Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 118

سورة آل عمران

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ۚ ۖ وَ مَا تُخۡفِیۡ صُدُوۡرُہُمۡ اَکۡبَرُ ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾

O you who have believed, do not take as intimates those other than yourselves, for they will not spare you [any] ruin. They wish you would have hardship. Hatred has already appeared from their mouths, and what their breasts conceal is greater. We have certainly made clear to you the signs, if you will use reason.

اے ایمان والو! تم اپنا دلی دوست ایمان والوں کے سوا اور کسی کو نہ بناؤ ۔ ( تم تو ) نہیں دیکھتے دوسرے لوگ تمہاری تباہی میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے وہ چاہتے ہیں کہ تم دکھ میں پڑو ، ان کی عداوت تو خود ان کی زبان سے بھی ظاہر ہوچکی ہے اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ بہت زیادہ ہے ہم نے تمہارے لئے آیتیں بیان کردیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Prohibition of Taking Advisors From Among the Disbelievers Allah said, يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ ... O you who believe! Take not as (your) Bitanah those other than your own, Allah forbids His believing servants from taking the hypocrites as advisors, so that the hypocrites do not have the opportunity to expose the secrets of the believers and their plans against their enemies. The hypocrites try their very best to confuse, oppose and harm the believers any way they can, and by using any wicked, evil means at their disposal. They wish the very worst and difficult conditions for the believers. Allah said, لااَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ (Take not as (your) Bitanah those other than your own), in reference to taking followers of other religions as consultants and advisors, for advisors of a certain person have access to his most secret affairs. Al-Bukhari and An-Nasa'i recorded that, Abu Sa`id said that the Messenger of Allah said, مَا بَعَثَ اللهُ مِنْ نَبِيَ وَلاَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلاَّ كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالسُّوءِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ الله Allah has not sent any Prophet nor was there any Khalifah but they have two types of advisors, one that commands him with righteousness and advises it, and another that commands him with evil and advises him with it. Only those whom Allah gives immunity are immune. Ibn Abi Hatim reported that Ibn Abi Ad-Dahqanah said, "Umar bin Al-Khattab was told, `There is young man here from the people of Hirah (in Iraq, who were Christians) who is a proficient scribe. Why do you not appoint him as a scribe?' Umar said, `I would then be taking advisors from among the disbelievers."' This Ayah and the story about Umar testify to the fact that Muslims are not allowed to use Ahl Adh-Dhimmah to be scribes in matters that affect the affairs of Muslims and expose their secrets, for they might convey these secrets to combatant disbelievers. This is why Allah said, ... لااَ يَأْلُونَكُمْ خَبَالااً وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ ... since they will not fail to do their best to corrupt you. They desire to harm you severely. Allah then said, ... قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ... Hatred has already appeared from their mouths, but what their breasts conceal is far worse. meaning, enmity appears on their faces and in what they sometimes utter, as well as, the enmity they have against Islam and its people in their hearts. Since this fact is apparent to every person who has sound comprehension, therefore, ... قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الايَاتِ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ Indeed We have made plain to you the Ayat if you understand. Allah said next,

کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہو جانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا بطانہ کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور من دو نکم سے مراد جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو بطانہ مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری کرنے والا اور اس پر آمادہ کرنے والا بس اللہ جسے بچائے وہی بچ سکتا ہے ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا محرر اور منشی مقرر کرلیں آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے ، اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہئے ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ انکی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے ، ازہر بن راشد کہتے ہیں کہ لوگ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیثیں سنتے تھے اگر کسی حدیث کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تو حضرت حسن بصری سے جا کر مطلب حل کر لیتے تھے ایک دن حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ مشرکوں کی آگ سے روشنی طلب نہ کرو اور اپنی انگوٹھی میں عربی نقش نہ کرو انہوں نے آکر حسن بصری سے اس کی تشریح دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ پچھلے جملہ کا تو یہ مطلب ہے کہ انگوٹھی پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھدواؤ اور پہلے جملہ کا یہ مطلب ہے کہ مشرکوں سے اپنے کاموں میں مشورہ نہ لو ، دیکھو کتاب اللہ میں بھی ہے کہ ایمان دارو اپنے سوا دوسروں کو ہمراز نہ بناؤ لیکن حسن بصری کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ ، چنانچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے یہ اس لئے تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی بستی کے پاس نہ رہو اس کے پڑوس سے دور رہو ان کے شہروں سے ہجرت کر جاؤ جیسے ابو داؤد میں ہے کہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے پھر فرمایا ان کی باتوں سے بھی ان کی عداوت ٹپک رہی ہے ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کر سکتا ہے پھر جو ان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ تو تم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے تو صاف صاف بیان کر دیا ہے عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے پھر فرمایا دیکھو کتنی کمزوری کی بات ہے کہ تم ان سے محبت رکھو اور وہ تمہیں نہ چاہیں ، تمہارا ایمان کل کتاب پر ہو اور یہ شک شبہ میں ہی پڑے ہوئے ہیں ان کی کتاب کو تم تو مانو لیکن یہ تمہاری کتاب کا انکار کریں تو چاہئے تو یہ تھا کہ تم خود انہیں کڑی نظروں سے دیکھتے لیکن برخلاف اس کے یہ تمہاری عداوت کی آگ میں جل رہے ہیں ۔ سامنا ہو جائے تو اپنی ایمانداری کی داستان بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن جب ذرا الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب سے جلن اور حسد سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں پس مسلمانوں کو بھی ان کی ظاہرداری سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے یہ چاہے جلتے بھنتے رہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ترقی دیتا رہے گا مسلمان دن رات ہر حیثیت میں بڑھتے ہی رہیں گے گو وہ مارے غصے کے مر جائیں ۔ اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے بخوبی واقف ہے ان کے تمام منصوبوں پر خاک پڑے گی یہ اپنی شرارتوں میں کامیاب نہ ہوسکیں گے اپنی چاہت کے خلاف مسلمانوں کی دن دوگنی ترقی دیکھیں گے اور آخرت میں بھی انہیں نعمتوں والی جنت حاصل کرتے دیکھیں گے برخلاف ان کے یہ خود یہاں بھی رسوا ہوں گے اور وہاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے ، ان کی شدت عداوت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے کہ جہاں تمہیں کوئی نفع پہنچتا ہے یہ کلیجہ مسوسنے لگے اور اگر ( اللہ نہ کرے ) تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے لگتے ہیں ، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد ہوئی یہ کفار پر غالب آئے انہیں غنیمت کا مال ملا یہ تعداد میں بڑھ گے تو وہ جل بجھے اور اگر مسلمانوں پر تنگی آگئی یا دشمنوں میں گھر گئے تو ان کے ہاں عید منائی جانے لگی ۔ اب اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان شریروں کی شرارت اور ان بدبختوں کے مکر سے اگر نجات چاہتے ہو تو صبرو تقویٰ اور توکل کرو اللہ عزوجل خود تمہارے دشمنوں کو گھیر لے گا کسی بھلائی کے حاصل کرنے کسی برائی سے بچنے کی کسی میں طاقت نہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہو سکتا جو اس پر توکل کرے اسے وہ کافی ہے ۔ اسی مناسبت سے اب جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے جس پر مسلمانوں کے صبرو تحمل کا بیان ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کا پورا نقشہ ہے اور جس میں مومن و منافق کی ظاہری تمیز ہے سنئے ارشاد ہوتا ہے

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

118۔ 1 یہ مضمون پہلے بھی گزر چکا ہے۔ یہاں اس کی اہمیت کے پیش نظر پھر دہرایا جا رہا ہے۔ بطانتہ، دلی دوست اور رازدار کو کہا جاتا ہے۔ کافر اور مشرک مسلمانوں کے بارے میں جو جذبات و عزائم رکھتے ہیں، ان میں سے جن کا وہ اظہار کرتے اور جنہیں اپنے سینوں میں مخفی رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سب کی نشاندہی فرما دی ہے یہ اور اس قسم کی دیگر آیات کے پیش نظر ہی علماء و فقہا نے تحریر کیا ہے کہ ایک اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کو کلیدی مناصب پر فائز کرنا جائز نہیں ہے۔ مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے ایک (غیر مسلم) کو کاتب (سیکرٹری) رکھ لیا، حضرت عمر (رض) کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے انہیں سختی سے ڈانٹا اور فرمایا کہ ' تم انہیں اپنے قریب نہ کرو جب کہ اللہ نے انہیں دور کردیا ہے ان کو عزت نہ بخشو جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کردیا ہے اور انہیں راز دار مت بناؤ جب کہ اللہ نے انہیں بددیانت قرار دیا ہے ـ' حضرت عمر (رض) نے اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا۔ امام قرطبی فرماتے ہیں اس زمانے میں اہل کتاب کو سیکرٹری اور امین بنانے کی وجہ سے احوال بدل گئے ہیں اور اس وجہ سے غبی لوگ سردار اور امرا بن گئے (تفسیر قرطبی) ۔ بدقسمتی سے آج کے اسلامی ممالک میں بھی قرآن کریم کے اس نہایت اہم حکم کو اہمیت نہیں دی جا رہی ہے اور اس کے برعکس غیر مسلم بڑے بڑے اہم عہدوں اور کلیدی مناصب پر فائز ہیں جن کے نقصانات واضح ہیں۔ اگر اسلامی ممالک اپنی داخلی اور خارجی دونوں پالیسیوں میں اس حکم کی رعایت کریں تو یقینا بہت سے مفاسد اور نقصانات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ 118۔ 2 لایألون، کوتاہی اور کمی نہیں کریں گے خبالا کے معنی فساد اور ہلاکت کے ہیں ماعنتم (جس سے تم مشقت اور تکلیف میں پڑو) عنت بمعنی مَشَقَّۃ

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٦] یہ خطاب دراصل انہیں انصار مدینہ سے ہے۔ ان کے دو بڑے قبیلے اوس و خزرج مدینہ میں آباد تھے۔ اسلام سے پہلے ان قبائل کی آپس میں ٹھنی رہتی تھی اور مدینہ کے یہودی بھی تین قبائل میں منقسم تھے۔ یہودیوں کا کام یہ تھا کہ ان کا ایک قبیلہ اوس کا حلیف بن جاتا اور دوسرا خزرج کا اور اس طرح اوس و خزرج کو آپس میں لڑاتے رہتے تھے اور اس طرح کئی طرح کے مفادات حاصل کرتے تھے۔ مثلاً ایک یہ کہ ان کے ہتھیار فروخت ہوجاتے تھے۔ دوسرے یہ کہ اپنی قلت تعداد کے باوجود انصار مدینہ پر اپنی بالا دستی قائم رکھتے اور ان کی معیشت و سیاست پر چھائے ہوئے تھے۔ جب اوس و خزرج کے قبیلے مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد بھی وہ یہودیوں کے ساتھ وہی پرانے تعلقات نباہتے رہے اور اپنے سابق یہودی دوستوں سے اسی سابقہ ئمحبت و خلوص سے ملتے رہے۔ لیکن یہودیوں کو آپ اور آپ کے مشن سے جو بغض وعناد تھا اس کی بنا پر وہ کسی مسلمان سے مخلصانہ محبت رکھنے کو تیار نہ تھے۔ انہوں نے منافقانہ روش اختیار کر رکھی تھی۔ ظاہر میں تو وہ انصار سے دوستی کا دم بھرتے تھے۔ مگر دل میں ان کے سخت دشمن بن چکے تھے۔ اس ظاہری دوستی سے وہ دو قسم کے فوائد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ایک یہ کہ کسی طرح مسلمانوں میں فتنہ و فساد پیدا کردیں جیسا کہ شماس بن قیس یہودی نے کیا بھی تھا اور دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے جماعتی راز ان کے دشمنوں تک پہنچائیں۔ انہی وجوہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کسی بھی غیر مسلم سے دوستی گانٹھنے اور اسے اپنا راز دار بنانے سے روک دیا اور یہود کے بغض وعناد کا تو یہ حال تھا کہ بسا اوقات ان کی زبان سے کوئی ایسی بات نکل جاتی تھی جو ان کی مسلمانوں سے گہری دشمنی کا پتا دے جاتی تھی اور حسد اور دشمنی کے بارے میں ان کی زبان قابو میں نہیں رہتی تھی۔ اور جو ان کے دلوں میں کدورت بھری ہوئی تھی وہ تو اس سے بہت بڑھ کر تھی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم سوچو تو ان کی دوستی میں تمہیں سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔ لہذا کافروں سے دوستی رکھنے سے بہرحال تمہیں اجتناب کرنا چاہئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

