Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 35

سورة العنكبوت

وَ لَقَدۡ تَّرَکۡنَا مِنۡہَاۤ اٰیَۃًۢ بَیِّنَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۳۵﴾

And We have certainly left of it a sign as clear evidence for a people who use reason.

البتہ ہم نے اس بستی کو صریح عبرت کی نشانی بنا دیا ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْهَا ايَةً بَيِّنَةً .... And indeed We have left thereof an evident Ayah i.e., a clear sign, .. لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ for a folk who understand. This is like the Ayah, وَإِنَّكُمْ لَّتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِينَ وَبِالَّيْلِ أَفَلَ تَعْقِلُونَ Verily, you pass by them in the morning and at night; will you not then reflect. (37:137-138)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

351یعنی پتھروں کے وہ آثار، جن کی بارش ان پر ہوئی سیاہ بدبودار پانی اور الٹی ہوئی بستیاں، یہ سب عبرت کی نشانیاں ہیں مگر کن کے لئے ؟ دانش مندوں کے لئے۔ 352اس لیے کہ وہی معاملات پر غور کرتے، اسباب و عوامل کا تجزیہ کرتے اور نتائج و آثار کو دیکھتے ہیں کہ لیکن جو لوگ عقل و شعور سے بےبہرہ ہوتے ہیں، انھیں ان چیزوں سے کیا تعلق ؟ وہ تو جانوروں کی طرح ہیں جنہیں ذبح کے لیے بوچڑ خانے لے جایا جاتا ہے لیکن انھیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اس میں مشرکین مکہ کے لیے بھی تعریض ہے کہ وہ بھی تکذیب کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو عقل و دانش سے بےبہرہ لوگوں کا وطیرہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٥٣] اس بدبخت قوم پر سب قوموں سے سخت عذاب آیا تھا۔ پہلے فرشتوں نے اس پورے خطہ زمین کو اپنے پروں پر اٹھایا۔ پھر بلند پر لے جاکر اسے الٹا کر زمین پر پٹخ دیا۔ اور اس زور سے زمین پردے مارا کہ سارا خطہ زمین کی سطح سے کافی نیچے دھنس گیا۔ پھر اس بدبخت قوم پر پتھر برسائے گئے۔ اور اب یہ سارا علاقہ زیر آب آچکا ہے۔ اور اس سمندر کا نام بحرسست یا بحیرہ مردار ہے۔ جس کی گہرائیوں میں یہ بدمعاشی قوم دفن کردی گئی تھی۔ اور یہ واقعہ نشانی اس لحاظ سے ہے کہ یہ علاقہ اس تجارتی شاہراہ پر واقع ہے جو مکہ سے شام کو جاتی ہے اور کفار مکہ اسے اپنے تجارتی سفروں میں آتے ہوئے بھی اور جاتے ہوئے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے کہ اس نافرمان اور بدمعاش اور سرکش قوم کا کیا حشر ہوا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَآ اٰيَةًۢ بَيِّنَةً ۔۔ : کھلی نشانی سے مراد اس بستی کے وہ آثار ہیں جو اب تک باقی ہیں۔ یہ اس طرح ہوا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کی بستیوں کو زمین کی تہ سے اکھاڑا اور آسمان کے بادلوں تک اٹھا کر ان پر الٹا کر دے مارا ( جس سے وہ سارا خطہ زمین کی سطح سے کافی نیچے دھنس گیا) اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر والے پتھروں کی بارش برسائی، جو رب تعالیٰ کی طرف سے نشان والے تھے۔ یہ واقعہ نشانی اس لحاظ سے ہے کہ یہ علاقہ اس تجارتی شاہراہ پر واقع ہے جو مکہ سے شام کو جاتی ہے اور کفار مکہ اسے تجارتی سفروں میں آتے وقت اور جاتے وقت اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے کہ اس حد سے گزرنے والی قوم کا انجام کیا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا تذکرہ سورة حجر (٧٦) اور سورة صافات (١٣٧) میں فرمایا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْہَآ اٰيَۃًۢ بَيِّنَۃً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۝ ٣٥ ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] اور دریا سے ( کہ ) خشک ( ہورہا ہوگا ) پاور ہوجاؤ ۔ اور بحالت مجبوری چھوڑ نے کے متعلق فرمایا : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] وہ لوگ بہت سے جب باغ چھوڑ گئے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ بَيِّنَة والبَيِّنَة : الدلالة الواضحة عقلية کانت أو محسوسة، وسمي الشاهدان بيّنة لقوله عليه السلام : «البيّنة علی المدّعي والیمین علی من أنكر» وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . ( ب ی ن ) البَيِّنَة کے معنی واضح دلیل کے ہیں ۔ خواہ وہ دلالت عقلیہ ہو یا محسوسۃ اور شاھدان ( دو گواہ ) کو بھی بینۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے : کہ مدعی پر گواہ لانا ہے اور مدعا علیہ پر حلف ۔ قرآن میں ہے أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل ( روشن رکھتے ہیں ۔ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] تاکہ جو مرے بصیرت پر ( یعنی یقین جان کر ) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر ) یعنی حق پہچان کر ) جیتا رہے ۔ جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں کے کر آئے ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٥) اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کے کچھ ظاہر نشان اب تک رہنے دیے ہیں ان لوگوں کی عبرت کے لیے جو اس چیز کو جانتے اور تصدیق کرتے ہیں کہ ان بدکاریوں کی وجہ سے ان لوگوں کیا انجام ہوا اور ایسے لوگوں کی وہ پیروی نہیں کرتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٥ (وَلَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْہَآ اٰیَۃًَم بَیِّنَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) ” قوم لوط کی بستی کے کھنڈرات قریش کی تجارتی شاہراہ پر موجود تھے ‘ لہٰذا قرآن میں اہل مکہ کو بار بار مخاطب کر کے یاد دلایا گیا ہے کہ تم لوگ ان عذاب زدہ بستیوں کے کھنڈرات پر سے گزرتے ہو اور پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے ہو ! اس کے علاوہ بحیرۂ مردار (جسے بحر لوط بھی کہا جاتا ہے) بھی قوم لوط کی بربادی کی کھلی نشانی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 59 اس کھلی نشانی سے مراد ہے بحیرہ مردار جسے بحر لوط بھی کہا جاتا ہے ، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اس ظالم قوم پر اس کے کرتوتوں کی بدولت جو عذاب آیا تھا اس کی ایک نشانی آج بھی شاہراہ عام پر موجود ہے جسے تم شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں جاتے ہوئے شب و روز دیکھتے ہو ۔ وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ ( الحجر ) اور وَاِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ ۔ وَبِالَّيْلِ ۔ ( الصافات ) موجودہ زمانے میں یہ بات قریب قریب یقین کے ساتھ تسلیم کی جارہی ہے کہ بحیرہ مردار کا جنوبی حصہ ایک ہولناک زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی بدولت وجود میں آیا ہے اور اسی دھنسے ہوئے حصے میں قوم لوط کا مرکزی شہر سدوم ( Sodom ) واقع تھا ۔ اس حصے میں پانی کے نیچے کچھ ڈوبی ہوئی بستیوں کے آثار بھی پائے جاتے ہیں ۔ حال میں جدید آلات غوطہ زنی کی مدد سے یہ کوشش شروع ہوئی ہے کہ کچھ لوگ نیچے جاکر ان آثار کی جستجو کریں ۔ لیکن ابھی تک ان کوششوں کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ شعراء حاشیہ 114 ) سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 60 عمل قوم لوط کی شرعی سزا کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلدو دوم الاعراف ، حاشیہ 68 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

15: یعنی ان کی بستیوں کے کھنڈر آج بھی موجود ہیں، اور نشان عبرت بنے ہوئے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:35) منھا : ای من القریۃ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب القریۃ کی طرف راجع ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

