Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 15

سورة العنكبوت

فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَ اَصۡحٰبَ السَّفِیۡنَۃِ وَ جَعَلۡنٰہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۵﴾

But We saved him and the companions of the ship, and We made it a sign for the worlds.

پھر ہم نے انہیں اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان کے لئے عبرت کا نشان بنا دیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَأَنجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ ... Then We saved him and the Companions of the Boat, means, those who believed in Nuh, peace be upon him. We have already discussed this in detail in Surah Hud, and there is no need to repeat it here. ... وَجَعَلْنَاهَا ايَةً لِّلْعَالَمِينَ and made it (the ship) an Ayah for all people. means, `We caused that ship to remain,' whether in itself, as Qatadah said, that it remained until the beginning of Islam, on Mount Judi, or whether the concept of sailing in ships was left as a reminder to mankind of how Allah had saved them from the Flood. This is like the Ayat: وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ And an Ayah for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride. until: وَمَتَاعاً إِلَى حِينٍ and as an enjoyment for a while. (36:41-44) إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَأءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَأ أُذُنٌ وَعِيَةٌ Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the ship. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears. (69:11-12) And Allah says here: فَأَنجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَاهَا ايَةً لِّلْعَالَمِينَ Then We saved him and the Companions of the Boat, and made it an Ayah for all people. This is a shift from referring to one specific ship to speaking about ships in general. A similar shift from specific to general is to be seen in the Ayat: وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَأءَ الدُّنْيَا بِمَصَـبِيحَ وَجَعَلْنَـهَا رُجُوماً لِّلشَّيَـطِينِ And indeed We have adorned the nearest heaven with lamps, and We have made such lamps missiles to drive away the Shayatin (devils). (67:5) meaning, `We have made these lamps missiles, but the lamps which are used as missiles are not the same lamps as are used to adorn the heaven.' And Allah says: وَلَقَدْ خَلَقْنَا الاِنْسَـنَ مِن سُلَـلَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَـهُ نُطْفَةً فِى قَرَارٍ مَّكِينٍ And indeed We created man out of an extract of clay. Thereafter We made him a Nutfah in a safe lodging. (23:12-13) There are many other similar examples.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢٥] لفظ وَجَعَلْنٰھَا میں && ھا && کی ضمیر کشی کی طرف بھی رجع ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کشتی اس طوفان کے بعد طویل مدت جودی پہاڑ پر ہی ٹکی رہی۔ لوگ اسے دیکھتے رہے اور اس سے طوفان نوح اور مجرم قوم کے انجام کی یاد تازہ ہوتی رہی۔ اور && ھا && کی ضمیر اس پورے قصہ قوام نوح کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس قوم کی سرکشی پھر ان کی سرکشی کے اس دردناک انجام کو ہم نے بعد میں آنے والے سب لوگوں کے کے لیے ایک مثالی بنادیا کہ لوگ اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَصْحٰبَ السَّفِيْنَةِ : یہ واقعہ سورة ہود (٣٧ تا ٤٨) میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ وَجَعَلْنٰهَآ اٰيَةً لِّــلْعٰلَمِيْنَ : اس جملے کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ہم نے اس واقعہ کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنادیا کہ جو بھی اسے سنے اس سے عبرت حاصل کرے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے اس کشتی کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنادیا کہ پانی میں غرق ہونے سے بچاؤ کا یہ طریقہ ہے۔ چناچہ اس کے بعد تمام زمانوں میں انسان نے اس کی مانند کشتیاں بنا کر غرق ہونے سے بچنے کا اور سمندر میں سفر کا بندوبست کیا۔ یہ مضمون ان آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے : (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا يَرْكَبُوْنَ وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيْخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ يُنْقَذُوْنَ اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ ) [ یٰسٓ : ٤١ تا ٤٤ ] ” اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بیشک ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ اور ہم نے ان کے لیے اس جیسی کئی اور چیزیں بنائیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں، پھر نہ کوئی ان کی فریاد سننے والا ہو اور نہ وہ بچائے جائیں۔ مگر ہماری طرف سے رحمت اور ایک وقت تک فائدہ پہنچانے کی وجہ سے۔ “ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ” جس وقت یہ سورت اتری ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سے اصحاب کافروں کی ایذاؤں سے تنگ آکر جہاز پر سوار ہو کر ملک حبشہ کی طرف گئے تھے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ ہجرت کر آئے تب وہ جہاز والے صحابہ بھی سلامتی سے آ ملے۔ “ (موضح) گویا نوح (علیہ السلام) اور سفینۂ نوح کی تاریخ اس رنگ میں دہرائی گئی۔ تیسرا مطلب اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ وہ کشتی صدیوں تک جودی پہاڑ کی چوٹی پر موجود رہی اور بعد کی نسلوں کو خبر دیتی رہی کہ اس سرزمین میں کبھی ایسا طوفان آیا تھا جس کی بدولت یہ اتنی بڑی کشتی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچی۔ اب بھی اخباروں میں اس کشتی کی تلاش کے لیے مہمات روانہ ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اس مطلب کی تائید اللہ کے اس فرمان سے ہوتی ہے : (وَحَمَلْنٰهُ عَلٰي ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا ۚ جَزَاۗءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) [ القمر : ١٣ تا ١٥ ] ” اور ہم نے اسے تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کردیا۔ جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس شخص کے بدلے کی خاطر جس کا انکار کیا گیا تھا۔ اور بلاشبہ یقیناً ہم نے اسے ایک نشانی بنا کر چھوڑا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟ “ چوتھا مطلب اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور کشتی میں سوار لوگوں کو نجات دی اور اس نجات کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنادیا، جو کئی لحاظ سے نشانی تھی، ایک یہ کہ طوفان آنے سے پہلے کشتی تیار ہوگئی، دوسرا یہ کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنا اور کشتی میں موجود تمام انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا ذخیرہ کرلیا، تیسرا یہ کہ خوراک ختم ہونے سے پہلے پہلے پانی زمین میں جذب ہو کر خشک ہوگیا، جب کہ اتنا بڑا سمندر جو پہاڑوں کی بلندی کے برابر گہرا ہو، اتنی مدت میں کبھی خشک نہیں ہوتا، اگر اتنی جلدی پانی جذب نہ ہوتا تو ان میں سے کوئی زندہ باقی نہ رہتا، چوتھا یہ کہ وہ کشتی اتنی مدت تک ہوا کے تھپیڑوں اور خطرناک بحری جانوروں کے حملوں سے بھی محفوظ رہی۔ ان تمام باتوں میں کشتی کا یا کشتی والوں کا کچھ کمال نہ تھا، یہ ہم تھے جنھوں نے ان تمام چیزوں کا اہتمام کر کے نوح (علیہ السلام) اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس نجات کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنادیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان چاروں مطالب میں کوئی تضاد نہیں، چاروں بیک وقت مراد ہوسکتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَنْجَيْنٰہُ وَاَصْحٰبَ السَّفِيْنَۃِ وَجَعَلْنٰہَآ اٰيَۃً لِّــلْعٰلَمِيْنَ۝ ١٥ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور عرف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ سفن السَّفَنُ : نحت ظاهر الشیء، كَسَفَنَ العودَ ، والجلدَ ، وسَفَنَ الرّيح التّراب عن الأرض، قال الشاعر : فجاء خفيّا يَسْفِنُ الأرض صدره والسَّفَنُ نحو النّقض لما يُسْفَنُ ، وخصّ السَّفَنُ بجلدة قائم السّيف، وبالحدیدة التي يَسْفِنُ بها، وباعتبار السَّفْنِ سمّيت السَّفِينَةُ. قال اللہ تعالی: أَمَّا السَّفِينَةُ [ الكهف/ 79] ، ثمّ تجوّز بالسفینة، فشبّه بها كلّ مرکوب سهل . ( س ف ن ) السفن ۔ اس کے اصل معنی چوب اور چمڑا وغیرہ کو چھیلنے کے ہیں اور سفن الریح التراب عن الارض کے معنی ہیں ہوا نے زمین سے مٹی کو گھس ڈالا شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) ( 230 ) فجاء خفیا یسفن الارض صدرہ وہ زمین پر اپنا سینہ رگڑتے ہوئے پوشیدہ طور پر وہاں جا پہنچا ۔ اور تراشی ہوئی چیز کو سفن ( فعل بمعنی مفعول ) کہتے ہیں جیسے نقض بمعنی منقوض آجاتا ہے اور السفن خاص کر اس کھردرے چمڑے کو کہا جاتا ہے جس کو تلوار کے قبضہ پر لگاتے ہیں اور چوب تراشی کے اوزار کو بھی سفن کہا جاتا ہے جیسے تیشہ وغیرہ اور چھیلنے کے معنی کے لحاظ سے کشتی کا نام سفینۃ رکھا گیا ہے ۔ کیونکہ وہ بھی سطح آب کو چیرتی ہوئی چلی جاتی ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ أَمَّا السَّفِينَةُ [ الكهف/ 79] لیکن کشتی ۔ پھر مجازا کشتی کے ساتھ تشبیہ دے کر ہر آرام دہ سواری کو سفینۃ کہا جاتا ہے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ عالَمُ والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في اللّفظ غلب حكمه، العالم فلک الافلاک اور جن جواہر واعراض پر حاوی ہے سب کو العالم کہا جاتا ہے دراصل یہ فاعل کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے طابع بہ ۔ مایطبع بہ خاتم مایختم بہ وغیرہ اسی طرح عالم بھی ہے جس کے معنی ہیں ماعلم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے جملہ کائنات العالم کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] کیا انہوں نے اسمان اور زمین گی بادشاہت پر غور نہیں کیا ۔ اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الاانسان؛عالم الماء وعالمالناروغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ( واؤنون کے ساتھ ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے ( جو ذدی العقول کے ساتھ مختص ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لئے اس کی جمع جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبا اس کی جمع واؤنون کے ساتھ بنالیتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥) اور ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور جو کشتی میں انکے ساتھ اہل ایمان تھے ان سب کو بچا لیا اور ہم نے اس کشتی کے واقعہ کو تمام جہان والوں کے لیے موجب عبرت بنایا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

