Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 7

سورة القصص

وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰۤی اُمِّ مُوۡسٰۤی اَنۡ اَرۡضِعِیۡہِ ۚ فَاِذَا خِفۡتِ عَلَیۡہِ فَاَلۡقِیۡہِ فِی الۡیَمِّ وَ لَا تَخَافِیۡ وَ لَا تَحۡزَنِیۡ ۚ اِنَّا رَآدُّوۡہُ اِلَیۡکِ وَ جَاعِلُوۡہُ مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۷﴾

And We inspired to the mother of Moses, "Suckle him; but when you fear for him, cast him into the river and do not fear and do not grieve. Indeed, We will return him to you and will make him [one] of the messengers."

ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام ) کی ماں کو وحی کی کہ اسے دودھ پلاتی رہ اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو تو اسے دریا میں بہا دینا اور کوئی ڈر خوف یا رنج غم نہ کرنا ہم یقیناً اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے اپنے پیغمبروں میں بنانے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How Musa's Mother was inspired and shown what to do It was mentioned that when Fir`awn killed so many of the males of the Children of Israel, the Copts were scared that the Children of Israel would die out, and they themselves would have to do the heavy labor that the Children of Israel used to do. So they said to Fir`awn, "If this continues, and their old men die and the young men are killed, their women will not be able to do the work that the men are doing, and we will end up having to do it." So Fir`awn issued orders that the boys should be killed one year, and left alone the following year. Harun, peace be upon him, was born in a year when the boys were not killed, and Musa was born in a year when the boys were being killed. Fir`awn had people who were entrusted with this task. There were midwives who would go around and check on the women, and if they noticed that any woman was pregnant, they would write her name down. When the time came for her to give birth, no one was allowed to attend her except for Coptic women. If the woman gave birth to a girl, they would leave her alone and go away, but if she gave birth to a boy, the killers would come in with their sharp knives and kill the child, then they would go away; may Allah curse them. When the mother of Musa became pregnant with him, she did not show any signs of pregnancy as other women did, and none of the midwives noticed. But when she gave birth to a boy, she became very distressed and did not know what to do with him. She was extremely scared for him, because she loved him very much. No one ever saw Musa, peace be upon him, but they loved him, and the blessed ones were those who loved him both as a natural feeling and because he was a Prophet. Allah says: وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّى And I endued you with love from Me. (20:39) Musa, peace be upon him, in the House of Fir`awn When Musa's mother became so worried and confused, it was inspired into her heart and mind what she should do, as Allah says: وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلاَأ تَخَافِي وَلاَأ تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ And We inspired the mother of Musa (telling): "Suckle him, but when you fear for him, then cast him into the river and fear not, nor grieve. Verily, We shall bring him back to you, and shall make him one of (Our) Messengers." Her house was on the banks of the Nile, so she took a box and made it into a cradle, and started to nurse her child. When someone came to her that she was afraid of, she would go and put him in that box and put it in the river, and she would tie it with a rope. One day someone that she was afraid of came to the house, so she went and put the child in that box and put it in the river, but she forgot to tie it. The water carried him away, past the house of Fir`awn, where some servant women picked the box up and took it to Fir`awn's wife. They did not know what was inside, and they were afraid that they would be in trouble if they opened it without her. When the box was opened, they saw it was a child with the most beautiful features. Allah filled her heart with love for him when she saw him; this was because she was blessed and because Allah wanted to honor her and cause her husband's doom. Allah says:

بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزارہا بچے قتل ہوچکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہوگئے توجتنے ذلیل کام اور بےہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں ۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسرے سال قتل نہ کئے جائیں ۔ حضرت ہارون اس سال تولد ہوئے جس سال بچوں کو قتل نہ کیا جاتا تھا لیکن حضرت موسیٰ اس سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے لڑکے عام طور پر تہ تیغ ہو رہے تھے ۔ عورتیں گشت کرتی رہتی تھی اور حاملہ عورتوں کا خیال رکھتی تھی ۔ ان کے نام لکھ لیے جاتے تھے ۔ وضع حمل کے وقت یہ عورتیں پہنچ جاتی تھی اگر لڑکی ہوئی تو واپس چلی جاتی تھی اور اگر لڑکا ہوا تو فورا جلادوں کو خبر کردیتی تھی ۔ یہ لوگ تیز چھرے لئے اسی وقت آجاتے تھے اور ماں باپ کے سامنے اسی وقت ان کے بچوں کوٹکڑے ٹکڑے کرکے چلے جاتے تھے ۔ حضرت موسیٰ کی والدہ کا جب حمل ہوا تو عام حمل کی طرح اس کا پتا نہ چلا اور جو عورتیں اس کام پر مامور تھی اور جتنی دائیاں آتی تھی کسی کو حمل کا پتہ نہ چلا ۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ تولد بھی ہوگئے آپ کی والدہ سخت پریشان ہونے لگی اور ہر وقت خوفزدہ رہنے لگیں اور اپنے بچے سے محبت بھی اتنی تھی کہ کسی ماں کو اپنے بچے سے اتنی نہ ہوگی ۔ ایک ماں پر ہی کیا موقوف اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کا چہرہ ہی ایسا بنایا تھا ۔ کہ جس کی نظر پڑ جاتی تھی اس کے دل میں ان کی محبت بیٹھ جاتی تھی ۔ جیسے جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت ( وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ ڬ وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِيْ 39؀ۘ ) 20-طه:39 ) میں نے اپنی خصوصی محبت سے تمہیں نوازا ۔ پس جب کہ والدہ موسیٰ ہر وقت کبیدہ خاطر ، خوفزدہ اور رنجیدہ رہنے لگیں تو اللہ نے ان کے دل میں خیال ڈالا کہ اسے دودھ پلاتی رہے اور خوف کے موقعہ پر انہیں دریائے نیل میں بہادے جس کے کنارے پر ہی آپ کا مکان تھا ۔ چنانچہ یہی کیا کہ ایک پیٹی کی وضع کا صندوق بنالیا اس میں حضرت موسیٰ کو رکھ دیا دودھ پلادیا کرتیں اور اس میں سلادیا کرتیں ۔ جہاں کوئی ایسا ڈراؤنا موقعہ آیاتو اس صندوق کو دریا میں بہادیتیں اور ایک ڈوری سے اسے باندھ رکھا تھا خوف ٹل جانے کے بعد اسے کھینچ لیتیں ۔ ایک مرتبہ ایک ایسا شخص گھر میں آنے لگا جس سے آپ کی والدہ صاحبہ کو بہت دہشت ہوئی دوڑ کر بچے کو صندوق میں لٹاکر دریا میں بہادیا اور جلدی اور گبھراہٹ میں ڈوری باندھنی بھول گئیں صندوق پانی کی موجوں کے ساتھ زور سے بہنے لگا اور فرعون کے محل کے پاس گزرا تو لونڈیوں نے اسے اٹھالیا اور فرعون کی بیوی کے پاس لے گئیں راستے میں انہوں نے اسے ڈر کے مارے کھولا نہ تھا کہ کہیں تہمت ان پر نہ لگ جائے جب فرعون کی بیوی کے پاس اسے کھولا گیا تو دیکھا کہ اس میں تو ایک نہایت خوبصورت نورانی چہرے والا صحیح سالم بچہ لیٹا ہوا ہے جسے دیکھتے ہی ان کا دل مہر محبت سے بھر گیا اور اس بچہ کی پیاری شکل دل میں گھر کر گئی ۔ اس میں بھی رب کی مصلحت تھی کہ فرعون کی بیوی کو راہ راست دکھائے اور فرعون کے سامنے اس کا ڈر لائے اور اسے اور اس کے غرور کو ڈھائے تو فرماتا ہے کہ آل فرعون نے اس صندوق کو اٹھالیا اور انجام کار وہ ان کی دشمنی اور ان کے رنج وملال کا باعث ہوا ۔ محمد بن اسحاق وغیرہ فرماتے ہیں لیکون کا لام لام عاقبت ہے لام تعلیل نہیں ۔ اس لئے کہ ان کا ارادہ نہ تھا بظاہر یہ ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے لیکن معنی کو دیکھتے ہوئے لام کو لام تعلیل سمجھنے میں بھی کوئی حرج نہیں اتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس صندوقچے کا اٹھا نے والا اس لئے بنایا تھا کہ اللہ اسے ان کے لئے دشمن بنادے اور ان کے رنج وغم کا باعث بنائے بلکہ اس میں ایک لطف یہ بھی ہے کہ جس سے وہ بچنا چاہتے تھے وہ ان کے سر چڑھ گیا ۔ اس لئے اس کے بعد ہی فرمایا گیا کہ فرعون ہامان اور ان کے ساتھی خطاکار تھے ۔ روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے قدریہ کو جو لوگ کہ تقدیر کے منکر ہیں ایک خط میں لکھا کہ موسیٰ کے سابق علم میں فرعون کے دشمن اور اس کے لئے باعث رنج وغم تھے جیسے قرآن کی اس آیت سے ثابت ہے لیکن تم کہتے ہو کہ فرعون چاہتا تو موسیٰ اس کے مددگار اور دوست ہوتے ۔ پھر فرماتا ہے کہ اس بچے کو دیکھتے ہی فرعون بدکا کہ ایسا نہ ہو کسی اسرائیلی عورت نے اسے پھینک دیا ہو اور کہیں یہ وہی نہ ہو جس کے قتل کرنے کے لئے ہزاروں بچوں کو فنا کرچکا ہوں ۔ یہ سوچ کر اس نے انہیں بھی قتل کرنا چاہا لیکن اس کی بیوی حضرت آسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کی سفارش کی ۔ فرعون کو اس کے ارادے سے روکا اور کہا اسے قتل نہ کیجیئے بہت ممکن ہے کہ یہ آپ کی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو مگر فرعون نے جواب دیا کہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو لیکن مجھے تو آنکھوں کی ٹھنڈک کی ضروت نہیں ۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ یہی ہوا کہ حضرت آسیہ کو اللہ نے اپنا دین نصیب فرمایا اور حضرت موسیٰ کی وجہ سے انہوں نے ہدایت پائی اور اس متکبر کو اللہ نے اپنے نبی کے ہاتھوں ہلاک کیا ۔ نسائی وغیرہ کے حوالے سے سورۃ طہ کی تفسیر میں حدیث فتون میں یہ قصہ پورا بیان ہوچکا ہے ۔ حضرت آسیہ فرماتی ہے شاید ہمیں نفع پہنچائے ۔ ان کی امید اللہ نے پوری کی دنیا میں حضرت موسیٰ ان کی ہدایت کا ذریعہ بنے اور آخرت میں جنت میں جانے کا ۔ اور کہتی ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اسے اپنا بچہ بنالیں ۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی تو چاہا کہ حضرت موسیٰ کو متبنی بنالیں ۔ ان میں سے کسی کو شعور نہ تھا کہ قدرت کس طرح پوشیدہ اپنا ارادہ پوراکر رہی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

71وحی سے مراد یہاں دل میں بات ڈالنا ہے، وہ وحی نہیں ہے، جو انبیاء پر فرشتے کے ذریعے سے نازل کی جاتی تھی اور اگر فرشتے کے ذریعے سے بھی آئی ہو، تب بھی اس ایک وحی سے ام موسیٰ (علیہ السلام) کا نبی ہونا ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ فرشتے بعض دفعہ عام انسانوں کے پاس بھی آجاتے ہیں۔ جیسے حدیث میں واقع، ابرص اور اعمی کے پاس فرشتوں کا آنا ثابت ہے (متفق علیہ، بخاری، کتاب احادیث الانبیاء) 72یعنی دریا میں ڈوب جانے یا ضائع ہوجانے سے ڈرنا اور اس کی جدائی کا غم نہ کرنا۔ 73یعنی ایسے طریقے سے کہ جس سے اس کی نجات یقینی ہو، کہتے ہیں کہ جب قتل اولاد کا یہ سلسلہ زیادہ ہوا تو فرعون کی قوم کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں بنی اسرائیل کی نسل ہی ختم نہ ہوجائے اور مشقت والے کام ہمیں نہ کرنے پڑجائیں۔ اس اندیشے کا ذکر انہوں نے فرعون سے کیا، جس پر نیا حکم جاری کردیا گیا کہ ایک سال بچے قتل کئے جائیں اور ایک سال چھوڑ دیئے جائیں ؛ حضرت ہارون (علیہ السلام) اس سال پیدا ہوئے جس میں بچے قتل نہ کئے جاتے تھے، جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) قتل والے سال پیدا ہوئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا سروسامان پیدا فرما دیا۔ کہ ایک تو ان کی والدہ پر حمل کے آثار اس طرح ظاہر نہیں فرمائے جس سے وہ فرعون کی چھوڑی ہوئی دائیوں کی نگاہ میں آجائیں اس لئے ولادت کا مرحلہ تو خاموشی کے ساتھ ہوگیا اور یہ واقعہ حکومت کے منصوبہ بندوں کے علم میں نہیں آیا، لیکن ولادت کے بعد قتل کا اندیشہ موجود تھا۔ جس کا حل خود اللہ تعالیٰ نے وحی والقاء کے ذریعے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو سمجھا دیا چناچہ انہوں نے اسے تابوت میں لٹا کر دریائے نیل میں ڈال دیا۔ (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] یہاں لفظ اَوْحَیْنَا استعمال ہوا ہے اور وحی کا لغوی معنی صرف خفی اور تیز اشارہ ہے اور اَوْحٰی کے معنی کسی پوشیدہ اور نامعلوم بات کے متعلق سرعت سے اشارہ کرنا (مفردات، مقاییس اللغۃ) یعنی کسی تشویشناک معاملہ کے حل کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکدم دل میں کوئی خیال آجانا اور ایسی وحی غیر نبی کی طرف بھی ہوسکتی ہے۔ ایسی ہی وحی امّ موسیٰ کو بھیجی گئی تھی۔ اور ممکن ہے یہ وحی فرشتوں کے خطاب کی صورت میں ہو۔ ایسی وحی بھی غیر نبی کو ہوسکتی ہے۔ جیسے حضرت مریم سے فرشتوں نے خطاب کیا تھا۔ [١١] یہ وحی موسیٰ کی پیدائش کے بعد ہوئی اور یہ وحی چار امور پر مشتمل تھی : (١) جب تک اس بچے کی سراغ رسانی نہیں ہوتی، اسے اپنے پاس ہی رکھو اور اسے دودھ پلاتی رہو۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ام موسیٰ نے آپ کو تین ماہ تک چھپائے رکھا تھا۔ (٢) جب یہ راز فاش ہونے لگے اور تمہیں یہ خطرہ محسوس ہو کہ اب عمال حکومت اس بچے کو پکڑ کرلے جائیں گے۔ تو اس کو کسی تابوت یا ٹوکرے میں رکھ کر دریا کی موجوں کے سپرد کردینا (٣) اور دریا میں ڈالتے وقت اس بات کا ہرگز اندیشہ نہ کرنا کہ یہ بچہ ضائع ہوجائے گا۔ بلکہ ہم بہت جلد یہ بچہ تیری ہی طرف لوٹا دیں گے۔ تو ہی اسے دودھ پلائے گی اور اس کی پرورش کرے گی۔ یہی وہ بچہ ہے جو بنی اسرائیل میں رسول بننے والا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى : ” وحی “ کا لفظی معنی خفیہ اور تیز اشارہ ہے۔ وحی کرنے کا مطلب کوئی بات خفیہ طریقے سے دل میں ڈالنا ہے۔ یہاں کلام کا ایک حصہ محذوف ہے کہ مظلوم بنی اسرائیل پر احسان کی ابتدا یہاں سے ہوئی کہ ان کی نجات کا ذریعہ بننے والے لڑکے کی ماں اس کے ساتھ اس سال حاملہ ہوئی جس میں ان کے لڑکوں کو ذبح کیا جاتا تھا۔ ان کے والد کا نام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمران بیان فرمایا ہے۔ [ دیکھیے مسلم، الإیمان، باب الإسراء برسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔ : ٢٦٧؍١٦٥ ] اس سے پہلے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی ولادت اس سال ہوچکی تھی جس میں لڑکے قتل نہیں کیے جاتے تھے۔ دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (٤٩) کی تفسیر۔ ان کی والدہ کا نام اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمایا، نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذکر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے ان کا نام ” ایارفت “ اور بعض نے ” لوحا “ بتایا ہے، مگر یہ کسی صحیح حوالے سے ثابت نہیں۔ قرآن ان کا ذکر ” اُمّ موسیٰ “ کے نام سے کرتا ہے۔ 3 یہاں اللہ تعالیٰ نے ” اَوْحَيْنَآ “ میں اور آگے آنے والے الفاظ میں اپنی عظمت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے، کیونکہ شاہی حکم عموماً جمع کے صیغے سے جاری ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو ملک الملوک اور شہنشاہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہوا ہماری قدرت و حکمت کے نتیجے میں ہوا، ورنہ ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔ 3 وحی کا لفظی معنی خفیہ اور تیز اشارہ ہے۔ اُمّ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کس طرح کی، اس کی صراحت نہیں فرمائی۔ انھیں الہام کیا (ان کے دل میں ڈالا) یا انھیں خواب دکھایا، بہر حال یہ وحی انھیں چند باتیں بتانے کے لیے تھی، نبوت کی وحی نہیں تھی۔ کیونکہ اس بات پر تمام علماء کا اجماع ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نبیہ نہیں تھیں، کیونکہ تمام انبیاء مرد تھے۔ (دیکھیے انبیاء : ٧) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ان کے پاس فرشتہ آیا، اس صورت میں بھی یہی کہا جائے گا کہ فرشتے تو بعض اوقات غیر انبیاء کے پاس بھی آجاتے ہیں، جیسا کہ مریم بنت عمران [ کے پاس بھی فرشتہ آیا اور انھیں مسیح (علیہ السلام) کی ولادت کی بشارت دی۔ (دیکھیے مریم : ١٦ تا ٢١) صحیح بخاری (٣٤٦٤) اور صحیح مسلم (٢٩٦٤) میں گنجے، کوڑھی اور نابینے شخص کا قصہ مذکور ہے کہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور ان سے ہم کلام ہوا۔ سنن کبریٰ بیہقی کی صحیح حدیث (٩١١٠) میں ہے کہ فرشتوں نے عمران بن حصین (رض) کو سلام کیا، لیکن اس سے وہ نبی نہیں بن گئے۔ اَنْ اَرْضِعِيْهِ : اللہ تعالیٰ نے اُمّ موسیٰ کو وحی کی کہ اپنے بچے کو کچھ مدت تک دودھ پلا، تاکہ اس کی ابتدائی غذائی ضرورت پوری ہوجائے، کیونکہ ماں کے دودھ سے بڑھ کر کوئی چیز وہ ضرورت پوری نہیں کرسکتی، اور جسم کچھ مضبوط ہوجائے، جو آخری مرتبہ دودھ پلا کر دریا میں ڈالنے سے لے کر دایہ کا دودھ ملنے تک کا وقفہ برداشت کرسکے۔ ” اسے دودھ پلا “ کے ضمن میں یہ حکم بھی موجود ہے کہ اتنی مدت تک اسے ہر حال میں چھپا کر رکھ، کسی کو اس کی خبر نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ حمل کی پوری مدت، پھر ولادت کے وقت، حتیٰ کہ کچھ عرصہ دودھ پلانے تک فرعون کی مقرر کردہ دایوں اور اس کے جاسوسوں کو اس معاملے کی خبر نہ ہو سکنا اللہ تعالیٰ کا معجزانہ انتظام تھا، جس کا ذکر سورة طٰہٰ (٣٩) میں ” وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِيْ “ کے الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے۔ دودھ پلانے کا یہ عرصہ کتنا تھا ؟ تین ماہ یا چھ ماہ یا سال، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، کیونکہ صحیح ذریعے سے اس کی تعیین ثابت نہیں۔ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ : اس کی تفصیل سورة طٰہٰ (٣٨ تا ٤٠) میں ہے۔ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ : خوف آنے والے خطرے کا ہوتا ہے اور غم گزشتہ نقصان کا۔ فرمایا جب تمہیں فرعون کے جاسوسوں کا خطرہ محسوس ہو تو اسے دریا میں پھینک دو اور نہ ڈرو کہ ضائع ہوجائے گا، یا اسے کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ غم کرو کہ میں نے اپنے بچے کو دریا میں کیوں پھینک دیا۔ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ : مفسرین نے اس آیت میں اللہ کے کلام کا اعجاز بیان کیا ہے کہ اس مختصر سی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُمّ موسیٰ کو دو چیزوں کا حکم دیا ہے، یعنی ” اَنْ اَرْضِعِيْهِ “ اور ” فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ “ اور دو چیزوں سے منع فرمایا ہے، یعنی ” ولا تخافی “ اور ” ولا تحزنی “ اور دو چیزوں کا وعدہ فرمایا اور خوش خبری دی ہے، یعنی ” اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ “ اور ” وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ “۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ (28:7) The word Wahy (inspiration) is used here in its literal meaning. It does not mean the Wahy that is peculiar to prophets. This point has already been explained under Surah Taha.

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى، وحی کا لفظ اس جگہ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، وحی نبوت مراد نہیں اس کی تحقیق سورة طہ میں گزر چکی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْہِ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْہِ فَاَلْقِيْہِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ۝ ٠ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْہُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْہُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۝ ٧ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے أمّ الأُمُّ بإزاء الأب، وهي الوالدة القریبة التي ولدته، والبعیدة التي ولدت من ولدته . ولهذا قيل لحوّاء : هي أمنا، وإن کان بيننا وبینها وسائط . ويقال لکل ما کان أصلا لوجود شيء أو تربیته أو إصلاحه أو مبدئه أمّ ، قال الخلیل : كلّ شيء ضمّ إليه سائر ما يليه يسمّى أمّا «1» ، قال تعالی: وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتابِ [ الزخرف/ 4] «2» أي : اللوح المحفوظ وذلک لکون العلوم کلها منسوبة إليه ومتولّدة منه . وقیل لمكة أم القری، وذلک لما روي : (أنّ الدنیا دحیت من تحتها) «3» ، وقال تعالی: لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرى وَمَنْ حَوْلَها [ الأنعام/ 92] ، وأمّ النجوم : المجرّة «4» . قال : 23 ۔ بحیث اهتدت أمّ النجوم الشوابک «5» وقیل : أم الأضياف وأم المساکين «6» ، کقولهم : أبو الأضياف «7» ، ويقال للرئيس : أمّ الجیش کقول الشاعر : وأمّ عيال قد شهدت نفوسهم «8» وقیل لفاتحة الکتاب : أمّ الکتاب لکونها مبدأ الکتاب، وقوله تعالی: فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] أي : مثواه النار فجعلها أمّا له، قال : وهو نحو مَأْواكُمُ النَّارُ [ الحدید/ 15] ، وسمّى اللہ تعالیٰ أزواج النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمهات المؤمنین فقال : وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] لما تقدّم في الأب، وقال : ابْنَ أُمَ [ طه/ 94] ولم يقل : ابن أب، ولا أمّ له يقال علی سبیل الذم، وعلی سبیل المدح، وکذا قوله : ويل أمّه «1» ، وکذا : هوت أمّه «2» والأمّ قيل : أصله : أمّهة، لقولهم جمعا : أمهات، وفي التصغیر : أميهة «3» . وقیل : أصله من المضاعف لقولهم : أمّات وأميمة . قال بعضهم : أكثر ما يقال أمّات في البهائم ونحوها، وأمهات في الإنسان . ( ا م م ) الام یہ اب کا بالمقابل ہے اور ماں قریبی حقیقی ماں اور بعیدہ یعنی نانی پر نانی وغیرہ سب کو ام کہاجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت حواء کو امنا کہا گیا ہے اگرچہ ہمارا ان سے بہت دور کا تعلق ہے ۔ پھر ہر اس چیز کو ام کہا جاتا ہے ۔ جو کسی دوسری چیز کے وجود میں آنے یا اس کی اصلاح وتربیت کا سبب ہو یا اس کے آغاز کا مبداء بنے ۔ خلیل قول ہے کہ ہر وہ چیز جس کے اندر اس کے جملہ متعلقات منضم ہوجائیں یا سما جائیں ۔۔ وہ ان کی ام کہلاتی ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ } ( سورة الزخرف 4) اور یہ اصل نوشتہ ( یعنی لوح محفوظ ) میں ہے ۔ میں ام الکتاب سے مراد لوح محفوظ ہے کیونکہ وہ وہ تمام علوم کا منبع ہے اور اسی کی طرف تمام علوم منسوب ہوتے ہیں اور مکہ مکرمہ کو ام القریٰ کہا گیا ہے ( کیونکہ وہ خطبہ عرب کا مرکز تھا ) اور بموجب روایت تمام روئے زمین اس کے نیچے سے بچھائی گئی ہے ( اور یہ ساری دنیا کا دینی مرکز ہے ) قرآن میں ہے :۔ { لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا } ( سورة الشوری 7) تاکہ تو مکہ کے رہنے والوں کے انجام سے ڈرائے ۔ ام النجوم ۔ کہکشاں ۔ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) (23) بحیث اھتدت ام النجوم الشو ایک یعنی جہان کہ کہکشاں راہ پاتی ہے ام الاضیاف ۔ مہمان نواز ۔ ام المساکین ۔ مسکین نواز ۔ مسکینوں کا سہارا ۔ ایسے ہی جیسے بہت زیادہ مہمان نواز کو ، ، ابوالاضیاف کہا جاتا ہے اور رئیس جیش کو ام الجیش ۔ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) (24) وام عیال قدشھدت تقوتھم ، ، اور وہ اپنی قوم کے لئے بمنزلہ ام عیال ہے جو ان کو رزق دیتا ہے ۔ ام الکتاب ۔ سورة فاتحہ کا نام ہے ۔ کیونکہ وہ قرآن کے لئے بمنزلہ اور مقدمہ ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ { فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ } ( سورة القارعة 9) مثویٰ یعنی رہنے کی جگہ کے ہیں ۔ جیسے دوسری جگہ دوزخ کے متعلق { وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ } ( سورة العنْکبوت 25) فرمایا ہے ( اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امہ ھاویۃ ایک محاورہ ہو ) جس طرح کہ ویل امہ وھوت امہ ہے یعنی اس کیلئے ہلاکت ہو ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ :۔ { وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } ( سورة الأحزاب 6) میں ازواج مطہرات کو امہات المومنین قرار دیا ہے ۔ جس کی وجہ بحث اب میں گزرچکی ہے ۔ نیز فرمایا ۔ { يَا ابْنَ أُمَّ } ( سورة طه 94) کہ بھائی ۔ ام ۔ ( کی اصل میں اختلاف پایا جاتا ہے ) بعض نے کہا ہے کہ ام اصل میں امھۃ ہے کیونکہ اس کی جمع امھات اور تصغیر امیھۃ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اصل میں مضاعف ہی ہے کیونکہ اس کی جمع امات اور تصغیر امیمۃ آتی ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ عام طور پر حیونات وغیرہ کے لئے امات اور انسان کے لئے امھات کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ رضع يقال : رَضَعَ المولود يَرْضِعُ «1» ، ورَضِعَ يَرْضَعُ رَضَاعاً ورَضَاعَةً ، وعنه استعیر : لئيم رَاضِعٌ: لمن تناهى لؤمه، وإن کان في الأصل لمن يرضع غنمه ليلا، لئلّا يسمع صوت شخبه «2» ، فلمّا تعورف في ذلک قيل : رَضُعَ فلان، نحو : لؤم، وسمّي الثّنيّتان من الأسنان الرَّاضِعَتَيْنِ ، لاستعانة الصّبيّ بهما في الرّضع، قال تعالی: وَالْوالِداتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كامِلَيْنِ لِمَنْ أَرادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضاعَةَ [ البقرة/ 233] ، فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَ [ الطلاق/ 6] ، ويقال : فلان أخو فلان من الرّضاعة، وقال صلّى اللہ عليه وسلم : «يحرم من الرَّضَاعِ ما يحرم من النّسب» «3» ، وقال تعالی: وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلادَكُمْ [ البقرة/ 233] ، أي : تسومونهنّ إرضاع أولادکم . ( ر ض ع ) بچے کا دودھ پینا ۔ اسی سے استعارہ کے طور پر انتہائی کمینے کو لئیم راضع کہا جاتا ہے ۔ درا صل یہ لفظ اس کنجوس شخص پر بولا جاتا ہے جو انتہائی بخل کی وجہ سے رات کے وقت اپنی بکریوں کے پستانوں سے دودھ چوس لے تاکہ کوئی ضرورت مند دودھ دوہنے کی آواز سنکر سوال نہ کرے ۔ پھر اس سے رضع فلان بمعنی لئم استعمال ہونے لگا ہے راضعتان بچے کے اگلے دو دانت جن کے ذریعے وپ مال کی چھاتی سے دودھ چوستا ہے ۔ اور ارضاع ( افعال ) کے معنی دودھ پلانا کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَالْوالِداتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كامِلَيْنِ لِمَنْ أَرادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضاعَةَ [ البقرة/ 233] اور جو شخص پوری مدت تک دودھ پلانا چاہے تو اس کی خاطر مائیں اپنی اولاد کو پورے دو برس دودھ پلائیں ۔ نیز فرمایا : ۔ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَ [ الطلاق/ 6] اگر وہ ( بچے کو ) تمہارے لئے دودھ پلانا چاہیں تو انہیں ان کی دودھ پلائی دو ۔ عام محاورہ ہے : ۔ فلان اخوہ من الرضاعۃ : ( بضم الراء ) وہ فلاں کا رضاعی بھائی ہے ۔ حدیث میں ہے : یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من النسب ۔ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ بوجہ رضاعت کے بھی حرام ہوجاتے ہیں ۔ الاسترضاع کسی سے دودھ پلوانا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلادَكُمْ [ البقرة/ 233] اگر تم اپنی اولاد کو ( کسی دایہ سے ) دودھ پلوانا چاہو ۔ یعنی انہیں مزدوری دے کر دودھ پلوانے کا ارادہ ہو ۔ خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خ ف ی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ يم اليَمُّ : البحر . قال تعالی: فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ [ القصص/ 7] ويَمَّمْتُ كذا، وتَيَمَّمْتُهُ : قصدته، قال تعالی: فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً [ النساء/ 43] وتَيَمَّمْتُهُ برمحي : قصدته دون غيره . واليَمَامُ : طيرٌ أصغرُ من الورشان، ويَمَامَةُ : اسمُ امرأةٍ ، وبها سمّيت مدینةُ اليَمَامَةِ. ( ی م م ) الیم کے معنی در یا اور سمندر کے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ [ القصص/ 7] تو اسے در یا میں ڈال دینا یممت کذا وتیممت قصد کرنا قرآن پاک میں ہے ۔ فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً [ النساء/ 43] تو پاک مٹی لو ۔ یممتہ بر محی میں نے اسے نیزے نشان نہ بنایا ۔ الیامم جنگلی کبوتر کو کہتے ہیں اور یمامۃ ایک عورت کا نام تھا جس کے نام پر ( صوبہ یمن کے ایک شہر کا نام الیمامہ رکھا گیا تھا ۔ حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا ہے حزن ( س ) غمزدہ ہونا غمگین کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے ۔۔۔۔۔ اس سے تم اندو ہناک نہ ہو رد الرَّدُّ : صرف الشیء بذاته، أو بحالة من أحواله، يقال : رَدَدْتُهُ فَارْتَدَّ ، قال تعالی: وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( رد د ) الرد ( ن ) اس کے معنی کسی چیز کو لوٹا دینے کے ہیں خواہ ذات شے کہ لوٹا یا جائے یا اس کی حالتوں میں سے کسی حالت کو محاورہ ہے ۔ رددتہ فارتد میں نے اسے لوٹا یا پس وہ لوٹ آیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( مگر بکے ) لوگوں سے اس کا عذاب تو ہمیشہ کے لئے ٹلنے والا ہی نہیں ۔ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧) اور ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ یوحانزبنت لادی بن یعقوب (علیہ السلام) کو الہام کیا کہ تم اس بچے کو دودھ پلاتی رہو۔ پھر جب ان کی تفتیش کا خدشہ ہو تو بےخوف وخطر صندوق میں رکھ میں کر دریا میں ڈال دیں اور نہ تو انکے ڈوبنے کا اندیشہ کرنا اور نہ جدائی پر غم کرنا ہم ضرور پھر اس کو تمہارے ہی پاس پہنچا دیں گے اور فرعون اور اس کی قوم کی طرف ان کو رسول بنا کر بھیجیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْہِ فَاَلْقِیْہِ فِی الْْیَمِّ وَلَا تَخَافِیْ وَلَا تَحْزَنِیْ ج) ” کہ جب تمہیں معلوم ہو کہ حکومتی کارندے تلاشی کے لیے آ رہے ہیں اور پکڑے جانے کا امکان ہے تو بلاخوف و خطر بچے کو دریائے نیل میں ڈال دینا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9 That a son was born in the same period to an Israelite parents who was later known by the name of Moses to the world, has been omitted. According to the Bible and the Talmud, the family descended from Levi, a son of the Prophet Jacob, and the name of the Prophet Moses' father was Amram, which has been pronounced as Imran by the Qur'an. They already had two children before Moses, the elder a daughter, named Miriam, and the younger her brother, Aaron. Probably the proclamation that every male child born in an Israelite home would be killed, had not yet been issued when the Prophet Aaron was born; therefore, he was saved. The third child was born when the proclamation was in full force. 10 That is, "She was not commanded to cast the child into the river immediately after birth, but to suckle it till she felt a real danger for it. For instance, if she felt that the secret had been exposed and the enemies had come to know of the child's birth through some means, or through some wretched informer from among the Israelites themselves, she should place the child in a box and cast it into the river, without any hesitation. According to the Bible, the Prophet Moses' mother kept him hidden for three months after his birth. The Talmud adds that the Pharaoh's government had appointed Egyptian women who carried infants into the Israelite homes, and would make these babies cry, so as to make any hidden Israelite infants also cry and be thus discovered. This new method of spying worried Moses' mother and in order to save her child's life, she cast him into the river three months after his birth. Upto this point the version given by these Books is the same as the Qur'an's, and the event of casting the box into the river has also been described just as the Qur'an has described it. In Surah Ta Ha it has been said: Put this child in a box and place the box in the river." (v.39). The same has been said by the Bible and the Talmud. According to these, the Prophet Moses' mother made a basket of reeds and covered it with slime (tar) and with pitch to make it watertight. Then she laid the child in it and placed it in the river Nile. But the most important thing, which the Qur'an mentions, has found no mention anywhere in the Israelite traditions, that is, that the Prophet Moses' mother had done all this according to an inspiration from AIlah, and Allah had already assured her that by following that device not only would her child remain safe and secure but the child would ultimately be restored to her, and that her child would become Allah's Messenger in the future.

سورة القصص حاشیہ نمبر : 9 بیچ میں یہ ذکر چھوڑ دیا گیا ہے کہ انہی حالات میں ایک اسرائیلی والدین کے ہاں وہ بچہ پیدا ہوگیا جس کو دنیا نے موسی علیہ السلام کے نام سے جانا ۔ بائیبل اور تلمود کے بیان کے مطابق یہ خاندان حضرت یعقوب کے بیٹھے لاوی کی اولاد میں سے تھا ۔ حضرت موسی کے والد کا نام ان دونوں کتابوں میں عمرام بتایا گیا ہے ، قرآن اسی کا تلفظ عمران کرتا ہے ، موسی علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کے ہاں دو بچے ہوچکے تھے ، سب سے بڑی لڑکی مریم ( Miriam ) نامی تھیں جن کا ذکر آگے آرہا ہے ۔ ان سے چھوٹے حضرت ہارون تھے ، غالبا یہ فیصلہ کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بیٹھا پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے ، حضرت ہارون کی پیدائش کے زمانے میں نہیں ہوا تھا ، اس لیے وہ بچ گئے ، پھر یہ قانون جاری ہوا اور اس خوفناک زمانے میں تیسرے بچے کی پیدائش ہوئی ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 10 یعنی پیدا ہوتے ہی دریا میں ڈال دینے کا حکم نہ تھا ، بلکہ ارشاد یہ ہوا کہ جب تک خطرہ نہ ہو بچے کو دودھ پلاتی رہو ۔ جب راز فاش ہوتا نظر آئے اور اندیشہ ہو کہ بچے کی آواز سن کر یا اور کسی طرح دشمنوں کو اس کی پیدائش کا علم ہوجائے گا ۔ یا خود بنی اسرائیل ہی میں سے کوئی کمینہ آدمی مخبری کر بیٹھے گا تو بے خوف و خطر اسے ایک تابوت میں رکھ کر دریا میں ڈال دینا ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ پیدائش کے بعد تین مہینے تک حضرت موسی کی والدہ ان کو چپھائے رہیں ، تلمود اس پر اضافہ کرتی ہے کہ فرعون کی حکومت نے اس زمانے میں جاسوس عورتیں چھوڑ رکھی تھیں جو اسرائیلی گھروں میں اپنے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے لے جاتی تھیں اور وہاں کسی نہ کسی طرح ان بچوں کو رلا دیتی تھیں تاکہا گر کسی اسرائیلی نے اپنے ہاں کوئی بچہ چھپا رکھا ہو تو وہ بھی دوسرے بچے کی آواز سن کر رونے لگے ۔ اس نئے طرز جاسوسی سے حضرت موسی کی والدہ پریشان ہوگئیں اور انہوں نے اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے پیدائش کے تین مہینے بعد اسے دریا میں ڈال دیا ۔ اس حد تک ان دونوں کتابوں کا بیان قرآن کے مطابق ہے ، اور دریا میں ڈالنے کی کیفیت بھی انہوں نے وہی بتائی ہے جو قرآن میں بتائی گئی ہے ، سورہ طہ میں ارشاد ہوا ہے اقْذِفِيْهِ فِي التَّابُوْتِ فَاقْذِفِيْهِ فِي الْيَمِّ ، بچے کو ایک تابوب میں رکھ کر دریا میں ڈال دے ۔ اسی کی تائید بائیبل اور تلمود بھی کرتی ہیں ۔ ان کا بیان ہے کہ حضرت موسی کی والدہ نے سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا بنایا اور اسے چکنی مٹی اور رال سے لیپ کر پانی سے محفوظ کردیا ، پھر اس میں حضرت موسی کو لٹا کر دریائے نیل میں ڈال دیا ۔ لیکن سب سے بڑی بات جو قرآن میں بیان کی گئی ہے اس کا کوئی ذکر اسرائیلی روایات میں نہیں ہے ، یعنی یہ کہ حضرت موسی کی والدہ نے یہ کام اللہ تعالی کے اشارے پر کیا تھا اور اللہ تعالی نے پہلے ہی ان کو یہ اطمینان دلا دیا تھا کہ اس طریقے پر عمل کرنے میں نہ صرف یہ کہ تمہارے بچے کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے ، بلکہ ہم بچے تمہارے پاس ہی پلٹا لائیں گے ، اور یہ کہ تمہارا یہ بچہ آگے چل کر ہمارا رسول ہونے والا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:7) واوحینا۔ ماضی جمع متکلم ایحاء افعال مصدر وحی مادہ۔ ہم نے وحی کی ہم نے دل میں ڈال دیا۔ یہاں وحی بصورت الہام مراد ہے واؤ کا عطف محذوف پر ہے تقدیر کلام یوں ہے۔ ووضعت موسیٰ امہ فی زمن الذبح فلم تدر ما تصنع فی امرہ واوحینا ۔۔ لڑکوں کو ذبح کئے جانے کے زمانے میں حضرت موسیٰ کی ماں نے انہیں جنم دیا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اب اس کے متعلق کیا کرے ، پس ہم نے وحی کی۔ ۔۔ ان ارضعیہ : ان بمعنی ای (تفسیر یہ) یا مصدریہ ہے۔ ارضعی فعل امر واحد مؤنث۔ حاضر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ۔ ارضاح افعال مصدر ۔ جس کے معنی بچے کو دودھ پلانے اور پستان چوسانے کے ہیں تو اس کو دودھ پلا۔ تو اس کو دودھ پلاتی رہ۔ القیہ : القی فعل امر واحد مؤنث حاضر القاء افعال مصدر۔ ڈالنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ۔ راجع بطرف موسیٰ ۔ تو اس کو ڈال دے۔ الیم : الیم کے معنی دریا کے ہیں یہاں مراد دریائے نیل ہے۔ عادوہ : رادو۔ رد سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے اصل میں را دون تھا نون جمع اضافت کی وجہ ست گرگیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب راجع بسوئے موسیٰ (علیہ السلام) (ہم) اس کو لوٹا دیں گے تیری طرف (ہم) اس کو لوٹا دینے والے ہیں۔ جاعلوہ : جاعلوا اصل میں جاعلون (اسم فاعل جمع مذکر جعل سے) تھا ۔ نون جمع بوجہ اضافت گرگیا۔ ہم اس کو بنانے والے ہیں۔ یعنی ہم اس کو بنائیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ یعنی انہیں الہام کیا، یا ان کے دل میں ڈالا، یا، انہیں خواب دکھایا۔ بہرحال ان کی طرف یہ وحی اعلام تھی وحی نبوت نہ تھی کیونکہ اس پر تمام علما کا اجماع ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ نبی تہ نہ تھیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ کے پاس فرشتہ آیا۔ اس صورت میں بھی یہی کہا جائے گا کہ فرشتے تو غیر انبیا کے پاس بھی آجاتے ہیں۔ چناچہ صحیحین میں گنجے، کوڑھی اور نابینا کا قصہ مذکور ہے کہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور ان سے ہمکلام ہوا۔ صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتوں نے حضرت عمران (رض) بن حصین کو سلام کیا لیکن اس سے وہ نبی نہیں بن گئے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ کا نام بعض نے ایارفت ار بعض نے لوحا لکھا ہے۔ (قرطبی، شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 13 : اوحینا (ہم نے وحی کی) ارضعیہ ( دودھ پلا) ‘ الیم (دریا۔ سمندر) انا رادوہ (بےشک ہم اس کو لوٹا دیں گے) ‘ التقط ( اس نے اٹھالیا) ‘ خطئین ( خطا کرنے والے) ‘ امرأ ۃ (عورت) قرۃ عین (آنکھوں کی ٹھنڈک) اصبح (ہوگیا) فئواد ( دل) فرغ (بےقرار۔ بےچین) ‘ کا دت (قریب ہے) ‘ ربطنا ( ہم نے باندھ دیا) قصی (پیچھے جا) ‘ جنب (دور۔ اجنبیت) ‘ حرمنا ( ہم نے روک دیا) ‘ المراضع (دودھ پلانے والیاں) ھل ادل (کیا میں بتاؤں ) یکفلون (وہ ذمہ داری لیتے ہیں) ‘ کی تقر ( تاکہ ٹھنڈی رہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 13 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد ان کی والدہ نے ان کو فرعون کی ان جاسوس عورتوں سے چھپائے رکھا جو دن رات ہر گھر میں جھانک جھانک کر یہ دیکھتی رہتی تھیں کہ کوئی نیا بچہ پیدا تو نہیں ہوا۔ اگر ان کو معلوم ہوجاتا تو وہ پیدا ہوتے ہی بچے کو بیرحمی سے ذبح کر کے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا حمل بھی زیادہ ظاہر نہیں ہوا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے تو ان کی والدہ ان کو اچھی طرح چھپائے رہیں کہ کہیں کسی کو معلوم نہ ہوجائے کہ اس گھر میں کسی بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ہر وقت ایک انجانے خوف سے لرزتی رہتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اس بات کو جماد یا کہ جب بھی خوف زیادہ ہوجائے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی محفوظ ٹوکرے یا صندوق میں رکھ کر پانی میں بہادیا جائے۔ اللہ ان کی حفاظت فرمائیں گے اور ہر دودھ پلانے والی کے دودھ کو اس سے روک دیں گے اور اس بچے کو ان کی والدہ کی طرف لوٹا دیں گے۔ یہ بات ان کی والدہ کو خواب میں بتادی گئی یا اللہ نے ان کے دل میں جمادیا۔ بہر حال جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو یقین ہوگیا کہ اب ان کو لوگوں کی نظروں سے محفوظ رکھنا ممکن نہ ہوگا تو انہوں نے دل پر پتھررکھ کر ایک محفوظ ٹو کرے میں ڈال کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریائے نیل کے پانی میں بہادیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بڑی بہن مریم اس ٹوکرے پر اس طرح نظر رکھے رہیں کہ کسی دیکھنے والے کو شبہ تک نہ ہونے پائے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بڑی بہن مریم اس ٹو کرے پر اس طرح نظر رکھے رہیں کہ کسی دیکھنے والے کو شبہ تک نہ ہونے پائے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے لوگوں نے نکال لیا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کسی طرح فرعون کے محل میں داخل ہوگئیں۔ انہوں نے سنا کوئی کہہ رہا ہے کہ اس بچے کو قتل کردیا جائے یا ماردیا جائے مگر فرعون کی بیوی حضرت آسیہ نے کہا کہ اتنا پیارا بچہ ہے اس کو قتل نہ کیا جائے بلکہ اس کو محل میں پرورش کیا جائے اور بیٹوں کی طرح رکھا جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے دیکھا کہ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بچے نے رونا شروع کیا۔ جو بھی دودھ پلانے والی دودھ پلانے کی کوشش کرتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس طرف سے منہ پھیر لیتے ۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کہا کہ میں ایسے خاندان سے واقف ہوں کہ اگر ان کے حوالے کردیا جائے تو وہ خیر خواہی سے اس کی پرورش کرسکتے ہیں۔ فرعون کی بیوی نے کہا کہ اسخاندان کی عورت کو بلایا جائے ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو گود میں لیا تو انہوں نے دودھ پیناشروع کردیا اور اس طرح اللہ نے بیٹے کو ماں سے ملادیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی گود میں پرورش پانا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ماں جس کا بچہ بظاہر اس سے جدا ہوگیا تھا ان کی ممتا کی کیفیت کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے بچے کو موجوں کے حوالے تو کردیا تھا مگر وہ اس قدر بےقرار ہوگئی تھیں کہ شاید وہ کا اظہار کردیتیں مگر اللہ نے ان کے دل کو جمائے رکھا اور اطرح یہ راز راز ہی رہا اور کسی پر ظاہر نہ ہوسکا۔ فرعون کے محل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش ہونے کا واقعہ درحقیقت فرعون اور ہامان کی بری طرح شکست تھی کیونکہ وہ اپنی تدبیریں کررہے تھے لیکن اللہ کی تدبیر کے سامنے ان کی ایک نہ چل کسی کیونکہ اللہ کی تدابیر اور مشیت کے سامنے کسی کی تدبیر کام نہیں آسکتی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ غرض وہ اسی طرح انکو دودھ پلاتی رہیں، پھر جب افشائے راز کا خوف ہوا تو صندوق میں بند کر کے اللہ کے نام پر نیل میں چھوڑ دیا، غرض وہ صندوق کنارے پر لگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ کا خوفزدہ ہونا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں تسلّی دیے جانا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد کا نام یوکا بد تھا اور والد کا نام عمران بن قامت بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) تھا۔ عمران کے گھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ایسے وقت میں ہوئی جب فرعون اسرائیلی لڑکوں کے قتل کا فیصلہ کرچکا تھا۔ اس لیے ان کی والدہ اور اہل خانہ ان کی ولادت کے وقت سخت پریشان تھے کہ بچے کو قاتلوں کی نگاہ سے کس طرح محفوظ رکھیں ؟ بہرحال جوں توں کر کے تین مہینہ تک ان کو ہر ایک کی نگاہ سے اوجھل رکھا اور ان کی پیدائش کے مطلق کسی کو خبر نہ ہونے دی لیکن جاسوسوں کی دیکھ بھال اور حالات کی نزاکت کی وجہ سے زیادہ دیر تک اس واقعہ کے پوشیدہ رہنے کی توقع نہ ہوسکی اور اس لیے ان کی والدہ سخت پریشان رہنے لگی۔ اس نازک وقت میں آخر اللہ نے مدد کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں یہ القا کیا کہ ایک تابوت بناؤ۔ اس صندوق کو نیل کے بہاؤ پر چھوڑ دو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے ایسا ہی کیا مگر ساتھ ہی ماں کی مامتا فکر مند ہوگئی۔ اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہمشیرہ کو کہا کہ وہ دریا کے کنارے کنارے چل کر صندوق پر نظر رکھے اور دیکھے۔ اے موسیٰ ہم نے یہ دوسری مرتبہ تجھ پر احسان فرمایا ہے پہلا احسان یہ تھا کہ جب تیری والدہ کو ہم نے الہام کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کے بارے میں خطرہ محسوس کرے تو اسے صندوق میں ڈال کر دریا کے حوالے کردینا تاکہ اسے میرا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن پکڑ لے دشمن سے مراد فرعون ہے جو سرکشی اور بغاوت کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے اپنے آپ کو ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ سمجھا اور لوگوں سے کہلوایا اور اس نے محض نجومیوں کے کہنے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وجہ سے بنی اسرائیل کے ہزاروں بچوں کو قتل کروا دیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کروائی۔ موسیٰ (علیہ السلام) ناصرف فرعون کے گھر پر ورش پاتے ہیں بلکہ ان کی والدہ ہی ان کی دایہ اور مربیہ ٹھہرتی ہیں اللہ تعالیٰ نے انھیں صندوق دریا کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے اُمِ موسیٰ فکر و غم نہ کرنا ہم اسے تیرے پاس لے آئیں گے۔ موسیٰ کی والدہ نے اللہ تعالیٰ کا حکم جان کر موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا کے حوالے کردیا۔ لیکن جب ماں کی مامتا تڑپ اٹھی تو موسیٰ کی بہن کو بھیجا کہ بیٹی دریا کے کنارے کنارے جاؤ اور دیکھو تیرے بھائی کا صندوق کہاں پہنچتا اور اسے کون پکڑتا ہے۔ دریا کی لہریں موسیٰ (علیہ السلام) کو لوریاں دیتے ہوئے فرعون کے محل تک پہنچا دیتی ہیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور جانوروں کو بھی الہام کرتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کیا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی والدہ کے پاس لوٹایا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول منتخب فرمایا۔ تفسیر بالقرآن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے رسول منتخب کیا اور انھیں معجزات عنایت فرمائے : ١۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو ہم نے اسے حکمت اور علم عطا کیا۔ (القصص : ١٤) ٢۔ حضرت موسیٰ کے معجزے برہان تھے۔ (القصص : ٣٢) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور حق و باطل میں فرق کرنے والے معجزے عطا کیے۔ (البقرۃ : ٥٣) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو حق و باطل میں فرق کرنے والی روشن کتاب عنایت فرمائی۔ (الانبیاء : ٤٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واوحینا الی ام موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ ولا تحزنی ” ہم نے موسیٰ کی ماں کو اشارہ کیا کہ ” اس کو دودھ پلا “ پھر جب تجھے اس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر “۔ کیا شان کبریائی ہے ، اللہ کی عظیم قدرت قابل دیدے ہے ! حکم ہوتا ہے ، موسیٰ کی ماں اسے دودھ پلاؤ، اسے پالتی رہو ، اپنی حفاظت میں رکھو۔ اور جب بھی تم خطرہ محسوس کرو ، اسے دریا میں ڈال دو ، بےخطر ہوکر اسے موجوں کے سپرد کر دو ، اگرچہ اس وقت وہ دودھ پی رہا ہو اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو۔ ولا تخافی ولا تحزنی (28: 7) ” کچھ خوف اور غم نہ کر “۔ وہاں دریا میں یہ اللہ کی نگرانی میں ہوگا۔ ایسی قوت کی نگرانی میں کہ امن و سلامتی اسی کے جوار رحمت میں دستیاب ہے۔ اس کی قوت کی نگرانی میں کسی کے لیے کوئی ڈر رہتا ہی نہیں۔ یہ وہی ہاتھ ہے جو آگ کو گلزار بنا دیتا ہے۔ آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دیتا ہے۔ جو سمندر کو جائے پناہ بنانے والا ہے جس کو یہ ہاتھ پناہ دے دے اس کو فرعون جیسا جابر بھی ہاتھ نہیں لگا سکتا بلکہ زمین کا کوئی جبار وقہار بھی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ انا رآدوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین (7) ” ہم اسے تیرے ہی پاس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے “۔ میں رب ذوالجلال تمہارے ساتھ وعدہ کرتا ہوں کہ وہ تمہارے ہاتھوں میں لوٹا دیا جائے گا ، اس کی زندگی کے لیے کوئی خطرہ نہ رہے گا اور مزید خوشخبری یہ ہے کہ وہ نبیوں میں سے ہوگا اور اللہ سے زیادہ سچا وعدہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے۔ یہ اس قصے کا پہلا منظر ہے۔ ایک ماں ہے جو حیران و پریشان ہے۔ اسے خوف لاحق ہے کہ اس کے بچے کو قتل کردیا جائے گا۔ اس قتل کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس لیے وہ اس تصور ہی سے بےتاب ہوجاتی ہے کہ اسے عالم بالا سے ہدایات ملتی ہیں ، اسے خوشخبری دے دی جاتی ہے۔ وہ مطمئن ہوجاتی ہے اور اسے سکون ملتا ہے۔ ڈرے اور سہمے ہوئے اس دل پر ایسا اثر ہوتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم کے لیے آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی تھی۔ سیاق کلام میں اس کی تفصیلات نہیں ہیں کہ ام موسیٰ کو یہ ہدایت کس طرح ملیں اور کس طرح انہوں نے ان پر عمل کیا۔ پس پردہ گر جاتا ہے اور جب پر دہ اٹھتا ہے تو ہماری نظروں کے سامنے ایک دوسرا منظر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا صندوق میں رکھ کر انہیں سمندر میں ڈال دینا اور فرعون کے گھر والوں کا ان کو اٹھا لینا، پھر فرعون کے محل میں پرورش پانا فرعون یہ سن کر کہ میری سلطنت کا زوال بنی اسرائیل کے لڑکے کے ہاتھ ہوگا اس کے توڑ میں لگ گیا اور اس کے نزدیک اس کا توڑ یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے چناچہ اس کی حکومت کے جاسوس بنی اسرائیل کے رہنے کی جگہوں میں گھومتے پھرتے تھے اور بنی اسرائیل کے جس گھر میں کسی لڑکے کے پیدا ہونے کی خبر ملتی تھی اسے ماں باپ سے چھین کرلے جاتے تھے اور ذبح کر ڈالتے تھے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ان کی والدہ اپنے بچہ کی حفاظت کے بارے میں فکر مند ہوئیں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کے دل میں ڈالا کہ تم بچہ کو دودھ پلاتی رہو پھر جب تمہیں جاسوسوں کا خطرہ ہو تو اس بچہ کو تابوت میں رکھ کر دریا میں ڈال دینا اور اس کی ہلاکت کا خوف نہ کرنا اور نہ اس کی جدائی سے رنجیدہ ہونا ہم اسے تمہاری طرف واپس لوٹا دیں گے اور یہی نہیں کہ تمہارے پاس واپس بھیج کر وہ دوسرے انسانوں کی طرح ایک عام انسان ہوگا بلکہ ہم اسے رسالت کا مرتبہ دیں گے۔ اور اسے اپنے پیغمبروں میں سے بنا دیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر یقین کر کے بچہ کو دریا میں ڈال دیا، اور دریا کے کنارے کنارے تابوت بہ کر جا رہا تھا۔ فرعون کے گھر والوں کی نظر پڑی تو اس کو منگا کر دیکھا اس میں ایک بچہ نکلا جو بڑا پیارا معلوم ہوا۔ جو دیکھتا گود میں لینے کی کوشش کرتا۔ لیکن فرعون کو یہ کھٹک ہوئی کہ کہیں یہ بنی اسرائیل کا وہی لڑکا نہ ہو جس کے بارے میں نجومیوں نے بتایا کہ وہ میری سلطنت کے زوال کا باعث ہوگا۔ لہٰذا اس نے قتل کرنے کا ارادہ کیا کہا جاتا ہے فرعون لاولد تھا۔ جب فرعون کی بیوی نے محسوس کیا کہ وہ اس بچہ کو قتل کرنے کے درپے ہے تو کہنے لگی کہ یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو دیکھ کر جی خوش ہوا کرے گا اسے قتل نہ کرو ممکن ہے کہ بڑا ہو کر ہمیں فائدہ پہنچا دے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنا لیں۔ فرعون کی سمجھ میں بات آگئی اور طے ہوا کہ اس کے لیے کوئی دودھ پلانے والی اور پرورش کرنے والی تلاش کی جائے۔ جتنی بھی دائیاں دودھ پلانے والی عورتیں بلائی گئیں (بوتل سے دودھ پلانے کا رواج نہ تھا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی کا دودھ پینا گوارا نہ کیا۔ اب تو بڑی مشکل پیش آئی اور فکر مند ہوئے کہ اس کی پرورش کس طرح ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے تو باز آگئے اور اپنے مشوروں میں اپنی حکومت کے اعتبار سے چوک گئے انہیں پتہ نہ تھا کہ جس کی پرورش کے مشورے کر رہے ہیں یہی وہ بچہ ہے جس کے ہاتھوں سلطنت برباد ہوگی۔ (اِنَّھُمْ کَانُوْا خَاطِءِیْنَ ) کی ایک تفسیر یہ ہے کہ وہ لوگ نافرمان تھے اس نافرمانی کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوئے۔ و ھذا الذی اختارہ فی الجلالین وھو الصواب عندی و الجنود لا دخل لھم فی تربیۃ موسیٰ (علیہ السلام) فیقال ان فرعون و ھامان و جنودھما اضطؤا فی تربیتہ (علیہ السلام) ۔ (اور یہی تفسیر ہے جو تفسیر جلالین میں مختار سمجھی گئی ہے اور میرے نزدیک یہی صحیح ہے کیونکہ فرعون کے لشکر کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت میں کوئی دخل نہیں تھا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت میں غلطی کی ہے۔ اسی کو فرمایا گیا ہے کہ (اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ ھَامٰنَ وَجُنُوْدَھُمَا کَانُوْا خٰطِءِیْنَ ) ادھر تو یہ ہوا اور ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل بیقرار ہوگیا۔ اور اتنا بیقرار ہوا کہ قریب تھا کہ اپنی بیقراری ظاہر کردیں اور یہ بتادیں کہ میرا بیٹا تھا میں نے ایسے ایسے تابوت میں ڈالا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط رکھا اور ظاہر کرنے نہ دیا تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو حفاظت کا وعدہ فرمایا تھا اس پر ان کا یقین پختہ رہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایک بات ڈالی کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو حکم دیا کہ جاؤ اس کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔ یعنی جدھر کو تابوت جائے ادھر ہی چلتی رہو اور یہ دیکھتی رہو کہ تابوت کہاں جاتا ہے وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہیں پھر دور سے دیکھ لیا کہ اسے آل فرعون نے اٹھا لیا ہے اور اس انداز سے پیچھے لگی رہیں کہ آل فرعون کو پتہ نہ چلے کہ یہ کون عورت ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہمشیرہ نے دیکھا کہ موسیٰ کسی عورت کا دودھ نہیں پیتے اور آل فرعون اس کے بارے میں پریشان ہو رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں تمہیں ایسا خاندان نہ بتادوں جو نہ صرف اسے دودھ پلائیں بلکہ اس کی پرورش میں انہیں کسی لالچ کی امید نہ ہو وہ اس کی پوری خیر خواہی کے ساتھ کفالت کریں۔ وہ لوگ پریشان تو ہو ہی رہے تھے کہنے لگے کہ بلاؤ وہ کون عورت ہے جس کا دودھ یہ بچہ قبول کرسکتا ہے۔ اس پر انہوں نے اپنی والدہ کا پتہ بتادیا چناچہ وہ بلائی گئیں جب موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی گود میں دیا گیا تو فوراً ہی دودھ پینا شروع کردیا آل فرعون نے کہا کہ اچھا تم اسے لے جاؤ دودھ پلاؤ، اور پرورش کرو چناچہ وہ انہیں لے گئیں دودھ پلاتی رہیں اور پرورش کرتی رہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے انہیں اس کا معاوضہ بھی ملتا رہا جو روزانہ ایک دینار تھا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ اب یہاں سے اس اجمال کی تفصیل شروع ہوتی ہے جو پہلی آیتوں میں تھا یعنی ان مستضعفین کی سربلندی اور ان سرکشوں کی پستی کا آغاز اس طرح ہوتا ہے۔ وہ مولود مسعود پیدا ہوچکا ہے جس کے ہاتھ پر بنی اسرائیل کا غلبہ اور قوم فرعون کی تباہی اور رسوائی ہونے والی تھی۔ اوحینا میں وحی سے الہام اور القاء فی القلب مراد ہے یعنی ہم نے موسیٰ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ابھی اسے اپنے پاس چھپائے رکھو اور اسے دودھ پلاتی رہو اگر اس کے قتل کا خطرہ لاحق ہو تو اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دینا اور پھر اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ اور اس کی جدائی کا غم نہ کرنا میں جلد ہی اسے تیرے پاس واپس لاؤں گا اور میں اسے منصب رسالت پر بھی فائز کرنے والا ہوں۔ یہی معاملہ حضور علیہی السلام کو پیش آیا آپ کو مشرکین کی ایذاؤں کی وجہ سے مجبوراً مکہ چھوڑنا پڑا لیکن آخر اللہ نے آپ کو مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل فرمایا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

7۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو حکم بھیجا اور ان کو الہام کیا کہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کو دودھ پلاپھر جب تو اس کے متعلق کوئی خطرہ محسوس کرے تو اس کو دریا میں ڈال دیجیو اور تو کسی قسم کا اندیشہ اور خوف نہ کی جو اور نہ کسی قسم کا افسوس اور غم کیجیو ، با لیقین ہم موسیٰ (علیہ السلام) کو پھر تیری ہی طرف واپس لوٹا دیں گے اور ہم اس کو پیغمبروں میں سے کریں گے اور اس کو پیغمبر بنائیں گے۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو کسی ذریعہ سے اشارہ فرمایا کہ تو اس کو دودھ پلاتی رہ پھر جب فرعونی جاسوسوں اور اہل کاروں کا موسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت کوئی خطرہ محسوس کرے تو اس کو ایک صندوق میں رکھ کر اس صندوق کو دریا میں ڈال دے اور کسی قسم کا خوف نہ کر اور نہ کسی قسم کا غم اور حزن کر یعنی نہ غرق ہونے کا خوف اور جدائی کا غم ، کیونکہ چند دن میں ہم اس کو تیری ہی طرف لوٹا دیں گے اور وہ تیری ہی گود میں آجائے گا اور ہم تو اس کو منصب رسالت پر فائز کرنے والے اور اس کو پیغمبری دینے والے ہیں ۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ان کو دودھ پلاتی رہیں اور جب ان کے متعلق خطرہ محسوس ہو تو ان کو ایک صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دیا۔ وہ صندوق بہتا بہتا فرعون کی بارہ دری کی دیوار سے جا لگا اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہ (علیہ السلام) نے اس صندوق کو شاہی محل میں منگا لیا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