Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 87

سورة الشعراء

وَ لَا تُخۡزِنِیۡ یَوۡمَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾

And do not disgrace me on the Day they are [all] resurrected -

اور جس دن کہ لوگ دوبارہ جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And disgrace me not on the Day when they will be resurrected. means, `protect me from shame on the Day of Resurrection and the Day when all creatures, the first and the last, will be raised.' Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَة Ibrahim will see his father on the Day of Resurrection, covered with dust and darkness. According to another narration, also from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, the Prophet said: يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنَّكَ لاَ تُخْزِينِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرين Ibrahim will meet his father and will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when all creatures are resurrected." And Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers." He also recorded this in the Hadiths about the Prophets, upon them be peace, where the wording is: يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ ازَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى وَجْهِ ازَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لاَ تَعْصِينِي فَيَقُولُ أَبُوهُ فَالْيَوْمَ لاَ أَعْصِيكَ فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لاَ تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الاَْبْعَدِ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ ثُمَّ يُقَالُ يَا إِبْرَاهِيمُ انْظُرْ تَحْتَ رِجْلِكَ فَيَنْظُرَ فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ فَيُوْخَذُ بِقَوَايِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّار Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection, and there will be dust and darkness on Azar's face. Ibrahim will say to him, "Did I not tell you not to disobey me!" His father will say to him: "Today I will not disobey you." Ibrahim will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when they are resurrected, but what disgrace can be greater than seeing my father in this state!" Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers." Then it will be said: "O Ibrahim! Look beneath your feet." So he will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the Fire. This was also recorded by Abu Abdur-Rahman An-Nasa'i in the Tafsir of his Sunan Al-Kubra. يَوْمَ لاَ يَنفَعُ مَالٌ وَلاَ بَنُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

