Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 78

سورة الأنبياء

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ اِذۡ یَحۡکُمٰنِ فِی الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِیۡہِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ۚ وَ کُنَّا لِحُکۡمِہِمۡ شٰہِدِیۡنَ ﴿٭ۙ۷۸﴾

And [mention] David and Solomon, when they judged concerning the field - when the sheep of a people overran it [at night], and We were witness to their judgement.

اور داؤد اور سلیمان ( علیہما السلام ) کو یاد کیجئے جبکہ وہ کھیت کے معاملہ میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر چگ گئی تھیں ، اور ان کے فیصلے میں ہم موجود تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Dawud and Suleiman and the Signs which They were given; the Story of the People whose Sheep pastured at Night in the Field (Abu) Ishaq narrated from Murrah from Ibn Mas`ud: "That crop was grapes, bunches of which were dangling." This was also the view of Shurayh. Ibn Abbas said: "Nafash means grazing." Shurayh, Az-Zuhri and Qatadah said: "Nafash only happens at night." Qatadah added, "(and) Al-Haml is grazing during the day." Allah tells: وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ ... And (remember) Dawud and Suleiman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had pastured at night; Ibn Jarir recorded that Ibn Mas`ud said: "Grapes which had grown and their bunches were spoiled by the sheep. Dawud (David) ruled that the owner of the grapes should keep the sheep. Suleiman (Solomon) said, `Not like this, O Prophet of Allah!' (Dawud) said, `How then' (Suleiman) said: `Give the grapes to the owner of the sheep and let him tend them until they grow back as they were, and give the sheep to the owner of the grapes and let him benefit from them until the grapes have grown back as they were. Then the grapes should be given back to their owner, and the sheep should be given back to their owner.' This is what Allah said: فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ (And We made Suleiman to understand (the case)." This was also reported by Al-`Awfi from Ibn Abbas. ... وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ and We were witness to their judgement.

ایک ہی مقدمہ میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے مختلف فیصلے ۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے نفشت کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے ۔ اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں ہمل کہتے ہیں ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا ، حضرت داؤد علیہ السلام نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کردی جائیں وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہوجائیں انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آجائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے ۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضرت داؤد علیہ السلام کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لئے ہوئے واپس جا رہے تھے حضرت سلیمان علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا ؟ انہوں نے خبردی تو آپ نے فرمایا اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا حضرت داؤد علیہ السلام کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے ؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا ۔ حضرت مسروق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے ۔ تو حضرت داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے خلاف حضرت سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا ۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے ۔ قاضی شریح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں ۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں ۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت برا بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کردی ہے ۔ مروی ہے کہ حضرت ایاس بن معاویہ رحمتہ اللہ علیہ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے اور روئے ۔ پوچھا گیا کہ ابو سعید آپ کیوں روتے ہیں ؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا پھر غلطی کی وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا وہ بھی جہنمی ہے ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا وہ جنت میں پہنچا ۔ حضرت حسن یہ سن کر فرمانے لگے سنو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی قضاۃ کا ذکر فرمایا ہے ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں ، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہوسکتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن حضرت داؤد علیہ السلام کی مذمت بیان نہیں فرمائی ۔ پھر فرمانے لگے سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے ۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دینوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں ، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑجائیں ، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں ۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ( يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ 26؀ۧ ) 38-ص:26 ) یعنی اے داؤد ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے ۔ اور ارشاد ہے آیت ( فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44؀ ) 5- المآئدہ:44 ) لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو اور فرمان ہے آیت ( وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ 41؀ ) 2- البقرة:41 ) میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو ۔ میں کہتا ہوں انبیاء علیہم السلام کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں ۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک بھی پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے ۔ یہ حدیث صاف بتلا رہی ہے کہ حضرت ایاس رحمتہ اللہ علیہ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کرجائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے ، واللہ اعلم ۔ سنن کی اور حدیث میں ہے قاضی تین قسم کے ہیں ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کرلیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی ۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جسنے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی ۔ قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے بھیڑیا آکر ایک بچے کو اٹھا لے گیا اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے ۔ آخر یہ قصہ حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا ۔ آپ نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے یہ یہاں سے نکلیں راستے میں حضرت سلیمان علیہ السلام تھے آپ نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کرکے آدھا آدھا دونوں کو دے دیتا ہوں اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کردیا کہ اللہ آپ پر رحم کرے آپ ایسا نہ کیجئے یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئے ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا ۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لئے اس کے خلاف کچھ کہے ۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی ۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کرکے حضرت داؤد علیہ السلام کی عدالت میں جاکر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کرتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کردیا جائے ۔ اسی شام کو حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کردو ۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا ؟ اس نے کہا سیاہ ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ ۔ تیسرے نے کہا خاکی ۔ چوتھے نے کہا سفید آپ نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کردیا جائے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا ۔ آپ نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کا رنگ کی بابت سوال کیا ۔ یہ گڑبڑا گئے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا ۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہوگیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کردیا جائے ۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے اسی طرح پہاڑ بھی ۔ ایک روایت میں ہے کہ رات کے وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلاوت قرآن کریم کررہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے پھر فرمانے لگے یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا ۔ حضرت ابو عثمان نہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو کسی بہتر سے بہتر باجے کی آواز میں بھی وہ مزہ نہیں پایا جو حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز میں تھا ۔ پس اتنی خوش آوازی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت داؤد علیہ السلام کی خوش آوازی کا ایک حصہ قرار دیا ۔ اب سمجھ لیجئے کہ خود داؤد علیہ السلام کی آواز کیسی ہوگی؟ پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں ۔ آپ کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں ۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں ۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ہم نے حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں ۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں ۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکرگزاری کرنی چاہے ۔ ہم نے زورآور ہوا کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع کردیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی ۔ ہمیں ہر چیز کا علم ہے ۔ آپ اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے ۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی ۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ پرسایہ ڈالتے جیسے فرمان ہے آیت ( فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ 36؀ۙ ) 38-ص:36 ) یعنی ہم نے ہوا کو ان کا تابع کردیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی ۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کرلیتی ۔ حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ چھ ہزار کرسی لگائی جاتی ۔ آپ کے قریب مومن انسان بیٹھتے ان کے پیچھے مومن جن ہوتے ۔ پھر آپ کے حکم سے سب پر پرند سایہ کرتے پھر حکم کرتے تو ہوا آپ کو لے چلتی ۔ عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہوجاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ کو بلندی پر لے جاتی آپ اس وقت سرنیچا کرلیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی ۔ کیونکہ آپ کو اپنی فروتنی کا علم تھا ۔ پھر جہاں آپ حکم دیتے وہیں ہوا آپ کو اتار دیتی ۔ اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے قبضے میں کردیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت ( وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّاۗءٍ وَّغَوَّاصٍ 37؀ۙ ) 38-ص:37 ) ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کردیا تھا جو معمار تھے اور غوطہ خور ۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ ونگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کرلیتے جسے چاہتے آزاد کردیتے اسی کو فرمایا کہ اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٥] اس آیت میں نفش کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی رات کے وقت بکریوں کے بغیر چرواہے کے چرنے کے لئے منتشر ہونا ہے۔ (مفردات القرآن) ہوا یہ تھا کہ کچھ لوگوں کی بکریاں کسی کھیتی کو رات کے وقت چر کر اجاڑ گئی تھیں۔ کھیتی والے نے داؤد (علیہ السلام) کی عدالت میں دعویٰ دائر کردیا۔ آپ نے مدعا علیہ کو بلایا تو اس نے واقعہ کا اعتراف کرلیا۔ اب از روئے انصاف و قانون پورا ہر جانہ بکریوں کے مالک پڑتا تھا۔ اس سلسلہ میں شرعی قاعدہ یا قانون درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ حضرت براء بن عازب کی اونٹنی ایک باغ میں گھس گئی اور اسے خراب کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ دن کو باغوں کی نگہبانی باغ والوں کے ذمہ ہے۔ اور رات کو جو مویشی خراب کریں تو ان کے مالک ان کا ہر جانہ دیں۔ (مالک، ابو داؤد، ابن ماجہ بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب البیوع، باب الغصب والناریہ فصل ثانی) اور یہی شرعی دعوہ اس دور میں بھی تھا اب یہ اتفاق کی بات تھی کہ جتنا کھیتی کا نقصان ہوا تھا اس کی قیمت کے لگ بھگ بکریوں کی قیمت بنتی تھی۔ چناچہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ کیا کہ بکریوں والا اپنی بکریاں کھیتی والے کو دے دے۔ تاکہ اس کے نقصان کی تلافی ہوجائے۔ حضرت سلیمان بھی پاس موجود تھے انہوں نے اس فیصلہ سے اختلاف کیا اور کہا کہ میرے خیال میں یہ فیصلہ یوں ہونا چاہئے کہ بکریوں والا اپنی بکریاں کھیتی کو دے دے مگر یہ بکریاں کھیتی والے کے پاس بطور رہن ہوں گی۔ کھیتی والا ان کی پرورش بھی کرے اور ان سے دودھ اور اون وغیرہ کے فوائد بھی حاصل کرے۔ اور اس دوران بکریوں والا کھیتی کی نگہداشت کرکے اور اس کی آبپاشی کرے تاآنکہ وہ کھیتی اپنی پہلی سی حالت پر آجائے اور جب کھیتی پہلی حالت پر آجائے تو بکریوں والے کو اس کی بکریاں واپس کردی جائیں۔ اس فیصلہ سے کھیتی والے کے نقصان کی بھی تلافی ہوجاتی تھی اور بکریوں والے کا بھی کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوتا تھا۔ لہذا سلیمان (علیہ السلام) کے اس فیصلہ کو حضرت داؤد نے بھی درست تسلیم کیا اور اپنے فیصلہ سے رجوع کرلیا۔ یہی وہ فیصلہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ فیصلہ سلیمان (علیہ السلام) کو ہم نے سمجھایا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَدَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ اِذْ يَحْكُمٰنِ فِي الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ ۔۔ : ” نَفَشَتْ “ کا معنی ہے جانوروں کا رات کو کھیت میں پھیل جانا اور اس کی کھیتی اور پودوں کو کھا جانا۔ ” غَنَمُ “ کا لفظ بھیڑ بکری دونوں پر آتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کو عطا کردہ نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے وہ نعمت ذکر فرمائی جو دونوں کو عطا ہوئی تھی اور جو بعد میں آنے والی تمام نعمتوں سے افضل ہے، چناچہ فرمایا : (وَكُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا) ” حُكْمًا “ سے مراد قوت فیصلہ ہے اور ” عِلْمًا “ سے مراد علم شریعت ہے۔ 3 ان آیات کی تفسیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہیں آئی، البتہ ابن جریر نے ابن مسعود (رض) سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اس آیت کے متعلق فرمایا : ( کَرْمٌ قَدْ أَنْبَتَتْ عَنَاقِیْدُہُ فَأَفْسَدَتْہُ الْغَنَمُ قَالَ فَقَضَی دَاوٗدُ بالْغَنَمِ لِصَاحِبِ الْکَرْمِ فَقَالَ سُلَیْمَانُ غَیْرُ ھٰذَا یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ! قَالَ وَمَا ذٰلِکَ ؟ قَالَ تَدْفَعُ الْکَرْمَ اِلٰی صَاحِبِ الْغَنَمِ فَیَقُوْمُ عَلَیْہِ حَتّٰی یَعُوْدَ کَمَا کَانَ وَتَدْفَعَ الْغَنَمَ اِلٰی صَاحِبِ الْکَرْمِ فَیُصِیْبَ مِنْھَا حَتّٰی إِذَا عَادَ الْکَرْمَ کَمَا کَانَ دَفَعْتَ الْکَرْمَ اِلٰی صَاحِبِہِ وَدَفَعْتَ الْغَنَمَ اِلٰی صَاحِبِھَا قَال اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : (فَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ ۚ وَكُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا ) ” یہ انگور کی بیلیں تھیں جن کے گچھے نکل چکے تھے، جنھیں بھیڑ بکریوں نے اجاڑ دیا تھا۔ فرماتے ہیں کہ داؤد (علیہ السلام) نے فیصلہ فرمایا کہ بھیڑ بکریاں انگور کی بیلوں کے مالک کو دے دی جائیں، تو سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : ” اے اللہ کے نبی ! اس کا فیصلہ اور ہے۔ “ انھوں نے پوچھا : ” وہ کیا ہے ؟ “ عرض کی : ” آپ انگور کی بیلیں بھیڑ بکریوں والے کے حوالے کردیں، وہ ان کی نگہداشت کرے جب تک وہ دوبارہ پہلے جیسی نہ ہوجائیں اور بھیڑ بکریاں انگور کی بیلوں والے کے حوالے کردیں وہ اس وقت تک ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور جب انگوروں کی بیلیں پہلی حالت پر لوٹ آئیں تو آپ انگوروں کی بیلیں اس کے مالک کے سپرد اور بھیڑ بکریاں اس کے مالک کے سپرد کردیں۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” تو ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے ہر ایک کو حکم اور علم عطا کیا۔ “ ابن کثیر کے محقق دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا : ” حاکم نے اسے روایت کرکے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ [ مستدرک : ٢؍ ٥٨٨، ح : ٤١٣٨ ] (اس سند میں ابو اسحاق کی تدلیس موجود ہے) ۔ “ دکتور حکمت بن بشیر لکھتے ہیں : ” طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد کا یہی قول نقل فرمایا ہے اور قتادہ اور ابن زید کا یہی قول صحیح سند کے ساتھ مسند عبد الرزاق میں بھی مروی ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم داؤد اور سلیمان کے فیصلے کے وقت حاضر تھے، یعنی ہمیں اس کی ایک ایک جزئی کا پورا علم ہے۔ اگرچہ ابن مسعود (رض) نے یہ تفسیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سننے کی صراحت نہیں کی، تاہم واقعہ کی صورت وہی معلوم ہوتی ہے جو انھوں نے بیان کی ہے۔ اس لیے بھی کہ بائبل میں اس واقعہ کا ذکر نہیں اور نہ یہ یہودی لٹریچر میں معروف ہے اور پھر عبداللہ بن مسعود (رض) اسرائیلیات بیان کرنے میں معروف بھی نہیں ہیں۔ 3 داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) دونوں میں سے ہر ایک کا فیصلہ ان کا اجتہاد تھا، کیونکہ اگر وہ وحی سے ہوتا تو داؤد (علیہ السلام) کے فیصلے کے بعد اور فیصلے کی گنجائش نہ ہوتی۔ انبیاء بھی اجتہاد فرماتے ہیں مگر ان کے اجتہاد اور دوسرے لوگوں کے اجتہاد میں یہ فرق ہے کہ انبیاء کے اجتہاد میں اگر کوئی خطا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کردیتا ہے، جیسا کہ یہاں سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلے کے ساتھ اس کی اصلاح فرما دی اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمایا : (عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ ۚ لِمَ اَذِنْتَ ) [ التوبۃ : ٤٣ ] ” اللہ نے تجھے معاف کردیا، تو نے انھیں کیوں اجازت دی۔ “ اور فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ ) [ التحریم : ١ ] ” اے نبی ! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے ؟ “ اگر کسی بات پر اللہ تعالیٰ خاموشی اختیار فرمائے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی موافقت کی وجہ سے حق ہوتی ہے اور وحی کا حکم رکھتی ہے، یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : ( وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ۝ۭاِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى) [ النجم : ٣، ٤ ] کا۔ انبیاء ( علیہ السلام) کے سوا کسی مجتہد کی خطا کی بذریعہ وحی اصلاح نہیں ہوتی، اس لیے ان کے اجتہادات شریعت میں حجت نہیں ہیں۔ 3 مسئلہ : اگر کسی کے جانور دن کے وقت کسی دوسرے کے کھیت یا باغ کو چر جائیں تو جانور والے پر کوئی تاوان نہیں ہے اور اگر رات کے وقت چر جائیں تو جس قدر نقصان ہو اس قدر تاوان جانور والے کے ذمے ہوگا، جیسا کہ براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ میری ایک اونٹنی تھی جو بہت نقصان کیا کرتی تھی، ایک دفعہ وہ ایک باغ میں داخل ہوگئی اور وہاں نقصان کردیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا : ” دن کے وقت باغات کی نگرانی اور حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت جانوروں کی نگرانی ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت جانور جو نقصان کر جائیں تو وہ ان کے مالکوں کے ذمے ہے (کہ اسے پورا کریں) ۔ “ [ أبو داوٗد، الإجارۃ، باب المواشی تفسد زرع قوم : ٣٥٧٠۔ ابن ماجہ : ٢٣٣٢۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ١؍٢٣٧، ح : ٢٣٨ ] بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جانور والے پر کسی صورت تاوان نہیں ہے اور دلیل میں ” اَلْعَجْمَاءُ جُرْحُھَا جُبَارٌ“ (جانور کا کسی کو زخمی کردینا معاف ہے) پیش کرتے ہیں، حالانکہ اس حدیث میں صرف زخم کے معاف ہونے کا ذکر ہے، کھیت کے نقصان کے معاف ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا براء بن عازب (رض) والی حدیث میں اور اس میں کوئی تعارض نہیں ہے کہ براء (رض) کی حدیث کو منسوخ کہا جائے۔ (قرطبی) 3 اس آیت سے اس حدیث کی تائید ہوتی ہے جو عمرو بن العاص (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَھَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَہٗ أَجْرَانِ وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَھَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَہٗ أَجْرٌ ) [ بخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب أجر الحاکم إذا اجتھد۔۔ : ٧٣٥٢ ] ” جب حاکم فیصلہ کرے اور پوری کوشش کرے، پھر درست فیصلہ کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب وہ فیصلہ کرے اور پوری کوشش کرے، پھر خطا کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ”ڎفَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ “ (ہم نے وہ فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا) کہہ کر سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلے کی تائید فرمائی، مگر داؤد اور سلیمان دونوں کے متعلق فرمایا : (ۚ وَكُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا ) کہ ہم نے ہر ایک کو حکم اور علم عطا کیا۔ 3 ابوہریرہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سلیمان (علیہ السلام) کے کمال فہم و ذکاوت کا ایک اور واقعہ روایت کیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( کَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَھُمَا ابْنَاھُمَا جَاء الذِّءْبُ فَذَھَبَ بابْنِ إِحْدَاھُمَا فَقَالَتْ صَاحِبَتُھَا إِنَّمَا ذَھَبَ بابْنِکِ ، وَقَالَتِ الْأُخْرَی إِنَّمَا ذَھَبَ بابْنِکِ ، فَتَحاکَمَتَا إِلٰی دَاوٗدَ فَقَضَی بِہِ لِلْکُبْرٰی، فَخَرَجَتَا عَلٰی سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوٗدَ عَلَیْھِمَا السَّلاَمُ فَأَخْبَرَتَاہٗ فَقَالَ اءْتُوْنِيْ بالسِّکِّیْنِ أَشُقُّہُ بَیْنَھُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرٰی لاَ تَفْعَلْ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ ، ھُوَ ابْنُھَا، فَقَضَی بِہِ لِلْصُّغْرٰی ) [ بخاري، الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : ( ووھبنا لداوٗد سلیمان ۔۔ ) : ٣٤٢٧۔ مسلم : ١٧٢٠۔ نسائی : ٥٤٠٥ ] ” دو عورتیں تھیں جن کے پاس ان کے بیٹے تھے۔ بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کے بیٹے کو لے گیا۔ وہ اپنی ساتھی عورت سے کہنے لگی کہ وہ تو تمہارا بیٹا لے گیا ہے۔ دوسری کہنے لگی، وہ تمہارا بیٹا ہی لے گیا ہے۔ چناچہ وہ دونوں فیصلے کے لیے داؤد (علیہ السلام) کے پاس گئیں۔ انھوں نے اس کا فیصلہ بڑی کے حق میں کردیا۔ دونوں جاتے ہوئے سلیمان بن داؤد ( علیہ السلام) کے پاس سے گزریں تو انھیں یہ بات بتائی، انھوں نے فرمایا : ” میرے پاس چاقو لاؤ، میں اسے دونوں کے درمیان چیر دوں۔ “ تو چھوٹی نے کہا : ” ایسا نہ کریں، اللہ آپ پر رحم کرے، یہ اسی کا بیٹا ہے۔ “ چناچہ انھوں نے اس کا فیصلہ چھوٹی کے حق میں کردیا۔ “ امام نسائی نے اس حدیث پر باب باندھا ہے کہ حاکم کے لیے گنجائش ہے کہ جو کام اس نے نہیں کرنا، اس کے متعلق کہے کہ میں ایسا کرتا ہوں، تاکہ حق واضح ہوجائے۔ 3 اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اوقات بیٹا باپ سے زیادہ بات سمجھ لیتا ہے، اس میں کفار عرب کے لیے بھی سبق ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رہنمائی کے باوجود آبا و اجداد کی رسوم چھوڑنے پر تیار نہ تھے اور ان مقلدین کے لیے بھی جنھوں نے چار اماموں کے بعد اجتہاد کا دروازہ قیامت تک کے لیے بند کردیا ہے۔ بتائیے اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فیض عام کی توہین اور کیا ہوگی ؟ وَّسَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ : اس سے پہلے ابراہیم اور نوح (علیہ السلام) کی خاطر آگ اور پانی کو مسخر کرنے کا ذکر فرمایا تھا۔ اب داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) دونوں پر مشترکہ نعمت حکم و علم کا ذکر کرنے کے بعد دونوں کو عطا کردہ نعمتیں الگ الگ ذکر فرمائیں۔ چناچہ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر اور پابند کردیا اور انھیں اتنی خوبصورت آواز عطا فرمائی کہ جب وہ اللہ کی کتاب زبور پڑھتے یا تسبیح کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ساتھ تسبیح کرتے۔ سورة سبا میں فرمایا : (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ) [ سبا : ١٠ ] ” اے پہاڑو ! اس کے ساتھ تسبیح کو دہراؤ اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا) ۔ “ سورة صٓ میں فرمایا : (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18؀ۙوَالطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً ۭ كُلٌّ لَّهٗٓ اَوَّابٌ ) [ ص : ١٨، ١٩ ] ” بیشک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ہمراہ مسخر کردیا، وہ دن کے پچھلے پہر اور سورج چڑھنے کے وقت تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی، جب کہ وہ اکٹھے کیے ہوتے، سب اس کے لیے رجوع کرنے والے تھے۔ “ سبحان اللہ ! وہ کیسا حسین منظر ہوگا جب اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی مصروف تسبیح ہوتے ہوں گے۔ بعض لوگوں نے پہاڑوں کی تسبیح کا مطلب داؤد (علیہ السلام) کی بلند اور سریلی آواز سے ان کا گونج اٹھنا اور پرندوں کی تسبیح سے مراد ان کا ٹھہر جانا قرار دیا ہے، مگر درحقیقت یہ پہاڑوں اور پرندوں کی ان کے ہمراہ تسبیح کو ناممکن سمجھ کر اس کا انکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیز داؤد (علیہ السلام) پر خاص نعمت کے طور پر ذکر فرمائی ہے، پہاڑوں کی گونج تو ہر بلند آواز سے پیدا ہوتی ہے، اچھی ہو یا بری، اس میں داؤد (علیہ السلام) کی خصوصیت کیا ہوئی ؟ اس لیے صحیح معنی یہی ہے کہ پہاڑ اور پرندے فی الواقع ان کے ہمراہ تسبیح کرتے تھے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٤٤) ۔ ۭ وَكُنَّا فٰعِلِيْنَ : یعنی تعجب مت کرو کہ وہ پہاڑ اور پرندے کیسے بولتے اور تسبیح کرتے تھے، یہ سب کچھ ہمارے کرنے سے ہوتا تھا۔ (کبیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ the goats of the people wandered therein grazing - 21:78). In Arabic language the word نَفَشَ (translated above as &wandering and grazing& ) means an animal getting into a field at night and damaging it.