بِطَانَةً : پوشیدہ چیز اور وہ کپڑا جو اوپر والے کپڑے کے نیچے جسم کے ساتھ ملا ہوتا ہے، مراد دلی دوست، خاص راز دار۔ یہ باب ” نَصَرَ “ سے مصدر ہے، واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ ” مِّنْ دُوْنِكُمْ “ ( اپنے مخلص مسلمانوں کے سوا) اس کا تعلق ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِيْعُوْا فَرِيْقًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ يَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ كٰفِرِيْنَ ) [ آل عمران : ١٠٠ ] سے ہے اور اس میں کفار کی طرف میلان اور ان کی دوستی سے منع فرمایا گیا ہے۔ ابن ابی حاتم نے حسن سند کے ساتھ ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے : ” مسلمانوں میں سے کچھ آدمی یہودیوں سے میل جول اور تعلقات رکھتے تھے۔ کیونکہ اسلام سے پہلے وہ آپس میں ہمسائے اور حلیف تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کر کے انھیں اپنے اندرونی راز داں اور دلی دوست بنانے سے منع فرما دیا۔ کیونکہ اس میں ( راز افشا ہونے اور) ان کی طرف سے فتنے کا شدید خطرہ تھا۔ “ ابن ابی حاتم ہی نے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ عمر بن خطاب (رض) سے کہا گیا کہ اہل حیرہ سے ایک نوجوان محفوظ رکھنے والا کاتب ہے، آپ اسے کاتب (سیکرٹری) رکھ لیں۔ فرمایا : ” پھر تو میں مومنوں کے سوا ” بطانۃ “ (راز دار) بنانے والا ہوں گا۔ “ [ ابن أبی حاتم : ٣؍١٤٧، ح : ٤٠٨٧ ] ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں : ” میں نے عمر (رض) سے کہا، میرے پاس ایک نصرانی کاتب ہے۔ “ انھوں نے فرمایا : ” اللہ تجھے مارے، یہ تم نے کیا کیا ؟ کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا : ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ ۘبَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ ) [ المائدۃ : ٥١ ] ” تم نے کسی مسلمان کو کیوں نہیں رکھا ؟ “ میں نے عرض کی : ” اے امیر المومنین ! مجھے اس کی کتابت سے غرض ہے، اس کا دین اس کے لیے ہے۔ “ عمر (رض) نے فرمایا : ” جب اللہ نے انھیں رسوا کردیا ہے تو میں ان کی تکریم نہیں کرسکتا، جب اللہ نے انھیں ذلیل کیا ہے تو میں انھیں عزت نہیں دے سکتا، جب اللہ نے انھیں دور کردیا ہے، تو میں انھیں قریب نہیں کرسکتا۔ “ [ السنن الکبریٰ للبیہقی : ١٠؍١٢٧، ح : ٢٠٤٠٩ ] ” مِّنْ دُوْنِكُم “ (اپنے سوا) کے الفاظ عام ہیں اور یہود و نصاریٰ ، منافقین اور مشرکین سبھی ” مِّنْ دُوْنِكُم “ میں داخل ہیں، اس لیے انتظامی امور میں کسی منافق یا غیر مسلم (ذمی) کو متعین کرنا ممنوع ہے۔ کیونکہ اس سے مسلمانوں کے راز فاش ہونے کا خطرہ ہے۔ بلکہ مسلمان کے لیے مشرکین کے ملک میں رہنا بھی درست نہیں۔ دیکھیے سورة نساء (٩٧، ٩٨) افسوس کہ اس وقت مسلمان ملکوں کے حکمرانوں نے اللہ کے اس حکم کو پس پشت ڈال رکھا ہے اور غیر مسلم ان کے کلیدی عہدوں پر فائز اور تقریباً تمام اہم رازوں سے آگاہ ہیں، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا : ” أَلاَ یَأْلُوْ “ (ن) کمی کرنا، کوتاہی کرنا۔ ” خَبَالًا “ خرابی ڈالنا، نقصان پہنچانا۔ ” مَا عَنِتُّمْ “ عَنَتٌ مشقت، تکلیف، یعنی ” جس سے تم تکلیف میں پڑو۔ “ دلی دوست نہ بنانے کے حکم کی وجہ کی طرف اشارہ ہے، یعنی اگرچہ یہ لوگ اپنی منافقت کی بنا پر تم سے ایسی باتیں نہیں کرنا چاہتے جن سے تمہیں ان کی اسلام دشمنی کا پتا چل سکے، مگر شدید عداوت کی وجہ سے ان کی زبان پر ایسے الفاظ آ ہی جاتے ہیں، جن سے تم اندازہ کرسکتے ہو کہ یہ تمہارے خیر خواہ نہیں بلکہ بدترین دشمن ہیں اور تمہارے خلاف جو جذبات اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں، وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ قَدْ بَيَّنَّا۔۔ : یعنی کفار سے دوستی نہ کرنے کے سلسلہ میں یہودیوں اور منافقین کے بغض و عناد اور ان کے دلی حسد سے متعلق ہم نے پتے کی باتیں خوب کھول کر بیان کردی ہیں۔ اب غور و فکر کرنا تمہارا کام ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary These verses were revealed in a particular background. There were Jewish settlements around Madinah. They had old friendly ties with the tribes of Aws and Khazraj. Individuals from these tribes were also on friendly terms with other individuals from the Jewish settlements. In their tribal capacity too, Aws and Khazraj were to the Jews their neighbours and allies. When these two tribes embraced Islam, they continued to maintain their old ties with them. Individuals from these tribes saw no problems in meeting their old Jewish friends with the same love and sincerity. But, Jews were so hostile to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the religion brought by him that they were unwilling to be sincere and loving to anyone who had said yes to the prophetic call and had embraced Islam. So, they outwardly went along with the same old relationships with&the Ansars of Madinah, but inwardly they had turned into their enemies. The apparent friendship they had allowed to remain became their cover which they utilized in their sinster efforts to foment trouble among Muslims so that their unity could be disintegrated. They even went to the limit of banking on this feigned friendship with Muslims to find out their organizational secrets and pass them on to the enemies. It is this hypocritical behaviour of theirs which Allah Almighty has asked Muslims to guard against. We have been given an important rule of conduct when it was said: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ 0 those who believe, do not take anyone as insider but from your own selves. The word, بِطَانَةً bitanah used here means a friend, confidant, one with whom secrets are shared. The lining or inside part of a dress which stays close to the body is also known as بِطَانَةً bitanah. Derived from بِطَنَ batn (inside), it is used in everything opposed to ظھر zahr (outside). That which is outside is ظھر zahr and that which is inside is بِطَنَ batn. In garments, the outer part is ظھارہ ziharah and the inner part touching the body such as a lining is called بِطَانَةً bitanah. [ There is an expression in English - &hand in glove&- which comes close to this sense, even if partly. It means &to be on very intimate terms&.] Similarly, the expression, bitanatu-th&thawb (بِطَانَةً الثوب) lends the meta¬phor of friend, confidant, one who comes to know internal secrets and that is how the word, بِطَانَةً bitanah is used to carry that sense. The well-known, and quite reliable lexicon of Arabic, لسان العرب Lisan al-Arab explains بِطَانَةً bitanah as follows: بظانۃ الرجل صاحب سرہ و داخلۃ امرہ الذی یش اورہ فی احوالہ It means that a person&s بِطَانَةً bitanah is one who knows his secrets, has access to his affairs in which he seeks his advice. Raghib al-Isfahani (رح) in his Mufradat and al-Qurtubi (رح) in his Tafsir have given the same meaning. (The word, بِطَانَةً &bitanah&, translated here as &insider& is an effort to cover some of these important shades of meaning.) So, it has been enjoined upon Muslims through this verse that they should not take persons other than those from their own community as confidants and advisers, in a way that leads one into spilling the sensi¬tive secrets of one&s own government, community or state. No doubt, under the shade of its universal mercy, Islam has given unusual instructions to Muslims in order that they treat non-Muslims with compassion, goodwill, beneficence, kindliness and tolerance, and not leaving it at that, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has put these in actual practice in all affairs concerning non-Muslims. But, at the same time, and in perfect wisdom, binding instructions were given so as to make sure that the organized body of Muslims and its particular hall-marks stay protected. A Muslim cannot be permitted to go beyond a certain limit when developing or promoting relations (unilateral, bi¬lateral or multi-lateral) with those who disbelieve in or practice hostility against the Law of Islam. This is so because such an action throws the doors of harm and danger open both for the individuals and the community. This arrangement is clear, reasonable, appropriate, and very necessary to give secure frontiers to the individuals as well as to the Muslim state. About non-Muslims resident in Islamic states or those tied with Muslims through a treaty, the teachings of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his most emphatic instructions for their protection are all part of the Islamic law. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: من آذی ذمیا فانا خصمہ و من کنت خصمہ خصمتہ یوم القیامہ Whoever harms a Dhimmi (protected non-Muslim), I shall be his opponent on the Day of Judgment and I always defeat the one whom I oppose. (Reported by Ibn Masud) In another hadith, he said : منعنی رَبِّی ان اظلم معاھدا ولا غیرہ My Lord has prohibited me to wrong the one protected by a treaty, or anyone other than him. (narrated by Sayyidna ` AIi (رض) ) In yet another hadith, he said: الا من ظلم معاھداً او انتقصہ او کلفہ فوق طاقتہ او اخذ منہ شیٔاً بغیر طیب نفس منہ فَاَنَا حجیجہ یوم القیامہ Beware, whoever wrongs a non-Muslim protected by treaty, or usurps his right, or obligates him to do what is beyond his power, or takes from him something without his genuine consent, then, I shall be the advocate for him (the said non-Muslim) on the Day of Judgment. Side by side with these concessions and considerations for non-Muslims, instructions were given to Muslims that they should protect their distinct group cohesion by not trusting enemies of Islam and Muslims with their secrets. Ibn Abi Hatim (رض) narrates that Sayyidna ` Umar ibn Al-Khattab (رض) was asked to appoint a young non-Muslim as the chief manager and scribe in his office since he was very good at that. Thereupon, he said: قد اتخذت اذا بطانۃ من دون المؤمنین If I were to take him in, in that case, I will be taking an insider from among non-Muslims (which is against the Qur&anic authority). Imam al-Qurtubi (رح) ، famous scholar and commentator of the fifth century says, with marked pensive longing, that contravention of this teaching of the Qur&an has produced evil results for Muslims: وقد انقلبت الاحوال فی ھذہ الازمان باتخاذ اھل الکتب کتبۃ و امنآء و تسودوا بذلک عند جھلۃ الاغنیاء من الولاۃ و الاُمرآء Things have so changed these days that Jews and Christians were trusted with secrets and considered trustworthy through which they were able to prevail over the ignorant rich, the rulers and the chiefs. Even today, in a state established under a particular ideology, a person who does not subscribe to this ideology cannot be admitted into the inner echelons of power as a confidant. In Russia and China, a person who does not believe in communism is not given any respon¬sible office or, farther still, trusted with state secrets. A close study of the decline of Muslim states would reveal several reasons behind it. One of the oft-repeated ones will be that Muslims had entrusted their sensitive affairs in the hands of non-Muslim confidants. This policy was an active factor in the decline of the Ottoman Caliphate as well. The reason why this command has been given is explained soon after. Starting from لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا (they would spare no effort to do you mischief) and ending at إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ (provided that you understand), the text warns Muslims that they should not take anyone other than their own Muslim brothers as insiders on their affairs, for no other group, be they Jews, Christians, hypocrites or other disbelievers, could be their genuine well-wishers. Contrary to that, they are always on the lookout for opportunities to hoodwink and hurt them materially and spiritually. They are always plotting to harm them in this worldly life as well as to take them away from the enjoined pursuits of their Faith. All this is what the Muslims can see for themselves, but the venom that lies hidden in their hearts is far too fatal. However there are times when they are enraged with their deceptive cool front thrown off and the fangs of their deep hostility become clearly visible. Why would an intelligent person take such people as his confidant? Allah Almighty has pointed out who they are and what has to be done about them. Now it is upto him who understands what is involved here. The sentence وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ ; (they want you to be in trouble) is a perfect mirror of the mentality of disbelievers. Here, the in-depth teaching is that no non-Muslim can ever be the real friend and well-wisher of Muslims.

