Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 65

سورة القصص

وَ یَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ فَیَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۶۵﴾

And [mention] the Day He will call them and say, "What did you answer the messengers?"

اس دن انہیں بلا کر پوچھے گا کہ تم نے نبیوں کو کیا جواب دیا؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And the Day He will call to them, and say: "What answer gave you to the Messengers!" The first call will be concerning the issue of Tawhid, which includes evidences of the Prophethood -- `What was your response to the Messengers who were sent to you! How did you deal with them!' This is like the questions which will be asked of a person in his grave: `who is your Lord who is your Prophet and what is your religion!' The believer will testify that there is no God except Allah and that Muhammad is His servant and Messenger, but the disbelievers will say, "Oh, oh, I do not know." So he will have no answer on the Day of Resurrection except to remain silent, because whoever is blind in this world (i.e., does not see Allah's signs and believes not in Him), will be blind in the Hereafter, and more astray. Allah says: فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الاَْنبَاء يَوْمَيِذٍ فَهُمْ لاَ يَتَسَاءلُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

651اس سے پہلے کی آیات میں توحید سے متعلق سوال تھا، یہ ندائے ثانی رسالت کے بارے میں ہے، یعنی تمہاری طرف ہم نے رسول بھیجے تھے، تم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا، ان کی دعوت قبول کی تھی ؟ جس طرح قبر میں سوال ہوتا ہے، تیرا پیغمبر کون ہے ؟ تیرا دین کونسا ہے ؟ مومن تو صحیح جواب دے دیتا ہے لیکن کافر کہتا ہے مجھے تو کچھ معلوم نہیں، اسی طرح قیامت والے دن انھیں اس سوال کا جواب نہیں سوجھے گا۔ اسی لئے آگے فرمایا‏‏، ان پر تمام حبریں اندھی ہوجائیں گی، یعنی کوئی دلیل ان کی سمجھ میں نہیں آئے گی جسے وہ پیش کرسکیں۔ یہاں دلائل کو احبار سے تعبیر کر کے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان کے باطل عقائد کے لئے حقیقت میں ان کے پاس کوئی دلیل ہے ہی نہیں، صرف قصص و حکایات ہیں، جیسے آج بھی قبر پرستوں کے پاس من گھڑت کراماتی قصوں کے سوا کچھ نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٩] مشرکوں سے پہلا سوال تو توحید سے متعلق تھا۔ اب یہ سوال پیغام رسالت سے متعلق ہوگا۔ یعنی بات اتنی ہی نہیں تھی کہ عابد و معبود دونوں اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر گمراہ ہو رہے تھے۔ بلکہ رسولوں نے بروقت انھیں ہدایت اور ضلالت کا فرق واضح طور پر بتلا دیا تھا۔ تو پھر تم لوگوں نے ان رسولوں کی بات مان لی تھی ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ : یہ دوسرا سوال ہے جو نبوت کے متعلق ہے کہ جب میرے رسولوں نے تمہیں میرا پیغام پہنچایا اور اس پر چلنے کی ہدایت کی تو تم نے انھیں کیا جواب دیا۔ پہلا سوال توحید کے متعلق تھا، یہی دو سوال قبر میں ہوں گے، یعنی ” مَنْ رَبُّکَ ؟ “ ” تیرا رب کون ہے ؟ “ اور ” مَنْ نَبِیُّکَ ؟ “ تیرا نبی کون ہے ؟ “ اور تیسرا سوال یہ کہ ” مَا دِیْنُکَ ؟ “ ” تیرا دین کیا ہے ؟ “ مومن کا جواب ہوگا : ” رَبِّيَ اللّٰہُ وَ نَبِیِّيْ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ دِیْنِيَ الإِْسْلَامُ “ ” میرا رب اللہ ہے، میر انبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے اور میرا دین اسلام ہے۔ “ [ دیکھیے مسند البزار : ١٧؍١٥٤، ح : ٩٧٦٠۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ٦؍١٢٧، ح : ٢٦٢٨ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَوْمَ يُنَادِيْہِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ۝ ٦٥ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع بالألفاظ المعروفة، وقوله : أُولئِكَ يُنادَوْنَمِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] فاستعمال النّداء فيهم تنبيها علی بُعْدهم عن الحقّ في قوله : وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] ، وقوله : إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] فإنه أشار بِالنِّدَاء إلى اللہ تعالی، لأنّه تَصَوَّرَ نفسَهُ بعیدا منه بذنوبه، وأحواله السَّيِّئة كما يكون حال من يَخاف عذابَه، وقوله : رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] فالإشارة بالمنادي إلى العقل، والکتاب المنزَّل، والرّسول المُرْسَل، وسائر الآیات الدَّالَّة علی وجوب الإيمان بالله تعالی. وجعله منادیا إلى الإيمان لظهوره ظهورَ النّداء، وحثّه علی ذلك كحثّ المنادي . وأصل النِّداء من النَّدَى. أي : الرُّطُوبة، يقال : صوت نَدِيٌّ رفیع، واستعارة النِّداء للصَّوْت من حيث إنّ من يَكْثُرُ رطوبةُ فَمِهِ حَسُنَ کلامُه، ولهذا يُوصَفُ الفصیح بکثرة الرِّيق، ويقال : نَدًى وأَنْدَاءٌ وأَنْدِيَةٌ ، ويسمّى الشَّجَر نَدًى لکونه منه، وذلک لتسمية المسبَّب باسم سببِهِ وقول الشاعر : 435- كَالْكَرْمِ إذ نَادَى مِنَ الكَافُورِ «1» أي : ظهر ظهورَ صوتِ المُنادي، وعُبِّرَ عن المجالسة بالنِّدَاء حتی قيل للمجلس : النَّادِي، والْمُنْتَدَى، والنَّدِيُّ ، وقیل ذلک للجلیس، قال تعالی: فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] ومنه سمّيت دار النَّدْوَة بمكَّةَ ، وهو المکان الذي کانوا يجتمعون فيه . ويُعَبَّر عن السَّخاء بالنَّدَى، فيقال : فلان أَنْدَى كفّاً من فلان، وهو يَتَنَدَّى علی أصحابه . أي : يَتَسَخَّى، وما نَدِيتُ بشیءٍ من فلان أي : ما نِلْتُ منه نَدًى، ومُنْدِيَاتُ الكَلِم : المُخْزِيَات التي تُعْرَف . ( ن د ی ) الندآ ء کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں اور کبھی نفس آواز پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ میں اندر سے مراد آواز و پکار ہے یعنی وہ چو پائے صرف آواز کو سنتے ہیں اور اس کلام سے جو مفہوم مستناد ہوتا ہے اسے ہر گز نہیں سمجھتے ۔ اور کبھی اس کلام کو جس سے کوئی معنی مفہوم ہوتا ہو اسے ندآء کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو ۔ میں نماز کے لئے اذان دینا مراد ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے ۔ میں بھی نداء کے معنی نماز کی اذان دینے کے ہیں اور شریعت میں ند اء الصلوۃ ( اذان ) کے لئے مخصوص اور مشہور کلمات ہیں اور آیت کریمہ : ۔ أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ان کو گویا دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے : ۔ میں ان کے متعلق نداء کا لفظ استعمال کر کے متنبہ کیا ہے کہ وہ حق سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ نیز فرمایا ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کے ذہنی جانب سے پکارا فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] جب موسیٰ ان ان کے پاس آئے تو ندار آئی ۔ ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا میں اللہ تعالیٰ کے متعلق نادی کا لفظ استعمال کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے گناہ اور احوال سینہ کے باعث اس وقت اپنے آپ کو حق اللہ تعالیٰ سے تصور کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے کی حالت ہوتی ہے اور آیت کریمہ ؛ ۔ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] اے پروردگار ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا ۔ جو ایمان کے لئے پکاررہا تھا ۔ میں منادیٰ کا لفظ عقل کتاب منزل رسول مرسل اور ان آیات الہیہ کو شامل ہے جو ایمان باللہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں اور ان چیزوں کو منادی للا یمان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ندا کی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور وہ پکارنے والے کی طرح ایمان لانے کی طرف دعوت دے رہی ہیں ۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں ۔ اور آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بنا پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بھی بلند اور حسین ہوگی اسی سے فصیح شخص کو کثرت ریق کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور ندی کے معنی مجلس کے بھی آتے ہیں اس کی جمع انداء واندید آتی ہے ۔ اور در خت کو بھی ندی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ نمی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ تسمیۃ المسبب با سم السبب کے قبیل سے ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 420 ) کالکرم اذا نادٰی من الکافور جیسا کہ انگور کا خوشہ غلاف ( پردہ ) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ منادی کرنے والے کی آواز ہوتی ہے ۔ کبھی نداء سے مراد مجالست بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے مجلس کو النادی والمسدیوالندی کہا جاتا ہے اور نادیٰ کے معنی ہم مجلس کے بھی آتے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلالے ۔ اور اسی سے شہر میں ایک مقام کا نام درا لندوۃ ہے ۔ کیونکہ اس میں مکہ کے لوگ جمع ہو کر باہم مشورہ کیا کرتے تھے ۔ اور کبھی ندی سے مراد مخاوت بھی ہوتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ فلان اندیٰ کفا من فلان وپ فلاں سے زیادہ سخی ہے ۔ ھو یتندٰی علیٰ اصحابہ ۔ وہ اپنے ساتھیوں پر بڑا فیاض ہے ۔ ما ندیت بشئی من فلان میں نے فلاں سے کچھ سخاوت حاصل نہ کی ۔ مندیات الکلم رسوا کن باتیں مشہور ہوجائیں ۔ ( ماذا) يستعمل علی وجهين : أحدهما . أن يكون ( ما) مع ( ذا) بمنزلة اسم واحد، والآخر : أن يكون ( ذا) بمنزلة ( الذي) ، فالأوّل نحو قولهم : عمّا ذا تسأل ؟ فلم تحذف الألف منه لمّا لم يكن ما بنفسه للاستفهام، بل کان مع ذا اسما واحدا، وعلی هذا قول الشاعر : دعي ماذا علمت سأتّقيه أي : دعي شيئا علمته . وقوله تعالی: وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] ، فإنّ من قرأ : قُلِ الْعَفْوَ بالنّصب فإنّه جعل الاسمین بمنزلة اسم واحد، كأنّه قال : أيّ شيء ينفقون ؟ ومن قرأ : قُلِ الْعَفْوَ بالرّفع، فإنّ ( ذا) بمنزلة الذي، وما للاستفهام أي : ما الذي ينفقون ؟ وعلی هذا قوله تعالی: ماذا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ؟ قالُوا : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ النحل/ 24] ، و (أساطیر) بالرّفع والنصب ( ماذا ) اور ماذا ، ، بھی دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ اول یہ کہ ، ، مازا کے ساتھ مل کر بمنزلہ ایک اسم کے ہو ۔ دوم یہ کہ ذا لذی کے ہو ( ما بمعنی اول یہ کہ ماذا ، ، کے ساتھ مل کر بمنزلہ ایک اسم کے ہو ۔ دوم یہ کہ ذا بمنزلہ الذی کے ہو ( ما بمعنی ای شئی کے ہو پہلی قسم کی مثال جیسے : عما ذا تسال کہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے ہو اس صورت میں چونکہ ، ، ماذا اکیلا ، ، استفہام کے لئے نہیں ہے بلکہ ، ، ذا کے ساتھ مل کر ایک اسم بنتا ہے اس لئے ، ، ما ، ، کے الف کو حزف نہیں کیا گیا ۔ اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے یعنی جو چیز تجھے معلوم ہے اسے چھوڑ دے میں اس سے بچنے کی کوشش کرونگا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ کہ ( خدا کی راہ میں ) کونسا مال خرچ مال کریں ۔ میں جو لوگ کو منصوب پڑھتے ہیں ۔ وہ ماذا کو بمنزلہ ایک اسم کے مانتے ہیں کونسی چیز صرف کریں مگر جن کے نزدیک ہے اور ما استفہا میہ ہے یعنی وہ کونسی چیز ہے جسے خرچ کریں ۔ اس بنا پر آیت کریمہ : ۔ ماذا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ؟ قالُوا : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ النحل/ 24] کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہی تو کہتے ہیں کہ ( وہ تو ) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں ۔ میں اساطیر رفع اور نصب دونوں جائز ہیں ۔ جوب والجواب يقال في مقابلة السؤال، والسؤال علی ضربین : طلب مقال، وجوابه المقال . وطلب نوال، وجوابه النّوال . فعلی الأول : أَجِيبُوا داعِيَ اللَّهِ [ الأحقاف/ 31] ، وعلی الثاني قوله : قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُما فَاسْتَقِيما [يونس/ 89] ، أي : أعطیتما ما سألتما . ( ج و ب ) الجوب جواب کا لفظ سوال کے مقابلہ میں بھی استعمال ہوتا ہے اور سوال دو قسم پر ہے ( 1) گفتگو کا طلب کرنا اس کا جواب گفتگو ہی ہوتی ہے (2) طلب عطا یعنی خیرات طلب کرنا اس کا جواب یہ ہے کہ اسے خیرات دے دی جائے چناچہ اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : أَجِيبُوا داعِيَ اللَّهِ [ الأحقاف/ 31] خدا کی طرف سے بلانے والے کی باٹ قبول کرو ۔ اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی باٹ قبول نہ کرے ۔ اور دوسرے معنی کے اعتبار سے فرمایا : : قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُما فَاسْتَقِيما [يونس/ 89] ، کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو ہم ثابت قدم رہنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٥) اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کافروں سے پکار کر پوچھے گا کہ پیغمبروں نے جب تمہیں ہدایت کی طرف بلایا تھا تو تم نے ان کو کیا جواب دیا تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:65) ویوم : واؤ عاطفہ ہے اور جملہ مابعد کا عطف ویوم ۔۔ آیت 62 پر ہے۔ ماذا۔ مرکب ہے ما اور ذا سے۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) ما استفہامیہ اور ذا موصولہ ہے۔ (2) ما استفہامیہ اور ذا اسم اشارہ ہے۔ (3) ما زائدہ اور ذا اسم شارہ ہے۔ (4) ما نافیہ اور ذا زائدہ ہے۔ (5) ما استفہامیہ اور ذا فصل کے لئے۔ تاکہ ما نافیہ اور ما استفہامیہ میں امتیاز ہوجائے کیا چیز ہے۔ کیا ہے۔ کیا ہے یہ۔ اجبتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ اجابۃ (افعال) مصدر۔ تم نے جواب دیا۔ جوب مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

