TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat un Namal – Introduction سورة النمل

Background and detailed insights on Surat un Namal (سورة النمل), a Meccan Surah of 93 verses meaning “The Ant”.

Surat un Namal

The Ant
Surah 2793 Verses7 RukuMakki
Bookmark
Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Info

نَمْل، چیو نٹی کو کہتے ہیں۔ اس سورت میں چیونٹیوں کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کو سورة نمل کہا جاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Info

سورة النَّمْل نام : دوسرے رکوع کی چوتھی آیت میں وَادِ النَّملِ کا ذکر آیاہے ۔ سورةکا نام اسی سے ماخوذ ہے ۔ یعنی وہ سورة جس میں النمل کا ذکر آیا ہے ۔ یا جس میں النمل کا لفظ وارد ہوا ہے ۔ زمانہ نزول : مضمون اور انداز بیان مکہ کے دور متوسط کی سورتوں سے پوری مشابہت رکھتا ہے ۔ اور اس کی تائید روایات سے بھی ہوتی ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور جابر بن زید کا بیان ہے کہ ”پہلے سورہ شعراء نازل ہوئی ، پھر النمل ، پھر القصص ۔ “ موضوع اور مباحث : یہ سورة دو خطبوں پر مشتمل ہے ۔ پہلا خطبہ آغاز سورة سے چوتھے رکوع کے خاتمے تک ہے ۔ اور دوسرا خطبہ پانچویں رکوع کی ابتدا سے سورة کے اختتام تک ۔ پہلے خطبے میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کی رہنمائی سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، اور اس کی بشارتوں کے مستحق بھی صرف وہی لوگ ہیں جو ان حقیقتوں کو تسلیم کریں جنہیں یہ کتاب اس کائنات کی بنیادی حقیقتوں کی حیثیت سے پیش کرتی ہے ۔ اور پھر مان لینے کے بعد اپنی عملی زندگی میں بھی اطاعت و اتباع کا رویہ اختیار کریں ۔ لیکن اس راہ پر آنے اور چلنے میں جو چیز سب سے بڑھ کر مانع ہوتی ہے وہ انکار آخرت ہے ۔ کیونکہ یہ آدمی کو غیر ذمہ دار بندہ نفس اور فریفتہ حیات دنیا بنا دیتا ہے ۔ جس کے بعد آدمی کا خدا کے آگے جھکنا اور اپنے نفس کے خواہشات پر اخلاقی پابندیاں برداشت کرنا ممکن نہیں رہتا ۔ اس تمہید کے بعد تین قسم کی سیرتوں کے نمونے پیش کیے گئے ہیں ۔ ایک نمونہ فرعون اور سرداران قوم ثمود اور سرکشان قوم لوط کا ہے جن کی سیرت فکر آخرت سے بے نیازی اور نتیجۃً نفس کی بندگی سے تعمیر ہوئی تھی ۔ یہ لوگ کسی نشانی کو دیکھ کر بھی ایمان لانے کو تیار نہ ہوئے ۔ یہ الٹے ان لوگوں کے دشمن ہو گئے جنہوں نے ان کو خیر و صلاح کی طرف بلایا ۔ انہوں نے اپنی ان بدکاریوں پر بھی پورا اصرار کیا جن کا گھناؤنا پن کسی صاحب عقل سے بھی پوشیدہ نہیں ہے ۔ انہیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہونے سے ایک لمحہ پہلے تک بھی ہوش نہ آیا ۔ دوسرا نمونہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ہے جن کو خدانے دولت ، حکومت ، اور شوکت و حشمت سے اس پیمانے پر نوازا تھا کہ کفار مکہ کے سردار اس کا خواب بھی نہ دیکھ سکتے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود چونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے جوابدہ سمجھتے تھے ، اور انہیں احساس تھا کہ انہیں جو کچھ بھی حاصل ہے خدا کی عطا سے حاصل ہے ، اس لئے ان کا سر ہر وقت منعم حقیقی کے آگے جھکا رہتا تھا اور کبر نفس کا کوئی شائبہ تک ان کی سیرت و کردار میں نہ پایا جاتا تھا ۔ تیسرا نمونہ ملکہ سبا کا ہے جو تاریخ عرب کی نہایت مشہور دولت مند قوم پر حکمران تھی ۔ اس کے پاس وہ تمام اسباب جمع تھے جو کسی انسان کو غرور نفس میں مبتلا کر سکتے ہیں جن چیزوں کے بل پر کوئی انسان گھمنڈ کر سکتا ہے وہ سرداران قریش کی بہ نسبت لاکھوں درجہ زیادہ اسے حاصل تھیں ۔ پھر وہ ایک مشرک قوم سے تعلق رکھتی تھی ۔ تقلید آبائی کی بنا پر بھی ، اور اپنی قوم میں اپنی سرداری برقرار رکھنے کی خاطر بھی ، اس کے لئے دین شرک کو چھوڑ کر دین توحید اختیار کرنا اس سے بہت زیادہ مشکل تھا جتنا کسی عام مشرک کے لئے ہو سکتا ہے لیکن جب اس پر حق واضح ہوگیا تو کوئی چیز اسے قبول حق سے نہ روک سکی ، کیونکہ اس کی گمراہی محض ایک مشرک ماحول میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے تھی ۔ نفس کی بندگی اور خواہشات کی غلامی کا مرض اس پر مسلط نہ تھا ۔ خدا کے حضور جواب دہی کے احساس سے اس کا ضمیر فارغ نہیں تھا ۔ دوسرے خطبے میں سب سے پہلے کائنات کے چند نمایاں ترین مشہور حقائق کی طرف اشارہ کر کے کفار مکہ سے پے در پے سوال کیا گیا ہے کہ بتاؤ ، یہ حقائق اس شرک کی شہادت دے رہے ہیں جس میں تم مبتلا ہو ، یا اس توحید پر گواہ ہیں جس کی دعوت اس قرآن میں تمہیں دی جارہی ہے ؟ اس کے بعد کفار کے اصل مرض پر انگلی رکھ دی گئی ہے کہ جس چیز نے ان کو اندھا بنا رکھا ہے ، جس کی وجہ سے وہ سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھتے اور سب کچھ سن کر بھی کچھ نہیں سنتے وہ دراصل آخرت کا انکار ہے ۔ اسی چیز نے ان کے لئے زندگی کے کسی مسئلے میں بھی کوئی سنجیدگی باقی نہیں چھوڑی ہے ۔ کیونکہ جب ان کے نزدیک آخر کار سب کچھ مٹی ہو جانا ہے ، اور حیات دنیا کی اس ساری تگ و دو کا حاصل کچھ بھی نہیں ہے ، تو آدمی کے لئے پھر حق اور باطل سب یکساں ہیں ۔ اس کے لئے اس سوال میں سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں رہتی کہ اس کا نظام حیات راستی پر قائم ہے یا ناراستی پر ۔ لیکن اس بحث سے مقصود یاس نہیں ہے کہ جب یہ لوگ غفلت میں مگن ہیں تو انہیں دعوت دینا بےکار ہے ۔ بلکہ دراصل اس سے مقصود سونے والوں کو جھنجوڑ کر جگانا ہے ۔ اس لئے چھٹے اور ساتویں رکوع میں پے در پے وہ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جو لوگوں میں آخرت کا احساس بیدار کریں اس سے غفلت برتنے کے نتائج پر متنبہ کریں ، اور انہیں اس کی آمد کا اس طرح یقین دلائیں جس طرح ایک آدمی اپنی آنکھوں دیکھی بات کا اس شخص کو یقین دلاتا ہے جس نے اسے نہیں دیکھا ہے ۔ خاتمہ کلام میں قرآن کی اصل دعوت ، یعنی خدائے واحد کی بندگی کی دعوت نہایت مختصر ، مگر انتہائی مؤثر انداز میں پیش کر کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اسے قبول کرنا تمہارے اپنے لئے نافع اور اسے رد کرنا تمہارے اپنے لئے ہی نقصان دہ ہے ۔ اسے ماننے کے لئے اگر خدا کی وہ نشانیاں دیکھنے کا انتظار کرو گے جن کے سامنے آجانے کے بعد مانے بغیر چارہ نہ رہے گا ۔ تو یاد رکھو کہ وہ فیصلے کا وقت ہوگا ۔ اس وقت ماننے سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Info