خلاصہ تفسیر : اے ایمان والو اپنے (لوگوں کے) سوا (اور مذہب والوں میں سے) کسی کو (محبت کے برتاؤ میں) صاحب خصوصیت مت بناؤ (کیونکہ) وہ لوگ تمہارے ساتھ فساد کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے (اور دل سے بھی) تمہاری مضرت (دنیوی و دینی) کی تمنا رکھتے ہیں، (دلوں میں تمہاری طرف سے اس قدر بغض بھرا ہے کہ) واقعی ( وہ) بغض (بعض اوقات) ان کے منہ سے (بےاختیار بات چیت میں) ظاہر ہو پڑتا ہے، اور جس قدر ان کے دلوں میں ہے وہ تو بہت کچھ ہے (چنانچہ) ہم (ان کی عداوت کے) علامات (اور قرائن) تمہارے سامنے ظاہر کرچکے اگر تم عقل رکھتے ہو (تو ان یقینی علامات سے دیکھ لو) ہاں (سمجھو) تم ایسے ہو ان لوگوں سے محبت (کا برتاؤ) رکھتے ہو، اور یہ لوگ تم سے اصلا محبت نہیں رکھتے (نہ دل سے نہ برتاؤ سے) حالانکہ تم تمام (آسمانی) کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اس بات میں ان کی کتابیں بھی شامل ہیں اور وہ تمہاری کتاب یعنی قرآن پر ایمان نہیں رکھتے مگر وہ تو باوجود اس تمہارے ایمان کے بھی تم سے محبت نہیں رکھتے اور تم باوجود ان کے اس عدم ایمان کے بھی ان سے محبت رکھتے ہو) اور (تم ان کے ظاہری دعوی ایمان سے شبہ مت کرنا کہ وہ بھی تو ہماری کتاب پر ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ) یہ لوگ جب تم سے ملتے ہیں (صرف تمہارے دکھانے کو منافقانہ طو رپر) کہہ دیتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، اور جب (تم سے) الگ ہوتے ہیں تو تم پر اپنی انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں مارے غیظ (وغضب) کے (یہ کنایہ ہے شدت غضب سے) آپ (ان سے) کہہ دیجیے کہ تم مرر ہو اپنے غصہ میں (مراد یہ کہ اگر تم مر بھی جاؤ گے تب بھی تمہاری مراد پوری نہ ہوگی) بیشک اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں دلوں کی باتوں کو (اسی لئے ان لوگوں کے دلوں میں جو رنج و غبار اور عداوت تمہاری طرف سے بھری ہیں سب بتلا دی اور ان کا یہ حال ہے کہ) اگر تم کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے (مثلا تم میں باہم اتفاق ہو، غیروں پر غلبہ ہوجائے) تو ان کے لئے موجب رنج ہوتی ہے (جس کا سبب اشد درجہ کا حسد ہے) اور اگر تم کو کوئی ناگواری حالت پیش آتی ہے تو اس سے (بڑے) خوش ہوتے ہیں ( جس سے ان کی شماتت ثابت ہے، سو ان کے جب یہ حالات ہیں تو وہ اس قابل کب ہیں کہ ان سے دوستی یا دوستی کا برتاؤ کیا جاوے، ان کے مذکورہ حالات سننے کے بعد دلوں میں یہ خیال پیدا ہونا بعید نہیں تھا کہ یہ لوگ مسلمانوں کو ضرر پہنچانے میں کوئی کسر نہیں رکھیں گے، اس لئے گلی آیت میں مسلمانوں کی تسلی کے لئے فرمایا) اور اگر تم استقلال اور تقوی کے ساتھ رہو تو ان لوگوں کی تدبیر تم کو ذرا بھی ضرر نہ پہنچا سکے گی (تم اس سے بےفکر رہو تو دنیا میں تو ان کو یہ ناکامی نصیب ہوگی اور آخرت میں سزائے دوزخ ہوگی کیونکہ) بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال پر (علمی) احاطہ رکھتے ہیں (کوئی عمل ہم سے مخفی نہیں اس لئے وہاں سزا سے بچنے کے لئے کسی حیلہ حوالہ کی گنجائش نہیں) ۔ معارف و مسائل : شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ مدینہ کے اطراف میں جو یہودی آباد تھے ان کے ساتھ اوس اور خزرج کے لوگوں کی قدیم زمانہ سے دوستی چلی آتی تھی، انفرادی طور پر بھی ان قبیلوں کے افراد ان کے افراد سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے، اور قبائلی حیثیت سے بھی یہ اور یہود ایک دوسرے کے ہمسایہ اور حلیف تھے، جب اوس اور خزرج کے قبیلے مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد بھی وہ یہودیوں کے ساتھ پرانے تعلقات نبھاتے رہے، اور ان کے افراد اپنے سابق یہودی دوستوں سے اسی محبت و خلوص کے ساتھ ملتے رہے، لیکن یہودیوں کو حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور آپ کے لائے ہوئے دین سے جو عداوت تھی اس کی بناء پر وہ کسی ایسے شخص سے مخلصانہ محبت رکھنے کے لئے تیار نہ تھے جو اس دعوت کو قبول کر کے مسلمان ہوگیا ہو، انہوں نے انصار کے ساتھ ظاہر میں تو وہی تعلقات رکھے جو پہلے سے چلے آرہے تھے، مگر دل میں اب وہ ان کے دشمن ہوچکے تھے، اور اسی ظاہری دوستی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں کی جماعت میں اندرونی فتنہ و فساد برپا کردیں، اور ان کے جماعتی راز معلوم کر کے ان کے دشمنوں تک پہنچائیں، اللہ تعالیٰ یہاں ان کی اس منافقانہ روش سے مسلمانوں کو محتاط رہنے کی ہدایت فرما رہے ہیں، اور ایک نہایت اہم ضابطہ بیان فرماتے ہیں کہ : |" یایھا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم |" یعنی اے ایمان والو اپنے (یعنی مسلمانوں کے) علاوہ کسی کو گہرا اور راز دار دوست نہ بناؤ، بطانۃ کے معنی ہیں ولی، دوست، راز دار اور بھیدی، کپڑے کا باطنی استر جو جسم سے ملا رہے وہ بھی بطانہ کہلاتا ہے، یہ بطن سے مشتق ہے، بطن کا استعمال ہر شے میں ظہر کے خلاف ہوتا ہے، اوپر کی جانب کو ظہر اور اندر کی جانب کو بطن بولتے ہیں، اور کپڑے کے اوپر کے حصہ کو ظہارہ اور اندرونی اور نیچے کے حصہ کو جسم سے ملا رہے جیسے استر وغیرہ کو بطانہ کہتے ہیں، جس طرح ہم اپنی زبان میں بولتے ہیں کہ وہ اس کا اوڑھنا بچھونا ہے، یعنی وہ اس کو نہایت مرغوب و محبوب ہے، اسی طرح بطانہ الثوب سے بطور استعارہ ولی، دوست اور معتمد جو باطنی امور کا رازدار ہو اس کے لئے بطانہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، عربی لغت کی مشہور معتبر کتاب لسان العرب میں بطانہ کے معنی اس طرح کئے : بطانۃ الرجل صاحب سرہ و داخلۃ امرہ الذی یش اورہ فی احواہ، یعنی بطانۃ الرجل کسی شخص کے ولی اور رازدار دوست اور اس کے معاملات میں دخیل کو کہا جاتا ہے، جس سے وہ اپنے معاملات میں مشورہ لے، اصفہانی نے مفردات القرآن میں اور قرطبی نے اپنی تفسیر میں بھی یہی معنی بیان کئے ہیں، جس کا حاصل یہ ہوا کہ بطانہ اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کو راز دار، ولی اور دوست سمجھا جائے، اور اس کو اپنے معاملات میں معتمد اور مشیر بنایا جائے۔ تو اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی ملت والوں کے سوا کسی کو اس طرح کا معتمد اور مشیر نہ بناؤ کہ اس سے اپنے اور اپنی ملت و حکومت کے راز کھول دو ، اسلام نے اپنی عالمگیر رحمت کے سایہ میں جہاں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ ہمدردی، خیر خواہی، نفع رسانی اور مروت و رواداری کی غیر معمولی ہدایات فرمائی اور نہ صرف زبانی ہدایات بلکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام معاملات میں اس کو عملی طور پر رواج دیا ہے وہیں عین حکمت کے مطابق مسلمانوں کی اپنی تنظیم اور ان کے مخصوص شعائر کی حفاظت کے لئے یہ احکام بھی صادر فرمائے کہ قانون اسلام کے منکروں اور باغیوں سے تعلقات ایک خاص حد سے آگے بڑھانے کی اجازت مسلمان کو نہیں دی جاسکتی، کہ اس سے فرد اور ملت دونوں کے لئے ضرر اور خطرے کھلے ہوئے ہیں، اور یہ ایسا صریح، معقول، مناسب اور ضروری انتظام ہے جس سے فرد اور ملت دونوں کی حفاظت ہوتی ہے، جو غیر مسلم اسلامی مملکت کے باشندے ہیں یا مسلمانوں سے کوئی معاہدہ کئے ہوئے ہیں ان کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات اور ان کی حفاظت کے لئے انتہائی تاکیدات اسلامی قانون کا جزء ہیں، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : ( من اذی ذمیا فانا خصمہ و من کنت خصمہ خصمتہ یوم القیامۃ۔ (عن ابن مسعود) |" جس شخص نے کسی ذمی کو ستایا تو قیامت کے روز اس کی طرف سے میں دعویدار بنوں گا، اور جس مقدمہ میں میں دعویدار ہوں تو میں ہی غالب رہوں گا |" ایک دوسری حدیث میں فرمایا : (منعنی ربی ان اظلم معاھدا ولا غیرہ (عن علی) |" مجھے میرے پروردگار نے منع فرمایا ہے کہ میں کسی معاہدہ یا کسی دوسرے پر ظلم کروں |" ایک اور حدیث میں فرمایا : ( الا من ظلم معاھدا اونتقصہ او کلفہ فوق طاقتہ او اخذ منہ شیئا بغیر طیب نفس منہ فانا حجیجہ یوم القیامۃ) |" خبردار جو کسی غیر مسلم معاہد پر ظلم کرے، یا اس کے حق میں کمی کرے یا اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالے، یا اس سے کوئی چیز بغیر اس کی دلی رضامندی کے حاصل کرے تو قیامت کے روز میں اس کا وکیل ہوں گا |" لیکن تمام مراعات کے ساتھ مسلمانوں کی اپنی جماعت اور ملت کی حفاظت کے لئے یہ ہدایات بھی دی گئیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کو اپنا گہرا دوست اور رازدار معتمد نہ بنایا جائے۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ فاروق اعظم حضرت عمر بن الخطاب (رض) سے کہا گیا کہ یہاں ایک غیر مسلم لڑکا ہے جو بڑا اچھا کاتب ہے اگر اس کو آپ اپنا میر منشی بنالیں تو بہتر ہو، اس پر فاروق اعظم نے فرمایا : ( قد اتخذت اذا بطانۃ من دون المومنین) |" یعنی اس کو میں ایسا کروں تو مسلمانوں کو چھوڑ کر دوسرے ملت والے کو راز دار بنالوں گا جو نص قرآن کے خلاف ہے |"۔ امام قرطبی جو پانچویں صدی کے مشہور عالم اور مفسر ہیں بری حسرت اور درد کے ساتھ مسلمانوں میں اس تعلیم کی خلاف ورزی اور اس کے نتائج بد کا بیان اس طرح فرماتے ہیں : ( وقد انقلبت الاحوال فی ھذہ الازمان باتخاذ اھل الکتاب کتبۃ وامناء وتسودوا بذلک عند جھلۃ الاغنیاء من الولاۃ والامراء) |" یعنی اس زمانہ میں حالات میں ایسا انقلاب آیا کہ یہود و نصاری کو رازدار اور امین بنالیا گیا، اور اس ذریعہ سے وہ جاہل اغنیاء و امراء پر مسلط ہوگئے |" آج بھی کسی ایسے مملکت میں جس کا قیام کسی خاص نظریہ پر ہو وہاں اس نئی روش کے زمانے میں بھی کسی ایسے شخص کو جو اس نظریہ کو قبول نہیں کرتا، مشیر اور معتمد نہیں بنایا جاسکتا۔ روس اور چین میں کسی ایسے شخص کو جو کمیونزم پر ایمان نہیں رکھتا ہو، کسی ذمہ دار عہدہ پر فائز نہیں کیا جاتا، اور اس کو مملکت کا رازدار اور مشیر نہیں بنایا جاتا، اسلامی مملکتوں کے زوال کی داستانیں پڑہئے تو زوال کے دوسرے اسباب کے ساتھ بکثرت یہ بھی ملے گا کہ مسلمانوں نے اپنے امور کا رازدار و معتمد غیر مسلموں کو بنا لیا تھا، سلطنت عثمانی کے زوال میں بھی اس کو کافی دخل تھا۔ آیت مذکورہ میں اس حکم کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے لا یالونکم خبالا۔ یعنی وہ لوگ تمہیں وبال و فساد میں مبتلا کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں رکھتے، اور تمہارے دکھ پہنچنے کی آرزو رکھتے ہیں، بعض تو ان کی زبانوں سے ظاہر ہو پڑتا ہے، اور جو کچھ وہ اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اور بھی بڑھ کر ہے، ہم تو تمہارے لئے نشانیاں کھول کر ظاہر کرچکے ہیں، اگر تم عقل سے کام لینے والے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ مسلمان اپنے اسلامی بھائیوں کے سوا کسی کو بھیدی اور مشیر نہ بنائیں، کیونکہ یہود ہوں یا نصاری، منافقین ہوں یا مشرکین، کوئی جماعت تمہاری حقیقی خیر خواہ نہیں ہوسکتی، بلکہ ہمیشہ یہ لوگ اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ تمہیں بیوقوف بناکر نقصان پہنچائیں اور دینی و دنیوی خرابیوں میں مبتلا کریں، ان کی آرزو یہ ہے کہ تم تکلیف میں رہو اور کسی نہ کسی تدبیر سے تم کو دینی یا دنیوی ضرر پہنچے، جو دشمنی یا ضرر ان کے دلوں میں ہے وہ تو بہت ہی زیادہ ہے، لیکن بسا اوقات عداوت غیظ و غضب سے مغلوب ہو کر کھلم کھلا بھی ایسی باتیں کر گزرتے ہیں جو ان کی گہری دشمنی کا صاف پتہ دیتی ہیں، مارے دشمنی اور حسد کے ان کی زبان قابو میں نہیں رہتی، پس عقل مند آدمی کا کام نہیں کہ ایسے دشمنوں کو راز دار بنائے، خدائے تعالیٰ نے دوست دشمن کے پتے اور موالات کے احکام بتلا دیئے ہیں، جس میں عقل ہوگی اس سے کام لے گا۔ ودوا ما عنتم، یہ فقرہ کافرانہ ذہنیت کا پورا ترجمان ہے، اس کے اندر گہری تعلیم اس بات کی آگئی کہ کوئی غیر مسلم کسی حال میں مسلمانوں کا حقیقی دوست اور خیر خواہ نہیں ہوسکتا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا۝ ٠ ۭ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ۝ ٠ ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاۗءُ مِنْ اَفْوَاہِھِمْ۝ ٠ ۚۖ وَمَا تُخْفِيْ صُدُوْرُھُمْ اَكْبَرُ۝ ٠ ۭ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ۝ ١١٨ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ بِطانَة : خلاف الظهارة، وبَطَّنْتُ ثوبي بآخر : جعلته تحته . وقد بَطَنَ فلان بفلان بُطُوناً ، وتستعار البِطَانَةُلمن تختصه بالاطّلاع علی باطن أمرك . قال عزّ وجل : لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] أي : مختصا بکم يستبطن أمورکم، وذلک استعارة من بطانة الثوب، بدلالة قولهم : لبست فلانا : إذا اختصصته، وفلان شعاري ودثاري، وروي عنه صلّى اللہ عليه وسلم أنه قال : «ما بعث اللہ من نبيّ ولا استخلف من خلیفة إلا کانت له بطانتان : بطانة تأمره بالخیر وتحضّه عليه، وبطانة تأمره بالشرّ وتحثّه عليه» البطانۃ کے معنی کپڑے کا استریا اس کے اندورنی حصہ کے ہیں اور اس کے ضد ظہارۃ ہے ۔ جس کے معنی کپڑے کا اوپر کا حصہ یا ابرہ کے ہیں اور بطنت ثوبی باٰ خر کے معنی ہیں میں نے ایک کپڑے کو دوسرے کے نیچے لگایا ۔ بطن فلان بفلان کسی شخص کے اندرونی معاملات سے واقف ہونا اور بطور استعارہ البطانۃ کا لفظ ہر اس شخص پر بولا جاتا ہے جو دوسرے کا راز وان ہو چناچہ قرآن میں ہے ؛۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کسی غیر ( مذہب کے آدمی ) کو اپنا راز دان بنانا اور بطانۃ الثوب سے استعارہ ہے کیونکہ اسی معنی میں لبست فلانا وفلان شعاری ودثاری بھی کہا جاتا ہے ایک حدیث میں آنحضرت نے فرمایا ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بیھجا اور کسی کو خلیفہ بنایا ہے مکر ہمیشہ اس کے دو راز دان رہے ہیں ایک رازدار اسے خیر کا مشورہ اور اس کی ترغیب دیتا رہا ہے اور دوسرا اسے شرکا مشورہ اور اسی پر اکساتا رہا ہے ۔ الو وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا [ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ خبل الخَبَالُ الفساد الذي يلحق الحیوان فيورثه اضطرابا، کالجنون والمرض المؤثّر في العقل والفکر، ويقال : خَبَلٌ وخَبْلٌ وخَبَال، ويقال : خَبَلَهُ وخَبَّلَهُ فهو خَابِل، والجمع الخُبَّل، ورجل مُخَبَّل، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا [ آل عمران/ 118] ، وقال عزّ وجلّ : ما زادُوكُمْ إِلَّا خَبالًا [ التوبة/ 47] ، وفي الحدیث : «من شرب الخمر ثلاثا کان حقّا علی اللہ تعالیٰ أن يسقيه من طينة الخبال» ( خ ب ل ) الخبال والخبل والخبل ۔ اس فساد یا خرابی کو کہتے ہیں جو کسی جاندار کو لاحق ہوکر اس میں اضطراب اور بےچینی پیدا کردے ۔ جیسے جنون یا وہ مرض جو عقل وفکر پر اثر انداز ہو ، کہا جاتا ہے قرآن میں ہے ۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا [ آل عمران/ 118] مومنوں ( کسی غیر ( مزہب کے آدمی ) کو اپنا راز دان نہ بنانا ۔ یہ لوگ تمہاری خرابی ( اور فتنہ انگیزی کرنے ) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ ما زادُوكُمْ إِلَّا خَبالًا [ التوبة/ 47] تو تمہارے حق میں شرارت کرتے ۔ اور حدیث میں ہے : ۔ جو شخص تین مرتبہ شراب پئے گا تو اللہ تعالیٰ اسے لازما دو زخیوں کی پیپ پلائے گا ۔ ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور آیت : ۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی ۔ عنت الْمُعَانَتَةُ کالمعاندة لکن المُعَانَتَةُ أبلغ، لأنها معاندة فيها خوف وهلاك، ولهذا يقال : عَنَتَ فلان : إذا وقع في أمر يخاف منه التّلف، يَعْنُتُ عَنَتاً. قال تعالی: لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ [ النساء/ 25] ، وَدُّوا ما عَنِتُّمْ [ آل عمران/ 118] ، عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ [ التوبة/ 128] ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ أي : ذلّت وخضعت، ويقال : أَعْنَتَهُ غيرُهُ. وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ [ البقرة/ 220] ، ويقال للعظم المجبور إذا أصابه ألم فهاضه : قد أَعْنَتَهُ. ( ع ن ت ) المعانتۃ : یہ معاندۃ کے ہم معنی ہے معنیباہم عنا داوردشمنی سے کام لینا لیکن معانتۃ اس سے بلیغ تر ہے کیونکہ معانتۃ ایسے عناد کو کہتے ہیں جس میں خوف اور ہلاکت کا پہلو بھی ہو ۔ چناچہ عنت فلان ۔ ینعت عنتا اس وقت کہتے ہیں جب کوئی شخص ایسے معاملہ میں پھنس جائے جس میں تلف ہوجانیکا اندیشہ ہو ۔ قرآن پاک میں ہے لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ [ النساء/ 25] اس شخص کو ہے جسے ہلاکت میں پڑنے کا اندیشہ ہو ۔ وَدُّوا ما عَنِتُّمْ [ آل عمران/ 118] اور چاہتے ہیں کہ ( جس طرح ہو ) تمہیں تکلیف پہنچے ۔ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ [ التوبة/ 128] تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے : اور آیت کریمہ : وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ «1»اور سب ( کے ) چہرے اس زندہ وقائم کے روبرو جھک جائیں گے ۔ میں عنت کے معنی ذلیل اور عاجز ہوجانے کے ہیں اور اعنتہ کے معنی تکلیف میں مبتلا کرنے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ [ البقرة/ 220] اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا ۔ اور جس ہڈی کو جوڑا گیا ہو اگر اسے کوئی صدمہ پہنچے اور وہ دوبارہ ٹو ٹ جائے تو ایسے موقع پر بھی اعتتہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ بدا بَدَا الشیء بُدُوّاً وبَدَاءً أي : ظهر ظهورا بيّنا، قال اللہ تعالی: وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] ( ب د و ) بدا ( ن ) الشئ یدوا وبداء کے معنی نمایاں طور پر ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] اور ان کیطرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا ۔ بغض البُغْض : نفار النفس عن الشیء الذي ترغب عنه، وهو ضد الحبّ ، فإنّ الحب انجذاب النفس إلى الشیء، الذي ترغب فيه . يقال : بَغُضَ الشیء بُغْضاً وبَغَضْتُه بَغْضَاء . قال اللہ عزّ وجلّ : وَأَلْقَيْنا بَيْنَهُمُ الْعَداوَةَ وَالْبَغْضاءَ [ المائدة/ 64] ، وقال : إِنَّما يُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَداوَةَ وَالْبَغْضاءَ [ المائدة/ 91] ، وقوله عليه السلام : «إنّ اللہ تعالیٰ يبغض الفاحش المتفحّش»فذکر بغضه له تنبيه علی بعد فيضه وتوفیق إحسانه منه . ( ب غ ض ) البغض کے معنی کسی مکر وہ چیز سے دل کا متنفر اور بیزار ہونا کے ہیں ۔ کہ حب کی ضد ہے ۔ جس کے معنی پسندیدہ چیز کی طرف دل کا منجذب ہونا کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَلْقَيْنا بَيْنَهُمُ الْعَداوَةَ وَالْبَغْضاءَ [ المائدة/ 64] اور ہم نے ان کے باہم عداوت اور بعض قیامت تک کے لئے ڈال دیا ہے إِنَّما يُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَداوَةَ وَالْبَغْضاءَ [ المائدة/ 91] شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش دلوادے اور حدیث میں ہے بیشک اللہ تعالیٰ بد کلام گالی دینے والے ہے نفرت کرتا ہے ۔ یہاں بعض کا لفظ بول کر اس امر پر تنبیہ کی ہے ۔ کہ باری تعالیٰ اس سے اپنا فیضان اور توفیق احسان روک لیتا ہے ۔ فوه أَفْوَاهُ جمع فَمٍ ، وأصل فَمٍ فَوَهٌ ، وكلّ موضع علّق اللہ تعالیٰ حکم القول بِالْفَمِ فإشارة إلى الکذب، وتنبيه أنّ الاعتقاد لا يطابقه . نحو : ذلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْواهِكُمْ [ الأحزاب/ 4] ، وقوله : كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5]. ( ف و ہ ) افواہ فم کی جمع ہے اور فم اصل میں فوہ ہے اور قرآن پاک میں جہاں کہیں بھی قول کی نسبت فم یعنی منہ کی طرف کی گئی ہے وہاں در وغ گوئی کی طرف اشارہ ہے اور اس پر تنبیہ ہے کہ وہ صرف زبان سے ایسا کہتے ہیں ان کے اندرون اس کے خلاف ہیں جیسے فرمایا ذلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْواهِكُمْ [ الأحزاب/ 4] یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں ۔ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5] بات جوان کے منہ سے نکلتی ہے ۔ خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خ ف ی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ صدر الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ( ص در ) الصدر سینہ کو کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] میرے پروردگار اس کا م کے لئے میرا سینہ کھول دے ۔ اس کی جمع صدور آتی ہے جیسے فرمایا : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] اور جو بھید دلوں میں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

