Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 83

سورة الأنبياء

وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ﴿ ۸۳﴾ۚ ۖ

And [mention] Job, when he called to his Lord, "Indeed, adversity has touched me, and you are the Most Merciful of the merciful."

ایوب ( علیہ السلام ) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Prophet Ayub Allah tells: وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ ... And (remember) Ayub, when he cried to his Lord: "Verily, distress has seized me, and You are the Most Merciful of all those who show mercy."

آزمائش اور مصائب ایوب علیہ السلام حضرت ایوب علیہ السلام کی تکلیفوں کا بیان ہو رہا ہے جو مالی جسمانی اور اولاد پر مشتمل تھیں ان کے پاس بہت سے قسم قسم کے جانور تھے کھیتیاں باغات وغیرہ تھے اولاد بیویاں لونڈیاں غلام جائیداد اور مال ومتاع سبھی کچھ اللہ کا دیا موجود تھا ۔ اب جو رب کی طرف سے ان پر آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا یہاں تک کہ جسم میں جذام پھوٹ پڑا ۔ دل و زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا ۔ یہاں تک کہ آس پاس والے کراہت کرنے لگے ۔ شہر کے ایک ویران کونے میں آپ کو سکونت اختیار کرنی پڑی ۔ سوائے آپ کی ایک بیوی صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اور کوئی آپ کے پاس نہ رہا ، اس مصیبت کے وقت سب نے کنارہ کرلیا ۔ یہی ایک تھیں جو ان کی خدمت کرتی تھیں ساتھ ہی محنت مزدوری کرکے پیٹ پالنے کو بھی لایا کرتی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے ، پھر صالح لوگوں کا پھر ان سے نیچے کے درجے والوں کا پھر ان سے کم درجے والوں کا ۔ اور روایت میں ہے کہ ہر شخص کا امتحان اس کے دین کے انداز سے ہوتا ہے اگر وہ دین میں مضبوط ہے امتحان بھی سخت تر ہوتا ہے حضرت ایوب علیہ السلام بڑے ہی صابر تھے یہاں تک کہ صبر ایوب زبان زد عام ہے ۔ یزید بن میسرہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب آپ کی آزمائش شروع ہوئی اہل وعیال مرگئے مال فناہوگیا کوئی چیز ہاتھ تلے نہ رہی آپ اللہ کے ذکر میں اور بڑھ گئے کہنے لگے اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تونے مجھ پر بڑے احسان کئے مال دیا اولاد دی اس وقت میرا دل بہت ہی مشغول تھا اب تونے سب کچھ لے کرمیرے دل کو ان فکروں سے پاک کردیا اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہ رہا اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لیتا تو وہ مجھ پر بہت ہی حسد کرتا ابلیس لعین اس قول سے اور اس وقت کی اس حمد سے جل بھن کر رہ گیا ۔ آپ کی دعاؤں میں یہ بھی دعا تھی اے اللہ تونے جب مجھے توانگر اور اولاد اور اہل وعیال والا بنا رکھا تھا تو خوب جانتا ہے کہ اس وقت میں نے نہ کبھی غرور و تکبر کیا نہ کبھی کسی پر ظلم ستم کیا ۔ میرے پروردگار تجھ پر روشن ہے کہ میرا نرم و گرم بستر تیار ہوتا اور میں راتوں کو تیری عبادتوں میں گزارتا اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا کہ تو اس لئے پیدا نہیں کیا گیا تیری رضامندی کی طلب میں میں اپنی راحت وآرام کو ترک کردیا کرتا ۔ ( ابن ابی حاتم ) اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ایک بہت لمبا قصہ ہے جسے بہت سے پچھلے مفسیرین نے بھی ذکر کیا ہے ۔ لیکن اس میں غرابت ہے اور اس کے طول کی وجہ سے ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے ۔ مدتوں تک آپ ان بلاؤں میں مبتلا رہے ۔ حضرت حسن اور قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سات سال اور کئی ماہ آپ بیماری میں مبتلا رہے بنو اسرائیل کے کوڑے پھینکنے کی جگہ آپ کو ڈال رکھا تھا ۔ بدن میں کیڑے پڑگئے تھے پھر اللہ نے آپ پر رحم وکرم کیا تمام بلاؤں سے نجات دی اجردیا اور تعریفیں کیں ۔ وہب بن منبہ کا بیان ہے کہ پورے تین سال آپ اس تکلیف میں رہے ۔ سارا گوشت جھڑ گیا تھا ۔ صرف ہڈیاں اور چمڑہ رہ گیا آپ دکھ میں پڑے رہتے تھے صرف ایک بیوی صاحبہ تھیں جو آپ کے پاس تھیں جب زیادہ زمانہ گزر گیا تو ایک روز عرض کرنے لگیں کہ اے نبی اللہ علیہ السلام آپ اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے ۔ آپ فرمانے لگے سنو ستر برس تک اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت وعافیت میں رکھا تو اگر ستر سال تک میں اس حالت میں رہوں اور صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے اس پر بیوی صاحبہ کانپ اٹھیں آپ شہر میں جاتیں ، لوگوں کا کام کاج کرتیں اور جو ملتا وہ لے آتیں اور آپ کو کھلاتیں پلاتیں ۔ آپ کے دو دوست اور دلی خیرخواہ دوست تھے انہیں فلسطین میں جا کر شیطان نے خبردی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے تم جاؤ ان کی خبرگیری کرو اور اپنے ہاں کی کچھ شراب اپنے ساتھ لے جاؤ وہ پلادینا اس سے انہیں شفا ہوجائے گی چنانچہ یہ دونوں آئے حضرت ایوب علیہ السلام کی حالت دیکھتے ہی ان کے آنسو نکل آئے بلبلا کر رونے لگے آپ نے پوچھا تم کون ہو ؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ خوش ہوئے انہیں مرحبا کہا وہ کہنے لگے اے جناب آپ شاید کچھ چھپاتے ہوں گے اور ظاہر اس کے خلاف کرتے ہوں گے ؟ آپ نے نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اللہ خوب جانتا ہے کہ میں کیا چھپاتا تھا اور کیا ظاہر کرتا تھا میرے رب نے مجھے اس میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بےصبری؟ وہ کہنے لگے اچھا ہم آپ کے واسطے دوا لائے ہیں آپ اسے پی لیجئے شفا ہوجائے گی یہ شراب ہے ۔ ہم اپنے ہاں سے لائے ہیں ۔ یہ سنتے ہی آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمانے لگے تمہیں شیطان خبیث لایا ہے تم سے کلام کرنا تمہارا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے ۔ یہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے ۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ کی بیوی صاحبہ نے ایک گھر والوں کی روٹیاں پکائیں ان کا ایک بچہ سویا ہوا تھا تو انہوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا انہیں دے دی یہ لے کر حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آئیں آپ نے کہا یہ آج کہاں سے لائیں ؟ انہوں نے ساراواقعہ بیان کردیا ۔ آپ نے فرمایا ابھی ابھی واپس جاؤ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کی ضد کرتا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کرتا ہو ۔ آپ روٹی واپس لے کرچلیں ان کی ڈیوڑھی میں بکری بندھی ہوئی تھی اس نے زور سے آپ کو ٹکر ماری آپ کی زبان سے نکل گیا دیکھو ایوب کیسے غلط خیال والے ہیں ۔ پھر اوپر گئیں تو دیکھا واقعی بچہ جاگا ہوا ہے اور ٹکیا کے لئے مچل رہا ہے اور گھر بھر کا ناک میں دم کررکھا ہے یہ دیکھ کر بےساختہ زبان سے نکلا کہ اللہ ایوب پر رحم کرے ، اچھے موقعہ پر پہنچی ۔ ٹکیا دے دی اور واپس لوٹیں راستے میں شیطان بہ صورت طبیب ملا اور کہنے لگا کہ تیرے خاوند سخت تکلیف میں ہیں مرض پر مدتیں گزر گئیں تم انہیں سمجھاؤ فلاں قبیلے کے بت کے نام پر ایک مکھی مار دیں شفاء ہوجائے گی پھر توبہ کرلیں ۔ جب آپ حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس پہنچیں تو ان سے یہ کہا آپ نے فرمایا شیطان خبیث کا جادو تجھ پر چل گیا ۔ میں تندرست ہوگیا تو تجھے سو کوڑے لگاؤں گا ۔ ایک دن آپ حسب معمول تلاش معاش میں نکلیں گھر گھر پھر آئیں کہیں کام نہ لگا مایوس ہوگئیں شام کو پلٹنے وقت حضرت ایوب علیہ السلام کی بھوک کا خیال آیا تو آپ نے اپنے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ایک امیر لڑکی کے ہاتھ فروخت کردی اس نے آپ کو بہت کچھ کھانے پینے کا اسباب دیا ۔ جسے لے کر آپ آئیں حضرت ایوب علیہ السلام نے پوچھا یہ آج اتنا سارہ اور اتنا اچھا کھانا کیسے مل گیا ؟ فرمایا میں نے ایک امیر گھر کا کام کردیا تھا ۔ آپ نے کھالیا دوسرے روز بھی اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور آپ نے اپنے بالوں کی دوسری لٹ کاٹ کر فروخت کردی اور کھانا لے آئیں آج بھی یہی کھانا دیکھ کر آپ نے فرمایا واللہ میں ہرگز نہ کھاؤں گا جب تک تو مجھے یہ نہ بتا دے کہ کیسے لائی؟ اب آپ نے اپنا دوپٹہ سر سے اتار دیا دیکھا کہ سرکے بال سب کٹ چکے ہیں اس وقت سخت گھبراہٹ اور بےچینی ہوئی اور اللہ سے دعا کی کہ مجھے ضرر پہنچا اور تو سب سے زیادہ رحیم ہے ۔ حضرت نوف کہتے ہیں کہ جو شیطان حضرت ایوب علیہ السلام کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا ۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی صاحبہ عموما آپ سے عرض کیا کرتی تھیں کہ اللہ سے دعا کرو ۔ لیکن آپ نہ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن بنو اسرائیل کے کچھ لوگ آپ کے پاس سے نکلے اور آپ کو دیکھ کر کہنے لگے اس شخص کو یہ تکلیف ضرور کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہے اس وقت بےساختہ آپ کی زبان سے یہ دعا نکل گئی ۔ حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کہ دو بھائی تھے ایک دن وہ ملنے کے لئے آئے ۔ لیکن جسم کی بدبو کی وجہ سے قریب نہ آسکے دور ہی سے کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر اس شخص میں بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت میں نہ ڈالتا اس بات نے حضرت ایوب علیہ السلام کو وہ صدمہ پہنچایا جو آج تک آپ کو کسی چیز سے نہ ہوا تھا اس وقت کہنے لگے اللہ کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گزری کہ کوئی بھوکا شخص میرے علم میں ہو اور میں نے پیٹ بھرلیا ہو پروردگار اگر میں اپنی اس بات میں تیرے نزدیک سچا ہوں تو میری تصدیق فرما ۔ اسی وقت آسمان سے آپ کی تصدیق کی گئی تھی اور وہ دونوں سن رہے تھے ۔ پھر فرمایا کہ پروردگار کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس ایک سے زائد کپڑے ہوں اور میں نے کسی ننگے کو نہ دیے ہوں اگر میں اس میں سچا ہوں تو میری تصدیق آسمان سے کر ۔ اس پر بھی آپ کی تصدیق ان کے سنتے ہوئے کی گئی ۔ پھر یہ دعا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے کہ اے اللہ میں تو اب سجدے سے سر نہ اٹھاؤں گا جب تک کہ تو مجھ سے ان تمام مصیبتوں کو دور نہ کردے جو مجھ پر نازل ہوئی ہیں ۔ چنانچہ یہ دعاقبول ہوئی ۔ اور اس سے پہلے کہ آپ سر اٹھائیں تمام تکلیفیں اور بیماریاں دور ہوگئیں جو آپ پر اتری تھیں ۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام اٹھارہ برس تک بلاؤں میں گھرے رہے پھر ان کے دو دوستوں کے آنے اور بد گمانی کرنے کا ذکر ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت تھی کہ راستہ چلتے دو شخصوں کو جھگڑتا دیکھتا اور ان میں سے کسی کو قسم کھاتے سن لیتا تو گھر آکر اس کی طرف سے کفارہ ادا کردیتا کہ ایسا نہ ہو کہ اس نے نام ناحق لیا ہو ۔ آپ اپنی اس بیماری میں اس قدر نڈھال ہوگئے تھے کہ آپ کی بیوی صاحبہ ہاتھ تھام کر پاخانہ پیشاب کے لئے لے جاتی تھیں ۔ ایک مرتبہ آپ کو حاجت تھی آپ نے آواز دی لیکن انہیں آنے میں دیر لگی آپ کو سخت تکلیف ہوئی اسی وقت آسمان سے ندا آئی کہ اے ایوب اپنی ایڑی زمین پر مارو اسی پانی کو پی بھی لو اور اسی سے نہا بھی لو اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل غریب ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے جنت کا حلہ نازل فرمادیا جسے پہن کر آپ یکسو ہو کر بیٹھ گئے ۔ جب آپ کی بیوی آئیں اور آپ کو نہ پہچان سکیں تو آپ سے پوچھنے لگیں اے اللہ کے بندے یہاں ایک بیمار بیکس بےبس تھے تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیا ہوئے ؟ کہیں انہیں بھیڑئیے نہ کھا گئے ہوں یا کتے نہ لے گئے ہوں؟ تب آپ نے فرمایا نہیں نہیں وہ بیمار ایوب میں ہی ہوں ۔ بیوی صاحبہ کہنے لگی اے شخص تو مجھ دکھیا عورت سے ہنسی کر رہا ہے اور مجھے بنا رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں مجھے اللہ نے شفادے دی اور یہ رنگ روپ بھی ۔ آپ کا مال آپ کو واپس دیا گیا آپ کی اولاد وہی آپ کو واپس ملی اور ان کے ساتھ ہی ویسی ہی اور بھی وحی میں یہ خوشخبری بھی سنادی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ قربانی کرو اور استغفار کرو ، تیرے اپنوں نے تیرے بارے میں میری نافرمانی کر لی تھی ۔ اور روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو عافیت عطا فرمائی آسمان سے سونے کی ٹڈیاں ان پر برسائیں جنہیں لے کر آپ نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کردیں تو آواز دی گئی کہ اے ایوب کیا تو اب تک آسودہ نہیں ہوا ؟ آپ نے جواب دیا کہ اے میرے پروردگار تیری رحمت سے آسودہ کون ہوسکتا ہے ؟ پھر فرماتا ہے ہم نے اسے اس کے اہل عطا فرمائے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو فرماتے ہیں وہی لوگ واپس کئے گئے ۔ آپ کی بیوی کا نام رحمت تھا ۔ یہ قول اگر آیت سے سمجھا گیا ہے تو یہ بھی دور از کار امر ہے اور اگر اہل کتاب سے لیا گیا ہے تو وہ تصدیق تکذیب کے قابل ہے چیز نہیں ۔ ابن عساکر نے ان کا نام اپنی تاریخ میں لیا بتایا ہے ۔ یہ منشا بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کی بیٹی ہیں ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت لیا حضرت یعقوب علیہ السلام کی بیٹی حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی ہیں جو شفیعہ کی زمین میں آپ کے ساتھ تھیں ۔ مروی ہے کہ آپ سے فرمایا گیا کہ تیری اہل سب جنت میں ہیں تم کہو تو میں ان سب کو یہاں دنیا میں لادوں اور کہے تو وہیں رہنے دوں اور دنیا میں ان کا عوض دوں آپ نے دوسری بات پسند فرمائی ۔ پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ کو ملا ۔ یہ سب کچھ ہماری رحمت کا ظہور تھا ۔ اور ہمارے سچے عابدوں کے لئے نصیحت وعبرت تھی ، آپ اہل بلا کے پیشوا تھے ۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ مصیبتوں میں پھنسے ہوئے لوگ اپنے لئے آپ کی ذات میں عبرت دیکھیں ، بےصبری سے ناشکری نہ کرنے لگیں اور لوگ انہیں اللہ کے برے بندے نہ سمجھیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام صبر کا پہاڑ ثابت قدمی کا نمونہ تھے اللہ کے لکھے پر ، اس کے امتحان پر انسان کو صبر وبرداشت کرنی چاہیے نہ جانیں قدرت درپردہ اپنی کیا کیا حکمتیں دکھا رہی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٣] حضرت ایوب کس دور میں مبعوث ہوئے ؟ یا کس علاقہ میں مبعوث ہوئے ؟ آپ نے تبلیغ کا فریضہ کتنا عرصہ سرانجام دیا ؟ اور آپ کے ساتھ آپ کی قوم نے کیا سلوک کیا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کی تفصیل کتاب و سنت میں مذکور ہیں۔ قیاس سے آپ کے دور نبوت کی جو تعیین کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ حضرت یوسف اور حضرت شعیب کے درمیانی زمانہ میں یعنی تقریباً ہزار قبل مسیح مبعوث ہوئے تھے۔ کتاب و سنت نے حضرت ایوب کی جس خصوصیت سے ہمیں متعارف کرایا ہے۔ وہ آپ کا صبر ہے۔ آپ کا ابتدائی زمانہ نہایت خوشحالی کا دور تھا۔ مال کی سب اقسام : اولاد، بیویاں، جائیداد غرضیکہ سب کچھ واثر مقدار میں عطا ہوا تھا اور آپ کثرت اموال و اراضی میں مشہور تھے۔ اس دور میں آپ ہمیشہ اللہ کا شکر بجا لاتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوسری طرح آزمانا چاہا اور آپ پر ابتلا کا دور جو آیا کہ ہر چیز ہاتھ سے نکل گئی۔ اور اپنا یہ حال تھا کہ کسی طویل بیماری میں مبتلا ہوگئے اور ایسے بیمار پڑے کہ ایک بیوی کے سوا سب نے ساتھ چھوڑ دیا۔ بلکہ لوگوں نے اپنی بستی سے باہر نکال دیا۔ اس ابتلاء کے طویل دور میں آپ نے صبر استقامت کا ایسا بےمثال مظاہرہ کیا جو ضرب المثل بن چکا ہے۔ صحیح روایات کے مطابق آپ کے ابتلاء کا دور ١٢ سال ہے۔ پھر جب اللہ سے اپنی بیماری کے لئے دعا کی تو اس دعا میں شکر و شکایت نام کو نہیں۔ بلکہ عرض بدعا نہیں، کسی چیز کا مطالبہ نہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی انتہائی صابر، قانع اور خوددار آدمی اپنے مالک کو کوئی بات یاد کرا رہا ہو۔ کہا تو صرف اتنا کہا کہ پروردگار ! میں طویل مدت سے بیمار ہوں اور تو ارحم الراحمین ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۙوَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّهٗٓ ۔۔ : یعنی ایوب کو یاد کرو۔ داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش ان نعمتوں کے ساتھ ہوئی جن پر شکر واجب تھا، جبکہ ایوب (علیہ السلام) کی آزمائش ایسی تکالیف کے ساتھ ہوئی جن پر صبر لازم تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر اور صبر لازم و ملزوم ہیں۔ صبر وہی کرسکتا ہے جو شاکر ہو اور شکر وہی کرتا ہے جو صابر ہو۔ بےصبرا شاکر نہیں ہوتا اور ناشکرا صابر نہیں ہوتا۔ ان کا واقعہ قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے۔ ایک یہاں سورة انبیاء میں اور ایک سورة ص (٤١ تا ٤٤) میں۔ ایک دفعہ زیر تفسیر آیات کا ترجمہ ملاحظہ کریں، ساتھ ہی سورة ص کی آیات کا ترجمہ دیکھیں، وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک شیطان نے مجھے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ اپنا پاؤں مار، یہ نہانے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے اور ہم نے اسے اس کے گھر والے عطا کردیے اور ان کے ساتھ اتنے اور بھی، ہماری طرف سے رحمت کے لیے اور عقلوں والوں کی نصیحت کے لیے۔ “ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایوب (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ اللہ کی طرف سے ان پر ایسی آزمائش آئی کہ وہ شدید اور لمبی بیماری میں مبتلا ہوگئے، ان کے اہل و عیال بھی جدائی یا فوت ہونے کی وجہ سے ان سے جدا ہوگئے۔ (ثنائی) جب کمانے والے ہی نہ رہے تو مال مویشی بھی ہلاک ہوگئے، مگر ایوب (علیہ السلام) نے ہر مصیبت پر صبر کیا، نہ کوئی واویلا کیا اور نہ کوئی حرف شکایت لب پر لائے۔ جب تکلیف حد سے بڑھ گئی تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ ایک یہ کہ اے میرے رب ! مجھے شیطان نے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ دوسری یہ کہ اے میرے رب ! مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔ اس دعا میں انھوں نے اپنی حالت زار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ارحم الراحمین ہونے کے بیان ہی کو کافی سمجھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ انھوں نے پاؤں مارا تو ٹھنڈے پانی کا چشمہ نمودار ہوگیا۔ حکم ہوا کہ اسے پیو اور اس سے غسل کرو۔ وہ مبارک پانی پینے اور اس کے ساتھ غسل کرنے سے ان کی ساری بیماری دور ہوگئی اور وہ پوری طرح صحت مند ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے گھر والے بھی عطا فرما دیے اور اتنے ہی اور عطا فرما دیے۔ بیماری کے دوران انھوں نے کسی پر ناراض ہو کر اسے کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی، اب وہ سزا زیادہ سمجھ کر پریشان تھے کہ اسے اتنے کوڑے ماروں تو زیادتی ہوتی ہے، نہ ماروں تو قسم ٹوٹتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ مشکل بھی حل فرما دی کہ اتنے تنکوں کا مٹھا لے کر ایک دفعہ مار دو ، جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی، اس سے تمہاری قسم پوری ہوجائے گی، قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا۔ 3 ” اَلضَّرُّ “ اور ” اَلضُّرُّ “ میں فرق یہ ہے کہ ضاد کے فتحہ کے ساتھ ” ضَرٌّ“ نفع کی ضد ہے، اس سے مراد کوئی بھی نقصان ہے، مالی ہو یا جانی یا کوئی اور، جبکہ ضاد کے ضمہ کے ساتھ ” ضُرٌّ“ سے مراد آدمی کی جسمانی بدحالی ہے، مثلاً بیماری، لا غری یا بڑھاپا وغیرہ۔ (اعراب القرآن از درویش) 3 ایوب (علیہ السلام) نے شدید تکلیف دہ بیماری اور اموال و اولاد کی ہلاکت جیسے مصائب کی آزمائش میں جس طرح صبر کیا، پھر جس طرح انھوں نے اللہ کی جناب میں اپنی حالت زار کا ذکر کرکے اس کے ارحم الراحمین ہونے کے واسطے سے دعا کی اور جسے شرف قبولیت عطا ہوا، اس سے چند اسباق حاصل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ شدید بیماری اور مال و اہل کی تباہی کے ساتھ آزمائش اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی، اسی طرح اس پر صبر کی توفیق دینا، پھر دعا قبول فرما کر صحت سے نوازنا اور دگنے اہل و عیال عطا فرمانا، سب کچھ اللہ کی عظیم رحمت تھی۔ دوسرا یہ کہ اس میں عبادت گزار بندوں کے لیے یاد دہانی ہے کہ اگر اللہ کے بندوں کا مصائب کے ذریعے سے امتحان ہو اور وہ اس پر صبر کریں اور اللہ تعالیٰ ہی کی جناب میں اپنی فریاد پیش کریں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ملتا ہے اور آدمی کے گمان سے بھی بہت زیادہ ملتا ہے۔ یہاں ” ذِكْرٰي لِلْعٰبِدِيْن “ فرمایا، جبکہ سورة صٓ (٤٣) میں ” ذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِ “ فرمایا، معلوم ہوا عبادت کرنے والے ہی عقل والے ہیں، جو بندگی نہیں کرتے وہ کتنے ہی ہوشیار نظر آئیں، عقل سے خالی ہیں۔ تیسرا یہ کہ آزمائش میں صبر اور اللہ تعالیٰ ہی سے بار بار رجوع اور استغاثہ و فریاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کی تعریف میں تین جملے ارشاد فرمائے : 1 (اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا ) ” ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا۔ “ 2 (نِعْمَ الْعَبْدُ ) ” وہ بہت اچھا بندہ تھا۔ “ 3 (ۭ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ ) ” یقیناً وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ آزمائش میں کامیابی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے شاباش بھی ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تحسین و آفرین ایوب (علیہ السلام) کے حق میں بہت ہی بڑی شہادت ہے۔ 3 دکتور محمد بن محمد ابو شہبہ (رض) اپنی کتاب ” اَلْاِسْرَاءِیْلِیَاتُ وَالْمَوْضُوْعَاتُ فِيْ کُتُبِ التَّفْسِیْرِ “ میں لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت فرمایا : ” وہب بن منبہ سے ایوب (علیہ السلام) کے واقعہ میں ایک لمبا قصہ روایت کیا گیا ہے، جسے ابن جریر نے اور ابن ابی حاتم نے سند کے ساتھ اس (وہب بن منبہ) سے نقل کیا ہے۔ بعد میں آنے والے کئی ایک مفسرین نے بھی اسے ذکر کیا ہے۔ اس واقعہ میں غرابت ہے، ہم نے لمبا ہونے کی وجہ سے اسے ترک کردیا ہے۔ “ ابوشہبہ فرماتے ہیں : ” عجیب بات یہ ہے کہ روایات پر نقد کرنے والے حافظ ابن کثیر بھی ایوب (علیہ السلام) کے واقعہ میں انھی باتوں میں پڑگئے ہیں جن میں دوسرے حضرات پڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے یہاں بہت سی اسرائیلیات ذکر فرمائی ہیں، جن پر کوئی تعاقب نہیں فرمایا، حالانکہ ان کے متعلق ہمارا مشاہدہ ہے کہ وہ ایسی جو بات بھی ذکر فرماتے ہیں اس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ کہاں سے آئی اور اسلامی روایات میں کیسے داخل ہوئی ؟ میں نہیں سمجھتا کہ وہ ان روایات کو (بلانقد) بیان کرنا جائز سمجھتے ہوں۔ چناچہ انھوں نے ذکر کیا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ ” ان کے سارے بدن میں جذام (کوڑھ) ہوگیا اور ان کے دل اور زبان کے سوا کوئی چیز سلامت نہ رہی، جن کے ساتھ وہ اللہ عزو جل کا ذکر کرتے تھے۔ یہاں تک کہ پاس بیٹھنے والوں کو ان سے نفرت ہوگئی اور انھیں شہر کے ایک کونے میں الگ رہائش رکھنا پڑی۔ ان کی بیوی کے سوا ان پر شفقت کرنے والا کوئی نہ رہا، جس نے ان کی آزمائش کے دوران ناقابل بیان مصیبتیں اٹھائیں، حتیٰ کہ وہ محنت مزدوری کرنے لگیں، بلکہ انھوں نے اسی وجہ سے اپنے بال بھی فروخت کردیے۔ “ پھر ذکر فرماتے ہیں : ” بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اس آزمائش میں بہت لمبی مدت تک مبتلا رہے۔ پھر اختلاف ہے کہ انھیں اس دعا کے لیے بےقرار کرنے کا باعث کیا تھا ؟ چناچہ حسن بصری اور قتادہ نے کہا، ایوب (علیہ السلام) سات سال اور کچھ مہینے آزمائش میں مبتلا رہے، اس عرصے میں انھیں کوڑا پھینکنے کی جگہ میں ڈال دیا گیا اور ان کے بدن میں کیڑے پڑگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور فرمائی اور انھیں اجر عظیم عطا فرمایا اور ان کی بہت اچھی تعریف فرمائی۔ اور وہب بن منبہ نے کہا کہ آپ تین سال تکلیف میں مبتلا رہے، نہ زیادہ نہ کم۔ سدی نے کہا، ایوب (علیہ السلام) کا گوشت جھڑ گیا، صرف ہڈیاں اور پٹھے باقی رہ گئے۔ “ پھر ایک لمبا قصہ ذکر کیا، پھر ابن کثیرنے وہ واقعہ ذکر فرمایا جو ابن ابی حاتم نے اپنی سند سے عن الزہری عن انس بن مالک روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ایوب (علیہ السلام) پر ان کی آزمائش اٹھارہ برس رہی۔ دور و نزدیک کے سب لوگوں نے انھیں چھوڑ دیا۔ ان کے دوستوں بھائیوں میں سے صرف دو آدمی صبح اور شام ان کے پاس آتے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا، جانتے ہو ! اللہ کی قسم ! ایوب نے کوئی ایسا گناہ کیا ہے جو دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ ساتھی نے کہا، وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا، اٹھارہ سال ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم نہیں کیا کہ اس کی تکلیف دور کردیتا۔ جب شام کو دونوں ان کے پاس گئے تو اس آدمی نے اس بات کا ذکر کردیا۔ ایوب (علیہ السلام) نے کہا، مجھے معلوم نہیں تم کیا کہہ رہے ہو ؟ ہاں یہ بات اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرتا جو جھگڑ رہے ہوتے، جس میں وہ اللہ کا ذکر کرتے تو میں گھر آ کر ان کی طرف سے کفارہ دے دیتا کہ کہیں وہ ناحق اللہ کا ذکر نہ کر رہے ہوں۔ اور وہ حاجت کے لیے باہر جایا کرتے تھے، جب فارغ ہوجاتے تو ان کی بیوی ہاتھ پکڑ کرلے آتی۔ ایک دن اس نے آنے میں دیر کی تو اسی جگہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی : (اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ ۚ ھٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ ) [ صٓ : ٤٢ ] ” اپنا پاؤں مار، یہ نہانے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے۔ “ حافظ ابن حجر (رض) نے فرمایا کہ ایوب (علیہ السلام) کے قصے میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جو ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے بیان کی ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے، پھر یہ روایت بیان کی۔ شیخ ناصر الدین البانی نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ (سلسلہ صحیحہ : ١٧) مگر صحیح بات یہی ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں۔ حافظ ابن حجر کے قول سے اس کا صحیح ہونا ثابت نہیں ہوتا، صرف دوسری روایتوں سے اس کا بہتر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اگر ان کی مراد اس حدیث کا صحیح ہونا ہو تب بھی ان کی بات محل نظر ہے۔ ابن کثیر نے ” اَلْبِدَایَۃُ وَالنِّہَایَۃُ “ میں ایوب (علیہ السلام) کے تذکرہ میں فرمایا : ” ھٰذَا غَرِیْبٌ رَفْعُہُ جِدًّا وَالْأَشْبَہُ أَنْ یَّکُوْنَ مَوْقُوْفًا “ ” اس روایت کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہونا بہت ہی غریب ہے، زیادہ قریب یہی ہے کہ یہ صحابی کا قول ہے۔ “ اس روایت کی تمام سندوں میں زہری کی روایت ” عن “ کے لفظ کے ساتھ آئی ہے اور زہری کا اپنی تمام تر عظمت و جلالت کے باوجود مدلس ہونا معروف و مشہور ہے۔ اس لیے صحیحین کے سوا ان کی تدلیس والی روایت کو صحیح نہیں کہا جاسکتا۔ ایوب (علیہ السلام) کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صرف ایک صحیح حدیث آئی ہے۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( بَیْنَمَا أَیُّوْبُ یَغْتَسِلُ عُرْیَانًا خَرَّ عَلَیْہِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَھَبٍ فَجَعَلَ یَحْثِيْ فِيْ ثَوْبِہِ فَنَادَاہُ رَبُّہُ یَا أَیُّوْبُ ! أَلَمْ أَکُنْ أَغْنَیْتُکَ عَمَّا تَرَی ؟ قَالَ بَلٰی یَا رَبِّ ! وَلَکِنْ لَا غِنَی لِيْ عَنْ بَرَکَتِکَ ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : ( و أیوب إذ نادی ربہ۔۔ ) : ٣٣٩١ ]” ایوب (علیہ السلام) کپڑے اتار کر غسل کر رہے تھے، غسل کے دوران ہی ان پر سونے کی ٹڈیوں کا ایک دَل (لشکر) آ گرا۔ ایوب (علیہ السلام) لپوں کے ساتھ اسے اپنے کپڑے میں بھرنے لگے تو انھیں ان کے رب نے آواز دی : ” اے ایوب ! کیا میں نے تمہیں اس سے غنی نہیں کردیا جو تم دیکھ رہے ہو ؟ “ انھوں نے عرض کی : ” کیوں نہیں، تیری عزت کی قسم ! لیکن میرے لیے تیری برکت سے کسی طرح بےپروائی ممکن نہیں۔ “ اس کے علاوہ ایوب (علیہ السلام) کے متعلق تمام اقوال تابعین یا صحابہ سے مروی ہیں اور سب وہب بن منبہ کے بیان ہی کا خلاصہ یا تفصیل ہیں، جو صاف ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل سے لیے گئے ہیں۔ حقیقت صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے اور جس کا خلاصہ اس آیت کے فائدہ نمبر (١) میں گزر چکا ہے۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیان پر اپنے پاس سے یا ان اہل کتاب سے لے کر اضافہ کرے جنھوں نے انبیاء پر تہمتیں باندھیں، بلکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھی نہیں بخشا اور کہہ دیا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ دیکھیے سورة آل عمران (١٨١) اور یہ کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (غُلَّتْ اَيْدِيْهِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا ) [ المائدۃ : ٦٤ ] ” انھی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کی باتوں کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ہے۔ “ 3 ابوشہبہ فرماتے ہیں، ہمیں جو عقیدہ رکھنا واجب ہے وہ یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کی آزمائش یقیناً ہوئی، ان پر جسم اور اہل مال کی شدید تکلیف آئی، جس پر انھوں نے ایسا صبر کیا کہ صبر میں ضرب المثل بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس پر ان کی تعریف فرمائی، مگر ان کی آزمائش اس حد تک نہیں پہنچی جو ان جھوٹی داستانوں میں بیان ہوئی ہے کہ انھیں جذام (کوڑھ) ہوگیا، ان کے سارے جسم پر پھوڑے بن گئے، انھیں کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔ ان کے جسم میں کیڑے رینگتے پھرتے تھے اور ہڈیوں اور پٹھوں کے سوا سارا گوشت جھڑ گیا تھا اور ان سے دور ہی سے بدبو آتی تھی وغیرہ۔ ایوب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے کہیں معزز ومکرم تھے کہ انھیں کوڑے پر پھینک دیا جائے، یا وہ ایسے مرض میں مبتلا ہوں جس سے لوگ ان کی دعوت سے متنفر ہوں۔ اللہ کا پیغام پہنچانے والا ہی اس قدر معیوب حالت میں ہو تو ایسی دعوت کا کیا فائدہ اور اس سے حاصل کیا ہوگا ؟ پھر انبیاء ہمیشہ اپنی قوم کے اونچے نسب میں سے مبعوث کیے جاتے رہے ہیں (جیسا کہ حدیث ہرقل میں ہے) ۔ ایوب (علیہ السلام) کی ایسی حالت میں ان کا قبیلہ کہاں تھا کہ ان کی حفاظت کرتا، ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرتا، بجائے اس کے کہ ان کی بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کرے، بلکہ اپنے سر کے بال فروخت کرتی پھرے اور ان پر ایمان لانے والے کہاں گئے، کیا سب انھیں چھوڑ گئے، کیا ایمان کا تقاضا یہی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی ساری داستانیں بےبنیاد ہیں، نہ عقل سلیم انھیں تسلیم کرتی ہے اور نہ صحیح نقل۔ ایوب (علیہ السلام) پر آنے والی بیماری ایسی ہرگز نہ تھی جس سے نفرت پیدا ہو، کیونکہ یہ ان کے منصب ہی کے خلاف تھا، بلکہ وہ اس قسم کی کوئی بیماری تھی جس کا جسم پر کوئی نشان ظاہر نہیں ہوتا، مثلاً کوئی جسمانی درد، ریوماٹزم، جوڑوں یا ہڈیوں وغیرہ کی تکلیف۔ جب اللہ کا فضل ہوا تو زمین پر پاؤں مارنے کے نتیجے میں نمودار ہونے والے چشمے کا ٹھنڈا پانی پینے اور اس کے ساتھ غسل کرنے سے مکمل شفایاب ہوگئے۔ قاضی ابوبکر ابن العربی (رض) کی بات دل کو بہت لگتی ہے، وہ فرماتے ہیں : ” ایوب (علیہ السلام) کے معاملے میں کوئی بات ثابت نہیں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی کتاب میں دو مقامات پر بتائی ہے، ایک : (وَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ ) [ الأنبیاء : ٨٣ ] اور دوسری : (رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ ) [ صٓ : ٤١ ] رہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تو آپ سے اس حدیث کے سوا ایوب (علیہ السلام) کے متعلق ایک حرف بھی ثابت نہیں جس میں ان پر غسل کے دوران سونے کی ٹڈیاں گرنے کا ذکر ہے۔ پھر جب اس کے سوا قرآن اور حدیث میں کوئی بات ثابت ہی نہیں تو وہ کون صاحب ہیں جنھوں نے ایوب (علیہ السلام) کا حال آنکھوں سے دیکھا یا کانوں سے سنا ؟ رہی اسرائیلی روایات ! تو وہ علماء کے نزدیک قطعی طور پر متروک ہیں، اس لیے ان کے پڑھنے سے اپنی نگاہیں بچا کر رکھو اور ان کے سننے سے اپنے کان بند رکھو۔ کیونکہ وہ تمہاری سوچ میں محض خیال کا اور دل میں صرف خرابی کا اضافہ کریں گی۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا : ( یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ ! کَیْفَ تَسْأَلُوْنَ أَھْلَ الْکِتَابِ ؟ وَکِتَابُکُمُ الَّذِیْ أُنْزِلَ عَلٰی نَبِیِّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَار باللّٰہِ تَقْرَؤُوْنَہٗ لَمْ یُشَبْ ، وَقَدْ حَدَّثَکُمُ اللّٰہُ أَنَّ أَھْلَ الْکِتَابِ بَدَّلُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ وَغَیَّرُوْا بِأَیْدِھِمُ الْکِتَابَ فَقَالُوْا : (ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَــمَنًا قَلِيْلًا) [ البقرۃ : ٧٩ ] أَفَلاَ یَنْھَاکُمْ مَا جَاءَ کُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَاءَ لَتِھِمْ ؟ وَلَا وَاللّٰہِ ! مَا رَأَیْنَا رَجُلًا مِنْھُمْ قَطُّ یَسْأَلُکُمْ عَنِ الَّذِيْ أُنْزِلَ عَلَیْکُمْ ) [ بخاري، الشھادات، باب لا یسأل أھل الشرک عن الشھادۃ وغیرھا : ٢٦٨٥ ] ” اے مسلمانو کی جماعت ! تم اہل کتاب سے کس طرح سوال کرتے ہو، جب کہ تمہاری کتاب، جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی خبروں میں سے سب سے تازہ ہے۔ تم اسے اس حال میں پڑھتے ہو کہ اس میں کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں بتادیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو لکھا تھا اہل کتاب نے اسے بدل دیا اور انھوں نے اپنے ہاتھوں سے اللہ کی کتاب میں تبدیلی کردی اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ساتھ بہت تھوڑی قیمت حاصل کریں۔ تو کیا تمہارے پاس جو علم آیا ہے وہ تمہیں ان سے سوال کرنے سے منع نہیں کرتا ؟ نہیں ! قسم ہے اللہ کی ! ہم نے ان میں سے کسی آدمی کو کبھی تم سے اس کے متعلق سوال کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو تم پر نازل کیا گیا ہے۔ “ آخر میں ابوشہبہ نے آلوسی، طبری اور دوسرے علماء سے اس مفہوم کی عبارتیں نقل کی ہیں۔ ایوب (علیہ السلام) کے متعلق مزید دیکھیے سورة صٓ (٤١ تا ٤٤) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Story of Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) The story of Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) is based mostly on Jewish legends. Those which are considered as historically reliable by scholars of hadith are being reproduced here. The Holy Qur&an tells us only that he suffered from some serious disease but he endured his suffering with fortitude. Ultimately he prayed to Allah for recovery which was granted. During his illness all his family members and friends disappeared. They either died or just abandoned him to his fate. Then Allah Ta` ala restored him to complete health and gave him back all his children and also an equal number in addition. The remaining elements of this story have come down to us either through authentic sayings or by way of historical accounts. Hafiz Ibn Kathir has recorded the story as follows: Allah Ta` ala had bestowed upon Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) ، in the early days of his life, all sorts of material comforts such as wealth, property, magnificent houses, children, servants and attendants. But later he faced a trial whereby the prophets are normally tested by Allah, and was deprived of all these comforts. Moreover he suffered from a serious disease which was like leprosy and which affected his whole body except the heart and the tongue. In this miserable condition too he spent his time in prayers and in giving thanks to Allah Ta` ala with his heart and tongue. Because of this serious illness all his relatives, friends and neighbors avoided him and placed him near a garbage-dump outside the city. Nobody went near him except his wife who used to take care of him. She was either the daughter or grand daughter of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) and her name was Layya daughter of Misha Ibn Yusuf (علیہ السلام) . (Ibn Kathir) All his wealth having been lost, she worked and earned a living for him and for herself and also nursed him in his illness. The ordeal of Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) was nothing new, nor something to be wondered at. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said اژدّ النّاس بلاء الانبیاء چّم الصّالحُون چّم الامثل فالامثل that is the prophets face the most severe tests, and then come the other believers according to their degree of piety. In another tradition it is reported that every man is tested according to his adherence and devotion to religion. The stronger his beliefs, the harder is the test to which he is subjected, so that his rewards are in proportion to his sufferings. Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) occupies a distinctive position among all the prophets for firmness in his devotion and endurance in his sufferings in the same manner as Dawud (علیہ السلام) enjoyed distinction for offering thanks to Allah Ta` ala. Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) is a model of endurance and fortitude in the most trying circumstances. Yazid Ibn Maisara reports that when Allah Ta` ala deprived him of all his worldly possessions and subjected him to a severe ordeal, he concentrated all his mind and efforts upon the sole purpose of remembering Allah Ta’ ala and offering prayers to Him. While thanking Allah Ta’ ala for all sorts of worldly comforts and children granted to him earlier and whose love had filled his heart completely, he also thanked Him for their total withdrawal because nothing remained to distract him from total devotion to Allah Ta’ ala. The invocation of Sayyidna Ayyub I is not counter to patience The ordeal of Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) was very severe indeed. He not only lost all his worldly possessions but was also afflicted by a terrible disease because of which people avoided his company. He spent seven years and some months lying near a garbage dump outside the city, but never once did he lose his heart nor did he ever utter a word of complaint about his fate. His wife, Layya once asked him to pray to Allah for His Mercy as his sufferings had become unbearable, to which he replied that having enjoyed for seventy years the best of health surrounded by all the luxuries that money could buy, it would be unworthy of him to complain because a mere seven years has been spent in pain and poverty. His firm prophetic resolve, self-discipline and fortitude prevented him from beseeching Allah Ta` ala&s mercy on his condition, lest it should be construed as an act contrary to the unquestioning submission to the will of Allah Ta` ala (Although to invoke Allah&s Mercy for relief from sufferings does not mean absence of fortitude). Ultimately something happened which made him pray to Allah Ta` ala for His Mercy but as mentioned earlier this was just a prayer and did not express a sense of complaint. As such Allah Ta` ala has put His seal in acknowledgment of his extreme endurance in these words إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرً‌ا (Surely We found him a steadfast man - 38:44). There are numerous versions of this story which have been omitted for their length. Ibn Abi Hatim has reported on the authority of Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas (رض) that when Sayyidna Ayyub&s (علیہ السلام) supplication was granted, he was told to rub his heels on the ground and a stream of fresh and clear water would gush forth. He should then bathe himself in the water and also drink it, and the disease would disappear. Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) did as he was told and in no time his body, which was covered with boils and was reduced to skin and bones regained its original shape and health. Allah Ta’ ala sent him garments from Paradise which he wore and sat down in a corner away from the garbage dump. His wife came to see him as usual and when she did not find him, she started crying. She did not recognize Ayyub (علیہ السلام) who was sitting nearby in a corner because his appearance had changed completely. Then she turned to him and asked him if he had any information about the sick man who was lying there, and whether he had gone somewhere or had been eaten up by dogs and wolves. She spoke to him for some time without realizing that the man was none other than her husband. Then Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) revealed himself, but even then she did not recognize him and asked him why he was making fun of her. Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) then told her to look at him again and try to recognize him. He also informed her that Allah Ta’ ala had healed his body after he invoked His Mercy. Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) reports that after this, Allah Ta’ ala restored to him all his wealth and children and gave him more children equal in number to the children which he had before (Ibn Kathir). Sayyidna Ibn Masud (رض) says that Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) had seven sons and seven daughters but they all died while he was undergoing the ordeal. When his days of hardship were over, his children were brought back to life by Allah Ta` ala and his wife also gave birth to as many more children, to which the Qur&an refers to as وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ (and the like thereof alongwith them - 21:84). According to Tha&labi this version is closer to the text of the Qur&an. (Qurtubi) Some scholars say that he was granted as many new children as he had before and the word مِثل (the like) refers to an equal number of grand children. (Only Allah knows best).

خلاصہ تفسیر اور ایوب (علیہ السلام کے قصے کا تذکرہ کیجئے جب کہ انہوں نے (مرض شدید میں مبتلا ہونے کے بعد) اپنے رب کو پکارا کہ مجھ کو یہ تکلیف پہنچ رہی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں (تو اپنی مہربانی سے میری یہ تکلیف دور کر دیجئے) تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو جو تکلیف تھی اس کو دور کردیا اور (بغیر ان کی درخواست کے) ہم نے ان کا کنبہ (یعنی اولاد جو ان سے غائب ہوگئے تھے (قالہ الحسن کذا فی الدار المنثور) یا مر گئے تھے (کما قال غیرہ) عطا فرمایا (اس طرح سے کہ وہ اس کے پاس آگئے یا بایں معنی کہ اتنے ہی اور پیدا ہوگئے، قالہ عکرمہ کما فی فتح المنان) اور ان کے ساتھ (گنتی میں) ان کے برابر اور بھی (دیئے، یعنی جتنی اولاد پہلے تھی اس کے برابر اور بھی دے دیے خواہ خود اپنی صلب سے یا اولاد کی اولاد ہونے کی حیثیت سے) (کذا فی فتح المنان من کتاب ایوب) اپنی رحمت خاصہ کے سبب سے اور عبادت کرنے والوں کے لئے ایک یادگار رہنے کے سبب سے۔ معارف و مسائل قصہ ایوب (علیہ السلام) : حضرت ایوب (علیہ السلام) کے قصہ میں اسرائیلی روایات بڑی طویل ہیں، ان میں سے جن کو حضرات محدثین نے تاریخی درجہ میں قابل اعتماد سمجھا ہے وہ نقل کی جاتی ہیں۔ قرآن کریم سے تو صرف اتنی بات ثابت ہے کہ ان کو کوئی شدید مرض پیش آیا جس پر وہ صبر کرتے رہے بالآخر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اس سے نجات ملی اور یہ کہ اس بیماری کے زمانے میں ان کی اولاد اور احباب سب غائب ہوگئے خواہ موت کی وجہ سے یا کسی دوسری وجہ سے، پھر حق تعالیٰ نے ان کو صحت و عافیت دی اور جتنی اولاد تھی وہ سب ان کو دے دی بلکہ اتنی ہی اور بھی زیادہ دیدی، باقی حصے کے اجزاء بعض تو مستند احادیث میں موجود ہیں اور زیادہ تر تاریخی روایات ہیں حافظ ابن کثیر نے اس قصے کی تفصیل یہ لکھی ہے کہ : ایوب (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے ابتداء میں مال و دولت اور جائیداد اور شاندار مکانات اور سواریاں اور اولاد اور حشم و خدم بہت کچھ عطا فرمایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبرانہ آزمائش میں مبتلا کیا یہ سب چیزیں ان کے ہاتھ سے نکل گئی اور بدن میں بھی ایسی سخت بیماری لگ گئی جیسے جذام ہوتا ہے کہ بدن کا کوئی حصہ بجز زبان اور قلب کے اس بیماری سے نہ بچا وہ اس حالت میں زبان و قلب کو اللہ کی یاد میں مشغول رکھتے اور شکر ادا کرتے رہتے تھے۔ اس شدید بیماری کی وجہ سے سب عزیزوں، دوستوں اور پڑوسیوں نے ان کو الگ کر کے آبادی سے باہر ایک کوڑا کچرہ ڈالنے کی جگہ پر ڈال دیا۔ کوئی ان کے پاس نہ جاتا تھا صرف ان کی بیوی ان کی خبر گیری کرتی تھی جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بیٹی یا پوتی تھی جس کا نام لیّا بنت میشا ابن یوسف (علیہ السلام) بتلایا جاتا ہے (ابن کثیر) مال و جائیداد تو سب ختم ہوچکا تھا ان کی زوجہ محترمہ محنت مزدوری کر کے اپنے اور ان کے لئے رزق اور ضروریات فراہم کرتی اور ان کی خدمت کرتی تھیں۔ ایوب (علیہ السلام) کا یہ ابتلاء و امتحان کوئی حیرت و تعجب کی چیز نہیں، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الصالحون ثم الامثل فالامثل، یعنی سب سے زیادہ سخت بلائیں اور آزمائشیں انبیاء (علیہم السلام) کو پیش آتی ہیں ان کے بعد دوسرے صالحین کو درجہ بدرجہ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ہر انسان کا ابتلاء اور آزمائش اس کی دینی صلابت اور مضبوطی کے اندازے پر ہوتا ہے جو دین میں جتنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے اتنی اس کی آزمائش و ابتلاء زیادہ ہوتی ہے (تاکہ اسی مقدار سے اس کے درجات اللہ کے نزدیک بلند ہوں) حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے زمرہ انبیاء (علیہم السلام) میں دینی صلابت اور صبر کا ایک امتیازی مقام عطا فرمایا تھا (جیسے داؤد (علیہ السلام) کو شکر کا ایسا ہی امتیاز دیا گیا تھا) مصائب و شدائد پر صبر میں حضرت ایوب (علیہ السلام) ضرب المثل ہیں۔ یزید بن میسرہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کو مال و اولاد وغیرہ سب دنیا کی نعمتوں سے خالی کر کے آزمائش فرمائی تو انہوں نے فارغ ہو کر اللہ کی یاد اور عبادت میں اور زیادہ محنت شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے مال جائیداد اور دولت دنیا اور اولاد عطا فرمائی جس کی محبت میرے دل کے ایک ایک جزء پر چھا گئی پھر اس پر بھی شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے ان سب چیزوں سے فارغ اور خالی کردیا اور اب میرے اور آپ کے درمیان حائل ہونے والی کوئی چیز باقی نہ رہی۔ حافظ ابن کثیر یہ مذکورہ روایات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ وہب بن منبہ سے اس قصہ میں بڑی طویل روایات منقول ہیں جن میں غرابت پائی جاتی ہے اور طویل ہیں اس لئے ہم نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی دعا صبر کے خلاف نہیں : حضرت ایوب (علیہ السلام) اس شدید بلاء میں کہ سب مال و جائیداد اور دولت و دنیا سے الگ ہو کر ایسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہوئے کہ لوگ پاس آتے ہوئے گھبرائیں، بستی سے باہر ایک کوڑے کچرے کی جگہ پر سات سال چند ماہ پڑے رہے کبھی جزع و فزع یا شکایت کا کوئی کلمہ زبان پر نہیں آیا۔ نیک بی بی لیّا زوجہ محترمہ نے عرض بھی کیا کہ آپ کی تکلیف بہت بڑھ گئی ہے اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ تکلیف دور ہوجائے تو فرمایا کہ میں نے ستر سال صحیح تندرست اللہ کی بیشمار نعمت و دولت میں گزارے ہیں کیا اس کے مقابلے میں سات سال بھی مصیبت کے گزرنے مشکل ہیں۔ پیغمبرانہ عزم و ضبط اور صبر و ثبات کا یہ عالم تھا کہ دعا کرنے کی بھی ہمت نہ کرتے تھے کہ کہیں صبر کے خلاف نہ ہوجائے (حالانکہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا اور اپنی احتیاج و تکلیف پیش کرنا بےصبری میں داخل نہیں) بالآخر کوئی ایسا سبب پیش آیا جس نے ان کو دعا کرنے پر مجبور کردیا اور جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے یہ دعا دعا ہی تھی کوئی بےصبری نہیں تھی حق تعالیٰ نے ان کے کمال صبر پر اپنے کلام میں مہر ثبت فرما دی ہے فرمایا اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا اس سبب کے بیان میں روایات بہت مختلف اور طویل ہیں اس لئے ان کو چھوڑا جاتا ہے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے کہ (جب ایوب (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور ان کو حکم ہوا کہ زمین پر ایڑ لگائیے یہاں سے صاف پانی کا چشمہ پھوٹے گا اس سے غسل کیجئے اور اس کا پانی پیجئے تو یہ سارا روگ چلا جائے گا۔ حضرت ایوب نے اس کے مطابق کیا تمام بدن جو زخموں سے چور تھا اور بجز ہڈیوں کے کچھ نہ رہا تھا اس چشمہ کے پانی سے غسل کرتے ہی سارا بدن کھال اور بال یکایک اپنی اصلی حالت پر آگئے تو) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت کا ایک لباس بھیج دیا وہ زیب تن فرمایا اور اس کوڑے کچرے سے الگ ہو کر ایک گوشہ میں بیٹھ گئے۔ زوجہ محترمہ حسب عادت ان کی خبر گیری کے لئے آئی تو ان کو اپنی جگہ پر نہ پا کر رونے لگی۔ ایوب (علیہ السلام) جو ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے ان کو نہیں پہچانا کہ حالت بدل چکی تھی، انہیں سے پوچھا کہ اے خدا کے بندے (کیا تمہیں معلوم ہے کہ) وہ بیمار مبتلا جو یہاں پڑا رہتا تھا کہاں چلا گیا، کیا کتوں یا بھیڑیوں نے اسے کھالیا ؟ اور کچھ دیر تک اس معاملے میں ان سے گفتگو کرتی رہی۔ یہ سب سن کر ایوب (علیہ السلام) نے ان کو بتلایا کہ میں ہی ایوب ہوں مگر زوجہ محترمہ نے اب تک بھی نہیں پہچانا۔ کہنے لگی اللہ کے بندے کیا آپ میرے ساتھ تمسخر کرتے ہیں تو ایوب (علیہ السلام) نے پھر فرمایا کہ غور کرو میں ہی ایوب ہوں اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرما لی اور میرا بدن ازسرنو درست فرما دیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کا مال و دولت بھی ان کو واپس دے دیا اور اولاد بھی، اور اولاد کی تعداد کے برابر مزید اولاد بھی دے دی (ابن کثیر) ابن مسعود نے فرمایا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے سات لڑکے سات لڑکیاں تھیں اس ابتلاء کے زمانے میں یہ سب مر گئے تھے، جب اللہ نے ان کو عافیت دی تو ان کو بھی دوبارہ زندہ کردیا اور ان کی اہلیہ سے نئی اولاد بھی اتنی ہی اور پیدا ہوگئی جس کو قرآن میں وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ فرمایا ہے۔ ثعلبی نے کہا کہ یہ قول ظاہر آیت قرآن کے ساتھ اقرب ہے۔ (قرطبی) بعض حضرات نے فرمایا کہ نئی اولاد خود اپنے سے اتنی ہی مل گئی جتنی پہلے تھی اور ان کے مثل اولاد سے مراد اولاد کی اولاد ہے۔ واللہ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّہٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَـمُ الرّٰحِمِيْنَ۝ ٨٣ۚۖ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع بالألفاظ المعروفة، وقوله : أُولئِكَ يُنادَوْنَمِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] فاستعمال النّداء فيهم تنبيها علی بُعْدهم عن الحقّ في قوله : وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] ، وقوله : إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] فإنه أشار بِالنِّدَاء إلى اللہ تعالی، لأنّه تَصَوَّرَ نفسَهُ بعیدا منه بذنوبه، وأحواله السَّيِّئة كما يكون حال من يَخاف عذابَه، وقوله : رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] فالإشارة بالمنادي إلى العقل، والکتاب المنزَّل، والرّسول المُرْسَل، وسائر الآیات الدَّالَّة علی وجوب الإيمان بالله تعالی. وجعله منادیا إلى الإيمان لظهوره ظهورَ النّداء، وحثّه علی ذلك كحثّ المنادي . وأصل النِّداء من النَّدَى. أي : الرُّطُوبة، يقال : صوت نَدِيٌّ رفیع، واستعارة النِّداء للصَّوْت من حيث إنّ من يَكْثُرُ رطوبةُ فَمِهِ حَسُنَ کلامُه، ولهذا يُوصَفُ الفصیح بکثرة الرِّيق، ويقال : نَدًى وأَنْدَاءٌ وأَنْدِيَةٌ ، ويسمّى الشَّجَر نَدًى لکونه منه، وذلک لتسمية المسبَّب باسم سببِهِ وقول الشاعر : 435- كَالْكَرْمِ إذ نَادَى مِنَ الكَافُورِ «1» أي : ظهر ظهورَ صوتِ المُنادي، وعُبِّرَ عن المجالسة بالنِّدَاء حتی قيل للمجلس : النَّادِي، والْمُنْتَدَى، والنَّدِيُّ ، وقیل ذلک للجلیس، قال تعالی: فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] ومنه سمّيت دار النَّدْوَة بمكَّةَ ، وهو المکان الذي کانوا يجتمعون فيه . ويُعَبَّر عن السَّخاء بالنَّدَى، فيقال : فلان أَنْدَى كفّاً من فلان، وهو يَتَنَدَّى علی أصحابه . أي : يَتَسَخَّى، وما نَدِيتُ بشیءٍ من فلان أي : ما نِلْتُ منه نَدًى، ومُنْدِيَاتُ الكَلِم : المُخْزِيَات التي تُعْرَف . ( ن د ی ) الندآ ء کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں اور کبھی نفس آواز پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ میں اندر سے مراد آواز و پکار ہے یعنی وہ چو پائے صرف آواز کو سنتے ہیں اور اس کلام سے جو مفہوم مستناد ہوتا ہے اسے ہر گز نہیں سمجھتے ۔ اور کبھی اس کلام کو جس سے کوئی معنی مفہوم ہوتا ہو اسے ندآء کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو ۔ میں نماز کے لئے اذان دینا مراد ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے ۔ میں بھی نداء کے معنی نماز کی اذان دینے کے ہیں اور شریعت میں ند اء الصلوۃ ( اذان ) کے لئے مخصوص اور مشہور کلمات ہیں اور آیت کریمہ : ۔ أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ان کو گویا دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے : ۔ میں ان کے متعلق نداء کا لفظ استعمال کر کے متنبہ کیا ہے کہ وہ حق سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ نیز فرمایا ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کے ذہنی جانب سے پکارا فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] جب موسیٰ ان ان کے پاس آئے تو ندار آئی ۔ ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا میں اللہ تعالیٰ کے متعلق نادی کا لفظ استعمال کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے گناہ اور احوال سینہ کے باعث اس وقت اپنے آپ کو حق اللہ تعالیٰ سے تصور کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے کی حالت ہوتی ہے اور آیت کریمہ ؛ ۔ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] اے پروردگار ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا ۔ جو ایمان کے لئے پکاررہا تھا ۔ میں منادیٰ کا لفظ عقل کتاب منزل رسول مرسل اور ان آیات الہیہ کو شامل ہے جو ایمان باللہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں اور ان چیزوں کو منادی للا یمان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ندا کی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور وہ پکارنے والے کی طرح ایمان لانے کی طرف دعوت دے رہی ہیں ۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں ۔ اور آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بنا پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بھی بلند اور حسین ہوگی اسی سے فصیح شخص کو کثرت ریق کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور ندی کے معنی مجلس کے بھی آتے ہیں اس کی جمع انداء واندید آتی ہے ۔ اور در خت کو بھی ندی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ نمی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ تسمیۃ المسبب با سم السبب کے قبیل سے ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 420 ) کالکرم اذا نادٰی من الکافور جیسا کہ انگور کا خوشہ غلاف ( پردہ ) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ منادی کرنے والے کی آواز ہوتی ہے ۔ کبھی نداء سے مراد مجالست بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے مجلس کو النادی والمسدیوالندی کہا جاتا ہے اور نادیٰ کے معنی ہم مجلس کے بھی آتے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلالے ۔ اور اسی سے شہر میں ایک مقام کا نام درا لندوۃ ہے ۔ کیونکہ اس میں مکہ کے لوگ جمع ہو کر باہم مشورہ کیا کرتے تھے ۔ اور کبھی ندی سے مراد مخاوت بھی ہوتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ فلان اندیٰ کفا من فلان وپ فلاں سے زیادہ سخی ہے ۔ ھو یتندٰی علیٰ اصحابہ ۔ وہ اپنے ساتھیوں پر بڑا فیاض ہے ۔ ما ندیت بشئی من فلان میں نے فلاں سے کچھ سخاوت حاصل نہ کی ۔ مندیات الکلم رسوا کن باتیں مشہور ہوجائیں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ۔۔ چھوہی نہیں سکے گی ضر الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم والفضل والعفّة، وإمّا في بدنه لعدم جارحة ونقص، وإمّا في حالة ظاهرة من قلّة مال وجاه، وقوله : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] ، فهو محتمل لثلاثتها، ( ض ر ر) الضر کے معنی بدحالی کے ہیں خواہ اس کا تعلق انسان کے نفس سے ہو جیسے علم وفضل اور عفت کی کمی اور خواہ بدن سے ہو جیسے کسی عضو کا ناقص ہونا یا قلت مال وجاہ کے سبب ظاہری حالت کا برا ہونا ۔ اور آیت کریمہ : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] اور جوان کو تکلیف تھی وہ دورکردی ۔ میں لفظ ضر سے تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ،

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٣) اور ایوب (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر کیجیے جب کہ انہوں نے شدید مرض میں مبتلا ہونے کے بعد اپنے رب کو پکارا کہ مجھے بہت سخت جسمانی تکلیف پہنچ رہی ہے آپ مہربانی فرمائیں اور اس تکلیف سے مجھے نجات دیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٣ (وَاَیُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّہٗٓ ) ” حضرت ایوب (علیہ السلام) بھی جلیل القدر نبی ہیں اور قرآن میں آپ ( علیہ السلام) کو صابر کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شدید بیماریوں کے ذریعے آپ ( علیہ السلام) کی آزمائش کی مگر آپ ( علیہ السلام) ہر حال میں صابر اور شاکر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ” صبرایوب ‘ ِ ‘ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ واضح رہے کہ شکوہ و شکایت اور جزع فزع صبر کے منافی ہے ‘ جس کا اظہار آپ ( علیہ السلام) نے کبھی نہیں کیا ‘ البتہ دعا صبر کے منافی نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

76. There is a wide divergence of opinion concerning the personality, period and nationality of Prophet Job. Some commentators opine that he was an Israelite, while others think that he was an Egyptian or an Arab who lived before Prophet Moses, or during the time of Prophets David and Solomon (peace be upon them all). As all these conjectures are based on the Book of Job, which is self-contradictory and against the Quran. Nothing can be said about him with certainty, but in the light of the Book of Isaiah (8th century BC) and the Book of Ezekiel (6th century BC), which are more trustworthy works, he lived in the 9th century BC or even earlier. As regards to his nationality, the context in which his name occurs in (Surah An-Nisa, Ayat 163) and (Surah Al-Anaam, Ayat 84), it may be assumed that he was an Israelite. According to a saying of Wahb bin Munabbih, he might have been from the offspring of Esau, a son of Prophet Isaac. 77. The words of the prayer are note-worthy. Prophet Job mentions his distress but does not say anything more to his Lord except: You are the most Merciful. This is a great proof of his fortitude, noble and contented nature.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :76 حضرت ایوب کی شخصیت ، زمانہ ، قومیت ، ہر چیز کے بارے میں اختلاف ہے ۔ جدید زمانے کے محققین میں سے کوئی ان کو اسرائیلی قرار دیتا ہے ، کوئی مصری اور کوئی عرب ۔ کسی کے نزدیک ان کا زمانہ حضرت موسیٰ سے پہلے کا ہے ، کوئی انہیں حضرت داؤد و سلیمان کے زمانے کا آدمی قرار دیتا ہے ، اور کوئی ان سے بھی متاخر ۔ لیکن سب کے قیاسات کی بنیاد اس سِفْرِ ایوب یا صحیفہ ایوب پر ہے جو بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں شامل ہے ۔ اسی کی زبان ، انداز بیان ، اور کلام کو دیکھ کر یہ مختلف رائیں قائم کی گئی ہیں ، نہ کہ کسی اور تاریخی شہادت پر ۔ اور اس سِفْرِ ایوب کا حال یہ ہے کہ اس کے اپنے مضامین میں بھی تضاد ہے اور اس کا بیان قرآن مجید کے بیان سے بھی اتنا مختلف ہے کہ دونوں کو بیک وقت نہیں مانا جا سکتا ۔ لہٰذا ہم اس پر قطعاً اعتماد نہیں کر سکتے ۔ زیادہ سے زیادہ قابل اعتماد شہادت اگر کوئی ہے تو وہ یہ ہے کہ یسعیاہ نبی اور حزقی ایل نبی کی صحیفوں میں ان کا ذکر آیا ہے ، اور یہ صحیفے تاریخی حیثیت سے زیادہ مستند ہیں ۔ یسعیاہ نبی آٹھویں صدی اور حزقی ایل نبی چھٹی صدی قبل مسیح میں گزرے ہیں ، اس لیے یہ امر یقینی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام نویں صدی یا اس سے پہلے کے بزرگ ہیں ۔ رہی ان کی قومیت تو سورہ نساء آیت 163 اور سورہ انعام آیت 84 میں جس طرح ان کا ذکر آیا ہے اس سے گمان تو یہی ہوتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل ہی میں سے تھے ، مگر وہب بن منَبّہ کا یہ بیان بھی کچھ بعید از قیاس نہیں ہے کہ وہ حضرت اسحاق کے بیٹے عیسُو کی نسل سے تھے ۔ سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :77 دعا کا انداز کس قدر لطیف ہے ۔ مختصر ترین الفاظ میں اپنی تکلیف کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے بعد بس یہ کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ تو ارحم الراحمین ہے آگے کوئی شکوہ یا شکایت نہیں ، کوئی عرض مدعا نہیں ، کسی چیز کا مطالبہ نہیں ۔ اس طرز دعا میں کچھ ایسی شان نظر آتی ہے جیسے کوئی انتہائی صابر و قانع اور شریف و خود دار آدمی پے در پے فاقوں سے بے تاب ہو اور کسی نہایت کریم النفس ہستی کے سامنے بس اتنا کہہ کر رہ جائے کہ میں بھوکا ہوں اور آپ فیاض ہیں آگے کچھ اس کی زبان سے نہ نکل سکے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

37: حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بارے میں قرآن کریم نے اتنا بتایا ہے کہ انہیں کوئی سخت بیماری لا حق ہوگئی تھی لیکن انہوں نے صبر و ضبط سے کام لیا، اور اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا عطا فرمائی، وہ بیماری کیا تھی؟ اس کی تشریح قرآن کریم نے بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی، ا سلیے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں سمجھی، اس لیے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے، اور جو روایتیں اس سلسلے میں مشہور ہیں، وہ عام طور سے مستند نہیں ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨٣۔ ٨٤:۔ سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد اس سورة میں اور سورة ص میں ایوب (علیہ السلام) کا ذکر قرآن شریف میں آیا ہے اس واسطے بعضے علماء کا قول ہے کہ ایوب (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سلیمان (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ہیں لیکن تاریخ ابن عساکر میں ہے ١ ؎ کہ ایوب (علیہ السلام) ‘ لوط (علیہ السلام) کے نواسے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے انبیاء ہیں ‘ اس تفسیر میں ایک جگہ یہ ذکر کردیا گیا ہے کہ ابوالقاسم علی ابن عساکر متوفی ٥٧١ ھ شام کے ثقہ اور مشہور علماء میں سے ہیں اور ان کی تاریخ دمشق اور باقی کی تصنیفات معتبر ہیں ‘ ترمذی اور ابن ماجہ میں سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ٢ ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے۔ اس عادت الٰہی کے موافق ایوب (علیہ السلام) کی یہ آزمائش ہوئی کہ ان کے بیٹے سب مرگئے مال سارا برباد ہوگیا ‘ خود ایسے بیمار ہوئے کہ تمام بدن میں کیڑے پڑگئے ‘ بستی کے لوگوں نے بستی کے باہر ایک کونے میں ان کو ڈال دیا ‘ سوائے ان کی بی بی کے اور کسی نے ساتھ نہ دیا۔ بعضی روایتوں کے موافق تیرہ برس اور بعضی کے موافق اٹھارہ برس یہی حال رہا۔ صحیح سند سے مسند بزار مستدرک حاکم اور صحیح ابن حبان میں انس بن مالک سے روایت ہے ٣ ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کے کسی دوست نے ایک دن یہ بات کہی کہ ایوب (علیہ السلام) سے کوئی ایسا بڑا گناہ ہوگیا ہے جو اٹھارہ برس کی تکلیف اٹھا کر بھی معاف نہیں ہوا ‘ اس سخت کلمہ کی برداشت ایوب (علیہ السلام) نہ کرسکے اور اس کلمہ کے سننے کے بعد انہوں نے اپنی تندرستی کے لیے دعا کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما کر ان کو تندرست کردیا جس کا تفصیلی قصہ سورة صٓ میں آوے گا ‘ تفسیر ضحاک ٤ ؎ میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا قول ہے کہ تندرست ہوجانے کے بعد ایوب (علیہ السلام) کے ٢٣ لڑکے پیدا ہوئے۔ صحیح بخاری اور صحیح ابن حبان میں ٥ ؎ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کے اچھے ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر سونے کی ٹڈیوں کا مینہ برسایا جس سے ایوب (علیہ السلام) بہت مالدار ہوگئے وَذِکْرٰی لِلْعَابِدِیْنَ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کے حق میں یہ قصہ اس بات کی نصیحت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اس طرح آزماتا ہے اور پھر اس کا انجام یوں اچھا ہوتا ہے۔ (١ ؎ تہذیب تاریخ ابن عساکر ص ١٩١ ج ٣ ) (٢ ؎ الترغیب و الترہیب ص ٢٨٠ ج ٤ ) (٣ ؎ فتح الباری ص ٢٤٧ ج ٣۔ کتاب الانبیائ۔ ) (٤ ؎ فتح الباری ص ٢١٧ ج ٣ ) ٥ ؎ فتح الباری ص ٢٤٧ ج ٣

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:83) وایوب۔ اس سے قبل فعل اذکر مقدرہ ہے جیسا کہ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے واذکر عبدنا ایوب اذ نادی ربہ (38: 41) اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو جب اس نے اپنے پروردگار کو پکارا۔ مسنی۔ مس واحد مذکر غائب فی ضمیر مفعول واحدمتکلم۔ پہنچی ہے مجھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 ۔ کہتے ہیں کہ حضرت ایوب ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتیں دے رکھی تھیں اور وہ بڑے شکر گزار بندے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر کی آزمائش کے لئے تدریحاً تمام نعمتیں چھین لیں اور ساتھ ہی جسمانی امراض میں بھی مبتلا کردیا گیا مگر بایں ہمہ وہ ناشکری کا ایک لفظ بھی زبان پر نہ لائے۔ آخر کار جب تکلیف حد سے بڑھ گئی تب دعا کی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعو کو شرف قبولیت بخشا اور اپنے فضل و کرم سے دوبارہ دولت وصحت سے نوازا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : دو عظیم حکمران اور پیغمبروں کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کا بیان۔ تذکرہ سیدنا ایوب (علیہ السلام) حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر مبارک چار سورتوں میں سورۃ النساء : ١٦٣ الانعام : ٨٤ الانبیاء : ٨٣ تا ٨٤ آ : ٤١ تا ٤٤ سورۂ نساء اور سورة انعام میں صرف ان کا اسم مبارک آیا ہے سورة الانبیاء اور ص میں مختصر طور پر بیان ہوا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) پر سخت آزمائش آئی۔ بیماری اور مصائب و مشکلات نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا تھا مگر وہ صبر وشکر کے سوا کوئی بات زبان پر نہیں لائے۔ اللہ کے حضور نہ صرف عبدیت کا اظہار کرتے رہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ رجوع الی اللہ میں اضافہ ہوا۔ ان کے بارے میں فرمایا : ” وہ بہت ہی اچھا بندہ اور ہماری طرف ہی رجوع کرنے والا تھا۔ “ (آ : ٤٤) مولانا آزاد کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بنی یقطان کی نسل سے ہیں اور عربی نژاد ہیں۔ اس لیے یا تو ابراہیم (علیہ السلام) کے ہم زمانہ ہیں یا پھر حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کے معاصر ہیں۔ محققین تورات کی اکثریت کا کہنا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) عرب تھے۔ عرب میں پیدا ہوئے اور تاریخ میں سفر ایوب کے نام سے جس کتاب کا تذکرہ پایا جاتا ہے وہ اصلاً قدیم عربی میں تھی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے عربی سے عبرانی میں منتقل کیا۔ سفر ایوب میں ہے کہ وہ شہر عوض ( مشرقی فلسطین) میں قیام پذیر تھے۔ ان کے مویشیوں پر سبا کے لوگوں نے حملہ کیا تھا۔ “ امام بخاری نے کتاب الانبیاء میں انبیاء کی ترتیب قائم فرمائی ہے اس میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کیا گیا ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر : وہ پاک باز انسان تھے اللہ تعالیٰ کے ہاں انبیاء کی جماعت میں شامل ہیں۔ دولت اور کثرت اہل و عیال کی وجہ سے بہت خوش بخت تھے مگر ایک آزمائش نے آلیا مال ومتاع، اہل و عیال، جسم وجان سب پر مصیبت آئی۔ مال ومتاع ختم ہوا اہل و عیال فوت ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی سخت بیماری نے آلیا، شکوہ و شکایت کرنے کی بجائے اپنے رب کے حضور صبر وشکر کرتے رہے۔ (وَأَیُّوْبَ إِذْ نَادَیْ رَبَّہُ أَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ) [ الانبیاء : ٨٣] ” اور اس وقت کو یاد کیجئے جب ایوب نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ میں بیمار ہوگیا ہوں اور تو ارحم الراحمین ہے۔ “ دعا کا انداز اس قدر لطیف اور موّدب ہے کہ صرف اپنی تکلیف کا مختصر ذکر کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ کہہ کرچپ ہوجاتے ہیں نہ شکوہ کیا اور نہ کسی چیز کا مطالبہ کیا، ادب کا یہ عالم ہے کہ یہ نہیں کہا ” تو نے مصیبت میں ڈال دیا “ بلکہ بیماری کو شیطان کی جانب منسوب کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں : ” شیطان نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ “ امام احمد (رض) نے کتاب الزہد میں حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت نقل کی ہے۔ ” حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کے دور میں ایک بار شیطان طبیب کی شکل میں آپ کی بیوی کے پاس آیا۔ نیک بیوی نے علاج کرنے کے لیے کہا اس نے شرط رکھی کہ اگر تیرا خاوند صحت یاب ہوجائے تو میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنا آپ نے میرے شوہر کو شفا دی ہے۔ “ میرے علاج کا یہی معاوضہ ہے۔ بیوی نے وعدہ کرلیا بعدازاں اس کا ذکر ایوب (علیہ السلام) سے کیا ایوب (علیہ السلام) کو اس پر بہت غصہ آیا۔ فرمایا کہ وہ شیطان تھا جو غلط الفاظ تم سے کہلوانا چاہتا تھا اور تو نے کہنے کا وعدہ کرلیا۔ قسم کھائی کہ جب میں صحت یاب ہوجاؤں تو تجھے سو کوڑے ماروں گا۔ یاد رہے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے وعدہ کیا تھا مگر یہ الفاظ نہیں کہے تھے۔ جب ایوب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے شفا دی تو قسم پوری کرنے کا سوال پیش آیا ایک طرف غم خوار اور خدمت گزار بیوی تھی دوسری طرف قسم پوری کرنے کا مسئلہ ! حضرت ایوب (علیہ السلام) پریشان تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے نیک بیوی کو شوہر کے ساتھ وفاداری کا یہ صلہ دیا کہ حکم ہوا کہ آپ اپنی قسم نہ توڑیں بلکہ سو تنکوں کا ایک گٹھا بنائیں اور اس سے اپنی بیوی کو ایک ضرب لگا دیں۔ اس طرح قسم پوری ہوجائے گی۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا۔ “ (وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِہِ وَلَا تَحْنَثْ إِنَّا وَجَدْنَاہُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّہُ أَوَّابٌ) [ آ : ٤٤] ” اور ہم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لو اور اس سے مار اور اپنی قسم پوری کرو بیشک ہم نے انہیں صبر کرنے والا پایا بہت ہی عاجز بندہ ہر حال میں وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔ “ حضرت ایوب کو حکم خداوندی : اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی آہ وزاریوں کو قبول فرماتے ہوئے صحت کاملہ عطا فرمائی اور حکم دیا کہ اپنے پاؤں کو زمین پر ماریں جس سے ایک چشمہ جاری ہوگا۔ ٹھنڈے پانی سے غسل کریں اور اسے پئیں حضرت ایوب (علیہ السلام) نے چشمہ سے غسل کیا اور اس سے پانی پیا۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے سے بھی بہتر صحت اور حسن و جمال عطا فرمایا۔ جس کا ذکر سورة صٓ کی آیت ٤٢ میں کیا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ بَیْنَمَا أَیُّوبُ یَغْتَسِلُ عُرْیَانًا خَرَّ عَلَیْہِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَہَبٍ ، فَجَعَلَ یَحْثِی فِی ثَوْبِہِ ، فَنَادَی رَبُّہُ یَا أَیُّوبُ ، أَلَمْ أَکُنْ أَغْنَیْتُکَ عَمَّا تَرَی قَالَ بَلَی یَا رَبِّ ، وَلَکِنْ لاَ غِنَی لِی عَنْ بَرَکَتِکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الانبیاء ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا حضرت ایوب غسل فرما رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سونے کی ٹڈیاں آسمان سے برسائیں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) انہیں پکڑ پکڑ کر کپڑے میں ڈالنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) سے استفسار فرمایا کہ ایوب ! کیا ہم نے سب کچھ دے کر تجھے غنی نہیں کردیا ؟ کہنے لگے کیوں نہیں لیکن میں تیری برکات سے لا پروا نہیں ہوسکتا۔ “ تفسیر بالقرآن حضرت ایوب (علیہ السلام) کے فضائل : ١۔ حضرت ایوب کا تذکرہ قرآن مجید میں چار بار ہوا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کی طرف وحی نازل فرمائی۔ (النساء : ١٦٣) ٣۔ حضرت ایوب محسنین میں سے تھے۔ (الانعام : ٨٤) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کو اپنی رحمت سے نوازا۔ (الانبیاء : ٨٤) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے حضرت ایوب کو اہل و عیال اور مال و دولت سے نوازا۔ (ص : ٤٣) ٦۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ ( ص : ٤٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب ذرا مصائب میں مبتلا کر کے آزمانے کا واقعہ آتا ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ۔ وایوب اذ نادی۔۔۔۔۔۔۔ و ذکری للعبدین (٤٨) ” ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ قرآن مجید کے ابتلاء کے قصوں میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت قصہ ہے۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں یہ قصہ آیا ہے۔ یہ مجمل شکل میں آیا ہے۔ تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اس جگہ یہاں حضرت ایوب کی دعا اور قبولیت دعا کا ذکر ہے کہون کہ اس سورة میں موضوع اور مضمون یہ اپنے بندوں پر رحمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک اور آزمائش میں ان کی امداد ہے خواہ یہ آزمائش قوم کی طرف سے تکذیب کی صورت میں ہو ‘ مثلا قصہ ابراہیم ‘ لوط اور نوح (علیہم السلام) میں یا اللہ کی جانب سے انعامات میں آزمائش ہو جس طرح دائود و سلیمان (علیہما السلام) یا مرض وغیرہ کی آزمائش ہو جس طرح حضرت ایوب (علیہ السلام) کے قصے میں ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے یہاں جو دعا کی ہے تو اس میں انہوں نے صرف یہ بتایا ہے کہ اللہ میرا یہ حال ہے اور رب تعالیٰ کی یہ صفت بیان کی ہے : انت ارحم الرحمین (١٢ : ٣٨) اس کے بعد انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میرے حالات کو بدل دے ‘ یہ اس لیے کہ وہ مصیبتوں پر صبر کرنے والے تھے ‘ وہ اللہ کے سامنے کوئی تجویز یا مطالبہ نہ کرتے تھے۔ یہ ان کی جانب سے بارگاہ رب العزت میں ادب اور احترام کا رویہ تھا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) ایک ایسے صابر و شاکر شخصیت تھے کہ سخت سے سخت حالات میں وہ صبر کرتے تھے۔ کوئی فریادنہ کرتے تھے۔ آپ کا صبر اس قدر مشہور ہوا کہ وہمیشہ ان کی مثال دی جاتی ہے۔ آپ اس قدر صابر اور شاکر تھے کہ آپ نے اس مصیبت کے رفع ہونے کی دعا بھی نہیں فرمائی۔ پورا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو سب کچھ معلوم تھا۔ اس لیے سوال کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ جب حضرت ایوب (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف اس اعتماد کے ساتھ اور اس مودبانہ طریقے سے متوجہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فوراً ان کی دعا کو قبول کیا ‘ آزمائش ختم ہوگئی اور رحمت خدا وندی آن پہنچی۔ نہ صرف یہ کہ ان کی تکلیف دور ہوئی بلکہ ان کے اہل و عیال بھی ان کو دے دیئے اور اسی قدر مزید بھی دیئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت ایوب (علیہ السلام) کی مصیبت اور اس سے نجات کا تذکرہ ان دو آیتوں میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کا پھر ان کے دعا کرنے کا اور دعا قبول ہونے کا اور آل اولاد کے جدا ہونے کے بعد دو گنا ہو کر مل جانے کا اجمالی تذکرہ ہے۔ سورة ص میں ان کی تکلیف اور دعا اور شفایاب ہونا مذکور ہے۔ قرآن مجید میں دونوں جگہ اجمال ہے اور اس کا ذکر نہیں ہے کہ کیا تکلیف تھی اور کیسی تکلیف تھی۔ اور کتنے دن تک رہی اور کسی صحیح صریح مرفوع حدیث میں بھی اس کی تفسیر نہیں ملتی۔ البتہ قرآن مجید کے سیاق سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بہت زیادہ تکلیف تھی اور عام طور پر جو انبیاء اور صالحین کا ابتلاء ہوتا تھا اس سے زیادہ ہی ابتلاء تھا اور ساتھ ہی یہ بات بھی تھی کہ آل اولاد سب مفقود ہو کر یا ہلاک ہو کر جدا ہوگئے تھے۔ اس بارے میں عام طور پر جو روایات ملتی ہیں عموماً اسرائیلی روایات ہیں جو تفسیر درمنثور میں مذکور ہیں۔ قرآن مجید کی تصریح سے معلوم ہوا کہ ایوب (علیہ السلام) کے دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت و عافیت عطا فرما دی اور یہ محض اللہ کی رحمت سے تھا۔ اس میں آئندہ آنے والے عبادت گزاروں کے لیے بھی ایک یاد گار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کا ابتلا یا کسی کی کتنی ہی بڑی مصیبت ہو اللہ تعالیٰ دعا قبول فرماتا ہے اور مصیبت کو دور فرما دیتا ہے۔ یہ جو فرمایا کہ ہم نے ان کا کنبہ واپس کردیا اور ان جیسے اور بھی دے دیئے اس کے بارے میں مفسرین نے دونوں احتمال لکھے ہیں کہ صحت و عافیت کے بعد یا تو ان کو اتنی گمشدہ اولاد واپس کردی گئی جو ان سے جدا ہوگئی تھی اور اگر وہ وفات پا گئے تھے تو اتنے ہی ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اور پیدا فرما دیئے۔ اور مثلھم معھم بھی ساتھ فرمایا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی سابق اولاد تھی اتنی ہی مزید اولاد اس کی اپنی صلب سے یا ان کی اولاد کی صلب سے عطا فرما دی۔ یہاں پر ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں اور مزید تفصیل انشاء اللہ تعالیٰ سورة ص کی تفسیر میں لکھیں گے۔ البتہ اتنی بات یہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اسرائیلی روایات میں جو یہ مذکور ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے جسم میں کیڑے پڑگئے تھے یا یہ کہ کوئی برص تھا اور کوڑی پر پڑے رہے۔ یہ بات دل کو نہیں لگتی کیونکہ اس حالت میں دعوت و تبلیغ کا کام جاری نہیں رہ سکتا اور عامۃ الناس قریب نہیں آسکتے۔ اس لیے یہ بات لائق قبول نہیں ہے۔ پھر بیماری تو غیر اختیاری تھی۔ کوڑی پر پڑے رہنے کو اختیار فرمانا یہ تو حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی طہارت اور نظافت طبع کے بھی خلاف ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

57:۔ ” وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰي الخ “ یہ چھٹی تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ ایوب (علیہ السلام) پر ابتلا آیا۔ تو انہوں نے دفع مضرت اور کشف مصیبت کیلئے ہمیں پکارا تو ہم نے ان کو مصیبت سے نجات دیدی اور تمام کھوئی ہوئی نعمتیں ان کو واپس دیدیں۔ ” رحمةً الخ “ یہ مفعول لہ ہے یعنی ہم نے یہ سب کچھ ایوب (علیہ السلام) پر رحمت و شفقت کیلئے کیا اور تاکہ دوسرے عبادت گذار بندوں کو اس سے نصیحت و عبرت حاصل ہو اور وہ مصائب و مشکلات میں صبر کریں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مصائب و مشکلات میں استعانت و استغاثہ کریں۔ ” فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ “ ان کی دعا ہم ہی نے قبول کی۔ ” فَکَشَفْنَا “ ان کی تکلیف ہم ہی نے دور کی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(83) اور اے پیغمبر ! ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی کیجئے جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو سخت تکلیف پہنچ رہی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کا واقعہ فرمایا جب بیماری کو عرصہ ہوگیا تب انہوں نے ایک دن دعا کی حق تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