Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 51

سورة الفرقان

وَ لَوۡ شِئۡنَا لَبَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ قَرۡیَۃٍ نَّذِیۡرًا﴿۵۱﴾۫ ۖ

And if We had willed, We could have sent into every city a warner.

اگر ہم چاہتے تو ہر ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The universality of the Prophet's Message, how He was supported in His Mission and Allah's Blessings to Mankind Allah says: وَلَوْ شِيْنَا لَبَعَثْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ نَذِيرًا And had We willed, We would have raised a warner in every town. `Calling them to Allah, but We have singled you out, O Muhammad, to be sent to all the people of earth, and We have commanded you to convey the Qur'an,' لااٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ that I may therewith warn you and whomsoever it may reach. (6:19) وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place. (11:17) لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا that you may warn the Mother of the Towns and all around it. (42:7) قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah..." (7:158) In the Two Sahihs it is reported that the Prophet said: بُعِثْتُ إِلَى الاَْحْمَرِ وَالاَْسْوَد I have been sent to the red and the black. And: وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّة ...A Prophet would be sent to his own people, but I have been sent to all of mankind. Allah says:

النبی کل عالم علیہ السلام اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا لیکن اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا ہے کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے ۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کردوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے ٹھہر نے کی جگہ جہنم ہے اور فرمان ہے کہ تم مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کردو ۔ اور آیت میں ہے کہ اے نبی آپ کہہ دیجئے کہ اے تمام لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ ( صلی اللہ عیہ وسلم ) بن کر آیا ہوں ۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے میں سرخ وسیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں ۔ بخاری ومسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام انبیاء اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں عام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں ۔ پھر فرمایا کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑاجہاد کرنا ۔ جیسے ارشاد ہے ۔ آیت ( يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۭ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ Ḍ۝ ) 66- التحريم:9 ) یعنی اے نبی کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو ۔ اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کردیا ہے ۔ میٹھا اور کھاری ۔ نہروں چشموں اور کنووں کا پانی عموما شیریں صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے ۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے ۔ اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کردی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے پینے اور کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے ۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہادیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں ، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں ، تلاطم پیدا کر رہے ہیں ، بعض میں مدوجزر ہے ، ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آجاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا یہ بھی چڑھنے لگا چودہ تاریخ تک برابر چاند کیساتھ چڑھتا رہا پھر اترنا شروع ہوا ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے ۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کردیتا ہے جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے اس میں جو جانور مرجاتے ہیں ان کی بدبو دنیا والوں کو ستانہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اسکا مردہ پاک طیب ہوتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کرلیں؟ تو آپ نے فرمایا اسکا پانی پاک ہے اور اسکا مردہ حلال ہے ۔ مالک شافعی اور اہل سنن رحمتہ اللہ علیہ نے اسے روایت کی ہے اور اسناد بھی صحیح ہے پھر اسکی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے نہ کھاری میٹھے میں مل سکے نہ میٹھا کھاری میں مل سکے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ 19۝ۙ ) 55- الرحمن:19 ) اس نے دونوں سمندرجاری کردئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کردیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کے منکر ہو؟ اور آیت میں ہے کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کردئیے اس پر پہاڑ قائم کردئیے اور دوسمندروں کے درمیان اوٹ کردی ۔ کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکین کے اکثر لوگ بےعلم ہیں ۔ اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر اسے ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایاہے ۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کرکے پھر اسے مرد یا عورت بنایا ۔ پھر اس کے لئے نسب کے رشتے دار بنادئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کردئیے اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

511لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا اور صرف آپ کو ہی تمام بستیوں بلکہ تمام انسانوں کے لیے نذیر بنا کر بھیجا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيْرًا : یعنی جس طرح ہم نے بارش کو مختلف شہروں اور ملکوں میں بانٹ دیا، اگر ہم چاہتے تو اسی طرح ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے، مگر ہم نے ایسا نہیں چاہا، کیونکہ اس سے الگ الگ امتیں وجود میں آتیں، جن کا آپس میں اختلاف ہوتا، اس لیے ہم نے ساری زمین کے لیے ایک آفتاب کی طرح سب کے لیے ایک ہی ڈرانے والا مقرر فرمایا کہ سب اس کی اطاعت کریں اور ان کے انکار کی صورت میں وہ سب کے ساتھ قتال کرے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قیامت تک کے تمام لوگوں کے لیے نذیر ہونے کا ذکر اسی سورت کے شروع میں بھی ہے : (لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا) مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے سورة اعراف (١٥٨) ۔ 3 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی کمال قوت اور بےنیازی کا اظہار بھی ہے اور اس کی حکمت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کمال نعمت کا بھی۔ فرمایا اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے اور جس شان کا چاہتے بھیج دیتے، کسی کی جرأت نہ تھی کہ ہمیں روک سکتا، مگر ہم نے یہ نہیں چاہا، بلکہ یہ چاہا ہے کہ یہ عزت و رفعت ” محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) “ کو ملے، فرمایا : ( وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ) [ الم نشرح : ٤ ]” اور ہم نے تیرے لیے تیرا ذکر بلند کردیا۔ “ اور فرمایا : ( عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا )[ بني إسرائیل : ٧٩ ] ” قریب ہے کہ تیر ارب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَۃٍ نَّذِيْرًا۝ ٥١ۡۖ شاء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . وعند بعضهم : الشَّيْءُ عبارة عن الموجود «2» ، وأصله : مصدر شَاءَ ، وإذا وصف به تعالیٰ فمعناه : شَاءَ ، وإذا وصف به غيره فمعناه الْمَشِيءُ ، وعلی الثاني قوله تعالی: قُلِ اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْءٍ [ الرعد/ 16] ، فهذا علی العموم بلا مثنويّة إذ کان الشیء هاهنا مصدرا في معنی المفعول . وقوله : قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهادَةً [ الأنعام/ 19] ، فهو بمعنی الفاعل کقوله : فَتَبارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخالِقِينَ [ المؤمنون/ 14] . والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) «3» ، والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادة الإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» ، وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترک ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ما سوی پر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجودات اور معدومات سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، بعض نے کہا ہے کہ شے صرف موجود چیز کو کہتے ہیں ۔ یہ اصل میں شاء کا مصدر ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق شے کا لفظ استعمال ہو تو یہ بمعنی شاء یعنی اسم فاعل کے ہوتا ہے ۔ اور غیر اللہ پر بولا جائے تو مشیء ( اسم مفعول ) کے معنی میں ہوتا ہے ۔ پس آیت کریمہ : ۔ قُلِ اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْءٍ [ الرعد/ 16] خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ۔ میں لفظ شی چونکہ دوسرے معنی ( اسم مفعول ) میں استعمال ہوا ہے اس لئے یہ عموم پر محمول ہوگا اور اس سے کسی قسم کا استثناء نہیں کیا جائیگا کیونکہ شی مصدر بمعنی المفعول ہے مگر آیت کریمہ : ۔/ قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهادَةً [ الأنعام/ 19] ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر ( قرین انصاف ) کس کی شہادت ہے میں شے بمعنی اسم فاعل ہے اور اللہ تعالیٰ کو اکبر شھادۃ کہنا ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسری ایت ۔ فَتَبارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخالِقِينَ [ المؤمنون/ 14] ( تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے ) میں ذات باری تعالیٰ کو احسن الخالقین کہا گیا ہے ۔ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] ، زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] ، ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] ، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة . - وإلهي، وذلک ضربان : - أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس والأنواع لا عن ليس «3» ، وذلک يختص به الباري تعالی، ولم يقدر عليه أحد . والثاني : إحياء الموتی، وقد خص بذلک بعض أولیائه، كعيسى صلّى اللہ عليه وسلم وأمثاله، ومنه قوله عزّ وجل : فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] ، يعني : يوم الحشر، وقوله عزّ وجلّ : فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ [ المائدة/ 31] ، أي : قيّضه، وَلَقَدْ بَعَثْنا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا [ النحل/ 36] ، نحو : أَرْسَلْنا رُسُلَنا [ المؤمنون/ 44] ، وقوله تعالی: ثُمَّ بَعَثْناهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] ، وذلک إثارة بلا توجيه إلى مکان، وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً [ النحل/ 84] ، قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ [ الأنعام/ 65] ، وقالعزّ وجلّ : فَأَماتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ [ البقرة/ 259] ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ ما جَرَحْتُمْ بِالنَّهارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ [ الأنعام/ 60] ، والنوم من جنس الموت فجعل التوفي فيهما، والبعث منهما سواء، وقوله عزّ وجلّ : وَلكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعاثَهُمْ [ التوبة/ 46] ، أي : توجههم ومضيّهم . ( ب ع ث ) البعث ( ف ) اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بھیجنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور مردوں کے متعلق استعمال ہو تو قبروں سے زندہ کرکے محشر کی طرف چلانا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] اور مردوں کو تو خدا ( قیامت ہی کو ) اٹھایا جائے گا ۔ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا ۔ زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] جو لوگ کافر ہوئے ان کا اعتقاد ہے کہ وہ ( دوبارہ ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ۔ کہدو کہ ہاں ہاں میرے پروردیگا رکی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤگے ۔ ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] تمہارا پیدا کرنا اور جلا اٹھا نا ایک شخص د کے پیدا کرنے اور جلانے اٹھانے ) کی طرح ہے پس بعث دو قسم پر ہے بعث بشری یعنی جس کا فاعل انسان ہوتا ہے جیسے بعث البعیر ( یعنی اونٹ کو اٹھاکر چلانا ) کسی کو کسی کام کے لئے بھیجنا دوم بعث الہی یعنی جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو پھر اس کی بھی دوقسمیں ہیں اول یہ کہ اعیان ، اجناس اور فواع کو عدم سے وجود میں لانا ۔ یہ قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس پر کبھی کسی دوسرے کو قدرت نہیں بخشی ۔ دوم مردوں کو زندہ کرنا ۔ اس صفت کے ساتھ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھی سرفراز فرمادیتا ہے جیسا کہ حضرت عیسٰی (علیہ السلام) اور ان کے ہم مثل دوسری انبیاء کے متعلق مذکور ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] اور یہ قیامت ہی کا دن ہے ۔ بھی اسی قبیل سے ہے یعنی یہ حشر کا دن ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ [ المائدة/ 31] اب خدا نے ایک کوا بھیجا جو زمین کو کرید نے لگا ۔ میں بعث بمعنی قیض ہے ۔ یعنی مقرر کردیا اور رسولوں کے متعلق کہا جائے ۔ تو اس کے معنی مبعوث کرنے اور بھیجنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَلَقَدْ بَعَثْنا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا [ النحل/ 36] اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں أَرْسَلْنا رُسُلَنا [ المؤمنون/ 44] فرمایا ہے اور آیت : ۔ ثُمَّ بَعَثْناهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] پھر ان کا جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدت وہ ( غار میں ) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کو مقدار کس کو خوب یاد ہے ۔ میں بعثنا کے معنی صرف ۃ نیند سے ) اٹھانے کے ہیں اور اس میں بھیجنے کا مفہوم شامل نہیں ہے ۔ وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً [ النحل/ 84] اور اس دن کو یا د کرو جس دن ہم ہر امت میں سے خود ان پر گواہ کھڑا کریں گے ۔ قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ [ الأنعام/ 65] کہہ و کہ ) اس پر بھی ) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عذاب بھیجے ۔ فَأَماتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ [ البقرة/ 259] تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی ( اور ) سو برس تک ( اس کو مردہ رکھا ) پھر اس کو جلا اٹھایا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ ما جَرَحْتُمْ بِالنَّهارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو رات کو ( سونے کی حالت میں ) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کبھی تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھادیتا ہے ۔ میں نیند کے متعلق تونی اور دن کو اٹھنے کے متعلق بعث کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ نیند بھی ایک طرح کی موت سے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعاثَهُمْ [ التوبة/ 46] لیکن خدا نے ان کا اٹھنا ( اور نکلنا ) پسند نہ کیا ۔ میں انبعاث کے معنی جانے کے ہیں ۔ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں النذیر والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذیر النذیر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥١) مگر ہم چاہتے ہیں تو ہر ایک بستی والوں میں سے ایک ایک پیغمبر بھیج دیتے۔ مگر ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ ہر قسم کا ثواب اور ہر قسم کی فضیلتیں آپ کو حاصل ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥١ (وَلَوْ شِءْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیْرًا ) ” اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر بستی میں بھی پیغمبر بھیج سکتے تھے ‘ لیکن عام طور پر ایک قوم کی طرف ایک پیغمبر ہی مبعوث کیا جاتا رہا ہے۔ جیسا کہ سورة الرعد میں فرمایا گیا : (وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ ) کہ ہر قوم کی طرف ایک پیغمبر بھیجا گیا۔ اور یہ پیغمبر ہمیشہ ایسے شہر میں مبعوث کیا جاتا تھا جو متعلقہ قوم یا علاقے کے ثقافتی ‘ علمی ‘ تہذیبی اور سیاسی مرکز کی حیثیت سے معروف ہوتا تھا۔ کیونکہ کسی بھی علاقے کے عوام ہر پہلو سے اپنے مرکزی شہر میں پروان چڑھنے والے رجحانات کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی قانون اور اصول سورة القصص کی آیت ٥٩ میں اس طرح بیان ہوا ہے : (وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّہَا رَسُوْلًا) ” اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ وہ ان کی مرکزی بڑی بستی میں کوئی رسول نہ بھیج دیتا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

66 That is, "If We had willed, We could have sent a separate Prophet to every habitation but We did not do so, because like the sun, Our Last Prophet suffices to enlighten the whole world."