ذمیوں سے استعانت کا بیان قول باری ہے (یایھا الذین امنوالاتتخذوابطانۃ من دونکم لایألونکم خبالاؤدواماعنتم قدبدت البخضاء من افواھھم وماتخفی صدورھم اکبر، اے ایمان والو ! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوادوسروں کو اپنا رازدانہ بناؤ۔ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقعہ سے فائد ہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔ تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بعض ان کے منہ سے نکلاپڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے پھرتے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ انسان کا بطانہ، ان لوگوں کو کہاجاتا ہے جو اس کے خاص ہوتے ہیں اور اس پر اپنا حکم چلاسکتے ہیں نیز جن پر وہ اپنے معاملات میں بھروسہ کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس بات سے روک دیا کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑکراہل کفر کو اپناراز داربنائیں اور اپنے خصوصی معاملات میں ان سے مدد کے طلب گارہوں۔ پھر اپنے قول (لایألونکم خبالا) کے ذریعے مسلمانوں کو ان کافروں کے پوشیدہ جذبات سے آگا ہ کردیاجویہ مسلمانوں کے متعلق رکھتے ہیں۔ اس فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ کافرتمھارے معاملات کو خراب کرنے کے کسی بھی موقعہ کو ہاتھ سے جانے نہٰں دیئے اس لیے کہ خیال کے معنی فساد کے ہیں۔ پھر فرمایا (ودواماعنتم) سدی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ لوگ تمہیں تمہارے دین سے گمراہ کرنے کی تمنا رکھے ہوئے ہیں۔ ابن جریج کا قول ہے کہ یہ لوگ اس بات کے متمنی ہیں کہ تم اپنے دین کے معاملے میں مشقت می پڑجاؤ، اور پھر تمہیں دین پر عمل پیرا ہونے میں مشقتیں برداشت کرنی پڑیں۔ اس لیے کہ عنت کے اصل معنی مشقت کے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع دی کہ انھیں ہر وہ چیز ہے جو تمہاری مشقت اور نقصان کا سبب بنتی ہو۔ قولباری ہے (ولوشاء اللہ لاعنتکم۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتاتو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا) مسلمانوں کے معاملات حکومت میں اہل ذمہ سے مددلینا جائز نہیں ہے آیت اس بات پر دلالت کررہی کہ مسلمانوں کے معاملات میں اہل الذمہ سے مددلینا جائز نہیں ہے مثلا کسی ذمی کو مسلمانوں کے کسی علاقے کا انتظام سپرد کردینا یا کسی حاکم یاعامل کا کسی ذمی کو اپنا کاتب یعنی سٹینوبنالینا وغیرہ۔ حضرت عمر (رض) کے متعلق مروی ہے کہ جب آپ کو پتا چلا کہ آپ کے مقررکردہ گور نرحضرت ابوموسی اشعری نے کسی ذمی کو اپنا کاتب بنالیا ہے تو آپ نے فورا انھیں تحریری طورپرسرزنش کی اور دلیل کے طورپر آیت (یایھا الذین امنوالاتتخذوابطانۃ من دونکم) کا حوالہ دیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جب انھیں ذلیل کردیا ہے تو تم اب انھیں عزت کا مقام نہ دو ۔ ابوحیان تیمی نے فرقدبن صالح سے، انھوں نے ابو وہقانہ سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) سے گزارش کی کہ ایک شخص حیرہ کا رہنے والا ہے (ہم نے اس جیسی یادداشت کا مالک اور اس جیسا خوش نویس کسی کو نہیں پایا) میراخیال ہے کہ آپ اسے اپنا کاتب مقرر کرلیں۔ حضرت عمر (رض) نے یہ سن کر جواب دیا۔ اگر میں ایسا کرلوں تو گویا میں مسلمانوں کو چھوڑکرغیروں کو اپنا راز دار بنانے کے جرم کا ارتکاب کروں گا۔ ہلال طائی نے وسق رومی سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں حضرت عمر (رض) کا غلام تھا۔ آپ ہمیشہ مجھے مسلمان ہوجانے کے لیے کہتے اور فرماتے کہ اگر تو مسلمان ہوجاتا تو میں مسلمانوں کے معاملات میں تجھ سے مددلیتا کیونکہ میرے لیے یہ مناسب نہیں کہ میں مسلمانوں کے معاملات میں کسی ایسے شخص سے مددلوں جوان میں سے نہ ہو۔ میں انکار کردیتا۔ پھر آپ فرماتے کہ دین کے معاملے میں کوئی خبر نہیں۔ جب آپ کی وفات قریب ہوئی تو آپ نے مجھے آزاد کرکے فرمایا کہ اب جہاں مرضی ہے چلے جاؤ۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٨) یعنی مومنین کے سوا یہود کو دوست مت بناؤ کیوں کہ وہ تم لوگوں میں فساد برپا کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں اور اس بات کی آرزو مندرہتے ہیں کہ جیسے وہ لوگ شرک کرتے ہیں، تم بھی شرک کرو اور گناہ گار بنو۔ اس چیز کا اظہار ان کی زبانی گالی گلوچ سے تو ہو ہی رہا ہے اور جو دشمنی اور کینہ غصہ اور اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بہت بڑھ کر ہے یہ ان کے حسد کی نشانی تمہارے سامنے ہم نے واضح کردی۔ اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ ہم نے اوامرو نواہی تمہارے سامنے بیان کردیے ہیں، تاکہ جس کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے تم اس کو سمجھو ، شان نزول : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا “۔ (الخ) ابن جریر (رح) اور ابن اسحاق (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جاہلیت کی دوسی کی بنا پر مسلمانوں میں سے کچھ حضرات یہودیوں کے ساتھ دوستی رکھا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس سے آگاہ فرمایا اور فتنہ کی بنا پر ان سے تعلقات رکھنے کی ممانعت فرما دی اور یہ آیت نازل فرمائی کہ اپنے علاوہ کسی کو صاحب خصوصیت نہ بناؤ۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٨ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ ) یعنی جس شخص کے بارے میں اطمینان ہو کہ صاحب ایمان ہے ‘ مسلمان ہے ‘ اس کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا بھیدی اور محرم راز نہ بناؤ۔ یہودی ایک عرصے سے مدینہ میں رہتے تھے اور اوس و خزرج کے لوگوں کی ان سے دوستیاں تھیں ‘ پرانے تعلقات اور روابط تھے۔ اس کی وجہ سے بعض اوقات سادہ لوح مسلمان اپنی سادگی میں راز کی باتیں بھی انہیں بتا دیتے تھے۔ اس سے انہیں روکا گیا۔ (لاَ یَاْلُوْنَکُمْ خَبَالاً ط) (وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ ج ) (قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ ج ) ان کا کلام ایسا زہر آلود ہوتا ہے کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی ٹپکی پڑتی ہے۔ یہ اپنی زبانوں سے آتش برساتے ہیں۔ (وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ ط ) ۔ جو کچھ ان کی زبانوں سے ظاہر ہوتا ہے وہ تو پھر بھی کم ہے ‘ ان کے دلوں کے اندر دشمنی اور حسد کی جو آگ بھڑک رہی ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ( قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ) یعنی اپنے طرز عمل پر غور کرو اور اس سے باز آجاؤ !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

