Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 46

سورة العنكبوت

وَ لَا تُجَادِلُوۡۤا اَہۡلَ الۡکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ٭ۖ اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ وَ قُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ وَ اِلٰـہُنَا وَ اِلٰـہُکُمۡ وَاحِدٌ وَّ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۴۶﴾

And do not argue with the People of the Scripture except in a way that is best, except for those who commit injustice among them, and say, "We believe in that which has been revealed to us and revealed to you. And our God and your God is one; and we are Muslims [in submission] to Him."

اور اہل کتاب کے ساتھ بحث و مباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمدہ ہو مگر ان کے ساتھ جو ان میں ظالم ہیں اور صاف اعلان کردو کہ ہمارا تو اس کتاب پر بھی ایمان ہے جو ہم پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو تم پر اتاری گئی ہمارا تمہارا معبود ایک ہی ہے ۔ ہم سب اسی کے حکم برادر ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Arguing with the People of the Book Allah says: وَلاَ تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلاَّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ... And argue not with the People of the Scripture, except with that which is better -- What is meant here is that anyone who wants to find out about religion from them should argue with them in a manner that is better, as this will be more effective. Allah says: ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ Invite to the way of your Lord with wisdom and fair preaching... (16:125) And Allah said to Musa and Harun when he sent them to Fir`awn: فَقُولاَ لَهُ قَوْلاً لَّيِّناً لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى And speak to him mildly, perhaps he may accept admonition or fear. (20:44) Allah says here: ... إِلاَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ ... except with such of them as do wrong; meaning, those who turn away from the truth, turning a blind eye to clear evidence, being stubborn and arrogant. In this case you should progress from debate to combat, fighting them in such a way as to deter them from committing aggression against you. Allah says: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَـتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَـبَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزْلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ Indeed We have sent Our Messengers with clear proofs, and revealed with them the Scripture and the Balance that mankind may keep up justice. And We brought forth iron wherein is mighty power... until: إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ ... Verily, Allah is All-Strong, All-Mighty. (57:25) Jabir said: "We were commanded to strike with the sword whoever opposes the Book of Allah." And His saying: ... وَقُولُوا امَنَّا بِالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ ... and say (to them): "We believe in that which has been revealed to us and revealed to you; means, `if they tell you something which you do not know to be true or false, say to them: We do not hasten to say it is a lie, because it may be true, and we do not hasten to say it is true because it may be false. We believe in it in general, under the condition that it has been revealed and has not been altered or deliberately misinterpreted.' ... وَإِلَهُنَا وَإِلَهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ our God and your God is One, and to Him we have submitted." Imam Al-Bukhari, may Allah have mercy on him, recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The People of the Book used to read the Tawrah in Hebrew and explain it in Arabic to the Muslims. The Messenger of Allah said: لاَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلاَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا امَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَهُنَا وَإِلَهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُون Do not believe the People of the Book and do not deny them. Say: "We believe in Allah and what has been revealed to us and what has been revealed to you. Our God and your God is One, and to Him we have submitted."" This Hadith was narrated only by Al-Bukhari. Al-Bukhari recorded that Ibn Abbas said: "How can you ask the People of the Book about anything, when your Book that was revealed to the Messenger of Allah is more recent, you read it pure and uncontaminated, it tells you that the People of the Book altered and changed the Book, that they write the Book with their own hands and then say, `This is from Allah,' to purchase with it a small price. Should not the knowledge that you have, prevent you from asking them? No, by Allah, we have never seen any of them asking you about what was sent down to you." Al-Bukhari recorded that Humayd bin Abdur-Rahman heard Mu`awiyah talking to a group of Quraysh in Al-Madinah. He mentioned Ka`b Al-Ahbar, and said: "He was one of the most truthful of those who narrated from the People of the Book, even though we found that some of what he said might be lies." I say, this means that some of what he said could be classified linguistically as lies, but he did not intend to lie, because he was narrating from manuscripts which he thought were good, but they contained fabricated material, because they did not have people who were so conscientious in memorizing the Scriptures by heart as the people of this great Ummah.

غیر مسلموں کو دلائل سے قائل کرو حضرت قتادۃ وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ یہ آیت تو جہاد کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے اب تو یہی ہے کہ یا تو اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو یالڑائی لڑیں ۔ لیکن اور بزرگ مفسرین کا قول ہے کہ یہ حکم باقی ہے جو یہودی یا نصرانی دینی امور کو سجھنا چاہے اور اسے مہذب طریقے پر سلجھے ہوئے پیرائے سے سمجھا دینا چاہئے ۔ کیا عجیب ہے کہ وہ راہ راست اختیار کرے ۔ جیسے اور آیت میں عام حکم موجود ہے آیت ( اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ١٢٥؁ ) 16- النحل:125 ) اپنے رب کی راہ کی دعوت حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ لوگوں کو دو ۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو جب فرعون کے طرف بھیجاجاتا ہے تو فرمان ہوتا ہے کہ آیت ( فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى 44؀ ) 20-طه:44 ) یعنی اس سے نرمی سے گفتگو کرنا کیا عجب کہ وہ نصیحت قبول کرلے اور اس کا دل پگھل جائے ۔ یہی قول حضرت امام ابن جریر کا پسندیدہ ہے ۔ اور حضرت ابن زید سے یہی مروی ہے ۔ ہاں ان میں سے جو ظلم پر اڑ جائیں اور ضد اور تعصب برتیں حق کو قبول کرنے سے انکار کردیں پھر مناظرے مباحثے بےسود ہیں پھر تو جدال وقتال کا حکم ہے ۔ جیسے جناب باری عز اسمہ کا ارشاد ہے آیت ( لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ 25۝ۧ ) 57- الحديد:25 ) ہم نے رسولوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ہمراہ کتاب ومیزان نازل فرمائی تاکہ لوگوں میں عدل و انصاف کا قیام ہوسکے ۔ اور ہم نے لوہا بھی نازل فرمایا جس میں سخت لڑائی ہے ۔ پس حکم اللہ یہ ہے کہ بھلائی سے اور نرمی سے جو نہ مانے اس پر پھر سختی کی جائے ۔ جو لڑے اسی سے لڑا جائے ہاں یہ اور بات ہے کہ ماتحتی میں رہ کر جزیہ ادا کرے ۔ پھر تصدیق کردیا کرو ممکن ہے کسی امر حق کو تم جھٹلادو اور ممکن ہے کسی باطل کی تم تصدیق کر بیٹھو ۔ پس شرط یہ ہے کہ تصدیق کرو یعنی کہہ دو کہ ہمارا اللہ کی ہر بات پر ایمان ہے اگر تمہاری پیش کردہ چیز اللہ کی نازل کردہ ہے تو ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اور اگر تم نے تبدیل وتحریف کردی ہے تو ہم اسے نہیں مانتے ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اہل کتاب توراۃ کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور ہمارے سامنے عربی میں اس کا ترجمہ کرتے اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ تم انہیں سچا کہو نہ جھوٹا بلکہ تم آیت ( امنا بالذی ) سے آخر آیت تک پڑھ دیاکرو ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی آیا اور کہنے لگا کیا یہ جنازے بولتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اللہ ہی کو علم ہے ۔ اس نے کہا میں جانتا ہوں یہ یقینا بولتے ہیں اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اہل کتاب جب تم سے کوئی بات بیان کریں تو تم نہ ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب بلکہ کہدو ہمارا اللہ پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے ۔ یہ اس لئے کہ کہیں ایسا نہ ہو تم کسی جھوٹ کو سچا کہہ دو یا کسی سچ کو جھوٹ بتادو ۔ یہاں یہ بھی خیال رہے کہ ان اہل کتاب کی اکثروبیشتر باتیں تو غلط اور جھوٹ ہی ہوتی ہیں عموما بہتان و افتراء ہوتا ہے ۔ ان میں تحریف و تبدل تغیر وتاویل رواج پاچکی ہے اور صداقت ایسی رہ گئی ہے کہ گویا کچھ بھی نہیں ۔ پھر ایک بات اور بھی ہے کہ بالفرض سچ بھی ہو تو ہمیں کیا فائدہ؟ ہمارے پاس تو اللہ کی تازہ اور کامل کتاب موجود ہے ۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں اہل کتاب سے تم کچھ بھی نہ پوچھو ۔ وہ خود جبکہ گمراہ ہیں تو تمہاری تصحیح کیا کریں گے؟ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی کسی سچ بات کو تم جھوٹا کہہ دو ۔ یا ان کی کسی جھوٹی بات کو تم سچ کہہ دو ۔ یاد رکھو ہر اہل کتاب کے دل میں اپنے دین کا ایک تعصب ہے ۔ جیسے کہ مال کی خواہش ہے ( ابن جریر ) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں تم اہل کتاب سے سوالات کیوں کرتے ہو؟ تم پر تو اللہ کی طرف سے ابھی ابھی کتاب نازل ہوئی ہے جو بالکل خالص ہے جس میں باطل نہ ملا نہ مل جل سکے ۔ تم سے تو خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کے دین کو بدل ڈالا ۔ اللہ کی کتاب میں تغیر کردیا اور اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتابوں کو اللہ کی کتاب کہنے لگے اور دنیوی نفع حاصل کرنے لگے ۔ کیوں بھلا تمہارے پاس جو علم اللہ ہے کیا وہ تمہیں کافی نہیں؟ کہ تم ان سے دریافت کرو ۔ دیکھو تو کس قدر ستم ہے کہ ان میں سے تو ایک بھی تم سے کبھی کچھ نہ پوچھے اور تم ان سے دریافت کرتے پھرو؟ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینے میں قریش کی ایک جماعت کے سامنے فرمایا کہ دیکھو ان تمام اہل کتاب میں اور ان کی باتیں بیان کرنے والوں میں سب سے اچھے حضرت کعب بن احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے لیکن باوجود اس کے بھی ان کی باتوں میں بھی ہم کبھی کھبی جھوٹ پاتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عمدا جھوٹ بولتے ہیں بلکہ جن کتابوں پر انہیں اعتماد ہے وہ خود گیلی سوکھی سب جمع کر لیتے ہیں ان میں خود سچ جھوت صحیح غلط بھرا پڑا ہے ۔ ان میں مضبوط ذی علم حافظوں کی جماعت تھی ہی نہیں ۔ یہ تو اسی امت مرحومہ پر اللہ کا فضل ہے کہ اس میں بہترین دل ودماغ والے اور اعلیٰ فہم وذکا والے اور عمدہ حفظ و اتقان والے لوگ اللہ نے پیدا کردیئے ہیں لیکن پھر بھی آپ دیکھئے کہ کس قدر موضوعات کا ذخیرہ جمع ہوگیا ہے؟ اور کس طرح لوگوں نے باتیں گھڑلی ہیں ۔ محدثین نے اس باطل کو حق سے بالکل جدا کردیا فالحمدللہ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

461اس لئے کہ وہ اہل علم و فہم ہیں، بات کو سمجھنے کی صلاحیت و استعداد رکھتے ہیں۔ بنابریں ان سے بحث و گفتگو میں تلخی اور تندی مناسب نہیں۔ 462یعنی جو بحث و مجادلہ میں افراط سے کام لیں تو تمہیں بھی سخت لب و لہجہ اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ بعض نے پہلے گروہ سے مراد وہ اہل کتاب لیے ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے اور دوسرے گروہ سے وہ اشخاص جو مسلمان نہیں ہوئے بلکہ یہودیت و نصرانیت پر قائم رہے اور بعض نے ظلموا منھم کا مصداق ان اہل کتاب کو لیا ہے جو مسلمانوں کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتے تھے اور جدال قتال کے بھی مرتکب ہوتے تھے ان سے تم بھی قتال کرو تاآنکہ مسلمان ہوجائیں یا جزیہ دیں۔ 463تورات و انجیل پر۔ یعنی یہ بھی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہیں اور یہ شریعت اسلامیہ کے قیام اور بعثت محمدیہ تک شریعت الٰہی ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٦] یعنی مشرکوں کا دین تو سراسر باطل ہے۔ مگر اہل کتاب کا دین اپنی اصل کے لحاظ سے سچا تھا۔ لہذا ان سے تمہاری بحث کا انداز مشرکوں سے جداگانہ ہوجانا چاہئے۔ اور ان کے مذاہب میں جتنی سچائی موجود ہے اس کا اعتراف کرنا چاہئے۔ پھر جس مقام سے اختلاف واقع ہوتا ہے وہ نرمی، متانت سے اور خیر خواہی کے جذبے سے انھیں سمجھانا چاہئے۔ بحث کا انداز یہ نہ ہونا چاہئے کہ دورے کو سراسر غلط اور نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے۔ بلکہ ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہئے جس سے اسے اپنی غلطی کا اعتراف کرلینا آسان ہوجائے۔ [٧٧] بےانصاف یا ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جو مذہبی تعصب کو ہی سب سے بڑی قدر سمجھتے ہوں۔ اور ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے ہوں جیسا کہ یہود مدینہ میں کعب بن اشرف اور ابو رافع سلام بن ابی الحقیق اور مشرکین مکہ میں ابو جہل اور اس کے ساتھی تھے۔ [٧٨] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بحث کا انداز بھی خود ہی سمجھا دیا۔ یعنی جن جن باتوں میں فریقین میں موافقت اور مطابقت پائی جاتی ہے۔ پہلے ان کا ذکر کرکے انھیں اپنی طرف مائل کیا جائے۔ یہ نہ ہونا چاہئے کہ ابتداء میں اختلافی امور کو زیر بحث لا کر فریق مخالف کو اپنا مزید مخالف بنالیا جائے۔ یعنی زبان شیریں اور انداز گفتگو ایسے ناصحانہ ہونا چاہئے جس سے وہ چڑ جانے کی بجائے بات کو تسلیم کرلینے پر آمادہ ہوجائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ ۔۔ : یعنی مشرکوں کا دین جڑ سے غلط ہے اور کتاب والوں کا دین اصل میں سچ تھا تو ان سے ان کی طرح نہ جھگڑو کہ جڑ سے ان کی بات کاٹو، بلکہ نرمی سے واجبی بات سمجھاؤ، مگر ان میں جو (صریح) بےانصافی پر (اتر) آئے اس کی سزا وہی ہے (یعنی اس کے ساتھ اس کے جرم کے مطابق سلوک کرو) ۔ (موضح) 3 کتاب اللہ کی تلاوت کے حکم کے بعد فرمایا کہ اہل کتاب میں سے جو اسے سن کر سمجھنے کے لیے بحث کرے اس کے ساتھ ایسے طریقے ہی سے بحث کرو جو بہتر سے بہتر ہوسکتا ہے۔ کیا عجب ہے کہ وہ راہ راست اختیار کرے۔ دوسری آیت میں یہ حکم عام ہے اور دعوت دین میں ہر ایک کے ساتھ یہی طریقہ اختیار کرنے کا حکم ہے، فرمایا : (اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ ) [ النحل : ١٢٥ ] ” اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔ بیشک تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے راستے سے گمراہ ہوا اور وہی ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔ “ اور فرمایا : (وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ) [ حٰآ السجدۃ : ٣٤ ] ” اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ “ اور جیسا کہ موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے حکم دیا : ( فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى) [ طٰہٰ : ٤٤ ] ” پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔ “ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ : یعنی ان میں سے جو ظلم پر اڑ جائیں، ضد اور تعصب برتیں اور حق کو قبول کرنے سے انکار کردیں، پھر مناظرے و مباحثے بےسود ہیں، ایسے لوگوں کے ساتھ بات میں سختی جائز ہے اور آگے چل کر ان کے ساتھ جدال کے بجائے قتال ہوگا، اس وقت تک کہ ایمان لے آئیں یا جزیہ دینے پر آمادہ ہوجائیں، جیسا کہ فرمایا : (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ ) [ التوبۃ : ٢٩ ] ” لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔ “ مکی سورتوں میں آنے والے وقت میں کفار کے ساتھ قتال کے اشارے کئی جگہ موجود ہیں۔ وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا : اس میں ہمیں حکم ہے کہ بحث مباحثہ میں اہل کتاب جب کوئی ایسی بات بیان کریں جس کے متعلق معلوم نہ ہو کہ صحیح ہے یا غلط، سچ ہے یا جھوٹ، تو ہم نہ اسے جھوٹا کہیں، کیوں کہ ہوسکتا ہے وہ سچ ہو اور نہ سچا کہیں، کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ وہ جھوٹ ہو، بلکہ اس پر مجمل ایمان رکھیں، اس شرط کے ساتھ کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہو، نہ اس میں کوئی تبدیلی ہوئی ہو اور نہ کوئی تاویل اور یہ کہیں ” ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا۔ “ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : ( کَانَ أَہْلُ الْکِتَابِ یَقْرَءُوْنَ التَّوْرَاۃَ بالْعِبْرَانِیَّۃِ ، وَ یُفَسِّرُوْنَہَا بالْعَرَبِیَّۃِ لِأَہْلِ الإِْسْلاَمِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تُصَدِّقُوْا أَہْلَ الْکِتَابِ ، وَلاَ تُکَذِّبُوْہُمْ وَ (وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا ) [ بخاري، التفسیر، باب : ( قولوا آمنا باللہ ۔۔ ) : ٤٤٨٥ ] ” اہل کتاب تورات کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور اہل اسلام کے لیے اس کی تفسیر عربی زبان میں کرتے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اہل کتاب کو نہ سچا کہو اور نہ انھیں جھوٹا کہو اور یہ کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف اتارا گیا۔ “ واضح رہے کہ پہلی کتابوں کے متعلق اجمالی طور پر یہ تسلیم کرنا تو ضروری ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی ہیں، مگر عمل صرف قرآن و حدیث پر کیا جائے گا۔ اس مضمون کی مزید تفصیل کے لیے اس تفسیر کے مقدمہ میں اسرائیلیات کا عنوان ملاحظہ فرمائیں۔ وَاِلٰـهُنَا وَاِلٰــهُكُمْ وَاحِدٌ ۔۔ : یعنی اہل کتاب کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک مسائل پیش کرکے قائل کرنے کی کوشش کرو، جن میں سب سے اہم چیز اللہ تعالیٰ کی توحید ہے، جو اب بھی تحریف کے باوجود تورات اور انجیل میں جابجا موجود ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران کی آیت (٦٤) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا (And do not debate with the people of the Book unless it is in the best way, except those from them who commit injustice. - 29:46). It means that if one has to get involved in a discussion or debate with the people of the book, he should present his arguments in an affable manner. For instance, it is prudent to answer an impudent remark with politeness, the rage with mildness, and uncivilized tumult with dignified speech. إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا (except those from them who commit injustice - 29:46). But those who wronged you in that they stuck to their stubbornness and obstinacy in return to your dignified gentle speech, they do not deserve this kindness from you. If you give them tit for tat, you are justified, although it is still preferable that they are not replied with rudeness for rudeness, and cruelly for their cruelty. Rather they be treated with courtesy for their rudeness, and with fairness for their unfairness. Some other Qur&anic verses elaborate this advice: وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ وَلَئِن صَبَرْ‌تُمْ لَهُوَ خَيْرٌ‌ لِّلصَّابِرِ‌ينَ (16:126): That is, you are entitled to take revenge of their injustice in equal manner, &but if you opt for patience, it is definitely much better for those who are patient&. The advice given in this verse for a polite and dignified treatment in the case of a debate with the people of the book is also accorded in Surah An-Nahl with regard to the pagans. At this place the people of the book are especially identified for the reason given right after this. That is, if they were to ponder, there is a great deal common in the two faiths, which should help them accept Islam. Hence it is said وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ (And say: We believe in what is sent down to us and sent down to you - 29:46). It means that the Muslims should tell the people of the book at the time of argument ` we have faith in the revelations sent to us through our Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and also on those revelations which were sent to you through your prophets. Hence, you have no reason for any hostility against us&. Does this verse endorse the authenticity of Torah and Injil in their present form? The manner in which this verse endorses the belief of Muslims in Torah and Injil is their general faith in them, as they were revealed in their original form. It means that whatever Allah Ta’ ala had revealed in these books, they had faith in that. It does not mean that they have faith in their altered and distorted form of the text as well. Many of the alterations were made in the books even before the time of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and many more were carried out later. This work on amendments has not ceased yet. Muslims have faith only on that part of Torah and Injil that were revealed on Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Sayyidna Isa (علیہ السلام) respectively. The altered part of the books is excluded from that. Torah and Injil in their present form can neither be believed nor rejected altogether It is recorded in Sahih Al-Bukhari that Sayyidna Abu Hurairah (رض) has reported that the People of the Book used to read Torah and Injil in their original language, Hebrew, but for Muslims they would relate only its translation in Arabic. the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) instructed the Muslims in this regard that they should neither believe nor reject what they (Jews and Christians) tell them, and instead simply say آمَنَّا بِالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ (We believe in what is sent down to us and sent down to you - 29:46). That is ` We have symbolic faith in that what was revealed on your prophets, but what you are telling us we do not consider it as authentic. Therefore, we abstain from endorsing or rejecting it&.

خلاصہ تفسیر اور جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت ثابت ہے تو اے مسلمانوں منکرین رسالت میں سے جو اہل کتاب ہیں ہم ان سے طریقہ گفتگو بتلاتے ہیں اور یہ تخصیص اس لئے کہ اول تو وہ بوجہ اہل علم ہونے کے بات کو سنتے ہیں اور مشرکین تو بات سننے سے پہلے ہی ایذا کے در پے ہوجاتے ہیں، دوسرے اہل علم کے ایمان لے آنے سے عوام کا ایمان زیادہ متوقع ہوجاتا ہے اور وہ طریقہ یہ ہے کہ) تم اہل کتاب کے ساتھ بجز مہذب طریقے کے مباحثہ مت کرو ہاں جو ان میں زیادتی کریں (تو ان کو جو ترکی بہ ترکی دین کا مضائقہ نہیں، گو افضل جب بھی طریقہ احسن ہے) اور (وہ مہذب طریقہ یہ ہے کہ مثلاً ان سے) یوں کہو کہ ہم اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل ہوئی اور ان کتابوں پر بھی (ایمان رکھتے ہیں) جو تم پر نازل ہوئیں، (کیونکہ مدار ایمان کا منزل من اللہ ہونا ہے، پس جب ہماری کتاب کا منزل من اللہ ہونا تمہاری کتب سے بھی ثابت ہے پھر تم کو قرآن پر بھی ایمان لانا چاہئے) اور (یہ تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ) ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہے کقولہ تعالیٰ اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاۗءٍۢ بَيْنَنَا الخ جب توحید متفق علیہ ہے اور اپنے احبارو رہبان کی اطاعت کی وجہ سے نبی آخر الزماں پر ایمان نہ لانا خلاف توحید ہے، تو تم کو ہمارے نبی پر ایمان لانا چاہئے (کقولہ تعالیٰ وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا الخ) اور (اس گفتگو کے ساتھ اپنا مسلمان ہونا تنبیہ کے لئے سنا دو کہ) ہم تو اس کی اطاعت کرتے ہیں (اس میں عقائد و اعمال سب آگئے یعنی اسی طرح تم کو بھی چاہئے جب کہ مقتضی موجود ہے کقولہ تعالیٰ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ) اور (جس طرح ہم نے پہلے انبیاء پر کتابیں نازل کیں) اسی طرح ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی (جس کی بناء پر مجادلہ بالاحسن کی تعلیم کی گئی) سو جن لوگوں کو ہم نے کتاب (کی نافع سمجھ) دی ہے وہ اس (آپ والی) کتاب پر ایمان لے آتے ہیں (اور ان سے مجادلہ کی بھی نوبت شاذ و نادر آتی ہے) اور ان (اہل عرب مشرک) لوگوں میں بھی بعض ایسے (منصف) ہیں کہ اس کتاب پر ایمان لے آتے ہیں (خواہ خود سمجھ کر یا اہل علم کے ایمان سے استدلال کر کے) اور (وضوح دلائل کے بعد) ہماری (اس کتاب کی) آیتوں سے بجز (ضدی) کافروں کے اور کوئی منکر نہیں ہوتا (اوپر مجادلہ کی تقریر دلیل نقلی تھی جس سے خاص اہل نقل کو تخاطب تھا آگے دلیل عقلی ہے جس میں ام تخاطب ہے یعنی) اور (جو لوگ آپ کی نبوت کے منکر ہیں، ان کے پاس کوئی منشاء اشتباہ بھی تو نہیں، کیونکہ) آپ اس کتاب (یعنی قرآن سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور نہ کوئی کتاب اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے کہ ایسی حالت میں یہ ناحق شناس لوگ کچھ شبہ نکالتے (کہ یہ لکھے پڑھے آدمی ہیں آسمانی کتابیں دیکھ بھال کر ان کی مدد سے مضامین سوچ کر فرصت میں بیٹھ کر لکھ لئے اور یاد کر کے ہم لوگوں کو سنا دیئے یعنی اگر ایسا ہوتا تو کچھ تو منشاء اشتباہ کا ہوتا، گو جب بھی یہ شبہ کرنے والے مبطل ہوتے، کیونکہ اعجاز قرآنی پھر بھی دلالت علی النبوة کے لئے کافی تھا، لیکن اب تو اتنا منشاء اشتباہ بھی نہیں۔ اس لئے یہ کتاب محل ارتیاب نہیں) بلکہ یہ کتاب (باوجود واحد ہونے کے چونکہ ہر حصہ اس کا معجزہ ہے اور حصص کثیر ہیں، اس لئے وہ تنہا گویا) خود بہت سی واضح دلیلیں ہیں ان لوگوں کے ذہن میں جن کو علم عطا ہوا ہے اور (باوجود ظہور اعجاز کے) ہماری آیتوں سے بس ضدی لوگ انکار کئے جاتے ہیں ( ورنہ منصف کو تو ذرا شبہ نہیں رہنا چاہئے) اور یہ لوگ (باوجود عطاء معجزہ قرآن کے محض براہ تعنت وعناد) یوں کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر ان کے رب کے پاس سے (ہماری فرمائشی) نشانیاں کیوں نہیں نازل ہوئیں، آپ یوں کہہ دیجئے کہ وہ نشانیاں تو خدا کے قبضہ (قدرت) میں ہیں اور (میرے اختیار کی چیزیں نہیں) میں تو صرف ایک صاف صاف (عذاب الہی سے) ڈرانے والا (یعنی رسول) ہوں (اور رسول ہونے پر صحیح دلیلیں رکھتا ہوں جن میں سب سے بڑی دلیل قرآن ہے۔ پھر خاص دلیل کی کیا ضرورت ہے خصوصاً جبکہ اس کے واقع نہ ہونے میں حکمت بھی ہو۔ آگے قرآن کا اعظم فی الدلالتہ ہونا فرماتے ہیں) کیا (دلالت علی النبوة میں) ان لوگوں کو یہ بات کافی نہیں ہوئی کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب (معجز) نازل فرمائی ہے جو ان کو (ہمیشہ) سنائی جاتی رہتی ہے (کہ اگر ایک بار سننے سے اعجاز ظاہر نہ ہو تو دوسری بار میں ہوجائے یا اس کے بعد ہوجائے اور دوسرے معجزات میں تو یہ بات بھی نہ ہوتی، کیونکہ اس کا خارق ہونا دائمی نہ ہوتا جیسا ظاہر ہے اور ایک ترجیح اس معجزہ میں یہ ہے کہ) بلاشبہ اس کتاب میں (معجزہ ہونے کے ساتھ) ایمان لانے والے لوگوں کے لئے بڑی رحمت اور نصیحت ہے (رحمت یہ کہ تعلیم احکام کی ہے جو نفع محض ہے اور نصیحت ترغیب و ترہیب سے ہے اور یہ بات دوسرے معجزات میں کب ہوتی، پس ان ترجیحات سے تو اس کو غنیمت سمجھتے اور ایمان لے آتے اور اگر اس وضوح دلائل کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو آخری جواب کے طور پر) آپ کہہ دیجئے کہ (خیر بھائی مت مانو) اللہ میرے اور تمہارے درمیان (میری رسالت کا) گواہ بس ہے اس کو سب چیز کی خبر ہے جو آسمان میں ہے اور زمین میں ہے اور (جب میری رسالت اور اللہ کا علم محیط ثابت ہوا تو) جو لوگ جھوٹی باتوں پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ (کی باتوں) کے منکر ہیں (جن میں رسالت بھی داخل ہے) تو وہ لوگ بڑے زیاں کار ہیں (یعنی جب اللہ کے ارشاد سے میری رسالت ثابت ہے تو اس کا انکار کفر باللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم محیط ہے تو اس کو اس انکار و کفر کی بھی خبر ہے اور اللہ تعالیٰ کفر پر سزائے خسارہ دیتے ہیں۔ پس لامحالہ ایسے لوگ خاسر ہوں گے) اور یہ لوگ آپ سے عذاب (واقع ہونے کا) تقاضا کرتے ہیں (اور فوراً عذاب نہ آنے سے آپ کی نبوت و رسالت میں شبہ و انکار کرتے ہیں) اور اگر (علم الٰہی میں عذاب آنے کے لئے) میعاد معین نہ ہوتی تو (ان کے تقاضہ کے ساتھ ہے) ان پر عذاب آچکا ہوتا اور (جب وہ معیاد آ جاوے گی تو) وہ عذاب ان پر دفعۃً آپہونچے گا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی (آگے ان لوگوں کی جہالت کے اظہار کے لئے ان کی جلد بازی کو مکرر ذکر کر کے عذاب کی میعاد معین اور اس میں پیش آنے والے عذاب کا ذکر کرتے ہیں کہ) یہ لوگ آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور (عذاب کی صورت یہ ہے کہ) اس میں کچھ شک نہیں کہ جہنم ان کافروں کو (چاروں طرف سے) گھیر لے گا جس دن ان پر عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے نیچے سے گھیر لے گا اور (اس وقت ان سے) حق تعالیٰ فرمائے گا کہ جو کچھ (دنیا میں) کرتے رہے ہو (اب اس کا مزہ) چکھو۔ معارف و مسائل وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا، یعنی اہل کتاب سے بحث و مباحثہ کی نوبت آوے تو مجادلہ بھی ایسے طریقہ سے کرو جو بہتر ہو مثلاً سخت بات کا جواب نرم الفاظ سے، غصہ کا جواب بردباری سے، جاہلانہ شور و شغب کا جواب باوقار گفتگو سے، اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا، مگر وہ لوگ جنہوں نے تم پر ظلم کیا کہ تمہاری باوقار نرم گفتگو اور دلائل واضحہ کے مقابلہ میں ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا تو وہ اس احسان کے مستحق نہیں رہے، بلکہ ایسے لوگوں کا جواب ترکی بہ ترکی دیا جائے تو جائز ہے، اگرچہ اولی اور بہتر اس وقت بھی یہی ہے کہ ان کی بدخوئی کا جواب بدخوئی سے اور ظلم کا جواب ظلم سے نہ دیں۔ بلکہ کج خلقی کے جواب میں خوش خلقی کا اور ظلم کے جواب میں انصاف کا مظاہرہ کریں جیسا کہ دوسری آیات قرآن میں اس کی تصریح ہے وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ یعنی اگر ظلم وجور کا بدلہ تم ان سے برابر سرابر لے لو تو تمہیں اس کا حق ہے، لیکن صبر کرو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ “ اس آیت میں اہل کتاب سے مجادلہ میں جو ہدایت طریقہ حسنہ کے ساتھ کرنے کی دی گئی ہے یہی سورة نحل میں مشرکین کے متعلق بھی ہے۔ اس جگہ اہل کتاب کی تخصیص اس کلام کی وجہ سے ہے جو بعد میں آ رہا ہے کہ ہمارے اور تمہارے دین میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں تم غور کرو تو ایمان اور اسلام کے قبول کرنے میں تمہیں کوئی مانع نہ ہونا چائے، جیسا کہ ارشاد فرمایا قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ یعنی تم اہل کتاب سے مجادلہ کے وقت ان کو اپنے قریب کرنے کے لئے یہ کہو کہ ہم مسلمان تو اس وحی پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہماری طرف بواسطہ ہمارے رسول کے بھیجی گئی ہے اور اس وحی پر بھی جو تمہاری طرف تمہارے پیغمبر کے ذریعہ بھیجی گئی ہے، اس لئے ہم سے مخالفت کی کوئی وجہ نہیں۔ کیا اس آیت میں موجودہ تورات و انجیل کے مضامین کی تصدیق کا حکم ہے : اس آیت میں اہل کتاب کی طرف آنے والی کتابوں تورات و انجیل پر مسلمانوں کے ایمان کا تذکرہ جن عنوان سے کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ہم ان کتابوں پر اجمالی ایمان رکھتے ہیں بایں معنی کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں نازل فرمایا تھا اس پر ہمارا ایمان ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ موجودہ تورات و انجیل کے سب مضامین پر ہمارا ایمان ہے جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں بھی بہت تحریفات ہوچکی تھیں اور اس وقت سے اب تک ان میں تحریف کا سلسلہ چل ہی رہا ہے۔ ایمان صرف ان مضامین تورات و انجیل پر ہے جو اللہ کی طرف سے حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) پر نازل ہوئے تھے، تحریف شدہ مضامین اس سے خارج ہیں۔ موجودہ تورات و انجیل کی مطلقاً تصدیق کی جائے نہ مطلقاً تکذیب : صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ اہل کتاب تورات و انجیل کو ان کی اصلی زبان عبرانی میں پڑھتے تھے، اور مسلمانوں کو ان کا ترجمہ عربی زبان میں سناتے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق مسلمانوں کو یہ ہدایت دی کہ تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب کرو، بلکہ یوں کہو اٰمَنَّا بالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ ، یعنی ہم اجمالاً اس وحی پر ایمان لاتے ہیں جو تمہارے انبیاء پر نازل ہوئی ہے اور جو تفصیلات تم بتلاتے ہو وہ ہمارے نزدیک قابل اعتماد نہیں۔ اس لئے ہم اس کی تصدیق و تکذیب سے اجتناب کرتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَہْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ۝ ٠ۤۖ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَاِلٰـہُنَا وَاِلٰــہُكُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ۝ ٤٦ جدل الجِدَال : المفاوضة علی سبیل المنازعة والمغالبة، وأصله من : جَدَلْتُ الحبل، أي : أحكمت فتله ۔ قال اللہ تعالی: وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125] ( ج د ل ) الجدال ( مفاعلۃ ) کے معنی ایسی گفتگو کرنا ہیں جسمیں طرفین ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اصل میں یہ جدلت الحبل سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں رسی کو مضبوط بٹنا اسی سے بٹی ہوئی رسی کو الجدیل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125] اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حیھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔ قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : (ولا تقاتلوھم عند المسجد الحرام حتی یقاتلوکم فیہ فان قاتلو کم فاقتلوھم ۔ اور ان کے ساتھ مسجد حرام کے آس پاس جنگ نہ کرو جب تک کہ وہ تمہارے ساتھ جنگ نہ کریں۔ اگر وہ تمہارے ساتھ جنگ کریں تو انہیں قتل کرو) مجاہد کا قول ہے : (الا الذین ظلموا منھم) سے مراد وہ لوگ ہیں جو جزیہ ادا کرنے سے انکار کرتے ہوں۔ ایک قول کے مطابق وہ لوگ مراد ہیں جو کفر پر ڈٹے رہے حالانکہ ان پر حجت تام ہوچکی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور تم یہود و نصاری کے ساتھ بحث مت کرو مگر قرآن حکیم کے ذریعے سے۔ ہاں ! جو ان میں زیادتی کریں جیسا کہ وفد بنی نجران۔ اور یوں کہو کہ ہم قرآن حکیم پر بھی اور توریت اور انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا اللہ ایک، وحدی لاشریک (یعنی ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں) ہے اور ہم تو اسی کی اطاعت اور اسی کی توحید کا اقرار کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٦ (وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَہْلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُز) ” ان کو دعوت دیتے ہوئے اچھے طریقے سے ان سے گفتگو کرو۔ تمہاری گفتگو میں نہ تو ان کی توہین کا انداز ہو اور نہ ہی ان کی عصبیت جاہلی کو بھڑکنے کا موقع ملتا ہو۔ بہر حال اپنا پیغام احسن طریقے سے ان تک پہنچا دو ۔ اس کے بعد وہ اپنے نظریے اور عمل کے لیے اللہ کے ہاں خود ذمہ دار ہیں۔ (اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ ) ” اس استثناء کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ان میں غیر منصفانہ طرز عمل دکھانے والے افراد سے مجادلہ کرنے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے ‘ اور دوسرے یہ کہ دوران گفتگو ایسے لوگوں کی ہٹ دھرمی کے سبب ان کے ساتھ کسی حد تک سخت رویہ اختیار کرنے کی بھی اجازت ہے۔ بہر حال اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے تو اس کے ساتھ بحث و تمحیص میں یہ دونوں صورتیں بھی پید اہو سکتی ہیں۔ یعنی اس کا غیر منصفانہ رویہ دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ کچھ سخت جملوں کے تبادلے کی نوبت بھی آسکتی ہے اور اس کے بعد مزید گفتگو کرنے سے اعراض بھی برتا جاسکتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

80 It should be noted that a little below in this Surah the people are being exhorted to migrate. At that time Habash was the only place of safety to which the Muslims could migrate, and Habash in those days was under the domination of the Christians. Therefore, in these verses the Muslims are being instructed as to how they should argue and discuss matters concerning religion with the people of the Book when such an occasion arises. 81 That is, "The discussion should be conducted rationally, in a civilized and decent language, so that the ideas of the other person may be reformed. The preacher's chief aim should be to appeal to the addressee's heart, convey the truth to him and bring him to the right path. He should not fight like a wrestler whose only object is to defeat his opponent. He should rather conduct himself like a physician who is ever cautious not to cause the patient's ailment to worsen by any of his own mistakes, and tries to cure him with the least possible trouble. This instruction bas been given here especially in connection with the conduct of a discussion with the people of the Book, but is a general instruction pertaining to the preaching of the religion and it has been given at several places in the Qur'an. For example, "O Prophet, invite to the way of your Lord with wisdom and excellent admonition and discuss things with the people in the best manner." (AnNahl: 125). "O Prophet, goodness and evil are not alike. Repel evil with what is best. You will see that he. with whom you had enmity, has become your closest friend. ' (Ha Mim As-Sajdah: 34). "O Prophet, repel evil with what is best: We are fully aware of what they utter against you." (Al-Mu'minun: 96) "O Prophet, adopt the way of leniency and forbearance; enjoin what is good and avoid useless discussions with the ignorant people. If Satan ever excites you to anger, seek refuge in Allah." 82 That is, "With those who adopt an attitude of wickedness a different attitude may also be adopted according to the nature and extent of their wickedness. In other words, one cannot, and should not adopt a soft and gentle attitude towards aII sorts of the people under aII circumstances at all time, which might be mistaken for the weakness and meekness of the inviter to the Truth. Islam does teach its followers to be polite, gentle and reasonable, but it does not teach them to be unduly humble and meek so that they are not taken for granted by every cruel and wicked person." 83 In these sentences Allah Himself has provided guidance to the best method of discussion, which the inviters to the Truth should adopt. The method is this: "Do not make the error or deviation of the other person the basis and starting point of the discussion, but begin the discussion with those points of truth and justice which are common between you and your opponent. That is, the discussion should start' from the points of agreement and not from the points of difference. Then, arguing froth the agreed points, the addressee should be made to understand that, in the matter of the things in which you differ, your stand is in conformity with the agreed points whereas his stand is contradictory to them In this connection, one should bear in mind the fact that the people of the Book did not deny Revelation, Prophethood and Tauhid, like the polytheists of Arabia, but believed in these realities just tike the Muslims. After agreement on these basic things, the main thing that could become the basis of difference Between them could be that the Muslim would not believe in the Divine Scriptures sent down to them and would invite them to believe in the Divine Book sent down to themselves, and would declare them disbelievers if they did not believe in it. This would have been a strong basis of their conflict. But the Muslims had a different stand. They believed as true all those Books that were with the people of the Book, and then also had believed in the Revelation that had been sent down to the Holy Prophet Muhammad (Allah's peace be upon him). After this it was for the people of the Book to tell the rational ground for which they believed in one Book sent by Allah and rejected the other. That is why Allah here has instructed the Muslims that whenever they have to deal with the people of the Book, they should tirst of all present before them this very point of view in a positive manner. Say to them: "We believe in the same God in Whom you believe and we are obedient to Him. We have submitted ourselves to aII those Commands and injunctions and teachings that have come from Him, whether they were sent down to you, or to us. We are obedient servants of God and not of a country or a community or a race, that we should submit to God's Command when it is sent down in one place and reject it when it is sent down in another place. This thing has been repeated at several places in the Qur'an and particularly in relation to the people of the Book, it has been presented forcefully. For this,see AI-Baqarah: 4, 136, 177, 285; Al-i-`Imran: 84; An-Nisa': 136, 150 to 152, 162 to 164; AshShu'araa: 13.