871یعنی تمام مخلوق کے سامنے میرا مؤاخذہ کرکے یا عذاب سے دوچار کرکے حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد کو برے حال میں دیکھیں گے، تو ایک مرتبہ پھر اللہ کی بارگاہ میں ان کے لئے مغفرت کی درخواست کریں گے اور فرمائیں گے یا اللہ ! اس سے زیادہ میرے لئے رسوائی اور کیا ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے۔ پھر ان کے باپ کو نجاست میں لتھڑے ہوئے بجو کی شکل میں جہنم میں ڈال دیا جائے گا (صحیح بخاری)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٣] یعنی قیامت کے دن مجھے تمام اولین و آخرین کے سامنے یوں رسوا نہ کرنا کہ باپ سزا پا رہا ہو اور ابراہیم کھڑا دیکھ رہا ہو۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ~ نے فرمایا : کہ حضرت ابراہم قیامت کے دن اپنے والد کو اس حال میں دیکھیں گے کہ منہ پر سیاہی اور گردو غبار چڑھ رہا ہوگا۔ آپ والد سے کہیں گے۔ میں نے تمہیں کہا نہ تھا میری نافرمانی نہ کرو۔ باپ کہے گا : آج میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں۔ پھر حضرت ابراہیم اپنے پروردگار سے کہیں گے کہ آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ قیامت کے دن تجھے ذلیل نہیں کروں گا اس سے بڑھ کر میری کیا ذلت ہوگی کہ میرا باپ ذلیل ہو رہا ہے اور تیری رحمت سے محروم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے پھر حضرت ابراہیم سے کہا جائے گا۔ ذرا اپنے پاؤں تلے تو دیکھو وہ دیکھیں گے تو ای نجاست سے لتھڑا ہوا بجو نظر آئے گا) اور والد کا کوئی پتہ نہیں لگے گا ( پھر اس کے پاؤں سے پکڑ کر اس بجو کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا && (بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب واتخذ اژ ابراہیم فیصلا ( گویا قیامت کے دن حضرت ابراہیم کی رسوائی کا علاج کیا جائے گا کہ آپ کے باپ کی شکل و صورت ہی مسخ کردی جائے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا تُخْزِنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُوْنَ : یعنی قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے میرا مؤاخذہ کرکے، یا میرے والد کو عذاب دے کر مجھے رسوا نہ کر کہ لوگ اسے جہنم میں جلتا ہوا دیکھ کر کہیں یہ ابراہیم کا باپ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا بھی قبول فرمائی، چناچہ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( یَلْقٰی إِبْرَاھِیْمُ أَبَاہُ آزَرَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ عَلٰی وَجْہِ آزَرَ قَتَرَۃٌ وَغَبَرَۃٌ فَیَقُوْلُ لَہُ إِبْرَاھِیْمُ أَلَمْ أَقُلْ لَّکَ لَا تَعْصِنِيْ ؟ فَیَقُوْلُ أَبُوْہُ فَالْیَوْمَ لَا أَعْصِیْکَ ، فَیَقُوْلُ إِبْرَاھِیْمُ یَا رَبِّ ! إِنَّکَ وَعَدْتَنِيْ أَنْ لَّا تُخْزِیَنِيْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ ، فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزٰی مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ ؟ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِنِّيْ حَرَّمْتُ الْجَنَّۃَ عَلَی الْکَافِرِیْنَ ، ثُمَّ یُقَالُ یَا إِبْرَاھِیْمُ ! مَا تَحْتَ رِجْلَیْکَ ؟ فَیَنْظُرُ فَإِذَا ھُوَ بِذِیْخٍ مُلْتَطِخٍ فَیُؤْخَذُ بِقَوَاءِمِہِ فَیُلْقٰی فِي النَّارِ ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : ( واتخذ اللہ إبراہیم خلیلا ) : ٣٣٥٠ ] ” قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ کو اس حال میں ملیں گے کہ اس کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اس سے کہیں گے : ” میں نے تجھے کہا نہ تھا کہ میری نافرمانی مت کر۔ “ ان کا باپ کہے گا : ” تو آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) کہیں گے : ” اے رب ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے اس دن رسوا نہیں کرے گا جب لوگ اٹھائے جائیں گے، تو میرے بدنصیب باپ سے بڑھ کر ذلت کیا ہوگی۔ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ” یقیناً میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے۔ “ پھر کہا جائے گا : ” ابراہیم ! تیرے پاؤں کے نیچے کیا ہے ؟ “ وہ دیکھیں گے تو اچانک گندگی میں لت پت ایک بِجّو ہوگا، پھر اس بِجّو کو اس کی ٹانگوں سے پکڑ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ “ گویا اللہ تعالیٰ مشرک پر جنت حرام کرنے کا قانون بھی قائم رکھیں گے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسوا ہونے سے بھی بچا لیں گے کہ رسوائی تو تب ہو کہ لوگ دیکھیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ آگ میں جل رہا ہے۔ ایک بِجّو آگ میں جل رہا ہو تو کسی کو کیا خبر کہ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا تُخْزِنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُوْنَ۝ ٨٧ۙ خزن الخَزْنُ : حفظ الشیء في الخِزَانَة، ثمّ يعبّر به عن کلّ حفظ کحفظ السّرّ ونحوه، وقوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21] ( خ زن ) الخزن کے معنی کسی چیز کو خزانے میں محفوظ کردینے کے ہیں ۔ پھر ہر چیز کی حفاظت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے جیسے بھیدہ وغیرہ کی حفاظت کرنا اور آیت :۔ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21] اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں ۔ بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] ، زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] ، ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] ، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة . - وإلهي، وذلک ضربان : - أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس والأنواع لا عن ليس «3» ، وذلک يختص به الباري تعالی، ولم يقدر عليه أحد . والثاني : إحياء الموتی، وقد خص بذلک بعض أولیائه، كعيسى صلّى اللہ عليه وسلم وأمثاله، ومنه قوله عزّ وجل : فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] ، يعني : يوم الحشر، وقوله عزّ وجلّ : فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ [ المائدة/ 31] ، أي : قيّضه، وَلَقَدْ بَعَثْنا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا [ النحل/ 36] ، نحو : أَرْسَلْنا رُسُلَنا [ المؤمنون/ 44] ، وقوله تعالی: ثُمَّ بَعَثْناهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] ، وذلک إثارة بلا توجيه إلى مکان، وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً [ النحل/ 84] ، قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ [ الأنعام/ 65] ، وقالعزّ وجلّ : فَأَماتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ [ البقرة/ 259] ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ ما جَرَحْتُمْ بِالنَّهارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ [ الأنعام/ 60] ، والنوم من جنس الموت فجعل التوفي فيهما، والبعث منهما سواء، وقوله عزّ وجلّ : وَلكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعاثَهُمْ [ التوبة/ 46] ، أي : توجههم ومضيّهم . ( ب ع ث ) البعث ( ف ) اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بھیجنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور مردوں کے متعلق استعمال ہو تو قبروں سے زندہ کرکے محشر کی طرف چلانا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] اور مردوں کو تو خدا ( قیامت ہی کو ) اٹھایا جائے گا ۔ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا ۔ زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] جو لوگ کافر ہوئے ان کا اعتقاد ہے کہ وہ ( دوبارہ ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ۔ کہدو کہ ہاں ہاں میرے پروردیگا رکی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤگے ۔ ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] تمہارا پیدا کرنا اور جلا اٹھا نا ایک شخص د کے پیدا کرنے اور جلانے اٹھانے ) کی طرح ہے پس بعث دو قسم پر ہے بعث بشری یعنی جس کا فاعل انسان ہوتا ہے جیسے بعث البعیر ( یعنی اونٹ کو اٹھاکر چلانا ) کسی کو کسی کام کے لئے بھیجنا دوم بعث الہی یعنی جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو پھر اس کی بھی دوقسمیں ہیں اول یہ کہ اعیان ، اجناس اور فواع کو عدم سے وجود میں لانا ۔ یہ قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس پر کبھی کسی دوسرے کو قدرت نہیں بخشی ۔ دوم مردوں کو زندہ کرنا ۔ اس صفت کے ساتھ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھی سرفراز فرمادیتا ہے جیسا کہ حضرت عیسٰی (علیہ السلام) اور ان کے ہم مثل دوسری انبیاء کے متعلق مذکور ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] اور یہ قیامت ہی کا دن ہے ۔ بھی اسی قبیل سے ہے یعنی یہ حشر کا دن ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ [ المائدة/ 31] اب خدا نے ایک کوا بھیجا جو زمین کو کرید نے لگا ۔ میں بعث بمعنی قیض ہے ۔ یعنی مقرر کردیا اور رسولوں کے متعلق کہا جائے ۔ تو اس کے معنی مبعوث کرنے اور بھیجنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَلَقَدْ بَعَثْنا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا [ النحل/ 36] اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں أَرْسَلْنا رُسُلَنا [ المؤمنون/ 44] فرمایا ہے اور آیت : ۔ ثُمَّ بَعَثْناهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] پھر ان کا جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدت وہ ( غار میں ) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کو مقدار کس کو خوب یاد ہے ۔ میں بعثنا کے معنی صرف ۃ نیند سے ) اٹھانے کے ہیں اور اس میں بھیجنے کا مفہوم شامل نہیں ہے ۔ وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً [ النحل/ 84] اور اس دن کو یا د کرو جس دن ہم ہر امت میں سے خود ان پر گواہ کھڑا کریں گے ۔ قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ [ الأنعام/ 65] کہہ و کہ ) اس پر بھی ) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عذاب بھیجے ۔ فَأَماتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ [ البقرة/ 259] تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی ( اور ) سو برس تک ( اس کو مردہ رکھا ) پھر اس کو جلا اٹھایا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ ما جَرَحْتُمْ بِالنَّهارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو رات کو ( سونے کی حالت میں ) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کبھی تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھادیتا ہے ۔ میں نیند کے متعلق تونی اور دن کو اٹھنے کے متعلق بعث کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ نیند بھی ایک طرح کی موت سے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعاثَهُمْ [ التوبة/ 46] لیکن خدا نے ان کا اٹھنا ( اور نکلنا ) پسند نہ کیا ۔ میں انبعاث کے معنی جانے کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٧ تا ٨٩) اور جس روز سب قبروں سے زندہ ہو کر اٹھیں گے اس روز مجھے رسوا نہ کرنا جس دن کہ نہ کثرت مال کام آئے گا اور نہ اولاد کی زیادتی مگر ہاں جو اللہ کے پاس گناہوں سے یا یہ کہ دنیا کی محبت سے یا یہ کہ اصحاب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دشمنی سے پاک وصاف دل لے کر آئے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