92. The Jews living on the outskirts of Madina had long enjoyed friendly relations with the two tribes of Aws and Khazraj. In the first place this was the result of relations between individuals. Later, they were bound by ties of neighbourliness and allegiance as a result of tribal inter-relationship. Even after the people of Aws and Khazraj embraced Islam, they maintained their old ties with the Jews and continued to treat them with the same warmth and cordiality. However, the hostility of the Jews towards the Arabian Prophet (peace be on him) and towards his mission was far too intense to allow them to maintain a cordial relationship with anyone who had joined the new movement. Outwardly, the Jews maintained the same terms of friendship with the Ansar (Helpers) as before but at heart they had become their sworn enemies. They made the best use of this pretended friendship, and remained constantly on the look-out for opportunities to create schisms and dissensions in the Muslim body-politic, and to draw out the secrets of the Muslims and pass them on to their enemies. Here God warns the Muslims to note this hypocrisy and take the necessary precaution.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :92 مدینہ کے اطراف میں جو یہودی آباد تھے ان کے ساتھ اوس اور خزرج کے لوگوں کی قدیم زمانہ سے دوستی چلی آتی تھی ۔ انفرادی طور پر بھی ان قبیلوں کے افراد ان کے افراد سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اور قبائلی حیثیت سے بھی یہ اور وہ ایک دوسرے کے ہمسایہ اور حلیف تھے ۔ جب اوس اور خزرج کے قبیلے مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد بھی وہ یہودیوں کے ساتھ وہی پرانے تعلقات نباہتے رہے اور ان کے افراد اپنے سابق یہودی دوستوں سے اسی محبت و خلوص کے ساتھ ملتے رہے ۔ لیکن یہودیوں کو نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مشن سے جو عداوت ہوگئی تھی اس کی بنا پر وہ کسی ایسے شخص سے مخلصانہ محبت رکھنے کے لئے تیار نہ تھے جو اس نئی تحریک میں شامل ہوگیا ہو ۔ انہوں نے انصار کے ساتھ ظاہر میں تو وہی تعلقات رکھے جو پہلے سے چلے آتے تھے ، مگر دل میں وہ اب ان کے سخت دشمن ہوچکے تھے اور اس ظاہری دوستی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں کی جماعت میں اندرونی فتنہ و فساد برپا کردیں اور ان کے جماعتی راز معلوم کرکے ان کے دشمنوں تک پہنچائیں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان کی اسی منافقانہ روش سے مسلمانوں کو محتاط رہنے کی ہدایت فرما رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

39: مدینہ منورہ میں اوس و خزرج کے جو قبیلے آباد تھے، زمانہ دراز سے یہودیوں کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات چلے آتے تھے۔ جب اوس اور خزرج کے لوگ مسلمان ہوگئے تو وہ ان یہودیوں کے ساتھ اپنی دوستی نبھاتے رہے، مگر یہودیوں کا حال یہ تھا کہ ظاہر میں تو وہ بھی دوستانہ انداز میں ملتے تھے اور ان میں سے کچھ لوگ یہ بھی ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مسلمان ہوگئے ہیں، لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف بغض بھرا ہوا تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مسلمان ان کی دوستی پر بھروسہ کرتے ہوئے سادہ لوحی میں انہیں مسلمانوں کی کوئی راز کی بات بھی بتا دیتے تھے۔ اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان پر بھروسہ نہ کریں اور انہیں راز دار بنانے سے مکمل پرہیز کریں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(118 ۔ 120) ۔ ابن جریر اور ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جس طرح اسلام سے پہلے یہود اور اہل عرب میں دوستی تھی اور آپس میں کچھ کفر اور اسلام کا فرق نہ تھا اسلام کے بعد بھی اکثر مسلمان یہود اور منافقوں سے وہی قدیمی اتحاد برتتے تھے اور یہود اور مناقفوں کا یہ حال تھا کہ دوستی کے پردہ میں یہ کیا کہ اوس اور خزرج مسلمانوں کے دو قبیلوں میں لڑائی کا سامان کردیا۔ جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرچکا اور عبد اللہ بن ابی منافق نے یہ کیا کہ عین میدان جنگ میں سے احد کی لڑائی کے وقت لشکر اسلام میں سے تین سو آدمیوں کو بہکا کر مدینہ لے آیا۔ جس کا ذکر آئندہ کی آیتوں میں آئے گا۔ اور زیادہ تر یہود اور منافقوں کا فریب اسی سبب سے کارگر ہوجاتا تھا کہ یہود اور منافق پہلے دوست بن کر مسلمانوں کے ہر طرح کے بھید پر واقف کاری حاصل کرلیتے تھے اور پھر فریب دے بیٹھتے تھے۔ اس واسطے اللہ نے اس سبب کو منقطع کرنے کی غرض سے یہ آیتیں آخر رکوع تک نازل فرمائیں ١۔ جن کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانوں تمہارے ساتھ منافقوں کا تو یہ حال ہے کہ منہ پر کچھ اور پیٹھ پیچھے کچھ کہتے ہیں اور یہود کا یہ حال ہے کہ تم ان کی کتاب ان کے دین کو جانتے ہو اور وہ تم سے جل جل کر اپنی بوٹیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ اگرچہ یہ دونوں فرقے جل کر مر بھی جائیں تو آخر ہوگا وہی جو اللہ کو منظور ہے کہ اسلام بڑھے گا اور یہ دنیا میں خوار ہوں گے۔ لیکن جب یہ دونوں فرقے تم سے دلی بعض رکھتے ہیں۔ جس بغض کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے تو آئندہ تم بھی ان سے دوستی بالکل ترک کر دو ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی غیر اسلام والے شخص کا اس طرح کا دوست بنانا جس سے وہ صلاح کار۔ اور مشیر بن سکے۔ مسلمانوں کو منع ہے حدیث شریف میں بطانہ کے معنی مشیر اور صلاح کے کے ہیں۔ چناچہ صحیح بخاری اور کتب صحاح میں حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ ہر نبی اور حاکم کے دو بطانے ہیں۔ ایک نیک صلاح دینے والا اور دوسرا بری صلاح سے بچانا اور نیک صلاح پر چلانا اللہ کے ہاتھ ہے ١