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 80 واضح رہے کہ آگے چل کر اسی سورہ میں ہجرت کی تلقین کی جارہی ہے ۔ اس وقت حبش ہی ایک ایسا مامن تھا جہاں مسلمان ہجرت کر کے جاسکتے تھے ۔ اور حبش پر اس زمانے میں عیسائیوں کا غلبہ تھا ، اس لیے ان آیات میں مسلمانوں کو ہدایات دی جارہی ہیں کہ اہل کتاب سے جب سابقہ پیش آئے تو ان سے دین کے معاملہ میں بحث و کلام کا کیا انداز اختیار کریں ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 81 یعنی مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ ، مہذب و شائستہ زبان میں ، اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہیے ، تاکہ جس شخص سے بحث کی جارہی ہو اس کے خیالات کی اصلاح ہوسکے ۔ مبلغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اتار دے اور اسے راہ راست پر لائے ۔ اس کو ایک پہلوان کی طرح نہیں لڑنا چاہیے جس کا مقصد اپنے مد مقابل کو نیچا دکھانا ہوتا ہے ۔ بلکہ اس کو ایک حکیم کی طرح چارہ گری کرنی چاہیے جو مریض کا علاج کرتے ہوئے ہر وقت یہ بات ملحوظ رکھتا ہے کہ اس کی اپنی کسی غلطی سے مریض کا مرض اور زیادہ بڑھ نہ جائے ، اور اس امر کی پوری کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم تکلیف کے ساتھ مریض شفا یاب ہوجائے ۔ یہ ہدایت اس مقام پر تو موقع کی مناسبت سے اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے معاملہ میں دی گئی ہے ، مگر یہ اہل کتاب کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ تبلیغ دین کے باب میں ایک عام ہدایت ہے جو قرآن مجید میں جگہ جگہ دی گئی ہے ۔ مثلا: اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۔ ( النحل ، آیت 125 ) دعوت دو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ پندو نصیحت کے ساتھ ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو ۔ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ ۔ ( حم السجدہ ، آیت 34 ) بھلائی اور برائی یکساں نہیں ہیں ( مخالفین کے حملوں کی ) مدافعت ایسے طریقہ سے کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ وہی شخص جس کے اور تمہارے درمیان عداوت تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے گرم جوش دوست ہے ۔ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ ۔ ( المومنون ، آیت 96 ) ( تم بدی کو اچھے ہی طریقہ سے دفع کرو ہمیں معلوم ہے جو باتیں وہ ( تمہارے خلاف ) بناتے ہیں ۔ خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ ۔ وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۔ ( الاعراف ، آیت 199 ۔ 200 ) درگزر کی روش اختیار کرو ، بھلائی کی تلقین کرو ، اور جاہلوں کے منہ نہ لگو ، اور اگر ( ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لیے ) شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 82 یعنی جو لوگ ظلم کا رویہ اختیار کریں ان کے ساتھ ان کے ظلم کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف رویہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ہر وقت ہر حال میں اور ہر طرح کے لوگوں کے مقابلہ میں نرم و شیریں ہی نہ بنے رہنا چاہیے کہ دنیا داعی حق کی شرافت کو کمزوری اور مسکنت سمجھ بیٹھے ۔ اسلام اپنے پیرووں کو شائستگی ، شرافت اور معقولیت تو ضرور سکھاتا ہے مگر عاجزی و مسکینی نہیں سکھاتا کہ وہ ہر ظالم کے لیے نرم چارہ بن کر رہیں ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 83 ان فقروں میں اللہ تعالی نے خود اس عمدہ طریق بحث کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جسے تبلیغ حق کی خدمت انجام دینے والوں کو اختیار کرنا چاہیے ۔ اس میں یہ سکھایا گیا ہے کہ جس شخص سے تمہیں بحث کرنی ہو اس کی گمراہی کو بحث کا نقطہ آغاز نہ بناؤ ، بلکہ بات اس سے شروع کرو کہ حق و صداقت کے وہ کونے اجزاء ہیں جو تمہارے اور اس کے درمیان مشترک ہیں ، یعنی آغاز کلام نکات اختلاف سے نہیں بلکہ نکات اتفاق سے ہونا چاہیے پھر انہی متفق علیہ امور سے استدلال کر کے مخاطب کو یہ سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جن امور میں تمہارے اور اس کے درمیان اختلاف ہے ان میں تمہارا مسلک متفق علیہ بنیادوں سے مطابقت رکھتا ہے اور اس کا مسلک ان سے متضاد ہے ۔ اس سلسلے میں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اہل کتاب مشرکین عرب کی طرح وحی و رسالت اور توحید کے منکر نہ تھے بلکہ مسلمانوں کی طرح ان سب حقیقتوں کو مانتے تھے ۔ ان بنیادی امور میں اتفاق کے بعد اگر کوئی بڑٰ چیز بنیاد اختلاف ہوسکتی تھی تو وہ یہ کہ مسلمان ان کے ہاں آئی ہوئی آسمانی کتابوں کو نہ مانتے اور اپنے ہاں آئی ہوئی کتاب پر ایمان لانے کی انہیں دعوت دیتے اور اس کے نہ ماننے پر انہیں کافر قرار دیتے ۔ یہ جھگڑے کی بڑی مضبوط وجہ ہوتی ، لیکن مسلمانوں کا موقف اس سے مختلف تھا ۔ وہ تمام ان کتابوں کو برحق تسلیم کرتے تھے جو اہل کتاب کے پاس موجود تھیں ، اور پھر اس وحی پر ایمان لائے تھے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی ۔ اس کے بعد یہ بتانا اہل کتاب کا کام تھا کہ کس معقول وجہ سے وہ خدا ہی کی نازل کردہ ایک کتاب کو مانتے اور دوسری کتاب کا انکار کرتے ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالی نے یہاں مسلمانوں کو تلقین فرمائی ہے کہ اہل کتاب سے جب سابقہ پیش آئے تو سب سے پہلے مثبت طور پر اپنا یہی موقف ان کے سامنے پیش کرو ۔ ان سے کہو کہ جس خدا کو تم مانتے ہو سای کو ہم مانتے ہیں اور ہم اس کے فرماں بردار ہیں ۔ اس کی طرف سے جو احکام و ہدایات اور تعلیمات بھی آئی ہیں ان سب کے آگے ہمارا سر تسلیم خم ہے ، خواہ وہ تمہارے ہاں آئی ہوں یا ہمارے ہاں ۔ ہم تو حکم کے بندے ہیں ۔ ملک اور قوم اور نسل کے بندے نہیں نہیں کہ ایک جگہ خدا کا حکم آئے تو ہم مانیں اور اسی خدا کا حکم دوسری جگہ آئے تو ہم اس کو نہ مانیں ۔ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ دہرائی گئی ہے اور خصوصا اہل کتاب سے جہاں سابقہ پیش آیا ہے وہاں تو اسے زور دے کر بیان کیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر ملاحظہ البقرہ آیات 4 ۔ 136 ۔ 177 ۔ 285 ۔ آل عمران آیت 84 ۔ النساء 136 ۔ 150 تا 152 ۔ 162 تا 164 ۔ الشوری 13 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

27: یوں تو دعوت اسلام میں ہر جگہ یہی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ شائستگی کے ساتھ ہو، لیکن خاص طور پر اہل کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں اس لئے یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ آسمانی کتابوں پر فی الجملہ ایمان رکھتے ہیں، اس لئے بت پرستوں کے مقابلے میں وہ مسلمانوں سے زیادہ قریب ہیں، تاہم اگر زیادتی ان کی طرف سے ہو تو ترکی بہ ترکی جواب دینے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ یعنی معقول دلائل اور شائستہ زبان کے ساتھ ان کے انبیا اور ان کی کتابوں کا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے۔ یہی حکم اب بھی ہے (ابن جریر) نیز دیکھئے۔ ( سورة نمل :125) 6 ۔ یعنی اگر وہ صریح بےانصافی، ضد اور ہٹ دھرمی پر تل جائیں تو ان سے ان کے رویہ کے مطابق سختی کا برتائو بھی کرسکتے ہو۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ ان سے مراد مشرکین اہل کتاب ہیں۔ یا وہ جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا رسانی پر تلے رہتے تھے۔ بہرحال یہ آیت مکی ہے اس سے قتال ثابت نہیں ہوتا۔ (روح) 7 ۔ یعنی توراۃ، انجیل، زبور اور ان دوسرے صحیفوں پر جو تمہارے انبیا پر نازل ہوئے۔ ایک حدیث میں بھی اسی کی تلقین فرمائی گئی ہے : لاتصدقوا اھل الکتاب ولا تکذبومھم و قولوا امنا “ گویا یہ بھی ” وجادلھم بالتیھی احسن “ کی ایک صورت ہے۔ (تنبیہ) پہلی کتابوں کے متعلق اجمالی طور پر یہ تسلیم کرنا تو ضروری ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی ہیں، مگر عمل صرف قرآن و حدیث پر کیا جائے گا جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ ” اہل کتاب سے کوئی مسئلہ دریافت نہ کرو اس لئے کہ وہ خود گمراہ ہوگئے تمہیں ہرگز ہدایت نہ کریں گے “ پھر فرمایا :” اللہ کی قسم، اگر آج موسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی ان کو جواب ترکی بہ ترکی دینے کا مضائقہ نہیں، گو افضل جب بھی طریقہ احسن ہے۔ 5۔ کیونکہ مدار ایمان کا منزل من اللہ ہونا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین مکہ کے ساتھ اکثر اہل کتاب بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنے پر اتر آتے۔ اس لیے اہل کتاب کے بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خصوصی ہدایت دی گئی ہے۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں ! اگر تمہارے ساتھ اہل کتاب بحث و تکرار اور جھگڑا کرنے پر اتر آئیں تو تمہیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ان سے بحث و تکرار سے بچا جائے۔ اگر تکرار کی صورت ناگزیر ہو تو دلائل کی روشنی میں اچھے انداز میں بحث کرو، کیونکہ جن لوگوں نے کفر و شرک کا روّیہ اختیار کر رکھا ہے وہ بحث و تکرار کے ذریعے تمہیں الجھانا چاہتے ہیں۔ درحقیقت یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں۔ انہیں یہی کہنا کافی ہے کہ تم مانو یا نہ مانو ہم تو اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو تمہاری طرف نازل ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا الٰہ اور تمہارا الٰہ ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔ یعنی جو کچھ ہم کہتے اور کرتے ہیں وہ اسی کے حکم کے مطابق ہے۔ سمجھانا مقصود یہ ہے کہ جب ہم سب ایک الٰہ کے ماننے والے ہیں تو ہمیں آپس میں جھگڑنا نہیں چاہیے۔ اسی بات کی دوسرے انداز میں اہل کتاب کو یوں دعوت دی گئی ہے تاکہ شرک کے مقابلے میں توحید کے ماننے والے ایک ہوجائیں۔ (قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْءًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْھَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْن) [ آل عمران : ٦٤] ” آپ فرما دیں کہ اے اہل کتاب ! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے نہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں اور نہ تم اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ اور نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب بنائیں پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو آپ فرمادیں کہ گواہ رہنا ہم تو ماننے والے ہیں۔ “ (وَ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ) [ البقرۃ : ١٦٣] ” تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے ‘ اس نہایت رحم کرنے والے اور بڑے مہربان کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ مسائل ١۔ اہل کتاب سے بحث کرنا ناگزیر ہو تو اچھے انداز میں بحث کرنا چاہیے۔ ٢۔ مسلمان وہ ہے جو قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتا ہے۔ ٣۔ مسلمانوں اور اہل کتاب کا ایک ہی ” الٰہ “ ہے جس کی سب کو تابعداری کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن سب کا ایک ہی ” الٰہ “ ہے : ١۔ ” الٰہ “ ایک ہی ہے اس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ (البقرۃ : ١٦٣) ٢۔ ” الٰہ “ تمہارا ایک ہے لیکن آخرت کے منکر نہیں مانتے۔ (النحل : ٢٢) ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیں میں تمہاری طرح بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے۔ (الکہف : ١١٠) ٤۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمادیں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ صرف ایک ہی ہے۔ (الانبیاء : ١٠٨) ٥۔ تمہارا صرف ایک ہی الٰہ ہے اسی کے تابع ہوجاؤ۔ (الحج : ٣٤) ٦۔ ہمارا الٰہ اور تمہارا الٰہ صرف ایک ہی ہے۔ ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ (العنکبوت : ٤٦) ٧۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے جو میں تلاش کروں۔ (الاعراف : ١٤٠) ٨۔ یقیناً ” اللہ “ ہی ایک الٰہ ہے وہ اولاد سے پاک ہے آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کے لیے ہے (النساء۔ ١٧١) ٩۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور وہ اکیلا ہے ( المائدۃ : ٧٣) ١٠۔ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے وہ بڑا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ ( البقرۃ : ١٦٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل کتاب سے مجادلہ اور مباحثہ کرنے کا طریقہ ان آیات مبارکہ میں اللہ رب العزت نے اہل کتاب سے مباحثہ کرنے کے بارے میں نصیحت فرمائی ہے، ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ سے جب گفتگو کرنے کا موقع آجائے تو ان سے اچھے طریقے پر بحث کرو۔ یہود و نصاریٰ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے اور اب بھی مانتے ہیں، اور یہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے اس لیے ان سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور پیغمبروں کی رسالت کے بارے میں کوئی بحث کرنے کی ضرورت نہ تھی، البتہ خاتم الانبیاء والمرسلین جناب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے جو منکر تھے ان سے اس بارے میں بحث کرنے کی ضرورت تھی، اور ان لوگوں نے جو اپنے دین میں تحریف کرلی تھی اور اپنی کتابوں کو بدل دیا تھا اور یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنا دیا۔ ان کی اس گمراہی پر بھی تنبیہ کرنا ضروری تھا۔ یہودی پہلے سے مدینہ منورہ میں رہتے تھے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں سے واسطہ پڑا، ان سے دینی امور میں مباحثہ ہوتا رہتا تھا اور ایک مرتبہ نجران کے نصاریٰ بھی حاضر ہوئے ان سے بھی بحث ہوئی اور سورة آل عمران کے شروع کی تقریباً اسی آیات نازل ہوئیں جن میں مباہلہ کی دعوت بھی ہے جو آیت کریمہ (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَ اَبْنَآءَ کُمْ وَ نِسَآءَ نَا وَ نِسَآءَ کُمْ ) (الایہ) میں مذکور ہے۔ اہل مکہ مشرک تھے ان سے بھی بحث ہوتی رہتی تھی۔ سورة نحل میں تمام انسانوں سے دعوت حق کا خطاب کرنے کے لیے ارشاد فرمایا : (اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) اور یہاں سورة عنکبوت میں خصوصیت کے ساتھ اہل کتاب سے اچھے طریقے پر بحث کرنے کا حکم فرمایا ہے، اچھے طریقہ پر بحث کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سخت بات کا جواب نرمی کے ساتھ اور غصہ کا جواب بردباری کے ساتھ اور جاہلانہ شورو شغب کا جواب باوقار گفتگو کے ساتھ دیا جائے، حق کی تبلیغ ہو اور نرمی اور بردباری کے ساتھ ہو تو وہ زیادہ نافع ہوتی ہے، ہاں جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ لی ہو تو وہ خوش اخلاقی سے پیش آنے والے داعی کی بات بھی قبول نہیں کرتے لیکن داعی کو چاہیے کہ ہر حال میں حلم اور وقار، سنجیدگی اور نرمی پر قائم رہے مذکورہ بالا نصیحت کے ساتھ (اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) بھی فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ بےانصافی پر ہی اتر آئیں اور بھونڈے طریقہ پر گفتگو کرنے لگیں تو تم بھی انہیں ایسا جواب دے سکتے ہو جس سے ان کی بدتمیزی اور بیوقوفی کا کاٹ ہوتا ہو۔ صاحب روح المعانی نے حضرت مجاہد تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ الاَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ سے وہ اہل کتاب مراد ہیں جنہوں نے اللہ کے لیے بیٹا تجویز کیا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرایا یا جنہوں نے یوں کہا کہ (اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ) یا یوں کہا (یَدُاللّٰہِ مَغْلُوْلَۃٌ) ایسی باتیں سن کر مومن آدمی کو زیادہ غصہ آجاتا ہے، اس غصہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور عظمت ثابت کرتے ہوئے کوئی سخت بات نکل جائے تو اس کی گنجائش ہے۔ اس کے بعد فرمایا : (وَ قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بالَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ اِلٰھُنَا وَ اِلٰھُکُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ) (اور یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف نازل ہوا اور اس پر جو تمہاری طرف نازل ہوا اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں) اس خطاب میں اہل کتاب سے بات کرنے کا طریقہ بتایا ہے اور وہ یہ کہ تم اہل کتاب سے یوں کہو کہ ہم تو قرآن کریم پر بھی ایمان لاتے ہیں جو ہم پر نازل ہوا اور ان کتابوں پر بھی ایمان لاتے ہیں جو تم پر نازل ہوئیں یعنی تورات اور انجیل، اور ہمارا اور تمہارا معبود بھی ایک ہی ہے پھر تم دین اسلام سے دور کیوں بھاگتے ہو ؟ اگر تمہاری کتابوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب نہ مانتے اور ہمارا تمہارا معبود ایک نہ ہوتا تو اختلاف کرنے اور دور بھاگنے کی کوئی وجہ بھی تھی، جب کوئی وجہ اختلاف نہیں ہے تو آجاؤ اور جناب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لے آؤ، اختلاف ختم ہم تم ایک، جو کچھ انکار ہے تمہاری طرف سے ہے، اصحاب کتاب ہو کر اللہ کی آخری کتاب سے کیوں منہ موڑتے ہو ؟ دیکھو ہم تو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں تم بھی فرمانبردار ہوجاؤ اور اس کے آخری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آؤ۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ اہل کتاب تورات کو عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور مسلمانوں کے سامنے عربی میں اس کی تفسیر بیان کرتے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ (لا تصدقوا اھل الکتب ولا تکذبوھم وَ قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بالَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ اِلٰھُنَا وَ اِلٰھُکُمْ وَّاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ) (اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب کرو اور یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف نازل ہوا اور اس پر جو تمہاری طرف نازل ہوا اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں) جب ہمیں معلوم نہیں کہ وہ سچ کہہ رہے ہیں یا جھوٹ تو ان کی تکذیب یا تصدیق کیسے کرسکتے ہیں۔ بعض صحابہ (رض) نے یہود سے جو بعض روایات لی ہیں (اور تفسیر کی کتابوں میں بھی نقل ہوگئی ہیں) وہ صرف تاریخی حیثیت سے لے لی گئی ہیں احکام شرعیہ اور حلال و حرام میں ان کا اعتبار نہیں کیا گیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

37:۔ یہ طریق تبلیغ ہے۔ مشرکین مکہ کی طرح اگرچہ اہل کتاب بھی ایذاء رسانی میں پیش پیش ہیں لیکن پھر بھی تبلیغ میں نرمی اختیار کرو اور درشتی سے کام نہ لو۔ الا الذین ظلموا الخ البتہ ان میں جو ضد وعناد اور بےانصافی پر اتر آئیں اور نرمی کا ان پر کوئی اثر نہ ہو ان کے ساتھ ذرا سخت لہجہ اختیار کرلو تاکہ ان کے غرور و استکبار کا جواب ہوجائے۔ الا الذین ظلموا منھم بالافراد فی العتداء والعناد ولم یقلبوا النصح ولم ینفع فیھم الرفق فاستعملوا معہم الغلظۃ (روح ج 31 ص 2) ۔ یا استثناء منقطع ہے یعنی اگر آپ نرمی سے تبلیغ کریں گے تو اس سے وہ زیادہ متاثر ہوں گے۔ الا الذین ظلموا منہم البتہ ان میں سے جو ضدی اور بےانصاف ہیں وہ نہیں مانیں گے، قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ 38:۔ یہ تبلیغ کا طرق احسن ہے۔ اہل کتاب سے یوں کہو کہ ہم اس وحی پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہم پر نازل ہوئی اور اس پر بھی جو تم پر نازل ہوئی، ہمارا اور تمہارا معبود اور کارساز بھی ایک ہی ہے اور ہم تو اسی معبود برحق کے فرمانبردار ہیں۔ اس لیے اے اہل کتاب ! تم بھی اس کے پورے پورے فرمانبردار بن جاؤ اور اس کی آخری کتاب اور اس کے آخری پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آؤ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

46۔ اور تم لوگ اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ اور مناظرہ نہ کیا کرو مگر ہاں ایسے طریقے پر مباحثہ کرو جو طریقہ اچھا اور بہتر ہو لیکن وہ لوگ جو زیادتی کریں ان کی رعایت نہ کرنے میں مضائقہ نہیں اور اہل کتاب کے مقابلے میں یوں کہا کرو کہ ہم اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور ان کتابوں پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہیں اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار اور اسی کے حکم پر ہیں ۔ اہل کتاب کی حالت نسبتاً کفار مکہ سے بہتر تھی اہل کتاب پڑھے لکھے لوگ تھے آسمانی کتابوں کو جانتے تھے ان کا نام لیتے تھے پیغمبروں سے واقف ، توحید اور قیامت کو بھی سمجھتے تھے البتہ ان کی کتابوں میں جو تحریف وغیرہ ہوگئی تھی اس سے بگڑ گئے تھے اس لئے قرآن کا منشا یہ تھا کہ اہل کتاب سے گفتگو نرم کی جائے اور کم از کم متفقہ باتوں میں باہمی سمجھوتہ کر لیاجائے جیسا کہ آل عمران میں ذکر گزر چکا ہے۔ مشرکین مکہ نہ صرف جاہل تھے بلکہ ان کا مذہب ہی کچھ نہیں تھا چند خاندانی رسومات تھیں جن کو یکے بعد دیگرے کرتے چلے آ رہے تھے۔ ان کو حمیت جاہلتہ نے اور سخت کردیا تھا ، چناچہ اس لئے یہاں بھی یہ بات مسلمانوں کو سمجھائی گئی کہ مذہبی گفتگو میں اہل کتاب سے نرمی اور تہذیب سے گفتگو کی جائے اور اہل کتاب اور خالص مشرکین سے گفتگو میں فرق کیا جائے۔ البتہ ! اگر کوئی شخص ان میں بد کلام ہو اور جو لوگ غیر مہذب ہوں ان سے گفتگو کرنے میں ان کی درشتی پر تم بھی کوئی سخت بات کہہ دو تو مضائقہ نہیں اگرچہ اس کا ترک بھی افضل ہے اور سختی کا جواب بھی نرمی سے دیا جائے تو بہتر اور افضل ہے۔ آگے گفتگو کا طریقہ تعلیم فرمایا کہ ان سے کہو ہم تو قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور تمہارے پاس جو آسمانی کتابیں توریت اور انجیل وغیرہ ہیں ان کو بھی مانتے ہیں کہ بیشک جس وقت یہ نازل ہوئی تھیں اس وقت انہی پر عمل کرنے کی ضرورت تھی پھر یہ کہ ہمارا تمہارا معبود برحق ایک ہی ہے اس میں کوئی فرق نہیں اور ہم اسی کے حکم بردار ہیں اگر تم بھی اس کی حکم برداری کرنے لگو تو پھر ہم تم ایک ہی ہیں ۔ اہل کتاب کو اس طرح نرمی سے سمجھائو اسلام کا مقصد یہ تھا کہ اہل کتاب جو کفار مکہ سے زیادہ سمجھدار لوگ ہیں اگر اسلام میں داخل ہوجائیں تو مسلمانوں کی طاقت وزنی ہوجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مشرکوں کا دین جڑ سے غلط ہے اور کتاب والوں کا دین اصل میں سچ تھا تو ان سے ان کی طرح نہ جھگڑو کہ جڑ سے ان کی بات کاٹو نرمی سے واجبی بات سمجھائو مگر جو ان میں سے بےانصافی پر آوے اس کو سزا دینی ہے۔ 12 قرآن تبلیغ اور مباحثوں میں بھی انصاف اعتدال اور فرق مراتب کا لحاظ رکھتا ہے۔