Surat un Noor

Surah: 24

Verse: 9

سورة النور

وَ الۡخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیۡہَاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۹﴾

And the fifth [oath will be] that the wrath of Allah be upon her if he was of the truthful.

اور پانچویں دفعہ کہے کہ اس پر اللہ تعالٰی کا غضب ہو اگر اس کا خاوند سچوں میں سے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

if she bears witness four times by Allah, that he is telling a lie. And the fifth; should be that the wrath of Allah be upon her if he speaks the truth. The wrath of Allah is mentioned specially in the case of the woman, because usually a man would not go to the extent of exposing his wife and accusing her of Zina unless he is telling the truth and has good reason to do this, and she knows that what he is accusing her of is true. So in her case the fifth testimony calls for the wrath of Allah to be upon her, for the one upon whom is the wrath of Allah, is the one who knows the truth yet deviates from it. Then Allah mentions His grace and kindness to His creation in that He has prescribed for them a way out of their difficulties. Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

91یعنی اگر خاوند کے جواب میں بیوی چار مرتبہ قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر اس کا خاوند سچا ہے (اور میں جھوٹی ہوں) تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ تو اس صورت میں وہ زنا کی سزا سے بچ جائی گی اس کے بعد ان دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے جدائی ہوجائے گی۔ اسے لعان اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں دونوں ہی اپنے آپ کو جھوٹا ہونے کی صورت میں مستحق لعنت قرار دیتے ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایسے بعض واقعات پیش آئے، جن کی تفصیل احادیث میں موجود ہے، وہی واقعات ان آیات کے نزول کا سبب بنے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] آیت نمبر ٦ سے آیت نمبر ٩ تک کی وضاحت کے لئے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : ١۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اپنی بیوی (خوا بنت عاصم) کو شریک بن سخماء سے متہم کیا۔ آپ نے ہلال سے فرمایا : (&& چار) گواہ لاؤ وفنہ تمہاری پشت پر حد قذف پڑے گی && ہلال نے جواب دیا : && یارسول اللہ !~ اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی سے بدکاری کرتے دیکھے تو کیا وہ گواہ ڈھونڈھتا پھرے ؟ && (یہ تو بہت مشکل ہے) لیکن آپ یہی فرماتے رہے کہ گواہ لاؤ ورنہ حد پڑے گی && ہلال کہنے لگے : && اس پروردگار کی قسم جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے، میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے متلعق کوئی ایسا حکم نازل کرے گا۔ جس سے میری پشت کو سزا سے بچا لے گا && اس کے بعد جبریل اترے اور (وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَاۗءُ اِلَّآ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۢ بِاللّٰهِ ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ ؀) 24 ۔ النور :6) تک آیت نازل ہوئیں۔ بعد ازاں آپ نے ہلال کی بیوی کو بلا بھجا۔ (پہلے) ہلال نے لعان کی گواہیاں دیں۔ جبکہ آپ ساتھ ساتھ فرما رہے تھے : && دیکھو تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے اور جو جھوٹا ہے وہ توبہ کرتا ہے یا نہیں ؟ && ہلال کے بعد اس کی بیوی کھڑی ہوئی اس نے چار گواہیاں دے دیں جب پانچویں کا وقت آیا تو لوگوں نے اسے ٹھہرایا (اور سمجھایا) کہ && یہ پانچویں گواہی تمہیں عذاب میں مبتلا کر دے گی۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ && یہ بات سن کر وہ عورت ذرا جھجکی اور رکی اور ہم سمجھے کہ وہ اقرار کرلے گی مگر وہ کہنے لگی کہ میں اپنی قوم کو تمام عمر کے لئے رسوا نہیں کرسکتی، پھر پانچویں گواہی بھی دے دی && آپ نے فرمایا : && دیکھتے رہو، اگر اس عورت کا بچہ کالی آنکھوں، موٹے سیرین اور موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہوا تو وہ شریک بن سحماء کا نطفہ ہوگا۔ چناچہ اس عورت کے ہاں اسی صورت کا بچہ پیدا ہوا اس وقت آپ نے فرمایا : اگر اللہ کا حکم (لعان) نازل نہ ہوا ہوتا تو میں اس عورت کو ٹھیک سزا دیتا (بخاری۔ کتاب التفسیر) سہل بن سعد راوی ہیں کہ عویمر (بن حارث بن زید بن جد بن عجلان) عاصم بن عدی کے پاس آوے جو عویمر کے قبیلہ بنی عجلان کے سردار تھے۔ اور ان سے پوچھا کہ : اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھے تو تم اس بارے میں کیا کہتے ہو ؟ اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم لوگ بھی اس کو (قصاص میں) مار ڈالو گے۔ پھر وہ کیا کرے ؟ عاصم رسول اللہ !~ کے پاس آئے اور یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے اس قسم کے سوالات کو برا سمجھا (اور خاموش رہے) پھر جب مویمر نے عاصم سے اپنے مسئلہ کا جواب پوچھا تو کہنے لگے : میں تو ایسا مسئلہ رسول اللہ !~ سے کبھی نہ پوچھوں گا۔ آخر مویمر خود رسول اللہ کے پاس آئے اور کہا : && اللہ کے رسول ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ دیکھے تو کیا کرے اس کو مار ڈالے تو آپ اس کو (قصاص میں) مار ڈالیں گے۔ پھر آخر کیا کرے ؟ && آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے تیرے اور تیری بیوی کے باب میں قرآن (میں حکم) نازل کیا ہے۔ پھر آپ نے دونوں میاں بیوی کو لعان کرنے کا حکم دیا جب کہ قرآن میں حکم نازل ہوا تھا۔ مویمر نے اپنی بیوی سے لعان کرنے کے بعد کہا۔ && یارسول اللہ ! اگر اب میں اس عورت کو رکھوں تو میں ظالم ہوں && چناچہ مویمر نے بیوی کو طلاق دے دی اور بعد میں ایسے لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ جاری ہوگیا۔ لعان کے بعد آپ نے فرمایا : دیکھتے رہو اس عورت کا جو بچہ پیدا ہو اگر وہ سانولا، کالی آنکھوں، اور بڑے سرین اور موٹی پنڈلیوں والا ہو تو میں سمجھوں گا کہ مویمر نے اپنی بیوی کے متعلق سچ کہا تھا۔ اور اگر بچہ گرگٹ کی طرح سخر رنگ کا پیدا ہو تو میں سمجھوں گا کہ عویمر نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی۔ پھر جب بچہ پیدا ہوا تو آپ کی بتلائی ہوئی علامات کے مطابق عویمر سچا نکلا۔ چناچہ اس بچہ کا نسب اسی کی مان سے ملایا گیا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) یہ لعان مسجد میں ہوا اور میں وہاں موجود تھا (کتاب الصلوۃ۔ باب القفط۔۔ ) ٣۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب عویمر اور اس کی بیوی میں لعان ہوچکا تو عویمر نے کہا کہ میں نے جو مہر کا روپیہ دیا تھا وہ کدھر جائے گا تو اسے یہ جواب دیا گیا کہ تمہارے لئے کوئی مال نہیں۔ اگر تم اپنے بیان میں سچے ہو تو بھی تم اپنی بیوی سے صحبت کرتے رہے اور اگر جھوٹے ہو تو پر تو کسی صورت تم اس کے حقدار نہیں۔ (بخاری۔ کتاب الطلاق۔ باب صداق الملاعنیہ) ان احادیث سے اور بعض دوسری احادیث سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوتے ہیں۔ ١۔ اگر کوئی شخص کسی غیر عورت پر تہمت لگائے تو اس کا فیصلہ شہادات کی بنا پر ہوگا۔ اور اگر اپنی ہی بیوی پر الزام تو اس کا فیصلہ لعان کی صورت میں ہوگا جیسے ان آیات میں مذکور ہے۔ ٢۔ قسم کھانے کے دوران قاضی فریقین کو اللہ سے ڈر کر صحیح بات کہنے کی تلقین کرتا رہے۔ اور اگر فریق اپنے دعویٰ سے رک جائے تو اس پر حد قذف لگے گی اور مرد کے قسمیں کھانے کے بعد عورت رک جائے تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنے سنا کے جرم کا اعتراف کرلیا (حدیث نمبر ١) اس صورت میں اسے رجم کیا جائے گا۔ اور آیت نمبر ٨ میں لفظ عذاب سے یہی سزا مراد ہے۔ ٣۔ لعان تفریق زوجین سب سے سخت قسم ہے۔ جس کے بعد فریقین میں کبھی دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔ ٤۔ لعان کے بعد مرد طلاق دے یا نہ دے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیشہ کے لئے جدائی از خود واقعہ ہوجاتی ہے۔ ٥۔ لعان کے بعد مرد عورت سے حق مہر یا دیگر اخراجات کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ (حدیث نمبر ٣) ٦۔ لعان کے بعد عدت کے دوران عورت کا نان و نفقہ یا سکنیٰ مرد کے ذمہ نہ ہوگا۔ ٧۔ پیدا ہونے والا بچہ ماں کی طرف منسوب ہوگا۔ اسے متہم زانی کی طرف منسوب نہیں کیا جائے گا۔ ٨۔ بچہ ماں کا وارث ہوگا۔ اور ماں بچہ کی۔ اور وضع حمل کے بعد اگر عورت مجرم ثابت ہوجائے تو بھی اسے سنگسار نہیں کیا جائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللہِ عَلَيْہَآ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۝ ٩ غضب الغَضَبُ : ثوران دم القلب إرادة الانتقام، ولذلک قال عليه السلام : «اتّقوا الغَضَبَ فإنّه جمرة توقد في قلب ابن آدم، ألم تروا إلى انتفاخ أوداجه وحمرة عينيه» «2» ، وإذا وصف اللہ تعالیٰ به فالمراد به الانتقام دون غيره : قال فَباؤُ بِغَضَبٍ عَلى غَضَبٍ [ البقرة/ 90] ، وَباؤُ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ [ آل عمران/ 112] ، وقال : وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي [ طه/ 81] ، غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [ المجادلة/ 14] ، وقوله : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ [ الفاتحة/ 7] ، قيل : هم اليهود «3» . والغَضْبَةُ کالصّخرة، والغَضُوبُ : الكثير الغضب . وتوصف به الحيّة والنّاقة الضجور، وقیل : فلان غُضُبَّةٌ: سریع الغضب «4» ، وحكي أنّه يقال : غَضِبْتُ لفلان : إذا کان حيّا وغَضِبْتُ به إذا کان ميّتا «5» . ( غ ض ب ) الغضب انتقام کے لئے دل میں خون کا جوش مارنا اسی لئے آنحضرت نے فرمایا ہے اتقو ا الغضب فانہ جمرۃ توقدئی قلب ابن ادم الم ترو الی امتقاخ اوداجہ وحمرتۃ عینیہ کہ غصہ سے بچو بیشک وہ انسان کے دل میں دہکتے ہوئے انگارہ کی طرح ہے تم اس کی رگوں کے پھولنے اور آنکھوں کے سرخ ہوجانے کو نہیں دیکھتے لیکن غضب الہیٰ سے مراد انتقام ( اور عذاب ) ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَباؤُ بِغَضَبٍ عَلى غَضَبٍ [ البقرة/ 90] تو وہ اس کے ) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہوگئے ۔ وَباؤُ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ [ آل عمران/ 112] اور وہ خدا کے غضب ہی گرمحتار ہوگئے ۔ وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي [ طه/ 81] اور جس پر میرا غصہ نازل ہوا ۔ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [ المجادلة/ 14] اور خدا اس پر غضب ناک ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ [ الفاتحة/ 7] نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا ۔ میں بعض نے کہا کہ مغضوب علیھم سے یہود مراد ہیں اور غضبۃ کے معنی سخت چٹان کے ہیں ۔ المغضوب بہت زیادہ غصے ہونے والا یہ سانپ اور تزر مزاج اونٹنی پر بھی بولا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ فلاں غضبۃ کے معنی ہیں فلاں بہت جلد غصے ہونے والا ہے ۔ بعض نے بیان کیا ہے کہ غضیت لفلان کے معنی کسی زندہ شخص کی حمایت میں ناراض ہونا ہیں اور غضبت بہ کے معنی کیس مردہ شخص کی حمایت کے لئے غضب ناک ہونا ۔ صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩) اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہوا اگر میرا خاوند سچا ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩ (وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْہَآ اِنْ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ) ” اگر شوہر چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر الزام میں اپنی سچائی کی گواہی دے دے اور پانچویں دفعہ یہ بھی کہہ دے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو تو اس کی طرف سے چار گواہ پیش کرنے کا قانونی تقاضا پورا ہوگیا۔ اس کے بعد متعلقہ عورت کو صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ اگر وہ اس الزام کو تسلیم کرلے یا خاموش رہے تو اس پر حد جاری کردی جائے گی ‘ لیکن اگر وہ اس سے انکار کرے تو اسے بھی اللہ کی قسم کھا کر چار مرتبہ یہ کہنا ہوگا کہ اس کا شوہر جھوٹ بول رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہنا ہوگا کہ اگر وہ اپنے الزام میں سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اگر وہ عورت ایسا کہہ دے تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی اور وہ دنیا کی سزا سے بچ جائے گی۔ البتہ اس کے بعد ان کے درمیان طلاق واقع ہوجائے گی اور وہ دونوں بطور میاں بیوی اکٹھے نہیں رہ سکیں گے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

7. These verses were revealed some time after the preceding verses. The law of qazf prescribed the punishment for the person who accused the other man or woman of zina, and did not produce witnesses to prove his charge, but the question naturally arose, what should a man do if he finds his own wife involved in zina? If he kills her, he will be guilty of murder and punishable. If he goes to get witnesses, the offender might escape. If he tries to ignore the matter, he cannot do so for long. He can, of course, divorce the woman, but in this case there will be no moral or physical punishment either for the woman or her seducer. And if the illicit intercourse results in pregnancy, he will have to suffer the burden of bringing up another person’s child. Initially this question was raised by Saad bin Ubadah as a hypothetical case, who said that if he happened to see such a thing in his own house, he would not go in search of witnesses, but would settle the matter there and then with the sword. (Bukhari, Muslim). But soon afterwards actual cases were brought before the Prophet (peace be upon him) by the husbands who were eyewitnesses of this thing. According to traditions related by Abdullah bin Masud and Ibn Umar, an Ansar Muslim (probably Uwaimir Ajlani) came to the Prophet (peace be upon him) and said: O Messenger of Allah, if a person finds another man with his wife, and utters an accusation, you will enforce the prescribed punishment of qazf on him; if he commits murder, you will have him killed; if he keeps quiet, he will remain involved in anguish; then, what should he do? At this the Prophet (peace be upon him) prayed: O Allah, give a solution of this problem. (Muslim, Bukhari, Abu Daud, Ahmad, Nasai). Ibn Abbas has reported that Hilal bin Umayyah presented the case of his wife whom he had himself witnessed involved in the act of sin. The Prophet (peace be upon him) said: Bring your proof, otherwise you will have the prescribed punishment of qazf inflicted on you. At this a panic spread among the companions, and Hilai said: I swear by Allah Who has sent you as a Prophet that I am speaking the truth. I have seen it with my eyes and heard it with my ears. I am sure Allah will send down a command, which will protect my back (from the punishment). So, this verse was revealed. (Bukhari, Ahmad, Abu Daud). The legal procedure which has been laid down in this verse is termed as the law of lian. The details of the cases which the Prophet (peace be upon him) judged in accordance with the law of lian are found in the books of Hadith and these form the source and basis of this law. According to the details of Hilai bin Umayyah’s case as reported in sihah-sitta, Musnad Ahmad and Tafsir Ibn Jarir, on the authority of Ibn Abbas and Anas bin Malik, both Hilai and his wife were presented before the Prophet (peace be upon him), who first of all apprised them of the divine law, and then said: You should note it well that the punishment of the Hereafter is much severer than the punishment of this world. Hilai submitted that his charge was absolutely correct. The woman denied it. The Prophet (peace be upon him) then said: Let us proceed according to the law of lian. So, Hilai stood up first and swore oaths according to the Quranic command. The Prophet (peace be upon him) went on reminding them again and again: Allah knows that one of you is certainly a liar: then, will one of you repent? Before Hilai swore for the fifth time, the people who were present there, said to him: Fear God, the punishment of the world is lighter than of the Hereafter. The fifth oath will make the punishment obligatory on you. But Hilai said that God Who had protected his back (from punishment) in this world, will also spare him in the Hereafter. After this he swore the fifth oath, too. Then the woman began to swear oaths. Before she swore the fifth oath, she was also stopped and counseled: Fear God, the worldly punishment is easier to bear than the punishment of the Hereafter. This last oath will make the divine punishment obligatory on you. Hearing this the woman hesitated a little. The people thought that she was going to make the confession. But instead of that she said: I do not want to put my clan to disgrace for ever, and swore for the fifth time, too. At this the Prophet ordered separation between them and ruled that her child after birth would be attributed to her and not to the man; that nobody after that would blame her or her child; that anybody who accused either of them would incur the punishment of qazf and that she had no right left to claim maintenance, etc. from Hilai during her legal waiting period, because she was being separated neither on account of divorce nor due to the husband’s death. Then the Prophet (peace be upon him) asked the people to see whether the child on birth looks after Hilai or the man who was being accused in connection with the woman. After delivery when it was seen that the child looked after the other man, the Prophet (peace be upon him) said: If there had been no swearing of the oaths (or if Allah’s Book had not settled the matter before this), I would have dealt with this woman most severely. The details of the case of Uwaimir Ajlani have been cited in Bukhari, Muslim, Abu Daud, Nasai, Ibn Majah and Musnad Ahmad, on the authority of Sahl bin Saad Saidi and Ibn Umar (may Allah be pleased with them both). According to these, Uwaimir and his wife were both summoned to the Prophet’s Mosque. Before proceeding against them in accordance with the law of lian, the Prophet (peace be upon him) warned them thrice, saying: Allah knows well that one of you is a liar; then, will one of you repent? When neither repented, they were told to exercise lian. After