Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 77

سورة الفرقان

قُلۡ مَا یَعۡبَؤُا بِکُمۡ رَبِّیۡ لَوۡ لَا دُعَآؤُکُمۡ ۚ فَقَدۡ کَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ یَکُوۡنُ لِزَامًا ﴿۷۷﴾٪  4 الرّبع

Say, "What would my Lord care for you if not for your supplication?" For you [disbelievers] have denied, so your denial is going to be adherent.

کہہ دیجئے! اگر تمہاری دعا التجا ( پکارنا ) نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری مطلق پرواہ نہ کرتا تم تو جھٹلا چکے اب عنقریب اس کی سزا تمہیں چمٹ جانے والی ہوگی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ مَا يَعْبَأُ بِكُمْ رَبِّي لَوْلاَ دُعَاوُكُمْ ... Say: "My Lord pays attention to you only because of your invocation to Him..." meaning, He would not care to pay attention to you if you did not worship Him, for He only created mankind to worship Him Alone and to glorify Him morning and evening. His saying: ... فَقَدْ كَذَّبْتُمْ ... But now you have indeed denied. "O you disbelievers." ... فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا So the torment will be yours forever. So your denial will remain with you forever, i.e., it will lead to your punishment, doom and destruction in this world and the Hereafter. This also refers to the day of Badr, as it was interpreted by Abdullah bin Mas`ud, Ubayy bin Ka`b, Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi, Mujahid, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi and others. ... فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا So the torment will be yours forever. Al-Hasan Al-Basri said: "The Day of Resurrection." And there is no conflict between the two interpretations. This is the end of the Tafsir of Surah Al-Furqan, all praise and thanks are due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

771دعا والتجا کا مطلب، اللہ کو پکارنا اور اس کی عبادت کرنا اور مطلب یہ ہے کہ تمہارا مقصد تخلیق اللہ کی عبادت ہے، اگر یہ نہ ہو تو اللہ کو تمہاری کوئی پرواہ نہ ہو۔ یعنی اللہ کے ہاں انسان کی قدر و قیمت، اس کے اللہ پر ایمان لانے اور اس کی عبادت کرنے کی وجہ سے ہے۔ 772اس میں کافروں سے خطاب ہے کہ تم نے اللہ کو جھٹلا دیا، سو اب اس کی سزا بھی لازماً تمہیں چکھنی ہے۔ چناچہ دنیا میں یہ سزا بدر میں شکست کی صورت میں انھیں ملی اور آخرت میں جہنم کے دائمی عذاب سے بھی انھیں دو چار ہونا پڑے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٥] یعنی اگر تم اللہ کو پکارو گے اس کی عبادت کرو گے اس کے حضور توبہ استغفار کرو گے اس سے اپنی حاجتیں طلب کرو گے تو اس میں تمہارا اپنا ہی بھلا ہے۔ اور اگر تم ان باتوں میں بےنیازی کا مظاہرہ کرو گے تو اللہ کی کوئی ضرورت تمہاری پکار اور دعا یا عبادت نہ کرنے کی وجہ سے اٹکی ہوئی نہیں ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث قدسی ملاحظہ فرمائیے۔ && حضرت ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : && اے میرے بندو ! تم نہ میرا کچھ نقصان کرسکتے ہوں اور نہ مجھے کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہو۔ اگر تمہارے اگلے اور پچھلے اور آدمی اور جن سب ایسے ہوجائیں جیسے تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار بخش ہے تو اس سے میری سلطنت میں کچھ افزائش نہ ہوگی۔ اور اگر تمہارے اگلے پچھلے اور آدمی اور جن سب ایسے ہوجائیں جیسے تم میں کوئی سب سے زیادہ بدکردار ہے تو بھی میری سلطنت میں کچھ کمی واقع نہ ہوگی۔ اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے اور آدمی اور جن سب ایک میدان میں جمع ہو کر مجھ سے مانگنا شروع کردیں اور میں ہر ایک کو وہی کچھ دیتا جاؤں جو کچھ اس نے مانگا ہے تو جو کچھ میرے پاس ہے اس میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔ مگر اتنا جیسے سمندر میں سوئی کو ڈبو کر نکال لیا جاتا ہے۔ اے میرے بندو ! یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے شمار کرتا رہتا ہوں۔ پھر تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ سو جس کو اچھا بدلہ ملا اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرنا چاہئے اور جسے بڑا بدلہ ملے تو اسے اپنے آپ ہی کو ملامت کرنا چاہئے && ( مسلم۔ کتاب البرو الصلہ ن باب تحریم التکلم)] ٩٦] اس آیت کے مخاطب قریش مکہ ہیں۔ جنہوں نے اللہ کے رسول کو بھی جھٹلایا اور اس کی آیات کو بھی۔ اس تکذیب کا انجام ان کے گلے کا ہار بن گیا۔ ان پر اللہ کی گرفت کا آغاز غزوہ بدر سے ہوا۔ اور اس گرفت میں دم بدم اضافہ ہی ہوتا گیا حتیٰ کہ جب مکہ فتح ہوا تو انھیں اپنی جان کے لالے پڑگئے۔ اور جزیرہ عرب سے کفر و شرک یا کافروں اور مشرکوں کا نام و نشان تک مٹ گیا اور ان میں سے وہی زندہ رہے جنہوں نے اسلام کی آغوش میں پناہ لے لی۔ اس آیت سے ایک گمراہ فرقہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کے لئے جزا و سزا کے جو قانون مقرر کر رکھے ہیں۔ وہ لابدی ہیں اور ان میں کسی طرح کا تخلف نہیں ہوسکتا۔ اس سلسلہ میں ان کی گمراہی یہ نہیں کہ انہوں نے اس آیت سے غلط نتیجہ نکالا ہے بلکہ گمراہی یہ ہے کہ انہوں نے صرف اس آیت یا اس جیسی ہی دوسری آیات کو مدنظر رکھا ہے۔ اور وہ آیات جن میں اللہ کی مغفرت اور رحمت کا ذکر ہے۔ ان کو پس انداز کردیا ہے۔ اللہ کے عدل کا تقاضا صرف یہ ہے کہ کسی ظالم کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہ دے اور کسی محسن کو اس کی نیکی کے برابر جزا ضرور دے۔ اس سے کم نہ دے۔ اور اللہ کا غفور اور رحیم ہونا عدل کے منافی نہیں بلکہ اس سے بلند تر صفت ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محسن کو اس کی نیکی کے تناسب سے بہت زیادہ بدلہ دے دے یا کسی ظالم کو کسی مصلحت کی بنا پر معاف کردے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ :” مَا “ یہاں نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور استفہامیہ بھی، یعنی میرا رب تمہاری پروا نہیں کرتا، یا میرا رب تمہاری کیا پروا کرے گا ؟ ” میرا رب “ اس لیے فرمایا کہ خطاب کفار سے ہے، جو کما حقہ اسے رب نہیں مانتے۔ لَوْلَا دُعَاۗؤُكُمْ : یہ خطاب کفار سے ہے، کیونکہ آگے فرمایا ہے : ( فَقَدْ كَذَّبْتُمْ ) ” سو بیشک تم نے جھٹلا دیا۔ “ ” دُعَاۗؤُكُمْ “ کا معنی ابن عباس (رض) نے ”إِیْمَانُکُمْ “ کیا ہے۔ [ طبري بطریق علي بن أبي طلحۃ و ذکرہ البخاري ] یعنی میرا رب تمہیں مہلت اس لیے دے رہا ہے کہ تم اس پر ایمان لے آؤ، اس کی عبادت کرو اور اس سے دعا کرو، کیونکہ اس نے جنّ و انس کو پیدا ہی اپنی عبادت کے لیے کیا ہے، سو اگر تم ایمان لا کر اس کی عبادت نہ کرو اور اس کے حضور دعائیں نہ کرو تو اسے تمہاری کچھ پروا نہیں ہے۔ ایک تفسیر اس کی یہ بھی ہے کہ کفار بھی شدید مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے ان کی التجا سن کر مصیبت دور بھی کردیتا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (٤٠، ٤١) ، یونس (٢٢) ، عنکبوت (٦٥) ، روم (٣٣) اور لقمان (٣٢) فرمایا، اللہ تعالیٰ جو تمہیں مہلت دے رہا ہے اور تمہاری پکار پر مشکلات بھی دور کردیتا ہے، یہ صرف تمہارے اس کو پکارنے کی وجہ سے ہے، اس کے باوجود تم نے جھٹلا دیا ہے تو سن لو کہ اس کا عذاب تمہیں پہنچ کر رہے گا۔ چناچہ دنیا ہی میں جنگ بدر اور دوسرے موقعوں پر انھوں نے وہ عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور قیامت بھی کچھ دور نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

قُلْ مَا يَعْبَأُ بِكُمْ رَ‌بِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (Say (0 Prophet) My Lord will never care about you, if you will not invoke Him - 25:77). Different versions are given in the interpretation of this verse, but the one given in the text above is the simplest and straight forward; that is you would have no value or importance before God if you do not call Him and pray to Him. It is because the very purpose of man&s creation is that he should worship Allah as mentioned in the verse وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (I have not created Jinn and mankind except to worship Me - 51:56). After declaring the principle that man has no value and importance without worship, the infidels and disbelievers are addressed: فَقَدْ كَذَّبْتُمْ that is |"since you have belied (the truth) |" you are of no consequence before Him.|" فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا (the punishment will be inseparable from you - 77). That is now this rejection and disbelief have become an integral part of your being and will keep clinging to you until you are thrown in the Fire of Hell forever. Al-hamdulillah The Commentary on Surah AI-Furqan Ends here.

