Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 43

سورة العنكبوت

وَ تِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُہَا لِلنَّاسِ ۚ وَ مَا یَعۡقِلُہَاۤ اِلَّا الۡعٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾

And these examples We present to the people, but none will understand them except those of knowledge.

ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لئے بیان فرما رہے ہیں انہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge. meaning, no one understands them or ponders them except those who are possessed of deep knowledge. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Murrah said, "I never came across an Ayah of the Book of Allah that I did not know, but it grieved me, because I heard that Allah says: وَتِلْكَ الاَْمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلاَّ الْعَالِمُونَ And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

431یعنی انھیں خواب غفلت سے بیدار کرنے، شرک کی حقیقت سے آگاہ کرنے اور ہدایت کا راستہ سجھانے کے لئے۔ 432اس علم سے مراد اللہ کا، اس کی شریعت کا اور ان آیات و دلائل کا علم ہے جن پر غور و فکر کرنے سے انسان کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی اور ہدایت کا راستہ ملتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٩] اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اقوام عالم کے یہ واقعات اس لئے بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ انبیاء کی تکذیب اور اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اور اللہ اپنے فرمانبرداروں کو ظالموں سے نجات دینے کی کیسی کیسی صورتیں پیدا کردیتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ کو ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اللہ کی شان اس بات سے بہت بلند تر ہے کہ مکھی، مچھر اور مکڑی جیسی حقیر مخلوق کی مثالیں بیان کرے۔ ایسا اعتراض جاہل قسم کے لوگ ہی کرسکتے ہیں اہل علم نہیں کرسکتے۔ اہل علم تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ آیا ممنل اور ممنل لہ جو شبیہ بیان کی جارہی ہے وہ درست ہے ؟ اگر وہ درست ہے تو پھر مثال بھی درست ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ مثال بیان کرنے والی ہستی کوئی بڑی ہستی ہے یا چھوٹی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ : یہ کفار کے اس سوال کا جواب ہے کہ مکڑی، مچھر اور مکھی وغیرہ جیسی حقیر چیزوں کی مثال کی کیا ضرورت تھی ؟ جیسا کہ فرمایا : ( وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَيَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ) [ البقرۃ : ٢٦ ]” اور رہے وہ جنھوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں اللہ نے اس کے ساتھ مثال دینے سے کیا ارادہ کیا ؟ “ جواب دیا کہ مثال کا مقصد بات کو سمجھانا ہوتا ہے، کیونکہ مثال سے بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجاتی ہے، مگر ان مثالوں کو صرف علم والے سمجھتے ہیں۔ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ : ” الْعٰلِمُوْنَ “ (جاننے والوں) سے مراد ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی بیشمار نشانیوں پر سوچ بچار کرتے ہیں، ایسے لوگ ہی راسخ فی العلم کہلانے کے حق دار ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِ‌بُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ (And these examples We cite for people, and no one understands them except the knowledgeable ones. - 29:43). After comparing the weakness of the gods of disbelievers with cobweb, it is stressed that Allah Ta’ ala provides such clear examples to elucidate the truth of Oneness. But only knowledgeable persons draw benefit from them, and the people at large do not ponder, so that they could also understand the truth. Who is knowledgeable in the sight of Allah? Imam Baghawi has quoted with his own sanad (chain of narrators) a report from Sayyidna Jabir (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited this verse and said ` knowledgeable is the one who ponders over Allah&s message, and acts in obedience to Him, and keeps away from the deeds that annoy Him&. This explains that one does not become knowledgeable in the sight of Allah only by developing some understanding of Qur&an and Oath. To be on that high pedestal one needs to give a continual careful thought to Qur&an, and then lead a life conforming to Qur’ anic teachings. Musnad of Ahmad has reproduced a narration of Sayyidna &Amr Ibn Al-` As (رض) that he said he had learnt one thousand amthal (maxims or examples) from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . After reproducing this narration, Ibn Kathir has observed that it was a great honour for Sayyidna ` Amr Ibn Al-` As (رض) ، because those who understand the examples (Amthal) given by Allah Ta’ ala and His messenger are termed by the present verse as knowledgeable. Sayyidna ` Amr Ibn Murrah (رض) has said that he felt very bad whenever he came across any such verse of the Holy Qur&an, which he could not understand, because Allah has said وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ (And these examples We cite for people, and no one understands them except the knowledgeable). (Ibn Kathir).

تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ ، مشرکین کے خداؤں کی کمزوری کی مثال مکڑی کے جالے سے دینے کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ ہم ایسی ایسی واضح مثالوں سے توحید کی حقیت کا بیان کرتے ہیں، مگر ان مثالوں سے بھی سمجھ بوجھ صرف علماء دین ہی حاصل کرتے ہیں، دوسرے لوگ تدبر اور غور و فکر ہی نہیں کرتے کہ حق ان پر واضح ہوجائے۔ اللہ کے نزدیک عالم کون ہے ؟ امام بغوی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت فرما کر فرمایا کہ عالم وہی شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلام میں غور و فکر کرے اور اس کی اطاعت پر عمل کرے اور اس کو ناراض کرنے والے کاموں سے بچے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کے محض الفاظ سمجھ لینے سے اللہ کے نزدیک کوئی شخص عالم نہیں ہوتا، جب تک قرآن میں تدبر اور غور و فکر کی عادت نہ ڈالے اور جب تک کہ اپنے عمل کو قرآن کے مطابق نہ بنائے۔ مسند احمد میں حضرت عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک ہزار امثال سیکھی ہیں، ابن کثیر اس کو نقل کر کے لکھتے ہیں کہ یہ حضرت عمر و بن عاص کی بہت بڑی فضیلت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مذکورہ میں عالم انہی کو فرمایا ہے جو اللہ و رسول کی بیان کردہ امثال کو سمجھیں۔ اور حضرت عمرو بن مرہ نے فرمایا کہ جب میں قرآن کی کسی آیت پر پہنچتا ہوں جو میری سمجھ میں نہ آئے تو مجھ بڑا غم ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ (ابن کثیر)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ۝ ٠ ۚ وَمَا يَعْقِلُہَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ۝ ٤٣ مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف ضیعت اللبن کا محاورہ وہ ضرب المثل ہے ۔ چناچہ قرآن میں امثال بیان کرنے کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ فکر نہ کریں ۔ ضَرْبُ المَثلِ هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ، ضرب الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان سے قصہ بیان کرو ۔ ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] اور ہم نے ہر طرح مثال بیان کردی ہے ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٣) اور ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سمجھانے کے لیے بیان کرتے ہیں لیکن قرآنی مثالوں کو علم والے اور توحید والے ہی سمجھتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:43) تلک الامثال۔ یہ مثالیں یعنی یہ موجودہ مکڑی کی مثال اور قرآن مجید میں مذکور دوسری مثالیں مثلاً ان اللہ لا سیتحی ان یضرب مثلا ما بعوضۃ فما فوقھا (2:26) خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان فرمائے۔ یا یایھا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا ولو اجتمعوا لہ (22:73) اے لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے سو اسے سنو ! جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی (تک تو) پیدا نہی کرسکتے۔ چاہے وہ سب ہی اس غرض کے لئے جمع ہوجاویں ۔ وغیرہ ما یعقلہا۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب عقل مصدر۔ (باب ضرب) وہ نہیں سمجھتے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الامثال کی طرف راجع ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ علم والوں سے مراد ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور آفاق میں پھیلی ہوئی نشانیوں پر سوچ بچار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہی راسخ فی العلم کہلانے کے مستحق ہیں۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ تِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا للنَّاسِ ) (اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں) (وَ مَا یَعْقِلُھَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ ) (اور ان مثالوں کو بس علم والے ہی سمجھتے ہیں) جو لوگ سمجھنا ہی نہیں چاہتے علم سے دور رہنے کو ہی پسند کرتے ہیں یہ لوگ ان سے مستفید نہیں ہوتے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

43۔ اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کیا کرتے ہیں مگر ان مثالوں کو اہل علم ہی سمجھا کرتے ہیں یعنی مثال خواہ کوئی جھوٹی چیز کی ہو یا بڑی چیز کی مثال کی مطابقت مثل لہٗ کے ساتھ ہے یا نہیں یہ اہل علم کا کام ہے جاہل اس کو نہیں سمجھتے شاید یہ کفار کے اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ مکھی اور مکڑی کی مثالیں بیان کرتا ہے پہلے بارے میں ہم تفصیل کے ساتھ عرض کرچکے ہیں ۔