Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 10

سورة الشعراء

وَ اِذۡ نَادٰی رَبُّکَ مُوۡسٰۤی اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾

And [mention] when your Lord called Moses, [saying], "Go to the wrongdoing people -

اور جب آپ کے رب نے موسیٰ ( علیہ السلام ) کو آواز دی کہ تو ظالم قوم کے پاس جا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Between Musa and Fir`awn Allah tells us what He commanded His servant, son of Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says: وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ايْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلاَ يَتَّقُونَ

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے ۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورۃ طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے ۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے ۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے ، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے ۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں ۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو ۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں ۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا ۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی ۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا ۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا ۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے ۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو ۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے ۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے ۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کردے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا ۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی ۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بےخبر تھا ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا ۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر ۔ میری آواز پر لبیک کہہ ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے ۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

101یہ رب کی اس وقت کی ندا ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے اپنی اہلیہ کے ہمراہ واپس آرہے تھے، راستے میں انھیں حرارت حاصل کرنے کے لئے آگ کی ضرورت محسوس ہوئی تو آگ کی تلاش میں کوہ طور پہنچ گئے، جہاں نداء غیبی نے ان کا استقبال کیا اور انھیں نبوت سے سرفراز کردیا گیا اور ظالموں کو اللہ کا پیغام پہنچانے کا فریضہ انکو سونپ دیا گیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] آیات تکوینیہ کی طرف توجہ دلانے کے بعد آگے آیات تنزیلیہ کا آغاز ہو رہا ہے۔ اور اس سلسلہ میں اس سورت میں سات اقوام کا ذکر کیا گیا ہے۔ جنہوں نے اپنے رسول کی دعوت قبول کرنے کے بجائے سرکشی کی راہ اختیار کی تو ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا اور صفحہ ہستی سے ان اقوام کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ اور ان آیات کا آغاز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر سے کیا۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آغاز رسالت میں جن حالات سے سابقہ پیش آیا تھا۔ وہ ان حالات سے سنگین تر تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش آئے تھے۔ مثلاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس خاندان کے فرد تھے جو کعبہ کی تولیت کی وجہ سے عرب بھر میں مقرر و محترم شمار ہوتا تھا جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) اس قوم کے فرد تھے جو فرعون کی غلام تھی۔ دوسرے یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف مبعوث کیا گیا۔ جس کے ہاں آپ نے پرورش پائی تھی۔ پھر آپ نے نادانستہ طور پر آل فرعون کے ایک آدمی کو بھی مار ڈالا تھا اور فرعونی حکومت کی طرف سے اس قتل کی سزا کے ڈر سے آپ وہاں سے مفرور ہوئے تھے گویا آپ فرعون کے ممنون احسان بھی تھے پھر اس کے مفرور مجرم بھی تھے۔ تیسرے یہ کہ فرعون ایک عظیم الشان سلطنت کا فرمانروا، ظالم و جابر اور اپنی خدائی کا دعویٰ رکھنے والا حکمران تھا۔ جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ یا آپ کے ہجسر تھے یا معاشرتی لحاظ سے کم تر درجہ رکھتے تھے۔ گویا موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات سے آغاز میں دراصل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تشلی دی جارہی ہے کہ بعض سابقہ انبیاء کو آپ سے بھی زیادہ سنگین حالات میں دعوت دین کا فریضہ سرانجام دینا پڑا تھا۔ لہذا آپ کو ان کفار مکہ کی معاندانہ روش سے اتنا زیادہ افسردہ اور غمگین نہیں رہنا چاہئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي : یہاں سے عبرت کے لیے پہلی قوموں کے چند واقعات بیان فرمائے ہیں، جن سے مقصود یہ ہے کہ آیات الٰہی کو جھٹلانے اور ان کا مذاق اڑانے کا انجام ہلاکت ہے۔ گویا ان واقعات سے پچھلی آیت : (فَسَيَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰۗـؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ) کی تائید اور وضاحت مقصود ہے۔ (شوکانی) اس کے علاوہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان کو تسلی دلانا بھی مقصود ہے۔ اس کے لیے ابتدا موسیٰ (علیہ السلام) اور پھر ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات سے فرمائی ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کی بہت سی چیزوں میں مشارکت ہے، مثلاً ہجرت، جہاد اور ارض مقدس کو حاصل کرنے کی آرزو وغیرہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ کتاب ملی جو قرآن کے بعد انتہائی جامع کتاب ہے اور انھیں بہت سے معجزے ملے۔ قرآن میں ان کا اور ان کی قوم کا ذکر سب سے زیادہ کیا گیا ہے۔ 3 یہ واقعہ اس سے پہلے سورة بقرہ، اعراف اور طٰہٰ میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے اور آگے سورة قصص میں بھی آ رہا ہے۔ اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : اس قوم کا نام قبط تھا، انھیں ظالم اس لیے فرمایا کہ وہ کفر و شرک کر کے اپنی جان پر ظلم کر رہے تھے، فرعون کو رب اعلیٰ مان رہے تھے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر، ان کے بیٹوں کو قتل کر کے اور عورتوں کو باقی رکھ کر ان پر بھی ظلم کر رہے تھے۔ اَلَا يَتَّقُوْنَ : فرمایا، یہ لوگ بےتحاشا ظلم و ستم کرتے ہی چلے جا رہے ہیں، کیا انھیں خوف نہیں کہ کوئی ان سے باز پرس کرنے والا بھی ہے ! !

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اور (ان لوگوں سے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے) جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا (اور حکم دیا) کہ تم ان ظالم لوگوں کے یعنی قوم فرعون کے پاس جاؤ (اور اے موسیٰ دیکھو) کیا یہ لوگ (ہمارے غضب سے) نہیں ڈرتے (یعنی ان کی حالت عجیب اور شنیع ہے اس لئے ان کی طرف تم کو بھیجا جاتا ہے) انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار، (میں اس خدمت کے لئے حاضر ہوں لیکن اس خدمت کی تکمیل کے لئے ایک مددگار چاہتا ہوں کیونکہ) مجھ کو یہ اندیشہ ہے کہ وہ مجھ کو (اپنی پوری بات کہنے سے پہلے ہی) جھٹلانے لگیں اور (طبعی طور پر ایسے وقت میں) میرا دل تنگ ہونے لگتا ہے اور میری زبان (اچھی طرح) نہیں چلتی اس لئے ہارون کے پاس (بھی وحی) بھیج دیجئے (اور ان کو نبوت عطا فرما دیجئے کہ اگر میری تکذیب کی جاوے تو وہ تصدیق کرنے لگیں تاکہ دل شگفتہ اور زبان رواں رہے اور اگر میری زبان کسی وقت بند ہوجاوے تو وہ تقریر کرنے لگیں اور ہرچند کہ یہ غرض ویسے بھی ہارون (علیہ السلام) کو بلانبوت عطا ہوئے ساتھ رکھنے سے حاصل ہو سکتی تھی مگر عطائے نبوت میں اور زیادہ باکمل وجوہ پوری ہوئی) اور (ایک امر یہ قابل عرض ہے کہ) میرے ذمہ ان لوگوں کا ایک جرم بھی ہے (کہ میرے ہاتھ سے ایک قبطی قتل ہوگیا تھا جس کا قصہ سورة قصص میں آوے گا) سو (اس لئے) مجھ کو (ایک) یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھ کو (قبل تبلیغ رسالت) قتل کر ڈالیں (تب بھی تبلیغ نہ کرسکوں گا تو اس کی بھی کوئی تدبیر فرما دیجئے) ارشاد ہوا کہ کیا مجال ہے (جو ایسا کرسکیں اور ہم نے ہارون کو بھی پیغمبری دی، اب تبلیغ کے دونوں مانع مرتفع ہوگئے) سو (اب) تم دونوں میرے احکام لے کر جاؤ (کہ ہارون بھی نبی ہوگئے اور) ہم (نصرت و امداد سے) تمہارے ساتھ ہیں (ور جو گفتگو تمہاری اور ان لوگوں کی ہوگی اس کو) سنتے ہیں سو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور (اس) سے کہو کہ ہم رب العالمین کے فرستادہ ہیں (اور دعوت الی التوحید کے ساتھ یہ حکم بھی لائے ہیں) کہ تو بنی اسرائیل کو (اپنے بیگار اور ظلم سے رہائی دے کر ان کے اصلی وطن ملک شام کی طرف) ہمارے ساتھ جانے دے (خلاصہ اس دعوت کا حقوق اللہ اور حقوق العباد میں ظلم وتعدی کا ترک کرنا ہے، چناچہ یہ دونوں حضرات گئے اور فرعون سے سب مضامین کہہ دیئے) فرعون (یہ سب باتیں سن کر اول موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ان کو پہچان کر متوجہ ہوا اور) کہنے لگا کہ (اہا تم ہو) کیا ہم نے تم کو بچپن میں پرورش نہیں کیا اور تم اپنی (اس) عمر میں برسوں ہم میں رہا سہا کئے اور تم نے اپنی وہ حرکت بھی کی تھی جو کی تھی (یعنی قبطی کو قتل کیا تھا) اور تم بڑے ناسپاس ہو (کہ میرا ہی کھایا، میرا ہی آدمی قتل کیا اور پھر مجھ کو اپنا تابع بنانے آئے ہو، چاہئے تو یہ تھا کہ تم میرے سامنے دب کر رہتے) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ (واقعی) اس وقت وہ حرکت میں کر بیٹھا تھا اور مجھ سے غلطی ہوگئی تھی (یعنی عمداً میں نے قتل نہیں کیا، اس کی ظالمانہ روش سے اس کو روکنا مقصود تھا اتفاق سے وہ مر گیا) پھر جب مجھ کو ڈر لگا تو میں تمہارے ہاں سے مفرور ہوگیا، پھر مجھ کو میرے رب نے دانشمندی عطا فرمائی اور مجھ کو پیغمبروں میں شامل کردیا (اور وہ دانشمندی اسی نبوت کے لوازم سے ہے۔ خلاصہ جواب یہ ہے کہ میں پیغمبری کی حیثیت سے آیا ہوں جس میں دبنے کی کوئی وجہ نہیں اور پیغمبری اس واقعہ قتل خطاء کے منافی نہیں کیونکہ یہ قتل خطاء صادر ہوا تھا جو نبوت کی اہلیت و صلاحیت کے منافی نہیں۔ یہ تو جواب ہے اعتراض قتل کا) اور (رہا احسان جتلانا پرورش کا سو) وہ یہ نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان رکھتا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو سخت ذلت (اور ظلم) میں ڈال رکھا تھا (کہ ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا جس کے خوف سے میں صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈالا گیا اور تیرے ہاتھ لگ گیا اور تیری پرورش میں رہا تو اس پرورش کی اصلی وجہ تو تیرا ظلم ہی ہے تو ایسی پرورش کا کیا احسان جتلاتا ہے بلکہ اس سے تو تجھے اپنی ناشائستہ حرکات کو یاد کر کے شرمانا چاہئے) فرعون (اس بات پر لاجواب ہوا اور گفتگو کا پہلو بدل کر اس) نے کہا کہ (جس کو تم) رب العالمین (کہتے ہو لقلولہ تعالیٰ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ اس) کی ماہیئت (اور حقیقت) کیا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ (مخلوقات) ان کے درمیان میں ہے اس (سب) کا اگر تم کو یقین (حاصل) کرنا ہو (تو یہ پتہ بہت ہے، مطلب یہ کہ اس کی حقیقت کا ادراک انسان نہیں کرسکتا اس لئے جب ان کا سوال ہوگا صفات سے ہی جواب ملے گا) فرعون نے اپنے اردگرد (بیٹھنے) والوں سے کہا کہ تم لوگ (کچھ) سنتے ہو (کہ سوال کچھ جواب کچھ) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ پروردگار ہے تمہارا اور تمہارے پہلے بزرگوں کا (اس جواب میں مکرر تنبیہ ہے اس مطلب مذکور پر مگر) فرعون (نہ سمجھا اور) کہنے لگا کہ یہ تمہارا رسول جو (بزعم خود) تمہاری طرف رسول ہو کر آیا ہے مجنون (معلوم ہوتا) ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ پروردگار ہے مشرق اور مغرب کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اس کا بھی اگر تم کو عقل ہو (تو اسی سے مان لو) فرعون (آخر مجبور ہو کر) کہنے لگا کہ اگر تم میرے سوا کوئی اور معبود تجویز کرو گے تو تم کو جیل خانہ بھیج دوں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا اگر کوئی میں صریح دلیل پیش کروں تب بھی (نہ مانے گا) فرعون نے کہا اچھا تو وہ دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو دفعۃً ایک نمایاں اژدھا بن گیا ( اور دوسرا معجزہ دکھلانے کے لئے) اپنا ہاتھ (گریبان میں دے کر) باہر نکالا تو وہ دفعۃً سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہوگیا (کہ اس کو بھی سب نے نظر حسی سے دیکھا۔ )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِــمِيْنَ۝ ١٠ۙ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع بالألفاظ المعروفة، وقوله : أُولئِكَ يُنادَوْنَمِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] فاستعمال النّداء فيهم تنبيها علی بُعْدهم عن الحقّ في قوله : وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] ، وقوله : إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] فإنه أشار بِالنِّدَاء إلى اللہ تعالی، لأنّه تَصَوَّرَ نفسَهُ بعیدا منه بذنوبه، وأحواله السَّيِّئة كما يكون حال من يَخاف عذابَه، وقوله : رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] فالإشارة بالمنادي إلى العقل، والکتاب المنزَّل، والرّسول المُرْسَل، وسائر الآیات الدَّالَّة علی وجوب الإيمان بالله تعالی. وجعله منادیا إلى الإيمان لظهوره ظهورَ النّداء، وحثّه علی ذلك كحثّ المنادي . وأصل النِّداء من النَّدَى. أي : الرُّطُوبة، يقال : صوت نَدِيٌّ رفیع، واستعارة النِّداء للصَّوْت من حيث إنّ من يَكْثُرُ رطوبةُ فَمِهِ حَسُنَ کلامُه، ولهذا يُوصَفُ الفصیح بکثرة الرِّيق، ويقال : نَدًى وأَنْدَاءٌ وأَنْدِيَةٌ ، ويسمّى الشَّجَر نَدًى لکونه منه، وذلک لتسمية المسبَّب باسم سببِهِ وقول الشاعر : 435- كَالْكَرْمِ إذ نَادَى مِنَ الكَافُورِ «1» أي : ظهر ظهورَ صوتِ المُنادي، وعُبِّرَ عن المجالسة بالنِّدَاء حتی قيل للمجلس : النَّادِي، والْمُنْتَدَى، والنَّدِيُّ ، وقیل ذلک للجلیس، قال تعالی: فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] ومنه سمّيت دار النَّدْوَة بمكَّةَ ، وهو المکان الذي کانوا يجتمعون فيه . ويُعَبَّر عن السَّخاء بالنَّدَى، فيقال : فلان أَنْدَى كفّاً من فلان، وهو يَتَنَدَّى علی أصحابه . أي : يَتَسَخَّى، وما نَدِيتُ بشیءٍ من فلان أي : ما نِلْتُ منه نَدًى، ومُنْدِيَاتُ الكَلِم : المُخْزِيَات التي تُعْرَف . ( ن د ی ) الندآ ء کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں اور کبھی نفس آواز پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ میں اندر سے مراد آواز و پکار ہے یعنی وہ چو پائے صرف آواز کو سنتے ہیں اور اس کلام سے جو مفہوم مستناد ہوتا ہے اسے ہر گز نہیں سمجھتے ۔ اور کبھی اس کلام کو جس سے کوئی معنی مفہوم ہوتا ہو اسے ندآء کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو ۔ میں نماز کے لئے اذان دینا مراد ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے ۔ میں بھی نداء کے معنی نماز کی اذان دینے کے ہیں اور شریعت میں ند اء الصلوۃ ( اذان ) کے لئے مخصوص اور مشہور کلمات ہیں اور آیت کریمہ : ۔ أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ان کو گویا دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے : ۔ میں ان کے متعلق نداء کا لفظ استعمال کر کے متنبہ کیا ہے کہ وہ حق سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ نیز فرمایا ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کے ذہنی جانب سے پکارا فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] جب موسیٰ ان ان کے پاس آئے تو ندار آئی ۔ ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا میں اللہ تعالیٰ کے متعلق نادی کا لفظ استعمال کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے گناہ اور احوال سینہ کے باعث اس وقت اپنے آپ کو حق اللہ تعالیٰ سے تصور کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے کی حالت ہوتی ہے اور آیت کریمہ ؛ ۔ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] اے پروردگار ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا ۔ جو ایمان کے لئے پکاررہا تھا ۔ میں منادیٰ کا لفظ عقل کتاب منزل رسول مرسل اور ان آیات الہیہ کو شامل ہے جو ایمان باللہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں اور ان چیزوں کو منادی للا یمان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ندا کی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور وہ پکارنے والے کی طرح ایمان لانے کی طرف دعوت دے رہی ہیں ۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں ۔ اور آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بنا پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بھی بلند اور حسین ہوگی اسی سے فصیح شخص کو کثرت ریق کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور ندی کے معنی مجلس کے بھی آتے ہیں اس کی جمع انداء واندید آتی ہے ۔ اور در خت کو بھی ندی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ نمی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ تسمیۃ المسبب با سم السبب کے قبیل سے ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 420 ) کالکرم اذا نادٰی من الکافور جیسا کہ انگور کا خوشہ غلاف ( پردہ ) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ منادی کرنے والے کی آواز ہوتی ہے ۔ کبھی نداء سے مراد مجالست بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے مجلس کو النادی والمسدیوالندی کہا جاتا ہے اور نادیٰ کے معنی ہم مجلس کے بھی آتے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلالے ۔ اور اسی سے شہر میں ایک مقام کا نام درا لندوۃ ہے ۔ کیونکہ اس میں مکہ کے لوگ جمع ہو کر باہم مشورہ کیا کرتے تھے ۔ اور کبھی ندی سے مراد مخاوت بھی ہوتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ فلان اندیٰ کفا من فلان وپ فلاں سے زیادہ سخی ہے ۔ ھو یتندٰی علیٰ اصحابہ ۔ وہ اپنے ساتھیوں پر بڑا فیاض ہے ۔ ما ندیت بشئی من فلان میں نے فلاں سے کچھ سخاوت حاصل نہ کی ۔ مندیات الکلم رسوا کن باتیں مشہور ہوجائیں ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠۔ ١١) اور ان لوگوں سے وہ واقعہ بیان کیجیے جب کہ آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا یا یہ کہ ان کو حکم دیا کہ ان کافر لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ غیر اللہ کی عبادت سے کیوں نہیں ڈرتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

7 After a brief introduction, historical events have been presented beginning with the story of Prophet Moses and Pharaoh, and attention has been drawn specifically to the following points: (1) The conditions under which Prophet Moses had to work were much harsher and more severe than those faced by the Holy Prophet Muhammad (Allah's peace be upon him). Prophet Moses belonged to a slave community very much suppressed by Pharaoh and his people. In contrast to them, the Holy Prophet was a member of the clan of Quraish and his family enjoyed an equal status with the other clans. Then Prophet Muses had been bred and brought up in the house of Pharaoh and after remaining a fugitive for ten years due to a charge of murder, he was commanded to go before the same king from whom he had fled for life. The Holy Prophet did not have to face any such situation. Then the empire of Pharaoh was the most extensive and powerful empire of the time and the meagre power of the Quraish had no comparison with it. In spite of that Pharaoh could not do any harm to Prophet Moses and ultimately perished in the conflict. From this Allaln wanted the Quraish to learn this lesson: "None can defeat the one who has Allah to help him? When Pharaoh with all his might became helpless against Moses, how can you, O poor Quraish, succeed against Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings)'? (2) There could not be clearer and more manifest Signs (miracles) than those which were shown to Pharaoh through Moses. Then in an open contest with the magicians before a gathering of hundreds of thousands of people to meet the challenge of Pharaoh himself, it had been conclusively demonstrated that what was presented by Moses, was not magic. The skilful magicians who were themselves Egyptians and had been summoned by Pharaoh himself bore witness to the fact that turning of Moses' staff into a serpent was a real change of nature, which could only happen through a Divine miracle, and not by any trick of magic. Then the magicians' believing in Moses inunediately, even at the risk of life, proved beyond any doubt that the Sign presented by Moses was a miracle and not magic. Yet the disbelievers were not inclined to believe in the Prophet. Now how can you, O Quraish, say that you will believe only when you are shown a perceptible miracle and a physical Sign '? As a matter of fact, if a person is free from prejudice, false sense of prestige and vested interest, and has an open mind to appreciate the distinction between truth and falsehood, and is prepared to give up falsehood for the truth, he does not stand in need of any other signs than those found in this Book, in the life of the one presenting it and in the vast universe around him. On the contrary, an obstinate person, who is not interested in the truth, and who hecause of selfish motives is determined not to recognize and accept any such truth as may clash with his interests, will not be prepared to believe after seeing any sign whatever, even if the earth and the heaven are turned upside down in front of Iris eyes . (3) 'the tragic end of such obstinacy as met by Pharaoh is not something for which other people should become so impatient. Those who do not believe even after seeing with their own eyes the Signs of Divine power have inevitably to meet a similar fate. Therefore, instead of learning a lesson why do you insist nn seeing such a dreadful sign? For comparison, see AIA'raf: 103-137, Y'unus: 75-92, Bani Isra'il: 101-104, and Ta Ha: 9-79. 8 The epithet of "the wicked people" describes the extremely wicked character of the people of Pharaoh.

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :7 اوپر کی مختصر تمہیدی تقریر کے بعد اب تاریخی بیان کا آغاز ہو رہا ہے جس کی ابتدا حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے سے کی گئی ہے ۔ اس سے خاص طور پر جو سبق دینا مقصود ہے وہ یہ کہ : اولاً ، حضرت موسیٰ کو جن حالات سے سابقہ پیش آیا تھا وہ ان حالات کی بہ نسبت بدرجہا زیادہ سخت تھے جن سے نبی صلی اللہ یہ وسلم کو سابقہ درپیش تھا ۔ حضرت موسیٰ ایک غلام قوم کے فرد تھے جو فرعون اور اس کی قوم سے بری طرح دبی ہوئی تھی ، بخلاف اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک فرد تھے اور آپ کا خاندان قریش کے دوسرے خاندانوں کے ساتھ بالکل برابر کی پوزیشن رکھتا تھا ۔ حضرت موسیٰ نے خود اس فرعون کے گھر میں پرورش پائی تھی اور ایک قتل کے الزام میں دس برس روپوش رہنے کے بعد انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اسی بادشاہ کے دربار میں جا کھڑے ہو جس کے ہاں سے وہ جان بچا کر فرار ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی کسی نازک صورت حال سے سابقہ نہ تھا ۔ پھر فرعون کی سلطنت اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقتور سلطنت تھی ۔ قریش کی طاقت کو اس کی طاقت سے کوئی نسبت نہ تھی ۔ اس کے باوجود فرعون حضرت موسیٰ کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور آخر کار ان سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا ۔ اس سے اللہ تعالیٰ کفار قریش کو یہ سبق دینا چاہتا ہے کہ جس کی پشت پر اللہ کا ہاتھ ہو اس کا مقابلہ کر کے کوئی جیت نہیں سکتا ۔ جب فرعون کی موسیٰ علیہ السلام کے سامنے کچھ پیش نہ گئی تو تم بیچارے کیا ہستی ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں بازی جیت لے جاؤ گے ۔ ثانیاً جو نشانیاں حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے فرعون کو دکھائی گئیں اس سے زیادہ کھلی نشانیاں اور کیا ہو سکتی ہیں ۔ پھر ہزارہا آدمیوں کے مجمع میں فرعون ہی کے چیلنج پر علی الاعلان جادوگروں سے مقابلہ کرا کے یہ ثابت بھی کر دیا گیا کہ جو کچھ حضرت موسیٰ دکھا رہے ہیں وہ جادو نہیں ہے ۔ فن سحر کے جو ماہرین فرعون کی اپنی قوم سے تعلق رکھتے تھے اور اس کے اپنے بلائے ہوئے تھے ۔ انہوں نے خود یہ تصدیق کر دی کہ حضرت موسیٰ کی لاٹھی کا اژدھا بن جانا ایک حقیقی تغیر ہے اور یہ صرف خدائی معجزے سے ہو سکتا ہے ، جادوگری کے ذریعہ سے ایسا ہونا کسی طرح ممکن نہیں ۔ ساحروں نے ایمان لاکر اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس امر میں کسی شک کی گنجائش بھی باقی نہ چھوڑی کہ حضرت موسیٰ کی پیش کردہ نشانی واقعی معجزہ ہے ، جادو گری نہیں ہے ۔ لیکن اس پر بھی جو لوگ ہٹ دھرمی میں مبتلا تھے انہوں نے نبی کی صداقت تسلیم کر کے نہ دی ۔ اب تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ تمہارا ایمان لانا درحقیقت کوئی حسی معجزہ اور مادی نشان دیکھنے پر موقوف ہے ۔ تعصب ، حمیت جاہلیہ ، اور مفاد پرستی سے آدمی پاک ہو اور کھلے دل سے حق اور باطل کا فرق سمجھ کر غلط بات کو چھوڑنے اور صحیح بات قبول کرنے کے لیے کوئی شخص تیار ہو تو اس کے لیے وہی نشانیاں کافی ہیں جو اس کتاب میں اور اس کے لانے والے کی زندگی میں اور خدا کی وسیع کائنات میں ہر آنکھوں والا ہر وقت دیکھ سکتا ہے ۔ ورنہ ایک ہٹ دھرم آدمی جسے حق کی جستجو ہی نہ ہو اور اغراض نفسانی کی بندگی میں مبتلا ہو کر جس نے فیصلہ کر لیا ہو کہ کسی ایسی صداقت کو قبول نہ کرے گا جس سے اس کی اغراض پر ضرب لگتی ہو ، وہ کوئی نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے گا خواہ زمین اور آسمان ہی اس کے سامنے کیوں نہ الٹ دیے جائیں ۔ ثانیاً ، اس ہٹ دھرمی کا جو انجام فرعون نے دیکھا وہ کوئی ایسا انجام تو نہیں ہے جسے دیکھنے کے لیے دوسرے لوگ بے تاب ہوں ۔ اپنی آنکھوں سے خدائی طاقت کے نشانات دیکھ لینے کے بعد جو نہیں مانتے وہ پھر ایسے ہی انجام سے دو چار ہوتے ہیں ۔ اب کیا تم لوگ اس سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے اس کا مزا چکھنا ہی پسند کرتے ہو؟ تقابل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ، الاعراف ، آیات 103 تا 137 ۔ یونس ، 75 تا 92 ۔ بنی اسرائیل ، 101 تا 104 ۔ جلد سوم طٰہٰ ، 0 تا 79 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:10) وواؤ حرف عطف ہے معطوف علیہ کلام ما قبل ہے اور معطوف وہ کلام ہے جو آگے آر ہی ہے یہ عطف القصہ علی القصہ کی مثال ہے اذ نادی : ای واذکر اذ نادی اور یاد کر جب پکارا (تیرے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو) یا واذکر لقومک اذ نادی یاد دلا اپنی قوم کو جب پکارا (تیرے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو) ۔ اذ۔ جب ۔ نادی بمعنی پکارا۔ یا بمعنی امر۔ (حکم دیا) ۔ ان۔ کہ۔ یہ کہ۔ یہ۔ یا تو مصدریہ ہے اور اس کا مابعد بمنزلہ مصدر ہے یا یہ مفرہ ہے اور بمعنی ای ہے : کہ ائت۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے تو آ۔ تو پہنچ۔ اثیان (ضرب) سے جانے کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ ملاحظہ ہو (26:16) ائیتا تم دونوں جاؤ۔ القوم الظلمین۔ موصوف و صفت۔ ظالم قوم۔ ظالم لوگ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

12 ۔ یہ اس واقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اپنے بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر واپس آرہے تھے۔ (دیکھئے سورة طہ : رکوع 1)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے بدبختوں کے لئے دکھ محسوس نہ کیا کیجیئے کہ جب اللہ کریم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اس ظالم قوم یعنی فرعون کی قوم کے پاس جائیے اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دیجیئے کیا وہ اس قدر بےراہ رو ہوگئے ہیں کہ انہیں اللہ کا خوف بھی نہیں رہا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا بارے الہا میرا سینہ بھی ذرا رک رک جاتا ہے یعنی میں فورا جواب نہیں دے پاتا یا بات اور اس کا جواب میرے دل میں فورا نہیں آتے نیز میری زبان بھی روانی سے نہیں چلتی تو آپ ازراہ کرم ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیج دیجیئے نیز انہوں نے تو مجھے قتل کا مجرم بنا رکھا ہے اور ڈر ہے کہ جیسے ہی مجھے پائیں گے قتل کردیں گے تو ارشاد ہوا ہرگز نہیں یعنی ان باتوں میں کچھ بھی آڑے نہ آئے گا چناچہ شرح صدر بھی عطا ہوا بات بھی کرنے میں وہ دشواری حائل نہ رہی اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے سرفراز فرما کر ہمراہ کردیا تو تعمیل ارشاد میں مزید سہولت کے لیے اسباب کا طلب کرنا بہت مناسب اور ضروری ہے انہیں رب کریم عطا فرما کر آسانی بھی فرما دیتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوا کہ ان آپ دونوں جائیے اور معجزات و دلائل پیش فرمائیے اور یاد رکھیے میں بھی اپ کے ساتھ ہوں اور سب کچھ سنتا ہوں ہر بات سے باخبر ہوں چناچہ دونوں حضرات فرعون کے دربار ین پہنچے اور اللہ کی طرف دعوت دی اور فرمایا کہ ہم دونوں اس پروردگار کے رسول ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے چناچہ تم اور تمہاری قوم بغاوت اور سرکشی چھوڑ کر اللہ کی اطاعت اختیار کرو نیز بنی اسرائیل کو جو مدتون سے تمہاری غلامی کی چکی میں پس رہے ہیں آزاد کر کے ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دو کہ وہ اپنے وطن اصلی کو لوٹ جائیں بنی اسرائیل کا اصل وطن شام تھا اور گزشتہ چار سو سال سے مصر کے فرعونوں کی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے جب موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو تقریبا سوا چھ لاکھ کی تعداد میں تھے۔ مناظر اور کج بحثی یہاں فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سوال و جواب مناظرہ کی صورت میں بیان ہوئے ہیں جس کا رواج تاحال بھی ہے اور عموما مناظرے کے نام پر کج بحثی کرکے محض اپنی بات غالب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ حق یہ ہے کہ دلائل سے حق واضح کیا جائے اور عموما جس فریق کے پاس دلیل نہ ہو وہ کج بحثی پر اتر اتا ہے جیسا کہ فرعون نے یہاں توحید باری کے مقابلے میں اپنی خدائی پر کوئی دلیل نہ دی نہ بنی اسرائیل کو غلامی میں رکھنے کا کوئی جواز پیش کیا بلکہ الٹا موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات پر اعتراض کیا کہ واہ آپ تو وہی ہیں جن کو ہم نے پالا پوسا اور عمر عزیز کا ایک حصہ ہمارے گھر پر بسر کیا آج ہمیں کو دعوت دینے چلے آئے اور پھر آپ کو تو یہ بھی پتہ ہے کہ کتنا بڑا جرم آپ نے کیا تھا ایسے لوگ اصلاح کی دعوت دینے والے ہوتے ہیں آپ نے اس کی کج بحثی کا بھی صحیح طریقے سے اور حق بیان کرتے ہوئے جواب دیا کہ واقعی وہ مجھ سے خطا ہوگئی تھی مگر وہ قتل عمد نہ تھا میں نے قنطی کو ظلم سے روکا وہ باز نہ آرہا تھا تو منع کرنے کے لیے مکہ رسید کردیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی اور یہ میری بھول تھی جو نبوت کے منافی نہیں پھر میں تمہارے قانون سے بچنے کے لیے تمہارے ملک سے ہی چلا گیا کہ یہاں اسرائیلی پر ظلم تو ظلم نہیں کہلاتا اور قبطی اگر غلطی سے بھی مارا گیا تو سخت سزا ملے گی اللہ نے مجھ پر احسان فرمایا اور مجھے نبوت و رسالت سے سرفراز فرما دیا کہ یہ ضطا اس کے منافی نہ تھی نہ کسی خطا کے ارادے سے کی گئی تھی اور اب فریضہ رسالت ادا کرنے تمہارے پاس آگیا ہوں رہی تمہاری یہ بات کہ پرورش کا احساس جتاتے ہو تو ذرا اپنے ظلم کو دیکھوتو ذرا اپنے ظلم کو دیکھو جو مجھے تمہارے پاس پہنچانے کا سبب بنا کہ بنی اسرائیل کو تم نے غلامی کی زنجیر میں جکڑ رکھا تھا پھر ان کے بچے قتل کرانے شروع کردئیے تو مجھے میری ماں نے دریا میں ڈال دیا جہاں سے تم نے لے لیا اور پالنے لگے بھلا یہ تمہارا کیا احسان تھا یہ تو تمہارے ظلم کے باعث ہوا اور اللہ نے اپنی قدرت کا اظہار فرمایا کہ جسے مارنے کے لیے تم نے بچے قتل کرانے شروع کئے تھے اس کی پرورش تمہارے گھر پہ کرنا پڑی۔ فرعون لاجواب ہوا تو کہنے لگا بلا پروردگار عالم کون ہے اپنی ساری بات سے دوسری طرف پلٹ گیا آپ نے فرمایا وہ پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ بھی ان میں ہے اس سب کا یعنی اس نے ذات باری اور اس کی کنہ کے بارے سوال کیا آپ نے جواب صفات باری سے دیا کہ اس کی ذات کی کنہ کو پانا ممکن نہیں لہذا فرمایا کہ اگر تم میں یقین کرنے اور نتائج کو سمجھنے کی صلاحیت ہے تو کائنات کا ہر ذرہ اس کی ربوبیت کا گواہ ہے فرعون اہل دربار سے کہنے لگا ذرا سنو تو ہم کیا پوچھ رہے ہیں اور جواب کیا ہے آپ نے فرمایا کہ وہ پروردگار ہے تمہارا بھی اپنی ذات پر غور کرو تمہیں کس نے پیدا کیا اگر تم خدا تھے تو تمہارے باپ دادا کو کس نے پیدا کیا ان کا رب بھی وہی ہے اب فرعون کے پاس کج بحثی کی گنجائش بھی نہ رہی تو کہنے لگا کہ یہ رسول جو آپ لوگوں کی طرف مبعوث ہوا ہے پاگل لگتا ہے تو آپ نے فرمایا وہ تو مشرق و مغرب کا رب ہے طلوع و غروب کا نظام اسی کا ہے اور جو کچھ اس کے اندر ہے اس سارے نظام کو بھی وہی چلاتا ہے فرعون بھڑک اٹھا کہنے لگا اگر میرے علاوہ کسی کو معبود مانو گے تو تمہیں جیل میں ڈال دوں گا یہ اس کے دلائل سے عاجز ہونے کی آخری دلیل تھی مگر ابھی تک تو بات زبانی تھی آپ نے فرمایا اگر اس سے بھی بڑی دلیل یعنی معجزہ بھی پیش کردوں تب بھی تو فرعون نے کہا لائیے معجزہ ابھی آپ کی صداقت بھی کھل جاتی ہے۔ تو آپ نے عصا پھینک دیا جو قدرت الہی سے بہت بڑا اژدہا بن گیا اور آپ نے اپنا ہاتھ بغل میں دے کر نکالا تو وہ چاند سا روشن ہوگیا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 : نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔ تشریح آیت نمبر 10 تا 22 : اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے زیادہ اپنے وقتی مفادات عزیز ہوتے ہیں وہ معجزات اور کھلی نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور دین اسلام اور اس کو لانے والے انبیاء کرام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ چناچہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت مکہ میں یہی صورتحال تھ یکہ وہ عمل اور ایمان سے بھاگنے کے لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس قرآن مجید پر طرح طرح کے اعتراض کرکے گذشتہ انبیاء پر جس طرح معجزات نازل کئے گئے تھے اس کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔ اس سے پہلے آیات میں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اللہ کا قانون یہ ہے جب کوئی قوم اپنے نبی سے کسی معجزے کا مطالبہ کرتی ہے اور ان کے مطالبے پر وہ معجزہ دکھا دیا جاتا ہے اور پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتی تو ان کو سخت عذاب دیاجاتا ہے اور کبھی کبھی انکو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ چونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرح خاتم الانبیاء ہیں یعنی آپ کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم ہوگیا اسی طرح آپ کی امت بھی آخری امت ہے۔ آپ کے بعد اسی امت کو قیامت تک ساری دنیا کی رہبری اور رہنمائی کی ذمہ داری سپرد کی گئی ہے۔ اگر کفار مکہ کا یہ مطالبہ مان لیا جاتا کہ ان کی فرمائش پر کوئی معجزہ دکھا دیا جاتا اور پھر بھی وہ ایمان نہ لاتے تو اس امت کو ختم ٭ کردیا جاتا۔ لیکن یہ اللہ کی مصلحت کے خلاف ہوتا۔ اس لئے کفار مکہ کے کہنے پر آپ نے کسی معجزہ کی درخواست نہیں فرمائی۔ البتہ آپ سے وہ سیکڑوں معجزات ظاہر ہوئے ہیں جنکو صحابہ کرام (رض) نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے جن کی تفصیلات پر پر علماء امت نے بڑی تفصیل سے کتابیں کھلی ہیں۔ قرآن کریم خودانتا بڑا علمی معجزہ ہے جس کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کا مطالبہ کرنا ہی احمقانہ بات ہے کیونکہ جس قرآن کی آیات کے سامنے وقت کے بڑے بڑے شاعر ‘ ادیب اور زبان داں عاجز تھے اور قرآن کریم کی چھوٹی سے چھوٹی ایک آیت یا سورت بنا کر لانے سے بھی عاجز ومجبور تھے ان کو کسی معجزہ کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہ تھا۔ خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات پاک ایک معجزہ ہے کیونکہ آپ نے مکہ کے لوگوں میں سارا وقت گذارا تھا وہ لوگ جانتے تھے کہ آپ نے کسی سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا تا۔ وہ ایک چھوٹا سا معاشرہ تھا جس میں کسی شخص کی زندگی کے حالات دوسرے سے چھپ نہ سکتے تھے لیکن چالیس سال کی عمرمبارک میں وحی نازل ہونا شروع ہوئی تو اللہ نے آپ کے قلب مبارک پر ایسے ایسے مضامین نازل فرمائے کہ جب آپ کی زبان مبارک سے ادا ہوتے تو اس کلام کی فصاحت و بلاغت خود کسی معجزہ سے کم نہ تھی اور آپ نے اللہ کے حکم سے امت کو ایسے ایسے مضامین عطا فرمائے کہ آپ کے الفاظ بھی دنیا بھر کی زبانوں پر غالب آگئے۔ غر ضی کہ قرآن کریم اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ایک معجزہ تھی۔ جب کفار مکہ نے دیکھا کہ ان کے اس مطالبے کا بھی کوئی اثر نہیں ہے جس میں معجزات دکھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو طرح طرح سے ستانا شروع کیا۔ جب حالات انتہائی سنگین ہوگئے اس وقت اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو تسلی دینے کے لئے سورة الشعراء کی ان آیات کو نازل فرمایا۔ سورة الشعراء میں سات انبیاء اکرام اور ان کے معجزات کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) ‘ حضرت نوح (علیہ السلام) ‘ حضرت ہود (علیہ السلام) ‘ حضرت صالح (علیہ السلام) ‘ حضرت لوط (علیہ السلام) ‘ اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعات کی کچھ تفصیل ارشاد فرمائی گئی ہے۔ ان آیات میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے یہ حکم دیا کہ تم فرعون کے پاس ہماری نشانیاں لے کر جائو اور اس سے یہ بات کہہ دو کہ اے فرعون تو بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کا سلسلہ ختم کردے اور بنی اسرائیل کو میرے ساتھ فلسطین کی طرف جانے میں رکاوٹ پیدا نہ کر۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا الہٰی ! میں حاضر ہوں مگر مجھ سے نادانستگی میں ایک غلطی ہوگئی تھی کہ قبطی اور اسرائیلی میں جھگڑا ہورہا تھا۔ میں نے دونوں کو لڑنے سے روکا اور اس دوران میرے ایک ہی گھونسے سے قبطی مر گیا تھا اور میں خوف کی وجہ سے مدین چلا گیا تھا۔ الہٰی ! مجھے اندیشہ ہے کہ فرعون میرے فریضہ تبلیغ کو روکنے کے لئے اس واقعہ کو بہانہ بنالے گا۔ دوسرے یہ کہ مجھے بولنے میں بھی رکاوٹ محسوس ہوتی ہے اگر آپ اپنے فضل و کرم سے میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو میرا دست بازو بنادیں تو میں پوری قوت سے آپ کا پیغام فرعون تک پہنچادوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نہ صرف آپ کے لئے قوت کا سبب بنا رہے ہیں بلکہ ان کے سر پر تاج نبوت بھی رکھ رہے ہیں تاکہ نبی کی حیثیت سے وہ آپ کے معاون و مدد گار بن جائیں۔ فرمایا کہ تم دونوں نہایت اطمینان سے فرعون کے دربار میں جائو اور اس کو انسانوں پر ظلم و ستم سے روکو۔ میں خود تمہاری نگرانی و حفاظت کروں گا۔ کوئی تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ جب یہ دونوں بھائی فرعون کے دربار میں پہنچے اور انہوں نے کہا کہ ہم اللہ رب العالمین کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں اور یہ پیغام لے کر آئے ہیں کہ تو بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے باز آجا اور بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ (فلسطین کی طرف جانے کی ) اجازت دیدے۔ اس وقت کے فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پہچان لیا کہ یہ تو وہی موسیٰ (علیہ السلام) ہیں جن کو نہایت ناز و نخروں سے ہمارے محل میں پرورش کیا گیا تھا اور ان کا بچپن فرعون کے گھر میں گذرا تھا۔ اس نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا تم وہی نہیں ہو جس کو بڑے ناز اور نخروں سے اسی گھر میں پرورش کیا گیا تھا اور تم نے برسوں ہمارے درمیان گذارے ہیں لیکن تم نے ان احسانات کا بدلہ یہ دیا کہ ایک قبطی کو مارڈالا اور آج ہمارے ہی سامنے کھڑے ہو کر ہمیں ظالم و جابر کہہ رہے ہو ؟ ۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) تم بہت ہی ناشکرے آدمی نکلے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وضاحت کا موقع مل گیا آپ نے فرمایا کہ جس قبطی کا قتل میرے ہاتھوں سے ہوا ہے وہ جان بو جھ کر نہیں ہوا تھا بلکہ میں تو ان دونوں کے درمیان سے جھگڑا دور کرانے کی کوشش کررہا تھا اتفاق سے میرا ہاتھ قبطی کے لگ گیا جس سے وہ مر گیا۔ جس کا مجھے افسوس بھی ہے مگر میں نے جان بوجھ کرا یسا نہیں کیا تھا۔ میں اسی خوف سے کہ کہیں مجھے اس کے بدلے میں قتل نہ کردیا جائے مدین کی طرف چلا گیا تھا۔ اور یہ بات مجھ سے اس وقت سرزد ہوئی جب میں اس راہ سے بیخبر تھا۔ اب میرے پروردگار نے مجھے حکمت و دانائی عطا فرما دی ہے اور مجھے رسولوں میں سے ایک رسول بنایا ہے۔ تو نے جن بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنارکھا ہے وہ خود بہت بڑی زیادتی ہے۔ کہنے لگا کہ رب العالمین تو میں خود ہوں تم کس رب العالمین کا ذکر کررہے ہو ؟ اس کا جواب تو اس کے بعد کی آیات میں دیا گیا ہے۔ یہاں تک کی آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھ سے ایک قبطی شخص کا قتل تو بلا ارادہ اختیار کے ہوا تھا جس پر تو اتنا شور کررہا ہے لیکن تو نے پوری قوم بنی اسرائیل کو غلام بنارکھا ہے۔ اتنی خدمات کے بعد بھی ان پر شدید ظلم کیا جاتا ہے اور ان کے بچوں کو ان کی ماؤں کی گود سے چھین چھین کر قتل کیا جارہا ہے۔ اسی ظلم کی وجہ سے میری والدہ نے مجے پانی میں بہادیا تھا تاکہ میں تیرے ظلم سے بچ جاؤں ۔ جب مجھے پانی سے نکال کر تم نے اپنے گھر میں رکھا تو یہ مجھ پر کوئی احسان نہ تھا کیونکہ اگر میری والدہ مجھے وہاں سے نہ ہٹا لیتیں تو میں بھی قتل کردیا جاتا۔ اسی لئے یہ اللہ کا فضل و کرم ہے ورنہ تو نے تو ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی۔ فرعون اس طنز کو برداشت نہ کرسکا۔ کہنے لگا کہ اچھا یہ بتائو کہ یہ تم کس رب العالمین کا ذکر کررہے تھے ؟ وہ کیا ہے ؟ کہاں ہے ؟ اللہ نے ان باتوں کا جواب اگلی آیات میں دیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : چھٹی آیت میں بتایا گیا ہے کہ عنقریب ان کے پاس وہ خبریں یعنی واقعات بیان کیے جائیں گے، کہ جن قوموں نے توحید کے دلائل اور اپنے رسول کو جھٹلایا ان کا انجام کیا ہوا۔ لہٰذا سنیں ان میں سر فہرست فرعون اور اس کے ساتھی تھے جنہیں موسیٰ نے ان الفاظ میں سمجھایا اور ڈرایا تھا۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) کو آپ کے رب نے یہ حکم دیا کہ ظالم قوم کے پاس جاؤ۔ جو فرعون کی قوم ہے انھیں سمجھاؤ کہ وہ اپنے رب سے ڈر جائیں۔ اس موقعہ پر موسیٰ نے یہ عذر پیش کیا الٰہی مجھ سے ان کا بندہ قتل ہوگیا اس لیے مجھے ڈر لگتا ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے واقعہ یوں ہے کہ حضرت موسیٰ سے فرعون کی قوم کا ایک شخص غیر ارادی طور پر قتل ہوا۔ گرفتاری کے ڈر سے حضرت موسیٰمصر سے بھاگ نکلے دس (١٠) سال حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس مدین میں رہے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انھیں اپنی دامادی کا شرف بخشا۔ مدین میں دس (١٠) سال رہنے کے بعد جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر آرہے تھے تو راستہ میں ایک جگہ انھوں نے روشنی دیکھی اپنی اہلیہ کو یہ بات کہہ کر اس روشنی کی طرف بڑھے کہ آپ یہاں ٹھہریں میں وہاں سے راستہ پوچھتا ہوں یا آپ کے تاپنے کے لیے آگ لاتا ہوں۔ موسیٰ اس روشنی کے قریب ہوئے تو آواز آئی کہ اپنا جوتا اتار دیں۔ آپ پاک سرزمین پر قدم رکھ چکے ہیں اور میں آپ کا رب ہوں۔ اس کی تفسیر سورة القصص، آیت : ٢٩ تا ٣٥ میں بیان کی جائے گی۔ (ان شاء اللہ) یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز کرنے کے ساتھ دو عظیم معجزے دیے گئے اور حکم ہوا کہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ انھیں ان کے انجام سے ڈراؤ وہ بڑے ظالم لوگ ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس موقع پر تین عذرپیش کیے تھے۔ ١۔ میری زبان پوری طرح رواں نہیں ہے اور میرا سینہ تنگی محسوس کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی ان کا سینہ کھول دیا گیا اور ان کی قوت گویائی ٹھیک کردی۔ (طٰہٰ : ٢٥ تا ٢٨) ٢۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی فریاد کی کہ میرے بھائی ہارون کے ساتھ مجھے مضبوط کیجیے وہ میرے کام میں شریک رہے اور اسے میرا وزیر بنا دیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا بھی قبول کی گئی۔ (طٰہٰ : ٢٩ تا ٣٦) ٣۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے تیسرا عذر یہ پیش کیا کہ میرے رب میرے ذمہ ان کا ایک جرم ہے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل نہ کردیں۔ جرم سے مراد وہی جرم ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی ہجرت کرنے کا سبب بنا تھا جس کا ابھی ذکر ہوا ہے جس وجہ سے وہ خوف محسوس کرتے ہیں کہ انھیں قتل کردیا جائے گا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ ہمارے دیے ہوئے معجزات کے ساتھ دونوں جاؤ یقیناً ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تمہاری فرعون کے ساتھ ہونے والی گفتگو سن رہے ہوں گے۔ سورة طٰہٰ آیت ٤٥۔ ٤٦ میں یہ بھی ذکر ہے کہ موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے عرض کی ہمارے رب ! ہم خوف محسوس کرتے ہیں کہ فرعون ہم پر زیادتی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں میں سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہوں گا۔ ان تسلیوں اور معجزات کے ساتھ حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) فرعون کی طرف بھیجے گئے۔ اس میں ”إِذْ “ کا لفظ بول کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات باور کر وائی ہے کہ اے پیغمبر ! موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ پر غور فرمائیں کہ وہ کتنے کٹھن حالات میں فرعون کی طرف بھیجے گئے تھے۔ فرعون پرلے درجے کا سرکش اور اپنے آپ کو ” اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی “ کہلوانے والا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے خوف سے بنی اسرائیل پر مسلسل ظلم کر رہا تھا۔ اس کی قوم، اس کے مظالم میں برابر کی شریک ہوچکی تھی۔ غور فرمائیں کہ آپ کے مقابلے میں فرعون جیسی قوت رکھنے والا کوئی شخص نہیں ہے۔ بیشک آپ کی قوم آپ اور آپ کے ساتھیوں پر زیادتی کرنے والی ہے۔ لیکن ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو آپ پر سب کچھ نچھاور کرر ہے ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں بہتر حالات میں کام کرنے کا موقع دیا گیا ہے لہٰذا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو اپنی معیت کا یقین دلایا تھا۔ آپ بھی یقین رکھیں کہ آپ کے رب کی مدد ہر وقت آپ کے ساتھ رہے گی۔ مسائل ١۔ فرعون اور اس کی قوم ظلم کرنے والے تھے۔ ٢۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی تینوں درخواستوں کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار، اختیار اور علم کی بناء پر آدمی کے ساتھ ہوتا ہے : ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غار ثور میں ابوبکر کو فرمایا کہ ” اللہ “ ہمارے ساتھ ہے۔ ( التوبہ : ٤٠) ٢۔ اللہ تعالیٰ انسان کی شاہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ (ق : ١٦، الواقعہ : ٨٥) ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار اور اختیار کے اعتبار سے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ( المجادلۃ : ٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ١٦٢ ایک نظر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور جبار ہیں اور ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت مکہ میں تحریک اسلامی کچھ ایسے ہی حالات سے گزر رہی تھی۔ انبیائے سابقین کے قصص قرآن کے منہاج تربیت میں ایک اہم مواد اور وسائل تربیت ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی بعض کڑیاں سورت بقرہ ، سورت مائدہ ، سورت اعراف ، سورت یونس ، سورت اسرائ، سورت کہف اور سور طہ میں گزر چکی ہیں۔ جبکہ بعض دوسری سورتوں میں بھی حیات موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مجمل سے اشارات موجود ہیں۔ جہاں جہاں بھی اس قصے کی کڑی کی طرف کوئی اشارہ آیا ہے یا کوئی کڑی تفصیل کے ساتھ دی گئی ہے وہاں موضوع سخن کے ساتھ وہ کڑی اور وہ حصہ نہایت ہی موزوں رہا ہے ہر جگہ سیاق کلام کے ساتھ مناسب حصہ لایا گیا ہے۔ جس طرح اس قصے میں جو کڑیاں ہیں وہ اس سورت کے موضوع کے ساتھ متناسب ہیں اور اسی مقصد کو واضح کرتی ہیں۔ (تفصیلات کے لئے دیکھیے فی ظلال پارہ ششم) یہاں جو حلقہ دیا گیا ہے وہ رسالت او اس کی تکذیب کے ساتھ متعلق ہے اور تکذیب نیز حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سازش کی وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کی غرقابی کے واقعات دیئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی ظالموں کے چنگل سے ربانی پا گئے ۔ چناچہ یہ پوری کڑی اس آیت کی تصدیق ہے۔ وسیعلم الذین طلموا ای منقلب ینقلبون (٢٦ : ٢٢٨) ” اور عنقریب جان لیں گے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا کہ وہ کس انجام تک پہنچتے ہیں۔ “ اور اللہ کے اس قول کی بھی تصدیق ہے۔ فقد کذبوا فسیاتیھم انبوا ماکانوا بہ یستھزء ون (٢٦ : ٦) ” اب جبکہ انہوں نے جھٹلا دیا تو عنقریب پہنچ جائیں گی ان تک خبریں اس چیز کی جس کے ساتھ وہ مذاق کرتے تھے۔ “ حضرت موسیٰ کے قصے کا یہ حصہ چند مناظر پر مشتمل ہے جن کو دکھانا ضروری تھا۔ ان مناظر کے درمیان گیپ اور وقفے ہیں جن کے اندر منظر پر پردہ گر جاتا ہے او اس کے بعد جب پردہ اٹھتا ہے تو دوسرا منظر نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن کریم میں قصص کے پیش کرتے وقت محلوظ رہی ہے۔ اس کڑی میں سات مشاہد ہیں۔ پہلے منظر میں اللہ کی جانب سے ندا آتی ہے۔ حضرت موسیٰ رب سے ہمکلام ہوتے ہیں اور ان کو منصب نبوت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور ان پر وحی آتی ہے۔ دوسرے منظر میں کلیم اور فرعون کو آمنا سامنا ہوتا ہے۔ اس میں فرعون کے درباری بھی موجود ہیں۔ حضرت موسیٰ رسالت پیش فرماتے ہیں اور عصا اور ید بیضا کے معجزے بھی دکھائے جاتے ہیں۔ تیسرے منظر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو لایا جاتا ہے۔ ایک وسیع میدان میں لوگ جمع ہو کر مقابل ی کی تدابیر پر بحث ہوتی ہے۔ چوتھے منظر میں جادو گر فرعون کے دربار میں جمع ہیں اور انعام و اکرام کے پکے وعدے لے رہے ہیں۔ اگر وہ میدان مار لیں۔ پانچواں منظر مقابلے کا منظر ہے ، مقابلہ ہوتا ہے ، جادوگر ایمان لاتے ہیں۔ فرعون ان کو دھمکیاں دیتا ہے۔ چھٹے منظر میں دونوں کیمپوں کی جھلکیاں ہیں ایک طرف وحی الٰہی کا منظر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تیاری کرو اور میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل جائو اور دوسری طرف فرعون تمام علاقوں میں اپنے کارندے بھیجتا ہے اور فوجیں جمع ہوتی ہیں۔ ساتویں منظر میں یہ تعاقب کرنے والی افواج اور بھاگنے والوں مسلمان ایک سمندر کے سامنے ہیں۔ سمندر پھٹ جاتا ہے او ان آبی راستوں سے یہ مظلوم پار ہوجاتے ہیں اور ظالم غرق ہوجاتے ہیں۔ یہی مناظر سورت اعراف ، سورت یونس اور سورت طہ میں بھی پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن ہر جگہ انداز اور قصے کا رنگ مختلف ہے اور بات جس رخ پر جا رہی ہوتی ہے ، قصے کو بھی اسی انداز پر لایا جاتا ہے۔ چناچہ قصے کا وہ پہلو اجاگر کیا جاتا ہے جو زیر بحث موضوع کے ساتھ متعلق ہو۔ اعراف میں قصے کا آغاز ہی کلیم اور فرعون کے مختصر مکالمے سے ہوا ہے۔ پھر جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جبکہ فرعون او اس کے سرداروں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو اچھی طرح تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور جادوگروں کے مقابلے اور لشکر فرعون کی غرقابی کے درمیان مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر میں معجزات دکھاتے ہوئے منظر پر لایا گیا ہے۔ پھر جب یہ لشکر کامیابی کے ساتھ سمندر سے گزر جاتا ہے تو پھر ہجرت کی زندگی کے کئی حلقے پیش کئے گئے ہیں ، جبکہ یہاں اس سورت میں یہ کڑیاں حذف کردی گئی ہیں اور حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان توحید کے موضوع پر مکالمہ طوالت کے ساتھ دیا گیا ہے کیونکہ یہ اس سورت کا موضوع ہے اور مشرکین مکہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان یہی مکالمہ زوروں پر ہے اور سورت یونس میں مختصر مکالمہ کلیم و فرعون سے آغاز ہوتا ہے اور عصا اور ید بیضا کے معجزات بھی نہیں دکھائے جاتے اور جادوگروں کے ساتھ مکالمے کی تفصیلات بھی حذف کردی گئی ہیں جبکہ یہاں ان دونوں کو مفصل لایا گیا ہے اور طہ میں حضرت موسیٰ اور رب تعالیٰ کے درمیان مناجات کو مفصل لایا گیا ہے۔ پھر موسیٰ اور فرعون کا سامنا ، جادوگروں کا مقابلہ سرسری طور پر اور بنی اسرائیل کا سفر ہجرت مفصل ہے۔ یہاں فرعون کی غرقابی پر قصہ کے مناظر ختم کردیئے جاتے ہیں۔ اس طرح جب ہم اس قصے کو قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں بار بار پاتے ہیں تو قرآن کے اسلوب بیان کا یہ کمال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کسی جگہ بھی ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ یہ وہی قصہ ہے جو دہرایا جا رہا ہے کیونکہ ہر جگہ مختلف کڑیاں دکھائی گئی ہیں۔ مختلف مناظر ہیں۔ قصے کا ایک مخصوص پہلو کھول کر بیان کیا جاتا ہے اور انداز بیان تو ہر جگہ نیا ہوتا ہے۔ یہ تمام خصوصیات قصے کو ہر جگہ نیا بنا دیتی ہیں اور ہر جگہ قصہ اپنے موضوع کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہوتا ہے۔ درس نمبر ١٦٢ تشریح آیات ١٠……تا……٦٨ واذ نادی ……اسرائیل (١٧) اس سورت میں جو قصے لائے گئے ان کے ذریعے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ذرا سورت کے آغاز کو ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیں۔ لعلک باخع ……یستھزء ون (٦) (٢٦ : ٣ تا ٦) ” اے نبی شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں ، اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اب جبکہ یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ‘ ‘ اس تمہید کے بعد یہ تمام قصص لائے گئے ہیں اور ان میں بیان شدہ حصوں کا بنیادی مقصد مکذبین اور مستھزئین کا انجام بتانا ہے۔ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین (٢٦ : ١٠) قوم فرعون الا یتقون (٢٦ : ١١) ” انہیں اس وقت کا قصہ سنائو جب کہ تمہارے رب نے موسیٰ کو پکارا ” ظالم قوم کے پاس جا…فرعون کی قوم کے پاس …کیا وہ نہیں ڈرتے ؟ “ یہ ہے یہاں اس قصے کا پہلا منظر ، اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب رسالت عطا کر کے ایک مشن دے دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تم نے ایک ظالم قوم کے پاس جانا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے کہ کفر و گمراہی میں مبتلا ہیں۔ پھر انہوں نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا ہے کہ وہ ان کی عورتوں کو زندہ رکھتے ہیں اور مردوں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جگہ جگہ مذاق کرتے ہیں اور طرح طرح کی سزائیں دیتے ہیں۔ اس قوم کی صفات پہلے بیان کرنے کے بعد اب ان کا نام لیا جاتا ہے۔ قوم فرعون کے پاس جائو۔ حضرت موسیٰ اور تمام انسان تعجب کرتے ہیں کہ کیا یہ ظالم قوم اپنے برے انجام سے نہیں ڈرتی۔ کیا ان کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ کیا اپنے ان مظالم کا انجام انہیں معلوم نہیں ہے۔ کیا یہ لوگ اس قدر گھنائونے جرائم کے بعد بھی باز نہیں آتے۔ ان کا معاملہ تو عجیب ہے اور تعجب انگیز ہے اور اسی طرح تمام ایسی اقوام کا معاملہ ہے جو حدت گزر جاتی ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے فرعون اور اس کی قوم کا معاملہ کوئی نیا نہیں تھا وہ تو ان کو اچھی طرح جانتے تھے وہ فرعون کے ظلم ، اس کے جبر اور اس کی سرکشی سے اچھی طرح باخبر تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ تو ایک عظیم اور مشکل مشن ہے جو ان کے حوالے کردیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوریاں رکھ دیتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ اس دعوت سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور مستقلاً معذرت کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس مشن کے لئے مزید ضروری امداد اور معاونت کے طلبگار ہیں۔ قال رب انی اخاف ان یکذبون (٢٦ : ١٢) ویضیق صدری ولاینطلق لسانی فارسل الی ھرون (٢٦ : ٣١) ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (٢٦ : ١٣) اس نے عرض کیا ، ” اے میرے رب ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے ، اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “ یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو بات نقل کی گئی ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ محض تکذیب کے خوف سے یہ فرماتے ہیں بلکہ ان کو رسالت ایسے حالات میں دی جا رہی ہے کہ ان کے دل کے اندر تنگی پائی جاتی ہے اور ان کو طلاقت لسانی کا ملکہ حاصل نہیں ہے۔ رسالت کے سلسلے میں ان کو ہر کسی سے مباحثہ اور گفتگو کرنی ہوگی اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کی زبان میں لکنت ہے اور اس کے بارے میں سورت طہ میں انہوں نے تصریح فرمائی ہے۔ واحلل عقدہ من لسانی یفقھوا قولی ” اور میری زبان میں جو گرہ ہے اسے کھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھیں۔ “ جب انسان کی زبان میں لکنت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سینہ میں تنگی پیدا جاتی ہے۔ یہ تنگی اس وقت سخت تکلیف دہ ہوتی ہے کہ انسان بات کرنا چاہتا ہے اور جذبات کے ساتھ دلائل کا اظہار چاہتا ہے اور زبان اس وقت ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ جوں جوں خیالات اور جذبات کا سیلاب رواں ہوتا ہے ، زبان بند ہوتی ہے اور دل تنگ ہوجاتا ہے اور انسان کی حالت قابل دید ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ہر کسی کی دیکھی ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یشان ہیں کہ اگر ایسے حالات میں ان کی زبان کو گرہ لگ جائے تو بڑی عجیب پوزیشن ہوگی۔ خصوصاً جبکہ مقابلہ فرعون جیسے قہار و جبار کے ساتھ ہو۔ چناچہ حضرت نے اپنی کمزور یاپنے رب کے سامنے رکھی اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی کہ حضرت ہارون کو بھی مقام رسالت عطا کردیا جائے۔ ان کو بھی اس منصب میں شریک کردیا جائے تاکہ وہ دونوں مل کر اس عظیم فریضے کو ادا کریں۔ مقصد یہ نہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس منصب کو قبول کرنے سے ہچکچا رہے ہیں یا پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں اور حضرت ہارون چونکہ حضرت موسیٰ سے زیادہ فصیح اللسان تھے اور جذباتی اعتبار سے وہ ٹھنڈے دل دماغ کے مالک تھے ۔ جب دوران کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کو اگر گرہ لگ گئی تو حضرت ہارون ساتھ موجود ہوں گے وہ استدلال اور مکالمے کو آگے بڑھائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اس لکنت کو دور کرنے کے لئے خصوصی دعا بھی فرمائی جس طرح سورت طہ میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ نے اسے دور بھی کردیا ہو لیکن آپ نے پھر بھی حضرت ہارون کو شریک منصب کرنے کے لئے دعا فرمائی اور فرمایا کہ انہیں ان کے لئے وزیر مقرر فرمایا جائے۔ اسی طرح حضرت نے فرمایا۔ ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون (٢٦ : ١٣) ” اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “ لہٰذا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے مقابلہ کرنے سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ وہ ادائیگی فرض سے پہلوتہی چاہتے تھے بلکہ آپ حضرت ہارون کو وزیر اور شریک کار مقرر کروانا چاہتے تھے کہ اگر یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جرم قتل میں سزائے موت دے دیں تو ان کے بعد رسالت کا کام حضرت ہارون جاری رکھیں اور اس طرح فریضہ رسالت ادا ہوتا رہے جس طرح اللہ کا حکم تھا۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ احتیاطی تدابیر دعوت اسلامی اور رسالت کی خاطر اختیار کیں۔ داعی کی ذات کے لئے کچھ زیادہ فکر نہ تھی۔ یعنی اگر حضرت موسیٰ کی زبان کو گروہ لگ جائے او آپ تقریر نہ کرسکیں تو حضرت ہارون تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ نیا آنے والا نبی لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہے اور اچانک اس کی بات ہی رک جائے اور اس طرح دعوت اسلامی کو ایک کمزوری کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی طرح اگر ان کو قتل ہی کردیا جائے تو دعوت کا کام ہی رک جائے۔ حالانکہ دعوت کا کام جاری رہنا ضروری ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ سوچ بالکل فطری تھی۔ اس لئے کہ اللہ نے ان کو منتخب ہی اسی کام کے لئے کیا تھا اور اللہ نے اپنی نگرانی میں ان کی تربیت ہی اسی مقصد کے لئے فرمانی تھی اور ان کو اللہ نے اپنے کام کے لئے ہی بنایا تھا۔ جب حضرت موسیٰ نے اپنی اس دلچسپی کا اظہار کیا ، دعوت کے بارے میں اپنے خدشات اور احتیاطی تدابیر کا اظہار کیا تو اللہ نے ان کی درخواست قبول کرلی۔ اور آپ کو تسلی دے دی کہ آپ ڈریں نہیں ، یہاں قبولیت دعا کا مرحلہ نہایت ہی مختصر ہے۔ ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنانا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصر میں پہنچنا ، ہارون (علیہ السلام) سے ملنا ، تمام واقعاتک و حذف کر کے صرف یہ دکھایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں اپنے رب کے احکام لے کر فرعون کے ساتھ ہمکلام ہونے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن حضرت موسیٰ کے خدشات کو صرف ایک ہی سخت لفظ سے روکا جاتا ہے جو غنی کے معنی میں آتا ہے اور جو تنبیہ کے لئے ہے کلا ” ہرگز نہیں۔ “ قال کلا ……اسرائیل (١٨) (٢٦ : ١٥ تا ١٨) ” فرمایا ” ہرگز نہیں ، تم دونوں جائو ہماری نشانیاں لے کر ، ہم تمہار یساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جائو او اس سے کہو ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔ ہرگز نہیں نہ تمہارا دل تنگ ہوگا اور نہ تمہاری زبان میں لکنت ہوگی اور وہ ہرگز تمہیں قتل نہ کرسکیں گے۔ یہ سب خدشات آپ اپنے دل سے نکال دیں تم اور تمہارا بھائی دونوں جائو۔ فاذھبا بایتنا (٢٦ : ١٥) ” جائو ہماری نشانیاں لے کر “ ان نشانیوں میں سے عصا اور ید بیضا کی نشانی تو حضرت موسیٰ نے دیکھی ہوئی تھی۔ یہاں ان سب باتوں کو مختصر کردیا جاتا ہے کیونکہ اس سورت میں پیش نظر فرعون کے سامنے رسالت کا پیش کرنا ، جادوگروں کے کرتب دکھانا اور فرعون کی غرقابی کی منظر کشی کرنا ہے۔ جائو انا معکم مستمعون (٢٦ : ١٥) ” ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے “ نہایت ہی زور دار اور تاکیدی الفاظ میں کہا جاتا ہے ، جائو تمہیں اللہ کی حمایت یا رعایت اور تحفظ حاصل ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے جس طرح وہ ہر وقت ، ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہاں اللہ کی موجودگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم تمہاری مدد اور تائید کے لئے حاضر ہیں۔ یہاں نصرت و تائید کا یقین یوں دلایا گیا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں یعنی حضوری اور توجہ انسانوں کے نزدیک اپنے عروج پر ہوتی ہے جب انسان سنتا ہے اس لئے ان کو یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ میری امداد اور نصرت ہر وقت حاضر ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز کہ وہ ہر چیز کو ایک شخص اور مجسم صورت میں پیش کرتا ہے۔ اذھبا ” جائو “ فاتبا فرعون ” فرعون کے پاس جائو “ اور اس کو اپن یمہم سے آگاہ کردیا اور بغیر کسی خوف کے اس کے سامنے اپنا مطلب صاف صاف بیان کر دو ۔ فقولا انا رسول رب العلمین (٢٦ : ١٦) ” کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ‘ یہ تو دو ہیں لیکن چونکہ ہم ایک ہیں ، رسالت ایک ہے ، اس لئے دونوں ایک رسول ہیں۔ یہ اس فرعون کے سامنے کھڑے ہیں جو الوہیت کا دعویٰ کرتا تھا اور اپنی قوم کو یوں باور کراتا تھا۔ ماعلمت لکم من الہ غیری ” میں تمہارے لئے ، اپنے سوا کسی دوسرے الہ کو نہیں جانتا۔ “ یوں اس فرعون کے سامنے سب سے پہلے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں یعنی وہ عالمین کا رب ہے اور وہ عالمین کا رب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس میں کوئی مداہنت اور لیپا پوتی نہیں ہو سکتی۔ انا رسول رب العلمین (٢٦ : ١٦) ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (٢٦ : ١٨) ” ہم کو رب العالمین نے اس لئے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ “ قصہ موسیٰ کے ان اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرعون کے پاس اس لئے رسول بنا کر نہ بھیجا تھا کہ حضرت موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کو دین اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیں اور اسلام کے دین کو قبول کریں بلکہ ان کے پاس صرف اس لئے بھیجا گیا تھا کہ فرعون اور اس کی قوم سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کردیں۔ وہ اس کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور پھر جس طرح چاہیں اپنے رب کی بندگی کریں۔ وہ تو پہلے سے دین اسلام کے پیروکار تھے۔ حضرت یعقوب ، حضرت یوسف کے دین کو مانتے تھے البتہ ان کے نظریات اور ان کے ذہن میں انحراف ہوگیا تھا ان کے عقائد میں بگاڑ پیدا وہ گیا تھا اس لئے اللہ نے ان کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو دوبارہ ارسال کیا کہ وہ ان کے عقائد بھی درست کردیں اور ان کو فرعون کی غلامی سے بھی نجات دلائیں اور ان کو اچھی تربیت دے کر دوبارہ عقیدہ توحید پر قائم کردیں۔ …… یہاں تک تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو نبوت عطا ہوئی ، ان پر وحی آئی اور ان کو دعوت اسلامی کا مشن عطا ہوا۔ اب پردہ گرتا ہے اور دوسرے منظر میں پھر ہم فرعون کے دربار میں کھڑے ہیں۔ ان دونوں مناظر کے درمیان جو غیر ضروری افعال و حرکات ہیں ان کو کاٹ دیا جاتا ہے اور یہ قرآن کریم کا ایک مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مناظر و مشاہد کے درمیان سے غیر ضروری حصے کاٹ دیتا ہے یا مختصر کردیتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کا فرعون کے پاس پہنچنا اور گفتگو کرنا یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جو بہت سی آیات پر مشتمل ہے ان میں حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے فرعون کے پاس جانے اور گفتگو کرنے کا تذکرہ ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ فرعون بنی اسرائیل کا دشمن تھا۔ ان کے لڑکوں کو قتل کردیتا تھا اور ان کی جو لڑکیاں پیدا ہوتی تھیں انہیں زندہ چھوڑ دیتا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ کے دل میں ڈالا کہ اس بچہ کو ایک تابوت میں رکھ کر سمندر میں ڈال دو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اہل فرعون نے اس تابوت کو پکڑ لیا دیکھا کہ اس میں ایک بچہ ہے بچہ کو اٹھا لیا اور فرعون کی بیوی نے فرعون سے کہا اسے قتل نہ کرو ممکن ہے کہ یہ ہمیں کچھ فائدہ پہنچا دے یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں جب فرعون اس پر راضی ہوگیا تو دودھ پلانے والی عورت کی تلاش ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) کسی عورت کا دودھ نہیں لیتے تھے جب ان کی والدہ نے تابوت میں رکھ کر انہیں سمندر میں ڈالا تو ان کی بہن کو پیچھے لگا دیا تھا کہ دیکھ یہ تابوت کدھر جاتا ہے جب تابوت فرعون کے محل میں پہنچ گیا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا تو ان کی بہن بول اٹھی کہ میں تمہیں ایسا خاندان بتا دیتی ہوں جو ان کی کفایت کرلے گا ان لوگوں نے منظوری دے دی اور یہ جلدی سے اپنی والدہ کو لے آئیں موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کا دودھ قبول کرلیا اور اپنی والدہ کے پاس رہتے رہے لیکن فرعون کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے رہتے تھے جب بڑے ہوگئے تو فرعون کے محل میں رہنا سہنا شروع ہوگیا اور وہاں کئی سال گزارے پھر جب اور بڑے ہوگئے تو ایک قبطی یعنی فرعون کی قوم کے ایک شخص کا ان کے ہاتھ سے قتل ہوگیا لہٰذا ایک شخص کے مشورہ دینے پر مصر چھوڑ کر مدین چلے گئے وہاں ایک بزرگ کی لڑکی سے نکاح ہوگیا دس سال وہاں گزارے اس عرصہ میں بکریاں چراتے رہے پھر جب اپنے وطن یعنی مصر کو واپس ہونے لگے تو اپنی بیوی کو ساتھ لیا جنگل بیابان میں کوہ طور کے پاس پہنچے (جو مصر اور مدین کے درمیان ہے) اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ راستہ بھول گئے اور سردی بھی لگنے لگی کوہ طور پر آگ نظر آئی اپنی بیوی سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو میں جاتا ہوں تمہارے تاپنے کے لیے کوئی چنگاری لے آؤں گا یا کوئی راہ بتانے والا ہی مل جائے گا وہ نار نہ تھی بلکہ نور الہٰی تھا وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت سے نواز دیئے گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوا کہ فرعون کے پاس جاؤ اسے توحید کی دعوت دو ، وہ اور اس کی قوم ظالم لوگ ہیں انہیں کفر و شرک اور اس کی سزا سے بچنا چاہئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں اور ساتھ ہی یہ بات ہے کہ میرا دل تنگ ہونے لگتا ہے اور زبان میں بھی روانی نہیں ہے اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت سے سر فراز فرمائیے اور میرے کام میں شریک فرمائیے ایک بات اور بھی ہے وہ یہ کہ میرے ذمہ ان کا ایک جرم ہے میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا اب ڈر ہے کہ وہ مجھے اس کے بدلہ قتل نہ کردیں اللہ تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہوا تمہاری درخواست قبول کرلی گئی ہارون کو بھی نبوت سے سر فراز کردیا اور ان کو بھی تمہارے کام میں شریک کردیا اور تم اس بات کا خیال نہ کرو کہ تمہیں قتل کر دے گا ایسا ہرگز نہ ہوگا تم دونوں جاؤ اسے حق کی دعوت دو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تمہارا حال دیکھتے ہیں اور جو کچھ فرعون سے بات چیت ہوگی وہ سب ہم سنتے رہیں گے فرعون کے پاس پہنچو اور اس سے کہو کہ ہم رب العالمین کے پیغمبر ہیں تو رب العالمین پر ایمان لا اور ہماری رسالت کو بھی تسلیم کر اور رب العالمین کے سوا کسی کو اپنا رب اور معبود مت بنا اور ہمارا یہ بھی کہنا ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے اور اپنے بھائی ہارون کو ساتھ لیا اور دونوں فرعون کے پاس پہنچے اسے توحید کی دعوت دی اور بنی اسرائیل کو ساتھ بھیجنے کے لیے کہا فرعون نے کہا کہ اے موسیٰ جب تو چھوٹا سا بچہ تھا ہم نے تجھے پالا اپنی عمر کے کئی سال تم نے ہمارے ساتھ گزارے اور تو نے وہ حرکت کی جسے تو جانتا ہے (یعنی ایک قبطی کو قتل کردیا) ہم نے جو تیری پرورش کی تو نے اس کا بدلہ دیا اور شکر گزاری کی بجائے نا شکروں میں شامل ہوگیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ مجھ سے ایک شخص قتل ہوگیا تھا مجھ سے غلطی ہوگئی تھی (میں نے عمداً قتل نہیں کیا تھا اس کی ظالمانہ روش کو دیکھ کرتا دیباً مکا مارا تھا وہ ایک مکا لگنے سے مرگیا میرا مقصود نہ مارنا تھا نہ کوئی ایک مکا میں مرتا ہے) تم لوگ میرے قتل کے مشورے کر ہی رہے تھے لہٰذا میں قتل کے ڈر سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے دانشمندی عطاء فرما دی اور مجھے اپنے پیغمبروں میں شامل فرما دیا۔ اب جبکہ مجھے اللہ تعالیٰ کا فرمان لے کر تیرے پاس آنا ضروری ہوا، رہی یہ بات کہ تو نے میری پرورش کی تھی اور تو مجھ پر اس کا احسان جتا رہا ہے تو تجھے سمجھنا چاہئے کہ میری پرورش تجھے کیوں کرنی پڑی نہ تو بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرتانہ میں سمندر میں بہایا جاتا نہ تیرے گھر میں پہنچتا نہ تجھے پرورش کرنی پڑتی، تو نے جو بنی اسرائیل کو غلام بنارکھا تھا اس کی وجہ سے تیرے گھر میں میری پرورش کرائی گئی پھر یہ بھی تو دیکھ کہ میں نے ایک شخص کو قتل کیا میرا ایک شخص کا قتل کردینا تیرے نزدیک قابل ذکر ہے اور تو نے جو بنی اسرائیل کے لڑکے کثیر تعداد میں قتل کیے اس کا تجھے کوئی دھیان نہیں اگر تو نے ایک لڑکے کی پرورش کر ہی دی تو کیا اس سے اس ظلم کو دبایا جاسکتا ہے جو تو نے بنی اسرائیل کے ساتھ روا رکھا ہے۔ فرعون چونکہ اپنے ہی کو سب سے بڑا رب کہتا تھا اور اپنی قوم کے لوگوں سے منواتا تھا اور یہ لوگ خالق حقیقی جل مجدہ کے منکر تھے اس لیے موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) کا فرمانا کہ (اِِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) اچھا نہ لگا اس نے سوال جواب کے ذریعہ ان کی بات کو رد کرنے اور اپنے درباریوں کو مطمئن رکھنے کے لیے سوالات شروع کردیئے اس میں سے بعض سوال اور ان کے جواب سورة طہ کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں اور کچھ یہاں شعراء میں ذکر فرمائے ہیں فرعون کہنے لگا کہ یہ جو تم کہہ رہے ہو کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں یہ تو بتاؤ رب العالمین کون ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بےدھڑک جواب دیا کہ رب العالمین جل مجدہ وہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا اور جو ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے اس میں یہ بتادیا کہ اے فرعون تو اور تیرے آس پاس کے بیٹھنے والے اور تیری مملکت کے سارے افراد تیری سارے مملکت اور ساری دنیا اور اس کے رہنے بسنے والے رب العالمین ان سب کا رب ہے فرعون اور اس کے درباریوں نے یہ بات کبھی نہ سنی تھی وہ اچنبھے کے طور پر اپنے درباریوں سے کہنے لگا (اَلاَ تَسْتَمِعُوْنَ ) (کیا آپ لوگ سن رہے ہیں کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا (رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَاءِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ ) (رب العالمین تمہارا بھی رب اور تم سے پہلے جتنے باپ دادے گزرے ہیں ان سب کا بھی رب ہے) ایسی بےباکانہ بات سن کر فرعون سے کچھ بن نہ پڑا اور اپنے درباریوں سے بطور تمسخر یوں کہنے لگا کہ (اِِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ) کہ یہ شخص جو اپنے خیال میں تمہارا رسول بن کر آیا ہے مجھے تو اس کے دیوانہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ (اللہ کے رسولوں کو دیوانہ اور جادوگر تو کہا جاتا ہی رہا ہے فرعون نے بھی یہ حربہ استعمال کرلیا) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بات مزید آگے بڑھائی اور فرمایا کہ میں جس ذات پاک کو رب العالمین بتارہا ہوں وہ مشرق کا بھی رب ہے اور مغرب کا بھی اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے ان سب کا رب ہے اگر تم عقل رکھتے ہو تو اسے مان لو اب تو فرعون ظالمانہ کٹ حجتی پر آگیا جو ظالموں کا شعار ہے اور کہنے لگا کہ اے موسیٰ میرے سوا اگر تو نے کسی کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا تو جیل کاٹے گا اور وہاں کے مصائب میں مبتلا رہے گا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں دلیل سے بات کرتا ہوں میرے پاس اللہ کی طرف سے اس بات کی نشانی ہے کہ میں اس کا پیغمبر ہوں اگر میں نشانی پیش کر دوں تو پھر بھی جیل جانے کا مستحق ہوں ؟ حضرت موسیٰ کے فرمانے پر فرعون نے کہا اگر تم سچے ہو تو لاؤنشانی پیش کرو، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو جو نشانیاں دی تھیں ان میں ایک تو لاٹھی کو زمین پر ڈلوا کر سانپ بنا دینا تھا پھر ان کے پکڑنے سے وہ دو بارہ لاٹھی بن گئی تھی جیسا کہ سورة طہ میں بیان ہوچکا ہے دوسرے ان سے فرمایا تھا کہ تم اپنے گریبان میں اپناہاتھ داخل کرو انہوں نے ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ سفید ہو کر نکل آیا یہ سفیدی اس گورے پن سے کئی گنا زیادہ تھی جو عام طور سے گورے آدمیوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے یہ دونوں نشانیاں دے کر فرعون کے پاس بھیجا تھا اور فرمایا تھا کہ (فَذَالِکَ بُرْھَانَانِ مِنْ رَّبِکَ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَ مَلاَءِہٖ ) (سو یہ تمہارے رب کی طرف سے دو دلیلیں ہیں فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف لے کر جاؤ) فرعون نے نشانی طلب کی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی ڈال دی وہ فوراً اژدھا بن گئی اور گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالا تو خوب زیادہ سفید ہو کر نکلا دیکھنے والے اسے دیکھ کر دنگ رہ گئے تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢٣٣ میں لکھا ہے کہ اس وقت حضرت موسیٰ کا ہاتھ چاند کے ٹکڑے کی طرح چمک رہا تھا اس کے بعد فرعون نے مقابلہ کے لیے جادو گروں کو بلایا جیسا جیسا کہ آئندہ رکوع میں مذکور ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ یہ پہلی نقلی دلیل ہے جس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں اول یہ کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ دوم یہ کہ نہ ماننے والوں کو دنیا ہی میں ہلاک کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرما کر حکم دیا کہ اس ظالم قوم یعنی قوم فرعون کے پاس جاؤ۔ ” الا یتقون “ وہ بڑے ہی بیباک ہوچکے ہیں وہ خدا سے نہیں ڈرتے، شرک کرتے، غریبوں پر ظلم ڈھاتے اور تمردو سرکشی میں بد مست ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) اور ا ے پیغمبر وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب آپ کے پروردگار نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا کہ اے موسیٰ تو ان ظالم لوگوں کے پاس جا۔