10 The sentence, "My breast straitens", shows that Prophet Moses was somewhat hesitant of going alone on such a difficult mission, and also had the feeling that he was not eloquent in speech. That is why he begged Allah to appoint Aaron too, as messenger to assist him who, being more vigorous in speech, could support and strengthen him as and when the need arose. It is just possible :hat in the beginning, the Prophet Moses might have begged that Aaron be appointed to Prophet hood instead of him, but later when he felt that Allah willed him to be appointed to that position, he might have appealed that Aaron should at least be made his counselor and assistant. We say this because here Prophet Moses is not praying for Aaron to be made his counselor, but says, "Appoint Aaron to Prophet hood." On the other hand, in Surah Ta Ha, he says, "Appoint for me a counselor from my family-(Iet it be) my brother Aaron." Then in Surah AlQasas, he says, "My brother Aaron is more vigorous in speech than myself, so send him as an assistant with me to confirm (and support) me." From this it appears that these two requests were made later, but originally Prophet Moses had begged Allah to appoint Aaron to Prophet hood instead of himself.
The Bible has a different story to tell. According to it, Prophet Moses, fearing that he would be rejected by the people of Pharaoh, and putting forward the excuse of his faltering speech, had declined to accept his appointment to prophet hood on the pretext that he lacked vigour and eloquence in speech : "O my, Lord, send, I pray Thee, by the hand of him whom thou wilt send." (Exodus, 4: 13), Then Allah, of His own will, appointed Aaron to be his assistant and persuaded them: to go together before Pharaoh. (Exodus, 4: 1-13). For further details, see E.N. 19 of Ta Ha.
سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :10
سورہ طٰہٰ رکوع 2 ، اور سورہ قصص رکوع 4 میں اس کی جو تفصیل آئی ہے اسے ان آیات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اول تو اتنے بڑے مشن پر تنہا جاتے ہوئے گھبراتے تھے ( میرا سینہ گھٹتا ہے کے الفاظ اسی کی نشان دہی کرتے ہیں ) ، دوسرے ان کو یہ بھی احساس تھا کہ وہ روانی کے ساتھ تقریر نہیں کرسکتے ۔ اس لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ حضرت ہارون کو ان کے ساتھ مددگار کی حیثیت سے نبی بنا کر بھیجا جائے کیونکہ وہ زیادہ زبان آور ہیں ، جب ضرورت پیش آئے گی تو وہ ان کی تائید و تصدیق کر کے ان کی پشت مضبوط کریں گے ۔ ممکن ہے کہ ابتداءً حضرت موسیٰ کی درخواست یہ رہی ہو کہ آپ کے بجائے حضرت ہارون کو اس منصب پر مامور کیا جائے ، اور بعد میں جب آپ نے محسوس کیا ہو کہ مرضی الٰہی آپ ہی کو مامور کرنے کی ہے تو پھر یہ درخواست کی ہو کہ انہیں آپ کا وزیر اور مدد گار بنایا جائے ۔ یہ شبہہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ یہاں حضرت موسیٰ ان کو وزیر بنانے کی درخواست نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ عرض کر رہے ہیں یہ : فَاَرْسِلْ اِلیٰ ھَارُوْنَ ، آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں ۔ اور سورہ طٰہٰ میں وہ یہ گزارش کرتے ہیں کہ وَجْعَلْ لِّیْ وَزِیْراً مِّنْ اَھْلِیْ ھَارُوْنَ اَخِیْ ، میرے لیے میرے خاندان میں سے ایک وزیر مقرر فرما دیجیے ، میرے بھائی ہارون کو ۔ نیز سورہ قصص میں وہ یہ عرض کرتے ہیں کہ : وَاَخِیْ ھٰرُوْنَ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَاناً فَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْاءً یُّصَدِّقُنِیْ ، میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہیں لہٰذا انہیں مددگار کے طور پر میرے ساتھ بھیجیے تاکہ وہ میری تصدیق کریں ۔ اس سے خیال ہوتا ہے کہ غالباً یہ مؤخر الذکر دونوں درخواستیں بعد کی تھیں ، اور پہلی بات وہی تھی جو حضرت موسیٰ سے اس سورے میں نقل ہوئی ہے ۔
بائیبل کا بیان اس سے مختلف ہے ۔ وہ کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ نے قوم فرعون کی تکذیب کا خوف اور اپنی زبان کے کند ہونے کا عذر پیش کر کے یہ منصب قبول کرنے سے بالکل ہی انکار کر دیا تھا : اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں ۔ کسی اور کے ہاتھ سے جسے تو چاہے یہ پیغام بھیج ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بطور خود حضرت ہارون کو ان کے لیے مددگار مقرر فرما کر انہیں اس بات پر راضی کیا کہ دونوں بھائی مل کر فرعون کے پاس جائیں ( خروج باب 4 ۔ آیات ا تا 71 ) مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم ، طٰہٰ ، حاشیہ 19 ۔