Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 41

سورة النمل

قَالَ نَـکِّرُوۡا لَہَا عَرۡشَہَا نَنۡظُرۡ اَتَہۡتَدِیۡۤ اَمۡ تَکُوۡنُ مِنَ الَّذِیۡنَ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۴۱﴾

He said, "Disguise for her her throne; we will see whether she will be guided [to truth] or will be of those who is not guided."

حکم دیا کہ اس تخت میں کچھ پھیر بدل کر دو تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ راہ پالیتی ہے یا ان میں سے ہوتی ہے جو راہ نہیں پاتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Test of Bilqis Allah tells: قَالَ ... He (Suleiman) said: When Suleiman brought the throne of Bilqis before she and her people arrived, he issued orders that some of its features should be altered, so that he could test her and see whether she recognized it and how composed she would be when she saw it. Would she hasten to say either that it was her throne or that it was not! So he said: ... نَكِّرُوا لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِي أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لاَ يَهْتَدُونَ Disguise her throne for her that we may see whether she will be guided, or she will be one of those not guided. Ibn Abbas said: "Remove some of its adornments and parts." Mujahid said: "He issued orders that it should be changed, so whatever was red should be made yellow and vice versa, and whatever was green should be made red, so everything was altered." Ikrimah said, "They added some things and took some things away." Qatadah said, "It was turned upside down and back to front, and some things were added and some things were taken away."

بلقیس کا تخت آنے کے بعد اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو ۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے ۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا ۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یانہیں؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے ۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے بلقیس کو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت نے اور اس کے کفر نے توحید اللہ سے روک دیا تھا ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کو غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا اس سے پہلے کافروں میں سے تھے ۔ لیکن پہلے قول کی تائید اس سے بھی ہو سکتی ہے کہ ملکہ نے قبول اسلام کا اعلان محل میں داخل ہونے کے بعد کیا ہے ۔ جیسے عنقریب بیان ہوگا ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات کے ہاتھوں ایک محل بنوایا تھا جو صرف شیشے اور کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی سے لباب حوض تھا شیشہ بہت ہی صاف شفاف تھا ۔ آنے والا شیشے کا امتیاز نہیں کرسکتا تھا بلکہ اسے یہی معلوم ہوتا تھا ۔ کہ پانی ہی پانی ہے ۔ حالانکہ اس کے اوپر شیشے کا فرش تھا ۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس صنعت سے غرض حضرت سلیمان علیہ السلام کی یہ تھی کہ آپ اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن یہ سنا تھا کہ اس کی پنڈلیاں بہت خراب ہیں اور اس کے ٹخنے چوپایوں کے کھروں جیسے ہیں اس کی تحقیق کے لئے آپ نے ایسا کیا تھا ۔ جب وہ یہاں آنے لگی تو پانی کے حوض کو دیکھ کر اپنے پائنچے اٹھائے آپ نے دیکھ لیا کہ جو بات مجھے پہنچائی گئی ہے غلط ہے ۔ اس کی پنڈلیاں اور پیر بالکل انسانوں جیسے ہی ہیں ۔ کوئی نئ بات یا بد صورتی نہیں ہے چونکہ بےنکاح تھی پنڈلیوں پر بال بڑے بڑے تھے ۔ آپ نے استرے سے منڈوا ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا اس کی برداشت مجھ سے نہ ہوسکے گی ۔ آپ نے جنوں سے کہا کہ کوئی اور چیز بناؤ جس سے یہ بال جاتے رہیں ۔ پس انہوں نے ہڑتال پیش کی یہ دوا سب سے پہلے حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ہی تلاش کی گئی ۔ محل میں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک سے اپنے دربار سے اپنی رونق سے اپنے سازو سامان سے اپنے لطف وعیش سے خود اپنے سے بڑی ہستی دیکھ لے اور اپنا جاہ حشم نظروں سے گر جائے جس کے ساتھ ہی تکبر تجبر کا خاتمہ بھی یقینی تھا ۔ یہ جب اندر آنے لگی اور حوض کی حد پر پہنچی تو اسے لہلاتا ہوا دریاسمجھ کر پانئچے اٹھائے ۔ اس وقت کہا گیا کہ آپ کو غلطی لگی یہ تو شیشہ منڈہا ہوا ہے ۔ آپ اسی کے اوپر سے بغیر قدم تر کئے آسکتی ہیں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچتے ہی اس کے کان میں آپ نے صدائے توحید ڈالی اور سورج پرستی کی مذمت سنائی ۔ اس محل کو دیکھتے ہی اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہی دربار کے ٹھاٹھ دیکھتے ہی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ میرا ملک تو اسکے پاسنگ میں بھی نہیں ۔ نیچے پانی ہے اور اوپر شیشہ ہے بیچ میں تخت سلیمانی ہے اور اوپر سے پرندوں کا سایہ ہے جن وانس سب حاضر ہیں اور تابع فرمان ۔ جب اسے توحید کی دعوت دی گئی تو بےدینوں کی طرح اس نے بھی زندیقانہ جواب دیا جس سے اللہ کی جناب میں گستاخی لازم آتی تھی ۔ اسے سنتے ہی سلیمان علیہ السلام اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑے اور آپ کو دیکھ کر آپ کا سارا لشکر بھی ۔ اب وہ بہت ہی نادم ہوگئی ادھر سے حضرت نے ڈانٹاکہ کیا کہہ دیا ؟ اسنے کہا مجھ سے غلطی ہوئی ۔ اور اسی وقت رب کی طرف جھک گئی اور کہنے لگی اے اللہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب میں حضرت سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئی ۔ چنانچہ سچے دل سے مسلمان ہوگئی ۔ ابن ابی شیبہ میں یہاں پر ایک غریب اثر ابن عباس سے وارد کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام جب تخت پر متمکن ہوتے تو اس کے پاس کی کرسیوں پر انسان بیٹھتے اور اس کے پاس والی کرسیوں پر جن بیٹھتے پھر ان کے بعد شیاطین بیٹھتے پھر ہوا اس تخت کو لے اڑتی اور معلق تھمادیتی پھر پرند آکر اپنے پروں سے سایہ کرلیتے پھر آپ ہوا کو حکم دیتے اور وہ پرواز کرکے صبح صبح مہینے بھر کے فاصلے پر پہنچادیتی اسی طرح شام کو مہینے بھر کی دوری طے ہوتی ایک مرتبہ اسی طرح آپ جا رہے تھے پرندوں کی دیکھ بھال جو کی تو ہدہد کو غائب پایا بڑے ناراض ہوئے اور فرمایا کیا وہ جمگھٹے میں مجھے نظر نہیں پڑتا یا سچ مچ غیر حاضر ہے؟ اگر واقعی وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزا دونگا بلکہ ذبح کردونگا ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کردے ایسے موقعہ پر آپ پرندوں کے پرنچواکر آپ زمین پر ڈلوادیتے تھے کیڑے مکوڑے کھاجاتے تھے اس کے بعد تھوڑ ہی دیر میں خود حاضر ہوتا ہے اپنا سبا جانا اور وہ انکی خبر لانا بیان کرتا ہے ۔ اپنی معلومات کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہے حضرت سلیمان اس کی صداقت کی آزمائش کے لئے اسے ملکہ سبا کے نام ایک چھٹی دے کر اسے دوبارہ بھیجتے ہیں جس میں ملکہ کو ہدایت ہوتی ہے کہ میری نافرمانی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ ۔ اس خط کو دیکھتے ہی ملکہ کے دل میں خط کی اور اس کے لکھنے والے کی عزت سماجاتی ہے ۔ وہ اپنے درباریوں سے مشورہ کرتی ہے وہ اپنی قوت وطاقت فوج کی ٹھاٹھ بیان کرکے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تیار ہیں صرف اشارے کی دیر ہے لیکن یہ برے وقت اور اپنے شکست کے انجام کو دیکھ کر اس ارادے سے باز رہتی ہے ۔ اور دوستی کا سلسلہ اس طرح شروع کرتی ہے کہ تحفے اور ہدیے حضرت سلیمان کے پاس بھیجتی ہے ۔ جسے حضرت سلیمان علیہ السلام واپس کردیتے ہیں اور چڑھائی کی دھمکی دیتے ہیں اب یہ اپنے ہاں سے چلتی ہے جب قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے لشکر کی گرد کو حضرت سلیمان علیہ السلام دیکھ لیتے ہیں تب فرماتے ہیں کہ اس کا تختہ اٹھالاؤ ۔ ایک جن کہتا ہے کہ بہتر میں ابھی لاتا ہوں آپ یہاں سے اٹھیں اس سے پہلے ہی اسے دیکھ لیجئے ۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی جلد ممکن ہے؟ اس پر تو یہ خاموش ہوگیا لیکن اللہ کے علم والے نے کہا ابھی ایک آنکھ جھپکتے ہی ۔ اتنے میں تو دیکھا کہ جس کرسی پر پاؤ رکھ کر حضرت سلیمان اپنے تخت پر چڑھتے ہیں وہاں بلقیس کا تخت نمایا ہوا ۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور لوگوں کو نصیحت کی اور اس میں کچھ تبدیلی کا حکم دیا اس کے آتے ہی اس سے اس تخت کے بابت پوچھا تو اس نے کہاکہ گویا یہ وہی ہے ۔ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو ایسا پانی جو نہ زمین سے نکلا ہو اور نہ آسمان سے برساہو ۔ آپ کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو اول انسانوں سے پھر جنوں سے پھر شیطانوں سے دریافت فرماتے اس سوال کے جواب میں شیطانوں نے کہا کہ یہ کوئی مشکل چیز نہیں ہے ۔ گھوڑے دوڑائیے اور ان کے پسینے سے اس کو پیالہ بھر دیجئے اس سوال کے پورا ہونے کے بعد اس نے دوسرا سوال کیا کہ اللہ کا رنگ کیسا ہے؟ اسے سن کر آپ اچھل پڑے اور اسی وقت سجدے میں گر پڑے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ باری تعالیٰ اس نے ایسا سوال کیا کہ میں اسے تجھ سے دریافت ہی نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ بےفکر ہوجاؤ میں نے کفایت کردیا آپ سجدے سے اٹھے اور فرمایا تونے کیا پوچھا تھا اس نے کہا پانی کے بارے میں میرا سوال تھا جو آپ نے پورا کیا اور تو میں نے کچھ نہیں پوچھا یہ خود اور اس کا لشکر اس دوسرے سوال ہی کو بھول گئے ۔ آپ نے لشکریوں سے بھی پوچھا کہ اس نے دوسرا سوال کیا کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا بجز پانی کے اس نے اور کوئی سوال نہیں کیا ۔ شیطانوں کے دل میں خیال آیا کہ اگر سلیمان علیہ السلام نے اسے پسند کرلیا اور اسے اپنی نکاح میں لے لیا اور اولاد بھی ہوگئی تو یہ ہم سے ہمشہ کے لئے گئے اس لئے انہوں نے حوض بنایا پانی سے پر کیا ۔ اور اوپر سے بلور کا فرش بنادیا اس صفت سے کہ دیکھنے والے کو وہ معلوم ہی نہ دے وہ تو پانی ہی سمجھے جب بلقیس دربار میں آئی اور وہاں سے گزرنا چاہا تو پانی جان کر اپنے پائنچے اٹھالئے حضرت سلیمان نے پنڈلیوں کے بال دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اسے زائل کرنے کی کوشش کرو تو کہا گیا کہ استرے سے مونڈ سکتے ہیں آپ نے فرمایا اس کانشان مجھے ناپسند ہے کوئی اور ترکیب بتاؤ پس شیاطین نے طلا بنایا جس کے لگاتے ہی بال اڑ گئے ۔ پس اول اول بال صفا طلا حضرت سلیمان کے حکم سے ہی تیار ہوا ہے ۔ امام ابن ابی شیبہ نے اس قصے کو نقل کرکے لکھا ہے یہ کتنا اچھا قصہ ہے لیکن میں کہتا ہوں بالکل منکر اور سخت غریب ہے یہ عطا بن سائب کا وہم ہے جو اس نے ابن عباس کے نام سے بیان کردیا ہے ۔ اور زیادہ قرین قیاس امر یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے دفاتر سے لیا گیا ہے جو مسلمانوں میں کعب اور وہب نے رائج کردیا تھا ۔ اللہ ان سے درگذر فرمائے ۔ پس ان قصوں کا کوئی اعتماد نہیں بنو اسرائیل تو جدت پسند اور جدت طراز تھے بدل لینا گھڑ لینا کمی زیادتی کرلینا ان کی عادت میں داخل تھا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ان کا محتاج نہیں رکھا ہمیں وہ کتاب دی اور اپنے نبی کی زبانی وہ باتیں پہنچائیں جو نفع میں وضاحت میں بیان میں ان کی باتوں سے اعلی اور ارفع ہیں ساتھ ہی بہت مفید اور نہایت احتیاط والی ۔ فالحمدللہ ۔ صرح کہتے ہیں محل کو ۔ اور ہر بلند عمارت کو ۔ چنانچہ فرعون ملعون نے بھی اپنے وزیر ہامان سے یہی کہا تھا ۔ آیت ( یاھامان ابن لی صرحا ) ۔ یمن کے ایک خاص اور بلند محل کا نام بھی صرح تھا ۔ اس سے مراد ہر وہ بنا ہے جو محکم مضبوط استوار اور قوی ہو ۔ یہ بنا بلور اور صاف شفاف شیشے سے بنائی گئی تھی ۔ دومتہ الجندل میں ایک قلعہ ہے اسکا نام بھی مادر ہے ۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ جب اس ملکہ نے حضرت سلیمان کی یہ رفعت ، یہ عظمت ، یہ شوکت ، یہ سلطنت دیکھی اور اس میں غور وفکر کے ساتھ ہی حضرت سلیمان کی سیرت ان کی نیکی اور ان کی دعوت سنی تو یقین آگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اسی وقت مسلمان ہوگئی اپنے اگلے شرک وکفر سے توبہ کر لی اور دین سلیمان کی مطیع بن گئی ۔ اللہ کی عبادت کرنے لگی جو خالق مالک متصرف اور مختار کل ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

411یعنی اس کے رنگ روپ یا واضح و شکل شباہت میں تبدیلی کردو۔ 412یعنی وہ اس بات سے آگاہ ہوتی ہے کہ یہ تخت اسی کا ہے یا اس کو سمجھ نہیں پاتی ؟ دوسرا مطلب ہے کہ وہ راہ ہدایت پاتی ہے یا نہیں ؟ یعنی اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی اس پر راہ ہدایت واضح ہوتی ہے یا نہیں ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٩] یہاں نکروا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ نکر میں جو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں (١) اجنبیت اور (٢) ناگواری، اور تنکیر کی ضد تعریف ہے۔ تعریف کے معنی کسی کو پہچان لینا اور تنکیر کے معنی کسی کو نہ پہچاننا اور اجنبیت محسوس کرنا۔ گویا نکرو کا معنی اس تحت میں ایسی تبدیلی لانا ہے جس سے وہ پوری طرح پہچانا نہ جاسکے اور اس سے حضرت سلیمان بلقیس کی عقل کا امتحان لینا چاہتے تھے کہ اس کی عقل کہاں تک کام کرتی ہے پھر اس سے وہ یہ نتیجہ بھی اخذ کرنا چاہتے تھے کہ آیا وہ اتنی عقلمند ہے کہ شرک اور توحید میں تمیز کرسکے ؟ چناچہ آپ کے کاریگروں نے اس کے تخت میں اتنی تبدیلی کی ایک جگہ کے جواہر وہاں سے اکھار کر کسی دوسرے جگہ فٹ کردیئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا : سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس کے تخت میں ایسی تبدیلی کر دو کہ اس کی پہچان نہ ہو سکے۔ نَنْظُرْ اَتَهْتَدِيْٓ اَمْ تَكُوْنُ ۔۔ : تاکہ اس کی عقل و دانش اور فہم و فراست کا امتحان کریں کہ وہ یہ بات جان لیتی ہے کہ یہ تخت اسی کا ہے، یا اسے سمجھ نہیں پاتی، اور اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر (ایمان باللہ کی) راہ پر آتی ہے، یا پھر بھی انھی لوگوں میں شامل رہتی ہے جو یہ راہ نہیں پاتے۔ ” اَتَهْتَدِيْٓ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِيْنَ لَا يَهْتَدُوْنَ “ میں دونوں مفہوم شامل ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ نَكِّرُوْا لَہَا عَرْشَہَا نَنْظُرْ اَتَہْتَدِيْٓ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِيْنَ لَا يَہْتَدُوْنَ۝ ٤١ تَنْكِيرُ الشَّيْءِ من حيثُ المعنی جعْلُه بحیث لا يُعْرَفُ. قال تعالی: نَكِّرُوا لَها عَرْشَها [ النمل/ 41] وتعریفُه جعْلُه بحیث يُعْرَفُ. تنکیر الشئی کے معنی کسی چیز بےپہچان کردینے کے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ نَكِّرُوا لَها عَرْشَها[ النمل/ 41] اس کے تخت کی صورت بد ل دو ۔ اور اس کے بالمقابل تعریف کے معنی کسی چیز کو معروف بنانے کے ہیں اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، وقال : فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] ، فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] ، فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . ويقال المُهْتَدِي لمن يقتدي بعالم نحو : أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] تنبيها أنهم لا يعلمون بأنفسهم ولا يقتدون بعالم، وقوله : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] فإن الِاهْتِدَاءَ هاهنا يتناول وجوه الاهتداء من طلب الهداية، ومن الاقتداء، ومن تحرّيها، وکذا قوله : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] وقوله : وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] فمعناه : ثم أدام طلب الهداية، ولم يفترّ عن تحرّيه، ولم يرجع إلى المعصية . وقوله : الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ [ البقرة/ 157] أي : الذین تحرّوا هدایته وقبلوها وعملوا بها، وقال مخبرا عنهم : وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] . الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو ۔ إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں ۔ لیکن کبھی اھتداء کے معنی طلب ہدایت بھی آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو ۔ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] سو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہ راست پر چلو ۔ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پالیں ۔ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہوجائیں ۔ المھتدی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی عالم کی اقتدا کر رہا ہے ہو چناچہ آیت : ۔ أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ کسی کی پیروی کرتے ہوں ۔ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ نہ وہ خود عالم تھے اور نہ ہی کسی عالم کی اقتداء کرتے تھے ۔ اور آیت : ۔ فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] تو جو کوئی ہدایت حاصل کرے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے ۔ میں اھتداء کا لفظ طلب ہدایت اقتدا اور تحری ہدایت تینوں کو شامل ہے اس طرح آیت : ۔ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال انہین آراستہ کر کے دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آتے ۔ میں بھی سے تینوں قسم کی ہدایت کی نفی کی گئی ہے اور آیت : ۔ وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] اور جو توبہ کرلے اور ایمان لائے اور عمل نیک کرے پھر سیدھے راستہ پر چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں ۔ میں اھتدی کے معنی لگاتار ہدایت طلب کرنے اور اس میں سستی نہ کرنے اور دوبارہ معصیت کی طرف رجوع نہ کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ«1» [ البقرة/ 157] اور یہی سیدھے راستے ہیں ۔ میں مھتدون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت الہیٰ کو قبول کیا اور اس کے حصول کے لئے کوشش کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا چناچہ انہی لوگوں کے متعلق فرمایا ۔ وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] اے جادو گر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بیشک

