Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 27

سورة الفرقان

وَ یَوۡمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیۡہِ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِی اتَّخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِیۡلًا ﴿۲۷﴾

And the Day the wrongdoer will bite on his hands [in regret] he will say, "Oh, I wish I had taken with the Messenger a way.

اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول اللہ ( ﷺ ) کی راہ اختیار کی ہوتی

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And (remember) the Day when the wrongdoer will bite at his hands, he will say: "O! Would that I had taken a path with the Messenger." Here Allah tells us of the regret felt by the wrongdoer who rejected the path of the Messenger and what he brought from Allah of clear truth concerning which there is no doubt, and followed another path. When the Day of Resurrection comes, he will feel regret but his regret will avail him nothing, and he will bite on his hands in sorrow and grief. Whether this Ayah was revealed concerning Uqbah bin Abi Mu`it or someone else among the doomed, it applies to every wrongdoer, as Allah says: يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِى النَّارِ On the Day when their faces will be turned over in the Fire, (33:66) As mentioned in those two Ayat every wrongdoer will feel the ultimate regret on the Day of Resurrection, and will bite at his hands, saying: ... يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا يَا وَيْلَتَى لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰي يَدَيْهِ : ظالم سے مراد یہاں وہ مشرک ہے جس نے ایمان قبول نہیں کیا۔ اس کا قرینہ ” يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا “ ہے، یعنی وہ حسرت و افسوس اور ندامت سے ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹے گا۔ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا : ” سَبِيْلًا “ پر تنوین تنکیر کے لیے ہے، کوئی راستہ، کچھ راستہ، یعنی قیامت کے دن جب ایمان والوں کو، وہ خواہ کسی بھی درجے کا ایمان رکھتے ہوں، آخر کار جنت میں داخلہ ملے گا، تو اس وقت کافر کہے گا، کاش ! میں نے رسول کے ساتھ کچھ ہی راستہ اختیار کیا ہوتا، کسی بھی درجے میں رسول کی رفاقت اختیار کی ہوتی۔ دیکھیے اس کی ہم معنی آیت : (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ ) [ الحجر : ٢ ] کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰي يَدَيْہِ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا۝ ٢٧ عض العَضُّ : أَزْمٌ بالأسنان . قال تعالی: عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنامِلَ [ آل عمران/ 119] ، وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ [ الفرقان/ 27] ، وذلک عبارة عن النّدم لما جری به عادة الناس أن يفعلوه عند ذلك، والعُضُّ للنّوى «1» ، والذي يَعَضُّ عليه الإبلُ ، والعِضَاضُ : مُعَاضَّةُ الدّوابِّ بعضها بعضا، ورجلٌ مُعِضٌّ: مبالغٌ في أمره كأنّه يَعَضُّ عليه، ويقال ذلک في المدح تارة، وفي الذّمّ تارة بحسب ما يبالغ فيه، يقال : هو عِضُّ سفرٍ ، وعِضٌّ في الخصومة «2» ، وزمنٌ عَضُوضٌ: فيه جدب، والتَّعْضُوضُ : ضربٌ من التّمر يصعُبُ مَضْغُهُ. ( ع ض ض ) العض ۔ کسی چیز کو دانت سے پکڑ لینا یا کاٹنا قرآن میں ہے ۔ عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنامِلَ [ آل عمران/ 119] تم پر غصے سے اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ ، وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ [ الفرقان/ 27] اور جس دن ناعاقبت اندلیش ظالم اپنے ہی ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھا ئیگا ۔ میں ندامت سے کنایہ ہے کیونکہ عام طور پر دیکھا جا تا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کام پر اتنباہ درجہ پشمان ہوتا ہے تو دانت سے اپنے ہاتھ کاٹنے لگتا ہے ۔ العض کھجور کی گٹھلی ۔ خاردار جھاڑی جسیے اونٹ کھاتے ہیں ۔ العضاض جانوروں کا ایک دوسرے کو دانتوں سے کاٹنا ۔ رجل معص اپنے کا م نہایت کوشش کرنے والا ادمی ۔ گویا وہ اسے دانتوں سے پکڑے ہوئے ہے اور کام کی نوعیت کے عتبار سے کبھی یہ لفظ بطور تعریف استعمال ہوتا ہے اور کبھی بطور مذمت ۔ ھو عص سفر وہ سفر پر بہت قدرت رکھتا ہے ۔ ھو عض فی الخصومتہ وہ جھگڑنے میں نہایت فصیح اور سخنور ہے ۔ زمن عضوض خشک سال ۔ التعضوض ایک قسم کی کجھور جو دشواری کے ساتھ چبا کر کھائی جاتی ہے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ ليت يقال : لَاتَهُ عن کذا يَلِيتُهُ : صرفه عنه، ونقصه حقّا له، لَيْتاً. قال تعالی: لا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمالِكُمْ شَيْئاً [ الحجرات/ 14] أي : لا ينقصکم من أعمالکم، لات وأَلَاتَ بمعنی نقص، وأصله : ردّ اللَّيْتِ ، أي : صفحة العنق . ولَيْتَ : طمع وتمنٍّ. قال تعالی: لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلاناً خَلِيلًا [ الفرقان/ 28] ، يَقُولُ الْكافِرُ يا لَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] ، يا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا [ الفرقان/ 27] ، وقول الشاعر : ولیلة ذات دجی سریت ... ولم يلتني عن سراها ليت «1» معناه : لم يصرفني عنه قولي : ليته کان کذا . وأعرب «ليت» هاهنا فجعله اسما، کقول الآخر :إنّ ليتا وإنّ لوّا عناء«2» وقیل : معناه : لم يلتني عن هواها لَائِتٌ. أي : صارف، فوضع المصدر موضع اسم الفاعل . ( ل ی ت ) لا تہ ( ض ) عن کذا لیتا ۔ کے معنی اسے کسی چیز سے پھیر دینا اور ہٹا دینا ہیں نیز لا تہ والا تہ کسی کا حق کم کرنا پوا را نہ دینا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمالِكُمْ شَيْئاً [ الحجرات/ 14] تو خدا تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا ۔ اور اس کے اصلی معنی رد اللیت ۔ یعنی گر دن کے پہلو کو پھیر نے کے ہیں ۔ لیت یہ حرف طمع وتمنی ہے یعنی گذشتہ کوتاہی پر اظہار تاسف کے لئے آتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلاناً خَلِيلًا [ الفرقان/ 28] کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا يَقُولُ الْكافِرُ يا لَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] اور کافر کہے کا اے کاش میں مٹی ہوتا يا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا [ الفرقان/ 27] کہے گا اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رستہ اختیار کیا ہوتا ۔ شاعر نے کہا ہے ( 406 ) ولیلۃ ذات وجی سریت ولم یلتنی عن ھوا ھا لیت بہت سی تاریک راتوں میں میں نے سفر کئے لیکن مجھے کوئی پر خطر مر حلہ بھی محبوب کی محبت سے دل بر داشت نہ کرسکا ( کہ میں کہتا کاش میں نے محبت نہ کی ہوتی ۔ یہاں لیت اسم معرب اور لم یلت کا فاعل ہے اور یہ قول لیتہ کان کذا کی تاویل میں سے جیسا کہ دوسرے شاعر نے کہا ہے ( 403 ) ان لینا وان لوا عناء ۔ کہ لیت یا لو کہنا سرا سرباعث تکلف ہے بعض نے کہا ہے کہ پہلے شعر میں لیت صدر بمعنی لائت یعنی اس فاعلی ہے اور معنی یہ ہیں کہ مجھے اس کی محبت سے کوئی چیز نہ پھیر سکی ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٧۔ ٢٨) اور جس روز عقبہ بن ابی معیط کافر غایت و حسرت میں اپنے ہاتھ چبالے گا اور کہے گا کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دین کی راہ پر لگ جاتا، ہائے میری شامت کیا اچھا ہوتا کہ میں دین کے بارے میں ابی بن خلف کو دوست نہ بناتا۔ شان نزول : ( آیت ) ”۔ ویوم یعض الظالم “۔ (الخ) اور ابن جریر (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ابی بن خلف رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں حاضر ہوا کرتا تھا تو اس کو عقبہ بن ابی معیط ڈانٹا کرتا تھا، اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی جس روز یہ کافر حسرت میں اپنے ہاتھ چبا لے گا، نیز اسی طرح شعبی (رح) اور مقسم (رح) سے روایت کی گئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧ (وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ ) ” عَضَّ یَعُضُّکے معنی دانتوں سے پکڑنا یا کاٹنا کے ہیں۔ سورة النور کی آیت ٥٥ کے ضمن میں جو حدیث بیان ہوئی ہے اس میں مُلْکًا عَاضًّا کا لفظ اسی مادے سے مشتق ہے ‘ یعنی کاٹ کھانے والی ملوکیت۔ اس دن ہر گنہگار اور مجرم شخص حسرت و یاس کی تصویر بنا جھنجھلاہٹ اور پچھتاوے میں اپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹے گا۔ (یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا ) ” حسرت سے کہے گا کہ کاش میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیا ہوتا ‘ ان کا اتباعّ کیا ہوتا۔ ان کے ساتھیوں میں شامل ہوگیا ہوتا !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:27) یوم۔ میں عامل اذکر محذوف ہے۔ یعض۔ عض یعض (باب سمع) عض وعضیض مصدر۔ دانت سے پکڑنا دانت سے کاٹنا۔ فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ با اور علی کے صلہ کے ساتھ عض بہ عض علی آتا ہے۔ یعض علی یدیہ وہ اپنے دونوں ہاتھ کاٹ کاٹ کھاتا ہے یا کھائے گا۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ (3:119) اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر (شدت) غیظ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاتے ہیں۔ الظالم۔ میں ال حرف تعریف ہے۔ پھر اس کی دو صورتیں ہیں۔ (1) یہ حرف تعریف عہد کے لئے ہے ۔ اور اس کا معہود متعین ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے کما ارسلنا الی فرعون رسولا۔ فعصی فرعون الرسول (73:15 ۔ 16) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا ۔ تو فرعون نے رسول کی نافرمانی کی (اس میں الرسول کی الف لام نے معبود کا تعین کردیا کہ یہ وہی رسول تھا جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا) مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت عقبہ بن ابی معیط بن امیہ بن عبد شمس کے بارہ میں نازل ہوئی تھی اس صورت میں ال عہدی عقبہ کے لئے ہے اور الظالم سے مراد عقبہ بن ابی معیط ہے۔ (2) یہ حرف تعریف جنس کے لئے ہے اور استغراق افراد کے لئے ہے اور یہ وہ ال ہے کہ جس کی جگہ لفظ کل قائم مقام ہوتا ہے مثلاً قرآن مجید میں ہے وخلق الانسان ضعیفا (4:28) اور انسان کمزور ہی پیدا کیا گیا ہے یعنی تمام بنی نوع انسان۔ اس صورت میں الظالم سے مراد تمام ظالم اشخاص ہوں گے۔ یلیتنی۔ یا حرف ندا ہے قریب اور بعید ہر دو کے لئے آتا ہے یا ہمیشہ اسم پر آتا ہے یعنی منادی ہمیشہ اسم ہوتا ہے جیسے یا زید۔ اے زید۔ لیکن اگر فعل پر داخل ہو جیسے الا یا اسجدوا۔ یا حرف پر داخل ہو جیسے یا لیتنی تو ان صورتوں میں منادی محذوف ہوتا ہے ایۃ ھذا یلیتنی میں منادی محذوف ہے ای یا قومی لیتنی۔ یا یا حرف تنبیہ کے لئے ہے۔ لیتنی۔ لیت حرف مشبہ بالفعل ہے آرزو۔ تمنا کے لئے آتا ہے (اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے جیسے لیت زیدا قائم (کاش زید کھڑا ہوتا) یلیت الشباب یعود (کاش جوانی پھر آتی) کبھی اسم اور خبردونوں کو نصب دیتا ہے۔ مثلاً یلیت ایام الصباد راجعا لیت اکثر ناممکن امر پر واقع ہوتا ہے۔ مثلاً یلیتنی کنت ترابا (78:40) کاش میں مٹی ہوجاتا۔ فیلیت الشباب یعود یوما۔ فاخبرہ بما فعل المشیب۔ ای کاش جوانی کسی دن لوٹ آتی تو بڑھاپے نے جو سلوک کیا ہے میں اس کو بتاتا۔ یا لیتنی یا حرف ندا قومی منادی محذوف لیت حرف مشبہ بالفعل فی اسم (یا بصورت تنبیہ بمعنی ) اے کاش میں (نے اختیار کیا ہوتا) ۔ اتخذت۔ ماضی واحد متکلم اتخاذ (افتعال) مصدر میں نے اختیار کیا۔ یلیتنی اتخذت اے کاش میں نے اختیار کیا ہوتا۔ الرسول کی دو صورتیں ہیں۔ (1) اگر الظالم (مذکورہ بالا) میں ال جنس کا ہے تو الرسول میں بھی الف لام جنس کا ہوگا۔ اور الرسول سے مراد کل رسول (تمام رسول) ہوگی۔ (2) اور اگر الظالم میں ال عہد کا ہے اور اسے مراد عقبہ بن ابی معیط ہے تو الرسول میں بھی ال عہد کے لئے ہے اور اس سے مردا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات عالی مقام ہے ! اب آیت کا ترجمہ : تو اس دن ظالم (فرط ندامت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا (اور کہے گا) کاش ! میں نے رسول (مکرم) کی معیت میں (نجات کا) راستہ اختیار کیا ہوتا۔ سبیلا۔ اتخذت کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

11 ۔ یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اختیار کرلیتا ہے اور ایمان لے آتا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن کی ہولناکیاں دیکھ کر ظالموں کا اپنے آپ پر اظہار افسوس۔ قیامت کا دن ظالموں کے لیے اس قدر بھاری ہوگا کہ جس سے ظالم حواس باختہ ہوجائیں گے دیکھنے والا انھیں یوں محسوس کرے گا جیسے یہ کسی نشہ کی وجہ سے مدہوش ہوچکے ہیں حالانکہ وہ کسی نشہ کی وجہ سے مدہوش نہیں ہوں گے۔ لوگ اللہ کے عذاب کی وجہ سے حواس باختہ ہوں گے۔ (الحج : ١) ظالم اس قدر دہشت زدہ ہوں گے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے واویلا کریں گے اور اپنے آپ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے ہائے افسوس ہم ادھر ادھر کے راستے اختیار کرنے کی بجائے رسول کا راستہ اختیار کرتے۔ ہائے افسوس ہم نے رسول کو چھوڑ کر فلاں فلاں کو اپنا دوست اور خیر خواہ نہ سمجھا ہوتا۔ جس نے ہمیں قرآن مجید کی نصیحت سے دور رکھا اور گمراہ کیا یہ سب کچھ شیطان نے ہم سے کروایا۔ شیطان انسان کو بھرپور امید دلانے کے بعد دھوکہ دینے والا ہے۔ ظالموں کے اس اقرار کا انہیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اسی حالت میں ان کے سامنے گواہ لائے جائیں گے۔ یہاں تک کہ ہر امت کا رسول اس کے سامنے لایا جائے گا اور رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب کے حضور شکایت کریں گے کہ اے میرے رب میری قوم نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا تھا۔ قرآن مجید کو چھوڑدینے کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ سرے سے قرآن مجید کا انکار کردیا جائے یا پھر قرآن مجید پر ایمان لانے کے باوجود اس پر عمل نہ کیا جائے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ ) (ای الآیات الثلث) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ عقبہ بن ابی معیط لعنۃ اللہ علیہ جب بھی سفر سے آتا کھانا پکاتا اور اہل مکہ کی دعوت کرتا تھا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ زیادہ اٹھتا بیٹھتا تھا آپ کی باتیں اسے پسند آتی تھیں ایک مرتبہ جب وہ سفر سے واپس آیا تو کھانا تیار کیا