خلاصہ تفسیر اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام کے قصہ) کا تذکرہ کیجئے جبکہ دونوں (حضرات) کسی کھیت کے بارے میں (جس میں غلہ تھا یا انگور کے درخت تھے کذا فی الدر المنثور) فیصلہ کرنے لگے جبکہ اس (کھیت میں کچھ لوگوں) کی بکریاں رات کے وقت جا پڑیں ( اور اس کو چر گئیں) اور ہم اس فیصلہ کو جو (مقدمہ والے) لوگوں کے متعلق ہوا تھا دیکھ رہے تھے سو ہم نے اس فیصلہ (کی آسان صورت) کی سمجھ سلیمان کو دے دی اور (یوں) ہم نے دونوں (ہی) کو حکمت اور علم عطا فرمایا تھا (یعنی داؤد (علیہ السلام) کا فیصلہ بھی خلاف شرع نہ تھا صورت مقدمہ کی یہ تھی کہ جس قدر کھیت کا نقصان ہوا تھا اس کی لاگت بکریوں کی قیمت کے برابر تھی۔ داؤد (علیہ السلام) نے ضمان میں کھیت والے کو وہ بکریاں دلوا دیں اور اصل قانون شرعی کا یہی مقتضا تھا جس میں مدعی یا مدعا علیہ کی رضا کی شرط نہیں مگر چونکہ اس میں بکری والوں کا بالکل ہی نقصان ہوتا تھا اس لئے سلیمان (علیہ السلام) نے بطور مصالحت کے جو کہ موقوف تھی جانبین کی رضا مندی پر یہ صورت جس میں دونوں کی سہولت اور رعایت تھی تجویز فرمائی کہ چند روز کے لئے بکریاں تو کھیت والے کو دی جاویں کہ ان کے دودھ وغیرہ سے اپنا گزر کرے اور بکری والوں کو وہ کھیت سپرد کیا جاوے کہ اس کی خدمت آب پاشی وغیرہ سے کریں جب کھیت پہلی حالت پر آجاوے کیھت اور بکریاں اپنے اپنے مالکوں کو دے دیجاوی۔ کذا فی الدر المنثور عن مرة و ابن مسعود و مسروق و ابن عباس و مجاہد و قتادہ و الزہری۔ پس اس سے معلوم ہوگیا کہ دونوں فیصلوں میں کوئی تعارض نہیں کہ ایک کی صحت دوسرے کی عدم صحت کو مققضی ہو اس لئے كُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا بڑھا دیا گیا) اور (یہاں تک تو کرامت عامہ کا ذکر تھا جو دونوں حضرات میں مشترک تھی آگے دونوں حضرات کی خاص خاص کرامتوں کا بیان ہے) ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ تابع کردیا تھا پہاڑوں کو کہ (ان کی تسبیح کے ساتھ) وہ (بھی) تسبیح کیا کرتے تھے اور (اسی طرح) پرندوں کو بھی (جیسا سورة سبا میں ہے يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ) اور (کوئی اس بات پر تعجب نہ کرے کیونکہ ان کاموں کے) کرنے والے ہم تھے (اور ہماری قدرت کا عظیم ہونا ظاہر ہے پھر ان معجزات میں تعجب ہی کیا ہے) اور ہم نے ان کو زرہ (بنانے) کی صنعت تم لوگوں کے (نفع کے) واسطے سکھلائی (یعنی) تاکہ وہ (زرہ) تم کو (لڑائی میں) ایک دوسرے کی زد سے بچائے (اور اس نفع عظیم کا مقتضا یہ ہے کہ تم شکر کرو) سو تم (اس نعمت کا) شکر کرو گے بھی (یا نہیں) اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کا تیز ہوا کو تابع بنادیا تھا کہ وہ ان کے حکم سے اس سر زمین کی طرف کو چلتی جس میں ہم نے برکت کر رکھی ہے (مراد ملک شام ہے جو ان کا مسکن تھا کذا فی الدر عن السدی ویدل علیہ عمارتہ بیت المقدس یعنی جب ملک شام سے کہیں چلے جاتے اور پھر آتے تو یہ آنا اور اسی طرح جانا بھی ہوا کے ذریعہ سے ہوتا تھا جیسا در منثور میں بروایت و تصحیح حاکم حضرت ابن عباس سے اس کی کیفیت مروی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) مع اعیان ملک کے کرسیوں پر بیٹھ جاتے پھر ہوا کو بلا کر حکم دیتے وہ سب کو اٹھا کر تھوڑی دیر میں ایک ایک ماہ کی مسافت قطع کرتی) اور ہم ہر چیز کو جانتے ہیں (ہمارے علم میں سلیمان کو یہ چیزیں دینے میں حکمت تھی اس لئے عطا فرمائی) اور بعضے بعضے شیطان (یعنی جن) ایسے تھے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لئے (دریاؤں میں) غوطے لگاتے تھے (تاکہ موتی نکال کر ان کے پاس لا دیں) اور وہ اور کام بھی اس کے علاوہ (سلیمان کے لئے) کیا کرتے تھے اور (گو وہ جن بڑے سرکش اور شریر تھے مگر) ان کے سنبھالنے والے ہم تھے (اس لئے وہ چوں نہیں کرسکتے تھے) معارف ومسائل نَفَشَتْ فِيْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ ، لفظ نفش کے معنی عربی لغت کے اعتبار سے یہ ہیں کہ رات کے وقت کوئی جانور کسی کے کھیت پر جا پڑے اور نقصان پہنچائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَدَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ اِذْ يَحْكُمٰنِ فِي الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِيْہِ غَنَمُ الْقَوْمِ۝ ٠ۚ وَكُنَّا لِحُـكْمِہِمْ شٰہِدِيْنَ۝ ٧٨ۤۙ داود داود اسم أعجميّ. ( د و د ) داؤد ) (علیہ السلام) یہ عجمی نام ہے اور عجمہ وعلمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے ) حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ حرث الحَرْث : إلقاء البذر في الأرض وتهيّؤها للزرع، ويسمّى المحروث حرثا، قال اللہ تعالی: أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 22] ، وتصوّر منه معنی العمارة التي تحصل عنه في قوله تعالی: مَنْ كانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ، وَمَنْ كانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيا نُؤْتِهِ مِنْها وَما لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ [ الشوری/ 20] ، وقد ذکرت في ( مکارم الشریعة) كون الدنیا مَحْرَثا للناس، وکونهم حُرَّاثاً فيها وكيفية حرثهم «1» . وروي : «أصدق الأسماء الحارث» «2» وذلک لتصوّر معنی الکسب منه، وروي : «احرث في دنیاک لآخرتک» «3» ، وتصوّر معنی التهيّج من حرث الأرض، فقیل : حَرَثْت النّار، ولما تهيّج به النار محرث، ويقال : احرث القرآن، أي : أكثر تلاوته، وحَرَثَ ناقته : إذا استعملها، وقال معاوية «4» للأنصار : ما فعلت نواضحکم ؟ قالوا : حرثناها يوم بدر . وقال عزّ وجلّ : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ [ البقرة/ 223] ، وذلک علی سبیل التشبيه، فبالنساء زرع ما فيه بقاء نوع الإنسان، كما أنّ بالأرض زرع ما به بقاء أشخاصهم، وقوله عزّ وجل : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ، يتناول الحرثین . ( ح ر ث ) الحرث ( ن ) کے معنی زمین میں بیج ڈالنے اور اسے زراعت کے لئے تیار کرنے کے پاس اور کھیتی کو بھی حرث کہاجاتا ہے ۔ قرآں میں ہے ؛۔ أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 22] کہ اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویری ہی جا پہنچو۔ اور کھیتی سے زمین کی آبادی ہوئی ہے اس لئے حرث بمعنی آبادی آجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ مَنْ كانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ، وَمَنْ كانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيا نُؤْتِهِ مِنْها وَما لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ [ الشوری/ 20] جو شخص آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہے اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے ۔ اور جو دنیا کی کھیتی کا کو خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا ۔ اور ہم اپنی کتاب مکارم الشریعہ میں دنیا کے کھیتی اور لوگوں کے کسان ہونے اور اس میں بیج بونے کی کیفیت تفصیل سے بیان کرچکے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے (72) اصدق الاسماء الحارث کہ سب سے سچا نام حارث ہے کیونکہ اس میں کسب کے معنی پائے جاتے ہیں ایک دوسری روایت میں ہے (75) اثرث فی دنیاک لآخرتک کہ اس دنیا میں آخرت کے لئے کاشت کرلو ۔ حرث الارض ( زمین کرنا ) سے تھییج بھڑکانا کے معنی کے پیش نظر حرثت النار کہا جاتا ہے میں نے آگ بھڑکائی اور جس لکڑی سے آگ کریدی جاتی ہے اسے محرث کہا جاتا ہے ۔ کسی کا قول ہے ۔ احرث القرآن یعنی قرآن کی خوب تحقیق سے کام لو ۔ حرث ناقتہ اونٹنی کو کام اور محنت سے دبلا کردیا ۔ حضرت معاویہ نے انصار سے دریافت کیا کہ تمہارے پانی کھیچنے والے اونٹ کیا ہوئے تو انہوں نے جواب دیا :۔ حرثنا ھا یوم بدر کہ ہم نے بدر کے دن انہیں دبلا کردیا ۔ اور آیت کریمہ ؛ نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ [ البقرة/ 223] تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ ۔ میں استعارۃ عورتوں کو حرث کہا ہے کہ جس طرح زمین کی کاشت پر افراد ا انسبائی بقا کا مدار ہے اس طرح نوع انسان اور اس کی نسل کا بقا عورت پر ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو ( برباد ) اور انسانوں اور حیوانوں کی ) نسل کو قابو کردے ۔ دونوں قسم کی کھیتی کو شامل ہے۔ نفش النَّفْشُ نَشْرُ الصُّوفِ. قال تعالی: كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ [ القارعة/ 5] ونَفْشُ الغَنَمِ : انْتِشَارُهَا، والنَّفَشُ بالفتح : الغَنَمُ المُنْتَشِرَةُ. قال تعالی: إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ [ الأنبیاء/ 78] والإِبِلُ النَّوَافِشُ : المُتَرَدِّدَةُ لَيْلًا فِي المَرْعَى بِلَا رَاعٍ. ( ن ف ش ) النفش ( ن ) کے معنی اون دھنکنے اور پھیلانے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ [ القارعة/ 5] جیسے دھنکی ہوئی ہوئی رنگ برنگ کی اون ۔ نفس الغنم رات کے وقت بکریوں کا بغیر چرا ہے کے ( چر نے کے لئے منتشر ہونا ۔ النفس ( بفتح لفا اسم وہ بکریاں جو ارت کو بغیر چرواہے کے چرنے کے لئے منتشر ہوگئی ہوں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ [ الأنبیاء/ 78] جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئیں الابل النوا فش رات کو بغیر چر واہا ہے کہ چرنے والے اونٹ ۔ غنم الغَنَمُ معروف . قال تعالی: وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُما [ الأنعام/ 146] . والغُنْمُ : إصابته والظّفر به، ثم استعمل في كلّ مظفور به من جهة العدی وغیرهم . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ [ الأنفال/ 41] ، فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالًا طَيِّباً [ الأنفال/ 69] ، والمَغْنَمُ : ما يُغْنَمُ ، وجمعه مَغَانِمُ. قال : فَعِنْدَ اللَّهِ مَغانِمُ كَثِيرَةٌ [ النساء/ 94] . ( غ ن م ) الغنم بکریاں ۔ قرآن پاک میں ہے : وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُما [ الأنعام/ 146] اور گائیوں اور بکریوں سے ان کی چربی حرام کردی تھی ۔ الغنم کے اصل معنی کہیں سے بکریوں کا ہاتھ لگنا ۔ اور ان کو حاصل کرنے کے ہیں پھر یہ لفظ ہر اس چیز پر بولا جانے لگا ہے ۔ جو دشمن یا غیر دشمن سے حاصل ہو ۔ قرآن میں ہے : وَاعْلَمُوا أَنَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ [ الأنفال/ 41] اور جان رکھو کہ جو چیز تم کفار سے لوٹ کر لاؤ ۔ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالًا طَيِّباً [ الأنفال/ 69] جو مال غنیمت تم کو ہے اسے کھاؤ کہ تمہارے لئے حلال طیب ہے ۔ المغنم مال غنیمت اس کی جمع مغانم آتی ہے ۔ قرآن پاک میں ہے ۔ فَعِنْدَ اللَّهِ مَغانِمُ كَثِيرَةٌ [ النساء/ 94] سو خدا کے پاس بہت سی غنیمتں ہیں ۔ شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول : أشهد . والثاني يجري مجری القسم، فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما، ( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو شہادت قبول ہوگی بلکہ اشھد ہی کہنا ضروری ہے ۔ ( 2) قسم کی جگہ پر آتا ہے چناچہ اشھد باللہ ان زید ا منطلق میں اشھد بمعنی اقسم ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے کہ قول باری (نفشت فیہ غنم القوم) کا مفہوم ہے کہ لوگوں کی بکریاں کھیت میں گھس گئی تھیں۔ معمر کہتے ہیں کہ زہری نے فرمایا : نفش صرف رات کے وقت ہوتا ہے اور ھمل دن کے وقت۔ “ قتادہ کا قول ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ یہ بکریاں کھیت والے اپنے قبضے میں کرلیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے صحیح فیصلہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو سمجھا دیا ۔ جب آپ کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے فیصلے کی خبر ملی تو آپ نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ کھیت والے ان بکریوں کو پکڑ لیں گے اور انہیں ایک سال تک اپنے قبضے میں رکھ کر ا ن کے دودھ ان کے بچوں اور ان کے اون سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ابو اسحاق نے مرہ سے اور انہوں نے مسروق سے قول باری (وداودو سلیماق) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ اگنور کی بیلوں کا کھیت تھی، رتا کے وقت بکریاں اس میں پھیل گئیں۔ کھیت والوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے پاس استغاثہ دائر کردیا، آپ نے فیصلہ دیا کہ بکریاں کھیت والوں کے حوالے کردی جائیں، پھر یہ لوگ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس سے گزرے اور ان سے اس فیصلے کا ذکر کیا۔ آپ نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ بکریاں کھیت والوں کے حوالے کردی جائیں گی۔ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے، بکریوں والے کھیت میں کام کریں گے یہاں تک کہ جب اس جیسی فصل تیا رکر لیں گے جو بکریوں کے چرجانے کے وقت تھی تو بکریاں ان کے حوالے کردی جائیں گی۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی (ففھمنا ھا سلیمان) علی بن زید نے حسن سے، انہوں نے احنف سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کے اس واقعہ کے سلسلے میں اس قسم کی روایت کی ہے۔ کسی کے مویشی کسی اور کے کھیت میں چر جائیں تو کیا فیصلہ ہوگا ؟ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ بعض حضرات کا قول ہے کہ اگر رات کے وقت بھیڑ بکریاں کسی شخص کا کھیت چر جائیں اور اسے اجاڑ دیں تو ان کے مالک پر اس نقصان کا تاوان عائد ہوگا لیکن اگر دن کے وقت بھیڑ بکریاں کھیت میں گھس کر فصل کو اجاڑ دیں تو مالک پر کوئی تاوان عائد نہیں ہوگا۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک ایسا واقعہ خواہ دن کے وقت پیش آئے یا رتا کے وقت مالک پر کوئی تاوان عائد نہیں ہوگا بشرطیکہ مالک نے ان جانوروں کو خود نہ بھیجا ہو۔ جو لوگ پہلے مسلک کے قائل ہیں انہوں نے حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے اس واقعہ سے استدلال کیا ہے۔ ان دونوں حضرات نے تاوان لینے پر اتفاق کیا تھا، ان کا استدلال اس روایت سے بھی ہے جسے ہمیں ابو دائود نے بیان کیا ہے، انہیں احمد بن محمد بن ثابت مروزی نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے زہری سے، انہوں نے حرام بن محیصہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے کہ حضرت براء بن عازب کی ایک اونٹنی کسی شخص کے باغ میں داخل ہوگئی اور اسے اجاڑ دیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا فیصلہ سنایا کہ اموال کے مالکوں پر دن کے وقت ان کی حفاظت لازم ہے اور مویشیوں کے مالکوں پر رات کے وقت انہیں باندھ کر رکھنا ضروری ہے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں محمود بن خالد نے ، انہیں ا لفریابی نے زہری سے، انہوں نے حرام بن محیصہ انصاری سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب سے، وہ کہتے ہیں کہ ان کی ایک منہ زور اور بد خواونٹنی تھی ایک دن وہ ایک باغ میں گھس گئی اور وہاں تباہی مچا دی۔ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلے میں گفتگو کی۔ آپ نے یہ فصلہ سنایا کہ باغ کے مالکوں کی ذمہ داری ہے کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت کریں اور مویشیوں کے مالکوں کی ذمہ داری ہے کہ رات کے وقت انہیں سنبھلایں یعنی باندھ کر رکھیں۔ اگر رات کے وقت کوئی چوپایہ کسی کا کچھ نقصان کرے گا تو اس کے مالک پر اس کا تاوان عائد ہوگا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ پہلی حدیث میں حرام بن محیصہ نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ حضرت براء بن عازب کی ایک اونٹنی تھی اور اس حدیث میں حرام بن محیصہ نے براہ راست حضرت براء سے روایت کی ہے، پہلی حدیث میں رات کے وقت چوپائے سے پہنچنے والے نقصان کے تاوان کا ذکر نہیں ہے اس میں صرف حفاظت کا ذکر ہے۔ یہ بات متن حدیث نیز اس کی سند میں اضطراب پر دلالت کرتی ہے۔ سفیان بن حسین نے زہری سے اور انہوں نے حرام بن محیصہ سے روایت کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی قسم کا کوئی تاوان عائد نہیں کیا آپ نے اس موقع پر آیت (وداود و سلیمان اذا بحکمان فی الحرث) کی تلاوت فرمائی تھی۔ اہل علم کے مابین اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) نے اس سلسلے میں جو فیصلہ سنایا تھا وہ اب منسوخ ہے۔ وہ اس طرح کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے بکریاں کھیت کے مالک کے حوالے کرنے کا فیصلہ دیا تھا جبکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان بکریوں سے پیدا ہونے والے بچے اور بکریوں کا اون اس کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنایا تھا اور مسلمانوں کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جس شخص کی بکریاں کسی کے کھیت میں گھس جائیں تو اس پر ان بکریوں کو نہ ان کے بچوں کو اور نہ ہی ان کا دودھ اور اون کھیت کے مالک کے حوالے کردینا واجب ہوتا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ دونوں فیصلے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لائی ہوئی شریعت کی بنا پر منسوخ ہوچکے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ واقعہ کئی احکام کو متضمن ہے، ایک یہ کہ بکریوں کے مالک پر تاوان و اجب ہوگیا، دوسرے یہ کہ تاوان کی کیفیت بیان کردی گئی۔ تاوان کی کیفیت تو منسوخ ہوگئی لیکن نفس تاوان منسو خ نہیں ہوا اس کے نسخ کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی ایک حدیث کی بنا پر تاوان کے نسخ کا ثبوت بھی مہیا ہوگیا ہے اس حدیث کو اہل علم نے قبول کر کے اس پر عمل بھی کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ اور ہزیل بن شرحبیل نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (العجاء جبار چوپائے کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کا کوئی تاوان نہیں) بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں (جرح العجماء جبار چوپائے کے لگائے ہوئے زخم کا کوئی تاوان نہیں) اس حدیث پر عمل پیرا ہونے میں فقہاء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے یعنی اگر کوئی چوپایہ رسی تڑا کر بھاگ نکلے اور کسی انسان یا مال کو نقصان پہنچا دے تو اس کے مالک پر کوئی تاوان عائد نہیں ہوگا بشرطیکہ مالک نے خود اسے نہ چھوڑا ہو جب اس حدیث پر سب کے نزدیک عمل ہوتا ہے اور اس کا عموم دن اور رات کے دوران پہنچنے والے نقصان کے تاوان کی نفی کرتا ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے واقعہ کے سلسلہ میں جس حکم کا ذکر کیا گیا ہے وہ اب منسوخ ہے نیز حضرت بزء بن عازب کے واقعہ کے سلسلے میں رات کی صورت میں تاوان کے ایجاب کا جو ذکر ہے وہ بھی منسوخ ہے۔ تاوان کے موجب تمام اسباب میں رات یا دن کے لحاظ سے تاوان کے ایجاب یا اس کی نفی کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ جب سب کا اس پر اتفاق ہوگیا کہ دن کے وقت چوپائے کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کا کوئی تاوان نہیں تو اس سے یہ ضروی ہوگیا کہ رات کے وقت کا حکم بھی ایسا ہی ہو۔ حضرت براء بن عازب کی روایت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تاوان واجب کردیا تھا۔ ممکن ہے کہ آپ نے تاوان صرف اس لئے واجب کردیا ہو کہ خود مالک نے اونٹنی کو ادھر جانے کے لئے کھول دیا تھا۔ سب کو یہ بات معلوم ہے کہ رتا کے وقت مویشیوں کو فصلوں اور باغات کے درمیان ہانک کرلے جانے کی صورت میں کچھ جانوروں کا فصلوں میں گھس جانا یقینی ہوتا ہے خواہ ہانک کرے جانے والے کو اس کا علم نہ بھی ہو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس روایت کے ذریعے ایسے ہی مویشیوں کا حکم بیان کردیا جب ان کی وجہ سے کسی کھیت اور فصل کو نقصان پہنچ گیا ہو اس روایت کا فائدہ یہ ہوا کہ اس کے ذریعے مویشیوں کو فصلوں کے بیچ سے ہانک کرلے جانے اور انہیں فصلوں میں چھوڑنے کی صورت میں تاوان واجب ہوجائے گا خواہ ہانکنے والے کو اس کا علم بھی نہ ہو، اس صورت میں علم ہوجانے اور نہ ہونے کی دونوں حالتوں کا حکم یکساں ہوگا۔ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا واقعہ بھی اسی نوعیت کا ہو کہ مالک نے رات کے وقت ان بکریوں کو چھوڑا ہو اور ہانک کرلے جا رہا ہو کہ بکریاں کھیت میں پھیل گئی ہوں اور اسے اس کا علم نہ ہوا ہو اور پھر اسی وجہ سے دونوں حضرت نے مال کپر تاوان واجب کردیا ہو۔ جب اس واقعہ میں یہ احتمال پیدا ہوگیا تو اب اختلافی نکتے پر اس کی دلالت ثابت نہیں ہوگی۔ اجتہادی فیصلے اگر کوئی مجتہد کسی پیش آمدہ واقعہ کے متعلق اپنے اجتہاد کی روشنی میں کوئی حکم بیان کرتا ہے تو اس بارے میں اختلاف کرنے والے دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک گروہ کا قول ہے کہ حق ایک ہوتا ہے جبکہ دوسرے گروہ کا قول ہے کہ اس حکم سے اختلاف کرنے والے تمام لوگوں کے اقوال حق ہوتا ہے۔ یہ گروہ نے اپنے قول کے حق میں آیت سے استدلال کیا ہے۔ وہ اس طرح کہ جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ ایک کے قول میں ہوتا ہے ان کا خیال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا (ففھمنا سلیمان) تو اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو مسئلہ کے درست فہم کے ساتھ مخصوص کردیا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بات نہیں فرمائی۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کے نزدیک حق تک رسائی حاصل کرنے والے تھے، دائود (علیہ السلام) نہیں تھے کیونکہ اگر حق دونوں حضرات کے قول میں ہوتا تو پھر صرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تخصیص نہیں ہوتی اور حضرت دائود (علیہ السلام) کو نظر انداز کر کے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تخصیص کا کوئی معنی نہ ہوتا۔ دوسرا گروہ جو ہر مجتہد کی رائے اور اس کے لگائے ہوئے حکم کو درست سمجھتا ہے اس کا کہنا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے دیئے ہوئے فیصلے پر ا ن کی تعفیف نہیں کی اور نہ ہی انہیں مخطی قرار دیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ دونوں حضرات اپنے اپنے قول میں مصیب اور حق راس تھے۔ تفہیم کے ساتھ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تخصیص اس پر دلالت نہیں کرتی کہ حضرت دائود (علیہ السلام) غلطی پر تھے۔ وہ اس طرح کہ یہ کہنا درست ہے کہ حضرت سلیمان کو مطلوب کی حقیقت تک رسائی ہوگئی تھی اس لئے تفہیم کے ساتھ ان کی تخصیص کردی گئی اس کے برعکس حضرت دائود کو عین مطلوب تک رسائی نہیں ہوئی تھی اگرچہ انہیں جس چیز کا مکلف بنایا گیا تھا اس میں وہ مصیبت اور حق رسا تھے۔ بعض لوگوں کا یہ قول ہے کہ حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) دونوں نے بطریق نص فیصلہ سنایا تھا اس میں ان کے اجتہاد کو کوئی دخل نہیں تھا لیکن حضرت دائود نے قطعیت کے ساتھ حکم نہیں لگایا تھا اور نہ ہی انہوں نے اپنے اس فیصلے کو نافذ کیا تھا یا یہ کہ آپ کا یہ قول فتوی کے طور پر تھا اس فتویٰ پر مبنی فیصلے کو نافذ کرنے کے طورپر نہیں تھا یا یہ کہ فیصلہ ایک شرط کے ساتھ مشروط تھا جس کی ابھی تفصیل بیان نہیں ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعے اس فیصلے سے آگاہ کردیا جو فیصلہ انہوں نے اس جھگڑے کے سلسلے میں سنایا تھا اور اس کے ذریعے اس حکم کو منسوخ کردیا جس کے نفاذ کا حضرت دائود (علیہ السلام) ارادہ کئے ہوئے تھے۔ ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ آیت میں اس امر پر کوئی دلالت موجود نہیں کہ ان دونوں حضرات نے رائے اور اجتہاد کی بنیاد پر اپنے اپنے فیصلے سنائے تھے۔ ان کے نزدیک قول باری (ففھمنا ھا سلیمان) کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو ناسخ حکم کی تفہیم عطا کردی تھی۔ یہ قول ان حضرات کا ہے جو اس بات کے جواز کے قائل نہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اجتہاد اور رائے کی بنیاد پر حکم دیا کرتے تھے بلکہ ان کے نزدیک آپ نص کی بنیاد پر حکم لگایا کرتے تھے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٨) اور حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی ہم نے نبوت اور حکمت کے ساتھ اعزاز عطا کیا ان کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب کہ وہ کسی قوم کے انگوروں کے باغ کے بارے میں فصلہ کرنے لگے جس کھیت میں رات کے وقت کچھ لوگوں کی بکریاں چلی گئی تھیں اور اس کھیت کو کھا گئی تھیں، اور ہم حضرت داؤد (علیہ السلام) و سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلہ کو جاننے والے تھے

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٨ (وَدَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْکُمٰنِ فِی الْْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْہِ غَنَمُ الْقَوْمِ ج) ” کسی شخص نے اپنی کھیتی میں بڑی محنت سے فصل تیار کی تھی مگر کسی دوسرے قبیلے کی بکریوں کے ریوڑ نے کھیت میں گھس کر تمام فصل تباہ کردی۔ اب یہ مقدمہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی عدالت میں پیش ہوا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

31: واقعہ یہ ہوا تھا کہ ایک شخص کی بکریوں نے رات کے وقت دوسرے کے کھیت میں گھس کر ساری فصل تباہ کردی تھی۔ کھیت والا مقدمہ لے کر حضرت داود (علیہ السلام) کے پاس آیا۔ حضرت داود (علیہ السلام) نے فیصلہ یہ فرمایا کہ بکریوں کے مالک کا فرض تھا کہ وہ رات کے وقت بکریوں کو باندھ کر رکھتا، اور چونکہ اس کی غلطی سے کھیت والے کا نقصان ہوا اس لیے بکری والا اپنی اتنی بکریاں کھیت والے کو دے جو قیمت میں تباہ ہونے والی فصل کے برابر ہوں۔ یہ فیصلہ عین شریعت کے مطابق تھا، لیکن جب یہ لوگ باہر نکلنے لگے تو دروازے پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ میرے والد نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ انہوں نے بتا دیا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرے ذہن میں ایک اور صورت آ رہی ہے جس میں دونوں کا فائدہ ہے۔ حضرت داود (علیہ السلام) نے ان کی یہ بات سن لی تو انہیں بلا کر پوچھا کہ وہ کیا صورت ہے؟ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بکری والا کچھ عرصے کے لیے اپنی بکریاں کھیت والے کو دیدے جن کے دودھ وغیرہ سے کھیت والا فائدہ اٹھاتا رہے اور کھیت والا اپنا کھیت بکری والے کے حوالے کردے کہ وہ اس میں کھیتی اگائے، اور جب فصل اتنی ہی ہوجائے جتنی بکریوں کے نقصان پہنچانے سے پہلے تھی تو اس وقت بکریوں والا کھیت والے کو کھیت واپس کردے، اور کھیت والا اسے بکریاں واپس کردے۔ یہ ایک مصالحت کی صورت تھی جس میں دونوں کا فائدہ تھا، اس لیے حضرت داود (علیہ السلام) نے اسے پسند فرمایا، اور دونوں فریق بھی اس پر راضی ہوگئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧٨۔ ٨٢:۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے ایک قصہ کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ جب بنی اسرائیل میں طرح طرح کی نافرمانی پھیل گئی تو اس کی سزا میں ملک شام کے کئی شہر قوم عمالقہ کے بادشاہ مقرر جالوت نے بنی اسرائیل سے چھین لیے اس کے بعد بنی اسرائیل کے پیغمبر شمویل (علیہ السلام) نے طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کیا اور جالوت وطالوت کی لڑائی میں داود (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کیا اور شمویل کی وفات کے بعد نبوت ‘ بادشاہت یہ سب کچھ داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا ‘ دواد ‘ (علیہ السلام) کی بادشاہت کے زمانہ میں ایک شخص کی کھیتی دوسرے شخص کی بکریاں رات کو چرئیں ‘ جب یہ جھگڑا داؤد (علیہ السلام) کے روبرو پیش ہوا تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور عبداللہ بن مسعود کے قول کے موافق سلیمان (علیہ السلام) نے اس جھگڑے کا یہ فیصلہ کیا کہ وہ بکریاں کھیتی والے شخص کو ہمیشہ کے لیے بکری والے شخص سے دلاویں۔ اسی قوم کے موافق سلیمان (علیہ السلام) نے اس فیصلہ کا حال سن کر اپنی جگہ یہ کہا کہ اگر وہ کھیتی کی زمین بکری والے شخص کے حوالہ کی جاتی کہ وہ اس زمین میں زراعت کر کے کھیتی کو اس حالت پر پہنچا دیوے جس حالت پر وہ کھیتی بکریوں کے چرنے کے وقت پر تھی اور کھیتی کی زراعت کے اس حالت پر پہنچنے تک بکریاں کھیتی والے شخص کے قبضے میں رکھی جاتیں تو یہ فیصلہ اچھا تھا ‘ داؤد (علیہ السلام) کے کان تک جب سلیمان (علیہ السلام) کے اس فیصلہ کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے فیصلہ کو موقوف رکھ کر یہی سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ قائم رکھا ان ہی دونوں فیصلوں کا ذکر ان آیتوں میں فرما کر فرمایا کہ اگرچہ ان دونوں فیصلوں کا حال اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے داؤد ‘ (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) دونوں کو نبوت اور علم کی نعمت اپنے علم غیب کے موافق عطا کی ہے جس کا ظہور داؤد (علیہ السلام) کے حق میں تو ہوگیا اور سلیمان (علیہ السلام) کے حق میں ہونے والا ہے لیکن اس وقت بھی اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو سمجھایا ١ ؎ اس فیصلہ کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کی عمر گیارہ برس کی تھی۔ سورة النحل میں آوے گا کہ نبوت اور بادشاہت سلیمان (علیہ السلام) کو وراثت کے طور پر داؤد (علیہ السلام) کے بعد ملی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس فیصلہ کے زمانہ تک سلیمان (علیہ السلام) نبی نہیں تھے ہاں اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق آئندہ نبی ہونے والے تھے ‘ اسی واسطے فرمایا وُکُلّاَ َاٰتَیْنَا حُکْمًاوَّ علمًا جس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے حق میں تو اس کا ظہور ہوگیا اور سلیمان (علیہ السلام) کے حق میں ہونے والا ہے۔ اکثر سلف کا قول ہے کہ کوئی چوپایا رات کو کسی کھیت میں گھس جائے تو اس کو نفش کہتے ہیں اور دن کو گھس جائے تو اس کو ھمل کہتے ہیں اسی واسطے اکثر سلف نے نَفََشَتْ فِیْہِ غَنَمُ الْقَوْمِ کی تفسیر یہی کی ہے کہ وہ بکریاں رات کو کھیت میں گھس کئی تھیں ‘ مسند امام احمد ‘ ابوداود ‘ اور ابن ماجہ ‘ نسائی وغیرہ میں براء بن العازب (رض) سے روایت ہے ٢ ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ رات کو چوپایوں کا باندھ کر رکھنا چوپایوں کے مالکوں کے ذمہ ہے ‘ اس واسطے رات کو جو چوپا یہ کسی کا کچھ نقصان کرے گا تو اس کا بدلہ مالک سے دلایا جائے گا اگرچہ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے لیکن بعضے علماء کہتے ہیں کہ حرام بن محیصہ راوی کو براء بن العازب (رض) سے کسی حدیث کے سننے کا موقع نہیں ملا اس لیے اس حدیث کی سند پوری نہیں ہے ٣ ؎‘ نسائی کی سند میں بجائے حرام بن محیصہ کے سعید بن المسیب کا نام ہے جس سے یہ سند پوری ہوجاتی ہے ‘ لیکن رات دن کے فرق میں علماء کا اختلاف ہے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے ‘ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلہ کی تعریف جو فرمائی ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کی عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت ٤ ؎ میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ جو حاکم صحیح فیصلہ کرنے کی کوشش کرے اور بشریت کے تقاضا سے اس فیصلہ میں کوئی غلطی رہ جائے تو ایسے حاکم کو کوشش کے بدلہ میں اکہرا ثواب ملے گا اور جو حاکم صحیح فیصلہ کی کوشش بھی کرے گا اور اس کے فیصلہ میں غلطی بھی نہ رہے گی تو ایسے حاکم کو دوہرا ثواب ملے گا ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلہ میں دونوں باتیں تھیں اس لیے اس فیصلہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا سمجھایا ہوا فیصلہ فرمایا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کے موافق اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ داؤد (علیہ السلام) کے ذکر الٰہی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کریں وَکُنَّا فَاعِلِیْنَ اس کا مطلب یہ ہے کہ داؤد (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق یہ بات لوح محفوظ میں لکھی جاچکی تھی کہ پہاڑ اور پرندے داؤد (علیہ السلام) کے تابعدار رہیں گے۔ حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے کہ داؤد (علیہ السلام) کو لوہے کو آگ میں تپانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی بلکہ تاگے کی طرح لوہے کو ہاتھ سے بٹ کر کڑیوں کی زرہ بناتے تھے جو لڑائی کے وقت دشمن کے وار سے بچنے کے لیے کام آتی تھی ‘ پھر فرمایا لوگوں کو اس کا شکریہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ادا کرنا چاہئے کہ اس نے داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ سے زرہ کے بنانے کی حکمت دنیا میں پھیلا دی ‘ داؤد (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد ان کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے تابع کردیا تھا کہ وہ ان کے تخت کو مہینہ بھر کے راستہ کے شہر کو دوپہر تک پہنچا دیتی تھی اور پھر شام کو برکت کی زمین فرمایا ملک شام میں وہ اپنے تخت پر بیٹھ کر آجاتے تھے وَکُنَّا بِکُلِّ شَیْئً عَالِمِیْنَ اس کا مطلب وہی ہے جو وَکُنَّا فَاعِلِیْنَ کی تفسیر میں بیان کیا گیا ‘ سلیمان (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق یہ بات لوح محفوظ میں لکھی جاچکی تھی کہ ہوا اور جنات سلیمان (علیہ السلام) کے فرمانبردار رہیں گے اسی واسطے فرمایا ہوا کی طرح جنات کو بھی ان کا فرمانبردار کردیا تھا کہ وہ غوطہ لگا کر سمندر میں سے جواہرات نکالتے تھے اور طرح طرح کے اور کام بھی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے جنات کو اس طرح تھام رکھا تھا کہ وہ بنی آدم کو ستا نہیں سکتے تھے ‘ صحیح بخاری میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک سرکش جن رات کو میری نماز میں خلل ڈالنا چاہتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس پر غالب کردیا یہاں تک کہ میں نے اس کو پکڑ لیا ‘ مگر مجھ کو سلیمان (علیہ السلام) کی دعا یاد آگئی اس لیے میں نے اس کو چھوڑ دیا ‘ سلیمان (علیہ السلام) کی یہ دعا سورة ص میں آوے گی ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے خاص معجزہ کے طور پر جن ان کے تابع تھے ‘ اس خیال سے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جن کو چھوڑ دیا۔ سورة سبا کی تفسیر میں جنات کا ذکر ذرا تفصیل سے آوے گا ‘ جو ہوا سلیمان (علیہ السلام) کا تخت لے جاتی تھی ‘ وہ ظاہر میں تو دھیمی تھی ‘ آندھی نہیں تھی اور تاثیر میں ایسی تیز تھی کہ وہ دوپہر میں مہینہ بھر کا راستہ طے کرتی تھی اسی واسطے اس کو یہاں تو تیز فرمایا اور سورة سبا میں نرم فرمایا۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١٨٦ ج ٢ و تفسیر الدرالمنثور ص ٣٣٤ ج ٤ ) (٢ ؎ مشکوٰۃ مع تنقیح الرواۃ ص ١٨٨ ج ٢ باب الغصب والعاریۃ ) (٣ ؎ تنقیح الرواۃ صفحہ مذکورہ ) (٤ ؎ مشکوٰۃ ص ٣٢٤ باب العمل فی القضاء والخوف منہ۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:78) وداوٗد وسلیمن منصوب بوجہ فعل مضمر اذکر ہیں یا نوحا اذ نادی پر معطوف ہونے کی وجہ سے ۔ نوحا کے عامل کے یہ بھی معمول ہیں۔ اذ۔ داوٗد وسلیمن سے بدل اشتمال ہے۔ یحکمن۔ وہ دونوں فیصلہ کر رہے تھے۔ مضارع تثنیہ مذکر غائب۔ الحرث۔ الزرع۔ کھیتی۔ زراعت۔ حرث یحرث کا مصدر کا مصدر ہے اس کے معنی بیج ڈالنے اور کھیتی کرنے کے ہیں۔ کھیت کو بھی حرث کہتے ہیں۔ لفشت۔ ماضی واحد مؤنث غائب نفش مصدر۔ (باب نصر) النفش کے معنی اون دھنکنے اور پھیلانے کے ہیں جیسے قرآن مجید میں آیا ہے کالعہن المنفوش (102:5) جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون۔ نفش الغنم (رات کے وقت بکریوں کا چرواہے کے بغیر (چرنے کے لئے) منتشر ہونا النفش اسم۔ وہ بکریاں جو رات کو بغیر چرواہے کے چرنے کے لئے منتشر ہوگئی ہوں۔ اذ نفشت فیہ غنم القوم۔ جس میں رات کو کچھ لوگوں کی بکریاں چر گئیں۔ حکمہم۔ میں ہم ضمیر واحد مذکر غائب قوم کے لئے ہے یا اس کے مفہوم مقدر پر اہل حرث اور اہل غنم کے لئے۔ یا پھر داوٗد و سلیمان اور قوم تینوں کے لئے۔ یا یہ صرف دائود اور سلیمان کے لئے ہے اور تثنیہ کو تعظیما جمع لایا گیا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی اس آیت میں ھتی اذا جاء احدہم الموت قال رب ارجعون (23:99) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آ کھڑی ہوتی ہے (اس وقت ) کہتا ہے اے میرے پروردگار مجھے واپس بھیج دے۔ خطاب رب تعالیٰ سے ہے اور فعل بصیغہ واحد مذکر حاضر آنا چاہیے تھا لیکن آیت میں بطور جمع مذکر حاضر آیا ہے۔ حکمہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا حکم۔ ان کا فیصلہ۔ شھدین۔ دیکھنے والے۔ شہادت دینے والے۔ کنا شھدین۔ ہم دیکھ رہے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ۔ حضرت دائود اور سلیمان پیغمبر ہونے کے ساتھ فرمانروا بھی تھے۔ اس لئے رعایا کے مقدمات کا فیصلہ کرنا ان کے فرائض میں داخل تھا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کو تکالیف کے ذریعے آزمایا جس میں وہ سرخرو ہوئے لیکن حضرت داؤد اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اقتدار اور اختیار دے کر آزمایا جس میں باپ، بیٹا کامیاب ہوئے۔ اس لیے بادشاہ انبیاء کا ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کا دوسرے پارہ میں مختصر ذکر ہوچکا کہ وہ جالوت سے معرکہ آرائی میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرچکے تھے جس وجہ سے بنی اسرائیل میں وہ معزز سمجھے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ” اور خلیفۃ اللہ “ قرار دیا۔ آپ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یہودا کی نسل سے ہیں۔ ابن کثیر (رض) نے اپنی تاریخ میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا سلسہ نسب اس طرح بیان کیا ہے :۔ داؤدبن ایشا بن عوید بن عابر بن سلمون بن فحشون بن عویناذب بن ارم بن حصرون بن فرص بن یہودا بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تورات میں درج ہے کہ ایشا کے بہت سے بیٹے تھے حضرت داؤدان میں سب سے چھوٹے تھے۔ قرآن مجید میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا اسم گرامی سولہ مقام پر آیا ہے : البقرہ : ٢٥١ النساء : ١٦٣ المائدہ : ٧٨ الانعام : ٨٤ اسراء : ٥٥ الانبیاء : ٧٨ تا ٧٩ النمل : ١٥۔ ١٦ السبا : ١٠۔ ١٣ ص : ١٧ تا ٢٢۔ ٣٠ تا ٢٤ کل آیات : ١٥ حضرت داؤدد (علیہ السلام) سے پہلے بنی اسرائیل میں ایک خاندان سے حکمران ہوتا تھا اور دوسرے خاندان میں نبوت کا سلسلہ چلتا تھا۔ یہودا کے خاندان میں نبوت کا سلسلہ تھا اور افراہیم کے خاندان میں حکومت تھی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جن میں یہ دونوں نعمتیں یکجا کردی گئی تھیں وہ اللہ کے رسول بھی تھے اور صاحب تخت وتاج بھی۔ انبیاء کرام کی جماعت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے علاوہ کسی نبی کو ” خلیفۃ اللہ “ کے لقب سے یاد نہیں کیا گیا۔ سوائے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے وہ ایسے نبی ہیں جن کو خلیفۃ اللہ کا لقب دیا گیا۔ (ص : ٢٦) داؤد (علیہ السلام) کا اقتدار اور اختیار : (وَ اٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ ) [ البقرہ : ٢٥١] ” اور اللہ نے ان کو حکومت اور نبوت عطا کی اور جو علم چاہا وہ سکھایا۔ “ (وَکُلًّا اٰتَیْنَا حُکْمًا وَعِلْمًا) [ الانبیاء : ٧٩] اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو حکومت دی اور علم عطا کیا۔ ( یَا دَاوُوْدُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَۃً فِیْ الْأَرْضِ ۔۔ الخ) [ آ آیت ٢٦] ” اے داؤدہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ لہٰذا لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ حکومت کرنا اور اپنے نفس کی پیروی نہ کرنا۔ نفس کی پیروی اللہ کی راہ سے غافل کر دے گی۔ بیشک جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی اپنے فیصلے پر نظر ثانی : ایک مرتبہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں دو شخص حاضر ہوئے ان میں سے ایک نے کہا کہ میری تیار شدہ کھیتی کو اس کی بکریوں نے تباہ کردیا ہے دوسرے نے اس کا اعتراف کیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فیصلہ دیا کہ مدّعی کا نقصان مدّعی علیہ کی بکریوں کی قیمت کے برابر ہے لہٰذا تاوان کی صورت میں پوری کی پوری بکریاں مدّعی کو دے دی جائیں۔ سلیمان (علیہ السلام) ابھی کم عمر تھے اس وقت اپنے والد ماجد کے پاس بیٹھے تھے عرض کرنے لگے ابا جان آپ کا فیصلہ صحیح ہے مگر اس سے بھی زیادہ بہتر شکل یہ ہے کہ مدّعی علیہ کی بکریاں مدّعی کے سپرد کردی جائیں وہ اس کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور مدعی علیہ کو حکم دیا جائے کہ وہ اس عرصہ میں مدّعی کے کھیت کی خدمت انجام دے۔ جب کھیت کی پیداوار اپنی اصلی حالت پر آجائے تو کھیت مدعی کے سپرد کر کے اپنا ریوڑ واپس لے لے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بیٹے کی بات بہت پسند آئی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی قناعت پسندی حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حکومت و سلطنت بہت وسیع تھی اس کے باوجود مملکت کے مالیہ سے ایک درہم نہیں لیتے اور اپنا اور اہل و عیال کی معاش کا بوجھ بیت المال پر نہیں ڈالتے تھے اپنے ہاتھ کی کمائی سے حلال روزی حاصل کرتے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کسی انسان کا بہترین رزق اسکے ہاتھ کی محنت سے کمایا ہوا رزق ہے۔ اللہ کے نبی حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھ سے روزی کماتے تھے۔ (بخاری : کتاب التجارۃ) حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ٹیکنالوجی میں ترقی : (۔۔ وَ اَلَنَّالَہُ الْحَدِیْد اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ)[ السباء : ١٠-١١] ”۔۔ اور ہم نے داؤد کے لیے لوہا نرم کردیا کہ بنائیں زرہیں کشادہ جنگی آہنی لباس اور ان کے جوڑ میں مناسب انداز میں فاصلہ رکھیں اور نیک کام کریں میں خوب دیکھ رہا ہوں جو کچھ تم کررہے ہو۔ “ (وَعَلَّمْنَاہُ صَنْعَۃَ لَبُوسٍ لَکُمْ لِتُحْصِنَکُمْ مِنْ بَأْسِکُمْ فَہَلْ أَنْتُمْ شَاکِرُونَ ) [ الانبیاء : ٨٠] ” اور ہم نے داؤد کو سکھائی زرہ بنانے کی صنعت تمہارے نفع کے لیے تاکہ تم لڑائی کے موقع پر اس سے بچاؤ حاصل کرسکو پس کیا تم شکر گزار بنتے ہو ؟ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو لوہے کے استعمال پر قدرت عطا کی تھی اور خاص طور پر جنگی مقاصد کے لیے اسلحہ اور زرہ سازی کا طریقہ سکھایا تھا۔ موجودہ زمانے کی تاریخی واثری تحقیقات سے ان آیات کے معنی پر جو روشنی پڑتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ دنیا میں لوہے کے استعمال کا دور (Iron-Age) ١٢٠٠ اور ١٠٠٠ ق م کے درمیان شروع ہوا ہے اور یہی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ ہے۔ اول اول شام اور ایشیائے کوچک کی حِتّی قوم (Hittites) کو جس کے عروج کا زمانہ ٢٠٠٠ ق م سے ١٢٠٠ ق م تک رہا ہے، لوہے کے پگھلانے اور تیار کرنے کا ایک پیچیدہ طریقہ معلوم ہوا۔ وہ شدت کے ساتھ اس کو دنیا بھر سے راز میں رکھے رہی۔ مگر اس طریقے سے جو لوہا تیار ہوتا تھا وہ سونے چاندی کی طرح اتنا قیمتی ہوتا تھا کہ عام استعمال میں نہ آسکتا تھا۔ بعد میں فلستیوں نے بنی اسرائیل کو پیہم شکستیں دے کر انہیں فلسطین سے تقریباً بےدخل کردیا تھا، بائیبل کے بیان کے مطابق اس کے وجوہ میں سے ایک اہم وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ لوہے کی رتھیں استعمال کرتے تھے اور ان کے پاس دوسرے آہنی ہتھیار بھی تھے۔ ( یشوع، باب، ١٧، آیت ١٦، تضاۃ : باب، ١۔ آیت، ١٩، باب ٤ آیت، ٢۔ ١٣ ١٠٢٠ ق م) میں جب طالوت خدا کے حکم سے بنی اسرائیل کا فرمانروا ہوا تو اس نے پیہم شکستیں دے کر ان لوگوں سے فلسطین کا بڑا حصہ واپس لے لیا۔ اور پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) ١٠٠٤، ٩٦٥ ق م) نے نہ صرف فلسطین وشرق اردُن، بلکہ شام کے بھی بڑے حصے پر اسرائیلی سلطنت قائم کردی۔ اس زمانہ میں آہن سازی کا وہ راز جو حتیوں اور فلستیوں کے قبضے میں تھا بےنقاب ہوگیا اور صرف بےنقاب ہی نہ ہوا بلکہ آہن سازی کے ایسے طریقے بھی نکل آئے جن سے عام استعمال کے لیے لوہے کی سستی چیزیں تیار ہونے لگیں۔ فلسطین کے جنوب میں ادوم کا علاقہ خام لوہے (Iron ore) کی دولت سے مالا مال ہے اور حال میں آثار قدیمہ کی جو کھدائیاں اس علاقے میں ہوئی ہیں ان میں بکثرت ایسی جگہوں کے آثار ملے ہیں جہاں لوہا پگھلانے کی بھٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ عقبہ اور اَیَلہ سے متصل حضرت سلیمان کے زمانے کی بندرگاہ عِصْیُون جابر کے آثار قدیمہ میں جو بھٹی ملی ہے اس کے معائنے سے اندازہ کیا گیا ہے کہ اس میں بعض وہ اصول استعمال کیے جاتے تھے جو آج جدید ترین زمانے کی (BlastFurnace) میں استعمال ہوتے ہیں۔ اب یہ ایک قدرتی بات ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر اس جدید دریافت کو جنگی اغراض کے لیے استعمال کیا ہوگا۔ (تفہیم القرآن) تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں داؤد (علیہ السلام) کا ذکر خیر : ١۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو بادشاہت اور نبوت سے نوازا۔ ( البقرۃ : ٢٥١) ٢۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی۔ ( النساء : ١٦٣) ٣۔ داؤد (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی نافرمانی کی وجہ سے ان پر لعنت فرمائی۔ ( المائدۃ : ٧٨) ٤۔ داؤد (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ ( الانعام : ٨٤) ٥۔ اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا کیا۔ (ص : ٢٥) ٦۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی۔ (بنی اسرائیل : ٥٥) ٧۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو علم عطا فرمایا۔ (النمل : ١٥) ٨۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو فضل سے نوازا۔ (سبا : ١٠) ٩۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کو حمد و ثنا کے لیے مسخر کردیا۔ (الانبیاء : ٧٩) ١٠۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کی سلطنت مضبوط کی اور انہیں فیصلہ کن خطاب کا ملکہ دیا۔ ( ص ٢٨) ١١۔ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو داؤد کے تابع کیا۔ ( الانبیاء : ٧٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وداود و سلیمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا لھم حفظین (٨٧ : ٢٨) ” کھیت کا وہ کیا قصہ تھا جس کے بارے میں حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام نے فیصلہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ دو آدمی حضرت دائود کے پاس آئے۔ ایک کھیت کا مالک تھا یعنی فصل کا اور انگور کے باغ کا اور دوسرا بکریوں کا ۔ کھیت کے مالک نے کہا کہ اس شخص کی بکریاں رات کے وقت میرے کھیت میں پھیل گئیں اور انہوں نے سب کچھ کھالیا اور کھیت میں کچھ نہ رہا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے فیصلہ دیا کہ وہ باغ کے بدلے اس شخص کی بکریاں لے لے۔ بکریوں والے صاحب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئے اور ان کے سامنے قصہ دہرایا اور انہیں بتایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے تو یہ فیصلہ دے دیا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) والد کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی فیصلہ وہ نہیں ہے جو آپ نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا وہ کیسے ؟ انہوں نے کہا آپ یہ بکریاں کھیت یا باغ والے شخص کے حوالے کردیں تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے اور کھیت بکریوں کے مالک کو دے دیں تاکہ وہ کھیت میں کام کرے اور اسی حالت میں لے آئے جس طرح تھا۔ اس کے بعدہر شخص وہ چیز دوسرے کو دے دے جو اسکے پاس ہے۔ کھیت والا کھیت لے لے اور بکریوں والا بکریاں لے لے۔ تو حضرت دائود (علیہ السلام) نے کہا ‘ ٹھیک فیصلہ وہی ہے جو آپ نے کیا۔ انہوں نے سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلے کو نافذ کردیا۔ یاد رہے کہ حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام نے جج کے طور پر اجتہادی فیصلہ کیا تھا۔ اللہ بھی ان کے فیصلے کو دیکھ رہا تھا۔ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو زیادہ مناسب اور مضبوط فیصلہ الہام کردیا اور سلیمان اسے جس طرح سمجھے وہ زیادہ اچھا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے نقصان کا محض تاوان ادا کرنے کی طرف خیال کیا۔ یہ تھا فقط انصاف۔ لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عدل کے ساتھ تعمیر و ترقی کا بھی خیال رکھا اور عدل کے نتیجے میں فریقین کو تعمیر و ترقی کے کام پر لگا دیا۔ عدل کی یہ دوسری صورت زیادہ مثبت ‘ مفید اور تعمیری ہے اور یہ اللہ کی توفیق اور الہام ہے کہ وہ جسے چاہے دے دے۔ حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام دونوں کو حکم ‘ علم اور فیصلے کے اختیار ات تھے۔ وکلا اتینا حکما وعلما (١٢ : ٩٧) ” حکم اور علم ہم نے دونوں کو عطا کیا تھا “۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے فیصلے میں کوئی غلطی نہتھی لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ زیادہ اچھا تھا کیونکہ وہ الہام کے نتیجے میں ہوا تھا۔ اس کے بعد قرآن مجید ان مخصوص امور کا ذکر کرتا ہے جو حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام کو علیحدہ علیحدہ دیئے گئے تھے ‘ پہلے حضرت دائود علیہ السلام۔ وسخرنا۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا فعلین (١٢ : ٩٧) وعلمنہ صنعۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرون (١٢ : ٠٨) ” اور دائود کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا جو تسبیح کرتے تھے ‘ اس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے اور ہم نے اس کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی ‘ تاکہ تم کو ایک دوسرے کی مار سے بچائے ‘ پھر کیا تم شکر گزار ہو ؟ “ حضرت دائود (علیہ السلام) کے مزا میر مشہور ہیں۔ یہ اللہ کی حمد تھی جو وہ نہایت یہ خوش الحانی سے پڑھتے تھے۔ ان کی آواز کی گونج سے انکا ماحول بھر جاتا تھا اور انکے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی اسے دہراتے تھے۔ جب کسی بندے کا دل اپنے رب سے جڑ جاتا ہے تو وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ وہ اس پوری کائنات کے ساتھ یکجا ہوگیا ہے اور اس پوری کائنات کا دل میرے ساتھ دھڑکتا ہے اور وہ تمام رکاوٹیں اور پردے ہٹ جاتے ہیں جو اللہ کی مخلوقات کے مختلف انواع واجناس کے درمیان اس دوئی کے شعور کی وجہ سے فاصلے پیدا ہوجاتے ہیں۔ جب انسان اس مقام پر پہنچ جائے تو ان تمام انواع کے ضمیر اس کائنات کے ضمیر کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ بعض لمحات میں ایک ایسی روشنی سامنے آتی ہے کہ روح یہ محسوس کرتی ہے کہ وہ اس کائنات کے ساتھ ایک ہے۔ اس کے اندر سب کچھ آگیا ہے ‘ ایسے لمحات میں روح یہ نہیں محسوس کرتی کہ اس سے باہر بھی کچھ ہے۔ وہ یہ بھی محسوس نہیں کرتی کہ وہ اپنے ماحول سے علحدہ ہے۔ پورا ماحول روح انسانی میں گم اور انسان اپنے ماحول میں گم ہوجاتا ہے۔ نص قرآنی سے ہماری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) خوش الحانی سے حمد پڑھتے تھے تو وہ اپنے ممتزیز ‘ مفصل اور مخصوص مقام میں موجود نفس کو بھول جاتے تھے۔ ان کی روح اس سایہ ربی میں چلی جاتی تھی جو اس کائنات پر سایہ لگن ہے۔ اس پوری کائنات پر خواہ وہ جمامد مخلوق ہو یا زندہ ‘ اس طرح حضرت دائود محسوس کرتے ھتے کہ انکے ساتھ یہ پوری کائنات حمد خواں ہے۔ اور جس طرح وہ ثنا خواں ہیں اس طرح وہ بھی ثنا خواں ہے۔ پھر یوں محسوس ہوتا ہے کہ پوری کائنات ایک کورس کی شکل میں ‘ ایک گروپ کی طرح اللہ کی حمد و ثنا اور تسبیح و تہلیل گا رہی ہے۔ وان من شیئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تسبیحھم ” جو چیز بھی ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم اس کی تسبیح کو نہیں سمجھتے “۔ اور اس تسبیح کو وہی شخص سمجھتا ہے جس کے سامنے سے پردے ہٹ جائیں ‘ فاصلے مٹ جائیں اور وہ روح کا ئنات اور ارواح کون ومکان کے ساتھ چلتا ہو ‘ جو سب کی سب اللہ کی سمت میں رخ کیے ہوئے ہیں۔ وسخرنا۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا فعلین (١٢ : ٩٧) ” اور ہم نے دائود کے ساتھ پاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا جو تسبیح کرتے تھے اور اس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے “۔ اللہ کے لیے مشکل ہی کیا ہے ؟ یا کیا کوئی چیز اللہ کے حکم سے سرتابی کرسکتی ہے جب اللہ چاہے۔ چاہے وہ لوگوں کے ہاں ہوا کرتی ہے یا نہیں ہوا کرتی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ، ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس اکرام اور انعام کا تذکرہ فرمایا ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر فرمایا تھا۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے علم اور حکمت سے نوازا اور طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائیں۔ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑ اور پرندے مسخر فرما دئیے جو ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح میں مشغول رہتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا مسخر فرما دی اور جنات کو ان کا تابع کردیا۔ کھیت اور بکریوں کے مالکوں میں جھگڑا اور اس کا فیصلہ شروع میں ایک جھگڑے کا اور اس جھگڑے کے فیصلہ کا تذکرہ فرمایا جس کا واقعہ یوں ہے کہ دو شخص حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک شخص بکریوں والا اور دوسرا کھیتی والا تھا۔ کھیتی والے نے بکریوں والے پر یہ دعویٰ کیا کہ اس کی بکریاں رات کو چھوٹ کر میرے کھیت میں گھس گئیں اور کھیت کو بالکل صاف کردیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ بکریوں والا اپنی ساری بکریاں کھیت والے کو دے دے۔ یہ دونوں مدعی اور مدعا علیہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی عدالت سے واپس ہوئے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ تمہارے مقدمہ کا فیصلہ کیا ہوا ؟ دونوں فریق نے بیان کیا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر اس مقدمے کا فیصلہ میں کرتا تو فریقین کے لیے مفید اور نافع ہوتا۔ پھر خود والد صاحب حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر یہی بات عرض کی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے تاکید کے ساتھ دریافت کیا کہ وہ کیا فیصلہ ہے ؟ اس پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ آپ بکریاں تو سب کھیت والے کو دے دیں تاکہ وہ ان کے دودھ اور اون وغیرہ سے فائدہ اٹھاتا رہے اور کھیت کی زمین بکریوں والے کے سپرد کردیں۔ وہ اس میں کاشت کر کے کھیت اگائے۔ جب یہ کھیت اس حالت پر آجائے جس پر بکریوں نے کھایا تھا تو کھیت، کھیت والے کو اور بکریاں بکری والے کو واپس کردیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس فیصلہ کو پسند کیا اور فرمایا بس اب یہی فیصلہ رہنا چاہیے اور فریقین کو بلا کر یہ فیصلہ نافذ کردیا۔ اسی کو فرمایا (فَفَھَّمْنٰھَا سُلَیْمٰنَ ) (سو ہم نے یہ فیصلہ سلیمان کو سجھا دیا) (کُلًّا اٰتَیْنَاحُکْمًا وَّ عِلْمًا) (اور ہم نے دونوں کو حکمت اور علم عطا فرمایا) اس سے معلوم ہوا کہ فیصلے دونوں ہی کے درست تھے۔ صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں یعنی داؤد (علیہ السلام) کا فیصلہ بھی خلاف شرع نہ تھا۔ جس قدر کھیت کا نقصان ہوا تھا، اس کی لاگت بکریوں کی قیمت کے برابر تھی۔ داؤد (علیہ السلام) نے ضمان میں کھیت والے کو بکریاں دلوا دیں اور قانون کا یہی تقاضا تھا جس میں مدعی اور مدعی علیہ کی رضا شرط نہیں مگر چونکہ اس میں بکریوں والوں کا بالکل ہی نقصان ہوتا تھا اس لیے سلیمان (علیہ السلام) نے بطور مصالحت کے دوسری صورت تجویز فرما دی جو باہم جانبین کی رضا مندی پر موقوف تھی اور جس میں دونوں کی سہولت اور رعایت تھی کہ چند روز کے لیے بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں جو ان کے دودھ وغیرہ سے اپنا گزارا کرلے اور بکری والے کو وہ کھیت سپرد کردیا جائے جو بکریوں نے خراب کردیا تھا۔ وہ آب پاشی وغیرہ کرے جب کھیت پہلی حالت پر آجائے تو کھیت اور بکریاں ان کے اپنے اپنے مالکوں کو دے دی جائیں۔ کذا فی الدر المنثور عن ابن مسعود و مسروق و ابن عباس و مجاھد و قتادہ و الزھری۔ (ص ٣٢٤ ؍ ج ٤) اس سے معلوم ہوگیا کہ دونوں فیصلوں میں کوئی تعارض نہیں کہ ایک کی صحت دوسرے کی عدم صحت کو مقتضی ہو۔ اسی لیے (وَ کُلاًّ اٰتَیْنَا حُکْمًا وَّ عِلْمًا) بڑھا دیا۔ انتھی۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) دونوں آپس میں باپ بیٹے تھے۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ : حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بکریوں کے کھیتی خراب کرنے پر جو فیصلہ دیا ان کا یہ فیصلہ اجتہاد سے تھا اور بالآخر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے صلح کرا دینے سے حل ہوگیا۔ حدیث کی کتابوں میں ایک واقعہ مروی ہے۔ حضرت براء بن عازب (رض) کی ایک اونٹنی بعض لوگوں کے باغ میں داخل ہوگئی اور ان کا باغ خراب کردیا۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ دیا کہ اہل جانور جو زخمی کر دے اس کا کوئی ضمان نہیں۔ اہل اموال پر لازم ہے کہ دن میں اپنے اموال کی حفاظت کریں اور اہل مواشی پر لازم ہے کہ رات کو انہیں محفوظ رکھیں اور یہ کہ رات کو جو جانور کوئی نقصان کر دے جانوروں کے مالک اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ (رواہ ابو داؤد و فی آخر کتاب البیوع و ابن ماجہ فی ابواب الاحکام) اور ایک حدیث میں یہ وارد ہوا ہے کہ العجماء جرجھا جبار (رواہ البخاری) حضرات آئمہ کرام کے مذاہب معلوم کرنے کے لیے شرح حدیث اور کتب فقہ کی مراجعت کی جائے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ایک اور واقعہ : صحیح بخاری میں اس طرح مروی ہے کہ دو عورتیں کسی جگہ موجود تھیں۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اپنا اپنا ایک بیٹا بھی تھا۔ بھیڑیا جو آیا تو ایک کے لڑکے کو لے کر چلا گیا۔ ان میں سے ہر ایک دوسری سے یوں کہنے لگی کہ بھیڑیا تیرے بیٹے کو لے گیا اور یہ جو موجود ہے یہ میرا بیٹا ہے۔ اس مقدمہ کا فیصلہ کرانے کے لیے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ انہوں نے (اپنے طور پر غور و خوض اور اجتہاد کر کے) بڑی عورت کے حق میں فیصلہ کردیا۔ واپس ہو کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر گزریں اور انہیں پورے واقعہ کی خبر دی۔ انہوں نے فرمایا چھری لے آؤ۔ میں اس لڑکے کو کاٹ کر تم دونوں کو آدھا آدھا دے دیتا ہوں۔ یہ سن کر چھوٹی عمر والی کہنے لگی اللہ آپ پر رحم کرے ایسا نہ کیجیے۔ (میں اپنا دعویٰ واپس لیتی ہوں) میں تسلیم کرتی ہوں کہ وہ اسی کا لڑکا ہے۔ اس پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فیصلہ دے دیا کہ وہ لڑکا چھوٹی ہی کا ہے۔ (صحیح بخاری ص ٤٨٧) یہ کھیتی اور بکریوں والوں کا فیصلہ اور ان دو عورتوں کا فیصلہ جو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے دیا تھا، یہ دونوں وحی سے نہیں تھے، اجتہاد کے طور پر تھے۔ اس لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے اجتہاد سے دوسرا فیصلہ دے دیا جسے حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بھی تسلیم فرما لیا۔ اس آخری قصہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بچہ کو چھری سے کاٹنے والی جو بات کی یہ ایک تدبیر تھی جس سے انہوں نے حقیقت حال تک پہنچنے کا راستہ نکال لیا۔ جب یہ فرمایا کہ چھری لاؤ میں اسے کاٹ کر آدھا آدھا کردیتا ہوں تو بڑی خاموش رہ گئی اور چھوٹی گھبرا گئی اور اس نے کہا کہ میں یہ مانتی ہوں کہ یہ اسی کا لڑکا ہے۔ اس کے تڑپنے سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سمجھ لیا کہ یہ اسی کا بچہ ہے۔ اگر بڑی کا بچہ ہوتا تو وہ تڑپ اٹھتی۔ لیکن وہ چپکی کھڑی رہی جس سے معلوم ہوا کہ یہ بچہ چھوٹی کا ہے۔ لہٰذا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسی کے بارے میں فیصلہ فرما دیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا اقتدار، پہاڑوں اور پرندوں کا ان کے ساتھ تسبیح میں مشغول ہونا حضرت داؤد و سلیمان ( علیہ السلام) دونوں آپس میں باپ بیٹے تھے۔ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرمایا تھا اور مال و دولت سے بھی۔ اور اقتدار سے بھی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زبور شریف بھی عطا فرمائی۔ سورة ص میں ان کے ایک فیصلہ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا (یٰدَاوٗدُ اِِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاس بالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (اے داؤد ہم نے تم کو زمین پر حاکم بنایا ہے سو لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اور آئندہ بھی نفسانی خواہش کی پیروی مت کرنا کہ وہ اللہ کے راستہ سے بھٹکا دے گی) سورة نمل میں فرمایا (وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمَانَ عِلْمًا وَّقَالاَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہٖ الْمُؤْمِنِیْنَ وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاوٗدَ وَقَال آیاََیُّہَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَاُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ اِِنَّ ھٰذَا لَہُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ ) (اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا فرمایا اور ان دونوں نے کہا کہ تمام تعریف کا اللہ تعالیٰ ہی مستحق ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں میں فضیلت دی اور سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور انہوں نے کہا اے لوگو ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز میں سے دیا گیا ہے بلاشبہ یہ کھلا ہوا فضل ہے) ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے یہ شرف بھی بخشا تھا کہ پہاڑوں کو اور جانوروں کو مسخر فرما دیا تھا جو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول رہتے ہیں جس کا یہاں سورة انبیاء میں تذکرہ فرمایا ہے اور سورة سبا میں اور سورة ص میں بھی مذکور ہے۔ سورة سبا میں فرمایا (وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ وَ اَلَنَّالَہُ الْحَدِیْدَ ) (اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑی نعمت دی تھی۔ اے پہاڑو داؤد کے ساتھ بار بار تسبیح کرو اور پرندوں کو بھی حکم دیا اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا) اور سورة ص میں فرمایا (اِِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بالْعَشِیِّ وَالْاِِشْرَاقِ وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَۃً کُلٌّ لَہٗ اَوَّابٌ) (ہم نے پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام اور صبح تسبیح کیا کریں اور پرندوں کو بھی، جو جمع ہوجاتے تھے سب ان کی وجہ سے مشغول ذکر رہتے) ۔ احادیث شریف سے ثابت ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) بڑے خوش آواز تھے۔ اول تو ان کی خوش آوازی پھر اللہ کی تسبیح اور مزید اللہ تعالیٰ کا حکم سب باتیں مل کر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زبور پڑھتے وقت اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھتے وقت عجیب سماں بندھ جاتا تھا۔ اڑتے ہوئے پرندے وہیں ٹھہر جاتے اور تسبیح میں مشغول ہوجاتے تھے اور پہاڑوں سے بھی تسبیح کی آواز نکلتی تھی۔ اس میں خوش آوازی کی کشش بھی تھی اور معجزہ بھی تھا۔ سورة بقرہ کی آیت (وَ اِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ) کی تفسیر میں ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ جن چیزوں کو ہم جمادات اور بےجان سمجھتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول رہتی ہیں۔ ہم سے چونکہ وہ بات نہیں کرتے اور جاندار چیزوں کی طرح پیش نہیں آتے۔ اس لیے ہم انہیں محروم سمجھتے ہیں لیکن ان کا اپنے خالق ومالک سے جو تعلق ہے وہ ادراک اور شعور والا تعلق ہے۔ وہ سب اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں اور جب اللہ کی مشیت ہوتی ہے تو انہیں بولنے کی قوت بھی دے دی جاتی ہے۔ زرہ بنانے کی صنعت : حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اللہ جل شانہٗ نے ایک اور امتیازی انعام سے نوازا تھا اور وہ یہ کہ اللہ جل شانہٗ نے انہیں زرہ بنانا سکھایا تھا، پہلے زمانہ میں تلواروں سے جنگ ہوتی تھی تو مقابل کے حملہ سے بچنے کے لیے خود اور زرہ اور ڈھال استعمال کرتے تھے۔ ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہاتھ میں ڈھال لے کر دشمن سے لڑتے تھے۔ اور لوہے کی زرہ پہن لیتے تھے۔ یہ ایک قسم کا کرتہ ہوتا تھا جو لوہے سے بنایا جاتا تھا۔ اگر کوئی شخص تلوار کا وار کرتا تھا تو سر خود کے ذریعہ اور سینہ اور کمر زرہ کے ذریعہ کٹنے سے بچ جاتے تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) سے پہلے جو زرہیں بنائی جاتی تھیں وہ لوہے کی تختیاں ہوتی تھیں جنہیں کمر اور سینہ پر باندھ لیتے تھے۔ سب سے پہلے زرہ بنانے والے حضرت داؤد (علیہ السلام) ہیں۔ یہاں سورة الانبیاء میں فرمایا (وَ عَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ ) (اور ہم نے انہیں زرہ کی صنعت سکھا دی جو تمہارے لیے نفع مند ہے (لِتُحْصِنَکُمْ مِّنْ بَاْسِکُمْ ) (تاکہ وہ تمہیں ایک دوسرے کی زد سے بچائے) اور سورة سبا میں فرمایا (وَ اَلَنَّالَہُ الْحَدِیْدَاَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ) (اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا کہ تم پوری زرہیں بناؤ اور جوڑنے میں اندازہ رکھو، اور تم سب نیک کام کیا کرو بلاشبہ میں تمہارے سب اعمال کو دیکھنے والا ہوں) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہے کو نرم فرما دیا۔ وہ اپنی انگلیوں سے لوہے کے تار بنا لیتے تھے۔ پھر ان کے حلقے بناتے تھے اور ان حلقوں کو جوڑ کر زرہ بنا لیتے تھے۔ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) روزانہ ایک زرہ بنا لیتے تھے اور اسے چھ ہزار درہم میں فروخت کردیتے تھے جن میں دو ہزار اپنے اور اہل و عیال کی ضرورت کے لیے خرچ کرتے تھے اور چار ہزاردرہم بنی اسرائیل کو خبز الحواری یعنی میدہ کی روٹی کھلانے پر خرچ فرماتے تھے۔ (ص ٥٢٧، ج ٣) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے جو دو فیصلے اوپر مذکور ہوئے جن کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دوسرے فیصلے دیئے۔ ان سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ اگر کسی قاضی نے اپنے اجتہاد سے کوئی فیصلہ کردیا پھر اس کے خلاف خود اس کے اپنے اجتہاد سے یا کسی دوسرے حاکم یا عالم کے بتانے سے معلوم ہوجائے کہ فیصلہ غلط ہوا ہے تو اپنا فیصلہ واپس لے کر دوسرا صحیح فیصلہ نافذ کر دے۔ یہ اجتہاد کی شرط اس لیے لگائی گئی کہ نصوص قطعیہ کے خلاف فیصلہ حرام ہے اور نصوص شرعیہ کے ہوتے ہوئے اجتہاد کرنا بھی حرام ہے۔ امام دارقطنی (رح) نے اپنی سنن میں حضرت عمر (رض) کا ایک خط نقل کیا ہے جو امور قضا سے متعلق ہے۔ وہ خط ذیل میں درج کیا جاتا ہے جو حکام اور قضاۃ کے لیے ایک دستور کی حیثیت رکھتا ہے۔ عن سعید بن ابی بردۃ و اخرج الکتاب فقال ھذا کتاب عمر، ثم قری علی سفیان من ھاھنا الی ابی موسیٰ الاشعری، اما بعد فان القضاء فریضۃ محکمۃ و سنۃ متبعۃ، فافھم اذا ادلی الیک، فانہ لا ینفع تکلم بحق لا نفاذ لہ آس بین الناس فی مجلسک ووجھک، وعدلک حتی لا یطمع شریف فی حیفک، ولا یخاف ضعیف جورک، البینۃ علی من ادعی، والیمین علی من انکر، الصلح جائز بین المسلمین، الا صلحا احل حراما او حرم حلالا، لا یمنعک قضاء قضیتہ بالامس راجعت فیہ نفسک وھدیت فیہ لرشدک ان تراجع الحق، فان الحق قدیم، و ان الحق لا یبطلہ شیء، و مراجعۃ الحق خیر من التمادی فی الباطل، الفھم الفھم فیما یختلج فی صدرک، ممالم یبلغک فی القرآن والسنۃ، اعرف الامثال والاشباہ، ثم قس الامور عند ذلک، فاعمد الی احبھا الی اللّٰہ، و اشبھھا بالحق فیما تری، واجعل للمدعی امدا ینتھی الیہ، فان احضر بینۃ والا وجھت علیہ القضاء فان ذالک اجلی للعمی، وابلغ فی العذر، المسلمون عدول بینھم بعضھم علی بعض، الا مجلودا فی حدا و مجربا فی شھادۃ زور، او ظنینا فی ولا او قرابۃ، فان اللّٰہ تولی منکم السرائر، ودرا عنکم بالبینات، ثم ایاک والضجر والفلق والتادی بالناس، والتنکر للخصوم فی مواطن الحق التی یوجب اللّٰہ بھا الاجر ویحسن بھا الذکر، فانہ من یخلص بینۃ فیما بینہ و بین اللّٰہ، یکفہ اللّٰہ مابینہ و بین الناس، و من تزین للناس بما یعلم اللّٰہ منہ غیر ذلک، شانہ اللّٰہ۔ (٢) یہ خط امام دارقطنی نے کتاب الاقضیۃ والاحکام میں نقل کیا ہے۔ افادۃ للعوام اس کا ترجمہ لکھا جاتا ہے۔ حضرت سعید بن ابی بردہ نے ایک خط نکالا اور بیان کیا کہ یہ خط حضرت عمر (رض) کا ہے جو انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کو لکھا تھا۔ امابعد ! جان لینا چاہیے کہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک محکم فریضہ ہے اور ایک ایسا طریقہ ہے جسے اختیار کرنا ضروری ہے۔ سو تم یہ سمجھ لو کہ جب تمہارے پاس مقدمہ کوئی لے کر آئے تو جو حق فیصلہ ہو وہ نافذ کر دو ۔ کیونکہ وہ حق بات فائدہ نہیں دیتی جسے نافذ نہ کیا جائے۔ اپنی مجلس میں اور اپنے سامنے بٹھانے میں اور انصاف کرنے میں لوگوں کے درمیان برابری رکھو تاکہ کوئی صاحب حاجت یہ لالچ نہ کرے کہ اس کی وجہ سے دوسرے پر ظلم کر دو گے اور کوئی کمزور اس بات سے خائف نہ ہو کہ اس پر ظلم کر دو گے۔ گواہ مدعی پر ہیں اور قسم منکر پر ہے۔ مسلمانوں کے درمیان صلح کرنا جائز ہے لیکن ایسی کوئی صلح نہیں ہوسکتی جو حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دے۔ کل جو کوئی فیصلہ تم کرچکے ہو اور اس کے بعد صحیح بات سمجھ میں آگئی تو حق کی طرف رجوع کرنے سے تمہارا سابق مانع نہ بن جائے۔ کیونکہ حق اصل چیز ہے اور حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرسکتی۔ حق کی طرف رجوع کرنا باطل پرچلتے رہنے سے بہتر ہے۔ جو چیز تمہارے سینہ میں کھٹکے اسے خوب سمجھنے کی کوشش کرو۔ اگر یہ ان چیزوں میں سے ہو جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں سے کوئی بات نہیں پہنچی (اگر قرآن و حدیث کی بات موجود ہو پھر اسی پر عمل کرنا لازم ہو) تو امثال و اشباہ کو پہچانو۔ پھر ان پر دوسری چیزوں کو قیاس کرو اور ان میں جو چیز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہو اور جو تمہارے نزدیک سب سے زیادہ حق کے مشابہ ہو اس کے مطابق فیصلہ کرنا اور مدعی کے لیے ایک مدت مقرر کر دو جس میں وہ اپنے گواہ لے آئے۔ اگر گواہ حاضر کر دے تو قانون کے مطابق فیصلہ کر دو ۔ اگر وہ گواہ نہ لائے تو اس کے خلاف فیصلہ دے دو ۔ گواہ لانے کے لیے مدت مقرر کرنا یہ نامعلوم حقیقت کو زیادہ واضح کرنے والی چیز ہے اور اس میں صاحب عذر کو انجام تک پہنچانے کا اچھا ذریعہ ہے۔ مسلمان آپس میں عدول ہیں۔ ایک کی گواہی دوسرے کے بارے میں قبول کی جاسکتی ہے لیکن جسے حد قذف کی وجہ سے (یعنی تہمت لگانے پر) کوڑے لگائے ہوں یا جس کے بارے میں تجربہ ہو کہ وہ جھوٹی گواہی بھی دیتا ہے یا کسی رشتہ داری کے معاملہ میں وہ متہم ہے (یعنی رشتہ داری کی رعایت کر کے جھوٹی گواہی دیتا ہے) تو ایسے لوگوں کی گواہی قبول نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ سب کی پوشیدہ باتیں اور پوشیدہ ارادے جانتا ہے۔ (وہ اس کے مطابق فیصلے کرے گا اور اس دنیا میں مخلوق کے درمیان گواہوں پر فیصلے رکھ دیئے ہیں) گواہ جھگڑوں کو ختم کرنے والے ہیں اور لوگوں کے آنے سے تنگ دل مت ہونا۔ تکلیف محسوس نہ کرنا اور پریشان نہ ہونا۔ جو لوگ فیصلے کرانے کے لیے آئیں ان سے الگ ہو کر مت بیٹھ جانا۔ ان کے فیصلے حق کے موافق کرنا کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ ثواب دیتا ہے اور لوگ اچھائی سے یاد کرتے ہیں جس کی نیت اللہ کے اور اس کے اپنے درمیان خالص ہو اللہ تعالیٰ ان مشکلات کی کفایت فرماتے ہیں جو لوگوں کے تعلقات کی وجہ سے پیش آتی ہیں اور جو شخص ظاہری طور پر اچھا بنے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ایسا نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے عیوب کو ظاہر فرما دیں گے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کی تسخیر (وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَۃً ) (الایتین) ان دونوں آیتوں میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اقتدار بیان فرمایا۔ ان کی حکومت نہ صرف انسانوں پر تھی بلکہ ہوا اور جنات بھی ان کے تابع تھے۔ سورة ص میں فرمایا (قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لاَّ یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِیْ اِِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَ وَالشَّیٰطِیْنَ کُلَّ بَنَّآءٍ وَّغَوَّاصٍ وَّآخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ ) سلیمان نے دعا مانگی اے میرے رب میرا قصور معاف فرما اور مجھ کو ایسی سلطنت دے جو میرے بعد میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو۔ آپ بڑے دینے والے ہیں۔ سو ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا۔ وہ ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے نرمی سے چلتی اور جنات کو بھی ان کا تابع کردیا۔ یعنی تعمیر بنانے والوں کو بھی اور غوطہ خوروں کو بھی اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جو یہ دعا کی تھی کہ اے رب مجھے ایسی حکومت عطا فرمایئے جو میرے بعد اور کسی کو نہ دی جائے ان کی یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ انہیں جنات پر بھی اقتدار دے دیا اور ہوا بھی ان کے لیے مسخر فرما دی جو خوب تیزی سے چلتی تھی جو انہیں اور ان کے لشکروں کو ذرا سی دیر میں دراز مسافت پر پہنچا دیتی تھی اور ان کے حکم کے مطابق چلتی تھی۔ کبھی خوب تیز جسے سورة الانبیاء میں عاصفۃ سے تعبیر فرمایا اور کبھی آہستہ جسے سورة ص میں رخاء سے تعبیر فرمایا۔ اس کی تیز رفتاری کے بارے میں سورة سبا میں (غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّ رَوَاحُھَا شَھْرٌ) فرمایا ہے۔ جب آپ کو کہیں جانا ہوتا تو ہوا آپ کو اور آپ کے لشکر کو (جو انسانوں اور جنات اور پرندوں پر مشتمل ہوتا تھا) آپ کے حکم کے مطابق اسی منزل پر پہنچا دیتی تھی جہاں جانا ہوتا تھا۔ آپ شیاطین سے بھی کام لیتے تھے۔ شیاطین کو سزا بھی دیتے تھے اور انہیں زنجیروں میں باندھ کر بھی ڈالتے تھے جس پر وہ چوں نہیں کرسکتے تھے۔ جنات سے وہ سمندروں میں غوطے لگانے کا کام بھی لیتے تھے۔ وہ ان کے حکم سے غوطے لگاتے تھے اور سمندر سے قیمتی چیزیں نکال کر لاتے تھے اور ان سے مکانات بھی تعمیر کراتے تھے۔ جیسا کہ سورة ص میں فرمایا (وَ الشَّیَاطِیْنَ کُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍ ) اور دیگر کاموں میں بھی استعمال کرتے تھے۔ جس کا ذکر سورة سبا میں فرمایا ہے۔ (یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَایَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رَّاسِیَاتٍ ) (وہ جنات ان کے لیے وہ وہ چیزیں بناتے تھے جو ان کو منظور ہوتا بڑی بڑی عمارتیں اور مورتیں اور لگن جیسے حوض اور دیگیں جو ایک ہی جگہ جمی رہیں) ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شیطان کو پکڑ لینا : ایک مرتبہ ایک سر کش جن کہیں سے چھوٹ کر آگیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے۔ اس جن نے کوشش کی کہ آپ کی نماز تڑوا دے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر قابو دے دیا۔ آپ نے اس کا گلا گھونٹ دیا۔ پھر صبح آپ نے صحابہ کرام کو اس کا یہ قصہ بتایا اور فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح ہو تو تم سب اسے دیکھو۔ پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آگئی۔ انہوں نے دعا کی تھی (رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لاَّ یَنْبَِغِیْ لِاَحَدٍ مّنْ بَعْدِیْ ) (لہٰذا میں نے اسے چھوڑ دیا) سو اللہ نے اسے ذلیل کرکے واپس لوٹا دیا۔ یہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے۔ (راجع صحیح البخاری ومسلم) اور حضرت ابو الدرداء (رض) کی روایت میں یوں ہے کہ اللہ کا دشمن ابلیس ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ میرے چہرہ پر ڈالے۔ میں نے تین مرتبہ اعوذ باللہ منک کہا تین بار العنک بلعنۃ اللہ التامۃ کہا۔ وہ اس پر نہ ہٹا تو میں نے چاہا کہ اسے پکڑ لوں۔ اللہ کی قسم اگر ہمارے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو میں اسے باندھ لیتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ صبح تک بندھا رہتا اور اس سے مدینہ کے بچے کھیلتے۔ (صحیح مسلم، ص ٢٠٥، ج ١) سانپوں کو حضرت نوح اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا عہد یاد دلانا سنن الترمذی میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم اپنے گھر میں سانپ دیکھو تو کہو انا نسئلک بعھد نوح و بعھد سلیمان بن داؤد ان لا توذینا (ہم تجھے وہ عہد یاد دلاتے ہیں جو تو نے نوح اور سلیمان بن داؤد ( علیہ السلام) سے کیا تھا کہ تو ہمیں تکلیف نہ دے) پھر اس کے بعد بھی ظاہر ہوجائے تو اسے قتل کر دو ۔ اور جب انسانوں پر اور جنات پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت تھی تو ظاہر ہے کہ ہر طرح کے جانوروں پر بھی تھی۔ ان میں زہریلے جانور بھی تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں سانپوں کے زہر اتارنے کے الفاظ کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ پر پیش کرو۔ چناچہ آپ پر پیش کیا گیا۔ آپ نے فرمایا کہ میرے نزدیک ان کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ اس معاہدہ کے الفاظ ہیں جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے زہریلے جانوروں سے لیا تھا۔ الفاظ یہ ہیں بسم اللہ شجۃ قرنیۃ ملحۃ بحر قفطا۔ (الدر المنثورص ٣٢٧، ج ٤)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

54:۔ ” وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ الخ “ یہ پانچویں تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ ہم نے داود و سلیمان کو علم و حکم دیا۔ جب وہ ایک جھگڑے کا فیصلہ کر رہے تھے ہم اس سے باخبر تھے۔ ” اِذْ نَفَشَتْ الخ “ یہ اس قضیے کی طرف اشارہ ہے ان کے زمانہ میں ایک شخص کی بکریاں رات کو دوسرے کے کھیت میں گھس گئیں اور اسے تباہ کرگئیں۔ کھیت کا مالک مقدمہ لے کر حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے پاس آیا اور سارا ماجرا سنایا انہوں نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا اور بکریاں اسے دلا دیں۔ جب مدعی اور مدعا علیہ واپس ہوئے تو راستہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ والد صاحب نے کیا فیصلہ فرمایا انہوں نے ذکر کیا تو کہا میرے خیال میں فیصلہ کی ایک اور صورت ہے جو دونوں کے حق میں بہتر ہے۔ حضرت داود کو اس کا علم ہوا تو انہیں بلایا اور ان سے پوچھا کہ تمہارے دل میں جو فیصلہ آیا ہے اسے بیان کرو حضرت سلیمان نے عرض کیا یہ میرا خیال ہے کہ بکریاں کھیت والے کے حوالے کی جائیں تاکہ وہ ان کے دودھ اور بالوں سے انتفاع کرے اور اجڑا ہوا کھیت بکریوں والے کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اس کی دیکھ بھال کرے جب کھیت اپنی پہلی حالت پر آجائے تو دونوں اپنی اپنی چیزیں واپس لے لیں۔ حضرت داود (علیہ السلام) کو یہ فیصہ بہت پسند آیا اور اسی کو نافذ فرما دیا۔ ” فَفَھَّمْنَا سُلَیْمٰنَ “ یعنی ہم نے زیادہ بہتر فیصلہ سلیمان کے فہم میں ڈال دیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(78) اور حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جبکہ وہ دونوں کسی کھیتی کے جھگڑے کا کہ اس کھیتی میں ایک قوم کی بکریاں رات میں گھس آئیں اور کھیتی کو خراب کرگئیں۔ یہ اس جھگڑے کا فیصلہ کرنے لگے اور ہم اس فیصلے کو جو ان لوگوں کے متعلق ہوا تھا دیکھ رہے تھے۔ یعنی فیصلے کے وقت ہم وہاں موجود تھے ایک باغبان تھا ایلیا اس کے باغ میں یوحنا چرواہے کی بکریاں یوحنا کی بیخبر ی سے گھس آئیں اور باغ کو خراب کرگئیں یہ مقدمہ پیش ہوا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے باغ والے کے نقصان میں یوحنا کی بکریاں ایلیا کو دلوادیں۔ چونکہ نقصان کی قیمت بکریوں کی قیمت کے برابر تھی اس لئے بطور ضمان بکریاں ایلیا کو دلوادیں۔ یعنی مفسرین نے بجائے باغ کے کھیت کا ذکر کیا ہے۔ بہرحال ! جب فیصلہ کے بعد مدعی اور مدعا علیہ باہر نکلے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) جو عدالت کے دروازے پر موجود رہا کرتے تھے انہوں نے دریافت کرکے فیصلہ معلوم کرلیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا اگر یہ مقدمہ میرے سپرد کیا جاتا تو میں اس کا فیصلہ اور طرح کرتا یہ اطلاع حضرت دائود (علیہ السلام) کو ملی تو انہوں نے سلیمان (علیہ السلام) کو بلاکر پوچھا کہ اگر یہ معاملہ تمہارے سپرد کیا جائے تو تم اس میں کیا فیصلہ کرو۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عرض کیا میں باغبان کو بکریاں دلائوں کہ وہ ان بکریوں کے دودھ سے فائدہ اٹھائے اور ان بکریوں سے بچے حاصل کرے اور یوحنا کو حکم دوں کہ وہ باغ کی آبیاری اور درستی کرے جب باغبان کا باغ اپنی اصلی حالت پر آجائے تو باغ یا کھیت اصل مالک کو لوٹا دے یعنی ایلیا کو دے دے اور ایلیا بکریاں اس کو واپس کردے۔ اس پر حضرت دائود (علیہ السلام) نے فرمایا فیصلہ یہی ہے۔ چنانچہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اسی طرح فیصلہ کردیا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے ایک شرعی فیصلہ کیا تھا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے صلح کا طریقہ اختیار کیا جیسا کہ حضرت مجاہد نے فرمایا ہے اس لئے دونوں فیصلوں میں کوئی تناقض یا منافات نہیں ہے اور نہ کسی کی اجتہاری غلطی ہے اور نہ ایک کی صحت دوسرے کی عدم صحت کو مستلزم ہے۔