9 ۔ جب انہوں نے تمہیں میرا پیغام پہنچایا اور اس پر چلنے کی ہدایت کی ؟ اوپر ندائے اول میں توحید کے متعلق سوال کا ذکر ہے اور ابندائے ثانی میں نبوت کے متعلق ہے۔ یہی دو سوال قبر میں ہوں گے یعنی من ربک و من تبیک (قرطبی۔ ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں سے دوسرا سوال۔ مشرکوں سے دوسرا سوال یہ کیا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس رسول آئے اور انھوں نے میری ذات کا تعارف کروایا اور میرے ارشادات تم تک پہنچائے تھے ؟ بتاؤ تم نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو کیا جواب دیا تھا۔ رب ذوالجلال کے جلال اور اپنے گناہوں کی وجہ سے رسولوں کے منکر کوئی جواب نہیں دے پائیں گے اور نہ ہی انھیں ایک دوسرے سے پوچھنے کی ہمت ہوگی۔ مجرم حواس باختی کی وجہ سے سب کچھ بھول جائیں گے۔ اس طرح ان پر گمراہی کی شہادت پوری ثابت ہوجائے گی۔ البتہ جن لوگوں نے شرک سے توبہ کی اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتے رہے یقیناً وہ کامیابی پائیں گے۔ رسول کے نافرمان کا قیامت کے دن حسرت کا اظہار : ” ظالم انسان اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کی اتباع کی ہوتی۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی شیطان انسان کے لیے بڑا ہی دھوکہ باز۔ اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیں گے کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو مذاق بنالیا تھا۔ “ (الفرقان : ٢٧ تا ٣٠ )

