Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 87

سورة القصص

وَ لَا یَصُدُّنَّکَ عَنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعۡدَ اِذۡ اُنۡزِلَتۡ اِلَیۡکَ وَ ادۡعُ اِلٰی رَبِّکَ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۚ۸۷﴾

And never let them avert you from the verses of Allah after they have been revealed to you. And invite [people] to your Lord. And never be of those who associate others with Allah .

خیال رکھئے کہ یہ کفار آپ کو اللہ تعالٰی کی آیتوں کی تبلیغ سے روک نہ دیں اس کے بعد کہ یہ آپ کی جانب اتاری گئیں ، تو اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلاَ يَصُدُّنَّكَ عَنْ ايَاتِ اللَّهِ بَعْدَ إِذْ أُنزِلَتْ إِلَيْكَ ... And let them not turn you away from the Ayat of Allah after they have been sent down to you. meaning, `Do not let their opposition to you affect you or put people off from following your way; do not worry about that or pay any attention to it, for Allah will make your word supreme, will support your religion and will make the Message with which He has sent you prevail over all other religions.' So He says: ... وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ ... and invite to your Lord, to worship your Lord Alone, with no partners or associates, ... وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ and be not of idolators.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

871یعنی ان کافروں کی باتیں، انکی ایذاء رسانی اور انکی طرف سے تبلیغ و دعوت کی راہ میں رکاوٹیں، آپ کو قرآن کی تلاوت اور اس کی تبلیغ سے نہ روک دیں۔ بلکہ آپ پوری تن دہی اور یکسوئی سے رب کی طرف بلانے کا کام کرتے رہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٠] یہ خطاب آپ کی طرف محض تاکید مزید کے لئے ہے۔ ورنہ آپ سب سے زیادہ شرک کے خلاف ہی جہاد فرما رہے تھے اور آپ سے شرک کا صدور ناممکن تھا۔ گویا آپ کو خطاب اس لئے کیا گیا کہ دوسروں کو ٹھیک طرح تنبیہ ہوجائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ : ” لَا يَصُدُّنَّكَ “ صاد اور دال کے ضمہ کے ساتھ یہ لفظ پورے قرآن میں اسی مقام پر ہے، دوسری تمام جگہوں میں دال کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ یہ نہی غائب جمع مذکر بانون تاکید ثقیلہ کا صیغہ ہے کہ تجھے ہرگز نہ روکیں۔ یہ دوسرا حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات نازل ہونے کے بعد کفار خواہ کتنی کوشش کریں، کتنی ایذا پہنچائیں، یا کتنا لالچ دیں، ان آیات پر عمل سے اور ان کی تبلیغ سے کسی صورت آپ کو روکنے نہ پائیں۔ یہی بات دوسری جگہ فرمائی : ( يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ) [ المائدۃ : ٦٧ ] ” اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگر تو نے نہ کیا تو تو نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا۔ “ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ : یہ تیسرا حکم ہے کہ اپنے رب کی طرف دعوت دیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت پورے زور و شور سے دیتے رہیں، جس میں کوئی کمی یا کوتاہی نہ ہو، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ ٧ عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ) [ یوسف : ١٠٨ ] ” کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔ “ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ : یہ چوتھا حکم ہے کہ مشرکین سے ہرگز نہ ہوں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللہِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۝ ٨٧ۚ صدد الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] ( ص د د ) الصدود والصد ۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی ہوتا ہے یعنی روکنے اور منع کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے اور ان کو سیدھے راستے سے روک دیا ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٧) اور جب اللہ کے احکام آپ پر نازل ہوچکے تو ایسا نہ ہو کہ یہ مشرکین آپ کو احکام قرآنیہ سے روک دیں اور آپ بدستور اپنے رب کی توحید اور اس کی کتاب کی طرف لوگوں کو بلاتے رہیے اور ان مشرکین کا ساتھ نہ دیجیے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٧ (وَلَا یَصُدُّنَّکَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْکَ ) ” یعنی اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تعلق رکھیں گے ‘ چاہے وہ کسی ادنیٰ درجے کی قبائلی عصبیت ہی کی بنیاد پر ہو تو وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے عمل میں رکاوٹ بنیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کے احکام کی تعمیل سے برگشتہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

111 ...divert you": divert you from conveying them to others and acting in accordance with them in practical life.

