Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 108

سورة الشعراء

فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۱۰۸﴾ۚ

So fear Allah and obey me.

پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور میری بات ماننی چاہیے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1081یعنی میں تمہیں جو ایمان باللہ اور شرک نہ کرنے کی دعوت دے رہا ہوں، اس میں میری اطاعت کرو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٣] لہذا تمہیں میرے متعلق ہرگز کچھ بدگمانی نہ رکھنا چاہئے اور ایسی بدگمانی کرنے کے سلسلہ میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اور مجھے اللہ تعالیٰ کا امانت دار پیغمبر سمجھ کر میری اطاعت کرنا چاہئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِيْعُوْنِ۝ ١٠٨ۚ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٨ (فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ) ” واضح رہی کہ رسول ( علیہ السلام) کی دعوت کے ہمیشہ دو حصے رہے ہیں۔ اس کا پہلا حصہ ہے : فَاتَّقُوا اللّٰہَ یا اعْبُدُوا اللّٰہَ یعنی اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یا اللہ کی بندگی کرو ! اور دوسرا حصہ ہے : وَاَطِیْعُوْنِکہ میرا حکم مانو ‘ میری اطاعت کرو ! اس لیے کہ رسول ( علیہ السلام) کی شخصی اطاعت لازم ہوتی ہے ‘ جیسا کہ سورة النساء (آیت ٦٤) میں فرمایا گیا : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ الاَّ لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط) ” اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول ( علیہ السلام) کو مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے “۔ اس سورة مبارکہ میں یہ نکتہ ہر رسول کے حوالے سے بار بار دہرایا گیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

78 That is, "When I am a truthiui and trustworthy Messenger, you are duty-bound to obey me alone as against all other patrons, and carry out my commands and instructions, because I represent the will of God: obedience to me is in fact obedience to God and disobedience to me is disobedience to Him." In other words, the people are not only required to accept a Messenger as a true Messenger sent by Allah, but it inevitably implies that they have to obey him and follow his Law against all other laws. To reject a Prophet, or to disobey him after accepting him as a Prophet, is tantamount to rebellion against God, which inevitably leads to His wrath. The words "fear AIlah" are, therefore, a warning that every heater should clearly understand the consequences of rejecting the message of a Messenger or of disobeying his commands.

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :78 یعنی میرے رسول امین ہونے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ تم دوسرے سب مطاعوں کی اطاعت چھوڑ کر صرف میری اطاعت کرو اور جو احکام میں تمہیں دیتا ہوں ان کے آگے سر تسلیم خم کر دو ، کیونکہ میں خداوند عالم کی مرضی کا نمائندہ ہوں ، میری اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور میری نافرمانی محض میری ذات کی نافرمانی نہیں بلکہ براہ راست خدا کی نافرمانی ہے ۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کا حق صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ جن لوگوں کی طرف وہ رسول بنا کر بھیجا گیا ہے وہ اس کی صداقت تسلیم کرلیں اور اسے رسول بر حق مان لیں ۔ بلکہ اس کو خدا کا سچا رسول مانتے ہی آپ سے آپ یہ بھی لازم آ جاتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور ہر دوسرے قانون کو چھوڑ کر صرف اسی کے لائے ہوئے قانون کا اتباع کیا جائے ۔ رسول کو رسول نہ ماننا ، یا رسول مان کر اس کی اطاعت نہ کرنا ، دونوں صورتیں دراصل خدا سے بغاوت کی ہم معنی ہیں اور دونوں کا نتیجہ خدا کے غضب میں گرفتار ہونا ہے ۔ اسی لیے ایمان اور اطاعت کے مطالبے سے پہلے اللہ سے ڈرو کا تنبیہی فقرہ ارشاد فرمایا گیا تاکہ ہر مخاطب اچھی طرح کان کھول کر سن لے کہ رسول کی رسالت تسلیم نہ کرنے یا اس کی اطاعت قبول نہ کرنے کا نتیجہ کیا ہو گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:108) اطیعون : ای اطیعونی تم میری فرمانبرداری کرو۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45:۔ انبیاء (علیہم السلام) ہمیشہ نبوت سے پہہلے بھی اخلاقی محاسن و فضائل سے آراستہ ہوتے ہیں اور اپنی قوموں اور اپنے ماحول میں دیانت و امانت اور دوسری اخلاقی خوبیوں کے ساتھ معروف ہوتے ہیں اس لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) نے جن کا ذکر آگے آرہا ہے اپنی اپنی قوم کو اس مسلمہ حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ میری دیانت و امانت کو تو تم پہلے ہی سے جانتے ہو اس لیے میں جو کچھ کہوں گا وہ حقیقت ہوگی میں اللہ کا رسول ہوں اس لیے تم میری اطاعت کرو اور اللہ سے ڈرو، اس کی توحید کو مانو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو۔ فاتقوا اللہ واطیعون فیما امرکم بہ من التوحید والطاعۃ للہ تعالیٰ (روح ج 19 ص 107) اور پھر یہ بھی سوچو اس وعظ و تبلیغ پر میں تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کر رہا ہوں۔ اس لیے مجھ پر کسی لالچ وغیرہ کا الزام لگانے میں اللہ سے ڈرو اور میری بات مان لو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(108) سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو امانت دار یعنی جو پیغام اللہ تعالیٰ کی جانب سے آتا ہے اس کو بلا کم وکاست تم تک پہنچاتا ہوں لہٰذا ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری پیروی کرو۔