قُلْ مَا يَعْبَؤ ُ ا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْلَا دُعَاۗؤ ُ كُمْ ، اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں زیادہ واضح اور سہل وہ ہے جس کو خلاصہ تفسیر میں اوپر لکھا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک تمہاری کوئی وقعت و حیثیت نہ ہوتی اگر تمہاری طرف سے اللہ کو پکارنا اور اس کی عبادت کرنا نہ ہوتا۔ کیونکہ انسان کی تخلیق کا منشاء ہی یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے جیسے دوسری آیت میں ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ، یعنی میں نے انسان اور جن کو اور کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا بجز اس کے کہ وہ میری عبادت کریں۔ یہ تو ایک عام ضابطہ بیان ہوا کہ بغیر عبادت کے انسان کی کوئی قدر و قیمت اور وقعت و حیثیت نہیں ہے اس کے بعد کفار و مشرکین جو رسالت اور عبادت ہی کے منکر ہیں ان کو خطاب ہے فَقَدْ كَذَّبْتُمْ ، یعنی تم نے تو سب چیزوں کو جھٹلا ہی دیا ہے اب تمہاری کوئی وقعت اللہ کے نزدیک نہیں فَسَوْفَ يَكُوْنُ لِزَامًا یعنی اب یہ تکذیب و کفر تمہارے گلے کا ہار بن چکے ہیں اور تمہارے ساتھ لگے رہیں گے یہاں تک کہ جہنم کے دائمی عذاب میں مبتلا کر کے چھوڑیں گے۔ ونعوذ باللہ من حال اہل النار۔ تم بحمد اللہ سبحانہ تفسیر سورة الفرقان یوم الاحد الثالث عشر من صفر المظفر 1391 ھ وباتمامہ تم بعون اللہ وکرمہ الحزب الرابع من الاحزاب السبعۃ القرانیہ واللہ سبحانہ وتعالی ارجو و اسال اتمام الباقی وما ذلک علی اللہ بعزیز۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْلَا دُعَاۗؤُكُمْ۝ ٠ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُوْنُ لِزَامًا۝ ٧٧ۧ عبأ ما عَبَأْتُ به، أي : لم أبال به، وأصله من العَبْءِ ، أي : الثّقل، كأنه قال : ما أرى له وزنا وقدرا . قال تعالی: قُلْ ما يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي[ الفرقان/ 77] ، وقیل أصله من : عَبَأْتُ الطّيبَ ، كأنه قيل : ما يبقيكم لولا دعاؤكم، وقیل : عَبَأْتُ الجیشُ ، وعَبَّأْتُهُ : هيّئته، وعَبْأَةُ الجاهليّةِ : ما هي مدّخرة في أنفسهم من حميّتهم المذکورة في قوله : فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجاهِلِيَّةِ [ الفتح/ 26] ( ع ب آ) ماعبات بہ ۔ مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں اصل میں العب کے معنی ثقل اور بوجھ کے ہیں لہذا ماعبات بہ کے معنی ہوں گے میرے نزدیک اس کا کوئی وزن نہیں یا میری نگاہ میں اس کی کچھ بھی قدروقیمت نہیں قرآن پاک میں ہے : قُلْ ما يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي[ الفرقان/ 77] کہہ دو کہ میرے پروردگار گی نگاہوں میں تمہاری کچھ بھی قدر و قیمت نہیں ۔ بعض کے نزدیک آیت کریمہ میں یعبوآ کا لفظ عبات الطیب کے محاورہ ہے مشتق ہے جس کے معنی ہیں میں نے خوشبو کو باقی رکھا ، پس آیت کے معنی یہ ہیں ۔ اگر تم اللہ کو پکارتے نہ ہوتے تو اللہ تمہیں باقی نہ چھوڑتا۔ ، ، عبات الجیش عباتہ میں نے لشکر کو تیار کیا عباۃ الجاھلیۃ زمانہ جاہلیت کی نخوت جوان کے دلوں میں رچ چکی تھی اور جسے قرآن نے آیت : فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجاهِلِيَّةِ [ الفتح/ 26] ان کے دلوں میں زمانہ جاہلیت کی سی حمیت ہی۔ میں زمانہ جاہلیت کی سی حمیت سے تعبیر کیا ہے ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے لزم لُزُومُ الشیء : طول مكثه، ومنه يقال : لَزِمَهُيَلْزَمُهُ لُزُوماً ، والْإِلْزَامُ ضربان : إلزام بالتّسخیر من اللہ تعالی، أو من الإنسان، وإلزام بالحکم والأمر . نحو قوله : أَنُلْزِمُكُمُوها وَأَنْتُمْ لَها كارِهُونَ [هود/ 28] ( ل ز م ) لزمہ یلزمہ لزوما کے معنی کسی چیز کا عرصہ دراز تک ایک جگہ پر ٹھہرے رہنا کے ہیں ۔ اور الزام ( افعال ) دوقسم پر ہے ایک تو الزام بالتسخیر ہے اسکی نسبت اللہ تعالیٰ اور انسان دونوں کی طرف ہوسکتی ہے اور دوسرے الزام بالحکم والامر یعنی کسی چیز کو حکما واجب کردینا جیسے فرمایا : أَنُلْزِمُكُمُوها وَأَنْتُمْ لَها كارِهُونَ [هود/ 28] تو کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں ۔ اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہورہے ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : (قل ما یعبو بکم ربی لولا دعاء کم) ان سے کہو ” میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو۔ “ مجاہد کا قول ہے : ” میرے رب کو تمہاری کیا ضرورت ہے جبکہ وہ تمہارا محتاج نہیں ہے “۔ اگر اس کی طرف سے تمہیں اس کی اطاعت کی دعوت نہ دی جاتی تو اس کا فائدہ تم ضرور حاصل کرتے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٧) پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ اگر تم اس کی عبادت نہیں کرو گے تو میرا پروردگار تمہارے جسموں اور صورتوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرے گا جب کہ اس نے تمہیں توحید و عبادت کا حکم دیا ہے تو تم تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کو جھوٹا سمجھتے ہو تو عنقریب یہ چیز تمہارے لیے وبال جان ہو کر رہے گی، چناچہ غزوہ بدر میں ضرب قتل اور قید کا عذاب نازل ہوا یعنی تم نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلایا تو یہ عذاب تم پر لازم ہو کر رہے گا یہ اللہ کی طرف سے وعید ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٧ (قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآؤُکُمْ ج) ” بنی نوع انسان کو راہ ہدایت دکھانے اور اس سلسلے میں ان پر اتمام حجت کرنے کا کام اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اس قانون کی وضاحت سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے : (وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ) کہ ہم کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتے جب تک ان کے درمیان رسول مبعوث نہ کردیں۔ اسی حوالے سے یہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہلوایا جا رہا ہے کہ تم لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانا اور حق کی دعوت دینا مشیت الٰہی کے تحت ضروری نہ ہوتا تو میرے رب کو تم لوگوں کی کچھ بھی پروا نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی ضرورت اور قانون کے تحت تمہاری طرف مبعوث فرما کر مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ میں اس کا پیغام تم لوگوں تک پہنچاؤں۔ اس کے لیے میں سالہا سال سے تمہارے پیچھے خود کو ہلکان کر رہا ہوں۔ گلیوں اور بازاروں میں تمہارے پیچھے پیچھے پھرتا ہوں ‘ تمہارے گھروں میں جا کر تم لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچاتا ہوں۔ خفیہ اور علانیہ ہر طرح سے تم لوگوں کو سمجھاتا ہوں۔ تم لوگ اس سے کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ اس میں میری کوئی ذاتی غرض ہے یا تمہارے بغیر میرے رب کا کوئی کام ادھورا پڑا ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میرے رب کے حضور تمہاری حیثیت پرکاہ کے برابر بھی نہیں۔ اگر اللہ کو تمہیں راہ ہدایت دکھا کر اتمام حجت کرنا منظور نہ ہوتا ‘ اور اس کے لیے میرا تمہیں مخاطب کرنا نا گزیر نہ ہوتا تو میں ہرگز تمہارے پیچھے پیچھے نہ پھرتا۔ (فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا ) ” یعنی تمہارے اس انکار کی پاداش میں تم لوگوں کو سزا مل کر رہے گی۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :96 یعنی اگر تم اللہ سے دعائیں نہ مانگو ، اور اس کی عبادت نہ کرو ، اور اپنی حاجات کے لیے اس کو مدد کے لیے نہ پکارو ، تو پھر تمہارا کوئی وزن بھی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ پر کاہ کے برابر بھی تمہاری پروا کرے ۔ محض مخلوق ہونے کی حیثیت سے تم میں اور پتھروں میں کوئی فرق نہیں ۔ تم سے اللہ کی کوئی حاجت اٹکی ہوئی نہیں ہے کہ تم بندگی نہ کرو گے تو اس کا کوئی کام رکا رہ جائے گا ۔ اس کی نگاہ التفات کو جو چیز تمہاری طرف مائل کرتی ہے وہ تمہارا اس کی طرف ہاتھ پھیلانا اور اس سے دعائیں مانگنا ہی ہے ۔ یہ کام نہ کرو گے تو کوڑے کرکٹ کی طرح پھینک دیے جاؤ گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

30: یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے رجوع نہ کرتے، اور اس کی عبادت سے روگردانی کرتے تو اللہ تعالیٰ کو بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں تھی، لیکن جو لوگ اس کی عبادت کرتے ہیں اور جن کے نیک کاموں کا اوپر بیان کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے بہتر انجام کا کفیل ہے، پھر آگے کافروں سے خطاب ہے کہ جب تمہیں یہ اصول معلوم ہوگیا، اور تم نے حق کو جھٹلانے کی روش اختیار کر رکھی ہے تو تمہارا وہ انجام نہیں ہوسکتا جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا ہوتا ہے۔ تمہارا یہ طرز عمل تمہارے گلے پڑے گا، اور آخرت کے عذاب کی شکل میں تم سے اس طرح چمٹ جائے گا کہ اس سے خلاصی ممکن نہیں ہوگی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:77) قل۔ امر کا خطاب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطاب کن سے ہے اس کے متعلق 2 اقوال ہیں :۔ (1) اس کا اطلاق عوام الناس پر ہے۔ (2) اس کا اطلاق مشرکین و کفار پر ہے۔ خصوصا قریش مکہ۔ ما یعبؤابکم ربی : ما یعبؤا مضارع منفی واحد مذکر غائب عبؤ مصدر (باب فتح) عبا یعبؤا۔ عبا مادہ۔ ما عبات بہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ العب کے معنی ثقل۔ بوجھ۔ خواہ کسی بھی شے کا ہو اس کی جمع اعباء ہے لہٰذا ماعبات بہ کے معنی ہوں گے میرے نزدیک اس کا کوئی وزن نہیں ہے۔ یا میری نگاہ میں اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس کا ترجمہ ہوا۔ میرے پروردگار کی نگاہوں میں تمہاری کچھ بھی قدروقیمت نہیں ہے۔ ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا کیا پرواہ ہے تمہاری میرے رب کو ۔ لولا دعاء کم۔ اس کی دوصورتیں ہیں :۔ (1) لولا دعاؤکم ایاہ۔ تمہاری اللہ تعالیٰ سے پکار یا اس کی عبادت۔ (2) لولا دعاء ہ ایاکم۔ اس کی (اپنے نبی کی معرفت) تمہارے لئے (اپنی توحید کی طرف) دعوت۔ قد کذبتم۔ ماضی قریب جمع مذکر حاضر۔ تم جھٹلا چکے ہو۔ تم نے انکار کردیا ہے۔ تم نے جھٹلا دیا ہے۔ سوف۔ عنقریب۔ جلد۔ سوف حرف ہے جو افعال مضارع کو مستقبل کے ساتھ خاص کرکے حال سے علیحدہ کردیتا ہے۔ لزاما۔ صیغہ صفر، ہمیشہ ساتھ رہنے والا۔ چمٹ جانے والا۔ سبۃ لزام نہ چھوٹنے والی عار، چمٹی رہنے والی ننگ۔ لازم اسم فاعل۔ چمٹا رہنے والا ۔ واجب لزمہ الحق اس پر حق واجب ہوگیا۔ الزام (افعال) چمٹا دینا جیسے انلزمکموھا (11:28) کیا ہم اس کو تم پر چمٹا دیں والزمہم کلمۃ التقوی (47:26) اور اللہ نے ان پر کلمہ توحید واجب کردیا۔ فسوف یکون لزاما : ای فسوف یکون جزاء تکذیبکم ملازما لکم عنقریب تمہاری تکذیب کی سزاء تم کو چمٹ جائے گی۔ اگر یہ خطاب کفار سے ہو تو مطلب ظاہر ہے کہ کفار مکہ نے دعوت توحید سے انکار کیا اور اللہ کے رسول کی تکذیب کی اور جلدہی اس کا عذاب جنگ بدر کی ہزیمت کی صورت میں ان کے گلے کا ہار بن گیا۔ اور بمصداق قولہ تعالیٰ ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر (32:21) ہم انہیں قریب کا عذاب بھی علاوہ اس بڑے عذاب کے چکھا کر رہیں گے۔ بدر کی شکست اس زندگی میں ہمیشہ کے لئے ان کے لئے سوہان روح بن گئی اور موت کے بعد روز قیامت اس سے بھی بڑا عذاب ان کا مقدر ٹھہرا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

3 ۔ یعنی اگر تم ایمان لا کر اس کی عبادت نہ کرو اور اس کے حضور دعائیں نہ کرو تو اسے ایک پرکاہ کے برابر بھی تمہاری پروا نہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی بندہ مغرور نہ ہو خاوند (خداوند) کو اس کی کیا پروا۔ مگر اس کی التجا پر رحم کرتا ہے۔ (موضح) 4 ۔ چاہے دنیا میں چاہے آخرت میں اور چاہے دونوں جگہ، چانچہ قریش نے… جن سے آیت کا خطاب ہے… آخرت کے علاوہ ” بدر “ کے روز یہ وبال دیکھ لیا۔ اس لئے جمہور مفسرین نے یہاں ” لزام “ سے ” بدر “ کے دن کا عذاب مراد لیا ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ خواہ دنیا میں جیسے واقعہ بدر میں کفار پر مصیبت آئی یا آخرت میں اور وہ ظاہر ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عباد الرّحمن کے اوصاف اور ان کے اجر وثواب کا ذکر کرنے کے بعد نافرمان لوگوں سے بیزاری کا اعلان۔ سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بےمثال اور لازوال قدرت کے بار بار ناقابل تردید دلائل دئیے ہیں۔ اس کے بعد اپنے بندوں کے اوصاف کا تذکرہ کیا، پھر ان کی دعاؤں اور بہترین انجام کا ذکر فرمایا ہے۔ جس میں کفار، مشرکین اور نافرمانوں کے لیے نصیحت ہے اے لوگو ! اگر تم اپنے رب کی توحید کا اقرار، نبی آخر الزماں پر ایمان اور صالح کردار اختیار کرو۔ تو تم بھی الرّحمنکے بندے بن جاؤ گے اور اس کے انعامات کے حق دار ٹھہرو گے۔ جس سے تمہاری دنیا بھی بہتر ہوگی اور آخرت بھی سنور جائے گی۔ اگر تم اپنی اصلاح کرنے اور الرّحمنکی مہربانیوں سے سرفراز نہیں ہونا چاہتے تو تمہاری مرضی۔ لیکن یاد رکھنا تمہارے کفر و شرک اور نافرمانیوں کی ” اللہ “ کو کوئی پروا نہیں۔ اے نبی اس بےنیاز ” اللہ “ کی طرف سے یہ اعلان فرماؤ کہ اگر تم اس کی ذات اور بات کی تکذیب کرتے ہو تو پھر عنقریب تمہیں ہر صورت سزا سے دو چار ہونا پڑے گا۔ (عَنْ أَبِی ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِیمَا رَوَی عَنِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّہُ قَالَ یَا عِبَادِی إِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِی وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلاَ تَظَالَمُوا یَا عِبَادِی کُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلاَّ مَنْ ہَدَیْتُہُ فَاسْتَہْدُونِی أَہْدِکُمْ یَا عِبَادِی کُلُّکُمْ جَاءِعٌ إِلاَّ مَنْ أَطْعَمْتُہُ فَاسْتَطْعِمُونِی أُطْعِمْکُمْ یَا عِبَادِی کُلُّکُمْ عَارٍ إِلاَّ مَنْ کَسَوْتُہُ فَاسْتَکْسُونِی أَکْسُکُمْ یَا عِبَادِی إِنَّکُمْ تُخْطِءُون باللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا فَاسْتَغْفِرُونِی أَغْفِرْ لَکُمْ یَا عِبَادِی إِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّی فَتَضُرُّونِی وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِی فَتَنْفَعُونِی یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِی مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ یَا عِبَادِی إِنَّمَا ہِیَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِیہَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّیکُمْ إِیَّاہَا فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللَّہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلاَ یَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَہُ قَالَ سَعِیدٌ کَانَ أَبُو إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیُّ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ جَثَا عَلَی رُکْبَتَیْہِ ) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم ] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندو ! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جس کو میں ہدایت سے سرفراز کروں۔ بس تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا ‘ تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جس کو میں کھلاؤں۔ پس تم مجھ سے مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو ! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں پہناؤں۔ پس تم مجھ سے پہناوا طلب کرو۔ میں تمہیں پہناؤں گا۔ میرے بندو ! تم رات دن گناہ کرتے ہو ‘ میں تمام گناہوں کو بخش دینے والا ہوں۔ مجھ سے بخشش طلب کرو ‘ میں تمہیں بخش دوں گا۔ میرے بندو ! تم مجھے نقصان اور نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میرے بندو ! تمہارے تمام اگلے پچھلے ‘ جن وانس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے جن وانس بدترین فاسق وفاجر انسان کی طرح ہوجائیں تو یہ میری حکومت میں کوئی نقص واقع نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے ‘ جن وانس اگر سب کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں پھر وہ مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر کسی کی منہ مانگی مرادیں پوری کر دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کو کفر و شرک اور کسی کی نافرمانی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ٢۔ اللہ اور اس کے رسول کی بات جھٹلانے والوں کو ہر صورت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے مجرموں کو کوئی نہیں بچا سکتا۔ ١۔ ” اللہ “ کا عذاب برحق ہے اور تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ (یونس : ٥٣) ٢۔ کفار کے چہروں پر ذلّت چھا جائے گی انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (یونس : ٢٧) ٣۔ اس دن وہ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے اللہ کی پکڑ سے انہیں کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (المومن : ٣٣) ٤۔ اگر اللہ کسی کو تکلیف دے تو کون ہے جو اسے اس سے بچا سکے۔ (الاحزاب : ١٧) ٥۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو فرمایا آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (ہود : ٤٣) ٦۔ جسے اللہ رسوا کرے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ (الحج : ١٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل ما یعبواء بکم ……الزماً (٧٧) الربع یہ ایک خاتمہ کلام ہے جو پوری سورت کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس پوری سورت کا عمود یہ ہے کہ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے ۔ لوگوں کے انکار اور منہ موڑنے کی وجہ سے آپ کے دل پر جو غبار تھا ، اسے دور کرنا اس سورت کا ہدف ہے کیونکہ وہ لوگ مقام محمدی کو جانتے ہوئے انکار پر تل گئے تھے اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ جو زیادہ تکلیف دہ بات تھی۔ اس لئے یہاں بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی حیثیت کیا ہے ؟ یہ پوری انسانیت اللہ کے نزدیک پر کا ہ کے برابر نہیں ہے۔ اللہ کے ہاں انسانیت کا احترام اور رعایت تو اللہ کے ایسے بندوں کی وجہ سی ہے جن کی صفائی گنوائی گئیں۔ جو ہر وقت اللہ کو پکارتے ہیں اور عاجزی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی کیا حیثت ہے ؟ پوری انسانی آبادی کی کیا حیثیت ہے ؟ اور پھر اس پوری زمین کی کیا حیثیت ہے ؟ اللہ کی کائنات میں تو یہ ایک ذرے کے برابر ہے اور انسانیت ایسی ہی ہے جس طرح اس دنیا میں کوئی زندہ مخلوق (مثلاً مچھر) رہی اس زین کی اقوام میں سے کوئی ایک قوم تو اس کی گزشتہ رفتہ نسلیں اور آنے والی سب نسکین کیا ہیں ؟ بس اللہ کی کتاب کائنات کے چند صفحات اور اس کتاب کائنات کے باقی صفحات تو ان کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ اور انسان ، اپنی اس بےبضاعتی اور اپنی اس بےقدری کے باوجود پھولات ہے اور پھولتا رہتا ہے اور اپنے آپ کو بڑی شے سمجھتا ہے۔ پھر یہ سرکش ہوجاتا ہے۔ پھر اس قدر سرکش کہ یہ اپنے خالق کی جناب میں گستاخی کرنے لگتا ہے۔ حالانکہ یہ کوئی چیز ہی نہیں ہے ، اللہ کیمقابلے میں ضعیف تر اور پر تقصیرات۔ ہاں اس کی قوت کا سرچشمہ صرف اللہ ہے۔ اللہ سیجڑ کر انسان کچھ چیز بن سکتا ہے اور شمار میں آسکتا ہے۔ راہ ہدایت بھی پا سکتا ہے۔ یہ راہ ہدایت پالے اور اللہ سے جڑ جائے تو پھر اللہ کے ترازو میں اس کا وزنہو جاتا ہے۔ بلکہ اللہ کے ترازوں میں فرشتوں سے بھی بھاری ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے انسان کو جو خصلت دی ، فرشتوں کو جو حکم دیا کہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائو ، یہ اس لئے کہ انسان اللہ کو پہچان لے ، اس تک رسائی حاصل کرے ، اس کا بندہ بن جائے ، صرف اسی طرح وہ اپنے خصائص وصفات اور علامات و نشانات کو قائم رکھ سکتا ہے جن کی وجہ سے اسے فرشتوں پر فضیلت دی گئی تھی اور جس کی وجہ سے فرشتوں نے اس کے سامنے سجدہ کیا تھا ورنہ وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے بغیر اگر پوری انسانیت کو اللہ کے ترازو میں رکھ دیا جائے تو وہ ایک مچھر کے برابر بھی نہ ہوگی۔ اللہ کے ترازو اور میزان میں ، یہ زمین تو ایک ذرہ ہے۔ قل ما یعبوء بکم ربی لو لا دعآئو کم (٢٥ : ٨٨) ” اے نبی لوگوں سے کہو ، میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو۔ “ یہ انداز کلام ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے بہت بڑا سہارا ہے۔ کہا جاتا ہے لوگو ، اگر تم نہیں مانتے ہو تو تمہاری کیا حیثیت رہ جاتی ہے اور اگر تم اللہ کے بندوں میں شامل نہیں ہوتے تو تم کچھ بھی نہیں ہو۔ تم تو جہنم کا ایندھن بنو گے۔ فقد کذبتم فسوف یکون لزاماً (٢٥ : ٨٨) ” اب جبکہ تم نے جھٹلا دیا ہے تو عنقریب وہ سزا پائو گے کہ جان چھڑانی محال ہوگی۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مومنین مخلصین کا انعام و اکرام بتانے کے بعد فرمایا کہ (قُلْ مَا یَعْبَاُبِکُمْ رَبِّیْ لَوْلاَ دُعَاؤُکُمْ ) (آپ فرما دیجیے کہ میرا رب تمہاری پرواہ نہ کرتا اگر تمہارا پکارنا نہ ہوتا) مفسرین کرام نے اس کے متعدد مفاہیم بتائے ہیں جن میں سے ایک مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو تم جو اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہو اور اس کی عبادت کرتے ہو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری قدر و قیمت ہے اگر تم اس کی عبادت نہ کرتے تو تمہاری کوئی قدر و قیمت نہ تھی ای لو لا دعائکم لما اعددت بکم و ھذا بیان لحال المومنین من المخاطبین۔ (روح المعانی) (فَقَدْ کَذَّبْتُمْ ) (سواے کافر و تم نے تکذیب کی) (فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا) (سو عنقریب تمہیں سزا چپک کر رہے گی) یعنی تم پر اس کا وبال ضرور پڑے گا جو دوزخ کی آگ میں داخل ہونے کی صورت میں سامنے آجائے گا۔ عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ لزام سے کفار قریش کا غزوہ بدر میں مقتول ہونا مراد ہے۔ ولقد تم تفسیر سورة الفرقان بحمدہ سبحانہ و تعالیٰ فی الاسبوع الاخیر من شھر صفر الخیر ١٤١٦ ھ والحمد اللہ رب العالمین و الصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین و علی آلہ و اصحابہ اجمعین و من تبعھم باحسان الی یوم الدین