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :66 یعنی ایسا کرنا ہماری قدرت سے باہر نہ تھا ، چاہتے تو جگہ جگہ نبی پیدا کر سکتے تھے ، مگر ہم نے ایسا نہیں کیا اور دنیا بھر کے لیے ایک ہی نبی مبعوث کر دیا ۔ جس طرح ایک سورج سارے جہان کے لیے کافی ہو رہا ہے اسی طرح یہ اکیلا آفتاب ہدایت ہی سب جہان والوں کے لیے کافی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥١۔ ٥٢:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے ‘ مینہ کے ذکر کے بعد قرآن شریف کا ذکر جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح مینہ کا پانی عام فائدے کے لیے برستا ہے لیکن اس سے فائدہ فقط اچھی زمین کو پہنچتا ہے اور بری زمین میں وہ پانی بالکل رائیگاں جاتا ہے اسی طرح قرآن کی نصیحت اگرچہ عام لوگوں کے فائدے کے لیے ہے لیکن اس نصیحت سے فائدہ فقط ان ہی لوگوں کو پہنچتا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں برے قرار پاچکے ہیں ‘ ان کے حق میں قرآن کی نصیحت اسی طرح رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے ‘ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے اگر اللہ چاہتا تو تم پر سے نبوت کا بوجھ ہلکا کر کے ہر ایک بستی میں خدا رسول بھیج دیتا ‘ لیکن اس صورت میں تمہارا عقبیٰ کا اجر کم ہوجاتا اس لیے تمہارا عقبیٰ کا اجر بڑھانے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے تم کو ہر ایک قوم کا رسول بنایا ہے ‘ تم ان مشرکین مکہ کی کوئی بےہودہ بات نہ مانو اور یہ سمجھ لو کہ ہر ایک بستی میں بھی اگر رسول بھیجا جاتا تو راہ راست پر وہی لوگ آتے جن کا راہ راست پر آنا ‘ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں قرار پاچکا ہے۔ اس لیے اے رسول اللہ کے تم بڑی کوشش سے ان لوگوں کو قرآن کی آیتیں سناتے رہو ‘ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت کئی جگہ گزر چکی ١ ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ میں لوگوں کو کو لیاں بھر بھر کر انہیں دوزخ کی آگ میں گرنے سے روکتا ہوں مگر لوگ کیڑے پتنگوں کی طرح آگ میں گرنے کی جرأت کرتے ہیں ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا کی تعمیل کس طرح مستعدی سے فرماتے تھے کیونکہ ظاہر میں اگرچہ آپ لوگوں کی کو لیاں نہیں بھرتے تھے ‘ لیکن دلی مضبوط ارادہ سے آپ نے اس طرح کی کوشش قرآن کی مخالفت سے روکنے میں کی جس طرح کوئی شخص کسی کی کو لی بھر کر اس کو برے کام سے روکتا ہے ‘ مشرکین مکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کرتے تھے کہ آپ برس دن ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کریں اور ہم برس دن تک اللہ کی عبادت کرلیا کریں گے تو پھر آپ کا اور ہمارا جھگڑا باقی نہ رہے گا ‘ مشرکین کی ایسی باتوں کی طرف التفات نہ کرنے کا مطلب فَلَاتُطِعِ الْکِفٰرِیْنَ سے ادا فرمایا گیا ہے ‘ چناچہ تفصیل اس کی سورة الزمر میں آوے گی۔ (١ ؎ چند صفحے قبل بھی اس کا حوالہ گزر چکا ہے )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:51) لبعثنا۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ بعثناماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ بعث مصدر۔ (باب فتح) ہم نے بھیجا۔ لبعثنا ہم ضرور بھیجتے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

15 ۔ یعنی جب ہم نے بارش کو مختلف شہروں اور ملکوں میں بانٹ دیا ہے تو ایک ایک بستی میں ایک ڈرانے والا بھی بھیج سکتے تھے۔ مگر ہم نے ایسا نہیں کیا کیونکہ اس وقت ہماری حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ سارے جہاں کے لئے صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کو ” منذر “ (خوف کی خبر سنانے والا) بنا کر بھیجا جائے۔ (دیکھئے سورة اعراف آیت :158) حدیث میں ہے : و بعثت الی الناس عامہ کہ میری بعثت سب لوگوں کے لئے ہے۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 60 : لوشئنا (اگر ہم چاہتے) ‘ لبعثنا ( البتہ ہم ضرور بھیجتے) ‘ لا تطع (کہنا مانیئے) جھاد کبیر (زوردار مقابلہ) ‘ مرج ( اس نے ملایا) ‘ البحرین (دودریاؤں کو) ‘ عذب (میٹھا) ‘ فرات (خوش گوار۔ پی کر مزہ آئے) ‘ ملح (کھاری) ‘ اجاج (کڑوا) ‘ حجر (آڑ۔ رکاوٹ) ‘ محجور ( جو خود آڑ میں ہو) ‘ نسب (نسب۔ نسبی رشتے) ‘ صھر (شادی کے رشتے ۔ سسرال) ‘ ظھیر ( سرکش۔ مقابل۔ پشت پناہی کرنے والا) ‘ ما اسئل (میں نہیں مانگتا) ‘ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) ‘ استوی ( وہ برابر ہوا۔ جلوہ گرہوا) ‘ تأ مرنا ( تو ہمیں حکم دیتا ہے) ‘ نفور (نفرت۔ ناگواری) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 : اللہ تعالیٰ نے راہ سے بھٹکے ہوئے انسانوں کو راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر چلانے کے لئے ہر زمانہ اور ہر ملک میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجا ہے جو ساری انسانیت کے خیر خواہ ‘ غم خوار ‘ مخلص ‘ مصلح اور بد اعمالیوں کے برے انجام سے ڈرانے اور نیکیوں پر ابدی جنت اور اس کی راحتوں کے عطا کئے جانے کی خوش خبریاں سنانے آتے ہیں۔ جن کی کوئی دنیاوی غرض اور لالچ نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ کی مخلوق کے لئے دن رات مخلصانہ جدو جہد کرتے رہتے ہیں تاکہ ان کو شیطان کے راستے سے بچا کر رحمن کا بندہ بنادیں۔ تمام نبیوں اور رسولوں کے آخر میں اللہ نے اپنی رحمت خاص سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا آخری نبی بنا کر بھیجا ہے تاکہ ساری انسانیت پر اللہ کے پیغام کی تکمیل ہوجائے اور ان کی امت ان کی لائی ہوئی ہدایت سے قیامت تک ساری انسانیت کی رہنمائی کا فرض سر انجام دیتی رہے۔ انبیائی کرام (علیہ السلام) ہر شخص تک اس پیغام کو پہنچادیتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک پتہ بھی اس وقت تک نہیں ہلتا جب تک اس خالق ومالک اللہ کی طرف سے حکم نہیں آجاتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نرمی اور محبت سے اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیئے اور کسی کی پر ورانہ کیجئے کیونکہ یہ روشنی پھیلنے کے لئے ہے اگر اس میں کوئی رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا ہے تو آپ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیجئے۔ ان ہی باتوں کو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر ہم چاہتے تو آپ کی مدد کے لئے ہر بستی میں ایک مدد گار اور ڈرانے والے کو بھیج دیتے لیکن یہ بات اللہ کی مصلحت کے خلاف ہے۔ اس لئے آپ ان کی کسی بات کو نہ مانیئے ‘ اللہ کا پیغام پہنچاتے رہئیے ‘ اور پوی قوت و طاقت سے کفر و شرک کر ڈٹ کا مقابلہ کیجئے۔ یہ اس اللہ کا دین ہے جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اس کے انتظام کو وہ بغیر کسی کی شراکت کے چلارہا ہے۔ اس نے پوری دنیا کے نظام کو پوری طرح تھام رکھا ہے جو اس کی قدرت کی نشانی ہے ۔ اس نے دودریا بنائے جن میں سے ایک دریا کا پانی میٹھا ہے جس سے انسان اور جانور فائدہ حاصل کرتے اور اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ دوسرا دریا کھارے یا کڑوے پانی کا ہے دونوں دریا اس طرح بہہ رہے ہیں کہ میٹھا اور کھارا پانی آپس میں نہیں ملتا۔ علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں سیکڑوں ایسے مقامات ہیں جہاں دو مختلف پانی بہہ رہے ہیں مگر وہ آپس میں نہیں ملتے اور دونوں دریاؤں کی تمام خصوصیات اپنی جگہ برقراررہتی ہیں۔ فرمایا کہ ان کو سنبھالنے والا کون ہے ؟ اگر اللہ کی قدرت و طاقت نہ ہوتی تو انسان کو میٹھا پانی تک نصیب نہ ہوتا کیونکہ سمندروں اور کھارے پانی کے دریا میٹھے پانی میں اس طرح مل جاتے کہ میٹھے پانی کا وجود تک مٹ جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ خود انسان کا وجود اللہ کی ایک نشانی ہے۔ اللہ نے اسکو ایک معمولی قطرے سے جیتا جاگتا انسان بنا دیا۔ وہ جوان ہو کر شادی کرتا ہے جس سے اس کو سکون ملتا ہے ‘ بیوی ‘ بچے ‘ نسبی اور سسرالی رشتہ داریاں بنتی چلی جاتی ہیں جس سے انسان معاشرہ کا ایک بہترین اور معزز فرد بن کر ابھرتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی قدرت کا ملہ سے ہوتا ہے اس میں انسانی کوششوں کو دخل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہے جس کی عبادت و بندگی کرنی چاہیے مگر بعض ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی قدرت کو جانتے بوجھتے جب اس کے سامنے سر جھکانے اور بندگی کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے حقیقی مالک اللہ کو بھول کغیر اللہ کی عبادت و بندگی کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ وہ ” غیر اللہ “ نہ تو ان کو کوئی نفع پہنچانے کے قابل ہیں اور نہ ان کو کسی طرح کا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ وہ لوگ درحقیقت بتوں کی نہیں بلکہ شیطان کی پیروی کرکے اس کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں وہ شیطان جو انسان کا کھلا ہوا ازلی دشمن ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نہایت وضاحت سے اس بات کا اعلان کردیجئے کہ میں تمہارا مخلص ہوں تاکہ تمہیں خیر خواہی کے ساتھ سیدھے راستے کی ہدایت کروں۔ اس میں میری کوئی ذاتی غرض نہیں ہے میں تم سے دین اسلام کا پیغام پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ نہیں چاہتا۔ میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ سب مل کر اس راستے پر چلیں جو ان کو جہنم سے بچا کر جنت کی راحتوں سے ہم کنار کر دے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ تمام معاملات میں اس اللہ پر بھروسہ کیجئے جو زندہ ہے جس کو موت نہ آئے گی۔ وہی تمام حمد وثنا کا مستحق ہے آپ اسی کی حمد وثناکیجئے۔ وہ اپنے تمام بندوں کے حالات اور خطاؤں کو جاننے کے لئے کافی ہے۔ اللہ وہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں اور ان کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ سب اسی کا ہے۔ اسی نے چھ دن میں اس دنیا کو پیدا کیا اور پھر اس نے نظام کائنات کو خود سنبھال کر بیغر کسی شرکت اور مدد کے وہ خود اس کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جس کو ہر باخبر آدمی اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ اللہ رحمن و رحیم ہے جو تمام عبادتوں کا مستحق ہے۔ لیکن ان کفار کا یہ حال ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ رحمن کو سجدہ کریں تو وہ پوچھتے ہیں کہ یہ رحمن کون ہے ؟ وہ کفار کہتے ہیں کہ کبھی آپ کہتے ہیں کہ اللہ کی عبادت و بندگی کرو اور کبھی کہتے ہیں کہ رحمن کی بندگی کرو کیا آپ کے کئی کئی معبود ہیں اور کیا ہم اسی لئے رہ گئے ہیں کہ آپ جس کی بندگی کرنے کے لئے کہیں ہم اسی کی بندگی شروع کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان عقل کیا ندھوں سے یہ فرمایا ہے کہ اللہ اور رحمن یہ دو ذاتیں نہیں ہیں بلکہ اللہ ایک ہی ذات ہے اور رحمن اس کی سب سے اعلیٰ صفت ہے۔ لیکن ان کفار کا تو یہ عالم ہے کہ جب ان سے اللہ رحمن رحیم کی عبادت و بندگی کے لئے کہا جاتا ہے تو ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ ان کی نفرتوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ ایک اللہ کی عبادت و بندگی اور سجدہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اور تنہا آپ پر تمام کام نہ ڈالتے، لیکن چونکہ آپ کا اجر بڑھانا مقصود ہے، اس لئے ہم نے ایسا نہیں کیا، تو اس طور پر اتنا کام آپ کے سپرد کرنا خدا تعالیٰ کی نعمت ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں دیکھنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت کفر اختیار کرتی ہے۔ حالانکہ انھیں سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں اس قدر واضح اور جامع ہیں کہ اگر انسان ان کی طرف تھوڑی سی توجہ بھی مبذول کرے تو وہ اپنے رب کو پہچان اور ہدایت پاسکتا ہے۔ لیکن انسانوں کی اکثریت حقیقت کی نگاہ سے ” اللہ “ کی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ نشانیاں بتلانے اور دکھلانے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ جنھوں نے اپنی اپنی قوم کو یہ بات بار، بار سمجھنانے کی کوشش کی کہ لوگو ! اپنے رب کی ذات اور اس کے فرمان کا انکار کرنے کی بجائے اس پر ایمان لاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو۔ لیکن لوگوں کی اکثریت نے کفر ہی اختیار کیے رکھا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہر بستی کے لیے ایک رسول مبعوث کرتا جو لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا اور ہے کہ اگر ایک ایک بستی میں رسول مبعوث کردیا جائے تو پھر بھی لوگ کفر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ کے تحت مختلف علاقوں اور زمانوں میں پہ درپہ وقفہ وقفہ کے بعد رسول مبعوث فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے سرور دو عالم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے لیے رسول منتخب فرمایا تاکہ پوری دنیا میں فکری وحدت پیدا ہونے کے ساتھ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام عام ہوجائے۔ لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ لہٰذا اے رسول آپ کو کافروں کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنا جہاد جاری رکھنا چاہیے۔ یہاں جہاد کبیرہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنٰی ہے کفر و شرک کے خلاف ہر جانب سے بھرپور جدوجہد کرنا۔ اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ صرف قتال فی سبیل اللہ کو جہاد قرار دیا ہے بلکہ دین کی سربلندی کے لیے مال اور زبان کے ساتھ کوشش کرنے کو بھی جہاد قرار دیا۔ یہی جہاد اکبر ہے جو ہر حال میں جاری رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی جہاں قتال سے منع کیا گیا تھا جس کی اجازت مدینہ میں دی گئی۔ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَفْضَلُ الْجِہَادِ کَلِمَۃُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَاءِرٍ أَوْ أَمِیرٍ جَاءِرٍ )[ رواہ ابو داؤد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی ] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ افضل ترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلَی بَنِی إِسْرَاءِیلَ کَان الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُولُ یَا ہَذَا اتَّقِ اللَّہِ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّہُ لاَ یَحِلُّ لَکَ ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ فَلاَ یَمْنَعُہُ ذَلِکَ أَنْ یَکُونَ أَکِیلَہُ وَشَرِیبَہُ وَقَعِیدَہُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِکَ ضَرَبَ اللَّہُ قُلُوبَ بَعْضِہِمْ بِبَعْضٍ ثُمَّ قَالَ (لُعِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ بَنِی إِسْرَاءِیلَ عَلَی لِسَانِ دَاوُدَ وَعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ )إِلَی قَوْلِہِ (فَاسِقُونَ ) ثُمَّ قَالَ کَلاَّ وَاللَّہِ لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَی یَدَیِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطُرُنَّہُ عَلَی الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّہُ عَلَی الْحَقِّ قَصْرًا) [ رواہ ابو داؤد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بنی اسرائیل میں نقائص واقع ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان میں سے ایک دوسرے کو برائی کرتے ہوئے دیکھتے تو اسے کہتا اللہ سے ڈرو اور اس گناہ کو چھوڑ دو یہ تیرے لیے جائز نہیں۔ اگلے دن ملتا تو برائی سے نہ روکتا بلکہ اس کے کھانے، پینے اور مجلس میں شریک ہوجاتا۔ جب انہوں نے اس طرح کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے انکے بعض کو بعض پر مسلط کردیا پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی (بنی اسرائیل پر داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم کی زبانی لعنت کی گئی فاسقون تک) پھر فرمایا کہ مجھے اللہ کی قسم تم نیکی کا حکم دیتے رہو گے اور برائی سے روکتے رہو گے اور ظالم کا ہاتھ روکو گے حق کو حق اور ناحق کو ناحق سمجھو گے۔ “ (عَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ حینَ أَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِی الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ أَتَی النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ اِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَدْ أَنْزَلَ فِی الشِّعْرِ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَکَیْفَ تَرَی فیہِ فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاہِدُ بِسَیْفِہِ وَلِسَانِہِ ) [ رواہ احمد : مسند کعب بن مالک ] ” حضرت کعب بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے شعراء کے متعلق یہ آیت نازل کی تو کعب بن مالک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر عرض کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے شاعروں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ہے جس کا آپ کو علم ہے اور آپ کا اس آیت کے بارے میں کیا خیال ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان سے جہاد کرتا ہے۔ “ مسائل ١۔ دین کی سربلندی کے لیے تبلیغ کرنا جہاد کبیرا ہے۔ ٢۔ کفر و شرک کے خلاف ہر طرح کا جہاد کرنا چاہیے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَلَوْ شِءْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَذِیْرًا) (اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک نذیر بھیج دیتے) جس سے آپ کی ذمہ داری کم ہوجاتی ہر نبی اپنی اپنی بستی میں دعوت کا کام کرتا اور آپ صرف ام القریٰ (مکہ معظمہ) یا مزید اس کے آس پاس کی چند بستیوں کی طرف مبعوث ہوتے، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا، آپ کو خاتم النبیین بنایا اور سارے عالم کے انسانوں کی طرف رہتی دنیا تک کے لیے مبعوث فرمایا، یہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر بہت بڑا انعام ہے، اس انعام کی شکر گزاری بھی لازم ہے، اور دعوت الی الحق کا کام جو سپرد کیا گیا ہے اس میں بھی محنت اور کوشش کے ساتھ لگنا ضروری ہے، جب آپ محنت کریں گے تو اہل کفر آپ کو اس کام سے ہٹانے کی کوشش کریں گے، وہ چاہیں گے کہ آپ اپنا کام چھوڑ دیں یا بعض باتوں میں مداہنت اختیار کرلیں، آپ ان کی بات بالکل نہ مانیں بلکہ خوب محنت اور مجاہدہ سے کام لیں، اور زور دار طریقہ پر قرآن کے ذریعہ ان کا مقابلہ کریں، جو خود بہت بڑا معجزہ ہے اور اس میں جو توحید پر دلائل قاہرہ بیان کیے ہیں ان کو پیش کرتے رہئے ان کی طرف سے جو مداہنت اور ترک تبلیغ کی درخواست سامنے آئے اس میں ان کی بات نہ مانئے، اسی کو فرمایا (فَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِہَادًا کَبِیْرًا)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

33:۔ ” ولو شئنا الخ “ یہ تسلی ہے یعنی اگر ہم چاہتے تو تبلیغ رسالت کا کام آپ سے ہلکا کردیتے اور مختلف شہروں میں متعدد انبیاء بھیج دیتے لیکن ہم نے فیصلہ کرلیا کہ اب سارے جہان کی رسالت کا شرف آپ ہی کو عطاء کیا جائے تاکہ آپ رتبہ تمام انبیاء (علیہم السلام) سے اعلیٰ اور آپ کا اجر وثواب سب سے اعظم ہو۔ اس لیے آپ کافروں کی کوئی بات نہ مانیں اور قرآن کے دلائل سے ان کے ساتھ خوب جہاد کریں اور ہر گزس ہمت نہ ہاریں کیونکہ سارے جہان کے ہادی ورہنما آپ ہی ہیں۔ حضرت (رح) تعالیٰ نے فرمایا ” بہ “ کی ضمیر قرآن مجید سے کنایہ ہے بہ ای بالقرآن یعنی بدلائلہ۔ یعنی قرآن کی دعوت اور اس کے دلائل کو خوب واضح کر کے ان تک پہنچائیں ” وجاھد ھم بہ ای بالقرآن (خازن ج 5 ص 86) ۔ لما علم تعالیٰ ما کا بدہ الرسول من اذی قومہ اعلمہ انہ تعالیٰ لو اراد لبعث فی کل قریۃ نذیرا فیخف عنک الامر ولکنہ اعظم اجرک واجلک اذ جعل انذارک عاما للناس کلھم و خصک بذلک لیکثر ثوابک الک (بحر ج 6 ص 506) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(51) اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ایک پیغمبر بھیج دیتے یعنی آپکی امداد کے لئے آپ کے زمانے میں ہر بستی کے لئے ایک ایک ڈرانے والا بھیج دیتے لیکن ہم نے آپ کے اجر اور تبلیغ کا بلند مرتبہ عنایت کرنے کی غرض سے ایسا نہیں کیا تاکہ آپ کا اجر اور آپ کا مرتبہ بلند ہو۔