Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 121

سورة آل عمران

وَ اِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَہۡلِکَ تُبَوِّئُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲۱﴾ۙ

And [remember] when you, [O Muhammad], left your family in the morning to post the believers at their stations for the battle [of Uhud] - and Allah is Hearing and Knowing -

اے نبی! اس وقت کو بھی یاد کرو جب صبح ہی صبح آپ اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعدہ بٹھا رہے تھے اللہ تعالٰی سننے اور جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Battle of Uhud According to the majority of scholars, these Ayat are describing the battle of Uhud, as Ibn Abbas, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi and others said. The battle of Uhud occurred on a Saturday, in the month of Shawwal on the third year of Hijrah. Ikrimah said that Uhud occurred in the middle of the month of Shawwal, and Allah knows best. The Reason Behind the Battle of Uhud The idolators suffered many casualties among their noble men at the battle of Badr. The caravan that Abu Sufyan led (before Badr) returned safely to Makkah, prompting the remaining Makkan leaders and the children of those who were killed at Badr to demand from Abu Sufyan to, "Spend this money on fighting Muhammad!" Consequently, they spent the money from the caravan on warfare expenses and mobilized their forces including the Ahabish tribes (tribes living around the city). They gathered three thousand soldiers and marched until they camped near Uhud facing Al-Madinah. The Messenger of Allah led the Friday prayer and when he finished with it, he performed the funeral prayer for a man from Bani An-Najjar called Malik bin Amr. The Prophet then asked the Muslims for advice, if they should march to meet the disbelievers, or fortify themselves in Al-Madinah. Abdullah bin Ubayy (the chief hypocrite) advised that they should remain in Al-Madinah, saying that if the disbelievers lay siege to Al-Madinah, the siege would be greatly disadvantageous to them. He added that if they decide to attack Al-Madinah, its men would face off with them, while women and children could throw rocks at them from above their heads; and if they decide to return to Makkah, they would return with failure. However, some companions who did not attend the battle of Badr advised that the Muslims should go out to Uhud to meet the disbelievers. The Messenger of Allah went to his home, put on his shield and came out. The companions were weary then and said to each other, "Did we compel the Messenger of Allah to go out?" They said, "O Messenger of Allah! If you wish, we will remain in Al-Madinah." The Messenger of Allah said, مَا يَنْبَغِي لِنَبِيَ إِذَا لَبِسَ لاَاْمَتَهُ أَنْ يَرْجِعَ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ لَه It is not for a Prophet to wear his shield for war then lay down his arms before Allah decides in his favor. The Messenger of Allah marched with a thousand of his Companions. When they reached the Shawt area, Abdullah bin Ubayy went back to Al-Madinah with a third of the army, claiming he was angry the Prophet did not listen to his advice. He and his supporters said, "If we knew that you would fight today, we would have accompanied you. However, we do not think that you will fight today." The Messenger of Allah marched until he reached the hillside in the area of Uhud, where they camped in the valley with Mount Uhud behind them. The Messenger of Allah said, لاَا يُقَاتِلَنَّ أَحَدٌ حَتَّى نَأْمُرَهُ بِالْقِتَال No one starts fighting until I issue the command to fight. The Messenger prepared his forces for battle, and his army was seven hundred men. He appointed Abdullah bin Jubayr, from Bani Amr bin Awf, to lead the archers who were fifty men. The Prophet said to them, انْضَحُوا الْخَيْلَ عَنَّا وَلاَ نُوْتَيَنَّ مِنْ قِبَلِكُمْ وَالْزَمُوا مَكَانَكُمْ إِنْ كَانَتِ النَّوْبَةُ لَنَا أَوْ عَلَيْنَا وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ فَلَ تَبْرَحُوا مَكَانَكُم Keep the horsemen away from us, and be aware that we might be attacked from your direction. If victory was for or against us, remain in your positions. And even if you see us being picked up by birds, do not abandon your positions. The Prophet wore two protective shields and gave the flag to Mus`ab bin Umayr of Bani Abd Ad-Dar. The Prophet also allowed some young men to participate in fighting, but not others, whom he allowed to participate in the battle of Al-Khandaq two years later. The Quraysh mobilized their forces of three thousand men with two hundred horsemen on each flank. They appointed Khalid bin Al-Walid to lead the right side of the horsemen and Ikrimah Ibn Abi Jahl on the left side. They also gave their grand flag to the tribe of Bani Abd Ad-Dar. Allah willing, we will mention the details of this battle later on, if Allah wills. Allah said here, وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّىءُ الْمُوْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ... And (remember) when you left your household in the morning to post the believers at their stations for the battle, designating them to various positions, dividing the army to the left and right sides and placing them wherever you command them. ... وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ And Allah is All-Hearer, All-Knower. He hears what you say and knows what you conceal in your hearts. Allah said next, إِذْ هَمَّت طَّأيِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَ وَاللّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُوْمِنُونَ

غزوہ احد کی افتاد یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے بعض مفسرین نے اسے جن خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا ، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی انکے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے ، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آگیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کرکے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی ، ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو کے جنازے کی نماز پڑھائی جو قبیلہ بنی النجار میں سے تھے پھر لوگوں سے مشورہ کیا کہ ان کی مدافعت کی کیا صورت تمہارے نزدیک بہتر ہے؟ تو عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ہمیں مدینہ سے باہر نہ نکلنا چاہئے اگر وہ آئے اور ٹھہرے تو گویا ہمارے جیل خانہ میں آگئے رکے اور کھڑے رہیں اور اگر مدینہ میں گھسے تو ایک طرف سے ہمارے بہادروں کی تلواریں ہوں گی دوسری جانب تیر اندازوں کے بےپناہ تیر ہوں گے پھر اوپر سے عورتوں اور بچوں کی سنگ باری ہو گی اور اگر یونہی لوٹ گئے تو بربادی اور خسارے کے ساتھ لوٹیں گے لیکن اس کے برخلاف بعض صحابہ جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے ان کی رائے تھی کہ مدینہ کے باہر میدان میں جا کر خوب دل کھول کر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر باہر آئے ان صحابہ کو اب خیال ہوا کہ کہیں ہم نے اللہ کے نبی کی خلاف منشاء تو میدان کی لڑائی پر زور نہیں دیا اس لئے یہ کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہیں ٹھہر کر لڑنے کا ارادہ ہو تو یونہی کیجئے ہماری جانب سے کوئی اصرار نہیں ، آپ نے فرمایا اللہ کے نبی کو لائق نہیں کہ وہ ہتھیار پہن کر اتارے اب تو میں نہ لوٹوں گا جب تک کہ وہ نہ جائے جو اللہ عزوجل کو منظور ہو چنانجہ ایک ہزار کا لشکر لے کر آپ مدینہ شریف سے نکل کھڑے ہوئے ، شوط پر پہنچ کر اس منافق عبداللہ بن ابی نے دغا بازی کی اور اپنی تین سو کی جماعت کو لے کر واپس مڑ گیا یہ لوگ کہنے لگے ہم جانتے ہیں کہ لڑائی تو ہونے کی نہیں خواہ مخواہ زحمت کیوں اٹھائیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور صرف سات سو صحابہ کرام کو لے کر میدان میں اترے اور حکم دیا کہ جب تک میں نہ کہوں لڑائی شروع نہ کرنا پچاس تیر انداز صحابیوں کو الگ کر کے ان کا امیر حضرت عبداللہ بن جبیر کو بنایا اور ان سے فرما دیا کہ پہاڑی پر چڑھ جاؤ اور اس بات کا خیال رکھو کہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو دیکھو ہم غالب آ جائیں یا ( اللہ نہ کرے ) مغلوب ہو جائیں تم ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹنا ، یہ انتظامات کر کے خود آپ بھی تیار ہو گئے دوہری زرہ پہنی حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جھنڈا دیا آج چند لڑکے بھی لشکر محمدی میں نظر آتے تھے یہ چھوٹے سپاہی بھی جانبازی کیلئے ہمہ تن مستعد تھے بعض اور بچوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ لیا تھا انہیں جنگ خندق کے لشکر میں بھرتی کیا گیا جنگ خندق اس کے دو سال بعد ہوئی تھی ، قریشی کا لشکر بڑے ٹھاٹھے سے مقابلہ پر آڈٹا یہ تین ہزار سپاہیوں کا گروہ تھا ان کے ساتھ دو سو کوتل گھوڑے تھے جنہیں موقعہ پر کام آنے کیلئے ساتھ رکھا تھا ان کے داہنے حصہ پر خالد بن ولید تھا اور بائیں حصہ پر عکرمہ بن ابو جہل تھا ( یہ دونوں سردار بعد میں مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) ان کا جھنڈے بردار قبیلہ بنو عبدالدار تھا ، پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے تفصیلی واقعات انہی آیتوں کی موقعہ بہ موقعہ تفسیر کے ساتھ آتے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ الغرض اس آیت میں اسی کا بیان ہو رہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف سے نکلے اور لوگوں کو لڑائی کے مواقعہ کی جگہ مقرر کرنے لگے میمنہ میسرہ لشکر کا مقرر کیا اللہ تعالیٰ تمام باتوں کو سننے والا اور سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے ، روایتوں میں یہ آچکا ہے کہ حضور علیہ السلام جمعہ کے دن مدینہ شریف سے لڑائی کیلئے نکلے اور قرآن فرماتا ہے صبح ہی صبح تم لشکریوں کی جگہ مقرر کرتے تھے تو مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن تو جا کر پڑاؤ ڈال دیا باقی کاروائی ہفتہ کی صبح شروع ہوئی ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ تمہارے دو گروہوں بزدلی کا ارادہ کیا تھا گو اس میں ہماری ایک کمزوری کا بیان ہے لیکن ہم اپنے حق میں اس آیت کو بہت بہتر جانتے ہیں کیونکہ اس میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اللہ ان دونوں کا ولی ہے پھر فرمایا کہ دیکھو میں نے بدر والے دن بھی تمہیں غالب کیا حالانکہ تم سب ہی کم اور بےسرد سامان تھے ، بدر کی لڑائی سن 2 ہجری 17 رمضان بروز جمعہ ہوئی تھی ۔ اسی کا نام یوم الفرقان رکھا گیا اس دن اسلام اور اہل اسلام کی عزت ملی شرک برباد ہوا محل شرک ویران ہوا حالانکہ اس دن مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے فقط ستر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے ہتھیار بھی اتنے کم تھے کہ گویا نہ تھے اور دشمن کی تعداد اس دن تین گنہ تھی ایک ہزار میں کچھ ہی کم تھے ہر ایک زرہ بکتر لگائے ہوئے ضرورت سے زیادہ وافر ہتھیار عمدہ عمدہ کافی سے زیادہ مالداری گھوڑے نشان زدہ جن کو سونے کے زیور پہنائے گئے تھے اس موقعہ پر اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت اور غلبہ دیا حالات کے بارے میں ظاہر و باطن وحی کی اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو سرخرو کیا اور شیطان اور اس کے لشکریوں کو ذلیل و خوار کیا اب اپنے مومن بندوں اور جنتی لشکریوں کو اس آیت میں یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ تمہاری تعداد کی کمی اور ظاہری اسباب کی غیر موجودگی کے باوجود تم ہی کو غالب رکھا تا کہ تم معلوم کر لو کہ غلبہ ظاہری اسباب پر موقوف نہیں ، اسی لئے دوسری آیت میں صاف فرما دیا کہ جنگ حنین میں تم نے ظاہری اسباب پر نظر ڈالی اور اپنی زیادتی دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اس زیادتی تعداد اور اسباب کی موجودگی نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا ، حضرت عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ہمارے پانچ سردار تھے حضرت ابو عبیدہ ، حضرت یزید بن ابو سفیان حضرت ابن حسنہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض اور خلیفتہ المسلمین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حکم تھا کہ لڑائی کے وقت حضرت ابو عبیدہ سردار ہوں گے اس لڑائی میں ہمیں چاروں طرف سے شکست کے آثار نظر آنے لگے تو ہم نے خلیفہ وقت کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر رکھا ہے امداد کیجئے ، فاروق کا مکتوب گرامی ہماری گزارش کے جواب میں آیا جس میں تحریر تھا کہ تمہارا طلب امداد کا خط پہنچائیں تمہیں ایک ایسی ذات بتاتا ہوں جو سب سے زیادہ مددگار اور سب سے زیادہ مضبوط لشکر والی ہے وہ ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے جس نے اپنے بندے اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد بدر والے دن کی تھی بدری لشکر تو تم سے بہت ہی کم تھا میرا یہ خط پڑھتے ہی جہاد شروع کر دو اور اب مجھے کچھ نہ لکھنا نہ کچھ پوچھنا ، اس خط سے ہماری جراتیں بڑھ گئیں ہمتیں بلند ہو گئیں پھر ہم نے جم کر لڑنا شروع کیا الحمد اللہ دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے ہم نے بارہ میل تک انکا تعاقب کیا بہت سا مال غنیمت ہمیں ملا جو ہم نے آپس میں بانٹ لیا پھر حضرت ابو عبیدہ کہنے لگے میرے ساتھ دوڑ کون لگائے گا ؟ ایک نوجوان نے کہا اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں چنانچہ دوڑنے میں وہ آگے نکل گئے میں نے دیکھا ان کی دونوں زلفیں ہوا میں اڑ رہی تھیں اور وہ اس نوجوان کے پیچھے گھوڑا دوڑائے چلے جا رہے تھے ، بدر بن نارین ایک شخص تھا اسکے نام سے ایک کنواں مشہور تھا اور اس میدان کا جس میں یہ کنواں تھا یہی نام ہو گیا تھا بدر کی جنگ بھی اسی نام سے مشہور ہو گئی یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو تا کہ شکر کی توفیق ملے اور اطاعت گزاری کر سکو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

