Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 68

سورة العنكبوت

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہٗ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۸﴾

And who is more unjust than one who invents a lie about Allah or denies the truth when it has come to him? Is there not in Hell a [sufficient] residence for the disbelievers?

اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا؟ جو اللہ تعالٰی پر جھوٹ باندھے یا جب حق اس کے پاس آجائے وہ اسے جھٹلائے ، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہ ہوگا؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءهُ ... And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or denies the truth, when it comes to him! There is no one who will be more severely punished than one who tells lies about Allah and says that Allah revealed something to him at the time when Allah did not reveal anything to him, or says, `I shall reveal something like that which Allah revealed.' And there is no one who will be more severely punished than one who denies the truth when it comes to him, for the former is a fabricator and the latter is a disbeliever. Allah says: ... أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكَافِرِينَ Is there not a dwelling in Hell for the disbelievers! Then Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

681یعنی دعویٰ کرے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے درآں حالیکہ ایسا نہ ہو یا کوئی یہ کہے میں بھی وہ چیز اتار سکتا ہوں جو اللہ نے اتاری ہے۔ یہ تو سراسر جھوٹ ہے۔ 682یہ تکذیب ہے اور اس کا مرتکب مکذب ہے یہ دونوں کفر ہیں جس کی سزا جہنم ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٠] اللہ کے رسول نے اپنی رسالت کا دعویٰ کیا تو ان لوگوں نے اس کو جھٹلا دیا۔ اب اس کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ رسول نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا ہو اور اللہ پر جھوٹ باندھا ہو۔ تو وہ سب سے زیادہ ظالم ہوا۔ اور اگر وہ سچا ہو اور فی الواقعہ اللہ نے اسے رسول بنایا ہو لیکن یہ لوگ اسے جھٹلا دیں۔ تو یہ سب سے زیادہ ظالم ہوئے۔ اب جو بھی ظالم ہوگا اسے بہرحال دوزخ کا عذاب بھگتنا ہوگا۔ آگے یہ لوگ اپنا انجام خوب ہوتا سمجھ لیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا ۔۔ : ” ظلم “ کا معنی اندھیرا ہے کہ کسی کا حق دوسرے کو دے دینا، کیونکہ اندھیرے میں آدمی کسی چیز کو اس کی اصل جگہ نہیں رکھ سکتا۔ آدمی پر سب سے بڑا حق اللہ تعالیٰ کا ہے، کیونکہ اس نے اسے پیدا فرمایا۔ اس لیے سب سے بڑا انصاف اللہ کی توحید اور اس اکیلے کی عبادت ہے اور سب سے بڑا ظلم اور بےانصافی اس کے ساتھ کسی کو شریک بنانا اور اس شریک کی عبادت کرنا ہے، جو صرف اللہ تعالیٰ کا حق تھا۔ اس لیے فرمایا، اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اس کے لیے شریک بنائے ؟ اسی طرح جب تک کسی شخص کے پاس حق نہ پہنچے اس کے لیے عذر معذرت کی گنجائش نکل سکتی ہے، مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تشریف لانے اور حق پہنچ جانے کے بعد جو شخص حق کو جھٹلا دے اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟ مقصد یہ ہے کہ ان دونوں سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ : ” لِّلْكٰفِرِيْنَ “ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ” ان کافروں کے لیے “ کیا گیا ہے، یعنی کیا ان کافروں کے لیے جو اللہ پر جھوٹ باندھتے اور حق آجانے کے بعد اسے جھٹلا دیتے ہیں جہنم میں کوئی جگہ نہیں ہے ؟ یعنی یقیناً ان کے رہنے کی جگہ جہنم ہی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللہِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَہٗ۝ ٠ۭ اَلَيْسَ فِيْ جَہَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ۝ ٦٨ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، ( ف ری ) القری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جھوٹ شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام «1» ، وقال أبو مسلم : كهنّام «2» ، والله أعلم . ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ ثوی الثَّوَاء : الإقامة مع الاستقرار، يقال : ثَوَى يَثْوِي ثَوَاءً ، قال عزّ وجلّ : وَما كُنْتَ ثاوِياً فِي أَهْلِ مَدْيَنَ [ القصص/ 45] ، وقال : أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوىً لِلْمُتَكَبِّرِينَ [ الزمر/ 60] ، قال اللہ تعالی: فَالنَّارُ مَثْوىً لَهُمْ [ فصلت/ 24] ، ادْخُلُوا أَبْوابَ جَهَنَّمَ خالِدِينَ فِيها فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ [ الزمر/ 72] ، وقال : النَّارُ مَثْواكُمْ [ الأنعام/ 128] ، وقیل : من أمّ مثواک «3» ؟ كناية عمّن نزل به ضيف، والثَّوِيَّة : مأوى الغنم، ( ث و ی ) الثواء ( ص) کے اصل معنی کسی جگہ پر مستقل طور پر اقامت کرنا کے ہیں کہا جاتا ہے ثویٰ یثویٰ ثواء وہ اقامت پذیر ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَما كُنْتَ ثاوِياً فِي أَهْلِ مَدْيَنَ [ القصص/ 45] اور نہ تم مدین والوں میں رہ رہے تھے ۔ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوىً لِلْمُتَكَبِّرِينَ [ الزمر/ 60] کیا غرور والوں کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہے ۔ فَالنَّارُ مَثْوىً لَهُمْ [ فصلت/ 24] اور انکا ٹھکانا دوزخ ہے ۔ ادْخُلُوا أَبْوابَ جَهَنَّمَ خالِدِينَ فِيها فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ [ الزمر/ 72]( اب ) جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ۔ ہمیشہ اسی میں رہو گے ۔ متکبروں کا کیسا برا ٹھکانا ہے ۔ النَّارُ مَثْواكُمْ [ الأنعام/ 128] خدا فرمائے گا ( اب ) تمہارا ٹھکانا درزخ ہے ۔ من ام مثواک ( کنایہ ) تمہارا میز بان کو ن ہے ۔ الثویۃ بھیڑ بکریوں کے باڑہ کو کہتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اس شخص سے زائد کون ناانصاف اور بدتمیز ہوگا جو بےدلیل ہی اللہ کی تکذیب کرے کہ اس کے اولاد ہے اور وہ شریک رکھتا ہے اور جب سچی بات اس کے پاس پہنچے تو وہ اس کو جھٹلائے۔ کیا ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جہنم میں ٹھکانا نہ ہوگا اور جو ہماری اطاعت و فرمانبرداری میں کوشش کرتے ہیں تو ہم اپنے قرب وثواب کے رستے ان کو ضرور دکھائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٨ (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہٗ ط) ” کوئی چیز خود گھڑ کر اللہ سے منسوب کرنا اور حق کو پہچان کر جھٹلادینا دونوں برابر کے جرم ہیں۔ گویا یہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہلوایا جا رہا ہے کہ اے گروہ مشرکین ! دیکھو ‘ اگر میں یہ کلام خود گھڑ کر اسے اللہ سے منسوب کر رہا ہوں تو مجھ سے بڑا کوئی ظالم نہیں (معاذ اللہ ! ) اور اگر یہ واقعتا اللہ کا کلام ہے اور اسے میں نے تم لوگوں تک پہنچا دیا ہے اور اس کے بعد تم لوگ اس کی تکذیب کر رہے ہو تو پھر تم سے بڑا ظالم کوئی اور نہیں ہے۔ (اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ ) ” اب آخری آیت میں بڑے تاکیدی انداز میں پھر سے اہل ایمان کی دلجوئی فرمائی گئی ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

