Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 53

سورة الحج

لِّیَجۡعَلَ مَا یُلۡقِی الشَّیۡطٰنُ فِتۡنَۃً لِّلَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّ الۡقَاسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَفِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿ۙ۵۳﴾

[That is] so He may make what Satan throws in a trial for those within whose hearts is disease and those hard of heart. And indeed, the wrongdoers are in extreme dissension.

یہ اس لئے کہ شیطانی ملاوٹ کو اللہ تعالٰی ان لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں بیشک ظالم لوگ گہری مخالفت میں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ ... That He (Allah) may make what is thrown in by Shaytan a trial for those in whose hearts is a disease, meaning, doubt, Shirk, disbelief and hypocrisy. Ibn Jurayj said: ... لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ ... those in whose hearts is a disease, "The hypocrites, and ... وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ ... and whose hearts are hardened. means the idolators." ... وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ And certainly, the wrongdoers are in an opposition far-off. means, far away in misguidance, resistance and stubbornness, i.e., far from the truth and the correct way.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

53۔ 1 یعنی شیطان یہ حرکتیں اس لئے کرتا ہے کہ لوگوں کو گمراہ کرے اور اس کے جال میں لوگ پھنس جاتے ہیں جن کے دلوں میں کفر و نفاق کا روگ ہوتا ہے گناہ کرکے ان کے دل سخت ہوچکے ہوتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ فِتْنَةً ۔۔ : ” شِقَاقٍ “ باب مفاعلہ کا مصدر ہے، جیسے ” قِتَالٌ“ ہے، مراد آمنے سامنے مقابلہ ہے، جس میں ایک فریق ایک شق میں ہوتا ہے اور دوسرا فریق دوسری شق میں۔ اس آیت میں شیطان کو انبیاء کی دعوت اور آیات الٰہی میں شکوک و شبہات ڈالنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی فرصت دینے کی حکمت بیان فرمائی ہے کہ شیاطین کو جو اس طرح کھل کھیلنے کا موقع دیا جاتا ہے تو اس سے مقصود ابتلا و آزمائش کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے، تاکہ اس کے نتیجے میں اہل باطل اپنا من بھاتا کھا جا پا کر اہل باطل کے علمبرداروں کے ساتھ ہوجائیں اور اہل حق باطل والوں کے تمام شور و غوغا کے باوجود راہ حق پر مزید پختہ ہوجائیں، کیونکہ حق کے مقابلے میں جتنا زیادہ جھگڑا کیا جائے اتنا ہی اس کے دلائل مزید نکھرتے اور واضح ہوتے ہیں اور جن لوگوں کو علم کی روشنی ملی ہوتی ہے ان کو یقین ہوجاتا ہے کہ آپ کو رب کی طرف سے ملنے والا علم کتاب بالکل حق ہے، پھر ان کا یہ یقین ان کے ایمان کو پختہ کرنے اور اس میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے دل اپنے رب کے لیے عاجزی اختیار کرتے ہیں اور پورے اطمینان کے ساتھ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ ” لِّلَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ“ سے مراد منافقین ہیں اور ” وَّالْقَاسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ “ سے مراد پکے کافر ہیں کہ جن کے دل کفر و عناد کی وجہ سے سخت ہوچکے ہیں۔ ” لِّيَجْعَلَ “ کی ضمیر، ” فَيَنْسَخُ اللّٰهُ “ اور ” ثُمَّ يُحْكِمُ اللّٰهُ “ میں مذکور لفظ ” اَللّٰه “ کی طرف جا رہی ہے۔ شیطان کی دخل اندازی اور شکوک و شبہات کو کفار و منافقین کے لیے فتنے کا باعث بنانے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا ہے کہ وہ شیطان کے اس عمل کو کفار و منافقین کے لیے فتنہ بناتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیت کے مطابق ہو رہا ہے۔ کوئی مومن ہو یا کافر یا منافق ہر ایک کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور ان کے ہر فعل کا خالق بھی وہی ہے، اس لیے فتنہ بنانے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کردی ہے۔ البتہ کفار و منافقین کو فتنے میں مبتلا کرنے کا باعث ان کے دلوں کے مرض نفاق کو اور ان کے دلوں کی سختی اور عناد کو قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ ) [ البقرۃ : ٢٦ ] ” اور وہ اس کے ساتھ فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔ “ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : یعنی شیطان اور اس کے چیلے جتنے شکوک و شبہات پیدا کرلیں اور جتنے اعتراض کرلیں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی سیدھے راستے کی طرف ضرور ہی رہنمائی کردیتا ہے، جس سے انھیں فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ فلاں بات فی الواقع وحی الٰہی ہے، وہ اس پر قائم ہوجاتے ہیں اور فلاں بات شیطان کا وسوسہ یا دھوکا ہے، سو وہ اس سے بچ جاتے ہیں۔ اس طرح انھیں دنیا و آخرت دونوں کی سعادت حاصل ہوجاتی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ فِتْنَۃً لِّلَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ وَّالْقَاسِـيَۃِ قُلُوْبُہُمْ۝ ٠ۭ وَاِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ لَفِيْ شِقَاقٍؚبَعِيْدٍ۝ ٥٣ۙ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ مرض الْمَرَضُ : الخروج عن الاعتدال الخاصّ بالإنسان، وذلک ضربان : الأوّل : مَرَضٌ جسميٌّ ، وهو المذکور في قوله تعالی: وَلا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ [ النور/ 61] ، وَلا عَلَى الْمَرْضى[ التوبة/ 91] . والثاني : عبارة عن الرّذائل کالجهل، والجبن، والبخل، والنّفاق، وغیرها من الرّذائل الخلقيّة . نحو قوله : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ، أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتابُوا [ النور/ 50] ، وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَتْهُمْ رِجْساً إِلَى رِجْسِهِمْ [ التوبة/ 125] . وذلک نحو قوله : وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً مِنْهُمْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْياناً وَكُفْراً [ المائدة/ 64] ويشبّه النّفاق والکفر ونحوهما من الرذائل بالمرض، إما لکونها مانعة عن إدراک الفضائل کالمرض المانع للبدن عن التصرف الکامل، وإما لکونها مانعة عن تحصیل الحیاة الأخرويّة المذکورة في قوله : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ لَوْ كانُوا يَعْلَمُونَ [ العنکبوت/ 64] ، وإمّا لمیل النّفس بها إلى الاعتقادات الرّديئة ميل البدن المریض إلى الأشياء المضرّة، ولکون هذه الأشياء متصوّرة بصورة المرض قيل : دوي صدر فلان، ونغل قلبه . وقال عليه الصلاة والسلام : «وأيّ داء أدوأ من البخل ؟» «4» ، ويقال : شمسٌ مریضةٌ: إذا لم تکن مضيئة لعارض عرض لها، وأمرض فلان في قوله : إذا عرّض، والتّمریض القیام علی المریض، وتحقیقه : إزالة المرض عن المریض کالتّقذية في إزالة القذی عن العین . ( م ر ض ) المرض کے معنی ہیں انسان کے مزاج خصوصی کا اعتدال اور توازن کی حد سے نکل جانا اور یہ دوقسم پر ہے ۔ مرض جسمانی جیسے فرمایا : وَلا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ [ النور/ 61] اور نہ بیمار پر کچھ گناہ ہے ۔ وَلا عَلَى الْمَرْضى[ التوبة/ 91] اور نہ بیماروں پر ۔ دوم مرض کا لفظ اخلاق کے بگڑنے پر بولا جاتا ہے اور اس سے جہالت بزدلی ۔ بخل ، نفاق وغیرہ جیسے اخلاق رزیلہ مراد ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ان کے دلوں میں کفر کا مرض تھا ۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کردیا ۔ أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتابُوا [ النور/ 50] گناہ ان کے دلوں میں بیماری ہے یا یہ شک میں ہیں ۔ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَتْهُمْ رِجْساً إِلَى رِجْسِهِمْ [ التوبة/ 125] اور جن کے دلوں میں مرض ہے ۔ ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً مِنْهُمْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْياناً وَكُفْراً [ المائدة/ 64] اور یہ ( قرآن پاک) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر بڑھے گا ۔ اور نفاق ، کفر وغیرہ اخلاق رذیلہ کی ( مجاز ) بطور تشبیہ مرض کہاجاتا ہے ۔ یا تو اس لئے کہ اس قسم کے اخلاق کسب فضائل سے مائع بن جاتے ہیں ۔ جیسا کہ بیماری جسم کو کامل تصرف سے روک دیتی ہے ۔ اور یا اس لئے اخروی زندگی سے محرومی کا سبب بنتے ہیں ۔ جس قسم کی زندگی کا کہ آیت کریمہ : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ لَوْ كانُوا يَعْلَمُونَ [ العنکبوت/ 64] اور ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے کاش کہ یہ لوگ سمجھتے ۔ میں ذکر پایا جاتا ہے ۔ اور یا رذائل کو اس چونکہ ایسے اخلاق بھی ایک طرح کا مرض ہی ہیں اس لئے قلب وصدر میں کینہ و کدورت پیدا ہونے کے لئے دوی صدر فلان وبخل قلبہ وغیر محاورات استعمال ہوتے ہیں ایک حدیث میں ہے : وای داء ادوء من ا لبخل اور بخل سے بڑھ کر کونسی بیماری ہوسکتی ہے ۔ اور شمس مریضۃ اس وقت کہتے ہیں جب گردہ غبار یا کسی اور عاضہ سے اس کی روشنی ماند پڑجائے ۔ امرض فلان فی قولہ کے معنی تعریض اور کنایہ سے بات کرنے کے ہیں ۔ المتریض تیمار داری کرنا ۔ اصل میں تمریض کے معنی مرض کو زائل کرنے کے ہیں اور یہ ۔ تقذبۃ کی طرح سے جس کے معنی آنکھ سے خاشاگ دور کرنا کے ہیں ۔ قسو القَسْوَةُ : غلظ القلب، وأصله من : حجر قَاسٍ ، والْمُقَاسَاةُ : معالجة ذلك . قال تعالی: ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ [ البقرة/ 74] ، فَوَيْلٌ لِلْقاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ الزمر/ 22] ، وقال : وَالْقاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ [ الحج/ 53] ، وَجَعَلْنا قُلُوبَهُمْ قاسِيَةً [ المائدة/ 13] ، وقرئ : قَسِيَّةً «3» أي : ليست قلوبهم بخالصة، من قولهم : درهم قَسِيٌّ ، وهو جنس من الفضّة المغشوشة، فيه قَسَاوَةٌ ، أي : صلابة، قال الشاعر : صاح القَسِيَّاتُ في أيدي الصيّاریف ( ق س د ) القسوۃ کے معنی سنگ دل ہونے کے ہیں یہ اصل میں حجر قاس سے ہے جس کے معنی سخت پتھر کے ہیں ۔ المقاساۃ سختی جھیلنا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ [ البقرة/ 74] پھر ۔۔۔ تمہارے دل سخت ہوگئے ۔ فَوَيْلٌ لِلْقاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ الزمر/ 22] پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہورہے ہیں ۔ وَالْقاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ [ الحج/ 53] اور جن کے دل سخت ہیں ۔ وَجَعَلْنا قُلُوبَهُمْ قاسِيَةً [ المائدة/ 13] اور ان کے دلوں کو سخت کردیا ۔ ایک قرات میں قسیۃ ہے یعنی ان کے دل خالص نہیں ہیں یہ درھم قسی سے مشتق ہے جس کے معنی کھوٹے درہم کے ہیں جس میں ( سکہ ) کی ملاوٹ کی وجہ سے صلابت پائی جائے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 354) صاح القسیات فی ایدی الصیاریف کھوٹے درہم صرافوں کے ہاتھ میں آواز دیتے ہیں ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں شقاق والشِّقَاقُ : المخالفة، وکونک في شِقٍّ غير شِقِ صاحبک، أو مَن : شَقَّ العصا بينک وبینه . قال تعالی: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما[ النساء/ 35] ، فَإِنَّما هُمْ فِي شِقاقٍ [ البقرة/ 137] ، أي : مخالفة، لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي [هود/ 89] ، وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتابِ لَفِي شِقاقٍ بَعِيدٍ [ البقرة/ 176] ، مَنْ يُشاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ الأنفال/ 13] ، أي : صار في شقّ غير شقّ أولیائه، نحو : مَنْ يُحادِدِ اللَّهَ [ التوبة/ 63] ، ونحوه : وَمَنْ يُشاقِقِ الرَّسُولَ [ النساء/ 115] ، ويقال : المال بينهما شقّ الشّعرة، وشَقَّ الإبلمة «1» ، أي : مقسوم کقسمتهما، وفلان شِقُّ نفسي، وشَقِيقُ نفسي، أي : كأنه شقّ منّي لمشابهة بعضنا بعضا، وشَقَائِقُ النّعمان : نبت معروف . وشَقِيقَةُ الرّمل : ما يُشَقَّقُ ، والشَّقْشَقَةُ : لهاة البعیر لما فيه من الشّقّ ، وبیده شُقُوقٌ ، وبحافر الدّابّة شِقَاقٌ ، وفرس أَشَقُّ : إذا مال إلى أحد شِقَّيْهِ ، والشُّقَّةُ في الأصل نصف ثوب وإن کان قد يسمّى الثّوب کما هو شُقَّةً. ( ش ق ق ) الشق الشقاق ( مفاعلہ ) کے معنی مخالفت کے ہیں گویا ہر فریق جانب مخالف کو اختیار کرلیتا ہے ۔ اور یا یہ شق العصابینک وبینہ کے محاورہ سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی باہم افتراق پیدا کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما[ النساء/ 35] اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے ۔ فَإِنَّما هُمْ فِي شِقاقٍ [ البقرة/ 137] تو وہ تمہارے مخالف ہیں ۔ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي [هود/ 89] میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے ۔ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتابِ لَفِي شِقاقٍ بَعِيدٍ [ البقرة/ 176] وہ ضد میں ( آکر نیگی سے ) دور ہوگئے ) ہیں ۔ مَنْ يُشاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ الأنفال/ 13] اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے ۔ یعنی اس کے اولیاء کی صف کو چھوڑ کر ان کے مخالفین کے ساتھ مل جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : مَنْ يُحادِدِ اللَّهَ [ التوبة/ 63] یعنی جو شخص خدا اور رسول کا مقابلہ کرتا ہے ۔ وَمَنْ يُشاقِقِ الرَّسُولَ [ النساء/ 115] اور جو شخص پیغمبر کی مخالفت کرے ۔ المال بیننا شق الشعرۃ اوشق الابلمۃ یعنی مال ہمارے درمیان برابر برابر ہے ۔ فلان شق نفسی اوشقیق نفسی یعنی وہ میرا بھائی ہے میرے ساتھ اسے گونہ مشابہت ہے ۔ شقائق النعمان گل لالہ یا اس کا پودا ۔ شقیقۃ الرمل ریت کا ٹکڑا ۔ الشقشقۃ اونٹ کا ریہ جو مستی کے وقت باہر نکالتا ہے اس میں چونکہ شگاف ہوتا ہے ۔ اس لئے اسے شقثقۃ کہتے ہیں ۔ بیدہ شقوق اس کے ہاتھ میں شگاف پڑگئے ہیں شقاق سم کا شگاف فوس اشق راستہ سے ایک جانب مائل ہوکر چلنے والا گھوڑا ۔ الشقۃ اصل میں کپڑے کے نصف حصہ کو کہتے ہیں ۔ اور مطلق کپڑے کو بھی شقۃ کہا جاتا ہے ۔ بعد البُعْد : ضد القرب، ولیس لهما حدّ محدود، وإنما ذلک بحسب اعتبار المکان بغیره، يقال ذلک في المحسوس، وهو الأكثر، وفي المعقول نحو قوله تعالی: ضَلُّوا ضَلالًابَعِيداً [ النساء/ 167] ( ب ع د ) البعد کے معنی دوری کے ہیں یہ قرب کی ضد ہے اور ان کی کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ ایک ہی جگہ کے اعتبار سے ایک کو تو قریب اور دوسری کو بعید کہا جاتا ہے ۔ محسوسات میں تو ان کا استعمال بکثرت ہوتا رہتا ہے مگر کبھی کبھی معافی کے لئے بھی آجاتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ضَلُّوا ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 167] وہ راہ ہدایت سے بٹھک کردور جا پڑے ۔ ۔ ان کو ( گویا ) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٣) تاکہ اللہ تعالیٰ نبی کے اس پڑھنے میں شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو ایسے لوگوں کے لیے آزمایش کا ذریعہ بنا دے جن کے دل میں شک واختلاف کا مرض ہے اور جن کے دل یاد الہی سے بالکل ہی شقی ہیں تاکہ دیکھیں کہ کس پر عمل کرتے ہیں اور واقعی یہ مشرک لوگ جیسا کہ ولید بن مغیرہ اور اس کے ساتھ حق اور ہدایت کی بڑی مخالفت اور دشمنی میں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:53) لیجعل۔ میں لام تعلیل کا ہے۔ یعنی یہ القا من جانب الشیطن اس لئے ہے کہ جن کے دلوں میں مرض ہے یا جو شقی القلب ہیں ان کے لئے فتنہ کا موجب ہو۔ فتنۃ۔ الفتن۔ اس کے معنی دراصل سونے کو آگ میں گھلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا معلوم ہوجائے۔ قرآن مجید میں فتنہ اور اس کے مشتقات کو مختلف معنی کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً ، آزمائش، مصیبت، فساد ، بدنظمی، عبرت، ایذا۔ دکھ، عذاب عذر وغیرہ۔ اصل معنی کے لحاظ سے انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوا ہے مثلاً یوم ہم علی النار یفتنون (51:13) جب ان کو آگ پر تپایا جائے گا۔ اور آیت ثم لم تکن فتنتہم الا ان قالوا واللہ ربنا ما کنا مشرکین (6:23) میں بمعنی الحجۃ دلیل۔ عذر کے معنوں میں آیا ہے۔ پھر ان کے پاس کوئی حجت نہ رہ جائے گی مگر یہ کہ وہ کہہ اٹھیں گے قسم ہے اللہ ہمارے پروردگار کی کہ ہم مشرک نہ تھے۔ آیت ہذا میں بمعنی آزمائش آیا ہے۔ القاسیۃ۔ قسا یقسوا (باب نصر) سے اسم فاعل واحد مؤنث کا صیغہ ہے بمعنی صفت سخت، ٹھوس۔ قسو۔ قسوۃ۔ قساوۃ وقساء ۃ مصدر۔ محاورہ ہے ھو اقسی من الصخر۔ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہے۔ والقاسیۃ قلوبہم ای وللقاسیۃ قلوبہم اور ان کے لئے جن کے دل بہت سخت ہیں۔ شقاق۔ ضد۔ مخالفت۔ شقاق بعید۔ وہ مخالفت جو بہت دور تک پہنچ چکی ہو۔ مکمل مخالفت۔ شدید عداوت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

8 ۔ ان سے مراد وہ کافر ہیں جن کو اپنے کفر پر اصرار ہے اور ” فی قلوبھم مرض “ سے مراد اہل نفاق اور آزمائش اسی معنی میں ہے کہ آیا وہ شک و نفاق سے باز آتے ہیں یا اس میں مزید ترقی کرتے ہیں۔ 9 ۔ کہ شیطانی وساوس اور شبہات کو اللہ تعالیٰ کا فرمودہ خیال کرتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ کہ وہ شک سے بڑھ کر باطل کا جزم کئے ہوئے ہیں، سو ان کی آزمائش ہوتی ہے کہ دیکھیں بعد جواب کے اب بھی شبہات کا اتباع کرتے ہیں یا جواب کو سمجھ کر حق کو قبول کرتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پہلی بات کا تتمہّ شیطان کو شیطنت کا اس لیے اختیار دیا گیا تاکہ جن کے دلوں میں کسی قسم کی کھوٹ اور جن کے دل حق کے بارے میں سخت ہوگئے ہیں شیطان اپنی شیطنت کے ذریعے ان کو فتنہ میں ڈالے رکھے۔ جو لوگ شیطان کے فتنہ میں مبتلا ہوئے وہ ظالم ہیں وہ حق کی مخالفت میں بہت دور جا چکے ہیں۔ یہ بات سورة البقرۃ کی آیت دس کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہے کہ جس طرح انسان کے جسم کو بیماری لاحق ہوجاتی ہے۔ اسی طرح انسان کا دل روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جن میں نفاق اور دل کی سختی شامل ہے۔ دل میں منافقت پیدا ہوجائے تو آدمی حق بات کے بارے میں بھی شک کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص حق بات کے قریب ہونے کی بجائے ہر قدم دور ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ ان کے دل پر گمراہی کی مہر ثبت کردیتا ہے۔ (عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُکْثِرُ أَنْ یَقُولَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دینِکَ فَقُلْتُ یَا رَسُول اللَّہِ آمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِءْتَ بِہِ فَہَلْ تَخَافُ عَلَیْنَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ الْقُلُوبَ بَیْنَ أَصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّہِ یُقَلِّبُہَا کَیْفَ یَشَاءُ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ أَنَّ الْقُلُوبَ بَیْنَ أَصْبُعَیِ الرَّحْمَنِ ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے اے دلوں کو پھیرنے والے ” اللہ “ میرے دل کو دین پر ثابت فرما۔ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ پر ایمان لائے اور جو کچھ آپ لے کر آئے اسے تسلیم کیا۔ کیا آپ ہمارے بارے میں خطرہ محسوس کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! بیشک دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے وہ جدھر چاہتا ہے اسے پھیرتا ہے۔ “ دل کو نیکی اور اخلاق کے حوالے سے نرم رکھنے کا طریقہ : (عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنِّی کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ ثَلاَثٍ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُورِ فَزُورُوہَا وَلْتَزِدْکُمْ زِیَارَتُہَا خَیْرًا وَنَہَیْتُکُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِی بَعْدَ ثَلاَثٍ فَکُلُوا مِنْہَا وَأَمْسِکُوا مَا شِءْتُمْ وَنَہَیْتُکُمْ عَنِ الأَشْرِبَۃِ فِی الأَوْعِیَۃِ فَاشْرَبُوا فِی أَیِّ وِعَاءٍ شِءْتُمْ وَلاَ تَشْرَبُوا مُسْکِرًا) [ رواہ النسائی : باب الإِذْنِ فِی ذَلِکَ ] ” حضرت ابن بریدہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا قبر کی زیارت سے اب اس کی زیارت کرلیا کرو۔ بیشک اس کی زیارت آدمی کو نیکی میں بڑھاتی ہے۔ میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب کھا اور بچا لیا کرو جس قدر چاہو۔ میں نے تمہیں بعض برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا اب جونسے برتن میں چاہو پی لو۔ البتہ کوئی نشہ آور چیز پینے کی اجازت نہیں پینی۔ “ یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا : (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلًا شَکَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَسْوَۃَ قَلْبِہٖ فَقَالَ لَہٗ إِنْ أَرَدْتَّ تَلْیِیْنَ قَلْبِکَ فَأَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْیَتِیْمِ ) [ مسند احمد : باب مسند أبی ہریرہ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے دل کی سختی کے متعلق شکایت کی آپ نے فرمایا : اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر۔ “ اللہ کے ذکر سے دل نرم ہوتا ہے : (اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْن) [ الانفال : ٢] ” مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں تو ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ جن کے دلوں میں حق کے بارے میں کھوٹ اور سختی ہو وہ شیطان کی شیطنت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ٢۔ ظالم اور منافق کا دل حق کے بارے میں سخت ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن روحانی بیماریاں : ١۔ ریاکاری روحانی بیماری ہے۔ ( البقرۃ : ٢٦٤، الماعون : ٤ تا ٦) ٢۔ دل کی سختی۔ (المائدۃ : ١٣، الزمر : ٢٢) ٣۔ کفر۔ (البقرۃ : ١٠) ٤۔ تکبر۔ (النحل : ٢٢، لقمان : ١٨، النساء : ١٧٢) ٥۔ کجی۔ ( التوبۃ : ١١٧، آل عمران : ٧، الصف : ٥) ٦۔ دل کا زنگ آلود ہونا۔ ( المطففین : ١٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

67:۔ ” لِیَجْعَلَ الخ “ یہ ” اَلْقٰی “ سے متعلق ہے یعنی شیطانی وسوسے منافقین اور مشرکین کے لیے مزید گمراہی کا باعث بن جائے اور وہ وساوس و شبہات کے تابع ہو کر کفر وعناد پر مضبوط ہوجاتے ہیں۔ ” اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مّرض “ سے منافقین ” القاسیة قلوبھم “ سے۔ ” وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ الخ “” فَیَنْسَخُ اللّٰهُ “ سے متفعلق ہے یعنی اہل ایمان کے دلوں سے اللہ تعالیٰ نے شیطانی وسوسوں کا اثر زائل کر کے ان کے دلوں کو یقین سے بہرہ مند فرمایا تاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ یہ قرآن شریف اور مسئلہ توحید حق ہے اور ان کے دلوں میں مزید اطمینان اور انابت پیدا ہوجائے۔ ” وَاِنَّ اللّٰه لَھَاد “۔ جن لوگوں کے دلوں میں انابت اور تلاش حق کا جذبہ موجزن ہے اور وہ شیطانی وساوس سے متاثر نہیں ہوتے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ صراط مستقیم (راہ توحید) پر ثابت قدم رکھتا ہے اور گمراہی سے ان کی حفاظت فرماتا ہے آج بھی حال ہے جب کوئی عالم ربانی قرآن سے مسئلہ توحید بیان کرتا اور قرآن کی آیتیں تلاوت کرتا ہے تو شیطان سامعین کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے اور شب ہے ڈالتا ہے اور اللہ تعالیٰ نور آیات سے مومنوں کے دلوں سے شبہات کی تاریکی دور فرما دیتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(53) یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان شکوک و شبہات کو جو شیطان ڈالتا ہے ان لوگوں کے لئے موجب امتحان و آزمائش کردے جن کے دلوں میں شک و نفاق کی بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ یہ ظالم ایک ایسی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں جو طریق حق سے بہت دور ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق آل عمران کی ابتدا میں فرمایا تھا کہ جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے تو وہ متشا بہات کے پیچھے ہولیا کرتے ہیں اور فتنے ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ دل میں نفاق کی بیماری ، دل قرآن کریم کا استہزا کرنے سے سخت ہوچکے ہیں۔ ایسے دلوں میں حق بات کہاں اترتی ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے امتحان میں کہاں پاس ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ ظالم تو ایسی مخالفت میں مبتلا ہیں اور حق اور اہل حق کی مخالفت میں اتنی دورنکل چکے ہیں کہ ان کا واپس ہونا مشکل ہے۔ البتہ جو راسخین فی العلم ہیں وہ یقین کرتے ہیں اور ان کا ایمان مضبوط اور قوی ہوجاتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