that Uwaimir said: O Messenger of Allah, now if I keep this woman, I would be a liar and then he divorced her thrice there and then even without the Prophet’s (peace be upon him) permission to do so. According to Sahl bin Saad, the Prophet (peace be upon him) enforced the divorce to separate them, and said: There shall be separation between the husband and the wife if they exercise lian. This became established as a Sunnah that the couple who swore against each other would separate never to marry again. Ibn Umar only says this that the Prophet (peace be upon him) enforced separation between them. Sahl bin Saad, however, adds that the woman was pregnant and Uwaimir said that it was not due to his seed; so the child was attributed to the mother. The practice that thus became established was that such a child would inherit the mother and the mother him. Apart from these two cases, we find several other traditions also in the books of Hadith, which may or may not be related to these cases, but some of these traditions mention other cases as well, which provide important components of the law of lian. Ibn Umar has reported traditions according to which the Prophet (peace be upon him) ordered separation between the spouses after lian and ruled that in case of pregnancy the child would be attributed to the mother (sihah Sitta, Ahmad). According to another tradition of Ibn Umar, the Prophet (peace be upon him) said to a man and woman after lian: Now your affair is with Allah, in any case one of you is a liar. Then he said to the man: Now she is not yours, you have no right on her, nor can you treat her vindictively in any way. The man requested to have my dowry returned. The Prophet (peace be upon him) said: You have no right to have the dowry back. If you are true in your accusation, the dowry is the price of the pleasure you had from her when she was lawful to you; and if your accusation is false, the dowry has receded farther away from you than it is from her. (Bukhari, Muslim, Abu Daud). Daraqutni has quoted Ali bin Abi Talib and Ibn Masud (may Allah be pleased with them both) as saying: The Sunnah that has become established is that the spouses who have exercised lian against each other, can never re-unite in marriage. Again Daraqutni has quoted Abdullah bin Abbas as saying: The Prophet (peace be upon him) himself has ruled that the two can never re-unite in wedlock. Qabisah bin Zuaib has reported that a man in the time of Umar alleged that his wife was pregnant by illicit intercourse, then admitted that it was by his own seed, but after delivery again denied that the child was his. The case was brought to the court of Umar, who enforced the prescribed punishment of qazf on the man and ruled that the child would be attributed to him. (Daraqutni, Baihaqi). Ibn Abbas has reported that a man came to the Prophet (peace be upon him) and said: I have a wife for whom I have great love; but her weakness is that she does not mind if the other man touches her. (By this he might have meant zina or a lesser moral evil). The Prophet (peace be upon him) replied: You may divorce her. The man said: But I cannot live without her. Thereupon the Prophet (peace be upon him) said: Then you should pull on with her. The Prophet (peace be upon him) did not ask the man for any explanation, nor took his complaint as an accusation of zina, nor applied the law of lian. (Nasai). Abu Hurairah has narrated the case of a beduin who came to the Prophet (peace be upon him) and said that his wife had given birth to a dark-coloured son and he was doubtful that it was his. (That is, the child’s color had caused him the suspicion, otherwise there was no ground with him to accuse her of zina). The Prophet (peace be upon him) asked him: Do you have any camels? The man replied in the affirmative. The Prophet (peace be upon him) then asked, What is their color? He said they were red. The Prophet (peace be upon him) said: Is any of them grey also? He said: Yes, some are gray also. The Prophet (peace be upon him) asked: What caused that color? He said: Might be due to some ancestor of theirs. The Prophet (peace be upon him) replied: The same might be the cause for your child’s color. And he did not allow him to doubt and deny the child’s fatherhood. (Bukhari, Muslim, Ahmad, Abu Daud). According to another tradition of Abu Hurairah, explaining the verse of lian the Prophet (peace be upon him) said: The woman who brings a child into a family which does not actually belong to it (i.e. marries a man of the family with illicit pregnancy), has no relation with Allah. Allah will never admit her into Paradise. Similarly, the man who denies the fatherhood of his child, whereas the child looks up towards him, will never see Allah on the Day of Judgment, and Allah will put him to disgrace in front of all mankind. (Abu Daud, Nasai, Darimi). Thus, the verse of lian, the traditions of the Prophet (peace be upon him), the precedents and the general principles of the Shariah together form the basis of the law of lian, which the jurists have formulated a complete code with the following main clauses. (1) There is a difference of opinion about the man who sees his wife involved in zina with another man and kills him instead of having recourse to lian. One group holds that he will be put to death because he had no right to take the law in his own hand and enforce the punishment. The other group says that he will not be put to death nor will he be held accountable for his act in any way provided that it is confirmed that he killed the man (adulterer) on account of zina and nothing else. Imam Ahmad and Ishaq bin Rahaviyah maintain that the man will have to produce two witnesses to confirm that he killed the adulterer only on account of zina. Ibn al-Qasim and Ibn Habib, from among the Malikis, attach an additional condition that the murdered person should be a married man; otherwise the murderer will be made subject to the law of retaliation for killing an unmarried adulterer. But the majority of jurists are of the opinion that the man will be exonerated from retaliation only when he produces four witnesses to establish zina, or if the murdered person himself confesses before death that he committed zina with the wife of the murderer, and if it is also confirmed that the murdered person was a married man. (Nail al-Autar, vol. IV, p. 228). (2) The law of lian cannot be applied mutually at home, but in a court of law in front of the judge. (3) Exercise of lian is not the sole right of the man; the woman also has a right to demand it in a court of law if her husband accuses her of zina, or denies fatherhood of her child. (4) There is a difference of opinion among the jurists as to whether lian can be resorted to between any husband and his wife, or whether they have to satisfy certain conditions. Imam Shafai holds that only that husband whose oath is legally reliable and who can exercise the right of divorce, can swear the oaths of lian. In other words, sanity and maturity according to him, are the sufficient conditions which entitle a husband to exercise lian no matter whether the spouses are Muslim or non-Muslim, slave or free, and whether their evidence is acceptable or not, and whether the Muslim husband has a Muslim or a zimmi wife. Imam Malik and Imam Ahmad have also given almost the same opinion. But the Hanafis maintain that lian can be exercised only by free Muslim spouses, who should not have been convicted of qazf previously. If both husband and wife are non Muslim, or slaves, or convicted of qazf previously, they cannot exercise lian against each other. Further more, if the woman was ever found guilty of an illicit or doubtful relationship with another man, exercise of lian will not be valid. The Hanafis have imposed these conditions, because according to them, there is no other difference between lian and qazf than this: the other man commits qazf, he is given the prescribed punishment, but if the husband himself commits it, he can escape the punishment by exercising lian. In all other respects, lian and qazf are identical. Moreover, since according to the Hanafis, the oaths of lian are in the nature of evidence, they do not