24 That is, the people who had believed in Noah, and who had been permitted by Allah to board the Ark. This has been elucidated in Surah Hud: 40, thus: "Until when Our Command game to pass and at-Tannur began to boil up, We said, `(O Noah), take into Ark a pair from every species, and embark your own people-save those who have already been specifically marked--and also those who have believed; and those who had believed with Noah were only a few." 25 It can also mean this: "We made this dreadful punishment or this great event a Sign of warning for the later generations." But from the way this has been mentioned here and in Surah Qamar, it appears that the object of warning was the Ark itself, which remained on the top of the mountain for centuries and continued to remind the later generations that a Flood of such magnitude had once come in that land because of which the Ark had risen up to rest on the mountain. In Surah Qamar: 13-15, it has been said: "And We bore Noah upon a thing (Ark) made of planks and nails, which floated under Our care. This was a vengeance for the sake of him who had been slighted. And We left that Ark as a Sign. Then, is there any who would take admonition ?" In his commentary on this verse of Surah Qamar, Ibn Jarir says on the authority of Qatadah that during the period of the Companions when the Muslims went to the land of al-Jazirah, they saw the Ark on mount Judi (according to another tradition, near the habitation of Baqirwa). In the modern times also news appear from time to time in the papers that expeditions are being sent to search out the boat, because something resembling a boat has been sighted many time from aeroplanes during flights over Mount Ararat. (For further details, see E.N. 47 of Al-A`raf and E.N. 46 of Hud).

