24 That is, the people who had believed in Noah, and who had been permitted by Allah to board the Ark. This has been elucidated in Surah Hud: 40, thus: "Until when Our Command game to pass and at-Tannur began to boil up, We said, `(O Noah), take into Ark a pair from every species, and embark your own people-save those who have already been specifically marked--and also those who have believed; and those who had believed with Noah were only a few."
25 It can also mean this: "We made this dreadful punishment or this great event a Sign of warning for the later generations." But from the way this has been mentioned here and in Surah Qamar, it appears that the object of warning was the Ark itself, which remained on the top of the mountain for centuries and continued to remind the later generations that a Flood of such magnitude had once come in that land because of which the Ark had risen up to rest on the mountain. In Surah Qamar: 13-15, it has been said: "And We bore Noah upon a thing (Ark) made of planks and nails, which floated under Our care. This was a vengeance for the sake of him who had been slighted. And We left that Ark as a Sign. Then, is there any who would take admonition ?" In his commentary on this verse of Surah Qamar, Ibn Jarir says on the authority of Qatadah that during the period of the Companions when the Muslims went to the land of al-Jazirah, they saw the Ark on mount Judi (according to another tradition, near the habitation of Baqirwa). In the modern times also news appear from time to time in the papers that expeditions are being sent to search out the boat, because something resembling a boat has been sighted many time from aeroplanes during flights over Mount Ararat. (For further details, see E.N. 47 of Al-A`raf and E.N. 46 of Hud).
سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 24
یعنی ان لوگوں کو جو حضرت نوح پر ایمان لائے تھے اور جنہیں کشتی میں سوار ہونے کی اللہ تعالی نے اجازت دی تھی ۔ سورہ ہود میں اس کی تصریح ہے: ﱑ اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُ ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ ۭ وَمَآ اٰمَنَ مَعَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ ۔ ( ہود ۔ آیت 40 ) یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا کہ ( اے نوح ) اس کشتی میں سوار کر لے ہر قسم کے ( کے جانوروں ) میں سے ایک ایک جوڑا ، اور اپنے گھر والوں کو سوائے ان کے جنہیں ساتھ نہ لینے کا پہلے حکم دے دیا گیا ہے ، اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ، اور اس کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے ۔
سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 25
اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس ہولناک حقوبت کو یا اس عظیم الشان واقعہ کو بعد والوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا ۔ لیکن یہاں اور سورہ قمر میں یہ بات جس طریقہ سے بیان فرمائی گئی ہے اس سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ وہ نشان عبرت خود وہ کشتی تھی جو پہاڑ کی چوٹی پر صدیوں موجود رہی اور بعد کی نسلوں کو خبر دیتی رہی کہ اس سرزمین میں کبھی ایسا طوفان آیا تھا جس کی بدولت یہ کشتی پہاڑ پر جا ٹکی ہے ۔ سورہ قمر میں اس کے متعلق فرمایا گیا ہے: وَحَمَلْنٰهُ عَلٰي ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ ۔ تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا ۚ جَزَاۗءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ ۔ وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ( آیات ۔ 13 تا 15 ) اور ہم نے نوح کو سوار کیا تختوں اور میخوں والی ( کشتی ) پر ، وہ چل رہی تھی ہماری نگرانی میں اس شخص کے لیے جزا کے طور پر جس کا انکار کردیا گیا تھا اور ہم نے اسے چھوڑ دیا ایک نشانی بنا کر ، پس ہے کوئی سبق لینے والا ؟ ۔ سورہ قمر کی اس آیت کی تفسیر میں ابن جریری نے قتادہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ عہد صحابہ میں جب مسلمان الجزیرہ کے علاقہ میں گئے ہیں تو انہوں نے کوہ جودی پر ( اور ایک روایت کی رو سے باقروی نامی بستی کے قریب اس کشتی کو دیکھا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں بھی وقتا فوقتا یہ اطلاعات اخبارات میں آتی رہتی ہیں کہ کشتی نوح کو تلاش کرنے کے لیے مہمات بھیجی جا رہی ہیں ۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بسااوقات ہوائی جہاز جب کوہستان اراراط پر سے گزرے ہیں تو ایک چوٹی پر انہوں نے ایسی چیز دیکھی ہے جو ایک کشتی سے مشابہ ہے ۔ ( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف ، حاشیہ 47 ، ہود حاشیہ 46 )