سورۃ نمل تعارف حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی ایک روایت کے مطابق یہ سورت پچھلی سورت یعنی سورۃ شعراء کے فورا بعد نازل ہوئی تھی۔ دوسری مکی سورتوں کی طرح اس کا موضوع بھی اسلام کے بنیادی عقائد کا اثبات اور کفر کے برے نتائج کا بیان ہے۔ حضرت موسی، اور حضرت صالح علیہما السلام کے واقعات کی طرف مختصر اشارہ کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی قوموں نے اس بنا پر ان کی بات نہیں مانی کہ انہیں اپنی دولت اور اپنے سماجی رتبے پر گھمنڈ تھا۔ اسی طرح کفار مکہ بھی گھمنڈ میں مبتلا ہو کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار کررہے تھے۔ دوسری طرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی دولت اور بے نظیر بادشاہت سے نوازا تھا، لیکن یہ دولت اور بادشاہت ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے سے مانع نہیں ہوئی۔ اسی طرح سبا کی ملکہ بلقیس بھی بہت دولت مند تھی، لیکن حق واضح ہونے کے بعد اس نے اس کو فورا قبول کرلیا۔ اس سیاق میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور سبا کی ملکہ کا واقعہ اس سورت میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اور اس کے بعد کائنات میں پھیلی ہوئی قدرت خداوندی کی نشانیوں کو بڑے موثر انداز میں ذکر فرمایا گیا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ثابت ہوتی ہے۔ نمل کے معنی عربی میں چیونٹی کے ہوتے ہیں، اور چونکہ اس سورت کی آیت نمبر ١٨ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ چیونٹیوں کی وادی کے پاس سے گزرے تھے، اس لیے اس کا نام سورۃ نمل رکھا گیا ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Info

سورة نمبر 27 کل رکوع 7 آیات 93 الفاظ و کلمات 1167 حروف 4879 یہ سورة مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس میں توحید خالص کی تعلیم ‘ عظمت نبوت ‘ فکر آخرت اور تخلیق کائنات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس سورة میں چند انبیاء کرام کا ذکر کرکے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ کا دین پہنچایا ان کے لیے دنیا کی مال داری اور سرداری ان کی تبلیغ دین میں رکاوٹ نہیں بنی بلکہ انہوں نے سب کچھ ہونے کے باوجود اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ کا دین پھیلانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت دائود (علیہ السلام) ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا۔ دوسری طرف قوم فرعون ‘ قوم ثمود اور قوم لوط کی نافرمانیوں کا ذکر کر کے بتایا کہ اللہ کا یہ دستور ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو بچا لیتا ہے اور منکرین کو مٹادیتا ہے یہ اس کا نظام ہے۔ بلکہ بلقیس جو سورج کو اپنا معبود سمجھتی تھیں جب ان کو اللہ کا دین پہنچا تو انہوں نے اپنے شرک سے توبہ کرلی اور وہ اللہ کی فرمانبردار ہو کر عزت و عظمت کے بلند مقام کو حاصل کرسکیں۔ نمل ‘ چونٹی کو کہتے ہیں۔ اس سورة میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے چیونٹیوں کی ایک وادی کا ذکر ہے اسی مناسبت سے اس سورة کا نام النمل رکھا گیا ہے۔ اس سورة میں عبرت و نصیحت کے لیے چند انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوموں کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا ہے کہ ایک طرف تو فرعون قوم ثمود اور قوم لوط تھی جن کو انبیاء نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور حسن عمل کرنے پر بشارتیں دیں لیکن انہوں نے نافرمانی اور گناہ کے راستے کا انتخاب کرلیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت صالح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیا گیا اور نافرمان قوموں کو ان کے گناہوں کے سبب جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا۔ ان کی بستیاں ان پر الٹ دی گئیں اور انہیں سمندر میں غرق کردیا گیا۔ ان کی ترقیات ‘ مال و دولت اور اونچی عمارتیں ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں۔ دوسری طرف حضرت دائود ؐ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حکومت و سلطنت اور تمام دنیاوی طاقتیں عطا کی گئیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو چرند ‘ پرند اور درند میں سے ہر ایک کی زبان اور بولی سکھائی گئی۔ انسان اور جنات کو ان کے تابع کردیا گیا پوری دنیا پر ان کی حکومت تھی لیکن اس سب کے باوجود نہ ان میں اپنی سلطنت و طاقت کا غرور تھا نہ انہوں نے اپنی طاقت کو مظلوموں کو تباہ کرنے کا ذریعہ بنایا بلکہ قدم قدم پر اللہ کی نعمتوں کا شکر اور عاجزی و انکساری کو روشن زندگی بنائے رکھا۔ ملکہ بلقیس کا ذکر کرکے مکہ مکرمہ کے کافروں سے یہ کہا جارہا ہے کہ اب فیصلہ کرنا ان کا اپنا کام ہے کہ وہ تاریخ کی سچائیوں پر ایمان لاتے ہیں یا ان پر تاریخ کو پھر سے دہرایاجائے۔ اگر انہوں نے ملکہ بلقیس کا طریقہ اختیار کیا کہ وہ مشرکہ تھیں ‘ سورج کو اپنا معبود مانتی تھیں لیکن جب ان پر اسلام کو پیش کیا گیا تو انہوں نے کفر و شرک سے توبہ کر کے اللہ کی فرمانبرداری اختیار کرلی اور اس طرح دنیا اور اپنی آخرت کو سنوار لیا۔ ان کو اختیار ہے اگر وہ چاہیں تو قوم فرعون ‘ قوم ثمو اور قوم لوط کا طریقہ اپنا لیں جنہوں نے اللہ کی سرزمین پر ناحق غرور تکبر کیا اور اپنی طاقت و قوت کے نشے میں اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی اختیار کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام تر طاقت و قوت کے باوجود ان قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر عبرت کا نمونہ بنادیا گیا۔ آج ان کے عالی شان مکانات کے کھنڈرات ان کے غرور وتکبر کا منہ چڑا رہے ہیں۔ اگر وہ اللہ و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے تو ان کو دنیا میں اس سے زیادہ عروج و ترقی دی جاتی جو وہ حاصل کرچکے تھے اور آخرت میں ان کو جنت کی ابدی راحتیں عطا کیے جانے کا وعدہ برحق ہے۔ اس سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت اور تخلیق کا ذکر کرکے انسانوں کے ضمیر سے پوچھا ہے کہ زمین و آسمان ‘ چاند ‘ سورج ‘ ستارے ‘ چرند ‘ پرند ‘ درند اور خود انسانوں اور جنات کو کس نے پیدا کیا۔ فرمایا کہ اگر وہ غرور تکبر سے کام نہ لیں تو ان کے دل پکار اٹھیں گے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے وہی اس کا رخانہ ہستی کو چلارہا ہے ساری قدرت اور سارا اختیار اسی ایک اللہ کا ہے۔ اس کے بر خلاف وہ معبود جن کو وہ اپنا حاجت روا مانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی تمام تمناؤں کو وہ پورا کرتے ہیں وہ اپنے وجود میں خود انسانی ہاتھوں کے محتاج ہیں۔ وہ پیدا کیے جاتے ہیں لیکن کائنات میں وہ ایک ذرے کو بھی پیدا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ فرمایا گیا کہ جو اپنے نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں وہ دوسروں کے نفع و نقصان کے مالک کیسے ہو سکتے ہیں ؟ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی بات کوئی مانتا ہے یا نہیں مانتا آپ اعلان فرمادیجئے کہ میں اس اللہ کا فرماں بردار ہوں جس نے مجھے ایمان پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی۔ میں اس کا کلام تمہیں سناتا ہوں ‘ قرآن پڑھتا پڑھاتا ہوں ‘ نیک اور بہتر راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہوں جو شخص بھی میری بات سنے گا ‘ میری اطاعت کرے گا اس میں اسی کا فائدہ ہے لیکن جو شخص نافرمانی کا راستہ اختیار کے گا وہ دینا اور آخرت میں سوائے نقصان کے کچھ بھی حاصل نہ کرسکے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے یہ بھی کہلوایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اعلان کر دیجئے کہ میرا اللہ وہ ہے جو تمام خوبیوں ‘ عظمتوں اور تعریفوں کا مستحق ہے۔ بہت جلد قیامت آنے والی ہے۔ اس دن وہ اللہ انکار اور کفر و شرک کرنے والوں کو بتادے گا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کس طرح ایک اچھا موقع ضائع کردیا ہے۔ اب ان کو اپنے اعمال کے برے نتائج کو بھگتنا ہوگا۔ کیونکہ وہ اللہ تمہارے کسی عمل سے بیخبر نہیں ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Info

سورة النّمل کا تعارف ربط سورة : الشعرآء کے آخر میں ایمانداروں کی صفت بیان ہوئی کہ وہ ” اللہ “ کو بہت یاد کرتے ہیں۔ النّمل کی ابتدا میں بتایا ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے قرآن مجید ہدایت اور خوشخبری کا پیغام ہے۔ یہ سورة 7 رکوع اور 93 آیات پر مشتمل ہے۔ النّمل کا لفظ اس سورة کی اٹھارویں آیت میں استعمال ہوا ہے۔ سورۃ کی ابتدا میں قرآن مجید کا تعارف کروایا گیا ہے کہ قرآن اپنے مدعا اور دلائل کے حوالے سے واضح اور مدلّل کتاب ہے۔ یہ ایسے لوگوں کے لیے خوشخبری کا پیغام ہے جو حقیقی معنوں میں ایمان لاتے ہیں، نماز قائم، زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے اور آخرت پر یقین کامل رکھتے ہیں، ان کے مقابلے میں جو آخرت کی جواب دہی پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کے لیے ان کے برے اعمال خوبصورت بنا دئیے گئے ہیں اور وہ اپنی روش میں اندھے ہوچکے ہیں۔ انہیں آخرت میں بدترین عذاب ہوگا اور یہی لوگ آخرت میں دائمی نقصان پانے والے ہیں۔ بنیادی ہدایات کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا ابتدائی واقعہ ذکر کیا گیا ہے۔ کہ ” اللہ “ نے انہیں سفر میں کس طرح نبوت اور عظیم معجزے عطا فرمائے، اس کے بعد حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اقتدار اور اختیارات کا ذکر فرماکر ملکہ بلقیس کے ساتھ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سفارت اور ملاقات کے مثبت نتائج کا تذکرہ کیا ہے۔ جس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی قدم، قدم پر ذہانت نمایاں ہے اور ملکہ بلقیس ہر قدم پر اپنی بےعلمی کا اعتراف کرتے ہوئے بالآخر مسلمان ہوجاتی ہے۔ پھر صالح (علیہ السلام) کی قوم اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کے کردار اور انجام پر تبصرہ کیا گیا ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے کردار اور انجام سے اہل مکہ کو متنبہ کیا ہے۔ کہ تم جو کچھ بھی ہو لیکن فرعون اور اس کے ساتھیوں سے تمہاری طاقت اور بغاوت زیادہ نہیں۔ جب فرعون اور اس کے لشکر حق کے مقابلے میں ٹھہر نہ سکے تو تم کس باغ کی مولی ہو لہٰذا سمجھ جاؤ ورنہ تمہارا انجام بھی آل فرعون جیسا ہوگا۔ حضرت سلیمان اور ملکہ بلقیس کا واقعہ ذکر کر کے یہ سمجھایا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ اقتدار بخشے اسے کس طرح دوسرے کو توحید کی دعوت دینا ہے اور جس تک توحید کی دعوت پہنچے اسے تسلیم کا رویہ اختیار کرنا چاہیے النّمل کے آخر میں سوالات کی صورت میں توحید سمجھائی گئی اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے ثبوت دئیے گئے ہیں پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ اہل مکہ پر واضح کردیں جس رب نے مکہ کو حرمت والا بنایا ہے۔ میں اسی رب کی توحید کی دعوت دیتا اور اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ جس نے قرآن مجید کی ہدایت کو قبول کیا اس کا اسے ہی فائدہ پہنچے گا جو اپنے انکار پر قائم رہا میرا کام تو اسے سمجھانا اور برے انجام سے ڈرانا ہے۔ سورۃ کا اختتام ان الفاظ میں ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے رہیں، وہ عنقریب اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلائے گا۔ جنہیں دیکھ کر منکرین کو یقین ہوجائے گا، کہ جو کچھ آپ فرما رہے ہیں وہ حق اور سچ ہے یاد رکھیں کہ آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Info

سوئہ النمل ۔ ٧٢ ١………تا………٩٥ سورة النمل ایک نظر میں یہ مکی سورت ہے اور یہ سورت شعرا کے بعد نازل ہوئی ہے۔ یہ بھی سورت شعراء کے انداز میں چلتی ہے۔ ایک مقدمہ ہے۔ ایک تعصب و تبصرہ ہے۔ اس میں سورت کا بنیادی موضوع اور محور بنایا گیا ہے اور مقدمہ اور آخری تبصرے کے درمیان قصص ہیں جن سے موضوع کو ثابت کیا جاتا ہے۔ جا بجا اس طرف اشارہ ہے کہ سابق انبیاء کی دعوتوں کے مقابلے میں ردعمل اور موجودہ دعوت کے مقابلے میں آنے والا ردعمل ایک ہی جیسا ہے۔ یہ مسلمانوں کو یہ سبق سکھانے کے لئے اللہ کی سنت بھی ایک ہے اور تمام رسالتوں اور تمام دعوتوں کے نشیب و فراز بھی ایک جیسے ہیں۔ اب یہ کہ اس سورت کا موضوع کیا ہے ؟ تو موضوع تمام مکی سورتوں کی طرح اسلامی نظریہ ہے یعنی عقیدئہ توحید اللہ وحدہ پر ایمان ، اللہ وحدہ کی بندگی ، آخرت کی جوابدہی پر یقین ، ثواب و عتاب پر یقین ، وحی اور غیب پر ایمان اور یہ کہ علم غیب کا جاننے الا اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ اللہ پر یہ ایمان کہ تمام کے لئے وہی خاق ، رازق اور نعمتوں کا داتا ہے۔ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرنا کہ وہ شکر نعمات ادا کریں۔ یہ ایمان کہ اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان دینے والا نہیں۔ قوت کا سرچشمہ اللہ ہے اس لئے اس پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ ان معانی کے ثبوت کے لئے قصص آتے ہیں۔ سابقہ مومنین اور سابقہ مکذبین کے حالات اور انجام۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی وہ کڑی جب آپ کوہ طور آگ دیکھتے ہیں ، وہاں جاتے ہیں اور پھر عالم بالا سے پکار پاتے ہیں اور آگ کے بجائے رسالت ملتی ہے اور یہ ڈیوٹی دی جاتی ہے کہ فرعون کے پاس جائو۔ سرداران فرعون کو دعوت دو ، چناچہ آپ جاتے ہیں وہ آیات الہیہ کی تکذیب کرتے ہیں حالانکہ ان کو اچھی طرح یقین ہے کہ آپ سچے ہیں تو ان کا جو انجام ہوا وہ معروف ہے۔ وجحدوابھا ……المفسدین (٨٢ : ٣١) ” انہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا۔ حالانکہ دل ان کے قائل ہوچکے تھے۔ اب دیکھ لو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا اور یہی حال ہے مکہ کے کفار اور مذبین کا وہ بھی قرآن مبین کی آیات کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہیں۔ اس کے بعد حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہم السلام) پر ہونے والے انعامات کی طرف اشارہ ہے۔ پھر سلیمان اور چیونٹی کے قصے کی طرف اشارہ ہے۔ پھر ہدہد کا واقعہ ہے۔ ملکہ سبا اور اس کی قوم کے واقعات ہیں۔ پھر حضرت سلیمان اور حضرت دائود پر انعامات اور ان کی جانب سے ان انعامات کا شکر نعمت علم ، نعمت اقتدار بادشاہت اور ان پر پھر نبوت کا مقام اور پھر روحانی طاقت کے ذریعے جنوں اور پرندوں کی تسخیر کی قوت اور تمام واقعات کے اندر وہ اصولی عقائد کی تعلیم ہے جس کو ہر رسول لے کر آتا ہے۔ ان واقعات ہیں اس نکتے کی بڑی وضاحت کی گئی ہے کہ جب سلیمان (علیہ السلام) کا خط ملکہ سبا کے دربار میں پہنچتا ہے۔ وہ اس خط کو کس طرح لیتی ہے اور اس کے مقابلے میں اہل مکہ اللہ کی کتاب کو کس غیر سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ یہ لوگ اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں اور انکار کرتے ہیں جبکہ ملکہ سبا اور اس کی قوم ایمان لے آتے ہیں۔ یہ اللہ ہی تھا جس نے سلیمان (علیہ السلام) کو یہ کمالات بخشے اور اس کے لئے چیزوں کو مسخر کیا۔ یہ اللہ ہی ہے جو ہر چیز کا مالک ہے۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور حضرت سلیمان کو اللہ نے جو علوم سکھائے تھے وہ تو علوم الہیہ میں سے ایک قطرہ از وریا تھے۔ اس کے بعد حضرت صالح اور ان کی قوم ثمود کا قصہ آتا ہے۔ اس قصے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم کے بعض مفسد ان پر اور ان کے اہل و عیال پر زیادتی کرتے تھے اور یہ لوگ حضرت صالح کو خیہ طور پر قتل بھی کرنا چاہتے تھے لیکن اللہ نے ان کی تدابیر کو ناکام کردیا اور حضرت صالح اور مومنین کو نجات دی اور سازش کرنے والوں کو ثمودیوں کے ساتھ تباہ کر کے رکھ دیا۔ فتلک بیوتھم خاویۃ بما ظلموا (٨٢ : ٢٥) ” وہ ہیں ان کے گھر خلای پڑے ہوئے ، اس ظلم کی پاداش میں جو وہ کرتے تھے۔ “ قریش بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے اور یہ بھی خفیہ طور پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ جس طرح ثمودی حضرت صالح اور آپ کے ساتھی اہل ایمان کے قتل کی تدابیر کر رہے تھے۔ یہاں قصص کا اختتام قصہ لوط اور قوم لوط پر ہوتا ہے۔ وہ بھی یہ چاہتے تھے کہ حضرت لوط اور اہل ایمان کو اپنے گائوں سے نکال دیں اور وہ دلیل یہ دیتے تھے کہ یہ لوگ ایسے ہیں کہ یہ ضرورت سے زیادہ اخلاقی تفسیر چاہتے ہیں۔ لیکن جب حضرت لوط اور اہل ایمان بستی سے نکل گئے تو ان پر سخت تباہی آئی۔ وامطرنا علیھم مطر افسآء مطر المنذرین (٨٢ : ٨٥) ” پھر برسائی ان لوگوں پر ایک برسات بہت ہی بری برسات تھی وہ ان لوگوں کے حق میں جو ڈرائے جا چکے تھے۔ “ قریش نے بھی یہ ارادہ کرلیا تھا کہ رسول اللہ کو شہر سے نکال دیں اور اس بارے میں انہوں نے آپ کی ہجرت سے قبل مشورہ بھی کرلیا تھا۔ جب قصص ختم ہوئے تو ٓخری تبصرہ اور اختتامیہ آیا اور اس کا آغاز یوں ہوا۔ قل الحمد للہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی اللہ خیر اما یشرکون (٨٢ : ٩٥) ” اے نبی کہو ، حمد اللہ کے لئے اور سلام اس کے ان بندوں پر جنہیں اس نے گرگزیدہ کیا۔ اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں ؟ بتائو۔ “ اس کے بعد پھر قاری کو اس کائنات کی سیر کرائی جاتی ہے۔ اس کی نفس کی گہرائیوں تک پہنچایا جاتا ہے ، اللہ خلاق رازق اور صانع کائنات کے دست قدرت کی کاریگریاں بنائی جاتی ہیں جو وحدہ عالم الغیب ہے اور سب لوگوں نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر بعض علامات قیامت بتائی جاتی ہیں اور قیامت کے بعض مناظر بھی لائے جاتے ہیں اور یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ جو لوگ قیامت کے منکر ہیں۔ ان کے انتظار میں کتنا بر انجام ہے۔ اس سورت کا اختتام ایسے انداز میں ہوتا ہے جو اس سورت کی فضا سے ہم آہنگ ہے۔ انما امرت ……عما تعلمون (٨٢ : ٣٩) ” اے نبی ، ان سے کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہر کے رب کی بندگی کرو ، جس نے اسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں اور یہ قرآن پڑھ کر سنائوں اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لئے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو ، اس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبردار کرنے والا ہوں۔ ان سے کہو تعریف اللہ کے لئے ہے عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لوگے اور میرا رب بیخبر نہیں ہے۔ ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ “ اس پوری سورت کا مرکزی مضمون علم ہے۔ اللہ عالم ہے ، ظاہر با طن سب کا اور تمام غیب اسی کے علم میں تھا جو اللہ نے دائود اور سلیمان (علیہ السلام) کو بخشا تھا۔ پھر سلیمان (علیہ السلام) کو پرندوں کی زبان سکھائی تھی۔ چناچہ اس سورت کے آغاز ہی میں آتا ہے۔ وانک لتلفی القرآن من لدن حکیم علیم (٨٢ : ٦) ” بیشک تو قرآن پا رہا ہے حکیم علیم ذات کی طرف سے۔ “ اور اس کی تعقیب میں ہے۔ قل لایعلم من فی ……فی الاخرۃ (٨٢ : ٦٦) ” ان سے کہو ، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمینوں میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا اور وہ تمہارے معبود تو نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے بلکہ آخرت کا تو علم ہی ان لوگوں سے گمہو گیا ہے۔ “ وان ربک ……کتب مبین (٨٢ : ٥٨) ” بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ یہ اپنے سینے کے اندر چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجود نہ ہو۔ “ اور آخر میں آتا ہے۔ سیریکم ایتہ فتعرفونھا (٨٢ : ٣٩) ” عنقریب وہ اپنی نشانیاں تمہیں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لوگے۔ “ حضرت سلیمان کے قصے میں آتا ہے۔ ولقد اتینا دائود و سلیمان علماً وقال الحمد للہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المومنین (٨٢ : ٥١) ” اور ہم نے دائود اور سلیمان کو علم دیا تھا۔ انہوں نے کہا تعریف ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں اپنے مومن بندوں میں سے ایک کثیر تعداد پر فضیلت دی۔ “ اور حضرت سلیمان کا یہ فرمان یایھا الناس علمنا منطق الطیر (٨٢ : ٦١) ” اے لوگو ، ہمیں پرندوں کی باتیں سکھائی گئی ہیں۔ “ اور ہد ہد نے کہا : الا یسجدو ……وما تعلنون (٨٢ : ٥٢) ” وہ اس خدا کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو۔ “ اور جب حضرت سلیمان ملکہ سبا کے تخت کو حاضر کرنا چاہتے ہیں تو اسے جنوں کا ایک عفریت بھی نہیں لا سکتا ہے اور اسے جو شخص لانے کی حامی بھرتا ہے اسے بھی یہ قدرت یوں ملی۔ الذی عندہ علم من الکتب (٨٢ : ٠٣) ” جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا۔ “ غرض پوری سورت کی فضا پر علم اور ٹیکنالوجی کی باتیں چھائی ہوئی ہیں۔ شروع سے آخر تک علم ہی علم ہے اور علم ہی کی دنیا میں بات چلتی ہے اب ذرا اس کے مضامین پر تفصیلی بحث مناسب ہے۔