concede this right to a person who is not legally fit to give evidence. But the truth is that in this matter the position of the Hanafis is weak, and the opinion of Imam Shafai is correct, because the Quran has not made the accusation of the wife a component part of the verse of qazf, but has prescribed a separate law for it. Therefore, it cannot be linked with the law of qazf and treated under the conditions prescribed for qazf. Then, the wording of the verse of lian is different from the wording of the verse of qazf and the two lay down separate injunctions. Therefore, the law of lian should be derived from the verse of lian and not from the verse of qazf. For instance, according to the verse of qazf, the person who accuses chaste women (muhsanat) of zina, deserves to be punished. But in the verse of lian, there is no condition of the chastity of the wife. A woman might have committed sins in life, but if she repents later on and marries somebody, the husband is not authorised by the verse of lian to accuse her unjustly whenever he likes, and to deny fatherhood of her children simply because she had once lived in sin. The other equally important reason is that there is a world of difference between accusing a wife and accusing the other woman. The law cannot treat the two alike. A man has nothing to do with the other woman. He is neither attached to her emotionally, nor his honor, nor his family relations and rights are at stake, nor his lineage. The only meaningful interest he can have in the woman’s character can be his desire to see a morally pure and clean society. Contrary to this, his relationship with his wife is deep and of varied nature. She is the custodian of the purity of his race, of his property and his house; she is his life partner, sharer of his secrets, and with her he is attached in most delicate and deep feelings. If she is morally corrupt, it will deal a serious blow to his honor, his interests and his progeny. These two things, therefore, cannot be considered alike, and the law cannot treat them as equal to each other. Is an evil affair of the wife of a zimmi, or a slave, or a convicted husband in any way different, or less serious, in consequences than that of the wife of a free, mature and sound Muslim? If the husband himself sees his wife involved in zina with another person, or has reasons to believe that his wife is pregnant by illicit intercourse, how can he be denied the right of lian? And if he is denied this right, what else is there in our law which can help him out of his awkward situation? The intention of the Quran seems to be to open a way out of a difficult situation for married couples in which a husband may find himself placed due to the wife’s immorality or illicit pregnancy, or a wife due to the husband’s false accusation or unjustified denial of the fatherhood of her child. This is not particularly the need of the free and sound Muslims alone; there is in fact nothing in the Quranic text which may confine it to them only. As for the argument that the Quran has described the oaths of lian as evidence (shahadat), and therefore the conditions of evidence will apply here, the logical implication would be that in case a righteous and just husband whose evidence is acceptable, takes the necessary oaths, and the wife declines to take the oaths, she would have to be stoned to death, because her immorality would thus become established. But it is strange that in this case the Hanafis do not recommend stoning. This is a clear proof of the fact that they too do not regard the oaths as exactly identical with evidence. The truth is that though the Quran describes the oaths of lian as evidence, it does not regard them as evidence in the technical sense, otherwise it would have required the woman to swear eight oaths and not four. (5) Lian is not necessitated by an allusion or expression of doubt or suspicion, but only when the husband accuses his wife clearly of zina, or denies in plain words that the child is his. Imam Malik and Laith bin Saad impose an additional condition that the husband while exercising lian must say that he has himself seen his wife involved in zina. But this is an unnecessary restriction which has no basis whatever in the Quran and Hadith. (6) If after accusing his wife, the husband declines to swear the oaths, the verdict of Imam Abu Hanifah and his companions is that he will be imprisoned and shall not be released until he exercises lian or confesses the falsehood of his accusation, in which case he will be awarded the prescribed punishment of qazf. On the contrary, Imam Malik, Shafai, Hasan bin Saleh and Laith bin Saad express the opinion that refusal to exercise lian itself amounts to confessing one’s being a liar, which makes the prescribed punishment of qazf obligatory. (7) If after the swearing of oaths by the husband, the wife declines to take the oaths, the Hanafis give the opinion that she should be imprisoned and should not be released until she exercises lian, or else confesses her guilt of zina. On the contrary, the other Imams (as mentioned in clause 6 above) say that in this case she will be stoned to death. They base their argument on the Quranic injunction: “it shall avert the punishment from her if she swears four times by Allah,” Now that she declines to swear the oaths, she inevitably deserves the punishment. But the weakness in this argument is that the Quran does not specify here the nature of punishment; it simply mentions punishment. If it is argued that punishment here means the punishment of zina only, the answer is that for the punishment of zina the Quran has imposed the condition of four witnesses in clear words, and this condition cannot be fulfilled by four oaths sworn by one person. The husband’s oaths can suffice for him to escape the punishment of qazf and for the wife to face the injunction of lian, but they are not enough to prove the charge of zina against her. The woman’s refusal to swear the oaths in self-defense certainly creates a suspicion, and a strong suspicion indeed, but a prescribed punishment cannot be enforced on the basis of suspicions. This thing cannot be considered as analogous with the prescribed punishment of qazf for the man, because his qazf is established, and that is why he is made to exercise lian. But contrary to this, the woman’s guilt of zina is not established unless she herself makes a confession of it or four eyewitnesses are produced to prove it. (8) If the woman is pregnant at the time of lian, according to Imam Ahmad, lian itself suffices to absolve the husband from the responsibility for pregnancy whether he has denied accepting it or not. Imam Shafai, however, says that accusation of zina by the husband and his refusal to accept responsibility for pregnancy are not one and the same thing. Therefore, unless the husband categorically refuses to accept the responsibility for pregnancy, he will be considered as responsible for it in spite of the accusation of zina by him, because the woman’s being adulterous does not necessarily mean that her pregnancy is also due to zina. (9) Imam Malik, Imam Shafai and Imam Ahmad concede the husband’s right to deny responsibility for pregnancy during pregnancy, and allow him the right of lian on that basis. But Imam Abu Hanifah says that if the basis for the man’s accusation is not zina, but only this that he has found pregnancy in the woman when it could not possibly be due to him, exercise of lian should be deferred until after delivery because sometimes symptoms of pregnancy appear due to some disease and not actual pregnancy. (10) If a husband denies fatherhood of a child, there is a consensus that lian becomes necessary There is also a consensus that after he has accepted e child once (whether it is in clear words or by implication, e.g. by receiving congratulatory messages on its birth, or by treating it lovingly like one’s own child and taking due interest in its bringing up), he loses his right to deny him later, and if he does so, he makes himself liable to the prescribed punishment of qazf. There is, however, a difference of opinion as to how long the father retains a right to deny fatherhood of the child. According