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:118) بطانۃ۔ ولی۔ دوستی۔ رازدار۔ بھیدی۔ استر۔ کپڑے کا باطنی حصہ جو جسم سے ملا رہے ۔ بطن سے مشتق ہے بطن کا استعمال ہر شے میں ظہر کے خلاف ہوتا ہے۔ باہر کی جانب کو ظھر کہتے ہیں۔ اور اندر کی جانب کو بطن بولتے ہیں۔ کپڑے کے اوپر کے حصہ کو ظھارہ اور اندرونی اور نیچے کے حصہ کو جو جسم سے ملا رہے بطانۃ کہتے ہیں۔ لا یالونکم۔ مضارع منفی صیغہ جمع مذکر غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر (باب نصر) الو الو۔ الی۔ مصادر کسی کام میں کوتاہی کرنا۔ دیر لگانا۔ کہتے ہیں لم یال جھدا۔ اس نے کوشش کرنے میں کوتاہی نہیں کی۔ خبالا۔ تباہ کرنا۔ خرابی مچانا۔ فساد۔ تباہی۔ وہ خرابی یا فساد جس کے لاحق ہونے سے کسی جاندار میں اضطراب اور بےچینی پیدا ہوجائے۔ لایالونکم خبالا۔ وہ تمہیں خرابی پہنچانے میں کوتاہی نہیں کریں گے۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ وہ محبت کرتے ہیں۔ وہ تمنا کرتے ہیں ۔ ود۔ محبت ودود۔ محبت والا۔ (اللہ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے) ۔ ود۔ یود۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ عنتم۔ تم کو مضرت پہنچی۔ تم کو ایذا پہنچی۔ عنت۔ سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ عنت گناہ۔ بدکاری ۔ زنا۔ تکلیف۔ مشقت۔ فساد۔ ہلاکت۔ غلطی۔ جور۔ اذیت۔ افواہہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ افواہ۔ فوہ کی جمع ہے و کو گراکرم سے بدل کر فم بمعنی منہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 بطا نتہ (راز ور) یہ باب نصر سے مصدر ہے اور واحد جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ من دونکم (مسلمانوں کے سوا) اس کا تعلق آیت وان تطیعو افریقامن الذین اوتوا الکتاب سے ہے اور اس میں کفار کی طرف میلان سے ممانعت کی تاکید کی ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اسلام سے پہلے مدینہ کے انصار اور یہود کے درمیان میل جول اور دوستانہ تعلقات قائم تھے پھر جب یہ لوگ مسلمان ہوگئے تو تب ان میں سے بعض لوگوں نے یہود یوں سے ذاتی تعلقات برقرار کھے جن کی وجہ سے بعض راز کی باتیں بھی ان پر افشا کردیتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن جریر) مگر یہ آیت عام ہے اور یہو و نصاری منافقین اور مشرکین سبھی من دونکم میں داخل ہیں اس بنا پر حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اسلامی حکومت میں کسی اسامی پر غیر مسلم سے مشورہ لینا منع ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)3 خبالا فاساد اور شرارت اس میں مذکور (لاتتخذوابطانتہ) کی وجہ اور علت کی طرف سے اشارہ ہے یعنی اگرچہ یہ لوگ اپنی منافقت کی بنا پر تم سے ایسی باتیں کرنا نہیں چاہتے جن سے تمہیں ان کی اسلام دشمنی کا پتہ چل ش کے مگر شدت عداوت کیوجہ سے ان کی زبان پر ایسے الفاظ آہہی جاتے ہیں جن سے تم اندازہ کرسکتے ہو کہ یہ تمہارے خیر خواہ نہیں بلکہ بد ترین دشمن ہیں اور تمہارے خلاف جو جذبات اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ (خازن) یعنی کفار سے ترک موالات کے سلسلہ میں یہود یوں کے بغض وعناد اور ان کے دلی حسد سے متعلق ہم نے پتے ی باتیں کہہ دی ہیں اب غور و فکر کر ما تمہا را کام ہے۔ (روح )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 120 لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) بطانة (رازدار) من دونکم (اپنوں کے علاوہ) لایالون (وہ کمی نہ کریں گے) خبال (برائی ، بربادی) ودوا (وہ پسند کرتے ہیں) عنتم (جو تمہیں بھاری ہے، جو کچھ تم پر سختی ہے) بدت (ظاہر ہوگیا، ظاہر ہو پڑتا ہے) البغضاء (منہ (فوہ، منہ) ماتخفی (جو کچھ چھپاتا ہے) اکبر (بہت زیادہ ہے) عضوا (انہوں نے کاٹا (وہ کاٹتے ہیں) الانامل (انگلیاں) الغیظ (غصہ) موتوا (تم مرجاؤ) ذات الصدور (دلوں والا (وہ دلوں کا حال جانتا ہے) ان تمسسکم (اگر تمہیں پہنچے) تسوء (برامعلوم ہوتا ہے برالگتا ہے) سیئة (وہ خوش ہوتے ہیں) لایضرکم (وہ تمہیں نقصان نہ پہنچائیں گے) کید (فریب) ۔ تشریح : آیت نمبر 118 تا 1120 اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان ہی کے ساتھ نہیں بلکہ ہر انسان کے ساتھ ہمدردی ، مروت ، عہد کی پابندی اور اچھے اخلاق کا معاملہ کرتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتادیا گیا کہ مسلمانوں کی اپنی تنظیم اور ان کے محض شعائر کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ دن اسلام کے منکروں اور باغیوں سے تعلقات ایک خاص حد تک رکھے جائیں کیونکہ اس سے فرد اور ملت دونوں کے لئے شدید تقصانات کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر ایک مسلمان دوسرے کافر سے محض تعلقات کی بناء پر راز کی باتیں بتا دے گا تو کفار مسلمانوں کی بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ خواہ وہ یہودی ہوں یا نصاری یا منافق یہ سب کے سب مسلمانوں اور ان کے مفادات کے سخت دشمن ہیں۔ یہودیوں کے بارے میں یہ بات نقل کی گئی ہے کہ اسلام سے پہلے جن مسلمانوں کے یہودیوں سے ہمسائیگی وغیرہ کی بناء پر دوستانہ تعلقات تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی قائم تھے۔ ان یہودیوں کی دوستی پر اعتماد کرتے ہوئے مسلمان انہیں بعض راز دارانہ باتیں بھی بتا دیا کرتے تھے۔ منافقین کے بارے میں یہ دشواری تھی کہ وہ مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے اور عام مسلمان ان کو مسلمان ہی سمجھتے تھے اس لئے ان سے احتیاط نہ برتتے ہوئے راز کی باتیں بتادیا کرتے تھے ان آیات میں ان ہی لوگوں سے ہوشیار رہنے کے لئے فرمایا گیا کہ اگر تم نے ان یہودیوں اور منافقین پر اعتماد کرکے ان کو راز دار بنالیا تو وہ تمہاری اور اسلام کی دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ لہٰذا ان کو کسی طرح اپنا راز دار نہ بناؤ۔ وہ تمہارے بدخواہ ہیں وہ تمہیں کسی اچھی حالت میں دیکھنا گوارا نہیں کرسکتے اور اگر تم نے صبر وتقوی اختیار کیا تو ان کی چالیں بیکارہوکر رہ جائیں گی کیونکہ اللہ ان پر ہر طرح غالب ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یہاں جو غیر مذہب والوں سے خصوصیت کی ممانعت فرمائی ہے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کو اپنا ہمراز بنایا جائے اور اس میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنے خاص امور انتظامی میں ان کو داخل دیا جائے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مال خرچ کریں اور ہر قسم کی دشمنی روا رکھیں ان کے ساتھ قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو کفار اور اہل کتاب کے بارے میں مسلسل بتلایا جا رہا ہے کہ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ تمہیں دین حق سے پھیر دیں۔ اب دو ٹوک انداز میں حکم دیا گیا ہے کہ انہیں اپنا راز دان بنانے کی کوشش نہ کرنا یہ دین اسلام سے منحرف کرنے کے ساتھ چاہتے ہیں کہ تمہیں ہر قسم کا نقصان پہنچے یہ تمہاری ذات اور دین کے دشمن ہیں، کئی بار اپنی زبان سے حسد و بغض کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کے سینوں میں حسد اور دشمنی کی جو آگ بھڑک رہی ہے اس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہم نے تمہارے سامنے حقیقت حال بیان کردی ہے تاکہ تم عقل و فکر سے کام لو۔ عربی زبان میں ” بِطَانَۃُ ٗ “ استر کو کہتے ہیں جو لباس کے اندر پہنا جاتا ہے جسے بنیان کہا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ اس طرح خلط ملط ہونے کی کوشش نہ کرو کہ وہ تمہاری پالیسیوں اور کمزوریوں سے واقف ہو کر تمہیں نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں۔ اہل کتاب کی دشمنی کی تصویر کا ایک رخ : خیبر کی فتح کے بعد سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھنی ہوئی بکری کا ہدیہ بھیجا۔ اس نے پوچھ رکھا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون سا گوشت زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اسے بتایا گیا کہ دستی کا گوشت پسند فرماتے ہیں۔ اس لیے اس نے دستی میں زہر ملایا اور بعد ازاں بقیہ حصہ بھی زہر آلود کردیا پھر اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھا۔ آپ نے دستی اٹھا کر اس کا ایک ٹکڑا چبایا لیکن نگلنے کے بجائے تھوک دیا۔ فرمایا کہ یہ دستی مجھے بتلا رہی ہے کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے زینب کو بلایا تو اس نے اقرار کرلیا۔ آپ نے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا میں نے سوچا کہ اگر یہ بادشاہ ہے تو ہمیں اس سے نجات مل جائے گی۔ اگر نبی ہے تو اسے خبر دے دی جائے گی۔ اس پر آپ نے اسے معاف کردیا۔ اس موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حضرت بشر بن براء بھی تھے۔ انہوں نے ایک لقمہ نگل لیا تھا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ روایت میں اختلاف ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو معاف کردیا تھا یا قتل کردیا تھا تطبیق اس طرح دی گئی ہے کہ پہلے تو آپ نے معاف کردیا تھا۔ لیکن جب حضرت بشر (رض) کی موت واقع ہوگئی تو پھر قصاص کے طور پر قتل کردیا گیا۔ [ فتح الباری : 497/7] ایک دفعہ امیر المومنین حضرت عمر (رض) کے پاس کسی صحابی نے ایک اہل کتاب کی سفارش کی کہ یہ فن کتابت اور حساب کا ماہر ہے آپ اسے اپنا منشی اور کاتب رکھ لیں۔ امیر المومنین (رض) نے فرمایا کہ میں اسے مسلمانوں کا رازدان نہیں بنا سکتا۔ پھر اس آیت کا حوالہ دیا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ اہل کتاب کو اتنا قریب نہ کرو۔[ ابن کثیر ] حضرت عمر (رض) کے فرمان کا مقصد یہ تھا کہ غیر مسلموں کو اس قسم کے اہم عہدے نہیں دینے چاہییں۔ اسی وجہ سے وہ فوج کے کمانڈروں کو حکم دیتے کہ کفار کے ساتھ جب تمہارے مذاکرات ہوں یا کہیں مشترکہ اجلاس ہوں تو ان کے ساتھ اس طرح خلط ملط نہ ہونا کہ وہ تمہاری فوجی اور اخلاقی کمزوریوں سے واقف ہوجائیں۔ (سیرت الفاروق) ملت اسلامیہ کو سب سے پہلے جو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اس کا بنیادی سبب مسلمانوں کی یہی کمزوری تھی۔ امیر المومنین حضرت عمر (رض) کو ابولؤلؤ ایرانی مجوسی نے صبح کی نماز کے وقت پے در پے خنجر مار کر زخمی کردیا۔ جب اس تکلیف میں حضرت عباس (رض) اور کچھ صحابہ حضرت عمر (رض) کے پاس اظہار افسوس کے لیے آئے تو انہوں نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں توجہ نہیں دلایا کرتا تھا کہ غیر مسلم غلام اپنے قریب نہ آنے دیا کرو۔ لیکن آپ لوگوں نے اسے درخور اعتنانہ سمجھا۔ اب اس کا نتیجہ دیکھ رہے ہو۔ [ البدایۃ والنہایۃ ] مسائل ١۔ کفار سے دلی دوستی کرنا منع ہے۔ ٢۔ کفار مسلمانوں کو تکلیف دینے میں ذرہ بھر کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ٣۔ کفار مسلمانوں کو ہر وقت تکلیف میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن کفار اور یہود ونصارٰی کے ساتھ دوستی منع ہے : ١۔ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کی ممانعت۔ (الممتحنۃ : ١) ٢۔ کفار کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ (الانعام : ١٥٠) ٣۔ کفار کی اطاعت کا نقصان۔ (آل عمران : ١٤٩) ٤۔ کافر مسلمانوں کے ہمدرد نہیں ہوسکتے۔ (آل عمران : ١١٩۔ ١٢٠) ٥۔ اہل کتاب مسلمانوں کو اپنے پیچھے لگائے بغیرخوش نہیں ہوسکتے۔ (البقرۃ : ١٢٠) ٦۔ اہل کتاب چاہتے ہیں کہ مسلمان مشکلات میں پھنسے رہیں۔ (آل عمران : ١١٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ایک مکمل تصویر ہے ‘ جو نفس انسانی کی اندرونی کیفیات کی مظہر ہے۔ جو انسان کے ظاہری خدوخال کو بھی پیش کرتی ہے اور اس کی باطنی کیفیات کو اچھی طرح دکھاتی ہے اور انسان کے ظاہری تاثرات کو بھی دکھاتی ہے اور انسان کی آنے اور جانے والی حرکات کا اظہار بھی اس سے ہوتا ہے ۔ اس تصویر میں ایک ایسے انسان کا نمونہ پیش کیا جاتا ہے جو آئے دن ہر جگہ اور ہر زمانے میں ہماری نظروں کے سامنے آتا رہتا ہے اور جماعت مسلمہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے دشمنوں میں کل بھی یہ نمونے نظر آتے تھے اور آج بھی نظر آتے ہیں ۔ یہ ایسے نمونے ہیں کہ جب مسلمانوں کا غلبہ نصیب ہو تو وہ ان کے دوست بن جاتے ہیں لیکن ان کے دل کی ہر دھڑکن ان کی تکذیب کرتی ہے اور ان کا ہر عضو ان کو جھٹلاتا ہے لیکن مسلمان ان سے دھوکہ کھاتے ہیں اور وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور ان پر اعتماد کرتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں وہ لوگ مسلمانوں کے لئے صرف بےچینی اور ناکامی ہی کو پسند کرتے ہیں اور وہ مسلمانوں کو نافرمان بنانے اور ان کے راستوں میں کانٹے بچھانے میں کو فروگذاشت نہیں کرتے ۔ وہ ہر وقت ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں جب بھی انہیں فرصت ملے چاہے رات کو ملے یا دن کو ملے۔ یہ تصویر جس کے عجیب خدوخال قرآن کریم نے بتائے ہیں ‘ اور جس کا اطلاق سب سے پہلے ان اہل کتاب پر ہوتا تھا جو مدینہ میں مسلمانوں کے پڑوس میں رہتے تھے ۔ یہ ایسی تصویر ہے جو اپنے فیچرز سے اس بات کا اظہار کررہی ہے کہ یہ لوگ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف جو پے پناہ کینہ اپنے دلوں میں رکھتے تھے وہ اسے چھپا رہے تھے ۔ یہ رات دن مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیار کررہے تھے ‘ اور مسلمانوں کی نسبت ان کی نیت میں ہر وقت کھوٹ پایا جاتا تھا ۔ اور ان کے ان پوشیدہ جذبات میں ہر وقت ابال آتا رہتا تھا ‘ اس کے برخلاف سادہ دل مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ ابھی تک ان میں سے بعض لوگوں کو ان کے بارے میں غلط فہمی تھی ‘ بعض لوگ ابھی تک ان کے لئے اپنے دل میں محبت رکھتے تھے ‘ اور ابھی تک ان کو یہ اطمینان تھا کہ اگر ہم ان کو کوئی راز بتادیں تو وہ انہیں بطور امانت محفوظ رکھیں گے ۔ اس لئے انہوں نے ان اہل کتاب میں سے بعض لوگوں کو جگری دوست ‘ ساتھی اور رازدان بنالیا تھا اور وہ جماعت کے اندرونی راز تک انہیں بتانے سے نہ چوکتے تھے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں یہ روشنی دی گئی جس میں جماعت مسلمہ نے ان کے اندروں کو دیکھ لیا اور حقیقت سے آگاہ ہوگئے ۔ اور اس روشنی کے ساتھ انہیں یہ سخت تنبیہ کی گئی اور انہیں اپنے ان قدرتی دشمنوں کے خفیہ منصوبوں اور سازشوں سے آگاہ کیا گیا ‘ اور یہ بتایا گیا کہ وہ ایسے دشمن ہیں جو کبھی ان کے لئے مخلص نہیں ہوسکتے ‘ مسلمانوں کی جانب سے محبت اور ہم نشینی ان کے اس دلی بغض کو صاف نہیں کرسکتی ‘ یہ تبصرہ اور یہ تنبیہ اسلامی تاریخ کے کسی خاص دور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ‘ بلکہ یہ ایک دائمی حقیقت ہے ‘ یہ ایک دائمی صورت حال کا مقابلہ ہے اور اس کا مصداق ہم اپنے موجودہ دور میں ایک کھلے مشاہدے کے بطور پر اپنے سامنے پاتے ہیں۔ آج مسلمان اپنے رب کریم کے اس حکم سے غافل ہیں ‘ اس نے حکم دیا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کے ساتھ دوستی نہ رکھیں خصوصاً ایسے لوگوں کے ساتھ جو ان کے مقابلے میں اپنی اصلیت کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں ‘ نظام زندگی کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں اور اپنے وسائل کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں ۔ اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ ان پر اعتماد نہ کریں ‘ ان کو راز دان نہ بنائیں اور ان سے کوئی مشورہ نہ لیں ۔ لیکن مسلمانوں کی غفلت کی انتہاء ہے کہ وہ اپنے رب حکیم کا یہ مشورہ بھول چکے ہیں اور ایسے لوگوں کو انہوں نے اپنے لئے ہر معاملے میں مشیر اور مرجع بنایا ہوا ہے ۔ ہر معاملے میں ‘ ہر موضوع پر اور ہر مسئلے کے بارے میں ‘ ہر سوچ میں ‘ ہر فکر میں ‘ ہر منہاج میں اور ہر طریقہ کار میں انہوں نے ان لوگوں کو اپنا استاد ومرشد بنارکھا ہے ۔ اللہ کی اس سخت تنبیہ و تخویف سے آج مسلمان غافل ہیں ‘ وہ ان لوگوں سے دوستی کررہے ہیں جو اللہ اور رسول کے دشمن ہیں ‘ انہوں نے اپنے دل و دماغ کے دریچے ان دشمنوں کے لئے وا کردیئے ہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ پہلی جماعت مسلمہ سے بھی کہتے ہیں اور آج کی جماعت مسلمہ کو بھی کہتے ہیں اور ہر دور کی جماعت مسلمہ کو بھی کہتے ہیں اور آگاہ کرتے ہیں۔ وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ” تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے ۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کو راز دار نہ بناؤ ان آیات میں دشمنان اسلام کی دشمنی کو خوب زیادہ واضح کرکے بیان فرمایا ہے اور چونکہ وہ دشمن ہیں اس لیے دشمن سے دشمنی ہی کی امید رکھی جاسکتی ہے سب سے پہلے ارشاد فرمایا کہ اپنے علاوہ دوسرے لوگوں کو اپنا راز دار مت بناؤ وہ تمہیں بگاڑنے اور خراب کرنے میں ذرا سی بھی کسر نہ چھوڑیں گے اور اس میں کوئی دقیقہ اٹھا کر نہ رکھیں گے۔ مسلمانوں کی بد حالی : تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی بھی اس نصیحت کے خلاف کیا ہے مسلمانوں نے مار کھائی، دشمن اسی طریقہ سے قابو پاتا ہے کہ وہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کو مال دے کر یا عہدے دے کر اپنا ہمنوا بنا لیتا ہے یہ مال کے لالچی اور عہدوں کے حریص دشمنوں کے سامنے مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی خفیہ باتیں سب اگل دیتے ہیں، دشمنوں نے مسلمانوں کے ملکوں میں مسلمانوں میں سے ایسے جاسوس بنا رکھے ہیں جو ہر چھپی ڈھکی بات اور ہر خفیہ مشورہ دشمنوں تک پہنچا دیتے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کی حکومتیں زیر و زبر ہوتی رہتی ہیں، اہم افراد قتل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کا کلمہ پڑھنے کے باوجود اسلام کو اور مسلمان کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ کافروں کو خیر خواہ سمجھنے کی بیوقوفی : دشمن سے تو کبھی بھی کسی طرح کی دوستی کرنے کی گنجائش ہی نہیں مسلمانوں کی بعض حکومتیں دشمنوں کے بل بوتے پر قائم ہیں اور اس ڈر سے کہ وہ حکومت کسی اور کو نہ دلا دیں دشمنوں کی ہر بات مانتے ہیں اور جس طرح دشمن کہتے ہیں اسی طرح کرتے ہیں۔ دشمنوں نے سمجھا رکھا ہے کہ عوام کو بہکانے کے لیے کہتے رہو کہ ہم اسلام قائم کریں گے، اگر کوئی شخص واقعی اسلام لانے لگے تو وہ مقتول یا معزول ہوجاتا ہے دشمن کے سہارے اقتدار لے کر بیٹھنا ہی اسلام کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ دشمن تو مسلمانوں کی تکلیف سے خوش ہیں جیسا کہ رب العزت جل شانہٗ نے فرمایا ودوا ما عنتم کفر ملت واحدہ ہے سارے کافر خواہ کسی بھی دین سے تعلق رکھتے ہوں اندر سے سب ایک ہیں اور مسلمانوں کے دشمن ہیں جب کبھی موقعہ آتا ہے ان کی وحدت کا مظاہرہ ہوجاتا ہے ان میں سے بہت سے لوگ صاف اور صریح الفاظ میں اسلام دشمنی کا اعلان کر بھی دیتے ہیں جیسا کہ زمانہ نبوت میں یہودیوں نے کیا تھا اسی کو فرمایا : (قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُ ) (کہ ظاہر ہوچکا ہے بغض ان کے مونہوں سے اور جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بڑھ کر ہے) ۔ مسلمانوں کو بار بار جھنجھوڑ کر ارشاد فرمایا : (قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ) (کہ بلاشبہ ہم نے تمہارے لیے آیات بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

