Surat ul Mominoon

Surah: 23

Verse: 11

سورة المؤمنون

الَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱﴾

Who will inherit al-Firdaus. They will abide therein eternally.

جو فردوس کے وارث ہونگے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

These are indeed the heirs. Who shall inherit Firdaws. They shall dwell therein forever. It was recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah said: إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ الْجَنَّةَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَعْلَى الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمن If you ask Allah for Paradise, then ask him for Al-Firdaws, for it is the highest part of Paradise, in the middle of Paradise, and from it spring the rivers of Paradise, and above it is the (Mighty) Throne of the Most Merciful. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Hurayrah said, "The Messenger of Allah said: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَلَهُ مَنْزِلاَانِ مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْزِلٌ فِي النَّارِ فَإِنْ مَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ وَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْزِلَهُ فَذَلِكَ قَوْلُهُ أُوْلَيِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ There is not one among you who does not have two homes, a home in Paradise and a home in Hell. If he dies and enters Hell, the people of Paradise will inherit his home, and this is what Allah said: أُوْلَيِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ (These are indeed the heirs). Ibn Jurayj narrated from Layth from Mujahid: أُوْلَيِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ (These are indeed the heirs), "The believers will inherit the homes of the disbelievers because they were created to worship Allah Alone with no partner or associate. So when these believers did what was enjoined on them of worship, and the disbelievers neglected to do that which they were commanded to do and for which they had been created, the believers gained the share that they would have been given if they had obeyed their Lord. Indeed, they will be given more than that as well." This is what was reported in Sahih Muslim from Abu Burdah, from his father, from the Prophet who said: يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِذُنُوبٍ أَمْثَالِ الْجِبَالِ فَيَغْفِرُهَا اللهُ لَهُمْ وَيَضَعُهَا عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى Some of the Muslims will come on the Day of Resurrection with sins like mountains, but Allah will forgive them and put (their burden of sin) on the Jews and Christians. According to another version: the Messenger of Allah said: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللهُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا فَيُقَالُ هَذَا فِكَاكُكَ مِنَ النَّار When the Day of Resurrection comes, Allah will appoint for every Muslim a Jew or Christian, and it will be said, "This is your ransom from the Fire." Umar bin Abd Al-Aziz asked Abu Burdah to swear by Allah besides Whom there is no other God, three times, that his father told him that from the Prophet, and he swore that oath. I say: this Ayah is like Allah's saying: تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِى نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَن كَانَ تَقِيّاً Such is the Paradise which We shall give as an inheritance to those of Our servants who have had Taqwa. (19:63) وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِى أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ This is the Paradise which you have been made to inherit because of your deeds which you used to do. (43:72)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