121۔ 1 جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد جنگ احد کا واقعہ ہے جو شوال 3 ہجری میں پیش آیا۔ اس کا پس منظر مختصراً یہ ہے کہ جب جنگ بدر 2 ہجری میں کفار کو عبرت ناک شکست ہوئی، ان کے سترّ آدمی مارے گئے اور ستّر قید ہوئے تو کفار کے لئے یہ بدنامی کا باعث اور مرنے کا مقام تھا، چناچہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک زبردست انتقامی جنگ کی تیاری کی جس میں عورتیں بھی شریک ہوئیں۔ ادھر مسلمانوں کو جب اس کا علم ہوا کہ کافر تین ہزار کی تعداد میں احد پہاڑ کے نزدیک خیمہ زن ہوگئے ہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اندر رہ کر ہی مقابلہ کا مشورہ دیا اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا۔ لیکن اس کے برعکس بعض پر جوش صحابہ کرام نے جنہیں جنگ بدر میں حصہ لینے کی سعادت حاصل نہیں ہوئی تھی، مدینہ کے باہر جاکر لڑنے کی حمایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اندر حجرے میں تشریف فرما تھے ہتھیار پہن کر باہر آئے، دوسری رائے والوں کو ندامت ہوئی کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کی خواہش کے برعکس باہر نکلنے پر مجبور کرکے ٹھیک نہیں کیا چناچہ انہوں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اگر اندر رہ کر مقابلہ کرنا پسند فرمائیں تو اندر ہی رہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لباس حرب پہن لینے کے بعد کسی نبی کے لائق نہیں کہ وہ اللہ کے فیصلے کے بغیر واپس ہو اور لباس اتارے۔ چناچہ مسلمان ایک ہزار کی تعداد میں روانہ ہوگئے مگر صبح دم جب مقام شوط پر پہنچے تو عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت یہ کہہ کر واپس آگیا کہ اس کی رائے نہیں مانی گئی۔ خواہ مخواہ جان دینے کا کیا فائدہ ؟ اس کے اس فیصلے سے وقتی طور پر بعض مسلمان بھی متاثر ہوگئے اور انہوں نے بھی کمزوری کا مظاہرہ کیا (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٠] یہاں سے ایک نیا مضمون شروع ہو رہا ہے جو جنگ احد سے متعلق ہے۔ رمضان ٢ ھ میں غزوہ بدر میں قریش مکہ کو عبرت ناک شکست ہوئی تھی۔ ابو جہل کی موت کے بعد ابو سفیان نے قریش کی قیادت سنبھالی۔ اس نے جنگ بدر کا بدلہ لینے اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے کے لیے حسب ذیل اقدامات کئے : ١۔ طے ہوا کہ اس تجارتی قافلہ کا سارا منافع جنگ کے اخراجات کے لیے دے دیا جائے جو جنگ بدر سے چند یوم پہلے بچ بچا کر نکل آیا تھا۔ اس سے ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار کی خطیر رقم جنگی اخراجات کے لیے جمع ہوگئی۔ ٢۔ رضاکارانہ خدمت کا دروازہ کھول دیا گیا اور تمام اسلام دشمن قبائل کو اس جنگ میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ اس طرح قریش کے حلیف قبیلے بھی اور مسلمانوں کے مخالف قبیلے بھی اس قریشی جھنڈے تلے جمع ہوگئے۔ ٣۔ دو شعلہ بیان شعراء کی خدمات حاصل کی گئیں، جو بدوی قبائل کو مسلمانوں کے خلاف انتقام پر بھڑکاتے تھے۔ ان ایام میں جنگی پروپیگنڈہ کا سب سے موثر ذریعہ یہی تھا۔ چناچہ شوال ٣ ھ میں قریش کا یہ تین ہزار مسلح افراد کا لشکر جرار ابو سفیان کی سر کردگی میں احد کے میدان میں پہنچ گیا۔ اس موقع پر ابو سفیان نے ایک خطرناک جنگی چال چلی، وہ انصار سے مخاطب ہو کر کہنے لگا : آپ لوگوں سے ہماری کوئی لڑائی نہیں، آپ درمیان سے نکل جائیں تو بہتر ہے، ہم بھی آپ سے کوئی تعرض نہ کریں گے۔ لیکن انصار ابو سفیان کی اس چال کو سمجھ گئے اور اسے کھری کھری سنادیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) سے مشورہ کیا کہ یہ جنگ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے یا باہر نکل کر کھلے میدان میں لڑی جائے۔ آپ کی ذاتی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے اور یہ پہلا موقع تھا کہ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین سے بھی رائے لی گئی جو حضور کی رائے سے موافق تھی۔ مگر پرجوش اور جوان مسلمان جنہیں بدر کی شرکت نصیب نہ ہوئی تھی اور شوق شہادت بےچین کر رہا تھا اس بات پر مصر ہوئے کہ باہر نکل کر کھلے میدان میں مقابلہ کیا جائے۔ تاکہ دشمن ہماری نسبت بزدلی اور کمزوری کا گمان نہ کرے۔ چناچہ آپ گھر میں تشریف لے گئے اور زرہ پہن کر نکلے۔ بعض لوگوں کو خیال آیا کہ ہم نے آپ کو آپ کی مرضی کے خلاف باہر نکلنے پر مجبور کردیا ہے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر آپ کا منشا نہ ہو تو یہیں تشریف رکھئے۔ آپ نے فرمایا : ایک پیغمبر کو یہ مناسب نہیں کہ وہ ہتھیار لگائے اور جنگ کئے بغیر اتار دے۔ جب آپ مدینہ سے باہر نکلے تو تقریباً ایک ہزار آدمی آپ کے ساتھ تھے مگر عبداللہ بن ابی تقریباً تین سو آدمیوں کو (جن میں بعض مسلمان بھی تھے) ساتھ لے کر راستہ سے یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ جب میرا مشورہ نہیں مانا گیا تو ہم کیوں لڑیں اور خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالیں۔ آخر آپ سات سو مجاہدین کا لشکر لے کر میدان جنگ میں پہنچ گئے۔ فوجی قاعدہ کے مطابق صفیں ترتیب دیں۔ ہر ایک دستہ کو اس کے مناسب ٹھکانے پر بٹھایا اور فرمایا جب تک میں نہ کہوں جنگ نہ شروع کی جائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَھْلِكَ ۔۔ : یہاں سے غزوۂ احد کا بیان ہے۔ غزوۂ بدر میں ذلت آمیز شکست، ستر آدمی قتل اور ستر قید ہونے کے بعد مشرکین نے جوش انتقام میں مدینہ پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنایا اور ارد گرد سے مختلف قبائل کو جمع کر کے تین ہزار کا مسلح لشکر لیا اور جبل احد کے قریب آکر ٹھہر گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) سے مشورہ کیا۔ بعض نے مدینہ میں رہ کر لڑنے کا مشورہ دیا، جب کہ بعض پرجوش نوجوانوں نے، جو بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے، میدان میں نکل کر لڑنے پر اصرار کیا۔ آپ ان کی رائے کے مطابق ایک ہزار کی جمعیت لے کر باہر نکلے۔ مقام ” شوط “ پر عبداللہ بن ابی نے مسلمانوں کو دھوکا دیا اور اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ لوٹ آیا۔ اس سے بعض مسلمانوں کے حوصلے بھی پست ہوگئے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی بخشی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سات سو صحابہ (رض) کی یہ جمعیت لے کر آگے بڑھے اور احد کے قریب وادی میں فوج کو آراستہ کیا، جس کی طرف قرآن نے ( تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ) میں اشارہ کیا ہے۔ اسلامی فوج کی پشت پر جبل احد تھا اور ایک جانب ٹیلے پر عبداللہ بن جبیر (رض) کی سرکردگی میں پچاس تیر اندازوں کا دستہ متعین تھا، نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا تھا کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمارے جسموں کو نوچ رہے ہیں، تو پھر بھی اس جگہ کو نہ چھوڑنا، یہاں تک کہ میں تمہیں پیغام بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کفار کو شکست دے دی ہے اور انھیں پامال کردیا ہے، پھر بھی اس جگہ کو نہ چھوڑنا، یہاں تک کہ میں پیغام بھیجوں۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ کفار کو پسپا ہوتے دیکھ کر نیچے اتر آئے اور اس گھاٹی کو چھوڑ دیا جس سے مشرکین کو عقب سے حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔ اس اچانک حملے سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور چند صحابہ کرام (رض) آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ اس موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دانت مبارک شہید ہوگیا، سر اور پیشانی مبارک بھی زخمی ہوگئے۔ آخر کار صحابہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد دوبارہ جمع ہوئے، جس سے میدان جنگ کا نقشہ بدل گیا اور دشمن کو ناکام ہو کر لوٹ جانا پڑا۔ یہ شوال ٣ ھ کا واقعہ ہے۔ ان آیات میں جنگ کے بعض واقعات کی طرف اشارے آ رہے ہیں۔ (ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence In the previous verses, it was said that no power could harm Muslims if they observed patience and fear of Allah (sabr and Taqwa ). Now, the temporary setback faced by Muslims during the battle of Uhud was due to their failure to observe these rules of conduct fully. The present verses remind Muslims of what happened during the battle of Uhud, and also, of their victory at the battle of Badr. Commentary: Before we proceed to explain these verses, it is appropriate that we have before us a sequence of events that came to pass at Uhud. The background of the Battle of Uhud: It was the month of Ramadan, Hijrah year 2, when the Quraysh army and Muslim mujahidin fought a battle at Badr in which 70 well-known kuffar (disbelievers) of Makkah were killed and an equal number was taken prisoners. This defeat, disastrous and disgraceful as it was, and really the first installment of Divine punishment, incensed the Quraysh; their search for revenge knew no bounds. The relatives of Quraysh chiefs who were killed at Badr, appealing to the traditional Arab pride, resolved that they would not rest until they have avenged their defeat at Badr at the hands of the Muslims. They proposed to Makkans that the sale proceeds from things brought in by their trade caravan from Syria should be spent on nothing but this war so that they can avenge the slaying of their comrades by Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his companions. To this, everybody agreed and it was in the Hijrah year 3 that the Quraysh, along with several other tribes as well, marched out to mount an attack on Madinah. The invading force included even women so that they could appeal to the sense of honour their men had and implore them not to retreat, if they ever did. When this armed force of three thousand strong, all laced with weapons and other logistics, pitched up its tents near the mountain of Uhud, about three or four miles outside Madinah, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went into consultation with Muslims. In his blessed opinion, warding off the enemy by staying in Madinah was easy and more likely to succeed. This was the first time that the leader of the hypocrites, ` Abdullah ibn Ubayy, who outwardly went along with Muslims, was asked to give his opinion, which turned out to be the same as that of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . But, some zealous Muslims, who were unable to take part in the Badr encounter and were intensely eager to lay down their lives in the cause of Islam, insisted that they should go out and fight the enemy in the open so that the enemy does not take them to be cowards. To this, the majority turned. In the meantime, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went to his house and when he came out, he had his armour on. At that point of time, some people thought that they had forced him, against his opinion, to lead the fight outside Madinah in the open. Realizing what they did was wrong, they submitted to him that he could act according to his opinion and stay in Madinah. The answer was: &It does not behoove a prophet, once he has put on his armour and taken up his arms, to put them off without fighting.& This one sentence is sufficient to clarify the difference between a prophet and a non-prophet. A prophet cannot show weakness in that capacity. Then, here lies a lesson for the community as well. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) left Madinah on his way to confront the enemy, he had about a thousand men with him, but the hypocrite ` Abdullah ibn Ubayy broke off enroute with about three hundred men, saying: &When my advice was rejected and action was taken on the advice of others, why should we fight and why should we endanger our lives?