4 ۔ تاکہ اس سے عبرت حاصل کریں کھلی نشانی سے مراد وہ پتھر بھی ہیں جو آسمان سے برسے تھے اور اس سرزمین میں موجود ہوں گے اور بقول مجاہد (رح) وہ کالا پانی بھی جو اس سرزمین میں ایا جاتا ہے اور ان دنوں ” بحر لوط “ یا ” بحرمیت “ کے نام سے مشہور ہے۔ (شوکانی) اس کھلی نشانی کے متعلق سورة حجر میں ارشاد ہے وانھا لسبیل مقیم۔ اور یہ بستی تو سیدھے راستہ پر ہے۔ (آیت 76) اور سورة صافات میں ہے : ” وانکم لتمرون علیھم لمصبحین بالیل۔ اور ” تم صبح اور رات کے وقت ان کے پاس سے گزرتے ہو۔ “ (آیت 137)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ چناچہ اہل مکہ سفر شام میں ان ویران مقامات کو دیکھتے تھے اور جو اہل عقل تھے وہ منتفع بھی ہوتے تھے کہ ڈر کر ایمان لے آئے تھے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا (وَ لَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْھَآ اٰیَۃً بَیِّنَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کی بستی کے بعض نشان چھوڑ دئیے ہیں جو ظاہر ہیں جنہیں دیکھ کر گزرنے والے عبرت حاصل کرسکتے ہیں جو فہم اور تدبر سے کام لیں) یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کے نشانات اب تک موجود ہیں۔ چلو پھرو دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔ سورة صافات میں فرمایا (وَاِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْھِمْ مُّصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ ) (اور بلاشبہ تم ان پر صبح کے وقت گزرتے ہو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) اہل مکہ جب تجارت کے لیے ملک شام جایا کرتے تھے تو حضرت لوط (علیہ السلام) کی ہلاک شدہ بستیوں پر گزرتے تھے۔ اس جگہ سے کبھی صبح کو کبھی رات کو گزرنا ہوتا تھا۔ ان (اہل مکہ) سے فرمایا تم انہیں دیکھ کر عبرت حاصل کیوں نہیں کرتے۔ ان بستیوں کی جگہ آج کل بحرمیت موجود ہے افسوس ہے کہ سفر کرنے والے آج تفریح کے لیے دیکھتے ہیں اور ذرا بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

28:۔ ہم نے اس قوم کی ہلاکت و تباہی کی نشانی باقی چھوڑ دی تاکہ عقل و بصیرت رکھنے والے اس سے عبرت حاصل کریں۔ نشانی سے ان کی برباد شدہ بستی کے آثار باقیہ مراد ہیں۔ یا سیاہ پانی جو وہاں زمین سے نمودار ہوا یا وہ پتھر جو ان پر برسائے گئے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سب مراد ہوں تو ان میں کوئی تعارض نہیں (قرطبی) یہاں تک حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ تھا جو بالذات پہلے دعوے سے متعلق ہے اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ لوط (علیہ السلام) کو دین حق کی خاطر سرکش قوم کے ہاتھوں کیسی کیسی مصیبتیں اور ایذائیں پہنچیں۔ اے ایمان والو ! تم پر بھی آزمائشیں آئیں گی۔ ضمنا دوسرا دعوی بھی اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ سرکش اور فسق و فجور میں منہم قوم ہمارے عذاب سے نہ بچ سکی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

35۔ اور بیشک ہم نے اس بستی کے کچھ ظاہری نشان ان لوگوں کے لئے چھوڑ رکھے ہیں جو عقل و خر د سے کام لیتے ہیں ۔ یعنی وہ بستیاں آج بھی الٹی پڑی ہیں جو شارع عام سے نظر آتی ہیں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وے شہر الٹے راہ پر نظر آتے ہیں ۔ 12 بہرحال ! لوط کی نافرمان اور فسق و فجور کا ارتکاب کرنیوالی قوم ختم کردی گئی ، اب آگے مختصرا ً اور چند پیغمبروں کی قوموں کا ذکر ہے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