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 24 یعنی ان لوگوں کو جو حضرت نوح پر ایمان لائے تھے اور جنہیں کشتی میں سوار ہونے کی اللہ تعالی نے اجازت دی تھی ۔ سورہ ہود میں اس کی تصریح ہے: ﱑ اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُ ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ ۭ وَمَآ اٰمَنَ مَعَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ ۔ ( ہود ۔ آیت 40 ) یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا کہ ( اے نوح ) اس کشتی میں سوار کر لے ہر قسم کے ( کے جانوروں ) میں سے ایک ایک جوڑا ، اور اپنے گھر والوں کو سوائے ان کے جنہیں ساتھ نہ لینے کا پہلے حکم دے دیا گیا ہے ، اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ، اور اس کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 25 اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس ہولناک حقوبت کو یا اس عظیم الشان واقعہ کو بعد والوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا ۔ لیکن یہاں اور سورہ قمر میں یہ بات جس طریقہ سے بیان فرمائی گئی ہے اس سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ وہ نشان عبرت خود وہ کشتی تھی جو پہاڑ کی چوٹی پر صدیوں موجود رہی اور بعد کی نسلوں کو خبر دیتی رہی کہ اس سرزمین میں کبھی ایسا طوفان آیا تھا جس کی بدولت یہ کشتی پہاڑ پر جا ٹکی ہے ۔ سورہ قمر میں اس کے متعلق فرمایا گیا ہے: وَحَمَلْنٰهُ عَلٰي ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ ۔ تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا ۚ جَزَاۗءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ ۔ وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ( آیات ۔ 13 تا 15 ) اور ہم نے نوح کو سوار کیا تختوں اور میخوں والی ( کشتی ) پر ، وہ چل رہی تھی ہماری نگرانی میں اس شخص کے لیے جزا کے طور پر جس کا انکار کردیا گیا تھا اور ہم نے اسے چھوڑ دیا ایک نشانی بنا کر ، پس ہے کوئی سبق لینے والا ؟ ۔ سورہ قمر کی اس آیت کی تفسیر میں ابن جریری نے قتادہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ عہد صحابہ میں جب مسلمان الجزیرہ کے علاقہ میں گئے ہیں تو انہوں نے کوہ جودی پر ( اور ایک روایت کی رو سے باقروی نامی بستی کے قریب اس کشتی کو دیکھا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں بھی وقتا فوقتا یہ اطلاعات اخبارات میں آتی رہتی ہیں کہ کشتی نوح کو تلاش کرنے کے لیے مہمات بھیجی جا رہی ہیں ۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بسااوقات ہوائی جہاز جب کوہستان اراراط پر سے گزرے ہیں تو ایک چوٹی پر انہوں نے ایسی چیز دیکھی ہے جو ایک کشتی سے مشابہ ہے ۔ ( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف ، حاشیہ 47 ، ہود حاشیہ 46 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورۂ ہود : 25 میں گذر چکا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ وہ صدیوں تک جودی پہاڑ کی چوٹی پر موجود رہی اور بعد کی نسلوں کو خبر دیتی رہی کہ اس سرزمین میں کبھی ایسا طوفان آیا تھا۔ جس کی بدولت یہ اتنی بڑی کشتی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وجعلناھا “ میں ” ھا “ کی ضمیر اس واقعہ یا عذاب کے لئے قرار دی جائے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

15۔ پھر ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور جہاز والوں کو بچا لیا اور ہمنی اس واقعہ طوفان کو اقوام عالم کیلئے ایک عبرت امور نشانی بنایا ۔ یعنی جب تک طوفان نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ باقی رہے لوگوں کو عبرت حاصل ہوتی رہے۔ اصحاب سفنہ وہی لوگ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ اس جہاز میں سوار تھے وہ سب بچ گئے اور آئندہ نسل انہی سے چلی یہ جہاز پانی اترنے کے بعد جو دی پر ٹھہر گیا اور وہیں مدتوں رکھا رہا، جیسا کہ سورة ہود میں تفصیل گزر چکی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں طوفان سے پہلے اتنا رہے اور پیچھے بھی ایک مدت رہے ساری عمر چودہ برس ۔ 12 حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر میں چند قول ہیں صاحب روح نے فرمایا ایک ہزار پچاس سال کی عمر ہوئی بعض حضرات نے اس سے بھی زیادہ بتائی ہے۔ واللہ اعلم ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس وقت یہ سورت اتری ہے حضرت کے یار بہت سے کافروں کی ایذا سے جہاز پر بیٹھ کر حبشہ کے ملک گئے تھے جب حضرت مدینہ کو ہجرت کر آئے تب دے بھی سلامتی سے آئے اور جہاز نشانی رکھا لوگوں کو یعنی دنیا میں نائو سے بڑے کام چلتے ہیں اور قدرتیں اللہ کی نظر آتی ہیں ۔ 12 خلاصہ۔ یہ کہ حسن اتفاق سے جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کشتی میں بیٹھ کر نجات پائی کفار سے اسی طرح امت محمدیہ کے بھی بعض مخلصین اہل مکہ کی ایذا رسانی سے تنگ آ کر حبشہ چلے گئے کشتی میں بیٹھ کر پھر جب حضور مدینے پہنچ گئے تب حبشہ سے وہ مہاجرین واپس مدینہ منورہ جا کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے سورة عنکبوت نازل ہوچکی تھی ۔ میں نوح (علیہ السلام) کی قوم کا کشتی میں بیٹھ کر نجات پانا مذکور ہے اس لئے شاہ صاحب (رح) نے دونوں امتوں کی مناسب ذکر فرمائی پھر سورة عنکبوت کا حس سال نزول ہوا اسی سال حبشہ کی ہجرت کا واقعہ پیش آیا۔