Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 67

سورة الشعراء

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۷﴾

Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.

یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کے اکثر لوگ ایمان والے نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ فِي ذَلِكَ لاَيَةً ... Verily, in this is indeed a sign, meaning, this story with its wonders and tales of aid to the believing servants of Allah is definitive proof and evidence of Allah's wisdom. ... وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّوْمِنِينَ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

671یعنی اگرچہ اس واقعے میں، جو اللہ کی نصرت و معاونت کا واضح مظہر ہے، بڑی نشانی ہے لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٦] یعنی اس واقعہ میں ہر طرح کے لوگوں کے لئے نشانی ہے۔ ظالموں کے لئے یہ نشانی ہے کہ وہ اپنے کرتوتوں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا دست قدرت انھیں ایسے راستوں سے مقام ہلاکت کی طرف کھینچ لاتا ہے جن کا انھیں وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ لہذا اے معاندین قریش تم بھی اس واقعہ سے عبرت حاصل کرو کہ کہیں تمہیں بھی ایسے انجام بد سے دوچار نہ ہونا پڑے اور اس واقعہ میں ایمان لانے والوں کے لئے بھی نشانی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو آزماتا ضرور ہے۔ انھیں تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں۔ بالاخر اللہ تعالیٰ مظلوموں کی ہی مدد کرتا ہے اور ظالموں کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً : ایک ہی پانی کے ذریعے سے کسی کو بچا لینے اور کسی کو غرق کردینے میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قوموں اور سلطنتوں میں انقلاب آتے رہتے ہیں، مگر ایسے حیرت انگیز اور عظیم الشان واقعہ کے ساتھ انقلاب ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : اس جگہ ” اَكْثَرُهُمْ “ سے مراد ان لوگوں میں سے اکثر مراد نہیں جو فرعون کے ساتھ آئے تھے، کیونکہ وہ تو سب غرق ہوگئے اور غرق ہوتے وقت ایمان لائے بھی تو بےسود۔ (دیکھیے یونس : ٩٠، ٩١) مراد مصر میں فرعون سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ ہیں کہ ان کے اکثر ایمان نہیں لائے، بہت کم ایمان لائے۔ جن میں فرعون کے جادو گر، اس کی بیوی آسیہ اور اس کی قوم کے چند لڑکے شامل تھے۔ (دیکھیے یونس : ٨٣) اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی بھی ہے کہ اتنے عظیم الشان معجزے دیکھ کر بھی ان کے اکثر ایمان نہیں لائے تو آپ اپنی قوم کے اکثر لوگوں کے ایمان نہ لانے پر اتنے غمگین کیوں ہیں ؟ یہاں مفسرین نے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں میں ایک خاتون کا ذکر کیا ہے، جس کے بتانے پر بنی اسرائیل یوسف (علیہ السلام) کی میّت کو ان کی قبر سے نکال کر ساتھ لے گئے تھے اور جس نے اس شرط پر موسیٰ (علیہ السلام) کو اس قبر کی نشان دہی کی تھی کہ وہ اس بات کی ضمانت دیں کہ اسے جنت میں ان کا ساتھ ملے گا۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں، میں نے مفسرین کی دیکھا دیکھی اسے نقل کردیا ہے، ورنہ اس میں نکارت ہے، یعنی یہ واقعہ صحیح نہیں ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً۝ ٠ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ ٦٧ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٧) اور یہ جو ہم نے ان کے ساتھ معاملہ کیا اس واقعہ میں بھی بڑی عبرت ہے اور باوجود اس کے ان میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٧ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃًط وَمَا کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) ” اس آیت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر مشرکین مکہّ کو کوئی نشانی چاہیے تو وہ اس واقعہ کو دیکھ لیں۔ اور اگر انہیں اس میں کوئی نشانی نظر نہیں آتی تو پھر کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کی آنکھیں نہیں کھول سکے گا۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خواہ کتنی ہی کوشش کریں ان کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

49 That is, the Quraish have this lesson to learn from this: "The obdurate people like Pharaoh, his chiefs and followers had not believed even though they had been shown clear miracles for years. They had been so blinded by obduracy that even on the occasion of their drowning in the sea although they had seen the sea parting asunder in front of their very eyes, the waters standing like high mountains on either side, and the dry path in between for the Israelite caravans to pass, yet they failed to understand that Moses had Divine succour and support with him which they had come out to fight. At last when they came to their senses, it was too late, because they had been overtaken by the wrath of Allah and the sea waters had covered them completely. It was on this occasion that Pharaoh had cried out "I have believed that there is no god but the real God in Whom the Children of Israel have believed and I am of those who surrender." (Yunus: 90). On the other hand, there is a Sign in this for the believers, too. They should understand how Allah by His grace causes the Truth to prevail in the long run and the falsehood to vanish even though the forces to evil may appear to be dominant for the time being .