& Obviously, most of his comrades were hypocrites, yet there were some Muslims too who swallowed the bait and tugged along with them. Finally, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) reached the battlefield with a total of seven hundred mujahidin. He personally took charge of the action area setting up all arrangements in a formal military manner. The formations of his men were so placed that the mount of Uhud remained on their rear. Sayyidna Mus` ab ibn ` Umayr (رض) was made the standard-bearer and Sayyidna Zubayr ibn ` Awwam (رض) ، the commander of the mounted troops. Sayyidna Hamzah (رض) was given the command of the unarmoured. On the rear, there was some likelihood that the enemy may cut his way in from that side. So, he positioned a company of fifty archers (arrow-shooters) on a hillock in the rear and ordered them to stand on guard against any attack from that side. They were specifically instructed not to bother about the fighting down the hill, irre¬spective of whether they win or lose, and were told that they just do not have to move from their appointed place. The command of the company of archers was given to Sayyidna ` Abdullah ibn Jubayr (رض) . As for the Quraysh, they had gone through the battle of Badr and they too went into battle formations in an orderly manner. Battle of Uhud1 When the battle started, Muslims had an upper hand right from the beginning, so much so that the enemy forces went into total disarray. Muslims thought they had won and turned toward the spoils. At this point, the archers who were appointed by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to guard the rear also noticed that the enemy was on the run and they too started coming down from the mountain leaving their assigned battle station. Their commander, Sayyidna ` Abdullah ibn Jubayr (رض) reminded them of the emphatic command of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) not to move from their place of duty and, tried his best to stop them. But, except a few, others took the plea that as the order was tied with time they should now go and be with the rest. Khalid ibn Walid, who had not yet embraced Islam, was commanding a company of Makkan disbelievers. Making timely use of this opportunity, he went round the hill, went up through a pass and made a surprise attack. Sayyidna ` Abdullah ibn Jubayr (رض) and the small number of men left with him tried their best to stop them but they were unable to do so and the chargers were able to pounce on Muslim forces down the hill all of a sudden. This situation made the running enemy turn back and reinforce the attack. The fate of the battle was totally reversed. Muslims were so confused with this unexpected turn of the battle that a major portion of them scattered away from the battle field. However, some Companions (رض) were still holding on resolutely. In the meantime, a rumour went round that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has met his shahadah (martyrdom). This shattered the nerves of his Companions (رض) and most of them lost heart. At that time, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was in the midst of about ten or twelve very devoted Companions (رض) . He was injured. Defeat was about to come when, in the right moment, the Companions (رض) scattered on the battlefield came to know that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was alive. They regrouped themselves around him and moved him away towards the hill safely. 1. The strategy used in this battle shows that the Prophet of Islam was not only a perfect leader and teacher, but also a creative military strategist, something not known in the world of that time. Comparing the battle plans of the two camps, Tom Under, a twentieth century historian says in his book, The Life of Muhammad that his opponents had courage and bravery but it was he who broke new ground in the management of warfare. The Makkan disbelievers fought recklessly and haphazardly while he used great foresightedness, strict discipline and efficient organization as additional assets. This defeat which made Muslims terribly upset was temporary, and there were causes behind it. The Holy Qur&an comments on each cause in extremely measured words and exhorts Muslims to be cautious in the future. Lessons from the events of Uhud اُحُد : The events of the battle of Uhud have in them a treasure of good advice and wise guidance for all Muslims. It will be recalled that the Qurayshi disbelievers had brought women with them so that they could excite them to fight and, in case of a retreat, put them to shame and exhort them to go back into the battle. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw that Hindah, the wife of Abu Sufyan, was leading a group of women who were chanting poetical compositions to arouse the fighting passions of their men. They were saying: ان تقبلوا نعانق و نفرش النمارق او تدبروا نفارق فراق وامق that is, &if you fight right on and win, we shall embrace you and make a soft bed for you, but, if you turn back, we shall make you miss our love.& In contrast, the Holy Prophet may Allah bless him, was saying this in his prayer: الھم بک اصول و بک اقاتل حسبی اللہ و نعم الوکیل that is, &0 Allah, from Thee I draw my strength and for Thee and in Thy name, I attack and fight. Sufficient for me is Allah, the only one good to trust.& This prayer, every word in it, is demonstrating how Muslims should strengthen their connection with Allah not only in peace, but also in war, a pattern of behaviour which is drawing a line of clear distinction between Muslims and other nations. 2. Victory in war comes from Allah and not from piles of hardware. Let us look at this lesson through the tightly-held frame of this battle. Isn’ t it that the noble Companions (رض) ، may Allah be pleased with them all, left behind them indelible marks of gallantry, sacrifice and dedica¬tion, the class of which would be difficult to match in history? Sayy¬idna Abu Dujanah (رض) had turned his body into a shield for his beloved Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) taking all incoming arrows on his back. Sayyidna Talhah (رض) had his body all perforated with arrow-heads, but he still did not leave his blessed master unprotected. Sayyidna Anas ibn al-Nadir (رض) ، the uncle of Sayyidna Anas ibn Malik (رض) was absent from the battle of Badr which he regretted very much and longed to make amends whenever he could get the first opportunity to take part in a Jihad in the company of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . A little later, came the battle of Uhud and Sayyidna Anas ibn al-Nadir (رض) was in it. When Muslims had scattered away and the disbe¬lievers of Quraysh were coming in overwhelming strength, he started to mount his charge, sword in hand, when he met Sayyidna Sa&d (رض) who was going with the group of those who had scattered away from the battlefield. He called out to him, |"0 Sa&d, where are you going? I smell the scent of Paradise in this valley of Uhud.& Saying this, he charged ahead and it was after a tough fight that he finally laid his life in the way of Allah. (Ibn Kathir) Sayyidna Jabir (رض) says, |"when Muslims became scattered, there were only eleven Companions left with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Sayyidna Talhah (رض) being one of them. The forces of Quraysh were surging forward. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, &Who is going to take care of them?& Sayyidna Talhah (رض) responded immediately, &I shall do that, 0 Messenger of Allah.& Another Companion, an Ansari, said, &I am at your service.& He asked the Ansari Companion to go, who fought, and fell a martyr. Then came another pressure wave. He (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked the same question again. Sayyidna Talhah (رض) offered himself as before. He was all impatient to hear the command of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he could go ahead. He, once again, sent some other Ansari Companion and Sayyidna Talliah&s wish remained unfulfilled. Thus, it was seven times that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked the question and every time Sayyidna Talhah (رض) was not permitted to go while other Companions were permitted to go and meet their shahadah (martyrdom). 3. Muslims were few in number, yet they won at Badr. Comparatively, they were more in number at Uhud, yet they lost. Here too, for Muslims there is a lesson to learn: Muslims should not rely on their numerical or material strength, military hardware or logistic support, but they should make sure that they take victory as something which comes by the grace of Allah Almighty and therefore, they must always watch out that their relationship with Allah remains strong. What happened at the battle of Yarmuk یرموک is worth remembering. The officer-in-command at the war front wrote to Sayyidna ` Umar, the Khalifah at Madinah, requesting reinforcements in view of a reduced number of fighters. The reply that he gave is reproduced below: قد جاءنی کتابکم تستمدوننی وانی ادلکم علی من ھو اعز نصراً واحصن جندا اللہ عزوجلّ فاستنصروہ فان محمداً (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نصر فی یوم بدر فی اقل من عدتکم فاذا جاء کم کتابی ھذا فقاتلوہم ولا تراجعونی (مسند احمد، ابن کثیر) |"Your letter reached me. You have requested reinforcements and I direct you to One who is most-powerful support-wise and most-protecting army-wise, that is, Allah, the Mighty, the Exalted. So, seek help from Him - because Muhammad, may Allah bless him, was helped on the day of Badr despite their being fewer in numbers as compared of yours. So, when this letter of mine reaches you - fight. And do not turn back to me.|" (Ibn Kathir, with reference to the Musnad of Ahmad) The narrator says, when they received this letter, they mounted an attack in the name of Allah, all of a sudden, against the formidable forces of disbelievers who were defeated. Sayyidna ` Umar (رض) knew that victory or defeat for Muslims does not depend upon numbers. Instead, it depends upon trust in Allah, and on His help. This fact has been clearly stated by the Holy Qur&an with reference to the battle of Hunayn حُنَيْنٍ : يَوْمَ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَ‌تُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا & (Remember) the day of Hunayn when you became proud about your numbers, then, nothing worked to your advantage. (9:25) Now, let us turn to the explanation of these verses: 1. Verse 121 begins with the words, وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ (When you left your house in the morning in order to place the believers in positions for fighting). This is an example of the miraculous style of the Holy Qur&an, especially when it reports events. It does not describe any event in its total detail as a matter of general principle. Events or their details are taken up only when they carry with them implied points of guid¬ance. For instance, a particular secondary detail, such as the time of leaving the house, has been identified through the word, غَدَوْتَ (&ghadawta& ); and hadith narrations prove that this morning was that of the seventh of Shawwal, Hijrah year 3. Then comes the description of the point from where this expedition started. The word مِنْ أَهْلِكَ , indicates that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was with his family at that time and when the time came to leave, he left, leaving his family behind him, even though this attack was aimed at Madinah. These secondary details have guidance built in them. When there is the command of Allah, it is expected that the love of family and home should not stop one from obeying it. It will be noticed that details of what happened between the period of leaving the house and reaching the war front remain undescribed. Instead, the first thing done on the war front has been described as تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ the placing of believers in positions for fighting. The verse ends with the words, وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (And Allah is All-Hearing, All-Knowing). By reminding Muslims of these attributes of Allah, it has been pointed out that everything said by the two parties at that time was all in the knowledge of Allah Almighty. and abso¬lutely nothing of what happened to the two of them remains hidden from Him, and so shall it be with the end of the war; that too, is not hidden from Him.