106 That is, "The Prophet has made a claim to Prophethood, and you have denied him. Now there can be only two alternatives: If the Prophet has made a false claim in the name of Allah, there can be no one more wicked than he, and if you have belied a true Prophet, there can be no one more wicked than you."

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 106 یعنی نبی نے دعوائے رسالت کیا ہے اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے ۔ اب معاملہ دو حال سے خالی نہیں ۔ اگر نبی نے اللہ کا نام لے کر جھوٹا دعوی کیا ہے تو اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں ۔ اور اگر تم نے سچے نبی کی تکذیب کی ہے تو پھر تم سے بڑا ظالم کوئی نہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:68) افتری۔ ماضی واحد مذکر غائب افتری یفتری افتراء (افتعال) سے۔ دروغ بانی کرنا۔ بہتان تراشی کرنا۔ جھوٹ باندھنا من افتری علی اللہ کذبا۔ جس نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا۔ نری مادہ۔ کذب۔ ماضی واحد مذکر غائب اس نے جھٹلایا۔ اس نے انکار کیا۔ کذب بالامر۔ کسی چیز سے انکار کرنا۔ کذب بایات ربہ اس نے اپنے پروردگار کی آیات کا انکار کیا۔ مثوی۔ ظرف مکان۔ مثاوی جمع۔ ٹھکانا۔ دراز مدت کے لئے ٹھیرنے کا موام۔ فرودگاہ۔ ثوی یثوی ثوی۔ ضرب سے مصدر