111ان صفات مذکورہ کے حامل مومن ہی فلاح یاب ہونگے جو جنت کے وارث یعنی حق دار ہوں گے۔ جنت بھی جنت الفردوس، جو جنت کا اعلٰی حصہ ہے۔ جہاں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں (صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب درجات المجاہدین، فی سبیل اللہ، و کتاب التوحید، باب وکان عرشہ علی ماء)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] فردوس بمعنی سرسبز وادی (منجد) اور بمعنی اودبار میں واقع باغ جس میں ہر قسم کے پھل اور پوھل موجود ہوں (منتہی الادب) گویا جنت الفردوس سے مراد جنت کا وہ حصہ ہے جس میں گسی اور ٹھندی چھاؤں والے سرسبز درخت بکثرت ہوں۔ پھولوں کی خوشبو سے معطر ہو اور اس میں ہر قسم کے پھل باافراط ہوں۔ اور جنت الفردوس جنت کا سب سے بلند طبقہ اور عین وسط میں ہوگا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ربیع بن نضر کا بیٹا حارثہ بن سراقہ بدر کے دن ایک غیبی تیر سے شہید ہوگیا۔ وہ آپ کے آکر کہنے لگے &&: مجھے حارثہ کا حال بتلائیے اگر وہ خیر کو پہنچا تو میں ثواب کی امید رکھوں اور صبر کرو اور اگر نہیں پہچنا تو میں اس کے لئے دعا کرتا رہوں && آپ نے فرمایا : && ام حارثہ ! جنت میں بہت سے باغ ہیں اور تیرا بیٹا تو فردوس بریں میں داخل ہوا ہے جو جنت کے وسط میں بلند زمین اور سبے بلند مقام ہے && (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اسی جنت کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی : اَللّٰھُمَّ اِنِیْ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ الْفِرْدُوْسَ نیز آپ نے فرمایا کہ جب اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو۔ (نیز جنت کی وراثت کے سلسلہ میں سورة اعراف آیت نمبر ٤٣ کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے) مندرجہ بالا آیات کے نزول کے وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی اور ان آیات کے نزول پر آپ نے مسلمانوں کے حق میں جو دعا فرمائی۔ مندرجہ ذیل حدیث سے اس حالت کا پورا نقشہ سامنے آجاتا ہے : حضرت عمر (رض) کہتے ہیں کہ جب آپ پر وحی اترتی تو آپ کے چہرے کے آس پاس شہد کی مکھی کی گنگناہٹ جیسی آواز آنے لگتی تھی۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی تو تھوڑی ہی دیر بعد آپ نے قبلہ کی طرف منہ کرکے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی : اے اللہ ! ہمیں زیادہ کر، تھوڑے نہ رہنے دے، ہمیں عزت عطا فرما، ذلیل نہ رہنے دے ہمیں عطا کر اور محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر مقدم کر، دوسروں کو ہم پر مقدم نہ رکھ، ہمیں خوش کردے اور ہم سے خوش ہوجا ! اس دعا کے بعد آپ نے فرمایا کہ : مجھے پر دس آیات نازل ہوئی ہیں جو ان پر عمل کرے گا، جنت میں داخل ہوگا۔ پھر آپ نے ( قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۝ ۙ ) 23 ۔ المؤمنون :1) سے لے کر دس آیات پڑھیں۔ (ترمذی۔ کتاب التفسیر)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ۝ ٠ۭ ہُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ ١١ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10. Firdaus (Paradise) is a common word found in almost all human languages in very nearly similar forms. It means a vast garden adjoining the dwelling of a person and enclosed by defence walls and containing all kinds of fruit trees, especially vines. In some languages, the word has the sense of containing pet birds and animals, too. Firdaus was in common use in pre-Islamic Arabic literature. The Quran, however, has used it for a plurality of gardens as in (Surah Al-Kahf, Ayat 107). This gives the idea that Firdaus is a vast place containing a great number of gardens, vineyards, etc. The inheritance of Paradise by believers has been explained in detail in (E.N. 83 of Surah TaHa) and (E.N. 99 of Surah Al- Anbiya). 11. The substance of this passage may be summed up in four parts for further understanding of the Surah: (1) The above mentioned excellent qualities of the believers are not confined to any race, nation or country. (2) These excellences can be attained only by sincere faith and excellent moral qualities, and by the observance of prescribed laws in all the aspects of life. (3) True success is not confined to transitory worldly and material prosperity but it comprises both success in this life and in the life after death in the Hereafter, and is attained by sincere faith and righteous deeds. This is a fundamental principle which cannot be falsified either by the worldly success of the evil-doers or by the temporary failure of the righteous people. (4) Let us reiterate that these excellent characteristics of the believers have been presented as a practical proof of the truth of the message of the Prophet (peace be upon him), for these were the result of its acceptance. This should be kept in mind in the study of the succeeding passages, wherein the same subject has been pursued from different angles. This will also help to show the connection between this and the succeeding passages.