ربط آیات : گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ اگر مسلمان صبر وتقوی پر قائم رہیں تو کوئی طاقت ان کو ضرر نہیں پہنچا سکتی، اور یہ کہ غزوہ احد کے موقع پر جو عارضی شکست اور تکلیف مسلمانوں کو پہنچی وہ انہی دو چیزوں میں بعض حضرات کی طرف سے کوتاہی کی بناء پر تھی، مذکورہ آیات میں اسی غزوہ احد کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اور غزوہ بدر میں فتح کا۔ خلاصہ تفسیر : اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جب کہ آپ صبح کے وقت (تاریخ قتال سے پہلے) اپنے گھر سے (اس غرض سے) نکلے (کہ) مسلمانوں کو (کفار سے) مقاتلہ کرنے کے لئے (مناسب) مقامات پر جمانے (کے لئے آمادہ کر) رہے تھے (پھر اسی تجویز کے مطابق سب کو ان مقامات پر جمادیا) اور اللہ تعالیٰ (اس وقت کی باتیں) سب سن رہے تھے (اور اس وقت کے حالات) سب جان رہے تھے (اسی کے ساتھ یہ قصہ بھی ہوا کہ) تم (مسلمانوں) میں سے دو جماعتوں نے (کہ وہ بنی سلمہ اور بنی حارثہ ہیں) دل میں خیال کیا کہ ہمت ہاریں (اور ہم بھی عبداللہ بن ابی منافق کی طرح اپنے گھر جابیٹھیں) اور اللہ تعالیٰ تو ان دونوں جماعتوں کا مددگار تھا، (بھلا ان کو کب ہمت ہارنے دیتا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس خیال پر عمل کرنے سے محفوظ رکھا) اور (ہم آئندہ کے لئے ان جماعتوں اور سب کو نصیحت کرتے ہیں کہ جب تم مسلمان ہو) پس مسلمانوں کو تو اللہ تعالیٰ ہی پر اعتماد کرنا چاہئے ( اور ایسی کم ہمتی کبھی نہ کرنا چاہئے) اور یہ بات محقق ہے کہ حق تعالیٰ نے تم کو (غزوہ) بدر میں منصور فرمایا، حالانکہ تم (محض) بےسروسامان تھے ( کیونکہ مجمع بھی کفار کے مقابلہ میں کم تھا، وہ ایک ہزار تھے اور مسلمان تین سو تیرہ تھے اور ہتھیار وغیرہ بھی بہت کم تھے) سو (چونکہ یہ منصور بدولت تقوی کے تھا جس میں استقلال و صبر بھی داخل ہے تو تم پر لازم ہے کہ آئندہ بھی) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو (اسی کا نام تقوی ہے) تاکہ تم (اس نعمت نصرت کے) شکر گزار رہو، (کیونکہ شکر گزاری صرف زبان کے ساتھ خاص نہیں بلکہ پورا شکر یہ ہے کہ زبان اور قلب بھی مشغول ہو اور اطاعت کی بھی پابندی ہو بالخصوص جبکہ اس اطاعت کا اس نعمت میں دخیل ہونا بھی ثابت ہوجائے) ۔ معارف و مسائل : غزوہ احد کا پس منظر : آیت مذکورہ کی تفسیر سے قبل ضروری ہے کہ غزوہ احد کے واقعاتی پس منظر کو سمجھ لیا جائے۔ رمضان المبارک ٢ ھ میں بدر کے مقام پر قریشی فوج اور مسلمان مجاہدین میں جنگ ہوئی، جس میں کفار مکہ ستر نامور اشخاص مارے گئے، اور اسی قدر گرفتار ہوئے، اس تباہ کن اور ذلت آمیز شکست سے جو حقیقتا عذاب الہی کی پہلی قسط تھی قریش کا جذبہ انتقام بھڑک اٹھا، جو سردار مارے گئے تھے ان کے اقارب نے تمام عرب کو غیر دلائی، اور یہ معاہدہ کیا کہ جب تک ہم اس کا بدلہ مسلمانوں سے نہ لے لیں گے چین سے نہ بیٹھیں گے، اور اہل مکہ سے اپیل کی کہ ان کا تجارتی قافلہ جو مال شام سے لایا ہے وہ سب اسی مہم پر خرچ کیا جائے تاکہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں سے اپنے مقتولین کا بدلہ لے سکیں، سب نے منظور کیا، اور ٣ ھ میں قریش کے ساتھ بہت سے دوسرے قبائل بھی مدینہ پر چڑھائی کرنے کی غرض سے نکل پڑے، حتی کہ عورتیں بھی ساتھ آئیں تاکہ موقع آنے پر مردوں کو غیرت دلا کر پسپائی سے روک سکیں، جس وقت یہ تین ہزار کا لشکر اسلحہ وغیرہ سے پوری طرح آراستہ ہو کر مدینہ سے تین چار میل جبل احد کے قریب خیمہ زن ہوا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں سے مشورہ لیا۔ آپ کی رائے مبارک یہ تھی کہ مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ بہت آسانی اور کامیابی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے، یہ پہلا موقع تھا اس کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی جو بظاہر مسلمانوں میں شامل تھا، اس سے بھی رائے لی گئی، جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے کے موافق تھی مگر بعض پرجوش مسلمان جنہیں بدر کی شرکت نصیب نہ ہوئی تھی اور شوق شہادت بےچین کر رہا تھا مصر ہوئے کہ ہم کو باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہئے، تاکہ دشمن ہمارے بارے میں بزدلی اور کمزوری کا گمان نہ کرے، کثرت رائے اسی طرف ہوگئی۔ اس عرصہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکان کے اندر تشریف لے گئے، اور زرہ پہن کر باہر آئے، تو اس وقت بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ ہم نے آپ کو آپ کی رائے کے خلاف مدینہ سے باہر جنگ کرنے پر مجبور کیا، یہ غلط ہوا، اس لئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر آپ کا منشاء نہ ہو تو یہیں تشریف رکھئے، فرمایا |" ایک پیغمبر کو سزاوار نہیں کہ جب وہ زرہ پہن لے اور ہتھیار لگا لے پھر بدون قتال کئے ہوئے بدن سے اتارے |" اس جملہ میں نبی اور غیر نبی کا فرق واضح ہورہا ہے کہ نبی کی ذات سے کبھی کمزوری کا اظہار نہیں ہوسکتا، اور اس میں امت کے لئے بھی ایک بڑا سبق ہے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ سے باہر تشریف لے گئے، تقریبا ایک ہزار آدمی آپ کے ساتھ تھے، مگر منافق عبداللہ بن ابی تقریبا تین سو آدمیوں کو ساتھ لے کر راستہ سے یہ کہتا ہوا واپس ہوگیا کہ جب میرا مشورہ نہ مانا اور دوسروں کی رائے پر عمل کیا تو ہم کو لڑنے کی ضرورت نہیں، کیوں ہم خواہ مخواہ اپنے کو ہلاکت میں ڈالیں، اس کے ساتھیوں میں زیادہ تو منافقین ہی تھے، مگر بعض مسلمان بھی ان کے فریب میں آکر ساتھ لگ گئے تھے۔ آخر آپ کل سات سو سپاہیوں کی جمعیت لے کر میدان جنگ میں پہنچ گئے، آپ نے بہ نفس نفیس فوجی قاعدہ سے صفیں ترتیب دیں، صف آرائی اس طرح کی کہ احد کو پشت کی جانب رکھا، اور دوسرے انتظامات اس طرح کئے کہ حضرت مصعب بن عمیر کو علم (جھنڈا) عنایت کیا، حضرت زبیر بن عوام کو رسالہ کا افسر مقرر کیا، حضرت حمزہ کو اس حصہ فوج کی کمان ملی جو زرہ پوش نہ تھے، پشت کی طرف احتمال تھا کہ دشمن ادھر سے آئے، اس لئے پچاس تیر اندازوں کا دستہ متعین کیا، اور حکم دیا کہ وہ پشت کی جانب ٹیلہ پر حفاظت کا کام سرانجام دیں، لڑنے والوں کی فتح و شکست سے تعلق نہ رکھیں اور اپنی جگہ سے نہ ہٹیں، عبداللہ بن جبیر ان تیر اندازوں کے افسر مقرر ہوئے، قریش کو بدر میں تجربہ ہوچکا تھا اس لئے انہوں نے بھی ترتیب سے صف آرائی کی۔ نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کی جنگی ترتیب غیروں کی نظر میں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس صف آرائی اور فوجی قواعد کے لحاظ سے نظم و ضبط کو دیکھ کر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امت کے رہبر کامل، مقدس نبی ہونے کے ساتھ سپہ سالار اعظم کے لحاظ سے بھی بےنظیر ہیں، آپ نے جس انداز میں مورچے قائم کئے اور لڑائی کا نظم قائم کیا، اس وقت کی دنیا اس سے ناآشنا تھی، اور آج جبکہ فن حرب ایک مستقل سائنس کی حیثیت اختیار کرگیا ہے، وہ بھی آپ کے فوجی قواعد اور نظم و ضبط کو سراہتا ہے، اسی حقیقت کو دیکھ کر ایک مسیحی مورخ بول اٹھا : |" برخلاف اپنے مخالفین کے جو محض ہمت و شجاعت ہی رکھتے تھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہنا چاہئے کہ فن حرب کی بھی نئی راہ نکالی، مکہ والوں کی بےدھڑک اور اندھا دھند لڑائی کے مقابلہ میں خود دور اندیشی اور سخت قسم کے نظم و ضبط سے کام لیا |"۔ یہ الفاظ بیسیوں صدی کے ایک مورخ ٹام انڈر کے ہیں جو اس نے لائف آف محمد میں بیان کئے۔ جنگ کا آغاز : اس کے بعد جنگ شروع ہوئی ابتداء مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا، یہاں تک کہ مقابل کی فوج میں ابتری پھیل گئی، مسلمان سمجھے کہ فتح ہوگئی، مال غنیمت کی طرف متوجہ ہوئے ادھر جن تیر اندازوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پشت کی جانب حفاظت کے لئے بٹھایا تھا انہوں نے جب دیکھا کہ دشمن بھاگ نکلا ہے تو وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر پہاڑ کے دامن کی طرف آنے لگے، حضرت عبداللہ بن جبیر نے ان کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تاکیدی حکم یاد دلا کر روکا، مگر چند آدمیوں کے سوا دوسروں نے کہا کہ حضور کے حکم کی تعمیل تو موقت تھی اب ہمیں سب کے ساتھ مل جانا چاہئے، اس موقع سے خالد بن ولید نے جو ابھی تک مسلمان نہ تھے اور اس وقت لشکر کفار کے رسالہ کی کمان کر رہے تھے، بروقت فائدہ اٹھایا، اور پہاڑی کا چکر کاٹ کر عقب کے درہ سے حملہ کردیا، عبداللہ بن جبیر اور ان کے قلیل ساتھیوں نے اس حملہ کو ہمت و شجاعت سے روکنا چاہا، مگر مدافعت نہ کرسکے، اور یہ سیلاب یکایک مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا، دوسری طرف جو دشمن بھاگ گئے تھے وہ بھی پلٹ کر حملہ آور ہوگئے، اس طرح لڑائی کا پانسہ ایک دم پلٹ دیا، اور مسلمان اس غیر متوقع صورت حال سے اس قدر سراسیمہ ہوئے کہ ان کا ایک بڑا حصہ پراگندہ ہو کر میدان سے چلا گیا، تاہم کچھ صحابہ ابھی تک میدان میں ڈٹے ہوئے تھے، اتنے میں کہیں سے یہ افواہ اڑ گئی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے، اس خبر نے صحابہ کے رہے سہے ہوش و حواس بھی گم کردیئے اور باقی ماندہ لوگ بھی ہمت ہار کر بیٹھ گئے، اس وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد وپیش صرف دس بارہ جان نثار رہ گئے تھے، اور آپ خود بھی زخمی ہوگئے تھے، شکست کی تکمیل میں کوئی کسر باقی نہیں رہی تھی، کہ عین وقت پر صحابہ کو معلوم ہوگیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بسلامت تشریف رکھتے ہیں۔ چناچہ وہ ہر طرف سے سمٹ کر پھر آپ کے گرد جمع ہوگئے اور آپ کو بہ سلامت پہاڑی کی طرف لے گئے، اس شکست کے بعد مسلمان حد درجہ پریشان رہے اور یہ عارضی شکست چند اسباب کا نتیجہ تھی، قرآن مجید نے ہر سبب پر جچے تلے الفاظ میں تبصرہ کیا اور آئندہ کے لئے محتاط رہنے کی تلقین فرمائی۔ اس واقعہ کی تفصیل میں کچھ ایسے واقعات ہیں جو اپنے اندر عظیم سبق لئے ہوئے ہیں۔ اور اس میں تمام مسلمانوں کے لئے موعظت و نصیحت کے جواہر پارے مخفی ہیں۔ احد کے واقعہ سے چند سبق : ١۔ پہلی بات جیسا کہ پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ کفار قریش اس جنگ میں عورتوں کو بھی لائے تھے تاکہ وہ مردوں کو پسپائی سے روک سکیں، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ عورتیں ہندہ زوجہ ابی سفیان کی سربراہی میں اشعار گا کر مردوں کو جوش دلا رہی ہیں : ان تقبلوا نعانق ونفرش النمارق او تدبروا نفارق فراق غیر وامق |" مطلب یہ تھا کہ اگر مقابلہ پر ڈٹے رہے اور فتح پائی تو ہم تم کو گلے لگائیں گے، اور تمہارے لئے نرم بستر بچھائیں گے، لیکن اگر تم نے پیٹھ موڑی تو ہم تم کو بالکل چھوڑدیں گے |" خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک پر یہ الفاظ دعائیہ جاری تھے : اللھم بک اصول وبک اقاتل حسبی اللہ ونعم الوکیل۔ |" اے اللہ میں تجھ ہی سے قوت حاصل کرتا ہوں اور تیرے ہی نام سے حملہ کرتا ہوں اور تیرے ہی دین کے لئے قتال کرتا ہوں، اللہ ہی کافی ہے اور وہ بڑا اچھا کارساز ہے |"۔ اس دعا کا ایک ایک لفظ تعلق مع اللہ کی تاکید اور مسلمانوں کے تمام افعال و اعمال حتی کہ جنگ و قتال کو بھی دیگر اقوام کے جنگ و قتال سے ممتاز کر رہا ہے۔ ٢۔ دوسری چیز قابل غور یہ ہے کہ اس غزوہ میں بعض صحابہ نے بہادری و شجاعت و جاں نثاری اور فدائیت کے وہ نقوش چھوڑے کہ تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے، حضرت ابو دجانہ نے اپنے جسم کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ڈھال بنالیا تھا کہ ہر آنے والا تیر اپنے سینہ پر کھاتے تھے، حضرت طلحہ نے بھی اسی طرح اپنے بدن کو چھلنی کرالیا تھا، لیکن حضور کی رفاقت کو نہیں چھوڑا، حضرت انس بن مالک کے چچا حضرت انس بن النضر جنگ بدر سے غیر حاضر رہے تھے اس لئے ان کو اس کا افسوس تھا، آرزو کرتے تھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفاقت میں اگر کوئی موقع ہاتھ آیا تو اپنے دل کی حسرت پوری کروں گا۔ جب کچھ دن کے بعد جنگ احد کا واقعہ پیش آیا تو انس بن النضر شریک ہوئے مسلمان جب منتشر ہوگئے تھے اور کفار قریش کا سیلاب امنڈ رہا تھا تو یہ اپنی تلوار لے کر آگے بڑھے، اتفاقا حضرت سعد سے ملاقات ہوئی، سعد بھی منتشر ہونے والوں میں جا رہے تھے، پکار کر کہا، سعد : کہاں چلے جارہے ہو ؟ میں تو احد کے اس دامن میں جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔ یہ کہہ کر آگے بڑھے اور شدید قتال کے بعد اپنی جان جہاں آفریں کے سپرد کردی۔ (ابن کثیر) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب مسلمان منتشر ہوگئے اس وقت حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف گیارہ حضرات رہ گئے تھے جن میں حضرت طلحہ بھی تھے، کفار قریش کا سیلاب امڈ رہا تھا، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، کون ان کی خبر لے گا ؟ حضرت طلحہ بول ا تھے، میں یا رسول اللہ : ایک دوسرے انصاری صحابی نے کہا : میں حاضر ہوں۔ انصاری کو آپ نے جانے کا حکم دیا، وہ قتال کے بعد شہید ہوگئے، پھر ایک ریلہ آیا آپ نے پھر وہی سوال کیا، حضرت طلحہ نے وہی جواب دیا، اور بےتاب ہورہے تھے کہ حضور حکم دیں تو میں آگے بڑھوں، حضور نے پھر کسی دوسرے انصاری صحابی کو بھیج دیا، اور حضرت طلحہ کی تمنا پوری نہیں ہوئی، اسی طرح سات بار حضور نے کہا اور ہر مرتبہ حضرت طلحہ کو اجازت نہیں دی گئی، اور دوسرے صحابہ کو اجازت دی جاتی تھی وہ شہید ہوجاتے تھے۔ جنگ بدر میں باوجود قلت تعداد کے مسلمانوں کو فتح ہوئی، غزوہ احد میں بدر کی بہ نسبت کثرت تھی، پھر بھی شکست ہوئی، اس میں بھی مسلمانوں کے لئے عبرت ہے کہ مسلمان کو کبھی کثرت سازو سامان پر نہیں جانا چاہئے، بلکہ فتح کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے سمجھے اور اسی سے اپنے تعلق کو مضبوط رکھے۔ جنگ یرموک کے موقع پر جب محاذ جنگ سے حضرت عمر کو مزید فوجی کمک بھیجنے کے لئے لکھا گیا اور قلت تعداد کی شکایت کی گئی تو تحریر فرمایا : ( قد جاءنی کتابکم تستمدوننی وانی ادلکم علی من ھو اعز نصرا واحصن جندا اللہ عزوجل فاستنصروہ فان محمدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قد نصر فی یوم بدر فی اقل من عدتکم فاذا جاء کم کتابی ھذا فقاتلوھم ولا تراجعونی۔ (بحوالہ مسند احمد) |" میرے پاس تمہارا خط آیا جس میں تم نے زیادہ فوجی مدد طلب کی ہے لیکن میں تم کو ایک ایسی ذات کا پتہ دیتا ہوں جو نصرت کے لحاظ سے سب سے زیادہ غالب اور فوج کے لحاظ سے زیادہ محفوظ ہے وہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے، لہذا تم اسی سے مدد طلب کرو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بدر میں باوجود قلت عدد کے مدد دی گئی، جب میرا یہ خط تم کو پہنچے تو ان پر ٹوٹ پڑو اور مجھ سے اس سلسلہ میں کوئی مراجعت نہ کرو |"۔ اس واقعہ کے راوی بیان کرتے ہیں کہ جب ہم کو یہ خط ملا ہم نے اللہ کا نام لے کر کفار کے لشکر کثیر پر یکبارگی حملہ کیا جس میں ان کو شکست فاش ہوئی، حضرت فاروق اعظم کو معلوم تھا کہ مسلمانوں کی فتح و شکست، قلت و کثرت پر دائر نہیں ہوتی، بلکہ اللہ پر توکل اور اس کی مدد پر موقوف ہے جیسا کہ قرآن کریم نے غزوہ حنین کے بارے میں اس حقیقت کو وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا، ارشاد ہے : یوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شیئا۔ (٩: ٢٥) |" یعنی غزوہ حنین کو یاد کرو جب کہ تم کو اپنی کثرت پر ناز ہوگیا تھا، تو یہ کثرت تم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکی |"۔ اب آیات کی تفسیر پر غور فرمائیے : اذ غدوت من اھلک یعنی جبکہ آپ صبح کے وقت اپنے گھر سے چلے، جنگ کے لئے مختلف مورچوں پر مسلمانوں کو بٹھا رہے تھے قرآن مجید کا نقل واقعات میں ایک خاص معجزانہ اسلوب ہے کہ وہ عام طور پر کوئی واقعہ پوری تفصیل اور جزئیات کے ساتھ بیان نہیں کیا کرتا، مگر جن واقعات اور جزئیات میں خاص ہدایات مضمر ہوتی ہیں وہ بیان کی جاتی ہیں، مذکورہ آیت میں جو خاص جزوی امور کی تصریح ہے، مثلا گھر سے نکلنے کا وقت کیا تھا، اس کو لفظ غدوت سے بیان فرمادیا، اور روایات حدیث سے یہ ثابت ہے کہ یہ صبح ساتویں تاریخ شوال کی ٣ ھ کی تھی۔ اس کے بعد یہ بھی بتلایا کہ اس سفر کی ابتداء کس جگہ سے ہوئی، من اھلک کے لفظ سے اشارہ ہوا کہ آپ اس وقت اپنے اہل و عیال میں تھے، ان کو وہیں چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے حالانکہ یہ حملہ مدینہ پر ہونے والا تھا، ان جزوی حالات میں یہ ہدایت مضمر ہے کہ جب اللہ کا حکم آجائے تو اس کی تعمیل میں اہل و عیال کی محبت سنگ راہ نہیں ہونی چاہئے، اس کے بعد گھر سے نکل کر محاذ جنگ تک پہنچنے کے جزئی واقعات کو چھوڑ کر محاذ جنگ کا پہلا کام یہ بیان کیا گیا کہ : تبوی المومنین مقاعد للقتال، یعنی آپ مسلمانوں کو قتال کے لئے مناسب مقامات پر جما رہے تھے پھر اس آیت کو اس طرح ختم کیا گیا کہ واللہ سمیع علیم یعنی اللہ تعالیٰ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے، سمیع علیم کی صفات کو یاد دلا کر اس طرف اشارہ کردیا کہ اس وقت مخالفین و موافقین دونوں جو کچھ اپنی اپنی جگہ پر کہہ سن رہے تھے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں آچکا، اور اس موقع پر مخالفین و موافقین کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس میں سے کوئی شے اس سے مخفی نہیں رہی، اور اسی طرح اس جنگ کا انجام بھی اس سے مخفی نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَھْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ۝ ٠ ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝ ١٢١ ۙ غدا الْغُدْوَةُ والغَدَاةُ من أول النهار، وقوبل في القرآن الغُدُوُّ بالآصال، نحو قوله : بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الأعراف/ 205] ، وقوبل الغَدَاةُ بالعشيّ ، قال : بِالْغَداةِ وَالْعَشِيِ [ الأنعام/ 52] ، غُدُوُّها شَهْرٌ وَرَواحُها شَهْرٌ [ سبأ/ 12] ( غ د و ) الغدوۃ والغداۃ کے معنی دن کا ابتدائی حصہ کے ہیں قرآن میں غدو ( غدوۃ کی جمع ) کے مقابلہ میں اصال استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا : ۔ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الأعراف/ 205] صبح وشام ( یا د کرتے رہو ) ( غدو ( مصدر ) رواح کے مقابلہ میں ) جیسے فرمایا : ۔ غُدُوُّها شَهْرٌ وَرَواحُها شَهْرٌ [ سبأ/ 12] اس کا صبح کا جانا ایک مہینہ کی راہ ہوتی ہے اور شام کا جانا بھی ایک مہینے کی ۔ أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل : أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33] ( ا ھ ل ) اھل الرجل ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب یا ہم دین ہوں اور یا کسی صنعت یامکان میں شریک ہوں یا ایک شہر میں رہتے ہوں اصل میں اھل الرجل تو وہ ہیں جو کسی کے ساتھ ایک مسکن میں رہتے ہوں پھر مجازا آدمی کے قریبی رشتہ داروں پر اہل بیت الرجل کا لفظ بولا جانے لگا ہے اور عرف میں اہل البیت کا لفظ خاص کر آنحضرت کے خاندان پر بولا جانے لگا ہے کیونکہ قرآن میں ہے :۔ { إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ } ( سورة الأحزاب 33) اسے پیغمبر گے اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی ( کا میل کچیل ) دور کردے ۔ بَوءَ أصل البَوَاء : مساواة الأجزاء في المکان، خلاف النّبو الذي هو منافاة الأجزاء . يقال : مكان بَوَاء : إذا لم يكن نابیا بنازله، وبَوَّأْتُ له مکانا : سوّيته فَتَبَوَّأَ ، وبَاءَ فلان بدم فلان يَبُوءُ به أي : ساواه، قال تعالی: وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّءا لِقَوْمِكُما بِمِصْرَ بُيُوتاً [يونس/ 87] ، ( ب و ء ) البواء ۔ کے اصل معنی کسی جگہ کے اجزا کا مساوی ( اور سازگار موافق) ہونے کے ہیں ۔ یہ نبوۃ کی ضد ہے جس کے معنی اجزاء کی ناہمواری ( ناسازگاری ) کے ہیں ۔ لہذا مکان بواء اس مقام کے کہتے ہیں ۔ جو اس جگہ پر اترنے والے کے ساز گار اور موافق ہو ۔ بوات لہ مکانا میں نے اس کے لئے جگہ کو ہموار اور درست کیا اور تبوات اس کا مطاوع ہے جس کے معنی کسی جگہ ٹھہرلے کے ہیں قرآن میں ہے ؛۔ { وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّآ لِقَوْمِكُمَا } ( سورة يونس 87) اور ہم نے موسیٰ اور اس گے بھائی کی طرف دحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لئے مصر میں گھر بناؤ ۔ قعد القُعُودُ يقابل به القیام، والْقَعْدَةُ للمرّة، والقِعْدَةُ للحال التي يكون عليها الْقَاعِدُ ، والقُعُودُ قد يكون جمع قاعد . قال : فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ النساء/ 103] ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ آل عمران/ 191] ، والمَقْعَدُ : مكان القعود، وجمعه : مَقَاعِدُ. قال تعالی: فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] أي في مکان هدوّ ، وقوله : مَقاعِدَ لِلْقِتالِ [ آل عمران/ 121] كناية عن المعرکة التي بها المستقرّ ، ويعبّر عن المتکاسل في الشیء بِالْقَاعدِ نحو قوله : لا يَسْتَوِي الْقاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ [ النساء/ 95] ، ومنه : رجل قُعَدَةٌ وضجعة، وقوله : وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجاهِدِينَ عَلَى الْقاعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً [ النساء/ 95] وعن التّرصّد للشیء بالقعود له . نحو قوله : لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِراطَكَ الْمُسْتَقِيمَ [ الأعراف/ 16] ، وقوله : إِنَّا هاهُنا قاعِدُونَ [ المائدة/ 24] يعني متوقّفون . وقوله : عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمالِ قَعِيدٌ [ ق/ 17] أي : ملك يترصّده ويكتب له وعليه، ويقال ذلک للواحد والجمع، والقَعِيدُ من الوحش : خلاف النّطيح . وقَعِيدَكَ الله، وقِعْدَكَ الله، أي : أسأل اللہ الذي يلزمک حفظک، والقاعِدَةُ : لمن قعدت عن الحیض والتّزوّج، والقَوَاعِدُ جمعها . قال : وَالْقَواعِدُ مِنَ النِّساءِ [ النور/ 60] ، والْمُقْعَدُ : من قَعَدَ عن الدّيون، ولمن يعجز عن النّهوض لزمانة به، وبه شبّه الضّفدع فقیل له : مُقْعَدٌ «1» ، وجمعه : مُقْعَدَاتٌ ، وثدي مُقْعَدٌ للکاعب : ناتئ مصوّر بصورته، والْمُقْعَدُ كناية عن اللئيم الْمُتَقَاعِدِ عن المکارم، وقَوَاعدُ البِنَاءِ : أساسه . قال تعالی: وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْراهِيمُ الْقَواعِدَ مِنَ الْبَيْتِ [ البقرة/ 127] ، وقَوَاعِدُ الهودج : خشباته الجارية مجری قواعد البناء . ( ق ع د ) القعود یہ قیام ( کھڑا ہونا کی ضد ہے اس سے قعدۃ صیغہ مرۃ ہے یعنی ایک بار بیٹھنا اور قعدۃ ( بکسر ( قاف ) بیٹھنے کی حالت کو کہتے ہیں اور القعود قاعدۃ کی جمع بھی ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ النساء/ 103] تو کھڑے اور بیٹھے ہر حال میں خدا کو یاد کرو ۔ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ آل عمران/ 191] جو کھڑے اور بیٹھے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں ۔ المقعد کے معنی جائے قیام کے ہیں اس کی جمع مقاعد ہے قرآن میں ہے : ۔ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55]( یعنی ) پاک مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں ۔ یعنی نہایت پر سکون مقام میں ہوں گے اور آیت کریمہ : ۔ مَقاعِدَ لِلْقِتالِ [ آل عمران/ 121] لڑائی کیلئے مور چوں پر میں لڑائی کے مورچے مراد ہیں جہاں سپاہی جم کر لڑتے ہیں اور کبھی کسی کام میں سستی کرنے والے کو بھی قاعدۃ کہا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ لا يَسْتَوِي الْقاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ [ النساء/ 95] جو مسلمان ( گھروں میں ) بیٹھ رہتے اور لڑنے سے جی چراتے ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے ۔ اسی سے عجل قدعۃ ضجعۃ کا محاورہ جس کے معنی بہت کاہل اور بیٹھنے رہنے والے آدمی کے ہیں نیز فرمایا : ۔ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجاهِدِينَ عَلَى الْقاعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً [ النساء/ 95] خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے ۔ اور کبھی قعدۃ لہ کے معیم کیس چیز کے لئے گھات لگا کر بیٹھنے اور انتظار کرنے کے بھی آتے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِراطَكَ الْمُسْتَقِيمَ [ الأعراف/ 16] میں بھی سیدھے رستے پر بیٹھوں گا ۔ نیز فرمایا : ۔ إِنَّا هاهُنا قاعِدُونَ [ المائدة/ 24] ہم یہیں بیٹھے رہینگے یعنی یہاں بیٹھ کر انتظار کرتے رہینگے اور آیت کر یمہ : ۔ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمالِ قَعِيدٌ [ ق/ 17] جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں ۔ میں قعید سے مراد وہ فرشتہ ہے جو ( ہر وقت اعمال کی نگرانی کرتا رہتا ہے اور انسان کے اچھے برے اعمال میں درج کرتا رہتا ہے یہ واحد وجمع دونوں پر بولا جاتا ہے اسے بھی قعید کہا جاتا ہے اور یہ نطیح کی جد ہے ۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے تیری حفاظت کا سوال کرتا ہوں ۔ القاعدۃ وہ عورت جو عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے نکاح اور حیض کے وابل نہ رہی ہو اس کی جمع قواعد ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَالْقَواعِدُ مِنَ النِّساءِ [ النور/ 60] اور بڑی عمر کی عورتیں ۔ اور مقعدۃ اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جو ملازمت سے سبکدوش ہوچکا ہو اور اپاہج آدمی جو چل پھر نہ سکے اسے بھی مقعد کہہ دیتے ہیں اسی وجہ سے مجازا مینڈک کو بھی مقعد کہا جاتا ہے اس کی جمع مقعدات ہے اور ابھری ہوئی چھاتی پر بھی ثدی مقعد کا لفظ بولا جاتا ہے اور کنایہ کے طور پر کمینے اور خمیس اطوار آدمی پر بھی مقعدۃ کا طلاق ہوتا ہے قواعد لبنآء عمارت کی بنیادیں قرآن میں ہے : ۔ وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْراهِيمُ الْقَواعِدَ مِنَ الْبَيْتِ [ البقرة/ 127] اور جب ابراہیم بیت اللہ کی بنیادی اونچی کر رہے تھے قواعد الھودج ( چو کھٹا ) ہودے کی لکڑیاں جو اس کے لئے بمنزلہ بنیاد کے ہوتی ہیں ۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢١) (اور وہ وقت یاد کرو) کہ غزوہ احد کے دن جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ سے چلے اور احد پہنچ کر دشمنوں کے مقابلہ کے لیے مومنین کے مقامات جما رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری باتوں کو سننے والا اور جو تمہیں مورچہ چھوڑنے کی وجہ سے پریشانی ہوئی اس کا جاننے والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ” واذ غدوت من اھلک “۔ (الخ) ابی حاتم (رح) اور ابو یعلی (رح) نے مسعود بن مخرمہ (رض) سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف سے کہا کہ غزوہ احد کے اپنے واقعہ کی مجھے تفصیل بتاؤ۔ انھوں نے فرمایا کہ سورة آل عمران میں ایک سو بیس آیات کے بعد پڑھو ہمارے واقعہ مل جائے گا۔ (آیت) ” واذ غدوت “۔ سے ” طآئفتن منکم ان تفشلا “۔ تک۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

یہاں سے سورة آل عمران کے نصف ثانی کے دوسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے ‘ جو چھ رکوعات پر محیط ہے۔ یہ چھ رکوع مسلسل غزوۂ احد کے حالات و واقعات اور ان پر تبصرے پر مشتمل ہیں۔ غزوۂ احد شوال ٣ ھ میں پیش آیا تھا۔ اس سے پہلے رمضان ٢ ھ میں غزوۂ بدر پیش آچکا تھا ‘ جس کا تذکرہ ہم سورة الانفال میں پڑھیں گے۔ اس لیے کہ ترتیب مصحف نہ تو ترتیب زمانی کے اعتبار سے ہے اور نہ ہی ترتیب نزولی کے مطابق۔ غزوۂ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بہت زبردست فتح دی تھی اور کفار مکہ کو بڑی زک پہنچی تھی۔ ان کے ستر (٧٠) سربرآوردہ لوگ مارے گئے تھے ‘ جن میں قریش کے تقریباً سارے بڑے بڑے سردار بھی شامل تھے۔ اہل مکہ کے سینوں میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور ان کے انتقامی جذبات لاوے کی طرح کھول رہے تھے۔ چناچہ ایک سال کے اندر اندر انہوں نے پوری تیاری کی اور تمام ساز و سامان جو وہ جمع کرسکتے تھے جمع کرلیا۔ ابوجہل غزوۂ بدر میں مارا جا چکا تھا اور اب قریش کے سب سے بڑے سردار ابوسفیان تھے۔ (ابوسفیان چونکہ بعد میں ایمان لے آئے تھے اور صحابیت کے مرتبے سے سرفراز ہوئے تھے لہٰذا ہم ان کا نام احترام سے لیتے ہیں۔ ) ابوسفیان تین ہزار جنگجوؤں کا لشکر لے کر مدینہ پر چڑھ دوڑے۔ اہل مکہ اپنی فتح یقینی بنانے کے لیے اس دفعہ اپنے بچوں اور خاص طور پر خواتین کو بھی ساتھ لے کر آئے تھے تاکہ ان کی غیرت بیدار رہے کہ اگر کہیں میدان سے ہمارے قدم اکھڑ گئے تو ہماری عورتیں مسلمانوں کے قبضے میں چلی جائیں گی۔ ابوسفیان کی بیوی ہندہ بنت عتبہ بھی لشکر کے ہمراہ تھی۔ (وہ بھی بعد میں فتح مکہ کے موقع پر ایمان لے آئی تھیں۔ ) غزوۂ بدر میں ہندہ کا باپ ‘ بھائی اور چچا مسلمانوں کے ہاتھوں واصل جہنم ہوچکے تھے ‘ لہٰذا اس کے سینے کے اندر بھی انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ مکہ کا شاید ہی کوئی گھر بچا ہو جس کا کوئی فرد غزوۂ بدر میں مارا نہ گیا ہو ۔ اس موقع پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ میں ایک مشاورت منعقد فرمائی کہ اب کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے ‘ جبکہ تین ہزار کا لشکر مدینہ پر چڑھائی کرنے آ رہا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا رجحان اس طرف تھا کہ اس صورت حال میں ہم اگر مدینہ میں محصور ہو کر مقابلہ کریں تو بہتر رہے گا۔ عجیب اتفاق ہے کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی بھی یہی رائے تھی۔ لیکن وہ لوگ جو بدر کے بعد ایمان لائے تھے اور وہ جو غزوۂ بدر میں شریک نہیں ہوپائے تھے ان میں سے خاص طور پر نوجوانوں کی طرف سے خصوصی جوش و خروش کا مظاہرہ ہو رہا تھا کہ ہمیں میدان میں نکل کر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے ‘ ہمیں تو شہادت درکار ہے ‘ ہمیں آخر موت سے کیا ڈر ہے ؟ ؂ شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی ! چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے فیصلہ فرما دیا کہ دشمن کا کھلے میدان میں مقابلہ کیا جائے گا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ہزار کی نفری لے کر مدینہ سے جبل احد کی جانب کوچ فرمایا ‘ لیکن راستے ہی میں عبداللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کو ساتھ لے کر یہ کہہ کر واپس چلا گیا کہ جب ہمارے مشورے پر عمل نہیں ہوتا اور ہماری بات نہیں مانی جاتی تو ہم خواہ مخواہ اپنی جانیں جوکھوں میں کیوں ڈالیں ؟ تین سو منافقین کے چلے جانے کے بعد اسلامی لشکر میں صرف سات سو افراد باقی رہ گئے تھے ‘ جن میں کمزور ایمان والے بھی تھے۔ چناچہ دامن احد میں پہنچ کر مدینہ کے دو خاندانوں بنو حارثہ اور بنوسلمہ کے قدم بھی تھوڑی دیر کے لیے ڈگمگائے اور انہوں نے واپس لوٹنا چاہا ‘ لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو حوصلہ دیا اور ان کے قدم جما دیے۔ اس کے بعد جنگ ہوئی تو اللہ کی طرف سے مدد آئی۔ اللہ نے لشکر اسلام کو فتح دے دی اور مشرکین کے قدم اکھڑ گئے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد پہاڑ کو اپنی پشت پر رکھا تھا اور اس کے دامن میں صف بندی کی تھی۔ سامنے دشمن کا لشکر تھا۔ پہاڑ میں ایک درّہ تھا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اندیشہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ وہاں سے ہم پر حملہ ہوجائے اور ہم دو طرف سے چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آجائیں۔ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس درّہ پر حضرت عبداللہ بن جبیر (رض) کی امارت میں پچاس تیر انداز تعینات فرما دیے تھے اور انہیں تاکید فرمائی تھی یہاں سے مت ہلنا۔ چاہے تم دیکھو کہ ہم سب مارے گئے ہیں اور ہمارا اگوشت چیلیں اور کوّے نوچ رہے ہیں تب بھی یہ جگہ مت چھوڑنا ! لیکن جب مسلمانوں کو فتح ہوگئی تو درّے پر مامور حضرات میں اختلاف رائے ہوگیا۔ ان میں سے اکثر نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں جو اتنی تاکید فرمائی تھی وہ تو شکست کی صورت میں تھی ‘ اب تو فتح ہوگئی ہے ‘ لہٰذا اب ہمیں بھی چل کر مال غنیمت جمع کرنے میں باقی سب لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن جبیر (رض) وہاں کے لوکل کمانڈر تھے ‘ وہ انہیں منع کرتے رہے کہ یہاں سے ہرگز مت ہٹو ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم یاد رکھو۔ لیکن وہ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی تاویل کرچکے تھے۔ ان میں سے ٣٥ افراد درّہ چھوڑ کر چلے گئے اور صرف ١٥ باقی رہ گئے۔ خالد بن ولید (جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے) مشرکین کی گھڑ سوارفوج (cavalry) کے کمانڈر تھے۔ ان کی عقابی نگاہ نے دیکھ لیا کہ وہ درہ خالی ہے۔ ان کی پیدل فوج (infantry) شکست کھا چکی تھی اور بھگدڑ مچ چکی تھی۔ ایسے میں وہ اپنے دو سو گھڑ سواروں کے دستے کے ساتھ احد کا چکر کاٹ کر پشت سے اس درے کے راستے مسلمانوں پر حملہ آور ہوگئے۔ درّے پر صرف پندرہ تیر انداز باقی تھے ‘ ان کے لیے دو سو گھڑ سواروں کی یلغار کو روکنا ممکن نہیں تھا اور وہ مزاحمت کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اس اچانک حملے سے یکلخت جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسلمانوں کی فتح شکست میں بدل گئی۔ ستر صحابہ کرام (رض) شہید ہوگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی زخمی ہوگئے۔َ خود کی کڑیاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رخسار میں گھس گئیں اور دندان مبارک شہید ہوگئے۔ خون اتنا بہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بےہوشی طاری ہوگئی ‘ اور یہ بھی مشہور ہوگیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہوگئے۔ لیکن پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو پکارا تو لوگ ہمت کر کے جمع ہوئے۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت پہاڑ پر چڑھ کر بچاؤ کرلیا جائے ‘ اور آپ تمام مسلمانوں کو لے کر کوہ احد پر چڑھ گئے۔ اس موقع پر ابوسفیان اور خالد بن ولید کے مابین اختلاف رائے ہوگیا۔ خالد بن ولید کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کے پیچھے پہاڑ پر چڑھنا چاہیے اور انہیں ختم کر کے ہی دم لینا چاہیے۔ لیکن ابوسفیان بڑے حقیقت پسند اور زیرک شخص تھے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ‘ مسلمان اونچائی پر ہیں ‘ وہ اوپر سے پتھر پھینکیں گے اور تیر برسائیں گے تو ہمارے لیے شدید جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ ہم نے بدر کا بدلہ لے لیا ہے ‘ یہی بہت ہے۔ چناچہ مشرکین وہاں سے چلے گئے۔ مطالعۂ آیات سے قبل غزوۂ احد کے سلسلۂ واقعات کا یہ اجمالی خاکہ ذہن میں رہنا چاہیے۔ آیت ١٢١ (وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ط) ۔ غزوۂ احد کی صبح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عائشہ (رض) کے حجرے سے برآمد ہوئے تھے اور جنگ کے میدان میں صف بندی کر رہے تھے ‘ وہاں مورچے معین کر رہے تھے اور ان میں صحابہ کرام (رض) کو مامور کر رہے تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

94. This marks the beginning of the fourth discourse of this surah. It was revealed after the Battle of Uhud and contains comments on it. The previous section ended with the assurance: 'But if you remain steadfast and mindful of Allah their designs will not cause you harm.' (See verse 120 above.) The Muslims did suffer a setback in the Battle of Uhud precisely because of this lack of patience, and because of a few mistakes committed by some of them which were indicative of insufficient piety. This discourse, therefore, is quite appropriate and warns the Muslims against such weaknesses. The discourse contains a precise and instructive commentary on all the main events connected with the Battle of Uhud. In order to appreciate this it is appropriate to refresh our minds as to the situational context of its revelations. In the beginning of Shawwal 3 A.H., the Quraysh attacked Madina with an army of three thousand men. In addition to their numerical superiority they were also much better equipped. Moreover, they sought to avenge their losses in the Battle of Badr. The Prophet (peace be on him) and his closest Companions were of the opinion that they should defend themselves from within the boundaries of Madina, There were, however, several young people who longed for martyrdom and felt aggrieved at, not having had the opportunity to fight in the Battle of Badr. They insisted that the enemy should be resisted outside the confines of Madina. The Prophet gave in to their demands and decided to march out of the city to meet their enemies. A thousand people accompanied him. Of these, 'Abd Allah b. Ubayy broke away along with his three hundred followers after reaching the place called Shawt. This, happening as it did just before the commencement of the battle, created such perplexity and confusion that the people of Banu Salamah and Banu Harithah wanted to turn back, and it took some effort on the part of the Companions to persuade them not to. The Prophet advanced with the remaining seven hundred Muslims and lined up his troops at the foot of Mount Uhud (a distance of approximately four miles from Madina) in such a manner that the mountain was behind and the Quraysh army in front of them. There was only one mountain pass from where the Muslims could be subjected to a surprise attack. The Prophet posted fifty archers there as guards under the- command of 'Abd Allah b. Jubayr, instructing him neither to let anyone approach nor to move away from that spot. 'Even if you see birds fly off with our flesh', the Prophet said, 'still you must not move away from this place'. (For such instructions from the Prophet see Ibn Sa'd, Tabaqat, vol. 2, pp. 39-40 and 47, and Waqidi, Maghazi, vol. 1, pp. 224 and 229 - Ed.) Then the battle commenced. In the beginning the Muslims proved the better side but instead of maintaining their onslaught until they had assured complete victory, they were overcome by the temptation of booty and turned to collecting the spoils. When the archers whom the Prophet had posted to repel the attack of the enemy from the rear saw that the enemy had taken to its heels and that people were collecting booty, they too joined the melee and began to do the same. 'Abd Allah b. Jubayr tried to persuade them not to leave their posts by reminding them of the Prophet's directive. Hardly anyone heeded him. Khalid b. Walld, who was at that time an unbeliever and who commanded the Quraysh cavalry, seized his opportunity. He rode with his men around Mount Uhud and attacked the flank of the Muslim army through the pass. 'Abd Allah b. Jubayr's depleted forces tried unsuccessfully to resist the attack. The fleeing soldiers of the enemy also returned and joined the attack from the front and the scales of the battle turned against the Muslims. The suddenness of these attacks, from both the rear and the front, caused such confusion that many fled. Then the rumour spread that the- Prophet, himself, had been martyred. This news shattered whatever presence of mind the Companions had left, and led many who had stood firm to lose courage altogether. At this moment there remained around the injured and bleeding Prophet (peace be on him) no more than ten or twelve loyal persons who had staked their lives for his sake. Defeat seemed inevitable. Fortunately, however, the Companions realized that the Prophet was still alive. They therefore advanced towards him from all sides, rallied around him, and led him to the safety of the mountain. (For an account of the Battle of Uhud in early Islamic sources, see Ibn Hisham, Slrah, yol, 1, pp. 61 ff., Waqidi, Maghazi, vol. 1, pp. 199 ff., especially pp. 224, 229 f. and 237 ff., and Ibn Sa'd, Tabaqat, vol. 2, pp. 36-48, etc. - Ed.) It remains a mystery why the unbelievers of Makka held back when victory was within their grasp. The Muslim ranks were in such disarray that they would have been hard pushed to resist further. (Cf. the account and conclusion of W. M. Watt regarding the Battle of Uhud in Muhammad at Medina, Oxford University Press, 1956, pp. 21 ff., especially pp. 26-9 -Ed.)

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :94 یہاں سے چوتھا خطبہ شروع ہوتا ہے ۔ یہ جنگ احد کے بعد نازل ہوا ہے اور اس میں جنگ احد پر تبصرہ کیا گیا ہے ۔ اوپر کے خطبہ کو ختم کرتے ہوئے آخر میں ارشاد ہوا تھا کہ”ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہو سکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ۔ “ اب چونکہ احد کے میدان میں مسلمانوں کی شکست کا سبب ہی یہ ہوا کہ ان کے اندر صبر کی بھی کمی تھی اور ان کے افراد سے بعض ایسی غلطیاں بھی سرزد ہوئی تھیں جو خدا ترسی کے خلاف تھیں ، اس لیے یہ خطبہ جس میں انہیں ان کمزوریوں پر متنبہ کیا گیا ہے ، مندرجہ بالا فقرے کے بعد ہی متصلاً درج کیا گیا ۔ اس خطبے کا انداز بیان یہ ہے کہ جنگ احد کے سلسلہ میں جتنے اہم واقعات پیش آئے تھے ان میں سے ایک ایک کو لے کر اس پر چند جچے تلے فقروں میں نہایت سبق آموز تبصرہ کیا گیا ہے ۔ اس کو سمجھنے کے لیے اس کے واقعاتی پس منظر کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے ۔ شوال سن ۳ ہجری کی ابتدا میں کفار قریش تقریباً ۳ ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے ۔ تعداد کی کثرت کے علاوہ ان کے پاس ساز و سامان بھی مسلمانوں کی بہ نسبت بہت زیادہ تھا ، اور پھر وہ جنگ بدر کے انتقام کا شدید جوش بھی رکھتے تھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تجربہ کار صحابہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں محصور ہو کر مدافعت کی جائے ۔ مگر چند نوجوانوں نے ، جو شہادت کے شوق سے بے تاب تھے اور جنھیں بدر کی جنگ میں شریک ہونے کا موقعہ نہ ملا تھا ، باہر نکل کر لڑنے پر اصرار کیا ۔ آخر کار ان کے اصرار سے مجبور ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکلنے ہی کا فیصلہ فرما لیا ۔ ایک ہزار آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، مگر مقام شوط پر پہنچ کر عبداللہ ابن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہو گیا ۔ عین وقت پر اس کی اس حرکت سے مسلمانوں کے لشکر میں اچھا خاصہ اضطراب پھیل گیا ، حتٰی کہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے لوگ تو ایسے دل شکستہ ہوئے کہ انہوں نے بھی پلٹ جانے کا ارادہ کر لیا تھا ، مگر پھر اولو العزم صحابہ کی کوششوں سے یہ اضطراب رفع ہو گیا ۔ ان باقی ماندہ سات سو آدمیوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور احد کی پہاڑی کے دامن میں ( مدینہ سے تقریباً چار میل کے فاصلہ پر ) اپنی فوج کو اس طرح صف آرا کیا کہ پہاڑ پشت پر تھا اور قریش کا لشکر سامنے ۔ پہلو میں صرف ایک درہ ایسا تھا جس سے اچانک حملہ کا خطرہ ہو سکتا تھا ۔ وہاں آپ نے عبداللہ بن جبیر کے زیر قیادت پچاس تیر انداز بٹھا دیے اور ان کو تاکید کر دی کہ ”کسی کو ہمارے قریب نہ پھٹکنے دینا ، کسی حال میں یہاں سے نہ ہٹنا ، اگر تم دیکھو کہ ہماری بوٹیاں پرندے نوچے لیے جاتے ہیں تب بھی تم اس جگہ سے نہ ٹلنا ۔ “ اس کے بعد جنگ شروع ہوئی ۔ ابتدا ءً مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا یہاں تک کہ مقابل کی فوج میں ابتری پھیل گئی ۔ لیکن اس ابتدائی کامیابی کو کامل فتح کی حد تک پہنچانے کے بجائے مسلمان مال غنیمت کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور انہوں نے دشمن کے لشکر کو لوٹنا شروع کر دیا ۔ ادھر جن تیر اندازوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عقب کی حفاظت کے لیے بٹھایا تھا ، انہوں نے جو دیکھا کہ دشمن بھاگ نکلا ہے اور غنیمت لٹ رہی ہے ، تو وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر غنیمت کی طرف لپکے ۔ حضرت عبداللہ بن جبیر نے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تاکیدی حکم یاد دلا کر بہتیرا روکا مگر چند آدمیوں کے سوا کوئی نہ ٹھیرا ۔ اس موقع سے خالد بن ولید نے جو اس وقت لشکر کفار کے رسالہ کی کمان کر رہے تھے ، بر وقت فائدہ اٹھایا اور پہاڑی کا چکر کاٹ کر پہلو کے درہ سے حملہ کر دیا ۔ عبداللہ بن جبیر نے جن کے ساتھ صرف چند آدمی رہ گئے تھے ، اس حملہ کو روکنا چاہا مگر مدافعت نہ کرسکے اور یہ سیلاب یکایک مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا ۔ دوسری طرف جو دشمن بھاگ گئے تھے وہ بھی پلٹ کر حملہ آور ہو گئے ۔ اس طرح لڑائی کا پانسہ ایک دم پلٹ گیا اور مسلمان اس غیر متوقع صورت حال سے اس قدر سراسیمہ ہوئے کہ ان کا ایک بڑا حصہ پراگندہ ہو کر بھاگ نکلا ۔ تاہم چند بہادر سپاہی ابھی تک میدان میں ڈٹے ہوئے تھے ۔ اتنے میں کہیں سے یہ افواہ اڑ گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ۔ اس خبر نے صحابہ کے رہے سہے ہوش و حواس بھی گم کر دیے اور باقی ماندہ لوگ بھی ہمت ہار کر بیٹھ گئے ۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد و پیش صرف دس بارہ جاں نثار رہ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود زخمی ہو چکے تھے ۔ شکست کی تکمیل میں کوئی کسر باقی نہ رہی تھی ۔ لیکن عین وقت پر صحابہ کو معلوم ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں ، چنانچہ وہ ہر طرف سے سمٹ کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بسلامت پہاڑی کی طرف لے گئے ۔ اس موقع پر یہ ایک معما ہے جو حل نہیں ہو سکا کہ وہ کیا چیز تھی جس نے کفار مکہ کو خود بخود واپس پھیر دیا ۔ مسلمان اس قدر پراگندہ ہو چکے تھے کہ ان کا پھر مجتمع ہو کر باقاعدہ جنگ کرنا مشکل تھا ۔ اگر کفار اپنی فتح کو کمال تک پہنچانے پر اصرار کرتے تو ان کی کامیابی بعید نہ تھی ۔ مگر نہ معلوم کس طرح وہ آپ ہی آپ میدان چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