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤١) پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ بلقیس کے تخت کی شکل بدل دو یعنی اس میں کچھ کمی بیشی کر دو تاکہ ہم دیکھیں کہ ان کو اس کا پتا چلتا ہے یا نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤١ (قَالَ نَکِّرُوْا لَہَا عَرْشَہَا) ” کہ ملکہ کو آزمانے کے لیے تخت کی ظاہری ہیئت میں تھوڑی بہت تبدیلی کر دو ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

50 As to how the queen reached Jerusalem and how she was received, has been omitted. The story is resumed from the time when she had arrived at the palace to see Prophet Solomon . 51 This is a meaningful sentence, which means: (1) "Whether she understands or not that it is her own throne which has been fetched in no time from her capital to distant place like Jerusalem;" and also (2) "whether she is guided aright after seeing this wonderful miracle, or persists in her error." This ref utes the wrong idea of the people who say that the Prophet Solomon intended to take possession of the throne. Here he himself clearly says that he had done this in order to help the queen see Guidance.

سورة النمل حاشیہ نمبر : 50 بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ ملکہ کیسے بیت المقدس پہنچی اور کسی طرح اس کا استقبال ہوا ، اسے چھوڑ کر اب اس وقت کا حال بیان کیا جارہا ہے جب وہ حضرت سلیمان کی ملاقات کے لیے ان کے محل میں پہنچ گئی ۔ سورة النمل حاشیہ نمبر : 51 ذو معنی فقرہ ہے ۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ یکایک اپنے ملک سے اتنی دور اپنا تخت موجود پاکر یہ سمجھ جاتی ہے یا نہیں کہ یہ اسی کا تخت اٹھا لایا گیا ہے ، اور یہ مطلب بھی ہے کہ وہ اس حیرت انگیز معجزے کو دیکھ کر ہدایت پاتی ہے یا اپنی گمراہی پر قائم رہتی ہے ۔ اس سے ان لوگوں کے خیال کی تردید ہوجاتی ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان اس تخت پر قبضہ کرنے کی نیت رکھتے تھے ، یہاں وہ خود اس مقصد کا اظہار فرما رہے ہیں کہ انہوں نے یہ کام ملکہ کی ہدایت کے لیے کیا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

15: یعنی اس کی شکل میں کوئی ایسی تبدیلی کر دو جس کی وجہ سے اسے پہچاننے میں کچھ دقت ہو، اور اس کی سمجھ کو آزمایا جاسکے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:41) نکروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر نکر ینکر تنکیر (تفعیل) تنکیر الشیء کے معنی کسی چیز کو بئے پہچان کردینے کے ہیں۔ یعنی اس کی حالت کو ایسا بدل دو کہ (ملکہ سبا) پہچان نہ سکے۔ ننظر۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) جمع متکلم ۔ ہم دیکھیں۔ نظر ینظر (نصر) نظر سے۔ اتھتدی۔ میں ہمزہ استفہامیہ ہے۔ تھتدی مضارع معروف واحد مؤنث غائب۔ اھتدی یھتدی اھتداء (افتعال) راہ (ہدایت) پانا۔ وہ راہ پاتی ہے یعنی سمجھ جاتی ہے۔ ای الی معرفۃ العرش کیا تخت کو پہچاننے کی راہ پاتی ہے او الی الایمان باللہ وبرسولہ یا (اس حیرت انگیز معجزہ کو دیکھ کر کہ اس کا تخت جو وہ سینکڑوں میل پیچھے محفوظ چھوڑ آئی ہے اور اب وہ سامنے پڑا ہے) وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کی راہ پاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ یکایک اپنے ملک سے اتنی دور اپنا تخت موجود پاکر یہ سمجھ جاتی ہے یا کہ نہیں کہ یہ اسی کا تخت اٹھا لایا گیا ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ وہ اس حیرت انگیز معجزے کو دیکھ کر ہدایت پاتی ہے یا اپنی گمراہی پر قائم رہتی ہے۔ (تفہیم القرآن)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

1 ۔ دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” آیا وہ (ایمان باللہ کی) راہ پاتی ہے یا ان لوگوں میں شامل ہوتی ہے جو (یہ) راہ نہیں پاتے “ ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال نکروالھا ……لایھتدون (١٤) یعنی اس تخت کی امتیازی خصوصیات کو ختم کر دو تاکہ دیکھا جائے کہ وہ اس تحت کو اپنی فراست اور ذہانت سے پہنچانتی ہے یا نہیں۔ یا اس معمولی تبدیلی سے اس کے لئے اس کا پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔ شاید یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے اس کی ذہانت اور فراست کا امتحان تھا۔ تخت کے بارے میں اس اچانک اور ناقابل توقع صورتحال سے دوچار ہونے کے بعد اب حضرت سلیمان اور ملکہ کی ملاقات ہوتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

36:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس تخت میں کچھ جزوی تبدیلیاں کر کے اس کی شکل بدل دو تاکہ بلقیس کی عقل و فراست کا امتحان کریں آیا وہ اسے پہچان لیتی ہے یا نہیں۔ فلما جاءت الخ، جب بلقیس پہنچ گئی تو اس سے پوچھا گیا کیا تمہارا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟ سوال میں یہ نہیں کہا گیا، اھکذا عرشک، کیا یہ تمہارا تخت ہے ؟ تاکہ یہ سوال اور پیچیدہ ہوجائے۔ قالت کانہ ھو، بلقیس نے نہایت دانشمندانہ جواب دیا کہ بالکل ویسا ہی ہے۔ یہ نہیں کہا کہ بالکل وہی ہے یا وہ نہیں ہے کیونکہ دونوں جواب سوال کے مطابق نہیں تھے۔ واوتینا العلم الخ، یہ بلقیس کا کلام ہے، من قبلھا کی ضمیر سے احضار عرش کا معجزہ مراد ہے۔ یعنی اس سے پہلے ہدہد کے ذریعہ خط ملنے سے اور اپنے سفیروں سے آپ کے تفصیلی حالات سن کر ہی ہم اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر اور آپ کی نبوت پر ایمان لا چکے تھے اور آپ کی اطاعت قبول کرچکے تھے اب اس معجزے کے اظہار کی کیا ضرورت تھی۔ من تتمۃ کلامھا علی اما اختارہ جمع من المفسرین۔ واوتینا العلم بکمال قدرۃ اللہ تعالیٰ وصحۃ نبوتک من قبل ھذہ المعجزۃ بما شاھدناہ من امر الھدھد وما سمعناہ من رسلنا الیک من الایات الدالۃ علی ذلک وکنا مومنین من ذلک الوقت فلا حاجۃ الی اظھار ھذہ المعجزۃ (روح ج 19 ص 207) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(41) سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ بلقین کے لئے اس کے تخت میں کچھ تغیر و تبدیلی کردو تاکہ ہم دیکھیں کہ اس کو اس کا پتہ لگتا ہے یا اس کا شمار ان ہی لوگوں میں ہے جن کو پتہ نہیں لگتا اور راہ نہیں ملتی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں روپ بدلنا کہ وہ جڑا ئو تھا اس کا جڑائو اکھیڑ کر اور قرینے سے جڑا اور بلقیس کی عقل آزمائی منظور تھی اور اپنا معجزہ دکھانا 12 یعنی چیز وہی تھی اس کی صورت اور اس کے روپ میں کچھ تبدیلی کرادی۔