64 That is, "Do not put me to disgrace on the Day of Judgement by inflicting punishment on my father in front of all mankind, when I myself shall be witnessing his punishment helplessly."

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :64 یعنی قیامت کے روز یہ رسوائی مجھے نہ دکھا کہ میدان حشر میں تمام اوّلین و آخرین کے سامنے ابراہیم علیہ السلام کا باپ سزا پا رہا ہو اور ابراہیم علیہ السلام کھڑا دیکھ رہا ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:87) لاتخزنی۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ تو مجھے رسوا نہ کر۔ ای بتعذیب ابی یوم القیامۃ او یبعثہ فی اعداد الضالین یعنی قیامت کے روز میرے باپ کو عذاب دے کر یا اسے گمراہوں میں اٹھا کر مجھے شرمندہ نہ کرنا ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

4 ۔ کہ سب کے سامنے مجھ پر کوئی عتاب ہو یا میرے باپ کو عذاب دے اور میں کھڑا دیکھ رہا ہوں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اپنے ولد کو پریشان حال دیکھ کر اپنی یہی دعا اللہ تعالیٰ کو یاد دلائیں گے تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو رسوائی سے بچانے کے لئے ان کے باپ کو نجاست آلود بجو کی شکل میں تبدل کر کے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَلاَ تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْنَ اِِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (اور مجھے اس دن رسوا نہ کیجیے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ بیٹے سوائے اس شخص کے جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کے پاس آئے) اس سے معلوم ہوا کہ جنت النعیم حاصل ہونے کی دعا کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ قیامت کے دن رسوا نہ فرمائیے جنت میں تو کوئی رسوائی نہیں ہے اس سے پہلے رسوائی ہوسکتی ہے جیسا کہ بہت سے گناہ گاروں کے ساتھ ایسا ہوگا کہ قیامت کے دن رسوائی اور ذلت اور عذاب میں مبتلا ہوں گے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اس دن بھی با عزت ہوں گے دوسرے اشخاص اس سے عبرت حاصل کریں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے باپ آزر سے ملاقات ہوجائے گی آزر کا چہرہ بےرونق اور سیاہی والا ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ سے فرمائیں گے کیا میں نے تجھ سے نہ کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر، اس پر ان کا باپ کہے گا کہ آج حکم دو میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گا اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بار گاہ الہٰی میں عرض کریں گے کہ اے میرے پروردگار کیا آپ نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں فرمایا کہ جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اس دن آپ مجھے رسوا نہ کریں گے سو اس سے بڑھ کر کیا رسوائی ہوگی کہ میرا باپ ہلاک ہے (یعنی کفر کی وجہ سے دوزخ میں جانے والا ہے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے پھر ابراہیم سے خطاب ہوگا کہ اپنے پاؤں کے نیچے دیکھو وہ نظر ڈالیں گے تو انہیں ایک بالوں سے بھرا ہوا بجو نظر آئے گا جو (آلائش میں) آلودہ ہوگا (یہ ان کا باپ ہوگا جس کی صورت مسخ کردی جائے گی) اس بجو کے پاؤں پکڑ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (رواہ البخاری ص ٢٧٣) جب صورت مسخ ہوجائے گی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس سے نفرت ہوجائے گی اور رسوائی کا خیال ختم ہوجائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قیامت کے دن کی رسوائی سے محفوظ رہنے کے لیے جو دعا کی اس میں قیامت کے دن کا حال بتاتے ہوئے یوں بھی فرمایا (لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْنَ ) (کہ وہ ایسا دن ہوگا جس دن نہ مال کام دے گا نہ اولاد کام دے گی) اس میں ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو مال جمع کرنے اور