Surat un Noor

Surah: 24

Verse: 52

سورة النور

وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَخۡشَ اللّٰہَ وَ یَتَّقۡہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۵۲﴾

And whoever obeys Allah and His Messenger and fears Allah and is conscious of Him - it is those who are the attainers.

جو بھی اللہ تعالٰی کی اس کے رسول کی فرماں برداری کریں خوف الٰہی رکھیں اور اس کے عذابوں سے ڈرتے رہیں وہی نجات پانے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ... And whosoever obeys Allah and His Messenger, in what he is commanded with, and avoid what he is forbidden, ... وَيَخْشَ اللَّهَ ... fears Allah, means, for his past sins, ... وَيَتَّقْهِ ... and has Taqwa of Him, regarding sins he may commit in the future. ... فَأُوْلَيِكَ هُمُ الْفَايِزُونَ such are the successful. means, those who will attain all goodness and be saved from all evil in this world and the Hereafter.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

521یعنی فلاح و کامیابی کے مستحق صرف وہ لوگ ہوں گے جو اپنے تمام معاملات میں اللہ اور رسول کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرتے اور انہی کی اطاعت کرتے ہیں اور خشیت الٰہی اور تقوٰی سے متصف ہیں، نہ کہ دوسرے لوگ، جو ان صفات سے محروم ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۔۔ : ” وَيَتَّقْهِ “ اصل میں ” یَتَّقِیْہِ “ تھا، آیت کے شروع میں اسم جازم ” مَن “ کی وجہ سے اس کی یاء گرگئی اور لفظ ” یَتَّقِہِ “ ہوگیا، جس میں قاف اور ہاء دونوں پر کسرہ ہے، پھر تخفیف کے لیے قاف کو ساکن کردیا، جیسے ” کَتْفٌ“ کی تاء کو ساکن کیا گیا۔ (ابوالسعود) یعنی صرف باہمی جھگڑے کے لیے ہی نہیں بلکہ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور کوئی کوتاہی ہوجائے تو اللہ سے ڈرے، اس گناہ سے توبہ کرے اور معافی مانگے اور آئندہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور جو ایسا کریں سو وہی مراد پانے والے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Four conditions for success and victory وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ وَيَخْشَ اللَّـهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿٥٢﴾ And whoever obeys, Allah and His messenger and has awe of Him and observes Tagwa of Him, then such people are the victorious. [ 52] In this verse it is declared that those who bind themselves to follow these four things are the ones who are successful and victorious in this world and the Hereafter. An astonishing incident An incident of Sayyidna ` Umar (رض) is reported in Tafsir Qurtubi, which explains the difference between these four things and puts them in right perspective. It so happened that one day Sayyidna ` Umar (رض) was standing in the Prophet&s mosque, when suddenly a Roman villager appeared and stood beside him, and said انا اَشھَدُ اَنَّ لا إله إلا اللہ و اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدَاً رَّسُولُ اَلله . Sayyidna ` Umar (رض) inquired ` What is the matter?& He replied ` I have accepted Islam for Allah&s sake&. Then Sayyidna Umar (رض) asked if there was any reason for that, to which he replied in the affirmative, and elaborated that he had read Torah, Injil, Zabur and a number of other books brought by past messengers. But lately he had heard a verse of the Holy Qur&an recited by a Muslim prisoner and realized that in that small verse all the older books have been condensed. So, he was convinced that it was Allah&s revelation. Then Sayyidna ` Umar (رض) enquired from him about the verse he was referring to, and he recited this very verse. That Roman villager also gave a very astonishing commentary of the verse, which goes like this: وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ وَيَخْشَ اللَّـهَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿٥٢﴾ And whoever obeys Allah and His messenger and has awe of Him and observes Tagwa of Him, then such people are the victorious. [ 52] This مَن يُطِعِ اللَّـهَ relates to the obligations toward Allah and وَرَ‌سُولَهُ refers to Prophet&s traditions, and يَخْشَ اللَّـهَ alludes toward past life and وَيَتَّقْهِ is purported for the remaining life. When someone acts upon these four things he is given the good tiding of فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (that such people are the victorious). And Fa&iz is that person who gets deliverance from Jahannam and earns a place in the Paradise. After hearing this explanation Sayyidna ` Umar (رض) said the endorsement of this is available in the utterance of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، who had said that اُوتیت جوامع الکلم Allah has graced me with such comprehensive expressions in which words are few but the meanings are vast&. (Qurtubi)