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :49 یعنی قریش کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ ہٹ دھرم لوگ کھلے کھلے معجزات دیکھ کر بھی کس طرح ایمان لانے سے انکار ہی کیے جاتے ہیں اور پھر اس ہٹ دھرمی کا انجام کیسا درد ناک ہوتا ہے ۔ فرعون اور اس کی قوم کے تمام سرداروں اور ہزارہا لشکریوں کی آنکھوں پر ایسی پٹی بندھی ہوئی تھی کہ سالہا سال تک جو نشانیاں ان کو دکھائی جاتی رہیں ان کو تو وہ نظر انداز کرتے ہی رہے تھے ، آخر میں عین غرق ہونے کے وقت بھی ان کو یہ نہ سوجھا کہ سمندر اس قافلے کے لیے پھٹ گیا ہے ، پانی پہاڑوں کی طرح دونوں طرف کھڑا ہے اور بیچ میں سوکھی سڑک سی بنی ہوئی ہے ۔ یہ صریح علامتیں دیکھ کر بھی ان کو عقل نہ آئی کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خدائی طاقت کام کر رہی ہے اور وہ اس طاقت سے لڑنے جا رہے ہیں ۔ ہوش ان کو آیا بھی تو اس وقت جب پانی نے دونوں طرف سے ان کو دبوچ لیا تھا اور وہ خدا کے غضب میں گھر چکے تھے ۔ اس وقت فرعون چیخ اٹھا کہ : اٰمَنْتُ اَنَّہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہ بَنُوْٓ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ O ( یونس ۔ آیت 90 ) ۔ دوسری طرف اہل ایمان کے لیے بھی اس میں یہ نشانی ہے کہ ظلم اور اس کی طاقتیں خواہ بظاہر کیسی ہی چھائی ہوئی نظر آتی ہوں ، آخر کار اللہ تعالیٰ کی مدد سے حق کا یوں بول بالا ہوتا ہے اور باطل اس طرح سرنگوں ہو کر رہتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ بلکہ بےایمان تھے ان میں سے صرف چند آدمی ایمان لائے تھے جیسے حزقیل اور اس کی بیٹی، فرعون کی بیوی حضرت آسیہ اور ایک بڑھیا جس نے حضرت یوسف کی قبر بتائی تھی۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکلے تو راستہ بھول گئے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا ” یہ کیا “ ؟ بنی اسرائیل کے علما نے کہا ” حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے وفات کے وقت ہمارے بزرگوں سے عہد لیا تھا کہ جب تم مصر سے نکلو تو میرا تابوت ساتھ لے کر جانا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے پوچھا تم میں سے کسی شخص کو ان کی قبر کا علم ہے۔ وہ کہنے لگے صرف ایک بڑھیا کو اس کا علم ہے بڑھیا سے دریافت کرنے پر اس نے جواب دیا کہ ” میں اس شرط پر بتائوں گی کہ آپ میرا یہ مطالبہ تسلیم کرلیں ہ میں جنت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہوں گی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ مطالبہ تسلیم کرلیا۔ چناچہ اس کی نشان دہی پر وہ تابوت نکالا گیا اور اسے لے کر چلے تو راستہ روز روشن کی طرح صاف تھا۔ (شوکانی) فقلتہ تبعا للمفسرین و فیہ نکارۃ واللہ اعلم (ابن کثیر) اس جگہ ” اکثرھم “ سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو فرعون سے نسبت رکھتے تھے نہ کہ صرف وہ لوگ جو لشکر میں اس کے ساتھ سمندر پر پہنچے تھے کیونکہ وہ تو سب کے سب غرق ہوگئے تھے اور ان میں سے کوئی شخص بھی ایمان نہیں لایا تھا (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان فی ذلک ……مئومنین (٦٧) اس لئے اگر خارق عادت معجزات کا صدور بھی ہوجائے تو نہ ماننے والے پھر بھی نہیں مانتے۔ اگرچہ بظاہر لوگ لاجواب ہوجائیں ، کیونکہ تو ایک ہدایت ہے اور ہدیات وہ ہوتی ہے جسے دل قبول کرے۔ وان ربک لھو العزیز الرحیم (٦٨) ’ ۔ “ یہ پوری سورت کا سبق اور محور ہے کہ معجزات اور آیات پیش کرنے کے بعد ، اگر لوگ تکذیب پر اصرار کریں گے تو اللہ بھی عزیز ہے۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ اس میں بہت بڑی نشانی ہے) (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اور ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بلاشبہ آپ کا رب عزت والا ہے رحمت والا ہے) وہ گرفت فرمانے پر بھی قادر ہے اور رحم بھی فرماتا ہے مومن بندوں کو اس کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہئے اور اس کی رحمت کا امید وار رہنا چاہئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

67۔ کچھ شک نہیں کہ اس واقعہ میں بڑی عبرت آموز نشانی ہے اور باوجود اس کے ان میں کے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے۔