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ یَوْمَ یُنَادِیْھِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ ) (اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکار کر سوال کیا جائے گا کہ جب تمہیں رسولوں نے حق کی دعوت پہنچائی تو تم نے کیا جواب دیا ؟ ) (فَعَمِیَتْ عَلَیْھِمُ الْاَنْبَآءُ یَوْمَءِذٍ ) (سو ساری خبریں یعنی ہر طرح کے مضامین جن کے ذریعہ جواب دیں سب غائب ہوجائیں گے) اور انہیں کچھ سمجھ نہ آئے گا کہ کیا جواب دیں۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) سے یہ سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا (کما فی سورة المائدۃ) (یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ ) (تو اس وقت کی حیرانی میں کچھ جواب نہ دے سکیں گے جب اللہ تعالیٰ کے پیاروں کا یہ حال ہوگا تو گمراہ لوگوں کا جو حال ہوگا، ظاہر ہے انہیں بولنے اور جواب دینے کی تاب کہاں ہوسکتی ہے ؟ ) (فَھُمْ لَا یَتَسَآءَ لُوْنَ ) (سو وہ آپس میں پوچھ پاچھ نہ کریں گے) کیونکہ اس دن کی وحشت اور مصیبت نے سب کچھ بھلا رکھا ہوگا کوئی کسی سے نہ پوچھے گا کہ کیا جواب دوں شرک اور کفر پر مرنے والوں کا حال بتانے کے بعد ان حضرات کا تذکرہ فرمایا جنہوں نے شرک اور کفر سے توبہ کی اور ایمان اور اعمال صالحہ سے آراستہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا (فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسآی اَنْ یَّکُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ ) (یعنی جس نے کفرو شرک سے توبہ کی اور ایمان لایا اور اعمال صالحہ اختیار کیے۔ سو یہ لوگ کامیابی پانے والوں میں سے ہوں گے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

62:۔ قیامت کے دن مشرکین سے یہ سوال بھی ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں اللہ کے رسولوں کو کیا جواب دیا اور ان سے کس طرح پیش آئے جو انہیں شرک سے روکتے اور توحید کی دعوت دیتے تھے۔ فعمیت علیہم الانباء الخ، دہشت اور ہیبت کی وجہ سے انہیں سب کچھ بھول جائے گا اور وہ ایک دوسرے سے پوچھ کر بھی کوئی جواب نہ دے سکیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

65۔ اور اس دن اللہ تعالیٰ کافروں کو پکار کر فرمائے گا اور دریافت کرے گا تم نے پیغامبروں کو کیا جواب دیا تھا یعنی پیغامبروں کی تشریف آوری تو یقینی ہے مگر یہ بتائو کہ جب ان کی دعوت تم کو پہنچی تو تم نے ان کو کیا جواب دیا ۔