فوز و فلاح کے لئے چار شرطیں : وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَخْشَ اللّٰهَ وَيَتَّقْهِ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ اس آیت میں چار چیزیں بیان کر کے فرمایا ہے کہ جو ان چار چیزوں کے پابند ہیں وہ ہی بامراد اور دین و دنیا میں کامیاب ہیں۔ ایک واقعہ عجیبہ : تفسیر قرطبی میں اس جگہ ایک واقعہ حضرت فاروق اعظم کا نقل کیا جس سے ان چاروں چیزوں کے مفہوم کا فرق اور وضاحت ہوجاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم ایک روز مسجد نبوی میں کھڑے تھے اچانک ایک رومی دہقانی آدمی بالکل آپ کے برابر آ کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا انا اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد الرسول اللہ، حضرت فاروق اعظم نے پوچھا کیا بات ہے ؟ تو کہا میں اللہ کے لئے مسلمان ہوگیا ہوں۔ حضرت فاروق اعظم نے پوچھا کیا اس کا کوئی سبب ہے اس نے کہا ہاں۔ بات یہ ہے کہ میں نے تورات، انجیل، زبور اور انبیاء سابقین کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر حال میں ایک مسلمان قیدی قرآن کی ایک آیت پڑھ رہا تھا وہ سنی تو معلوم ہوا کہ اس چھوٹی سی آیت نے تمام کتب قدیمہ کو اپنے اندر سمو لیا ہے تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ فاروق اعظم نے پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے ؟ تو اس رومی دہقان نے یہی آیت مذکورہ تلاوت کی اور اس کے ساتھ اس کی تفسیر بھی عجیب و غریب اس طرح بیان کی کہ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ فرائض الہیہ کے متعلق ہے۔ وَرَسُوْلَهٗ سنت نبوی کے متعلق ہے وَيَخْشَ اللّٰهَ گزشتہ عمر کے متعلق ہے وَيَتَّقْهِ آئندہ باقی عمر کے متعلق ہے۔ جب انسان ان چار چیزوں کا عامل ہوجائے تو اس کو اولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ کی بشارت ہے اور فائزہ وہ شخص ہے جو جہنم سے نجات پائے اور جنت میں اس کو ٹھکانا ملے۔ فاروق اعظم نے یہ سن کر فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کے کلام میں اس کی تصدیق موجود ہے آپ) نے فرمایا ہے اوتیت جوامع الکلم یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے جامع کلمات عطا فرمائے ہیں جن کے الفاظ مختصر اور معانی نہایت وسیع ہیں۔ (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَيَخْشَ اللہَ وَيَتَّقْہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ۝ ٥٢ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ فوز الْفَوْزُ : الظّفر بالخیر مع حصول السّلامة . قال تعالی: ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] ، فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] ، ( ف و ز ) الفوز کے معنی سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرلینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] یہی بڑی کامیابی ہے ۔ فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] تو بیشک بڑی مراد پایئکا ۔ یہی صریح کامیابی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٢) اور اگلی آیت بھی حضرت عثمان بن عفان (رض) کے بارے میں ان کی اس درخواست پر نازل ہوئی، انہوں نے عرض کیا تھا اللہ کی قسم یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ کی رضا ہو تو میں اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خیرات کر دوں، چناچہ اللہ تعالیٰ ان کی تعریف میں فرما رہے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور سابقہ چیزوں پر اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور آئندہ اس کی مخالفت سے بچے، ایسے ہی حضرات جنت حاصل کر کے بامراد اور دوزخ سے دور ہوں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(24:52) یطع۔ اطاع یطیع (افعال) اطاعۃ سے۔ مانتا ہے فرمانبرداری کرتا ہے اطاعت کرتا ہے۔ یخش۔ خشی۔ یخشی (باب سمع) خشیۃ سے وہ ڈرتا ہے اور یتق۔ اتقی یتقی اتقاء (افتعال) سے دقی مادہ۔ خود کھاتا ہے ۔ ڈرتا ہے۔ بچتا ہے (نافرمانی سے) ہر سہ مضارع مجزوم بوجہ جملہ شرطیہ ہونے کے من یہاں شرطیہ ہے بصیغہ واحد مذکر غائب ہیں۔ یتقہ میں ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اللہ کے لئے ہے یعنی جو اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(ومن یطع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الفآئزون) (٥٢) آیت سابقہ میں موضوع سخن یہ تھا کہ اہل ایمان اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلوں میں مطیع فرمان ہوتے ہیں۔ اب یہاں کہا جاتا ہے کہ اہل ایمان کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قانونی فیصلوں کے علاوہ بھی اللہ کے احکام ونواہی کی پابندی کرتے ہیں اور یہ اطاعت وہ قانونی گرفت کے خوف سے نہیں کرتے بلکہ اللہ کی گرفت کے خوف سے وہ یہ اطاعت کرتے ہیں۔ تقویٰ خشیت سے ذرا عام لفظ ہے کیونکہ خشیت اور خوف سے ڈر ! آگے بڑھ کر تقویٰ میں چھوٹے اور بڑے معاملات میں احتیاط کا شعور انسان کے اندر پیدا ہوجاتا ہے جبکہ خشیت میں خوف اور ڈر کا پہلو ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ڈرتا ہے اور اطاعت کرتا ہے تو وہی کامیات ہوتا ہے۔ یہ شخص دنیا اور آخرت میں نجات پالیتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ اور ایسے لوگ یقیناً کامیابی کے زیل بھی قرار پاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی زندگی کے اندر ایسے اسباب ہوتے ہیں جو ان کی کامیابی کا سبب بنتے ہیں کیونکہ جو شخص اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اللہ کے طے کردہ سیدھے منہاج پر چل رہا ہوتا ہے۔ یہ منہاج اس لیے کامیاب ہوتا ہے کہ یہ خود اللہ نے علم و حکمت کی بنیاد طے کیا ہوتا ہے۔ اس منہاج کا مزاج اور اس کی فطرت کے اندر یہ کامیابی مضمر ہوتی ہے۔ دنیا کی کامیابی بھی اور آخرت کی بھی۔ پھر اس نظام میں اللہ کا خوف اور تقویٰ وہ چوکیدار ہوتے ہیں جو اس نظام پر انسانوں کو چلاتے ہیں اور یہ نظام درست رہتا ہے۔ یہ جس جاوئہ مستقیم پر چل رہے ہوتے ہیں اس پر ہر جگہ دھوکہ دینے والی چیزیں ان کے لیے دامن گیر ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ لوگ اپنی راہ سے انحراف نہیں کرتے۔ یہ آداب کہ انسان اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ‘ خدا خوفی تقویٰ اور خشیت کے ساتھ کرے نہایت ہی بلند آداب زندگی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے انسانوں کے دل نور ربانی سے روشن ہیں۔ یہ دل اللہ سے ملے ہوئے ہیں اور ان کے شعور میں خوف خدا بسا ہوا ہے اور ان آداب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دل نہایت ہی معزز اور سربلند ہیں۔ کیونکہ کوئی شریف آدمی یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کے سامنے ذلیل و خوار ہو اس لیے ایک مومن کا ضمیر اس سے ابا کرتا ہے۔ حقیقی اطاعت تو ہے ہی وہی جس میں اطاعت کرنے والا اس نظر سے اطاعت کرے کہ وہ ذات کبریا کی اطاعت کررہا ہے کیونکہ ایک سچا مومن صرف اللہ کے سامنے اپنے سر کو جھکا سکتا ہے۔ اہل ایمان کے ان اچھے آداب اور اہل نفاق کے ان برے آداب کے درمیان اس تقابل کے بعد کہ مومنین وہ ہوتے ہیں جو صرف اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور منافقین وہ ہوتے ہیں جو دعوائے ایمان تو کرتے ہیں لیکن مومن نہیں ہوتے ‘ اب منافقین کے بارے میں بقیہ بات مکمل کی جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(52) اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم مانے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اس کی مخالفت اور ناراضگی سے بچتا رہے پس ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہی۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور برے راستے سے بچتے رہنا یہی باتیں دین و دنیا میں کامیابی اور حصول مراد کی ضامن ہیں۔