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

50:۔ ” قل ما یعبؤا بکم الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے اور خطاب مشرکین مکہ سے ہے۔ بکم میں باء تعدیہ کیلئے ہے۔ ربی، یعبؤا کا فاعل ہے۔ دعاء کم مصدر مفعول کی طرف مضاف ہے اور فاعل اللہ ہے اور لولا کا جواب محذوف ہے ای لعذبکم۔ اصل عبادت اس طرح ہوگی۔ لو لا دعاء اللہ ایاکم لعذبکم۔ یعنی میرے پیغمبر آپ فرما دیں میرے رب کو تمہاری پروا نہیں اگر تمہیں اللہ کی طرف سے توحید کی دعوت نہ ہوتی تو تمہیں عذاب سے جلد ہلاک کردیا جاتا لیکن اللہ کی سنت جاریہ یہ ہے کہ تبلیغ دعوت سے پہلے وہ کسی کو نہیں پکڑتا۔ جیسا کہ ارشاد ہے ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “ یا ” ما یعبؤا بکم ربی “ لولا کا جواب ہے جیسا کہ امام نسفی، ابو السعود اور دیگر مفسرین کی تاویل سے مفہوم ہوتا ہے۔ ما یصنع بکم ربی لولا دعاءہ ایاکم الی الاسلام (مدارک، ابو السعود وغیرہما) ۔ ” فقد کذبتم الخ “ لیکن اب تمہیں دعوت توحید پہنچ چکی اور تم اس کی تکذیب بھی کرچکے لہذا اب عنقریب تم کو جزائے تکذیب لازم ہے۔ چناچہ جنگ بدر میں ان کو تکذیب کی عبرتناک سزا دی گئی۔ بعض کے نزدیک آخرت کا عزاب مراد ہے۔ ثم قیل ھذا العذاب فی الاخرۃ وقیل کان یوم بدر وھو قول مجاھد (کبیر ج 6 ص 504) ۔ ” فسوس یکون الخ “ یکون کی ضمیر سے مراد جزائے تکذیب ہے۔ سورة فرقان میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” تبرک الذی نزل الفرقان “ تا ” وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا “ نفی شرک فی التصرف، و نفی برکات از غیر اللہ۔ 2 ۔ ” لا یخلقون شیئا و ھم یخلقون “ تا ” ولا یملکون موتا ولا حیوۃ ولا نشورا “ معبودان باطلہ نہ خالق ہیں نہ مالک و متصرف، نفع نقصان اور موت وحیات بھی ان کے اختیار میں نہیں لہذا وہ برکات دہندہ بھی نہیں ہیں۔ 3:۔ ” الذی یعلم السر “ تا ” انہ کان غفورا رحیما “۔ اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے لہذا برکات دہندہ بھی وہی ہے۔ 4:۔ ” ویم یحشرھم و ما یعبدون “ تا ” فما تستطیعون صرفا و لا نصرا “ (رکوع 2) ۔ یہ سورت کی خصوصیت ہے مشرکین دنیا میں جن بزرگوں کو برکات دہندہ سمجھتے اور حاجات میں پکارتے ہیں، قیامت کے دن وہ اپنے کارساز اور برکات دہندہ ہونے سے صاف انکار کریں گے۔ 5:۔ ” و اذا راوک ان یتخذونک “ تا ” افانت تکون علیہ وکیلا “ (رکوع 4) ۔ خصوصیت سورت۔ جس نے بھی مسئلہ توحید پیش کیا لوگوں نے اس سے استہزاء کیا۔ مشرکین اپنی خواہش نفس سے جس کو چاہتے ہیں برکات دہندہ سمجھ کر پکارنے لگتے ہیں۔ 6:۔ ” الم تر الی ربک کیف مد الظل “ تا ” خلقنا انعاما و اناسی کثیرا “ (رکوع 5) ۔ جب یہ تمام تصرفات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں تو برکات دہندہ بھی وہی ہے۔ 7:۔ ” ویعبدون من دون اللہ “ تا ” علی ربہ ظھیرا “ خصوصیت سورت۔ جو نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ مشرکین ان و برکات دہندہ سمجھ کر پکارتے ہیں۔ سورة فرقان ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(77) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے اگر تم میرے پروردگار کی عبادت نہ کرو گے تو اور اس کو نہ پکارو گے تو وہ بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرے گا اور تمہارا کوئی وزن اور کوئی قدر نہ ہوگی۔ پس اے منکرو ! تم نے تو احکام الٰہی کی تکذیب کی ہے اور تم تو اللہ تعالیٰ کے دین کو جھٹلا ہی چکے اب عنقریب یہ تکذیب تم کو چمٹ کر رہے گی اور اس تکذیب کا وبال تم پر پڑ کر رہے گا یعنی دنیا میں جیسا کہ بدر میں ہوا یا آخرت میں بہرحال ! بندے کی آبرو اور ا س کی قدر و قیمت اپنے پروردگار کی عبادت میں ہے جو شخص اپنے پروردگار کی عبادت نہیں کرتا وہ اپنے پیدا ہونے کی غرض وغایت کو پورا نہیں کرتا تو ایسے نالائق کی خدا کو بھی کوئی پرواہ نہیں خواہ وہ کہیں ہلاک ہوجائے اور اے دین حق کے منکرو تم نے تو احکام الٰہی کی تکذیب کا شیوہ ہی اختیار کر رکھا ہے اور تم تو اس کے دین کو جھٹلا ہی چکے ہو اب اس تکذیب کی سزا کا انتظار کرو اور اس تکذیب کا وبال اب تمہارے گلے کا ہار بن جائے گا۔ آیت کی تفسیر مفسرین نے بہت طرح کی ہے مگر ہم نے راحج قول کو اختیار کرلیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بندہ مغرور نہ ہو خداوند کو اس کی کیا پروا مگر اس کی التجا پر رحم کرتا ہے اب ہوتا ہے بھنٹیا یعنی لڑائی جہاد 12 تم تفسیر سورة الفرقان