40: جنگ احد میں تین ہزار کفار کا ایک لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا تھا آنحضرتﷺ ان کے مقابلے کے لئے احد پہاڑ کے دامن میں تشریف لے گئے تھے جہاں یہ جنگ لڑی گئی، آنے والی آیات میں اس کے متعدد واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

جمہور مفسرین کے نزدیک یہ لڑائی احد کی ہے جس کا آیت میں ذکر ہے اور پانچ رکوع تک اللہ نے اس لڑائی کے طرح طرح کے حالتوں کے بیان میں آیتیں نازل فرمائی ہیں اور اس لڑائی میں لشکر اسلام میں سات سو آدمی ہونے کے باوجود بعض مسلمانوں کی بےاحتیاطی سے مسلمانوں کو شکست ہوگئی تھی اور بدر کی لڑائی میں کچھ اوپر میں سو آدمی تھے اور فتح ہوئی تھی۔ غزوہ بدر اور احد کا مختصر بیان اس لئے مثال کے طور پر اللہ نے اس احد کی لڑائی کے ذکر میں بدر کی لڑائی کا بھی حوالہ دیا ہے یہاں شروع میں بدر اور احد دونوں لڑائیوں کے قصہ کا حاصل بیان کردیا جاتا ہے تاکہ آئندہ کی آیتوں کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجائے بدر کی لڑائی کے قصہ کا حاصل اسی قدر ہے کہ ٢ ھ؁ میں مشرکین مکہ کا ایک قافلہ شام کے ملک سے مکہ کو جارہا تھا اس قافلہ میں تجارت کا بہت سا سامان تھا۔ آنحضرت نے اس قافلہ کی خبر پا کر اس کا مال چھین لینے کا ارادہ کیا اور کچھ اگلے تین سو صحابہ کے ساتھ مدینہ سے نکلے ادھر مشرکین مکہ اپنے قافلہ کے لوٹے جانے کی خبر سن کر مکہ سے چلے اور بدر کے مقام پر جو مدینہ کسے چند میل کے فاصلہ پر ہے لڑائی ہو کر مسلمانوں کی فتح ہوی مشرکین کے بڑے بڑے سردار ابو جہل وغیرہ ستر آدمی مارے گئے اور ستر آدمی قید ہوگئے جن کو پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (رض) نے فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ اور تفصیل اس قصہ کی سورة انفال میں آئے گی غرض مشرکین کو اپنی اس شکست کا بڑا قلق تھا اس لئے تیرہ مہینے کے بعد پھر آئے پہلے آنحضرت کی یہ صلاح ہوئی کہ مدینہ کے باہر نہ جانا چاہیے۔ بلکہ جب مشرکین چڑھ کر آئیں تو گھروں کے کوٹھوں پر سے اور بلند مقاموں پر سے ان کو پتھروں اور تیروں سے مارنا چاہیے عبد اللہ بن ابی منافق بھی اس صلاح میں ہم صلاح آنحضرت کا تھا۔ لیکن اوپر بیان ہوچکا ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت جب آنحضرت مدینہ سے نکلے تو شروع میں لڑائی کا ارادہ نہ تھا۔ اس سبب سے صحابہ اس لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے انہوں میدان کی لڑائی کی آرزو ظاہر کر کے اس صلاح کے مان لینے سے انکار کیا۔ آخر ہزار آدمی کی جمعیت سے ابتداء میں آپ مدینہ سے نکلے اور احد کے پاس مناسب اور اچھے مقامات مسلمانوں کے لئے لڑائی کے وقت کھڑے رہنے کی تجویز کئے اسی حالت میں اس آیت کا ذکر ہے اس کے بعد عبد اللہ بن ابی نے لوگوں کو بہکایا کہ جب ہماری صلاح کو بعض مسلمانوں لوگوں نے نہیں مانا تو ہم کو ان کے ساتھ نہیں لڑنا چاہیے اور تین سو آدمیوں کو ابھار کر لشکر اسلام میں سے مدینہ کو واپس لے آیا۔ اب لشکر اسلام میں ساتو سو آدمی رہ گئے اور مقابلہ شروع ہوا یہ لڑائی ایسے ڈھنگ سے تھی کہ احد پہاڑ مسلمانوں کی پشت پر تھا اور لڑائی سے پہلے پچاس تیر انداز آدمیوں کو آپ نے پہاڑ پر تعینات کردیا اور عبد اللہ بن جبیر (رض) کو ان تیر اندازوں پر افسر کر کے نہایت تاکید فرمائی تھی کہ خواہ مسلمانوں کی فتح ہو یا شکست یہ لوگ اپنے مقام کو ہرگز ہرگز نہ چھوڑیں اور مشرک لوگ دھوکا دے کر اگر مسلمانوں کی پشت پر سے لڑائی کے وقت حملہ کرنا چاہیں تو ان کو روکیں سبب اس کا یہ تھا کہ ابو سفیان اور سو ١٠٠ سوار احد پہاڑ کی ایک جانب اسی ارادہ سے کھڑے تھے کہ جب پیدلوں کی لڑائی شروع ہوجائے تو مسلمانوں کی پشت پر سے یہ سوار حملہ کریں آنحضرت نے ابو سفیان کے اس ارادہ کو روکنے کی غرض سے ان تیر اندازوں کو تعینات کیا تھا اول اول تو تین دفعہ ابو سفیان نے حملہ کیا۔ مگر ان تیر اندازوں نے بڑی جرأت سے روکا۔ مگر اتنے میں ان تیر اندازوں نے دیکھا کہ مسلمان غلبہ کر کے مشرکوں کو دباتے اور پیچھے ہٹاتے جاتے ہیں اور مشرکوں کے پیر اکھڑے جاتے ہیں ایک دفعہ ہی یہ سب مسلمان تیر انداز لوٹ لوٹ کہتے ہوئے اپنی تعیناتی کی جگہ چھوڑ کر پیدل لشکر کی طرف چلے ہرچند عبد اللہ بن جبیر (رض) نے روکا۔ اور کہا کہ دیکھو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی نافرمانی نہ کرو مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور اپنی جگہ کو خالی چھوڑ دیا۔ موقع کا خالی ہونا تھا کہ ابو سفیان نے سو ١٠٠ سواروں کے ساتھ پشت پر سے مسلمانوں پر حملہ کیا اور مسلمانوں کے پیر اکھاڑ دئیے۔ آخر ستر آدمی مسلمانوں کے شہید ہوئے۔ حضرت امیر حمزہ (رض) اور نامی نامی صحابہ بھی انہی ستر میں شہید ہوئے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دندان مبارک شہید ہوا۔ آپ کے خسارے اور ناک میں بھی زخم آئے۔ گھٹنا مبارک بھی چھل گیا۔ شیطان نے غل مچا دیا کہ رسول وقت شہید ہوگئے چناچہ ہر ایک آیت کے نیچے باقی قصہ کا ذکر آئے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:121) یہاں سے لے کر سورة کے آخیر تک کلام جنگ احد کے بعد نازل ہوا۔ تبوی دیکھو 3:112 ۔ مقاعد للقتال۔ مقاعد۔ صیغہ جمع منتہی الجموع۔ ظرف مکان ۔ مقعد واحد۔ بیٹھنے کی جگہ ۔ گھات لگانے کے مقامات۔ مورچے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اب یہاں سے جنگ احد کا بیان ہے۔ جنگ بدر میں میں ذلت آمیز شکست کے بعد مشرکین نے جوش انتقام میں مدینہ پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنایا اور اردگر سے مختلف قبائل کو جمع کر کے تین ہزار کا مسلح لشکر لیا اور جبل احد کے قریب آکر ٹھہر گئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی صحابہ (رض) سے مشورہ کرنے کے بعد ایک ہزار کی جمعیت لے کر باہر نکلے۔ مقام شوط پر عبد اللہ بن ابی نے دھوکا دیا اور اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ لوٹ آیا اس بعض مسلمانوں کے حوصلے بھی پست ہوگئے جیسا کہ آگے آرہا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ثا بت قدمی بخشی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سات سو صحانہ (رض) کی یہ جمعت لے کر آگے بڑھے اور احد کی قریب وادی میں فوج کو آراستہ کیا جس کی طرف قرآن کی طرف قرآن نے اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے۔ اسلامی فوج کی پشت پر جبل احد تھا اور ایک جانب ٹیلے پر عبد اللہ بن جبیر کی سرگردگی میں پچاس تیز اندازوں کا دستہ متعین تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا تھا کہ کہ جگہ کسی بھی صورت میں چھوڑ کرم مت آنا مگر وہ کفار کو پسیا ہوتے دیکھ کر نیچے اتر آئے اور اس گھاٹی کو چھوڑ دیا جس سے مشرکین کو عقب سے حملہ کرنے کا موقعہ مل گیا اس اچانک حملہ سے مسلمانوں کے پاوں اکھڑ گئے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور چند صحابہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دندان مبارک شہید ہوگئے اور پیشانی مبارک بھی زخمی ہوگئی آخرکار صحابہ (رض) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد دوبارہ جمع ہوئے جس سے میدان جنگ کا نقشہ بدل گیا اور دشمن کا نا کام ہو کر لوٹ جانا پڑا۔ ان آیات میں بعض وقعات کی طرف اشارے آگے آرہے ہیں۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 121 129 اسرارو معارف واذ غدوت من اھلک………………فاتقو اللہ لعلکم تشکرون۔ کفار کی اسلام دشمنی اور جوش غضب کا اظہار ان غزوات سے ہوتا ہے جن میں رحمت عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی شمشیر بکف ہونا پڑا۔ فرمایا کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر والوں کے پاس سے نکلے ، اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کے لئے ترتیب سے جما رہے تھے۔ یہاں مفہوم سے آگاہی کے لئے واقعات جنگ سے آگاہ ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ غزوہ احد کے واقعات ہیں جو 3 ھ میں وقوع پذیر ہوئی۔ 2 ھ میں مقام بدر پر ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد مشرکین مکہ نے یہ عہد کیا کہ جب تک مسلمانوں سے اس کا بدلہ نہ لیا جائے تب تک چین حرام ہے۔ چناچہ شام والے تجارتی قافلے کا سارا منافع بھی باتفاق رائے جنگ کی تیاری پر خرچ کیا گیا اور بہت سے قبائل کو ساتھ ملا کر تین ہزار کا لشکر جرار جس کے ساتھ عورتیں بھی تھیں کہ میدان جنگ میں مردوں کو غیرت دلائیں گی۔ یہ لشکر مدینہ منورہ سے باہر جبل احد کے قریب آکر خیمہ زن ہوا۔ آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں سے مشورہ لیا ۔ آپ کی رائے مبارک یہ تھی کہ شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے۔ نیز یہ پہلا موقعہ تھا کہ عبداللہ ابن ابی وبظاہر مسلمان تھا۔ مشاورت میں شامل تھا بعض پرجوش مسلمانوں نے جو بدر میں شریک نہ ہوسکے۔ یہ تجویز کیا کہ میدان میں جاکر لڑا جائے۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکان کے اندر تشریف لے گئے اور زرہ پہن کر باہر تشریف لائے۔ اہل بیت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): اسی کی طرف اشارہ ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے نکلے۔ صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ یہ گھر حضرت عائشہ (رض) کا تھا۔ امام رازی (رح) نے یہاں یہ بحث فرمائی ہے کہ چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منزل عائشہ صدیقہ (رض) سے روانہ ہوئے تھے۔ یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ عائشہ صدیقہ (رض) آپ کی اہل ہیں اور جیسا کہ ارشاد ہے الطیبات للطیبین والطیبون الطیبات یہ اس بات پر نص ہے کہ آپ (رض) مظہرہ تھیں اور ہر قباحت سے مبرا ومنزہ۔ کیونکہ نوح (علیہ السلام) کا بیٹا کافر تھا تو ارشاد ہوا انہ لیس من اھلک ایسے ہی حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی۔ آپ ایک ہزار آدمیوں کے ہمراہ مدینہ تشریف سے نکلے مگر ابن ابی راستے سے علیحدہ ہوگیا اور تین سو آدمیوں کو ساتھ لے گیا کہ ہمارا مشورہ نہیں مانا گیا لہٰذا ہم اپنے آپ کو ہلاکت میں کیوں ڈالیں ؟ اس کے ساتھی بھی منافقین کا معروف گروہ تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف سات صدجاں نثار باقی رہے۔ جن کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان میں ترتیب سے صف آرائی فرمائی۔ کوہ احد کے پشت پر رکھا۔ حضرت مصعب بن عمیررضی اللہ عنہ کو پچاس تیراندازوں کے ساتھ پشت کی جانب درے قر مقرر فرمایا کہ دشمن اس طرف سے حملہ آور نہ ہوسکے۔ یہ طریقہ جنگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا ورنہ عرب تو محض نسور اور قوت کے بل چڑھ دوڑے تھے آج جب فن حرب اپنے عروج پر ہے پھر بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انداز جنگ ، میدان جنگ کے نشیب و فراز کی اہمیت اور سپاہ کی تقسیم کے ساتھ سخت نظم وضبط ایسی چیزیں ہیں جنہیں متتشرق بھی نظر انداز نہیں کرسکتے اور مختلف کتب میں اپنے اپنے انداز میں تعریف کرتے ہیں۔ احد میں تیرانداز : غرض جنگ چھڑی اور اہل مکہ کے منہ پھرگئے حتیٰ کہ ان کی فوج کے قدم اکھڑ گئے اور بھاگ کھڑی ہوئی۔ ایسی حالت میں وہ تیرانداز جو درے پر مقرر تھے فتح کے جوش میں درے سے اتر آئے اور حضرت ابن عمیر (رض) کے منع کرنے پر نہ رکے کہ وہ حکم تو اس وقت تھا اب فتح ہوگئی۔ اب اس کی ضرورت نہیں۔ صرف چند جانفروش باقی رہے۔ دوسری طرف حضرت خالد بن ولید (رض) نے جو اہل مکہ کی طرف سے رسالے کے سالار تھے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ درہ خالی دیکھ کر بھاگتے ہوئے سواروں کو سنبھالا اور عقب سے آکر حملہ کردیا حضرت مصعب بن عمیر (رض) جاں نثاروں کے ساتھ شہید ہوگئے۔ مسلمان اس غیر متوقع صورت حال سے پریشان ہوگئے اور مشرک فوج نے پلