Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 42

سورة الحج

وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوۡدُ ﴿ۙ۴۲﴾

And if they deny you, [O Muhammad] - so, before them, did the people of Noah and 'Aad and Thamud deny [their prophets],

اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں ( تو کوئی تعجب کی بات نہیں ) تو ان سے پہلے نوح کی قوم اورعاد اور ثمود ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Consequences for the Disbelievers Here Allah consoles His Prophet Muhammad for the disbelief of those among his people who opposed him. وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَثَمُودُ وَقَوْمُ إِبْرَاهِيمَ وَقَوْمُ لُوطٍ

کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ منکروں کا انکار آپ کیساتھ کوئی نئی چیز نہیں ۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں ۔ دلائل سامنے تھے ، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا ۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کرلیں ۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخرکار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے ، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر دردناک انجام ہوا ۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا پھر آپ نے آیت ( وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ ١٠٢؀ ) 11-ھود:102 ) تلاوت کی ، پھر فرمایا کہ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کردیا ۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں ، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں ، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں ، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں ، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں ، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے ، جو بلند وبالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں ، وہاں الو بول رہا ہے ، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی ، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بیکار ثابت ہوئی ۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کردیا جیسے فرمان ہے آیت ( اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ 78؀ ) 4- النسآء:78 ) یعنی گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں ۔ کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی ؟ امام ابن ابی الدنیا کتاب التفکر والا عبار میں روایت لائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے ۔ اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر ۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کردے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے ۔ دنیاکی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنادے ، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کردے ۔ گذشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا ۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا ۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کردیئے گئے ۔ پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو ۔ سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں ۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیروشر کی تمیز ہوتی ہے ۔ ابو محمد بن جیارہ اندلسی نے جن کا انتقال ٥١٧ھ میں ہوا ہے اس مضمون کو اپنے چند اشعار میں خوب نبھایا ہے وہ فرماتے ہیں ۔ اے وہ شخص جو گناہوں میں لذت پا رہا ہے کیا اپنے بڑھاپے اور نفس کی برائی سے بھی تو بےخبر ہے؟ اگر نصیحت اثر نہیں کرتی تو کیا دیکھنے سننے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی ؟ سن لے آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو اتنا برا نہیں جتنا ، برا یہ ہے کہ واقعات سے سبق نہ حاصل کیا جائے ۔ یاد رکھ نہ تو دنیا باقی رہے گی نہ آسمان نہ سورج چاند ۔ گو جی نہ چاہے مگر دنیا سے تم کو ایک روز بادل ناخواستہ کوچ کرناہی پڑے گا ۔ کیا امیر ہو کیا غریب کیا شہری ہو یا دیہاتی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ ۔۔ : آیت کے شروع میں ” واؤ “ کا عطف ایک محذوف جملے پر ہے اور وہ محذوف جملہ اور یہ مذکور جملہ دونوں ترغیب و ترہیب پر مشتمل پچھلی آیات کا حاصل بیان کر رہے ہیں۔ وہ جملہ یہ ہے : ” فَاِنْ آمِنُوْا بِکَ مَکَّنَّاھُمْ فِي الْأَرْضِ وَ إِنْ یُّکَذِّبُوْکَ أَخَذْتُھُمْ “ ” پس اگر وہ (یہ سب کچھ سن کر) تجھ پر ایمان لے آئیں تو ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں گے اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو میں انھیں پکڑ لوں گا۔ “ پہلا جملہ سننے والے کی سمجھ کے سپرد کرکے حذف کردیا ہے اور ” وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ “ کا اس پر عطف ڈالا ہے۔ (بقاعی) قرآن مجید میں بعض مقامات پر اس حذف شدہ جملے جیسے جملے مذکور بھی ہیں، مثلاً : (فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِيْ شِقَاقٍ ) [ البقرۃ : ١٣٧ ] ” پھر اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے اور اگر پھرجائیں تو وہ محض ایک مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں۔ “ اور فرمایا : (فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ ) [ آل عمران : ٢٠ ] ” پس اگر وہ تابع ہوجائیں تو بیشک ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے ۔ “ اور فرمایا : (قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ ۭ وَاِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا) [ النور : ٥٤ ] ” کہہ دے اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم پھر جاؤ تو اس کے ذمے صرف وہ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور تمہارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا اور اگر اس کا حکم مانو گے تو ہدایت پاجاؤ گے۔ “ ” وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ ۔۔ “ یہ جملہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے اور ان کا غم دور کرنے کے لیے فرمایا ہے، یعنی اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو میں انھیں پکڑ لوں گا، خواہ وہ کتنی قوت رکھتے ہوں، میں نے ان سے پہلے عمر، قد و قامت، قوت و شوکت، مال و متاع، خبث و نجاست اور حکومت و اقتدار میں ان سے کہیں بڑھی ہوئی قوموں کو، جب وہ باز نہ آئے تو پکڑ لیا اور وہ میری گرفت سے بچ نہ سکے، تو مکہ کے ان کافروں کی کیا بساط ہے ؟ اس لیے آپ غم زدہ نہ ہوں۔ آپ سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے جھٹلایا، جن کی عمریں سب لوگوں سے زیادہ اور جن کا اقتدار نہایت مضبوط تھا اور عاد نے جو بہت لمبے اور نہایت مضبوط قد رکھتے تھے، جن کے بعد ان جیسی قوم پیدا نہیں ہوئی اور ثمود، جنھوں نے میدانوں میں اور پہاڑوں میں چٹانیں تراش کر نہایت مضبوط اور بلند و بالا عمارتیں بنا رکھی تھیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کو جو جبر و تکبر میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے اور لوط (علیہ السلام) کی خبیث اور نجس قوم کو اور مدین والوں کو جنھوں نے حرام طریقے سے کمائے ہوئے مال کے خزانے جمع کر رکھے تھے۔ وَكُذِّبَ مُوْسٰى : موسیٰ (علیہ السلام) کو چونکہ سب لوگوں کو نظر آنے والے اتنے معجزے عطا کیے گئے جو اس سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئے تھے، اس لیے ان کی تکذیب انتہائی بعید بات تھی، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے کلام کا اسلوب بدل دیا اور اس لیے بھی بدل دیا کہ پہلے ذکر کردہ تمام انبیاء کی اقوام نے انھیں جھٹلایا تھا جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل نے انھیں چند ایک کے سوا نہیں جھٹلایا، صرف فرعون کی قوم قبطیوں نے انھیں جھٹلایا تھا۔ رہی بنی اسرائیل کی نافرمانیاں تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس قوم کی بدعملی اور طبیعت کی خست کی وجہ سے تھیں۔ فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ : اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور مسلمانوں کو دلاسا اور تسلی دی ہے کہ میں نے مکہ کے کفار کو بھی اسی طرح مہلت دی ہے، اب جنگ کی اجازت ہے، اگر یہ ایمان لے آئیں تو خیر، ورنہ ان پر بھی میری پکڑ مہاجرین و انصار کی یلغار کی صورت میں تیار ہے۔ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ : ” نَكِيْرِ “ کی ” راء “ کے نیچے کسرہ ہے، کیونکہ اصل میں ” نَکِیْرِيْ “ تھا، میرا عذاب۔ ” یاء “ کو تخفیف کے لیے اور فواصل یعنی آیات کے آخری الفاظ (مثلاً کَفُوْر، عَزِیْز، اَلْاُمُوْر، مَشِیْد، اَلصُّدُوْر وغیرہ) کی موافقت کے لیے حذف کردیا گیا۔ ان پر آنے والے عذابوں کی تفصیل سورة عنکبوت میں ہے، فرمایا : (فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ ) [ العنکبوت : ٤٠ ] ” تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کردیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اور یہ (مجادلہ کرنے والے لوگ) اگر آپ کی تکذیب کرتے ہوں (تو آپ مغموم نہ ہوں کیونکہ ان لوگوں سے پہلے قوم نوح اور عاد وثمود اور قوم ابراہیم اور قوم لوط اور اہل مدین بھی (اپنے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی) تکذیب کرچکے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کاذب قرار دیا گیا (مگر تکذیب کے بعد) میں نے ان کافروں کو (چند روز) مہلت دی جیسے آج کے منکروں کو مہلت دے رکھی ہے پھر میں نے ان کو (عذاب میں) پکڑ لیا تو (دیکھو) میرا عذاب کیسا ہوا۔ غرض کتنی بستیاں ہیں جن کو ہم نے (عذاب سے) ہلاک کیا جن کی یہ حالت تھی کہ وہ نافرمانی کرتی تھیں تو (اب ان کی یہ کیفیت ہے کہ) وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں (یعنی ویران ہیں کیونکہ عادةً اول چھت گرا کرتی ہے پھر دیواریں آپڑتی ہیں) اور (اس طرح ان بستیوں میں) بہت سے بیکار کنویں (جو پہلے آباد تھے) بہت سے پختہ قلعی چونے کے محل (جو اب شکستہ ہوگئے یہ سب ان بستیوں کے ساتھ تباہ ہوئے پس اسی طرح وقت موعود پر اس زمانے کے لوگ بھی عذاب میں پکڑے جاویں گے) تو کیا یہ (سن کر) لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں جس سے ان کے دل ایسے ہوجاویں کہ ان سے سمجھنے لگیں یا ان کے کان ایسے ہوجاویں کہ ان سے سننے لگیں بات یہ ہے کہ (نہ سمجھنے والوں کی کچھ) آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں (ان موجودہ منکرین کے بھی دل اندھے ہوگئے ورنہ پچھلی امتوں کے حالات سے سبق سیکھ لیتے) اور یہ لوگ (نبوت میں شبہ ڈالنے کے لئے) آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں (اور عذاب کے جلدی نہ آنے سے یہ دلیل پکڑتے ہیں کہ عذاب آنے والا ہی نہیں) حالانکہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنا وعدہ خلاف نہ کرے گا (یعنی وعدہ کے وقت ضرور عذاب واقع ہوگا) اور آپ کے رب کے پاس کا ایک دن (جس میں عذاب واقع ہوگا یعنی قیامت کا دن اپنے امتداد یا اشتداد میں) ایک ہزار سال کی برابر ہے تم لوگوں کی شمار کے مطابق (تو یہ بڑے بیوقوف ہیں کہ ایسی مصیبت کا تقاضا کرتے ہیں) اور (جواب مذکور کا خلاصہ پھر سن لو کہ) بہت سی بستیاں ہیں جن کو میں نے مہلت دی تھی اور وہ نافرمانی کرتی تھیں پھر میں نے ان کو (عذاب میں) پکڑ لیا اور سب کو میری ہی طرف لوٹنا ہوگا (اس وقت پوری سزا ملے گی) اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ اے لوگو میں تو تمہارے لئے ایک صاف ڈرانے والا ہوں (عذاب واقع کرنے نہ کرنے میں میرا دخل نہیں نہ میں نے اس کا دعویٰ کیا ہے) تو جو لوگ (اس ڈر کو سن کر) ایمان لے آئے اور اچھے کام کرنے لگے ان کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی (یعنی جنت) ہے اور جو لوگ ہماری آیتوں کے متعلق (ان کے انکار اور ابطال کی) کوشش کرتے رہتے ہیں (نبی کو اور اہل ایمان کو) ہرانے (یعنی عاجز کرنے) کیلئے ایسے لوگ دوزخ میں (رہنے والے) ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ وَّثَمُوْدُ۝ ٤٢ۙ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] نوح نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس . ( ن و ح ) نوح ۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں جمع ہونے کے ہیں اور یہ تناوح سے مشتق ہے جس کے معنی ثقابل کے ہیں جیسے بجلان متنا وحان دو متقابل پہاڑ ۔ ریحان یتنا وحان وہ متقابل ہوائیں ۔ النوائع نوحہ گر عورتیں ۔ المنوح ۔ مجلس گریہ ۔ ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ومَثْمُود : إذا کثر عليه السّؤال حتی فقد مادة ماله . ( ث م د ) ثمود ( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے اور ثمد سے مشتق سے ( بروزن فعول ) اور ثمد ( بارش) کے تھوڑے سے پانی کو کہتے ہیں جو جاری نہ ہو ۔ اسی سے رجل مثمود کا محاورہ ہے یعنی وہ آدمی جس میں عورتوں سے کثرت جماع کے سبب مادہ منویہ باقی نہ رہے ۔ نیز مثمود اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جسے سوال کرنے والوں نے مفلس کردیا ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٢۔ ٤٣) اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر یہ قریش آپ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ کی قوم سے پہلے قوم نوح، نوح (علیہ السلام) کی اور قوم ہود، ہود (علیہ السلام) کی اور قوم صالح، صالح (علیہ السلام) کی اور قوم ابراہیم، ابراہیم (علیہ السلام) کی اور قوم لوط، لوط (علیہ السلام) کی اور قوم شعیب بھی شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کرچکی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

87. The disbelievers of Makkah.

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :87 یعنی کفار مکہ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:42 تا 44) ان یکذبون۔ میں ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع ہے۔ اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ اگر کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں (تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ جواب شرط محذوف ہے) فائدہ :۔ ان آیات کی مندرجہ ذیل توضیحات قابل ذکر ہیں ! (1) ان یکذبوک۔ جملہ شرطیہ ہے لیکن جواب شرط محذوف ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔rnّ (2) عاد اور ثمود کے ساتھ لفظ قوم نہیں آیا کیونکہ یہ قومیں ان ناموں کے ساتھ مشہور ہیں اس لئے قوم ہود یا قوم صالح نہیں کیا۔ اسی طرح اصحاب مدین کے ساتھ ان کے پیغمبر حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ذکر نہیں ہوا۔ (3) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر میں کذب فعل مجہول لا کر بیان ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا گیا تھا۔ یہاں قوم اس واسطے مذکور نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم بنی اسرائیل نے نہیں جھٹلایا تھا بلکہ فرعون اور قبطیوں نے تکذیب کی تھی۔ (4) کذبت کو صیغہ تانیث سے اس لئے لایا گیا ہے کہ قوم (اس کا فاعل) اسم جمع ہے جس کے لئے تذکیر و تانیث دونوں جائز ہیں۔ املیت۔ ماضی واحد متکلم املاء (افعال) مصدر۔ میں نے ڈھیل دی۔ میں نے مہلت دی۔ اخذتہم۔ اخذت ماضی واحد متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ میں نے ان کو پکڑ لیا۔ ای عاقبتہم میں نے ان کو سزا دی۔ (ان کے کفر اور تکذیب کی) ۔ نکیر۔ اصل میں نکیری تھا۔ میرا انکار ۔ نکیر۔ باب افعال سے بروزن فعیل مصدر غیر قیاسی ہے نکیر۔ میرا انکار کردینا۔ میرا ان کو نہ پہچاننا۔ میرا ان کو رد کردینا۔ ظاہر ہے کہ خداوند تعالیٰ کا انکار کردینا محض زبانی انکار نہیں ہے بلکہ ان کی حالت کو دگرگوں کردینا۔ مخالف اور برعکس حالت سے بدل دینا۔ مراد ہے۔ مثلاً زندگی کو موت سے ۔ آبادی کو ویرانی سے ۔ تنعم وتعیش کو دشوار وہیبت ناک مصیبت میں بدل دینا۔ یہاں عذاب کے معنوں میں بھی لیا جاسکتا ہے۔ فکیف کان نکیر۔ پس کس قدر ہیبت ناک تھا میرا عذاب۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ ” یعنی گو آج مسلمان مغلوب ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ آخر کار انہیں منصور و غالب کر دے۔ سو موجودہ حالات سے ہر اساں اور دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 48 : کذبت (جھٹلایا گیا) ‘ املیت (میں نے مہلت۔ میں نے ڈھیل دی) ‘ نکیر (میرا ) انکار ‘ کأین (کتنی ہی) ‘ قریۃ (آبادی۔ بستی) خاویۃ (گرنے والی) ‘ عروش (عرش) (چھتیں) ‘ بئر (کنواں) ‘ معطلۃ (بےکار) ‘ قصر (محل) ‘ مشید (چونے سے بنائی گئی مضبوط عمارت) ‘ لم یسیروا (وہ نہ چلے) ‘ لاتعمی (اندھی نہیں ہوتی) ‘ الصدور (صدر) (سینہ) ‘ یستعجلون (وہ جلدی کررہے ہیں) ‘ لن یخلف (وہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا) ‘ الف سنۃ (ایک ہزار سال) ‘ تعدون (تم گنتے ہو شمار کرتے ہو) ‘ الی (میری طرف) ‘ المصیر (ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ) ۔ تشریح آیات نمبر 42 تا 48 : آپ نے گذشتہ آیات میں پڑھا ہے کہ کفار و مشرکین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو طرح طرح سے ستاتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لائی ہوئی تعلیمات کا مذاق اڑاتے تھے۔ جب آپ ان کو ان کے برے اعمال کے برے نتائج سے ڈراتے اور یہکہتے کہ اگر تم نے یہی طرز عمل اختیار کیا تو اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکو گے۔ کفارو مشرکین کہتے کہ اگر ہم اسی قدر بد عمل ہیں اور ہم پر اللہ کا عذاب آکر رہے گا تو پھر دیر کس بات کی ؟ وہ عذاب کیوں نہیں آتا ؟ کفار کی ان باتوں سے بشری تقاضے کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سخت رنج ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہئے فرمایا کہ آج کفارو مشرکین جس طرح آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور آپ کی باتوں کو جھٹلا رہے ہیں یہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے بلکہ آپ سے پہلے بھی اللہ کے ہر نبی اور ہر رسول کا اسی طرح مذاق اڑایا گیا اور ان کی تعلیمات کو جھٹلایا گیا۔ چناچہ آپ سے پہلے قوم نوح نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو قوم عاد نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو قوم ثمود نے حضرت صالح کو عراق والوں نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کو مدین والوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو فرعون اور قوم بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؐ کو اسی طرح جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔ اللہ نے ان کی قوموں کے لوگوں کو سوچنے ‘ سمجھنے اور سنبھلنے کی مہلت اور ڈھیل دی مگر جب وہ اپنی حرکتوں اور گناہوں سے باز نہیں آئے تو تب اللہ نے ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان کی قوموں کو تباہ بر باد کر کے رکھ دیا۔ فرمایا کہ ان قوموں کے کھنڈرات کو دیکھئے جن کی چھتیں بھی دیواروں کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ ان کی بلند وبالا عمارتیں ریت کا ڈھیر بن گئی ہیں۔ ان کے کنویں خشک پڑے ہیں۔ اونچے اونچے مضبوط قلعے کھنڈر بن گئے ہیں نہ آج بلند وبالا قلعے محفوظ اور نہ ان کی دولت کی ریل پیل باقی ہے۔ ہر طرف سوائے ایک ویرانیکے کچھ بھی نہیں ہے۔ حالانکہ وہ اپنے اپنے زمانے میں بڑی قوتیں اور عظمتیں رکھتے تھے مگر آج وہ کہاں ہیں ؟ اگر واقعی انکے سینوں میں دھڑکتے دل بےحس اور اندھے نہ ہوگئے ہوں تو قوموں کا یہ برا انجام ان کے لئے اپنے اندر عبرت و نصیحت کا بہت سامان رکھتا ہے۔ ذراہ وہ ان کھنڈرات اور ویرانوں میں جا کر دیکھیں کہ جب اللہ کسی قوم کے نافرمانوں پر اپنا عذاب نازل کرتا ہے ‘ ان پر قابو پا لیتا ہے۔ اور گرفت کرلیتا ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت اس کو بچا نہیں سکتی۔ ان کا یہ کہنا کہ عذاب جلد ازجلدآجائے ان کے منہ سے اچھا نہیں لگتا کیونکہ جو اللہ کا وعدہ ہے تو پورا ہوکر رہے گا۔ لیکن جو لوگ اس فرصت سے فائدہ اٹھاکر اپنے اعمال کی اصلاح نہیں کررہے ہیں وہ سراسر نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔ کیا ان کے پاس وہ دل نہیں ہیں جن سے وہ سوچ سکیں یا ان کے کان نہیں کہ وہ انکانوں سے حق و صداقت کی بات سن سکیں۔ واقعی انسان آنکھوں سے اندھا نہیں ہوتا بلکہ اصل اندھا پن دلوں کا اندھا پن ہے جو انسان کے سینے میں دھڑکتا ہے۔ دل ہی اندھا وہجائے تو انسان کو کوئی بھی صحیح بات نہیں سوجھتی بلکہ سیدھی بات بھی الٹی نظر آتی ہے۔ فرمایا کہ اللہ کے ہاں کا ایک دن تمہارے ہزار سال کے دنوں کے برابر ہے۔ مراد یہ ہے کہ جب اللہ کا عذاب آئے گا تو اسکی انتہا کوئی نہیں ہوگی۔ تمام اہل بصیرت کو اس مہلت عمل سے فائدہ اٹھا کر نیک اعمال اختیار کرنے چاہئیں تاکہ دنیا اور آخرت بہتر ہو سکے۔ علماء مفسرین نے لکھا ہے کہ قیامت میں ایک دن شدت اور سختی کی بنا پر ایک زار سال کے برابر ہوگا یا درازی مدت کے لحاظ سے ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ سچائیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باجود اس سے نصیحت حاصل نہ کریں وہ اللہ کی نظر میں اندھے ہیں جن کو کوئی سچائی نظر نہیں آتی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جن اقوام نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور ” اللہ “ کے دیے ہوئے ضابطۂ حیات کو اختیار نہ کیا ان کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء اکرام کے ذریعے لوگوں کو ایک ضابطہ حیات عطا فرمایا جس کے بنیادی اصول یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ کو بلا شرکت غیرے اپنا معبود اور حاکم تسلیم کریں اور اس کے دیے ہوئے نظام حیات کو خود اپناؤ اور اس کے بندوں پر اس کا نفاذ کریں۔ جس کے بنیادی اصولوں کا پچھلی آیت میں بیان ہوچکا ہے۔ کا مل اور جامع ہدایات کے باوجود دنیا کی بڑی بڑی اقوام نے اللہ کی توحید کا انکار کیا اور اس کے دئیے ہوئے ضابطہ حیات کو ٹھکرایا۔ جن میں سر فہرست قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم ابراہیم، قوم لوط، قوم شعیب اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم ہے، جنہوں نے اپنے رب کی توحید کا انکار کیا اور اس کے نازل کردہ دین کو ٹھکرایا، جس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت فرمائی اور انہیں اس طرح نیست و نابود کیا کہ ان کی ترقی ان کے لیے وبال جان ثابت ہوئی۔ ان کے محلاّت ان کے لیے قبرستان بنا دیے گئے۔ کھیتیاں اور باغات اجڑ گئے کنویں ناکارہ ہوئے اور بستیاں اس طرح ویران ہوئیں کہ دیکھنے والا گمان کرے کہ یہاں کبھی کوئی رہنے والا نہ تھا۔ ( فَکُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْبِہٖ فَمِنْھُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ وَ مِنْھُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَاوَ مَا کَان اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَ لٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلَمُوْنَ ) [ العنکبوت : ٤٠] ” آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہوں کی وجہ سے پکڑا ان میں سے کسی پر ہم نے پتھر برسانے والی آندھی بھیجی کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو ہم نے غرق کردیا۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ “ متمول اقوام کی تباہی : تاریخ عالم کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ تباہ ہونے والی اقوام دنیا کے اعتبار سے غیر ترقی یافتہ اور پسماندہ نہ تھیں بلکہ وہ اپنے اپنے دور کی مہذّب اور ترقی یافتہ اقوام تھیں۔ (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰھُمْ بَغْتَۃً فَاِذَا ھُمْ مُّبْلِسُوْنَ ) [ الانعام : ٤٤] ” پھر جب وہ اس کو بھول گئے جو انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں کے ساتھ خوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تھیں ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا تو وہ اچانک ناامیدہوگے۔ “ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ کی پکڑ کی مختلف شکلیں : ١۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : ٦) ٢۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : ١٣) ٣۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : ٥) ٤۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : ٦) ٥۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : ١٣٦) ٦۔ قوم لوط کو زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جاکر الٹا دیا گیا۔ (ھود : ٨٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ١٤٦ ایک نظر میں اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس پر ہوا تھا کہ نظریات ، عقائد اور ملت کے شعار کی مدافعت کے لئے جنگ کی اجازت ہے۔ جو لوگ اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے پورے کریں گے ان کو اللہ کی طرف سے پوری پوری نصرت بھی حاصل ہوگی۔ بشرطیکہ انہوں نے خود اپنی جماعت کے اندر اسلامی نظام حیات قائم کر رکھا ہو۔ جب یہ بتا دیا گیا کہ اللہ کی نصرت کے استحقاق کے لئے شرائط و فرائض کیا ہیں تو اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ دست قدرت نے آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی حمایت میں کام شروع کردیا ہے جس طرح آپ سے قبل آپ کے بھائی رسولوں کے حق میں دست قدرت نے کیا اور ہر دور میں مکذبین کو بڑی سختی سے پکڑا۔ نیز مکذبین اور مشرکین کو بھی اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ اگر ان کا دل و دماغ کام کرتا ہے تو وہ غور و فکر کریں کیونکہ آنکھوں کا اندھا دراصل اندھا نہیں ہوتا ، بلکہ حقیقی اندھا وہ ہوتا ہے جس کے سینے میں دھڑکنے والا دل اندھا ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو شیطان کی سازشوں سے بچاتا ہے۔ اس طرح وہ جھٹلانے والوں کی سازشوں سے بھی بچاتا ہے۔ نیز وہ شیطان کی مکاریوں کو باطل کر کے ، اپنی آیات کو سلیم الطبع لوگوں کے ذہن نشین کرا رہا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے دل مریض ہیں ، یا جن کے دل کافر ہیں تو وہ اسی طرح شک میں گرفتار رہیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے برے انجام کو دیکھ لیں۔ یہ پورا سبق دست قدرت کے آثار اور کرشموں پر مشتمل ہے۔ اللہ کا ہاتھ دعوت اسلامی کو آگے بڑھانے کے لئے متحرک ہوگیا ہے لیکن نتائج سامنے تب آئیں گے جب وہ اصحاب دعوت اپنے فرائض کو بطرز احسن پورا کریں اور وہ تقاضے پورے کریں جن کے بارے میں پہلے وضاحت کردی گئی ہے یعنی اس سے پہلے سبق میں۔ درس نمبر ١٤٦ تشریح آیات ٤٢……تا ٥٧ وان یکذبوک ……کان نکیر (٤٤) تمام رسولوں کے بارے میں یہ اللہ کی اٹل سنت ہے کہ رسول معجزات لے کر آئے اور ان کی قوموں نے ان کو جھٹلایا۔ اس لئے مشرکین مکہ کی طر سے رسول آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن تمام جھٹلانے والوں کا انجام بھی تو معلوم ہے۔ انجام کے لئے بھی مشرکین مکہ تیار ہوجائیں۔ فقد کذبت قبلھم قوم نوح و عاد وثمود (٣٢) وقوم ابرہیم و قوم لوط (٢٢ : ٣٣) ” اس سے پہلے قوم نوح ، اور عاد وثمود اور قوم ابراہیم اور قوم لوط نے جھٹلایا ہے “ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے علیحدہ فقرہ و کذب موسیٰ (اور موسیٰ جھٹلائے جا چکے ہیں) اس لئے کہ اس کی قوم نے انہیں نہیں جھٹلایا تھا بلکہ فرعون اور اس کے سرداروں نے جھٹلایا تھا۔ دوسرے اس لئے کہ جو معجزات حضرت موسیٰ لے کر آئے تھے وہ بہت ہی واضح تھے۔ نیز موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ہی بڑے واقعات پیش آئے۔ ان تمام پیغمبروں کے واقعات میں اللہ نے کافروں کو ایک وقت تک مہلت دی۔ جیسا کہ اب قریشک و مہلت دی جا رہی ہے اور اس کے بعد اللہ نے بڑی سختی سے ان کو پکڑا۔ یہاں سوالیہ انداز مزید ڈرانے اور اظہار تعجب کے لئے ہے۔ فکیف کان نکیر (٢٢ : ٣٣) ” اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی تھی۔ “ نکیر کا مفہوم ہے ایسا سخت انکار جس میں تبدیلی کا شائبہ ہو۔ اس سوال کا جواب معلوم ہے کہ خوفناک عذاب تھا۔ طوفان ، خسف تدمیر ، ہلاکت ، زلزلے ، تباہی طوفان اور کڑک کی وجہ سے خوف میں مبتلا کر کے ہلاک کرنا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ہلاک شدہ بستیوں کی حالت اور مقام عبرت ان آیات میں اول تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ اگر آپ کے مخاطبین آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے بھی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ان کی امتوں نے جھٹلا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد (جو حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم تھی) اور قوم ثمود (جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور مدین والے لوگ (جن کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے) ان سب نے اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ان حضرات نے صبر کیا اور دعوت کا کام جاری رکھا آپ بھی صبر کیجیے اور اپنا کام جاری رکھئے، یہ تو آپ کی ذات کے متعلق ہے اب رہا مکذبین کا معاملہ تو انہیں سابقہ امتوں سے سبق لینا چاہئے ان امتوں میں جو کافر تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے ڈھیل دی پھر انہیں پکڑ لیا۔ یہ گرفت سخت عذاب کی صورت میں تھی ان لوگوں کو پتہ چل گیا کہ اللہ کا عذاب کیسا ہے ؟ ان لوگوں کو ان کے حالات معلوم ہیں ان لوگوں سے عبرت حاصل کرنا چاہئے کہ وہ کیسے سخت عذاب میں مبتلا ہوئے اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ کتنی ہی بستیاں تھیں جو ظالم تھیں اور نافرمانی پر تلی ہوئی تھیں ہم نے انہیں ہلاک کردیا، دنیا میں ان کے نشان موجود ہیں ان کے گھروں کی دیواریں ان کی چھتوں پر گری ہوئی ہیں (کیونکہ پہلے چھتیں گریں پھر اوپر سے دیواریں گریں) اور کتنے ہی کنویں پڑے ہیں جو بےکار ہیں، کسی کے کچھ کام نہیں آتے اور کتنے ہی ویران محل پڑے ہوئے ہیں جنہیں بنانے والوں نے مضبوط بنایا تھا آج وہ کسی کے کام نہیں آتے ان کے بنانے والے اور رہنے والے ہلاک ہوئے برباد ہوئے آج کوئی ان میں جھانکنے والا نہیں ہے۔ مزید فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں نہیں گھومے پھرے ؟ (سفر ان کے لیے ہیں ہی اور برباد شدہ بستیوں سے گزرے ہیں اور ایسے محلات اور کنویں انہوں نے دیکھے ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا لیکن عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے) اگر عبرت لینے کا مزاج ہوتا تو ان کے قلوب سمجھ جاتے اور ان کے کانوں میں جو موعظت و عبرت کی باتیں پڑتی ہیں اگر انہیں سننے کی طرح سنتے تو عبرت حاصل کرلیتے اور سنی ہوئی باتوں کو ان سنی نہ کرتے۔ عبرت کی چیزیں سامنے ہیں آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن یہ آنکھوں سے دیکھنا ضائع ہو رہا ہے اصل بات یہ ہے کہ دل اندھے بنے ہوئے ہیں اس لیے یہ عبرت لیتے ہیں نہ حق قبول کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ وہ آپ سے جلدی عذاب آجانے کا تقاضا کرتے ہیں (اور اس جلدی بلانے کے تقاضے میں عذاب کا انکار کرنا مقصود ہے مطلب ان کا یہ ہے کہ عذاب آنا ہے تو کیوں نہیں آجاتا ہم تقاضا کر رہے ہیں پھر بھی عذاب کا ظہور نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسے ہی باتیں ہیں اب تک نہ عذاب آیا ہے نہ آئے گا) اس کے جواب میں فرما دیا کہ (وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَ عْدَہٗ ) (کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ خلاف نہ کرے گا) عذاب ضرور آئے گا مگر اس کے آنے کے لیے جو اجل مقرر فرما دی ہے اس کے مطابق آئے گا عذاب آنے میں دیر ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ آنا ہی نہیں ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

57:۔ ” وَ اِنْ یُّکَذِّبُوْکَ الخ “ اگر مشرکین مکہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں اور دلائل واضحہ اور حسن تبلیغ کے باوجود مسئلہ توحید کو نہیں مانتے تو آپ پریشان اور آزردٔ خاطر نہ ہوں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر موسیٰ (علیہ السلام) تک مشرکین کا حال ملاحظہ فرما لیجیے اس دوران میں جتنے بھی پیغمبر دنیا میں بھیجے گئے کفار و مشرکین نے ہمیشہ ان کی دعوت کو ٹھکرایا اوراقوال و افعال سے ان کو ہر قسم کی تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائیں۔ نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب موسیٰ اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) سے ان کی قوموں نے یہی سلوک کیا جو اس وقت آپ کی قوم آپ کے ساتھ کر رہی ہے یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کافروں کی تکذیب اور ایذا رسانی پر صبر کرتے رہے۔ آخر ہم نے مکذبین کو ہلاک کردیا۔ ایسا ہی مشرکین مکہ کا انجام ہوگا۔ اس لیے آپ صبر کریں۔ ھذہ تسلیۃ لمحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من تکذیب اھل مکۃ ایاہ ای لست باوحدی فی التکذیب (مدارک ج 3 ص 80) ۔ ھذا تسلیۃ للنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و تعزیۃ، ای کان قبلک انبیاء کذبوا فصبروا الی ان اھلک اللہ المکذبین فاقتد بھم واصبر۔ (قرطبی ج 12 ص 73)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(42) اور اے پیغمبر اگر یہ منکر آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد وثمود۔