سورة الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :10 فردوس ، جنت کے لیے معروف ترین لفظ ہے جو قریب قریب تمام انسانی زبانوں میں مشترک طور پر پایا جاتا ہے ۔ سنسکرت میں پَردِیْشَا ، قدیم کلدانی زبان میں پردیسا ، قدیم ایرانی ( ژند ) میں پیری وائزا ، عبرانی میں پردیس ، ارضی میں پرویز ، سُریانی میں فردیسو ، یونانی میں پارا دئسوس ، لاطینی میں پاراڈائسس ، اور عربی میں فردوس ۔ یہ لفظ ان سب زبانوں میں ایک ایسے باغ کے لیے بولا جاتا ہے جس کے گرد حصار کھنچا ہوا ہو ، وسیع ہو ، آدمی کی قیام گاہ سے متصل ہو ، اور اس میں ہر قسم کے پھل ، خصوصاً انگور پائے جاتے ہوں ۔ بلکہ بعض زبانوں میں تو منتخب پالتو پرندوں اور جانوروں کا بھی پایا جانا اس کے مفہوم میں شامل ہے ۔ قرآن سے پہلے عرب کے کلام جاہلیت میں بھی لفظ فردوس مستعمل تھا ۔ اور قرآن میں اس کا اطلاق متعدد باغوں کے مجموعے پر کیا گیا ہے ، جیسا کہ سورہ کہف میں ارشد ہوا : کَانَتْ لَھُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً ، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہیں ۔ اس سے جو تصور ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ فردوس ایک بڑی جگہ ہے جس میں بکثرت باغ اور چمن اور گلشن پائے جاتے ہیں ۔ اہل ایمان کے وارث فردوس ہونے پر سورہ طٰہٰ ( حاشیہ 83 ) ، اور سورہ انبیاء ( حاشیہ 99 میں کافی روشنی ڈالی جا چکی ہے ۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :11 ان آیات میں چار اہم مضمون ادا ہوئے ہیں : اول یہ کہ جو لوگ بھی قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان کر یہ اوصاف اپنے اندر پیدا کرلیں گے اور اس رویے کے پابند ہو جائیں گے وہ دنیا اور آخرت میں فلاح پائیں گے ، قطع نظر اس سے کہ کسی قوم ، نسل یا ملک کے ہوں ۔ دوم یہ کہ فلاح محض اقرار ایمان ، یا محض اخلاق اور عمل کی خوبیوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ دونوں کے اجتماع کا نتیجہ ہے جب آدمی خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کو مانے ، پھر اس کے مطابق اخلاق اور عمل کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کر لے ، تب وہ فلاح سے ہمکنار ہو گا ۔ سوم یہ کہ فلاح محض دنیوی اور مادی خوش حالی اور محدود وقتی کامیابیوں کا نام نہیں ہے ، بلکہ وہ ایک وسیع تر حالت خیر کا نام ہے جس کا اطلاق دنیا اور آخرت میں پائدار و مستقل کامیابی و آسودگی پر رہتا ہے ۔ یہ چیز ایمان و عمل صالح کے بغیر نصیب نہیں ہوتی ۔ اور اس کلیے کو نہ تو گمراہوں کی وقتی خوش حالیاں اور کامیابیاں توڑتی ہیں ، نہ مومنین صالحین کے عارضی مصائب کو اس کی نقیب ٹھہرا یاجا سکتا ہے ۔ چہارم یہ کہ مومنین کے ان اوصاف کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متن کی صداقت کے لئے دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے ، اور یہی مضمون آگے کی تقریر سے ان آیات کا ربط قائم کرتا ہے ۔ تیسرے رکوع کے خاتمے تک کی پوری تقریر کا سلسلہ استدلال اس طرح پر ہے کہ آغاز میں تجربی دلیل ہے ، یعنی یہ کہ اس نبی کی تعلیم نے خود تمہاری ہی سوسائٹی کے افراد میں یہ سیرت و کردار اور یہ اخلاق و اوصاف پیدا کر کے دکھائے ہیں ، اب تم خود سوچ لو کہ یہ تعلیم حق نہ ہوتی تو ایسے صالح نتائج کس طرح پیدا کر سکتی تھی ۔ اس کے بعد مشاہداتی دلیل ہے ، یعنی یہ کہ انسان کے اپنے وجود میں اور گرد و پیش کی کائنات میں جو آیات نظر آتی ہیں وہ سب توحید اور آخرت کی اس تعلیم کے بر حق ہونے کی شہادت دے رہی ہیں جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتے ہیں ۔ پھر تاریخی دلائل آتے ہیں ، جن میں بتایا گیا ہے کہ نبی اور اس کے منکرین کی کشمکش آج نئی نہیں ہے بلکہ ان ہی بنیادوں پر قدیم ترین زمانے سے چلی آ رہی ہے اور اس کشمکش کا ہر زمانے میں ایک ہی نتیجہ برآمد ہوتا رہا ہے جس سے صاف طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ فریقین میں سے حق پر کون تھا اور باطل پر کون ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: جنت کو مومنوں کی میراث اس لئے کہا گیا ہے کہ ملکیت کے اسباب میں سے میراث ہی ایک ایسا طریقہ ہے جس میں ایک چیز خود بخود اس طرح انسان کی ملکیت میں آجاتی ہے کہ اس ملکیت کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ اشارہ اس طرف ہے کہ جنت کے مل جانے کے بعد اس کے چھن جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

8 ۔ حدیث میں ہے، ” جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس کی طلب کرو۔ اس لئے کہ وہ جنت کا سب سے اعلیٰ اور بہترین طبقہ ہے اور اسی سے جنت کے دریا نکلتے ہیں اور اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیحین) ایک مرتبہ حضرت عائشہ (رض) نے سورة مومنون کی یہ دس آیات تلاوت کر کے فرمایا : ” یہ تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خلق۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) جو لوگ فردوس بریں کی میراث پائیں گے وہ اس فردوس بریں میں ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی جو لوگ مذکورہ بالا صفات سے متصف ہوں گے وہ ہمیشہ فردوس بریں میں رہیں گے اور جس طرح ورثے میں پائی ہوئی چیز کو کوئی چھین نہیں سکتا اسی طرح جنت الفردوس سے بھی کوئی ان کو بےدخل کرنے والا نہ ہوگا یا یہ مطلب ہے کہ ہر شخص کے دو گھر ہوں گے ایک جنت میں ایک دوزخ میں جب دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو جہنم والوں کے گھر بھی اہل جنت کو مل جائیں گے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