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ بےانصافی ظاہر ہے کہ بلا دلیل بات کی تو تصدیق کرے اور دلیل والی بات کی تکذیب۔ 8۔ یعنی ضرور ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومن اظلم ۔۔۔۔۔ مثوی للکفرین (29: 68) اور اہل مکہ اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ہے کہ اللہ نے خود اپنے ساتھ شریک ٹھہرائے ہیں اور ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے تکذیب کردی ہے۔ آخر جہنم کے ٹھکانے کے سوا ایسے لوگ اور کس مقام کے مستحق ہیں۔ اور ان کے پاس حق آگیا اور انہوں نے تکذیب کردی ہے۔ آخر جہنم کے ٹھکانے کے سوا ایسے لوگ اور کسی مقام کے مستحق ہیں۔ یقیناً ایسے لوگ جہنم کے مستحق ہیں۔ سورة کا خاتمہ کفار کے فریق مقابل کی تصویر کشی پر ہوتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہوں میں جدوجہد کی تاکہ وہ اللہ تک پہنچ جائیں۔ ان کا رابطہ اللہ سے ہوجائے۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں ناقابل برداشت مصائب جھیلنے کے باوجود نہ اپنا عہد توڑا اور نہ مایوس ہوئے۔ جنہوں نے نفس کی خواہشات پر قابو پایا اور لوگوں کے تشدد کو بھی برداشت کیا۔ جنہوں نے اپنے بوجھ اپنائے اور ان بھارتی بوجھوں کے ساتھ اس طویل سفر پر چل پڑے ، جو طویل بھی تھا اور پر مشقت بھی۔ ایسے لوگوں کو اللہ اس سفر میں تنہا نہیں چھوڑتا اور نہ ان کے ایمان کو ضائع کرتا ہے اور نہ ان کی اس جہدوجہد کو بھولتا ہے۔ اللہ اپنے عرش بریں سے ان کو دیکھ رہا ہے اور ان سے بہت ہی راضی ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے اور قدم قدم پر ان کی راہنمائی کرتا ہے۔ وہ ان کی کوششوں کو دیکھے گا اور ان کے ہاتھ پکڑ کر ان کو صحیح راہ پر ڈال دے گا۔ ان کو صبر اور ان کی پاکیزگی کو دیکھا جا رہا ہے وہ بہت ہی اچھی جزاء دینے والا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مشرکین کا یہ کہنا کہ اللہ کے لیے شریک ہے، یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت ہے اور افتراء ہے، اسی کو یہاں فرمایا ہے (وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہٗ ) (اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق آجانے پر اس کو جھٹلائے) (اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ ) (کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے) یہ استفہام تقریری ہے مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اس کو استفہام کی صورت میں بیان کیا تاکہ خوب سوچ لیں اور اپنا انجام اور واقعی واصلی ٹھکانہ جان لیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

57:۔ یہ مشرکین ایسے ظالم اور بےانصاف ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کے باوجود اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ اور یہ سب سے بڑے ظالم ہیں کیونکہ جو شخص اللہ پر افتراء کرے کہ اس کا کوئی شریک ہے یا اللہ کے رسول اور اس کی کتاب کا انکار کرے وہ سب سے بڑا بےانصاف ہے۔ افتری علی اللہ کذبا بان زعم ان لہ شریکا۔ ام کذب بالحق ای بالرسول او بالقران (ابو السعود ج 6 ص 705) ۔ 58:۔ استفہام انکاری ہے، ہمزہ انکار اگر مثبت پر آئے تو مراد نفی ہوگی اور اگر منفی پر آئے تو مراد اثبات ہوگا۔ یہاں منفی پر داخل ہے اس لیے مراد اثبات ہوگا۔ یعنی کافروں کا ٹھکانا یقینا جہنم میں ہوگا۔ ھذا تقرر لثوائہم فی جہنم لان ہمزۃ الانکار اذا ادخلت علی النفی صار ایجابا (مدارک ج 3 ص 202) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

68۔ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور ناانصاف کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب سچی بات اس کو پہنچ جائے اور اس کے پاس آجائے تو اس سچی بات کی تکذیب کرے کیا ایسے کافروں کا آخری ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا ۔ یعنی بےدلیل اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا کرے اور کہے کہ وہ شریک رکھتا ہے اور سچی بات جو مدلل اور مع الدلیل آئے اس کو جھٹلائے اور اس کی تکذیب کرے ، تو واقعی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے اور ایسے ظالموں کا جہنم کے سوا ٹھکانہ بھی کہاں ہوسکتا ہے۔