178 یہ آیت مؤمنین کے لیے زجر ہے اس میں ماقبل سے ترقی کر کے فرمایا کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر بھی کرتے رہو اور غیر مسلموں سے پوشیدہ اور گہری دوستی بھی مت رکھو۔ قالہ الشیخ بطانة کے معنی راز دار دوست یعنی جس کے سامنے آدمی اپنے تمام ملی اور ذاتی راز کہہ ڈالے۔ وبطانۃ الوجل خاصتہ الذین یستنبطون امرہ (قرطبی ص 178 ج 4) اسلام سے پہلے انصار کے بعض قبیلوں کے کچھ قرب و جوار کی بنا پر اور کچھ مابین القبائلی معاہدات کی بنا پر یہود سے دوستانہ تعلقات تھے یہ تعلقات اسلام کے بعد انصار نے بدستور قائم رکھے۔ ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ دار الاسلام بن گیا۔ اور اسلام دن بدن ترقی کرنے لگا تو ان یہودیوں نے انصار دوستانہ تعلقات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اندر ہی اندر مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کردیں ظاہری طور پر مسلمانوں کے گہرے دوست بنے ہوئے تھے لیکن دلوں میں مسلمانوں کے خلاف سخت عداوت رکھتے تھے اور مسلمانوں سے ان کے پوشیدہ راز حاصل کر کے کافروں کو پہنچاتے رہتے اور ہر ممکن طریق سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ جن میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صورت حال سے آگاہ فرمایا اور ان کو یہودیوں سے دوستانہ تعلقات رکھنے سے روک دیا۔ قال ابن عباس کان رجال من المسلمین یوصلون الیھود لما بینھم من المقرابۃ والصداقۃ والحلف والجوار والرضاع فانزل اللہ عز وجل ھذہ الایۃ ونھا ھم عن مباطنتھم خوف الفتنۃ (خازن ص 342 ج 1) لا یالونکم خبالا خبال کے معنی فساد اور شرارت کے ہیں۔ یعنی یہ یہودی اگرچہ ظاہری تعلقات کی بنا پر تمہارے خلاف جنگ میں علانیہ شریک نہیں ہوں گے۔ لیکن خفیہ طور پر تمہارے خلاف مکروفریب اور سازشیں کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑیں گے۔ 179 ظاہر میں تو وہ تمہارے جان دوست بنے ہوئے ہیں اور تمہاری خیر خواہی کرتے ہیں لیکن ان کی دلی آرزو اور خواہش یہ ہے کہ تمہیں کوئی فائدہ اور آرام و راحت میسر نہ ہو اور تم سخت تکلیف اور مشقت میں مبتلا رہو ان کی دلی عداوت اور ان کی کا اندرونی بغض وحسد ان کی زبانوں سے کئی بار ظاہر ہوچکا ہے یہودی اگرچہ اپنے مبغضانہ جذبات کو چھپانے کی کوشش کرتے۔ لیکن شدت عداوت کی بنا پر بعض دفعہ غیر اختیاری اور غیر شعوری طور پر ان کی زبانوں سے ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں۔ جن سے ان کی خفیہ عداوت ظاہر ہوجاتی۔ وَمَاتُخْفِیْ صُدُوْرَھُمْ اَکْبَر۔ زبان سے تو وہ کھل کر عداوت وتکذیب کا اظہار نہیں کرتے ان کی باتوں سے جو بغض وعداوت کا ظہور ہوتا ہے۔ یہ اس عداوت اور بغض وحسد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ جو تمہارے خلاف ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے۔ یعنی من العداوۃ والغیظ اکبر ای مما یظھرونہ (خازن ص 343 ج 1) حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ کے عالموں اور پیروں کے جو حالات اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں وہ آج کل کے علماء سوء اور پیران سیاہ کار پر پوری طرح منطبق ہیں اس طرح ان آیات کا حل آسان ہوجاتا ہے۔ 180 کفار سے ترک موالات کے بارے میں ہم نے کھلے الفاظ میں اپنے احکام دے دئیے ہیں اور وہ آیتیں کھول کر بیان کردی ہیں جن میں کفار کی دوستی سے روکا گیا ہے۔ ای اظھرنا لکم الایات الدالۃ علی النھی عن موالات اعداء اللہ تعالیٰ ورسولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (روح ص 38 ج 4) یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان یہودیوں کے بغض وعناد اور حسد وعداوت کی نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ ان کو فوراً پہچان لو اور ان سے علیحدہ رہو۔ او قد اظھرنا لکم الدلالات الواضحات لاتی یتمیز بھا الولی من العدو (روح ص 38 ج 4) قومی اور ملی دشمنوں سے دوستانہ تعلقات سیاسی نتائج کے لحاظ سے بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں بعض اوقات دشمن کو کئی کلیدی رازوں کا پتہ چل جاتا ہے جس سے کئی اہم جنگی اور دوسرے تعمیری منصوبے ناکام ہوجاتے ہیں۔ جنگ جیتنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی خفیہ جنگی تدبیروں کو دشمن کی رسائی سے بالا تر رکھا جائے۔ یہ وقت چونکہ مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کا تھا اس لیے مسلمانوں کو خبردار کردیا گیا تاکہ وہ محتاط رہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اے ایمان والو تم اپنی جماعت اور اپنے لوگوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگوں میں سے کسی کو اپنا راز دارانہ بنائو کیونکہ وہ لوگ تمہارے ساتھ فساد کرنے میں اور تمہارے خلاف فتنہ انگیزی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے اور کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے جس چیز سے تم کو نقصان پہنچے وہ ان کو محبوب ہے اور یہ لوگ تمہارے ضرر کو دل سے دوست رکھتے ہیں جو چیز بھی تمہارے لئے موجب مشقت و تکلیف ہو اس کی یہ تمنا رکھتے ہیں ان کے دل کے بغض کا یہ عالم ہے کہ حقیقتاً وہ بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے یعنی بات چیت میں ان کے منہ سے ان کے دل کا بغض ظاہر ہوجاتا ہے اور جو دشمنی اور بغض ان کے سینوں میں بھرا ہوا ہے اور ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو کبھی کبھی ان کے منہ سے ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ دیکھو ! ہم نے تم کو پتے کی باتیں بتادی ہیں اور ان کی عداوت و بغض کی علامات ظاہر کردی ہیں بشرطیکہ تم عقل رکھتے ہو اور سمجھ سے کام لو۔ (تیسیر) بطانۃ اصل میں نیچے کی چیز کو کہتے ہیں جیسے لحاف وغیرہ کا استر یہاں وہ شخص مراد ہے جس کو اپنی پوشیدہ بات سے واقف کرنے اور اطلاع دینے کے لئے خاص کر لیاجائے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ کسی کو اپنے بھید اور راز بتانے کے لئے مخصوص نہ کرو۔ خبال اس فساد اور خرابی کو کہتے ہیں جو حیوان کو مضطرب کر دے۔ جیسے جنون یا کوئی اور ایسا مرض جس سے عقل خراب ہوجائے۔ یہاں شر اور فساد اور فتنہ انگیزی وغیرہ مراد ہے۔ ھنت کے معنی مشقت اور کسی ایسے امر میں مبتلا کردینا جس میں انسان کے تلف ہوجانے کا اندیشہ ہو یہاں مطلب یہ ہے کہ کافر ایسی چیزوں کے متمنی رہتے ہیں جو تم کو پریشانی اور تباہی میں مبتلا کرنے والی ہیں۔ الی۔ یالو کے معنی ہیں کمی کرنا، کوتاہی کرنا، یہاں مطلب یہ ہے کہ تمہاری تباہی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے یہ لوگ جانے نہیں دیتے ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ مدینہ کی ہجرت اور مسلمانوں کا اقتدار شروع ہونے کے بعد مدینہ اور اس کے آس پاس کی بستیاں سازشوں کی ایک آماجگاہ بنی ہوئی تھیں ہر وقت مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوتی رہتی تھیں۔ خواہ وہ یہود کی جانب سے ہوں یا منافقین کی جانب سے یا سب کافر اور اہل کتاب ان سازشوں میں شریک ہوں پھر یہ کہ اسلام سے پہلے ان سب کے آپس میں بڑے گہرے تعلقات تھے کوئی کسی کا حلیف تھا اور کوئی کسی کا۔ اب اسلام کے بعد ایک عجیب صورت پیدا ہوگئی برسوں کے تعلقات اور آپس کا ملنا جلنا اور دوستانے اب بھی قائم رکھے گئے، مہاجرین تو خیر مکہ سے آئے تھے ان کے تعلقات تو کافروں سے نہ تھے لیکن انصار کے اکثر تعلقات تھے حالات ساز گار ہوں تو اس قسم کے تعلقات زیادہ خطرناک نہیں ہوتے آدمی دشمن کے ساتھ بھی بعض حالات میں مل بیٹھتا ہے لیکن مدینہ میں جو حالت تھی وہ بالکل مختلف اور ناسازگار تھی مسلمان علیحدہ اپنے بچائو اور ترقی کی صورتوں پر غور کرتے تھے اور کافر الگ مسلمانوں کو ختم کرنے کی سکیمیں بناتے تھے اگر ان حالات میں بھی سابقہ میل جول اور دوستانے قائم رکھے جاتے تو یقیناً اس کا خطرہ تھا کہ مسلمانوں کی بعض جنگی اسکیمیں کافروں کو معلوم ہوجاتیں اور ان اسکیموں کے ظاہر ہوجانے سے مسلمانوں کو سیاسی نقصان پہنچتا اس لئے مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا کہ اب ان دوستانوں کو ختم کیا جائے اور اس میل جول اور خصوصی تعلقات سے اجتناب کرو اور اس قسم کے تعلقات کو روکنے کے لئے دو ہی صورتیں ہوسکتی تھیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کو ان تعلقات کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے دوسرے یہ کہ کافروں کے صحیح جذبات سے مسلمانوں کو مطلع کیا جائے۔ مسلمانوں کے برتائو اور کافروں کے برتائو کے فرق کو نمایاں کیا جائے۔ چنانچہ اس آیت میں اور آگے کی آیتوں میں ان دونوں پہلوئوں کا اظہار فرمایا ہے اور جن باتوں کو اس پارے کے پہلے رکوع میں اشارتاً فرمایا تھا یہاں ان کو تفصیل سے ذکر کیا ہے اور کافروں سے مخصوص اور راز دارانہ تعلقات میں جو دینی اور دنیوی مضرتیں مخفی تھیں ان سے مسلمانوں کو مطلع کیا گیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مسلمانوں کو کافروں سے دوستی نہ کرنی چاہئے وہ ہر طرح دشمن ہیں۔ (موضح القرآن) ہم کفار کے تعلقات کی تشریح اسی صورت کے تیسرے رکوع میں عرض کرچکے ہیں ایک عام ضابطہ یاد رکھنا چاہئے نہ تو سب کافر برابر ہیں نہ زمانے کے حالات ہمیشہ یکساں ہیں اقتدار کے زمانے کے احکام اور ہیں غلامی کے دور کے احکام اور ہیں ایک غیر متعصب کافر کے احکام دوسرے ہیں اور متعصب کفار کے احکام جدا ہیں اور یہ تمام تفصیل کتب فقہ میں مل سکتی ہے اور بعض مواقع پر جصاص رازی نے بھی بعض آیات کے تحت میں اس قسم کے مسائل کو وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے اگرچہ یہاں سخت معاندین کا ذکر ہے اور مدینہ کے حالات بھی ایسے ہی تھے کہ مسلمانوں کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت تھی پھر بھی اس امر کی ضرورت ہے کہ کفار سے تعلقات میں ہمیشہ اور ہر حال میں احتیاط کرنی چاہئے اور راز دار تو کسی صورت میں بھی بنانا نہیں چاہئے۔ حضرت فاروق اعظم تو اپنی خلافت کے زمانے میں کسی غیر مسلم کو اپنا کاتب بھی نہیں مقرر کرتے تھے۔ اور یہ جو فرمایا کہ عداوت و بغض ان کے منہ سے ٹپکا پڑتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ لاکھ یہ بچا بچا کر گفتگو کرتے ہیں مگر ان کے دل کی خباثت کا اظہار کبھی کبھی ہو ہی جاتا ہے اور باقی جو کچھ ان کے سینوں میں بھرا ہوا ہے تو وہ تو بہت زیادہ ہے۔ اب آگے ان کے اور جذبات فاسدہ کا اظہار فرماتے ہیں اور یہ بات بتاتے ہیں کہ تم میں اور ان میں بڑا فرق ہے۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)