to Imam Malik, if the husband was present at home while the wife was pregnant, he can deny the responsibility from the time of pregnancy till the time of delivery; after that he will have no right. However, if he was away from home and delivery took place in his absence, he can deny the child’s fatherhood as soon as it comes to his knowledge. According to Imam Abu Hanifah, if he denies within a day or two of the child’s birth, he will be absolved from the responsibility of the child after exercising lian, but if he denies after a year or two, lian will be valid, but he will not be absolved from the responsibility of the child. According to Imam Abu Yusuf, the father has the right to deny fatherhood within 40 days of the child’s birth or knowledge of its birth; after that he will have no right. But this restriction of 40 days is meaningless. The correct view is that of Imam Abu Hanifah that fatherhood can be denied within a day or two of the child’s birth or knowledge of its birth, unless one is hindered from doing so due to a sound and genuine reason. (11) If a husband accuses a divorced wife of zina, according to Imam Abu Hanifah, this will be a case of qazf and not of lian. Lian can be resorted to between the spouses and cannot be extended to a divorced woman unless it is a retractable divorce and the accusation is made within the period of retraction. But Imam Malik holds that this will be qazf only if it does not involve the question of accepting or denying the responsibility of pregnancy or fatherhood of the child. If it is not that, the man has the right to exercise lian even after pronouncing the final divorce, because in that case he would not be having recourse to lian for the purposes of bringing infamy on the woman but to absolve himself from the responsibility of the child who, he believes, is not his. The same almost is the opinion of Imam Shafai. (12) There is a complete consensus of opinion in respect of certain legal implications of lian, but certain others have been disputed by the jurists. The agreed ones are the following. Neither the woman nor the man is liable to punishment. If the man denies fatherhood of the child, it will be attributed to the mother alone; it will neither be attributed to the father nor will inherit him; the child will inherit the mother and the mother him. Thereafter nobody will have the right to call the woman adulterous nor the child illegitimate, whether the people might be completely sure of her being adulterous under the circumstances at the time of lian. Any person who repeats the old charge against the woman or her child, will make himself liable to the punishment of qazf. The woman’s dowry will remain intact, but she will not be entitled to claim maintenance, etc. from the man, and she will become forbidden to him forever. There is, however, a difference of opinion in respect of two things. (a) After lian how will separation be effected between the husband and the wife? (b) Is it possible for them to re-unite in marriage after they have been separated on account of lian? As regards to the first question, Imam Shafai holds the opinion that as soon as a man has exercised his lian, the woman stands automatically separated whether she refutes the man’s charge by her lian or not. Imam Malik, Laith bin Saad and Zufar maintain that separation is effected when both a man and a woman have exercised their lian one after the other. Imam Abu Hanifah, Abu Yusuf and Muhammad hold that separation does not take place automatically after lian, but it is affected by the judge. If the husband pronounces divorce, it takes effect otherwise the judge will announce their separation. Regarding the second, question, the opinion of Imam Malik, Abu Yusuf, Zufar, Sufyan Thauri, Ishaq bin Rahaviyah, Shafai, Ahmad bin Hanbal and Hasan bin Zaid is that the spouses who have been separated due to lian are forbidden to each other forever. Even if they wish to remarry, they cannot do so in any case. The same is the opinion also of Umar, Ali and Abdullah bin Masud. Contrary to this, Said bin Musayyab, Ibrahim Nakhai, Shabi, Said bin Jubair, Abu Hanifah and Muhammad (may Allah be pleased with them all) opine that if the husband confesses his lie, and he is awarded the prescribed punishment for qazf, the two can re-unite in marriage. They argue that it is lian which makes them unlawful for each other. As long as they stand by their lian, they will remain forbidden for each other, but when the husband confesses his lie and receives the punishment, lian will become null and void and so will their prohibition to marry each other again.

سورة النُّوْر حاشیہ نمبر :7 یہ آیات پچھلی آیات کے کچھ مدت بعد نازل ہوئی ہیں ۔ حد قذف کا حکم جب نازل ہوا تو لوگوں میں یہ سوال پیدا ہو گیا کہ غیر مرد اور عورت کی بد چلنی دیکھ کر تو آدمی صبر کر سکتا ہے ، گواہ موجود نہ ہوں تو زبان پر قفل چڑھا لے اور معاملے کو نظر انداز کر دے ۔ لیکن اگر وہ خود اپنی بیوی کی بد چلنی دیکھ لے تو کیا کرے ؟ قتل کر دے تو الٹا سزا کا مستوجب ہو ۔ گواہ ڈھونڈنے جائے تو ان کے آنے تک مجرم کب ٹھہرا رہے گا ۔ صبر کرے تو آخر کیسے کرے ۔ طلاق دے کر عورت کو رخصت کر سکتا ہے ، مگر نہ اس عورت کو کسی قسم کی مادی یا اخلاقی سزا ملی نہ اس کے آشنا کو ۔ اور اگر اسے ناجائز حمل ہو تو غیر کا بچہ الگ گلے پڑا ۔ یہ سوال ابتداءً تو حضرت سعد بن عبادہ نے ایک فرضی سوال کی حیثیت میں پیش کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں اگر خدا نخواستہ اپنے گھر میں یہ معاملہ دیکھوں تو گواہوں کی تلاش میں نہیں جاؤں گا بلکہ تلوار سے اسی وقت معاملہ طے کر دوں گا ( بخاری و مسلم ) ۔ لیکن تھوڑی ہی مدت گزری تھی کہ بعض ایسے مقدمات عملاً پیش آ گئے جن میں شوہروں نے اپنی آنکھوں سے یہ معاملہ دیکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی شکایت لے گئے ۔ عبد اللہ بن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص ( غالباً عویمر عجلانی ) نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ، اگر ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پائے اور منہ سے بات نکالے تو آپ حد قذف جاری کر دیں گے ، قتل کر دے تو آپ اسے قتل کر دیں گے ، چپ رہے تو غیظ میں مبتلا رہے ۔ آخر وہ کیا کرے ؟ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ خدایا ، اس مسئلے کا فیصلہ فرما ( مسلم ، بخاری ، ابو داؤد ، احمد ، نسائی ) ۔ ابن عباس کی روایات ہے کہ ہلال بن امیہ نے آ کر اپنی بیوی کا معاملہ پیش کیا جسے انہوں نے بچشم خود ملوث دیکھا تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثبوت لاؤ ، ورنہ تم پر حد قذف جاری ہو گی ۔ صحابہ میں اس پر عام پریشانی پھیل گئی ، اور ہلال نے کہا اس خدا کی قسم جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے ، میں بالکل صحیح واقعہ عرض کر رہا ہوں جسے میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سنا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملے میں ایسا حکم نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ بچا دے گا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( بخاری ، احمد ، ابو داؤد ) ۔ اس میں جو طریق تصفیہ تجویز کیا گیا ہے اسے اسلامی قانون کی اصطلاح میں لِعان کہا جاتا ہے ۔ یہ حکم آ جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مقدمات کا فیصلہ فرمایا ان کی مفصل رودادیں کتب حدیث میں منقول ہیں اور وہی لِعان کے مفصل قانون اور ضابطہ کارروائی کا ماخذ ہیں ۔ بلال بن امیہ کے مقدمے کی جو تفصیلات صحاح ستہ اور مسند احمد اور تفسیر ابن جریر میں ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے منقول ہوئی ہیں ان میں بیان کیا گیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد ہلال اور ان کی بہوٰ ، دونوں عدالت نبوی میں حاضر کیے گئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے حکم خداوندی سنایا ۔ پھر فرمایا خوب سمجھ لو کہ آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت چیز ہے ۔ ہلال نے عرض کیا میں نے اس پر بالکل صحیح الزام لگایا ہے ۔ عورت نے کہا یہ بالکل جھوٹ ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا ، تو ان دونوں میں ملاعَنَت کرائی جائے ۔ چنانچہ پہلے ہلال اٹھے اور انہوں نے حکم قرآنی کے مطابق قسمیں کھانی شروع کیں ............ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران میں بار بار فرماتے رہے اللہ کو معلوم ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے ، پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرے گا ؟ پانچویں قسم سے پہلے حاضرین نے ہلال سے کہا خدا سے ڈرو ، دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے ۔ یہ پانچویں قسم تم پر عذاب واجب کر دے گی ۔ مگر ہلال نے کہا جس خدا نے یہاں میری پیٹھ بچائی ہے وہ آخرت میں بھی مجھے عذاب نہیں دے گا ۔ یہ کہہ کر انہوں نے پانچویں قسم بھی کھا لی ۔ پھر عورت اٹھی اور اس نے بھی قسمیں کھانی شروع کیں ۔ پانچویں قسم سے پہلے اسے بھی روک کر کہا گیا کہ خدا سے ڈر ، آخرت کے عذاب کی بہ نسبت دنیا کا عذاب برداشت کر لینا آسان ہے ۔ یہ آخری قسم تجھ پر عذاب الٰہی کو واجب کر دے گی ۔ یہ سن کر وہ کچھ دیر رکتی اور جھجکتی رہی ۔ لوگوں نے سمجھا اعتراف کرنا چاہتی ہے مگر پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کے لیے اپنے قبیلے کو رسوا نہیں کروں گی اور پانچویں قسم بھی کھا گئی ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور فیصلہ فرمایا کہ اس کا بچہ ( جو اس وقت پیٹ میں تھا ) ماں کی طرف منسوب ہو گا ، باپ کا نہیں پکارا جائے گا ، کسی کو اس پر یا اس کے بچے پر الزام لگانے کا حق نہ ہو گا ، جو اس پر یا اس کے بچے پر الزام لگائے گا وہ حد قذف کا مستحق ہو گا ، اور اس کو زمانۂ عدت کے نفقے اور سکونت کا کوئی حق ہلال پر حاصل نہیں ہے کیونکہ یہ طلاق یا وفات کے بغیر شوہر سے جدا کی جا رہی ہے ۔ پھر آپ نے لوگوں سے کہا کہ اس کے ہاں جب بچہ ہو تو دیکھو ، وہ کس پر گیا ہے ۔ اگر اس اس شکل کا ہو تو ہلال کا ہے ، اور اگر اس صورت کا ہو تو اس شخص کا ہے جس کے بارے میں اس پر الزام لگایا گیا ہے ۔ وضع حمل کے بعد دیکھا گیا کہ وہ مؤخر الذکر صورت کا تھا ، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لولا الایمان ( یا بروایت دیگر لو لا مضیٰ من کتاب اللہ ) لکان لی ولھا شان ، یعنی اگر قسمیں نہ ہوتیں ( یا خدا کی کتاب پہلے ہی فیصلہ نہ کر چکی ہوتی ) تو میں اس عورت سے بری طرح پیش آتا ۔ عویمر عجلانی کے مقدمے کی روداد سہل بن سعد ساعِدی اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ، نسائی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ملتی ہے ۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ عویمر اور ان کی بیوی ، دونوں مسجد نبوی میں بلائے گئے ۔ مُلاعَنَت سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی تنبیہ کرتے ہوئے تین بار فرمایا اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے ۔ پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرے گا ؟ جب کسی نے توبہ نہ کی تو دونوں میں ملاعنت کرائی گئی ۔ اس کے بعد عویمر نے کہا یا رسول اللہ اب اگر میں اس عورت کو رکھوں تو جھوٹا ہوں ۔ یہ کہہ کر انہوں نے تین طلاقیں دے دیں بغیر اس کے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہوتا ۔ سہل بن سعد کہتے ہیں کہ ان طلاقوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نافذ فرما دیا اور ان کے درمیان تفریق کرا دی اور فرمایا کہ یہ تفریق ہے ہر ایسے جوڑے کے معاملے میں جو باہم لعان کرے ۔ اور سنت یہ قائم ہو گئی کہ لعان کرنے والے زوجین کو جدا کر دیا جائے ، پھر وہ دونوں کبھی جمع نہیں ہو سکتے ۔ مگر ابن عمر صرف اتنا بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کرا دی ۔ سہل بن سعد یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ عورت حاملہ تھی اور عویمر نے کہا کہ یہ حمل میرا نہیں ہے ۔ اس بنا پر بچہ ماں کی طرف منسوب کیا گیا اور سنت یہ جاری ہوئی کہ اس طرح کا بچہ ماں سے میراث پائے گا اور ماں ہی اس سے میراث پائے گی ۔ ان دو مقدموں کے علاوہ متعدد روایات ہم کو کتب حدیث میں ایسی بھی ملتی ہیں جن میں یہ تصریح نہیں ہے کہ یہ کن اشخاص کے مقدموں کی ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض ان ہی دونوں مقدموں سے تعلق رکھتی ہوں ، مگر بعض میں کچھ دوسرے مقدمات کا بھی ذکر ہے اور ان سے قانون لعان کے بعض اہم نکات پر روشنی پڑتی ہے ۔ ابن عمر ایک مقدمے کی روداد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زوجین جب لعان کر چکے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کر دی ( بخاری ، مسلم ، نسائی ، احمد ، ابن جریر ) ۔ ابن عمر کی ایک اور روایت ہے کہ ایک شخص اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا گیا ۔ پھر اس نے حمل سے انکار کیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے درمیان تفریق کر دی اور فیصلہ فرمایا کہ بچہ صرف ماں کا ہو گا ( صحاح ستہ اور احمد ) ۔ ابن عمر ہی کی ایک اور روایت ہے کہ ملاعنت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حساب اب اللہ کے ذمہ ہے ، تم میں سے ایک بہرحال جھوٹا ہے ۔ پھر آپ نے مرد سے فرمایا: لا سبیل لک علیھا ( یعنی اب یہ تیری نہیں رہی ۔ نہ تو اس پر کوئی حق جتا سکتا ہے ، نہ کسی قسم کی دست درازی یا دوسری منتقمانہ حرکت اس کے خلاف کرنے کا مجاز ہے ) ۔ مرد نے کہا یا رسول اللہ اور میرا مال ( یعنی وہ مہر تو مجھے دلوائیے جو میں نے اسے دیا تھا ) ۔ فرمایا : لا مال لک ، ان کنت صدقت علیھا فھو بما استحلت من فوجھا و ان کنت کذبت علیھا فذاک ابعد و ابعد لک منھا ( یعنی مال واپس لینے کا تجھے کوئی حق نہیں ہے ، اگر تو نے اس پر سچا الزام لگایا ہے تو وہ مال اس لذت کا بدل ہے جو تو نے حلال کر کے اس سے اٹھائی ، اور اگر تو نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو مال تجھ سے اور بھی زیادہ دور چلا گیا ، وہ اس کی بہ نسبت تجھ سے زیادہ دور ہے ) بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ۔ دارقطنی نے علی بن ابی طالب اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا ہے : سنت یہ مقرر ہو چکی ہے کہ لعان کرنے والے زوجین پھر کبھی باہم جمع نہیں ہو سکتے ( یعنی ان کا دوبارہ نکاح پھر کبھی نہیں ہو سکتا ) ۔ اور دارقطنی ہی حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ یہ دونوں پھر کبھی جمع نہیں ہو سکتے ۔ قبیصہ بن ذؤَیب کی روایت ہے کہ حضرت عمر کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے حمل کو نا جائز قرار دیا ، پھر اعتراف کر لیا کہ یہ حمل اس کا اپنا ہے ، پھر وضع حمل کے بعد کہنے لگا کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے ۔ معاملہ حضرت عمر کی عدالت میں پیش ہوا ۔ آپ نے اس پر حد قذف جاری کی اور فیصلہ کیا کہ بچہ اسی کی طرف منسوب ہو گا ( دار قطنی ، بیہقی ) ۔ ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا میری ایک بیوی ہے جو مجھے بہت محبوب ہے ۔ مگر اس کا حال یہ ہے کہ کسی ہاتھ لگانے والے کا ہاتھ نہیں جھٹکتی ( واضح رہے کہ یہ کنایہ تھا جس کے معنی زنا کے بھی ہو سکتے ہیں اور زنا سے کم تر درجے کی اخلاقی کمزوری کے بھی ) ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طلاق دیدے ۔ اس نے کہا مگر میں اس کے بغیر رہ نہیں سکتا ۔ فرمایا تو اسے رکھے رہ ( یعنی آپ نے اس سے اس کنایے کی تشریح نہیں کرائی اور اس کے قول کو الزام زنا پر محمول کر کے لعان کا حکم نہیں دیا ) ۔ نسائی ۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے حاضر ہو کر عرض کیا میری بیوی نے کالا لڑکا جنا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ وہ میرا ہے ( یعنی محض لڑکے کے رنگ نے اسے شبہ میں ڈالا تھا ورنہ بیوی پر زنا کا الزام لگانے کے لیے اس کے پاس کوئی اور وجہ نہ تھی ) ۔ آپ نے پوچھا تیرے پاس کچھ اونٹ تو ہوں گے ۔ اس نے عرض کیا ہاں ۔ آپ نے پوچھا ان کے رنگ کیا ہیں ؟ کہنے لگا سرخ ۔ آپ نے پوچھا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے ؟ کہنے لگا جی ہاں ، بعض ایسے بھی ہیں ۔ آپ نے پوچھا یہ رنگ کہاں سے آیا ؟ کہنے لگا شاید کوئی رگ کھینچ لے گئی ( یعنی ان کے باپ دادا میں سے کوئی اس رنگ کا ہو گا اور اسی کا اثر ان میں آگیا ) ۔ فرمایا شاید اس بچے کو بھی کوئی رگ کھینچ لے گئی اور آپ نے اسے نفی وَلَد ( بچے کے نسب سے انکار ) کی اجازت نہ دی ( بخاری ، مسلم ، احمد ، ابو داؤد ) ۔ ابو ہریرہ کی ایک اور روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت لعان پر کلام کرتے ہوئے فرمایا جو عورت کسی خاندان میں ایسا بچہ گھسا لائے جو اس خاندان کا نہیں ہے ( یعنی حرام کا پیٹ رکھوا کر شوہر کے سر منڈھ دے ) اس کا اللہ سے کچھ واسطہ نہیں ، اللہ اس کو جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا ۔ اور جو مرد اپنے بچے کے نسب سے انکار کرے حالانکہ بچہ اس کو دیکھ رہا ہو ، اللہ قیامت کے روز اس سے پردہ کرے گا اور اسے تمام اگلی پچھلی خلق کے سامنے رسوا کر دے گا ( ابو داؤد ، نسائی ، دارمی ) ۔ آیت لعان اور یہ روایات و نظائر اور شریعت کے اصول عامہ اسلام میں قانون لعان کے وہ مآخذ ہیں جن کی روشنی میں فقہاء نے لعان کا مفصل ضابطہ بنایا ہے ۔ اس ضابطے کی اہم دفعات یہ ہیں : ۱ ) : جو شخص بیوی کی بد کاری دیکھے اور لعان کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے قتل کا مرتکب ہو جائے اس کے بارے میں اختلاف ہے ۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ اسے قتل کیا جائے گا کیونکہ اس کو خود حد جاری کرنے کا حق نہ تھا ۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اسے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے فعل پر کوئی مواخذہ ہو گا بشرطیکہ اس کی صداقت ثابت ہو جائے ( یعنی یہ کہ فی الواقع اس نے زنا ہی کے ارتکاب پر یہ فعل کیا ) ۔ امام احمد اور اسحاق بن راہَوَیہ کہتے ہیں کہ اسے اس امر کے دو گواہ لانے ہوں گے کہ قتل کا سبب یہی تھا ۔ مالکیہ میں سے ابن القاسم اور ابن حبیب اس پر مزید شرط یہ لگاتے ہیں کہ زانی جسے قتل کیا گیا وہ شادی شدہ ہو ، ورنہ کنوارے زانی کو قتل کرنے پر اس سے قصاص لیا جائے گا ۔ مگر جمہور فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ اس کو قصاص سے صرف اس صورت میں معاف کیا جائے گا جبکہ وہ زنا کے چار گواہ پیش کرے ، یا مقتول مرنے سے پہلے خود اس امر کا اعتراف کر چکا ہو کہ وہ اس کی بیوی سے زنا کر رہا تھا ، اور مزید یہ کہ مقتول شادی شدہ ہو ( نیل الاوطار ، ج 6 ، ص 228 ) ۔ ۲ ) : لعان گھر بیٹھے آپس ہی میں نہیں ہو سکتا ۔ اس کے لیے عدالت میں جانا ضروری ہے ۔ ۳ ) : لعان کے مطالبے کا حق صرف مرد ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ عورت بھی عدالت میں اس کا مطالبہ کر سکتی ہے جبکہ شوہر اس پر بد کاری کا الزام لگائے یا اس کے بچے کا نسب تسلیم کرنے سے انکار کرے ۔ ٤ ) : کیا لعان ہر زوج اور زوجہ کے درمیان ہو سکتا ہے یا اس کے لیے دونوں میں کچھ شرائط ہیں ؟ اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ جس کی قسم قانونی حیثیت سے معتبر ہو اور جس کو طلاق دینے کا اختیار ہو وہ لعان کر سکتا ہے ۔ گویا ان کے نزدیک صرف عاقل اور بالغ ہونا اہلیت لعان کے لیے کافی ہے خواہ زوجین مسلم ہوں یا کافر ، غلام ہوں یا آزاد ، مقبول الشہادت ہوں یا نہ ہوں ، اور مسلم شوہر کی بیوی مسلمان ہو یا ذمی ۔ قریب قریب یہی رائے امام مالک اور امام احمد کی بھی ہے ۔ مگر حنفیہ کہتے ہیں کہ لعان صرف ایسے آزاد مسلمان زوجین ہی میں ہو سکتا ہے جو قذف کے جرم میں سزا یافتہ نہ ہوں ۔ اگر عورت اور مرد دونوں کافر ہوں ، یا غلام ہوں ، یا قذف کے جرم میں پہلے کے سزا یافتہ ہوں تو ان کے درمیان لعان نہیں ہو سکتا ۔ مزید براں اگر عورت کبھی اس سے پہلے حرام یا مشتبہ طریقے پر کسی مرد سے ملوث ہو چکی ہو تب بھی لعان درست نہ ہو گا ۔ یہ شرطیں حنفیہ نے اس بنا پر لگائی ہیں کہ ان کے نزدیک لعان کے قانون اور قذف کے قانون میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں ہے کہ غیر آدمی اگر قذف کا مرتکب ہو تو اس کے لیے حد ہے اور شوہر اس کا ارتکاب کرے تو وہ لعان کر کے چھوٹ سکتا ہے ۔ باقی تمام حیثیتوں سے لعان اور قذف ایک ہی چیز ہے ۔ علاوہ بریں حنفیہ کے نزدیک چونکہ لعان کی قسمیں شہادت کی حیثیت رکھتی ہیں ، اس لیے وہ کسی ایسے شخص کو اس کی اجازت نہیں دیتے جو شہادت کا اہل نہ ہو ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلے میں حنفیہ کا مسلک کمزور ہے اور صحیح بات وہی ہے جو امام شافعی نے فرمائی ہے ۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ قرآن نے قذف زوجہ کے مسئلے کو آیت قذف کا ایک جز نہیں بنایا ہے بلکہ اس کے لیے الگ قانون بیان کیا ہے ، اس لیے اس کو قانون قذف کے ضمن میں لا کر وہ تمام شرائط اس میں شامل نہیں کی جا سکتیں جو قذف کے لیے مقرر کی گئی ہیں ۔ آیت لعان ہی سے اخذ کرنا چاہیے نہ کہ آیت قذف سے ۔ مثلاً آیت قذف میں سزا کا مستحق وہ شخص ہے جو پاک دامن عورتوں ( محصنات ) پر الزام لگائے ۔ لیکن آیت لعان میں پاک دامن بیوی کی شرط کہیں نہیں ہے ۔ ایک عورت چاہے کبھی گناہ گار بھی رہی ہو ، اگر بعد میں وہ توبہ کر کے کسی شخص سے نکاح کر لے اور پھر اس کا شوہر اس پر ناحق الزام لگائے تو آیت لعان یہ نہیں کہتی کہ اس عورت پر تہمت رکھنے کی یا اس کی اولاد کے نسب سے انکار کر دینے کی شوہر کو کھلی چھٹی دے دو کیونکہ اس کی زندگی کبھی داغ دار رہ چکی ہے ۔ دوسری اور اتنی ہی اہم وجہ یہ ہے کہ قذف زوجہ اور قذف اجنبیہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے ، ان دونوں کے بارے میں قانون کا مزاج ایک نہیں ہو سکتا ۔ غیر عورت سے آدمی کو کوئی بڑی سے بڑی با وقعت دلچسپی ہو سکتی ہے تو جس پہ کہ معاشرے کو بد اخلاقی سے پاک دیکھنے کا جوش اسے لاحق ہو ۔ اس کے بر عکس اپنی بیوی سے آدمی کا تعلق ایک طرح کا نہیں کئی طرح کا ہے اور بہت گہرا ہے ۔ وہ اس کے نسب اور اس کے مال اور اس کے گھر کی امانت دار ہے ۔ اس کی زندگی کی شریک ہے ۔ اس کے رازوں کی امین ہے ۔ اس کے نہایت گہرے اور نازک جذبات اس سے وابستہ ہیں ۔ اس کی بد چلنی سے آدمی کی غیرت اور عزت پر ، اس کے مفاد پر ، اور اس کی آئندہ نسل پر سخت چوٹ لگتی ہے ۔ یہ دونوں معاملے آخر ایک کس حیثیت سے ہیں کہ دونوں کے لیے قانون کا مزاج ایک ہی ہو ۔ کیا ایک ذمی ، یا ایک غلام ، یا ایک سزا یافتہ آدمی کے لیے اس کی بیوی کا معاملہ کسی آزاد اہل شہادت مسلمان کے معاملے سے کچھ بھی مختلف یا اہمیت اور نتائج میں کچھ بھی کم ہے ؟ اگر وہ اپنی آنکھوں سے کسی کے ساتھ اپنی بیوی کو ملوث دیکھ لے ، یا اس کو یقین ہو کہ اس کی بیوی غیر سے حاملہ ہے تو کون سی معقول وجہ ہے کہ اسے لعان کا حق نہ دیا جائے ؟ اور یہ حق اس سے سلب کرنے کے بعد ہمارے قانون میں اس کے لیے اور کیا چارہ کار ہے ؟ قرآن مجید کا منشا تو صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ شادی شدہ جوڑوں کو اس پیچیدگی سے نکالنے کی ایک صورت پیدا کرنا چاہتا ہے جس میں بیوی کی حقیقی بد کاری یا ناجائز حمل سے ایک شوہر ، اور شوہر کے جھوٹے الزام یا اولاد کے نسب سے بے جا انکار کی بدولت ایک بیوی مبتلا ہو جائے ۔ یہ ضرورت صرف اہل شہادت آزاد مسلمانوں کے لیے مخصوص نہیں ہے ، اور قرآن کے الفاظ میں بھی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس کو صرف ان ہی تک محدود کرنے والی ہو ۔ رہا یہ استدلال کہ قرآن نے لعان کی قسموں کو شہادت قرار دیا ہے اس لیے شہادت کی شرائط یہاں عائد ہوں گی ، تو اس کا تقاضا پھر یہ ہے کہ اگر عادل مقبول الشہادت شوہر قسمیں کھا لے اور عورت قسم کھانے سے پہلو تہی کرے تو عورت کو رجم کر دیا جائے ، کیونکہ اس کی بد کاری پر شہادت قائم ہو چکی ہے ۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اس صورت میں حنفیہ رجم کا حکم نہیں لگاتے ۔ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ وہ خود بھی ان قسموں کو بعینہ شہادت کی حیثیت نہیں دیتے ۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ خود قرآن بھی ان قسموں کو شہادت کے لفظ سے تعبیر کرنے کے باوجود شہادت نہیں قرار دیتا ورنہ عورت کو چار کے بجائے آٹھ قسمیں کھانے کا حکم دیتا ۔ ۵ ) : لعان محض کنایے اور استعارے یا اظہار شک و شبہ پر لازم نہیں آتا ، بلکہ صرف اس صورت میں لازم آتا ہے جبکہ شوہر صریح طور پر زنا کا الزام عائد کرے یا صاف الفاظ میں بچے کو اپنا بچہ تسلیم کرنے سے انکار کر دے ۔ امام مالک اور لَیث بن سعد اس پر یہ مزید شرط بڑھاتے ہیں کہ قسم کھاتے وقت شوہر کو یہ کہنا چاہیے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے بیوی کو زنا میں مبتلا دیکھا ہے ۔ لیکن یہ قید بے بنیاد ہے ۔ اس کی کوئی اصل نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں ۔ ٦ ) : اگر الزام لگانے کے بعد شوہر قسم کھانے سے پہلو تہی کرے تو امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ اسے قید کر دیا جائے گا اور جب تک وہ لعان نہ کرے یا اپنے الزام کا جھوٹا ہونا نہ مان لے ، اسے نہ چھوڑا جائے گا ، اور جھوٹ مان لینے کی صورت میں اس کو حد قذف لگائی جائے گی ۔ اس کے برعکس امام مالک ، شافعی ، حسن بن صالح اور لَیث بن سعد کی رائے یہ ہے کہ لعان سے پہلو تہی کرنا خود ہی اقرار کذب ہے اس لیے حد قذف واجب آجاتی ہے ۔ ۷ ) : اگر شوہر کے قسم کھا چکنے کے بعد عورت لعان سے پہلو تہی کرے تو حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ اسے قید کر دیا جائے اور اس وقت تک نہ چھوڑا جائے جب تک وہ لعان نہ کرے ، یا پھر زنا کا اقرار نہ کر لے ۔ دوسری طرف مذکورہ بالا ائمہ کہتے ہیں کہ اس صورت میں اسے رجم کر دیا جائے گا ۔ ان کا استدلال قرآن کے اس ارشاد سے ہے کہ عورت سے عذاب صرف اس صورت میں دفع ہو گا جبکہ وہ بھی قسم کھا لے ۔ اب چونکہ وہ قسم نہیں کھاتی اس لیے لا محالہ وہ عذاب کی مستحق ہے ۔ لیکن اس دلیل میں کمزوری یہ ہے کہ قرآن یہاں عذاب کی نوعیت تجویز نہیں کرتا بلکہ مطلقاً سزا کا ذکر کرتا ہے ۔ اگر کہا جائے کہ سزا سے مراد یہاں زنا ہی کی سزا ہو سکتی ہے تو اسکا جواب یہ ہے کہ زنا کی سزا کے لیے قرآن نے صاف الفاظ میں چار گواہوں کی شرط لگائی ہے ۔ اس شرط کو محض ایک شخص کی چار قسمیں پورا نہیں کر دیتیں ۔ شوہر کی قسمیں اس بات کے لیے تو کافی ہیں کہ وہ خود قذف کی سزا سے بچ جانے اور عورت پر لعان کے احکام مترتب ہو سکیں ، مگر اس بات کے لیے کافی نہیں ہیں کہ ان سے عورت پر زنا کا الزام ثابت ہو جائے ۔ عورت کا جوابی قسمیں کھانے سے انکار شبہ ضرور پیدا کرتا ہے اور بڑا قوی شبہ پیدا کر دیتا ہے ، لیکن شبہات پر حدود جاری نہیں کی جا سکتیں ۔ اس معاملہ کو مرد کی حد قذف پر قیاس نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ اس کا قذف تو ثابت ہے ، جبھی تو اس کو لعان پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ مگر اس کے برعکس عورت پر زنا کا الزام ثابت نہیں ہے کیونکہ وہ اس کے اپنے اقرار یا چار یعنی شہادتوں کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتا ۔ ۸ ) : اگر لعان کے وقت عورت حاملہ ہو تو امام احمد کے نزدیک لعان بجائے خود اس بات کے لیے کافی ہے کہ مرد اس حمل سے بری الذمہ ہو جائے اور بچہ اس کا قرار نہ پائے قطع نظر اس سے کہ مرد نے حمل کو قبول کرنے سے انکار کیا ہو یا نہ کیا ہو ۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ مرد کا الزام زنا اور نفی حمل دونوں ایک چیز نہیں ہیں ، اس لیے مرد جب تک حمل کی ذمہ داری قبول کرنے سے صریح طور پر انکار نہ کرے وہ الزام زنا کے باوجود اسی کا قرار پائے گا کیونکہ عورت کے زانیہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کو حمل بھی زنا ہی کا ہو ۔ ۹ ) : امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد دوران حمل میں مرد کو نفی حمل کی اجازت دیتے ہیں اور اس بنیاد پر لعان کو جائز رکھتے ہیں ۔ مگر امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ اگر مرد کے الزام کی بنیاد زنانہ ہو بلکہ صرف یہ ہو کہ اس نے عورت کو ایسی حالت میں حاملہ پایا ہے جب کہ اس کے خیال میں حمل اس کا نہیں ہو سکتا تو اس صورت میں لعان کے معاملے کو وضع حمل تک ملتوی کر دینا چاہیے ، کیونکہ نس اوقات کوئی بیماری حمل کا شبہ پیدا کر دیتی ہے اور در حقیقت حمل ہوتا نہیں ہے ۔ ۱۰ ) : اگر باپ بچے کے نسب سے انکار کرے تو بالاتفاق لعان لازماً آتا ہے ۔ اور اس امر میں بھی اتفاق ہے کہ ایک دفعہ بچے کو قبول کر لینے کے بعد ( خواہ یہ قبول کر لینا صریح الفاظ میں ہو یا قبولیت پر دلالت کرنے والے افعال ، مثلاً پیدائش پر مبارک باد لینے یا بچے کے ساتھ پدرانہ شفقت برتنے اور اس کی پرورش سے دلچسپی لینے کی صورت میں ) پھر باپ کو انکار نسب کا حق نہیں رہتا ، اور اگر کرے تو حد قذف کا مستحق ہو جاتا ہے ۔ مگر اس امر میں اختلاف ہے کہ باپ کو کس وقت تک انکار نسب کا حق حاصل ہے ۔ امام مالک کے نزدیک اگر شوہر اس زمانے میں گھر پر موجود رہا ہے جبکہ بیوی حاملہ تھی تو زمانہ حمل سے لے کر وضع حمل تک اس کے لیے انکار کا موقع ہے ، اس کے بعد وہ انکار کا حق نہیں رکھتا ۔ البتہ اگر وہ غائب تھا اور اس کے پیچھے ولادت ہوئی تو جس وقت اسے علم ہو وہ انکار کر سکتا ہے ۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک اگر پیدائش کے بعد ایک دو روز کے اندر وہ انکار کرے تو لعان کر کے وہ بچے کی ذمہ داری سے بری ہو جائے گا ، لیکن اگر سال دو سال بعد انکار کرے تو لعان ہو گا مگر وہ بچے کی ذمہ داری سے بری نہ ہو سکے گا ۔ امام ابو یوسف کے نزدیک ولادت کے بعد ، یا ولادت کا علم ہونے کے بعد چالیس دن کے اندر اندر باپ کو انکار نسب کا حق ہے ، اس کے بعد یہ حق ساقط ہو جائے گا ۔ مگر یہ چالیس دن کی قید بے معنی ہے ۔ صحیح بات وہی ہے جو امام ابو حنیفہ نے فرمائی ہے کہ ولادت کے بعد یا اس کا علم ہونے کے بعد ایک دو روز کے اندر ہی انکار نسب کیا جا سکتا ہے ، الا یہ کہ اس میں کوئی ایسی رکاوٹ ہو جسے معقول رکاوٹ تسلیم کیا جا سکے ۔ ۱۱ ) : اگر شوہر طلاق دینے کے بعد مطلقہ بیوی پر زنا کا الزام لگائے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک لعان نہیں ہو گا بلکہ اس پر قذف کا مقدمہ قائم کیا جائے گا ، کیونکہ لعان زوجین کے لیے ہے اور مطلقہ عورت اس کی بیوی نہیں ہے ۔ الا یہ کہ طلاق رجعی ہو اور مدت رجوع کے اندر وہ الزام لگائے ۔ مگر امام مالک کے نزدیک یہ قذف صرف اس صورت میں ہے جبکہ کسی حمل یا بچے کا نسب قبول کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ درمیان میں نہ ہو ۔ ورنہ مرد کو طلاق بائن کے بعد بھی لعان کا حق حاصل ہے کیونکہ وہ عورت کو بد نام کرنے کے لیے نہیں بلکہ خود ایک ایسے بچے کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے لعان کر رہا ہے جسے وہ اپنا نہیں سمجھتا ۔ قریب قریب یہی رائے امام شافعی کی بھی ہے ۔ ۱۲ ) : لعان کے قانونی نتائج میں سے بعض متفق علیہ ہیں ، اور بعض میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ۔ متفق علیہ نتائج یہ ہیں : عورت اور مرد دونوں کسی سزا کے مستحق نہیں رہتے ۔ مرد بچے کے نسب کا منکر ہو تو بچہ صرف ماں کا قرار پائے گا ، نہ باپ کی طرف منسوب ہو گا نہ اس سے میراث پائے گا ، ماں اس کی وارث ہو گی اور وہ ماں کا وارث ہو گا ۔ عورت کو زانیہ اور اس کے بچے کو ولد الزنا کہنے کا کسی کو حق نہ ہو گا ، خواہ لعان کے وقت اس کے حالات ایسے ہی کیوں نہ ہوں کہ لوگوں کو اس کے زانیہ ہونے میں شک نہ رہے ۔ جو شخص لعان کے بعد اس پر یا اس کے بچے پر سابق الزام کا اعادہ کرے گا وہ حد کا مستحق ہو گا ۔ عورت کا مہر ساقط نہ ہو گا ۔ عورت دوران عدت میں مرد سے نفقہ اور مسکن پانے کی حق دار نہ ہو گی ۔ عورت اس مرد کے لیے حرام ہو جائے گی ۔ اختلاف دو مسئلوں میں ہے ۔ ایک یہ کہ لعان کے بعد عورت اور مرد کی علیٰحدگی کیسے ہو گی؟ دوسرے یہ کہ لعان کی بنا پر علیٰحدہ ہو جانے کے بعد کیا ان دونوں کا پھر مل جانا ممکن ہے ؟ پہلے مسئلے میں امام شافعی کہتے ہیں کہ جس وقت مرد لعان سے فارغ ہو جائے اسی وقت فرقت آپ سے آپ واقع ہو جاتی ہے خواہ عورت جوابی لعان کرے نہ کرے ۔ امام مالک ، لیث بن سعد اور زفر کہتے ہیں کہ مرد اور عورت دونوں جب لعان سے فارغ ہوں تب فرقت واقع ہوتی ہے ۔ اور امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد کہتے ہیں کہ لعان سے فرقت آپ ہی آپ واقع نہیں ہو جاتی بلکہ عدالت کے تفریق کرانے سے ہوتی ہے ۔ اگر شوہر خود طلاق دے دے تو بہتر ، ورنہ حاکم عدالت ان کے درمیان تفریق کا اعلان کرے گا ۔ دوسرے مسئلے میں امام مالک ، ابو یوسف ، زفر ، سفیان ثوری ، اسحاق بن راہویہ ، شافعی ، احمد بن حنبل اور حسن بن زیاد کہتے ہیں کہ لعان سے جو زوجین جدا ہوئے ہوں وہ پھر ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں ، دوبارہ وہ باہم نکاح کرنا بھی چاہیں تو کسی حال میں نہیں کر سکتے ۔ یہی رائے حضرت عمر ، حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کی بھی ہے ۔ بخلاف اس کے سعید بن مسیب ، ابراہیم نخعی ، شعبی ، سعید بن جبیر ، ابو حنیفہ اور محمد رحمہم اللہ کی رائے یہ ہے کہ اگر شوہر اپنا جھوٹ مان لے اور اس پر حد قذف جاری ہو جائے تو پھر ان دونوں کے درمیان دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے کے لیے حرام کرنے والی چیز لعان ہے ۔ جب تک وہ اس پر قائم رہیں ، حرمت بھی قائم رہے گی ۔ مگر جب شوہر اپنا جھوٹ مان کر سزا پا گیا تو لعان ختم ہو گیا اور حرمت بھی اٹھ گئی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(24:9) والخامسۃ اس کا عطف اربع شھدت پر ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

3 ۔ جب اوپر کی آیت میں حد قذف نازل ہوئی تو اس کے بعد سوال پیدا ہوا کہ اگر کوئی شخص خود اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور اس کے پاس چار گواہ نہ ہوں تو اس کا کیا حکم ہوگا۔ چناچہ یہ سوال سعد بن عبادہ نے ایک فرضی سوال کی حیثیت سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا۔ (بخاری، مسلم) مگر جلدی ہی ہلال (رض) بن امیہ کا واقعہ پیش آگیا۔ انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی بیوی کے متعلق بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے اس کو زنا کرتے دیکھا ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” چار گواہ لائو ورنہ حد قذف تم پر جاری کی جائے گی۔ “ اس پر یہ چار آیتیں نازل ہوئیں اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان آیات کے مطابق تصفیہ…لعان… کے لئے ہلال (رض) اور ان کی بیوی کو بلایا۔ چناچہ پہلے ہلال نے قسمیں کھا کر گواہی پیش کی اور پھر اس کی بیوی نے۔ اس پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان تفریق کرا دی اور فرمایا کہ حمل جو عورت کے پیٹ میں ہے اس کی ماں کی طرف منسوب ہوگا اور عورت کا زمانہ عدت کے نفقے اور سکونت کا کوئی حق ہلال (رض) پر نہ ہوگا کیونکہ یہ طلاق یا وفات کے بغیر جدا کی جا رہی ہے۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(9) اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ اگر یہ مرد سچا ہے اور اس نے سچی قسم کھائی ہے تو اس عورت پر یعنی مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب واقع ہو زنا کی حد کے قانون میں جو مشکل درپیش تھی اس کا حل لعان کا حکم بیان کرکے ظاہر کردیا۔ یعنی مشکل یہ پیش آئی کہ کوئی غیر عورت بدکار ہو اور اس کی بدکاری کے ثبوت کے لئے چار گواہ میسر نہ آئیں تو نظر انداز کردیا جائے لیکن اپنی رفیقہ حیات کی بدکاری کس طرح برداشت کی جائے۔ صبر کرے تو سخت کوفت کا سامنا دعویٰ کرے اور چار گواہ نہ لائے تو اسی 80 کوڑے لگائے جائیں لیکن لعان نے اس مشکل کو حل کردیں۔ لعان کی قسمیں اس وقت ہوتی ہیں جب خاوند اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے یا اس کی عورت کے ہاں جو بچہ پیدا ہو اس کو کہے کہ یہ بچہ میرے نطفے سے نہیں ہے عورت اس الزام پر مطالبہ کرے کہ میرے خاوند کو قذف کی حد لگائی جائے تو لعان کیا جائے۔ اگر کوئی خاوند اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو اس سے چار گواہ طلب کئے جائیں اگر چار گواہ پیش کردے تو عورت پر زنا کی حد جاری کی جائے اور اگر گواہ نہ لاسکے تو اس سے کہا جائے کہ یہ الفاظ کہے اگر کہہ دے تو پھر عورت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ مرد کی تصدیق کرے اگر تصدیق کردے تو اس پر زنا کی حد جاری کردی جائے اور اگر تصدیق نہ کرے تو اس کو یہ الفاظ کہنے پر مجبور کیا جائے گا اگر وہ بھی یہ الفاظ کہہ دے تو اس کے بعد اس عورت سے صحبت اور وداعئی صحبت سب حرام ہوجائیں گے۔ اگر خاوند طلاق دے دے گا تو نکاح ختم ہوجائے گا اور اگر طلاق نہ دے تو قاضی دونوں میں تفریق کردے گا۔ یہ تفریق طلاق بائن کے حکم میں ہوگی اور پھر اس شخص کا نکاح کبھی اس عورت سے نہ ہوسکے گا سوائے اس کے کہ اگر مرد اپنی تکذیب کردے اور اس کو حد قذف یعنی اسی 80 درے مارے جائیں تو پھر اس عورت سے نکاح جائز ہوگا۔ خلاصہ ! یہ ہے کہ اگر کوئی شخص جو اہل شہادت سے ہو اور اس کی زوجہ بھی ان عورتوں میں سے ہو جن کے قاذف پر حد قذف جاری کرنے کا حکم ہے تو اگر ایسے میاں بیوی میں یہ قصہ پیش آجائے اور خاوند زنا کی تہمت لگائے یا بچے کے نسب کی نفی کرے اور چار گواہ عینی نہ لاسکے تو اس سے وہ الفاظ کہلوائے جائیں اگر وہ پس و پیش کرے گا تو اس کو قید کیا جائے اور اس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنی تکذیب کرے اگر تکذیب کردے تو حد قذف جاری کردی جائے گی اور اگر اس نے قسم کھاکر وہ الفاظ کہہ دیئے تو پھر عورت سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے خاوند کی تصدیق کرے اور اگر عورت دعویٰ کی تصدیق کردے تو اس پر زنا کی حد جاری کردی جائے گی۔ اور اگر تکذیب کرے تو اس سے ان الفاظ کا مطالبہ جائے گا اگر وہ عورت پس و پیش کرے گی تو اس کو قید کیا جائے گا اور مجبور کیا جائے گا کہ وہ خاوند کی تصدیق کرے اور یا قسم کھاکر تکذیب کرے۔ اس آیت کے شان نزول کے سلسلے میں ہلال ابن امیہ، عویمر بن عجلان اور عاصم بن عدی (رض) کا ذکر کیا جاتا ہے ان لوگوں کو اپنی بیویوں سے شکایت تھی اس لئے لعان کا حکم نازل ہوا۔ آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کا اظہار فرمایا۔