Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 40

سورة الفرقان

وَ لَقَدۡ اَتَوۡا عَلَی الۡقَرۡیَۃِ الَّتِیۡۤ اُمۡطِرَتۡ مَطَرَ السَّوۡءِ ؕ اَفَلَمۡ یَکُوۡنُوۡا یَرَوۡنَہَا ۚ بَلۡ کَانُوۡا لَا یَرۡجُوۡنَ نُشُوۡرًا ﴿۴۰﴾

And they have already come upon the town which was showered with a rain of evil. So have they not seen it? But they are not expecting resurrection.

یہ لوگ اس بستی کے پاس سے بھی آتے جاتے ہیں جن پر بری طرح کی بارش برسائی گئی کیا یہ پھر بھی اسے دیکھتے نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ انہیں مر کر جی اٹھنے کی امید ہی نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَقَدْ أَتَوْا عَلَى الْقَرْيَةِ الَّتِي أُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ ... And indeed they have passed by the town on which was rained the evil rain. refers to the town of the people of Lut, which was called Sodom, and the way in which Allah dealt with it, when He destroyed it by turning it upside down and by sending upon it the rain of stones of baked clay, as Allah says: وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَأءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ And We rained on them a rain. And how evil was the rain of those who had been warned! (26:176) وَإِنَّكُمْ لَّتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِينَ وَبِالَّيْلِ أَفَلَ تَعْقِلُونَ Verily, you pass by them in the morning. And at night; will you not then reflect! (37:137-138) وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُّقِيمٍ And verily, they were right on the highroad. (15:76) وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُّبِينٍ They are both on an open highway, plain to see. (15:79) Allah says: ... أَفَلَمْ يَكُونُوا يَرَوْنَهَا ... Did they not then see it! meaning, so that they might learn a lesson from what happened to its inhabitants of punishment for denying the Messenger and going against the commands of Allah. ... بَلْ كَانُوا لاَ يَرْجُونَ نُشُورًا Nay! But they used not to expect any resurrection. means, the disbelievers who passed by it did not learn any lesson, because they did not expect any resurrection, i.e., on the Day of Judgement.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

401بستی سے، قوم لوط کی بستیاں سدوم اور عمورہ وغیرہ مراد ہیں اور بری بارش سے پتھروں کی بارش مراد ہے۔ ان بستیوں کو الٹ دیا گیا تھا اور اس کے بعد ان پر کھنگر پتھروں کی بارش کی گئی تھی جیسا کہ (فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَّنْضُوْدٍ ) 11 ۔ ہود :82) میں بیان ہے۔ یہ بستیاں شام فلسطین کے راستے میں پڑتی ہیں، جن سے گزر کر ہی اہل مکہ آتے جاتے تھے۔ 402اس لئے ان تباہ شدہ بستیوں اور ان کے کھنڈرات دیکھنے کے باوجود عبرت نہیں پکڑتے۔ اور آیات الٰہی اور اللہ کے رسول کو جھٹلانے سے باز نہیں آتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٢] اس سے مراد لوط (علیہ السلام) کی بستی یا سدوم کا علاقہ ہے۔ ان کفار مکہ کے جو تجارتی قافلے شام کی طرف جاتے اور واپس آتے ہیں تو یہ علاقہ ان کے راستہ میں پڑتا ہے اس علاقہ کی ویرانی اور خستہ حالی یہ کئی بار بچشم خود دیکھ چکے ہیں مگر یہ لوگ اس علاقہ کو محض ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھ کر آگے چلے جاتے ہیں۔ اس سے کچھ بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور ان کی یہ کیفیت محض اس لئے کہ یہ لوگ اللہ کے حضور پیش ہونے اور اپنے اعمال کی سزا پانے کا یقین ہی نہیں رکھتے۔ اور یہی وہ فرق ہے جو ایک آخرت کے منکر پر یقین رکھنے والے میں ہوتا ہے۔ آخرت کا منکر ایسے مقامات کو محض ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھتا ہے جبکہ آخرت پر یقین رکھنے والا ایسے مقامات سے عبرت اور کئی سبق حاصل کرتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَي الْقَرْيَةِ ۔۔ : ” وَلَقَدْ “ کا لفظ قسم کا مفہوم رکھتا ہے، یعنی قسم ہے کہ یہ لوگ شام کی طرف جاتے ہوئے قوم لوط کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہیں، کیونکہ وہ مکہ سے شام کو جانے والے راستے پر تھیں۔ دیکھیے سورة حجر (٧٩) اور صافات (١٣٧) ۔ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ : مراد کھنگر پتھروں کی بارش ہے۔ دیکھیے سورة ہود (٨٢) ، حجر (٧٤) ، اعراف (٨٤) ، شعراء (١٧٣) اور نمل (٥٨) ۔ ۭ اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا يَرَوْنَهَا ۔۔ : ” تو کیا وہ اسے دیکھا نہ کرتے تھے ؟ “ یعنی یقیناً دیکھا کرتے تھے۔ تو ان کے ایمان نہ لانے کی یہ وجہ نہ تھی کہ انھوں نے ان تباہ شدہ بستیوں کے آثار نہیں دیکھے تھے، بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ وہ کسی طرح دوبارہ زندہ ہونے کی امید نہ رکھتے تھے، اس لیے انھوں نے انھیں صرف تماشائی کی حیثیت سے دیکھا، ان سے کوئی عبرت حاصل نہ کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کے قائل اور اس کے منکر کے دیکھنے میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔ ” نُشُوْرًا “ کی تنوین کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ” بلکہ وہ کسی طرح اٹھائے جانے کی امید نہ رکھتے تھے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَي الْقَرْيَۃِ الَّتِيْٓ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ۝ ٠ۭ اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا يَرَوْنَہَا ۝ ٠ۚ بَلْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ نُشُوْرًا۝ ٤٠ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں مطر المَطَر : الماء المنسکب، ويومٌ مَطِيرٌ وماطرٌ ، ومُمْطِرٌ ، ووادٍ مَطِيرٌ. أي : مَمْطُورٌ ، يقال : مَطَرَتْنَا السماءُ وأَمْطَرَتْنَا، وما مطرت منه بخیر، وقیل : إنّ «مطر» يقال في الخیر، و «أمطر» في العذاب، قال تعالی: وَأَمْطَرْنا عَلَيْهِمْ مَطَراً فَساءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ [ الشعراء/ 173] ( م ط ر ) المطر کے معنی بارش کے ہیں اور جس دن بارش بر سی ہوا سے ويومٌ مَطِيرٌ وماطرٌ ، ومُمْطِرٌ ، ووادٍ مَطِيرٌ. کہتے ہیں واد مطیر باراں رسیدہ وادی کے معنی بارش بر سنا کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ مطر اچھی اور خوشگوار بارش کے لئے بولتے ہیں اور امطر عذاب کی بارش کیلئے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَأَمْطَرْنا عَلَيْهِمْ مَطَراً فَساءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ [ الشعراء/ 173] اور ان پر ایک بارش بر سائی سو جو بارش ان ( لوگوں ) پر برسی جو ڈرائے گئے تھے بری تھی ۔ سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] جو برے کام کرے رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ رَّجَاءُ ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد : إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عوامل ووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ، وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] ، وأَرْجَتِ النّاقة : دنا نتاجها، وحقیقته : جعلت لصاحبها رجاء في نفسها بقرب نتاجها . والْأُرْجُوَانَ : لون أحمر يفرّح تفریح الرّجاء . اور رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ اور آیت کریمہ ؛۔ ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] تو تمہیں کیا بلا مار گئی کہ تم نے خدا کا و قروں سے اٹھا دیا ۔ میں بعض مفسرین نے اس کے معنی لاتخافون کہئے ہیں یعنی کیوں نہیں ڈرتے ہوجیسا کہ شاعر نے کہا ہے ۔ ( طویل) (177) وجالفھا فی بیت نوب عواسل جب اسے مکھی ڈنگ مارتی ہے تو وہ اس کے ڈسنے سے نہیں ڈرتا ۔ اور اس نے شہد کی مکھیوں سے معاہد کر رکھا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ خوف ورجاء باہم متلازم ہیں لوجب کسی محبوب چیز کے حصول کی توقع ہوگی ۔ ساتھ ہی اس کے تضیع کا اندیشہ بھی دامن گیر رہے گا ۔ اور ایسے ہی اس کے برعکس صورت میں کہ اندیشہ کے ساتھ ہمیشہ امید پائی جاتی ہے ) قرآن میں ہے :َوَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] اور تم کو خدا سے وہ وہ امیدیں ہیں جو ان کو نہیں ۔ وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] اور کچھ اور لوگ ہیں کہ حکم خدا کے انتظار میں ان کا معاملہ ملتوی ہے ۔ ارجت الناقۃ اونٹنی کی ولادت کا وقت قریب آگیا ۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ اونٹنی نے اپنے مالک کو قرب ولادت کی امید دلائی ۔ الارجون ایک قسم کا سرخ رنگ جو رجاء کی طرح فرحت بخش ہوتا ہے ۔ نشر النَّشْرُ ، نَشَرَ الثوبَ ، والصَّحِيفَةَ ، والسَّحَابَ ، والنِّعْمَةَ ، والحَدِيثَ : بَسَطَهَا . قال تعالی: وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ [ التکوير/ 10] ، وقال : وهو الّذي يرسل الرّياح نُشْراً بين يدي رحمته [ الأعراف/ 57] «2» ، وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ [ الشوری/ 28] ، وقوله : وَالنَّاشِراتِ نَشْراً [ المرسلات/ 3] أي : الملائكة التي تَنْشُرُ الریاح، أو الریاح التي تنشر السَّحابَ ، ويقال في جمع النَّاشِرِ : نُشُرٌ ، وقرئ : نَشْراً فيكون کقوله :«والناشرات» ومنه : سمعت نَشْراً حَسَناً. أي : حَدِيثاً يُنْشَرُ مِنْ مَدْحٍ وغیره، ونَشِرَ المَيِّتُ نُشُوراً. قال تعالی: وَإِلَيْهِ النُّشُورُ [ الملک/ 15] ، بَلْ كانُوا لا يَرْجُونَ نُشُوراً [ الفرقان/ 40] ، وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلانُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وأَنْشَرَ اللَّهُ المَيِّتَ فَنُشِرَ. قال تعالی: ثُمَّ إِذا شاءَ أَنْشَرَهُ [ عبس/ 22] ، فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] وقیل : نَشَرَ اللَّهُ المَيِّتَ وأَنْشَرَهُ بمعنًى، والحقیقة أنّ نَشَرَ اللَّهُ الميِّت مستعارٌ من نَشْرِ الثَّوْبِ. كما قال الشاعر : 440- طَوَتْكَ خُطُوبُ دَهْرِكَ بَعْدَ نَشْرٍ ... كَذَاكَ خُطُوبُهُ طَيّاً وَنَشْراً «4» وقوله تعالی: وَجَعَلَ النَّهارَ نُشُوراً [ الفرقان/ 47] ، أي : جعل فيه الانتشارَ وابتغاء الرزقِ كما قال : وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ الآية [ القصص/ 73] ، وانْتِشَارُ الناس : تصرُّفهم في الحاجاتِ. قال تعالی: ثُمَّ إِذا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ [ الروم/ 20] ، فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا[ الأحزاب/ 53] ، فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ [ الجمعة/ 10] وقیل : نَشَرُوا في معنی انْتَشَرُوا، وقرئ : ( وإذا قيل انْشُرُوا فَانْشُرُوا) [ المجادلة/ 11] «1» أي : تفرّقوا . والانْتِشَارُ : انتفاخُ عَصَبِ الدَّابَّةِ ، والنَّوَاشِرُ : عُرُوقُ باطِنِ الذِّرَاعِ ، وذلک لانتشارها، والنَّشَرُ : الغَنَم المُنْتَشِر، وهو للمَنْشُورِ کالنِّقْضِ للمَنْقوض، ومنه قيل : اکتسی البازي ريشا نَشْراً. أي : مُنْتَشِراً واسعاً طویلًا، والنَّشْرُ : الكَلَأ الیابسُ ، إذا أصابه مطرٌ فَيُنْشَرُ. أي : يَحْيَا، فيخرج منه شيء كهيئة الحَلَمَةِ ، وذلک داءٌ للغَنَم، يقال منه : نَشَرَتِ الأرضُ فهي نَاشِرَةٌ. ونَشَرْتُ الخَشَبَ بالمِنْشَارِ نَشْراً اعتبارا بما يُنْشَرُ منه عند النَّحْتِ ، والنُّشْرَةُ : رُقْيَةٌ يُعَالَجُ المریضُ بها . ( ن ش ر ) النشر کے معنی کسی چیز کو پھیلانے کے ہیں یہ کپڑے اور صحیفے کے پھیلانے ۔ بارش اور نعمت کے عام کرنے اور کسی بات کے مشہور کردیتے پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ [ التکوير/ 10] اور جب دفتر کھولے جائیں گے ۔ وهو الّذي يرسل الرّياح نُشْراً بين يدي رحمته [ الأعراف/ 57] اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامیدہو جانیکے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت ( یعنی بارش کے برکت ) کو پھیلا دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَالنَّاشِراتِ نَشْراً [ المرسلات/ 3] اور بادلوں کو ( بھاڑ ) ( پہلا دیتی ہے ۔ میں ناشرات سے مراد وہ فرشتے ہن جو ہواؤں کے پھیلاتے ہیں یا اس سے وہ ہوائیں مراد ہیں جو بادلون کو بکھیرتی ہیں ۔ چناچہ ایک قرات میں نشرابین یدی رحمتہ بھی ہے جو کہ وہ الناشرات کے ہم معنی ہے اور اسی سے سمعت نشرا حسنا کا محاورہ ہے جس کے معنی میں نے اچھی شہرت سنی ۔ نشرالمیت نشودا کے معنی ہیت کے ( ازسرنو زندہ ہونے کے ہیں ) چناچہ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ النُّشُورُ [ الملک/ 15] اسی کے پاس قبروں سے نکل کر جانا ہے بَلْ كانُوا لا يَرْجُونَ نُشُوراً [ الفرقان/ 40] بلکہ ان کو مرنے کے بعد جی اٹھنے کی امیدہی نہیں تھی ۔ وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے ۔ اور نہ جینا اور نہ مرکراٹھ کھڑے ہونا ۔ انشر اللہ المیت ک معنی میت کو زندہ کرنے کے ہیں۔ اور نشر اس کا مطاوع آتا ہے ۔ جس کہ معنی زندہ ہوجانے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ إِذا شاءَ أَنْشَرَهُ [ عبس/ 22] پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا ۔ فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کردیا ۔ بعض نے کہا ہے ک نشر اللہ المیت وانشرہ کے ایک ہی معنی میں ۔ لیکن درحقیقت نشر اللہ المیت نشرالثوب کے محاورہ سے ماخوذ ہے شاعر نے کہا ہے ( الوافر) (425) طوتک خطوب دھرک بعد نشر کذاک خطوبہ طیا ونشرا تجھے پھیلانے کے بعد حوادث زمانہ نے لپیٹ لیا اس طرح حوادث زمانہ لپیٹنے اور نشر کرتے رہتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] اور دن کو اٹھ کھڑا ہونے کا وقت ٹھہرایا ۔ میں دن کے نشوربنانے سے مراد یہ ہے کہ اس کا روبار کے پھیلانے اور روزی کمانے کے لئے بنایا ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ الآية [ القصص/ 73] اور اس نے رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا ۔ تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس میں اس کا فضل تلاش کرو ۔ اور انتشارالناس کے معنی لوگوں کے اپنے کاروبار میں لگ جانے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ إِذا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ [ الروم/ 20] پھر اب تم انسان ہوکر جابجا پھیل رہے ہو ۔ فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا[ الأحزاب/ 53] تو جب کھانا کھا چکو تو چل دو ۔ فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ [ الجمعة/ 10] پھر جب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لو ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ نشروا بمعنی انتشروا کے آتا ہے۔ چناچہ آیت کریمہ : وإذا قيل انْشُرُوا فَانْشُرُوا) [ المجادلة/ 11] اور جب کہاجائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑا ہوا کرو ۔ میں ایک قراءت فاذا قیل انشروافانشروا بھی ہے ۔ یعنی جب کہاجائے کہ منتشر ہوجاؤ تو منتشر ہوجایا کرو ۔ الانتشار کے معنی چوپایہ کی رگوں کا پھول جانا ۔۔ بھی آتے ہیں ۔ اور نواشر باطن ذراع کی رگوں کو کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بدن میں منتشر ہیں ۔ النشر ( ایضا) پھیلنے والے بادل کو کہتے ہیں ۔ اور یہ بمعنی منشور بھی آتا ہے جیسا کہ نقض بمعنی منقوض آجاتا ہے اسی سے محاورہ ہے ؛اکتسی البازی ریشا نشرا ۔ یعنی باز نے لمبے چوڑے پھیلنے والے پروں کا لباس پہن لیا ۔ النشر ( ایضا) خشک گھاس کو کہتے ہیں ۔ جو بارش کے بعد سرسبز ہوکر پھیل جائے اور اس سے سر پستان کی سی کونپلیں پھوٹ نکلیں یہ گھاس بکریوں کے لئے سخت مضر ہوتی ہے ۔ اسی سے نشرت الارض فھی ناشرۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی زمین میں نشر گھاس پھوٹنے کے ہیں ۔ شرت الخشب بالمنشار کے معنی آرے سے لکڑی چیرنے کے ہیں ۔ اور لکڑی چیر نے کو نشر اس لئے کہتے ہیں کہ اسے چیرتے وقت نشارہ یعنی پر ادہ پھیلتا ہے ۔ اور نشرہ کے معنی افسوں کے ہیں جس سے مریض کا علاج کیا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٠) اور یہ کفار مکہ اپنی آمد و رفت میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی سے ہو کر گزرے ہیں جس پر بری طرح پتھر برسائے گئے تو اس بستی اور وہاں کے رہنے والوں کے ساتھ کیا کیا گیا ؟ کیا یہ لوگ اس کو دیکھتے نہیں رہتے کہ پھر بھی عبرت نہیں حاصل کرتے کہ آپ کو نہ جھٹلائیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے یہ ہے کہ یہ لوگ مر کر جی اٹھنے کا احتمال ہی نہیں رکھتے ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٠ (وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَی الْقَرْیَۃِ الَّتِیْٓ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ ط) ” اس سے سدوم اور عامورہ کی بستیاں مراد ہیں جن کی طرف حضرت لوط (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ بدترین بارش سے مراد پتھروں کی بارش ہے ‘ جس کا ذکر قرآن حکیم میں کئی جگہ آیا ہے۔ (اَفَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرَوْنَہَا ج) ” سفر شام کے دوران آتے جاتے قریش کے تجارتی قافلے جب ان بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرتے ہیں تو کیا یہ لوگ انہیں نگاہ عبرت سے نہیں دیکھتے ؟ (بَلْ کَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا ) ” اصل بات یہ ہے کہ انہیں بعث بعد الموت پر یقین نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایسے عبرت انگیز حقائق پر سے یہ لوگ بغیر کوئی سبق حاصل کیے اندھوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

53 The habitation referred to was that of the people of Prophet Lot, which was destroyed by a rain of stones. The people of Hijaz while traveling to Palestine and Syria, passed by its ruins and heard the horrible tales of its destruction . 54 As the disbelievers did not believe in the Hereafter, they looked at these ancient ruins as mere spectators and did not take any warning from them. Incidentally, this is the difference between the observation of a disbeliever and of a Believer in the Hereafter: the former looks at such things as a mere spectator or at the most as an archaeologist whereas the latter learns moral lessons from the same and obtains an insight into the realities beyond this worldly life.