اپنے پیچھے اولاد کو مالدار بنا کر چھوڑنے کے جذبات میں بہہ جاتے ہیں اور حرام حلال کا کچھ خیال نہیں کرتے حرام مال تو وبال ہے ہی وہ حلال مال بھی آخرت میں وبال ہوگا جس سے فرائض اور واجبات ادا نہ کیے گئے ہوں اور جو اللہ تعالیٰ کی نا فرمانیوں میں خرچ کیا گیا ہو یہ نا فرمانیاں بچوں کی فرمائشیں پوری کرنے کے سلسلہ میں بھی ہوتی ہیں خوب سمجھ لینا چاہئے کہ قیامت کے دن مال اور اولاد کام نہ آئیں گے ہاں اگر کسی نے مال کو حلال طریقہ سے کمایا اور شرعی طریقوں پر خرچ کیا اور اولاد کو اللہ تعالیٰ کے دین پر ڈالا تو یہ نیک کام نفع مند ہوں گے اسی کو فرمایا کہ (اِِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (کہ جو شخص قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی بار گاہ میں حاضر ہوگا اس کے اموال اور اس کی اولاد اس کے لیے فائدہ مند ہونگے) یعنی قلب سلیم کا اخلاص نیک اولاد اور اعمال صالحہ اموال طیبہ ہی نافع ہوں گے۔ و الکلام علی تقدیر مضاف الی من ای لا ینفع مال ولا بنون الا مال و بنون من اتی اللہ بقلب سلیم حیث انفق مالہ فی سبیل البرو ارشدبنیہ الی الحق و حثھم علی الخیر و قصد بھم ان یکونوا عباد اللہ تعالیٰ مطیعین شفعاء لہ یوم القیامۃ۔ (روح المعانی ج ١٠ ص ١٠٠) فائدہ : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو یہ دعا کی کہ بعد کے آنے والوں میں میرا ذکر اچھائی کے ساتھ ہو اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں میں اپنے بارے میں اچھا تذکرہ ہونے کی آرزور رکھنا مومن کے بلند مقام کے خلاف نہیں ہے اعمال خیر کرتا رہے اور صرف اللہ کی رضا کے لیے اعمال صالحہ میں مشغول ہو ریا کاری کے جذبات نہ ہوں اور یہ بھی نہ ہو کہ لوگ میرے اعمال کو دیکھ کر میری تعریف کریں اعمال صرف اللہ کے لیے ہوں اور یہ دعا اس کے علاوہ ہو کہ لوگوں میں میرا تذکرہ خوبی کے ساتھ ہو یہ دونوں باتیں جمع ہوسکتی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر کوئی مخلص نہیں آپ نے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں یہ دعا کی اللّٰھُمَّ اَجْعَلْنِیْ فِیْ عَیْنِیْ صَغِیْرًا وَّ فِیْ اَعْیُنِ النَّاسِ کَبِیْرًا (اے اللہ مجھے اپنی نگاہ میں چھوٹا بنا دے اور لوگوں کی نظروں میں بڑا بنا دے) ۔ اس میں کبر نفس کا علاج ہے جب اپنے چھوٹا ہونے کا خیال رہے گا تو لوگوں کے تعریف کرنے سے کبر میں مبتلا نہ ہوگا ہاں اتنا خیال رہنا بھی ضروری ہے کہ دوسروں کو حقیر نہ جانے اور جھوٹی تعریف کا بھی متمنی نہ ہو۔ اپنے لیے ثنائے حسن کی آرزو رکھنا جبکہ (شرائط کے ساتھ ہو) جائز ہے اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھ لیں کہ اپنی ذات کو برائی کے ساتھ مشہور کرنا بھی کوئی ہنر اور کمال کی بات نہیں ہے بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نیک بھی ہوتے ہیں اور گناہوں سے بھی بچتے ہیں لیکن اگر کسی غلط فہمی سے بد نامی ہونے لگے تو اس کی پرواہ نہیں کرتے اگر کوئی شخص توجہ دلائے کہ اپنی صفائی پیش کریں تو کہہ دیتے ہیں کہ میں اپنی جگہ ٹھیک ہوں جو میری طرف برائی منسوب کرے گا خود غیبت میں مبتلا ہوگا اس کا اپنا برا ہوگا اور مجھے غیبت کرنے والوں کی نیکیاں ملیں گی میں کیوں صفائی دوں ؟ یہ طریقہ صحیح نہیں ہے اپنی آبرو کی حفاظت کرنا بھی اچھا کام ہے اور لوگوں کو غیبت اور تہمت سے بچانا ان کی خیر خواہی ہے بعض حضرات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اے اللہ مجھے اچھے اعمال سے متصف فرمائیے اور ان اعمال کو میرے بعد کے آنے والوں میں باقی رکھئے جو میرا اتباع کریں اس سے لوگ مجھے اچھائی سے یاد کریں گے اور ان کے اعمال صالحہ کا ثواب بھی ملے گا جبکہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

87۔ اور جس دن سب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے اس دن مجھے رسوا نہ کیجئو یہ لوگوں کے سنانے کو فرمایا تاکہ اس دن سے ڈریں اور یہ سمجھیں کہ وہ دن بہت خطرناک ہے اور قیامت کے دن کی ہیبت ان کے دل میں بیٹھے۔