صورتحال کو یہاں بیان کی گیا ہے کہ ہم نے انھیں اور ان کے باپ دادا کو فائدہ دیا اور پھر طویل مدت تک انھیں مہلت دی۔ یہ مدت ان کے لیے فائدہ مند ہونے کی بجائے وبال ثابت ہوئی۔ کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ زمین اپنی وسعتوں کے باوجود ان کے لیے تنگ ہوتی جارہی ہے حالانکہ یہ اپنے آپ کو غالب سمجھ رہے۔ ارضیات کے سائنسدانوں کی تحقیق یہ ہے کہ زمین رقبہ کے لحاظ سے بھی دن بدن تنگ ہو رہی ہے۔ ( اللہ اعلم) (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ قَالَ مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَحَسُنَ عَمَلُہُ قَالَ فَأَیُّ النَّاسِ شَرٌّ قَالَ مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَسَاءَ عَمَلُہُ قَالَ أَبُو عیسَی ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی طُولِ الْعُمُرِ لِلْمُؤْمِنِ ] ” حضرت عبدالرحمن بن ابی ابکرہ (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ بیشک ایک آدمی نے سوال کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں میں سے بہترین کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال اچھے ہوں۔ اس نے پھر عرض کی اللہ کے محبوب لوگوں میں سے بدترین کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال برے ہوں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ طویل عمر اور اسباب کی کشادگی عنایت فرمائے تو نافرمان بننے کی بجائے اپنے رب کی تابعداری کرنا چاہیے۔ ٢۔ طویل عمر نیک آدمی کے لیے مفید اور برے شخص کے لیے وبال کا باعث ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو زمین کی وسعتوں کو انسان کے لیے تنگ و تاریک کر دے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی شخص اور قوم غالب نہیں آسکتی۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ ہی غالب ہے : ١۔ اللہ اپنے ہر کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : ٢١) ٢۔ اللہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو حکم کرتا ہے۔ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔ (البقرۃ : ١١٧) ٣۔ ” اللہ “ اپنے بندوں پر غالب ہے اس نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کیے ہیں۔ (الانعام : ٦١) ٤۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے وہ غالب، حکمت والا ہے۔ (الحشر : ١) ٥۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے یقیناً اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (الانفال : ٤٩) ٦۔ اللہ قوی اور غالب ہے۔ ( المجادلۃ : ٢١) ٧۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : ٢٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

بل متعنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افھم الغلبون (٤٤) ” ۔ درحقیقت ہم نے ان کو اور ان کے آبائو اجداد کو موروثی طور پر خوشحال بنایا تھا ‘ اسدولتمندی نے ان کی فطرت کو بگاڑ دیا تھا۔ ان کا دماغ خراب ہوگیا تھا۔ اور انکے احساسات اور میلانات بدل گئے تھے۔ خدا کے ساتھ ان کا تعلق کمزور پڑگیا تھا اور اس کائنات میں ذات باری پر دلالت کرنے والے جس قدر دلائل تھے ان پر یہ غور نہ کرتے تھے۔ یہ تھی ان کی آزمائش مگر یہ آزمائش خوشحالی کے ساتھ کی گئی اور خوشحالی میں اگر اللہ کسی کا امتحان لے تو وہ سخت ہوتا ہے حالانکہ دولتمندی میں یاد الہٰی اور اللہ کے ساتھ تعلق کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ قرآن مجید ان لوگوں کے احساس کو ایک دوسرا منظر پیش کرکے جگا نا چاہتا ہے۔ یہ منظر بھی ہر وقت اس کرئہ ارض پر حقیقی واقعات کی شکل میں دہریایا جاتا ہے کہ ایک بڑی مملکت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر سکڑ جاتی ہے ایک عظیم مملکت سے چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن جاتی ہیں۔ ایک بڑی قوت ہونے اور دنیا پر غالب ہونے کے بعد یہ مغلوب ریاستیں بن جاتی ہے۔ اور ایک نہایت ہی بڑی ریاست چھوٹی ریاست بن جاتی ہے۔ بڑی تعدا کم تعداد ہوجاتی ہے اور مالدار مملکت کے بجائے ایک غریب مملکت بن جاتی ہے۔ انداز کلام یوں ہے کہ وست قدرت ان بڑی بڑی مملکتوں کو سیکڑ دیتا ہے۔ جب تخیل اپنا کام کرتا ہے تو نہایت خوں انگیز منظر سامنے آتا ہے۔ اقوام کے مددجزر کی وھیمی حرکت نہایت ہی خوفناک نتائج پیدا کرتی ہے۔ افھم الغلبون (١٢ : ٤٤) ” کیا یہی غالب ہوں گے “۔ کیا ان کے ساتھ وہی کچھ نہ ہوگا جو دوسری اقوام کے ساتھ رات اور دن ہو رہا ہے۔ اقوام کے مدد جزر کے اس خوفناک منظر کے بعد حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا جاتا ہے کہ ان کو ایک آخری ڈر اوا اور وارننگ دے دیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

30: تخویف دنیوی۔ کیا مشرکین اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ ہم ان کے مقبوضہ علاقے ان سے لے کر مسلمانوں کو قبضے میں دیتے اور ان کو ان پر مسلط کرتے جا رہے ہیں ؟ کیا اب بھی ان کو امید ہے کہ وہ مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرسکیں گے۔ ؟ افلا یری ھؤلاء المشرکون اثار قدرتنا فی اتیان الارض من جو انبہا باخذ الواحد بعد الواحد و فتح البلاد والقری مما حول مکۃ وادخالھا فی ملک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (خازن ج 4 ص 240) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(44) نہ ان کا کوئی رحمن کے سوا معبود ہے نہ کوئی بچانے والا ہے بلکہ اصل واقعہ یہ ہے اور اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو ہر قسم کے سامان عیش و تنعم سے بہرہ مند کیا اور ان کو ہر قسم کا سامان برتنے کو دیا یہاں تک کہ اسی حالت میں ان پر ایک طویل زمانہ گزر گیا تو کیا یہ لوگ اس بات کو نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو ان کے کناروں کی طرف سے کم کرتے اور گھٹاتے چلے آتے ہیں تو کیا وہ ان حالات میں غالب ہونے والے ہیں۔ یعنی ان کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے جو ان کی رات اور دن میں حفاظت کرے بلکہ پشتہا پشت سے چین و آرام کی زندگی بسر کررہے ہیں اس لئے گمراہ ہوگئے انہوں نے کسی عذاب کی شکل نہیں دیکھی اس لئے عذاب کی جلدی کرتے ہیں ان کو یہ نہیں دکھائی دیتا کہ سرزمین عرب پر چاروں طرف سے آہستہ آہستہ اسلام کا غلبہ ہوتا جاتا ہے اور اسلام پھیلتا جاتا ہے تو ان حالات میں ان کے کفر کا غلبہ اور سرمایہ دارانہ تعیش کب تک چل سکے گا اور یہ کافرانہ اقتدار کیونکر قائم رکھ سکیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہم چلے آتے ہیں گھٹاتے یعنی عرب کے ملک میں مسلمانی پھیلنے لگی ہے۔ کفر گھٹنے لگا۔ 12