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :53 یعنی قوم لوط کی بستی ۔ بدترین بارش سے مراد پتھروں کی بارش ہے جس کا ذکر کئی جگہ قرآن مجید میں آیا ہے ۔ اہل حجاز کے قافلے فلسطین و شام جاتے ہوئے اس علاقے سے گزرتے تھے اور نہ صرف تباہی کے آثار دیکھتے تھے بلکہ آس پاس کے باشندوں سے قوم لوط کی عبرت ناک داستانیں بھی سنتے رہتے تھے ۔ سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :54 یعنی چونکہ یہ آخرت کے قائل نہیں ہیں اس لیے ان آثار قدیمہ کا مشاہدہ انہوں نے محض ایک تماشائی کی حیثیت سے کیا ، ان سے کوئی عبرت حاصل نہ کی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کے قائل کی نگاہ اور اس کے منکر کی نگاہ میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے ۔ ایک تماشا دیکھتا ہے ، یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ تاریخ مرتب کرتا ہے ۔ دوسرا انہی چیزوں سے اخلاقی سبق لیتا ہے اور زندگی سے ماوراء حقیقتوں تک رسائی حاصل کرتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

14: اس سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے جس کا واقعہ سورۃ ہود : 77 تا 83 میں گذر چکا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:40) اتوا۔ اتیان سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب وہ پہنچے ۔ وہ آئے۔ وہ گذرے ۔ وہ لائے۔ ضمیر فاعل اہل مکہ کے لئے ہے۔ اتوا علی۔ کسی شے کے پاس سے گذرے ہیں۔ لقد اتوا علی میں لام تاکید کا ہے۔ اور قد اگرچہ ماضی کے ساتھ تقریب کا فائدہ دیتا ہے یعنی اس کو زمانہ حال سے نزدیک بنا دیتا ہے لیکن فعل ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے جیسے قولہ تعالی۔ قد افلح المومنون (23:1) بیشک بامراد ہوگئے ایمان والے۔ یہاں آیت ہذا (25:40) میں بھی یہ تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ لقد اتوا علی القریۃ بیشک وہ ضرور گذرے ہیں اس بستی کے پاس سے۔ القریۃ سے مراد سدوم وغیرہ قوم لوط کے علاقے ہیں۔ امطرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب امطار (افعال) مصدر۔ مطر بارش اس پر بارش برسائی گئی۔ ابو عبیدہ نے تصریح کی ہے کہ مطر (باب نصر) مطر ومطر مصدر سے استعمال باران رحمت میں ہوتا ہے اور امطر (باب افعال) سے عذاب میں۔ مطر السوئ۔ سوء ساء یسوء (نصر) کا مصدر ہے ، برا ہونا قبیح ہونا۔ مطر السوئ۔ مضاف مضاف الیہ۔ قباحت کی بارش، بدبختی کی بارش۔ انجام کا رغم کا باعث بننے والی بارش۔ جیسے مذمت کے سلسلے میں کہتے ہیں رجل السوئ۔ قبیح انسان۔ جس کا فعل غم میں منتج ہو۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے علیہم دائرۃ السوء (9:98) انہیں پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ یہاں دائرۃ السوء سے مراد ہر وہ چیز ہوسکتی ہے جو انجام کار غم کا موجب ہو ۔ یہاں مطر السوء سے مراد مطر الحجارۃ ہے کیونکہ قوم لوط کی تباہی پتھروں کی بارش سے ہوئی تھی ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ وامطرنا علیھا حجارۃ من سجیل (11:82) اور ہم نے برسا دئیے ان پر پتھر کھنگر کے۔ مطر امطرت کے مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ امطرت مطر السوء جس پر پتھروں کی سخت بارش برسائی گئی تھی۔ جس پر بری طرح پتھرائو کیا گیا تھا۔ افلم یکونوا یرونھا۔ ہمزہ استفہام انکاری کا ہے۔ الفاء جملہ مقدرہ کے عطف کے لئے ہے ای الم یکونوا ینظرون الیھا فلم یکونوا یرونھا۔ کیوں نہیں یہ ان برباد (بستیوں) کی طرف نظر کرتے اور کیوں نہیں ان کو (نظر بصیرت سے) دیکھتے (کہ عذاب اللہ کے آثار سے نصیحت پکڑیں) ھا ضمیر القریۃ کی طرف راجع ہے۔ بل۔ یہاں بطور حرف اضراب آیا ہے یعنی ماقبل سے اعراض کے لئے آیا ہے۔ اور تدارک یعنی اصلاح کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی بات یہ نہیں کہ اپنی ظاہری نظروں سے ان برباد بستیوں کو نہیں دیکھتے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کانوا لا یرجون نشورا۔ یہ لوگ مر کر جی اٹھنے کی امید ہی نہیں رکھتے۔ اس پر ان کا ایمان ہی نہیں۔ اس لئے اصلاح احوال کی انہیں فکر ہی نہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (2: 135) ۔ لا یرجون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب رجاء مصدر۔ وہ امید نہیں رکھتے ہیں۔ وہ یقین نہیں رکھتے۔ وہ اندیشہ نہیں کرتے ہیں۔ نشورا۔ قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا۔ نشر ینشر (نصر) سے مصدر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

10 ۔ استفہام توبیخے لئے ہے مطلب یہ ہے کہ ضرور یکھا ہوگا کیونکہ وہ شام کے راستہ پر واقع تھیں اور قریش اپنے سفروں میں آتے جاتے وہاں سے گزرتے تھے۔ 11 ۔ ” اس لئے سب کچھ دیکھتے ہیں مگر کسی چیز سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عاد، ثمود اور دیگر قوموں کی تباہی کے ذکر کے بعد قوم لوط کی تباہی کا ذکر۔ جن قوموں کی عبرت ناک تاریخ کا ذکر کیا گیا ہے ان کی اکثریت کا تعلق سرزمین عرب کے ساتھ ہے جس بناء پر عام لوگوں کے ساتھ بالخصوص اہل مکہ کو توجہ دلائی گئی ہے کہ ان اقوام کی تاریخ تمہارے سامنے ہے اور ان کے علاقے تمہاری راہ گزر پر واقع ہیں۔ یاد رہے کہ اہل مکہ کی تجارت کا عام طور پر دار و مدار انہی علاقوں کی منڈیوں پر تھا جس وجہ سے وہ قافلوں کی صورت میں مغضوب قوموں کی سرزمین سے گزرتے اور ان کے آثار قدیمہ کو دیکھتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود عبرت حاصل کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔ عبرت حاصل کرنے کے لیے بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان موت کے بعد زندہ ہونے پر ایمان لائے اور محشر کے دِن حساب اور احتساب پر یقین رکھے لیکن لوگوں کی غالب اکثریت مرنے کے بعد جی اٹھنے پر حقیقی اور عملی ایمان نہیں رکھتی۔ قوم لوط کا کردار : قوم لوط کے لوگ نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے پوری کرتے تھے۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے پر تیار نہ ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کردینے کی دھمکی دینے کے ساتھ ان سے عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔ تفسیر بالقرآن قوم لوط کی تباہی کا حال : ١۔ قوم لوط ایسی برائی کے مرتکب ہوئے جو ان سے پہلے کسی قوم نے نہیں کی۔ ( الاعراف : ٨٠) ٢۔ ہم نے اس بستی کو الٹ کر ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔ (الحجر : ٧٤) ٣۔ ان کے پاس ان کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور وہ پہلے سے ہی بدکاریاں کیا کرتے تھے۔ (ھود : ٧٨) ٤۔ لوط نے کہا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی یا میں کوئی مضبوط پناہ گاہ پاتا۔ (ھود : ٨٠) ٥۔ ہم نے اوپر والی سطح کو نیچے کردیا اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسا دی جو تہہ بہ تہہ تھے خاص نشان لگے ہوئے۔ (ھود : ٨٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اَفَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرَوْنَہَا) (کیا یہ لوگ ان بستیوں کو دیکھتے نہیں رہے) (بَلْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا) یعنی یہ لوگ ان بستیوں پر گزرتے ہیں لیکن ان کا عبرت نہ پکڑنا بےعلمی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ مر کر جی اٹھنے کی امید ہی نہیں رکھتے یعنی آخرت کے منکر ہیں اور ہلاک شدہ بستیوں کو یوں ہی امور اتفاقیہ پر محمول کرتے ہیں اور اپنے کفر کو دنیا یا آخرت میں موجب سزا نہیں سمجھتے۔ جن لوگوں کو کفر کی وجہ سے ہلاک کیا گیا ہے ان میں اصحاب الرس کا ذکر بھی فرمایا الرس عربی میں کنویں کو کہتے ہیں یہ کنویں والے لوگ کون تھے کس علاقہ میں تھے ان کی طرف کس نبی کی بعثت ہوئی تھی ؟ اس بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کہی جاسکتی صاحب روح المعانی نے ان کے بارے میں متعدد اقوال لکھے ہیں ایک قول یہ ہے کہ یہ لوگ یمامہ کی ایک بستی میں رہتے تھے جو قوم ثمود کے بقایا تھے اور ایک قول یہ ہے کہ شہر انطا کیہ (شام) میں ایک کنواں تھا یہ لوگ اس کنویں کے آس پاس رہتے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب الایکہ اور اصحاب الرس دونوں قوموں کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ لوگ بتوں کی پرستش کرتے تھے ان کے بہت سارے کنویں تھے اور کثیر تعداد میں مویشی تھے انہیں اسلام کی دعوت دی تو سر کشی میں آگے بڑھتے چلے گئے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو برابر ایذاء پہنچاتے رہے حتیٰ کہ ایک دن ایک کنویں کے چاروں طرف جمع تھے جو صرف کھودا ہی گیا تھا پکا نہیں بنایا گیا اس کنویں کی آس پاس کی زمین انہیں لے کر گرتی چلی گئی اور یہ لوگ اسی سے ہلاک ہوگئے ایک قول یہ ہے کہ اصحاب الرس سے اصحاب الاخدود مراد ہیں (جن کا سورة بروج میں ذکر ہے اور الرس سے اخدود یعنی خندق مراد ہے)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

28:۔ ” ولقد اتوا الخ “ یہ ساتویں نقلی دلیل ہے ” اتو “ کی ضمیر اہل مکہ سے کنایہ ہے اور ” القریۃ “ سے قوم لوط کی بستیاں مراد ہیں جن پر پتھروں کی بارش کر کے اللہ نے ان کو برباد کیا تھا مشرکین ملک شام کی طرف جاتے ہوئے ان بستیوں کے پاس سے گذرتے تھے۔ ” افلم یکونوا یرونھا “ کیا مشرکین مکہ نے ان تباہ شدہ بستیوں کو نہیں دیکھا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی خوب دیکھا ہے مگر پھر بھی عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرتے یعنی اذا مرو بھم فی اسفارھم فیعتبروا و یتفکروا لن مدائن قوم لوط کنت علی طریقھم عند ممرھم الی الشام (معالم و خازن ج 5 ص 102) ۔ ” بل لا یرجون نشورا “ ہلاک شدہ اقوام کی بستیوں کو دیکھ کر بھی عبرت نہیں پکڑتے کیونکہ حشر و نشر پر ان کا ایمان نہیں، وہ آخرت کے حساب و عذاب سے مطمئن ہیں اور عذاب جہنم کا ان کو دلوں میں کوئی خوف نہیں بل کانوا قوما کفرۃ بالبعث لا یخافون بعثا فلا یومنون (مدارک ج 3 ص 128) لا یرجون ای لا یخافون او لا یعتقدون۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(40) اور یہ مشرکین مکہ اس بستی پر ہوکر گزرے ہیں جس پر بری طرح کی بارش برسائی گئی تھی اور بڑا برسائو برسایا گیا تھا تو کیا انہوں نے اس بستی کو دیکھا نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ ان کو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا خوف ہی نہیں ہے قوم لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کی طرف اشارہ ہے یہ بستیاں شام کے راستے میں الٹی پڑی ہیں جن پر برے کاموں کی وجہ سے عذاب آیا تھا اور پھر کھنگر کے پتھر برسے تھے پھر بھی ان کو عبرت نہیں ہوئی کہ یہ کفر سے باز آجائیں چونکہ یہ آخرت کے منکر اس لئے کفر کو موجب سزا ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس قسم کے عذاب کو اتفاقی بات سمجھتے ہیں ایک بستی جو بڑی تھی یعنی سدوم کا ذکر فرمایا اور بستیاں جو اس مرکزی مقام کے تابع تھیں وہ بھی اس عذاب میں شامل ہوگئیں اب آگے مشرکین مکہ کو مزید تنبیہ کا ذکر ہے۔