سورة القصص حاشیہ نمبر : 111 یعنی ان کی تبلیغ و اشاعت سے اور ان کے مطابق عمل کرنے سے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:87) لا یصدنک : لا یصدن مضارع منفی تاکید بانون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر غائب (اصل میں یصدون تھا۔ نون ثقیلہ کے آنے سے واؤ اور نون اعرابی ساقط ہوگئے۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ ہرگز تجھے روک نہ دیں۔ وہ ہرگز تجھے نہ روکیں۔ صد مصدر باب نصر۔ ضمیر فاعل کا مرجع کفرین ہے۔ ادع۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ دعا یدعوا داع : دعاء ودعوۃ مصدر باب نصر تو دعوت دے۔ تو بلا۔ تو دعا کر۔ تو مانگ۔ ادع۔ کے بعد مفعول محذوف ہے ای ادع الناس۔ تو لوگوں کو دعوت دے۔ تو لوگوں کو بلا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مزید ہدایات : اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ سے پہلے جتنے پیغمبر مبعوث کیے گئے ہم نے ان کی طرف یہی پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ اس لیے اس کا حکم ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے۔ (الانبیاء : ٢٥) نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے بھی یہی ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں میں اس بات کا اعلان فرمائیں کہ میں بنی نوع انسان کے لیے اللہ کا رسول ہوں۔ مجھے اس ذات نے اپنا رسول منتخب فرمایا ہے جو زمین و آسمانوں کا بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہی موت وحیات پر اختیار رکھنے والا ہے اس کا حکم ہے کہ لوگو ! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ (الاعراف : ١٥٨) یہ وہ دعوت ہے جس کی ہر زمانے میں مشرکوں اور خدا کے باغیوں نے مخالفت کی ہے۔ اس کی پاداش میں کچھ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو شہید کیا گیا، کچھ کو ان کے گھر بار اور وطن سے نکالا گیا۔ باقی انبیاء کرام (علیہ السلام) کو اذّیت ناک تکلیفیں دی گئیں۔ انہی تکالیف اور مصائب کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے رفقاء کرام کو سامنا کرنا پڑا۔ جس قدر آپ خلوص اور محنت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توحید کا پرچار کرتے اسی قدر آپ کو تکالیف دی جاتیں۔ نماز کی حالت میں آپ کی گردن پر غلاظت سے بھری ہوئی اونٹ کی اوجڑی رکھی گئی۔ حرم کے اندر آپ کے گریبان کو پکڑا گیا۔ آپ کے ساتھ رشتے ناطے توڑے گئے، مکہ کے بھرے بازار میں آپ کو لہولہان کیا گیا، آپ کے ساتھیوں کو سر عام پیٹا گیا اس کے باوجود آپ قرآن کے ابلاغ اور توحید کے پرچار سے پیچھے نہ ہٹے۔ ان حالات میں آپ کے دل کی ڈھارس اور فریضہ تبلیغ کی فرضیت کا مزید احسس پیدا کرنے کے لیے یہ حکم نازل ہوا۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حالات کی نزاکت اور لوگوں کی مخالفت کے باوجود آپ نے مشرکین کے سامنے قرآن کی تلاوت کرنا اور توحید کی دعوت دینا ہے۔ اِنھیں بار بار بتلاؤ کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور عبادت کے لائق اور مشکل کشا، حاجت روا نہیں، اس لیے اس کے سوا نہ کسی کے سامنے جھکنا ہے اور نہ کسی کے حضو رہاتھ پھیلانے ہیں۔ اسی کا حکم جاری ہے اور ہر کسی نے مر کر اسی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ لہٰذا مشرکوں کی مخالفت آپ کو دعوت حق سے نہ روک دے اور نہ ہی اپنے رب کے ساتھ کسی کی عبادت کرنا، آپ کا رب ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ قائم دائم رہنے والا ہے، اوّل، آخر اسی کا حکم چلنا ہے اور آپ سب نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ ” حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بات ارشاد فرمائی اور میں نے دوسری بات کہی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہوگیا کہ وہ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتا رہاوہ جہنم میں داخل ہوگا اور میں نے کہا جو بندہ اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قَوْلِہٖ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَتَّخِذُ مِنْ دُون اللَّہِ أَنْدَادًا )] مسائل ١۔ داعی حق کو مشرکین کی مخالفت کی پروا کیے بغیر قرآن کی تبلیغ اور توحید کی دعوت کا فریضہ سر انجام دیتے رہنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود نہیں اس لیے کسی دوسرے کو پکارنا شرک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کبھی معاف نہیں کرنا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر کسی نے مرنا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور رہے گی۔ ٤۔ مرنے کے بعد ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کے حضو رپیش ہونا ہے اس کا حکم ہر حال میں جاری ہے اور جاری رہے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ کے ساتھ یا اس کے سوا کسی کو پکارنے کی سزا : ١۔ جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کو معبود مانتا ہے اسے جہنم میں ذلیل ورسوا کر کے ڈالا جائے گا۔ ( بنی اسرائیل : ٣٩) ٢۔ اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ نہ سمجھو ورنہ ذلیل ہوجاؤ گے۔ ( بنی اسرائیل : ٢٢) ٣۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نا پکا رو وگرنہ عذاب میں مبتلا ہو جاؤگے۔ (الشعرآء : ٢١٣) ٤۔ شرک سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ (الزمر : ٦٥) ٥۔ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا کہ وہ آسمان سے گرپڑا۔ (الحج : ٣١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ لَا یَصُدُّنَّکَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْکَ ) (اور اس کے بعد کہ اللہ کی آیات آپ کی طرف نازل کی گئی ہیں کافر لوگ آپ کو ان کے پڑھنے سے اور ان پر عمل کرنے سے نہ روک دیں) یہ حکم امت کو بھی ہے کہ کافروں کے کہنے اور روکنے سے اللہ تعالیٰ کی آیات کے پڑھنے پڑھانے سے نہ رکیں۔ (وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ ) (اور آپ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں) یعنی توحید کی دعوت دیتے رہیں۔ (وَ لَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (اور آپ مشرکین میں سے نہ ہوجایئے) علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب قریش مکہ نے آپ کو اپنے بتوں کی تعظیم کرنے کی دعوت دی، صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ بظاہر اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے لیکن مقصود آپ کے دشمنوں کو سنانا ہے کہ تم جو امید رکھتے ہو کہ آپ تمہاری طرف مائل ہوجائیں گے۔ ایسا کبھی نہ ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

87۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے احکام آپ پر نازل ہوچکے تو اس کے بعد ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ آپ کو ان احکام کی تعمیل سے روک دیں اور آپ ان کو اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہئے اور ان کو دین حق کی دعوت دیئے رہئے اور آپ ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔ یعنی عطائے رسالت اور نزول قرآن کریم کے بعد آپ کو دعوت الی الحق اور تبلیغ احکام میں یہ کوئی رکاوٹ پیدا نہ کریں اور آپ کو روک نہ دیں آپ حسب دستور ان کو بلاتے رہئے اور آپ اپنے کو ان میں شمار نہ کیجئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنی قوم کی خاطر نہ کر دین کے کام میں اور آپکو ان میں نہ گن گو کہ اپنے قرابتی ہوں ۔ 12