اور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھانے کی دعوت دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تیرا کھانا نہیں کھا سکتا جب تک کہ تو لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہونے کی گواہی نہ دے اس نے پھر کھانے کو کہا آپ نے پھر وہی جواب دیا اس کے بعد اس نے شہادت کی گواہی دیدی اور آپ نے اس کا کھانا کھالیا اس واقعہ کی ابی بن خلف کو خبر ہوئی تو وہ عقبہ کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اے عقبہ کیا تو بد دین ہوگیا (مشرکین مکہ شرک میں غرق ہونے کی وجہ سے دین توحید کو بد دینی سے تعبیر کرتے تھے والعیاذ باللہ) اس پر عقبہ نے کہا کہ میں دل سے (بد دین) تو نہیں ہوا لیکن بات یہ ہے کہ ایک شخص میرے گھر آیا میں نے اس سے کھانے کے لیے کہا کہ جب تک تو میرے کہنے کے مطابق گواہی نہ دے گا میں تیرا کھانا نہ کھاؤں گا مجھے یہ اچھا نہ لگا کہ ایک شخص میرے گھر آئے اور کھانا کھائے بغیر چلا جائے لہٰذا میں نے اس کے قول کے مطابق گواہی دیدی جس پر اس نے کھانا کھالیا اس پر ابی بن خلف نے کہا کہ میں اس وقت تک تجھ سے راضی نہیں ہوسکتا جب تک تو اس شخص کے پاس جا کر بد تمیزی والی حرکت نہ کرے چناچہ عقبہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور بد تمیزی سے پیش آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تو مجھے مکہ معظمہ سے باہر ملے گا تو میں تیری گردن مار دوں گا چناچہ غزوہ بدر کے موقع پر اس کی گردن مار دی گئی اس آیت میں ظالم سے عقبہ بن معیط اور فلان سے ابی ابن خلف مراد ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب مشرکین عذاب میں مبتلا ہوں گے اس وقت ندامت و افسوس سے اپنے ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹتے ہوئے یوں کہے گا (یَالَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا) کاش میں اللہ کے رسول کے ساتھ اپنا راستہ بنا لیتا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ ” ویم یعض الخ “ قیامت کے دن مشرکین و کفار حسرت و ندامت سے انگلیاں کاٹیں گے اور کہیں گے کاش ! ہم نے پیغمبروں پر ایمان لا کر اللہ کی توحید اور اس کے برکات دہندہ ہونے کو مان لیا ہوتا۔ ” یویلتی لیتنی الخ “ کاش میں فلاں فلاں داعیان شرک اور صنادید کفر سے دوستی نہ گانٹھتا اور ان کی پیروی نہ کرتا۔ ” لقد اضلنی الخ “ ان ظالموں نے تو مجھے راہ توحید اور دعوی تبارک سے ہٹا دیا۔ ” خذولا “ خوار کرنے والا۔ شیطان جب انسان کو گمراہ کرتا ہے تو اسے بڑے خوبصورت سبز باغ دکھاتا ہے لوگوں کے دلوں میں توحید کے بارے میں عجیب شکوک پیدا کر کے ان کو شرک میں مبتلا کرتا ہے۔ مثلاً لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسے ڈالتا ہے کہ اللہ کے نیک بندے قیامت کے دن تمہارے کام آئیں گے، اللہ کے ہاں تمہاری سفارش کریں گے۔ وہ دنیا اور آخرت میں برکات دہندہ ہیں اس لیے تم ان کو پکارا کرو۔ لیکن قیامت کے دن ان مشرکین کو اپنی مدد کے لیے نہ شیطان کہیں نظر آئے گا نہ ان کے خود ساختہ معبود اور برکات دہندے دکھائی دیں گے۔ خذولا ھو مبالغۃ من الخذلان ای من عادۃ الشیطان ترک من یوالیہ (مدارک ج 3 ص 126) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(27) اور جس دن ظالم حسرت کے مارے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور یوں کہتا ہوگا اے کاش ! میں بھی رسول کے ساتھ ہوکر صحیح راہ لگ لیتا اور میں نے بھی صحیح راہ اختیار کی ہوتی یعنی ندامت و حسرت کا یہ عالم ہوگا کہ ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائے گا اور بچتا بچتا کر کہے گا کیا اچھا ہوتا کہ میں بھی رسول کے ساتھ ہوکر سیدھا راستہ اختیار کرلیتا اور یہ بھی کہے گا۔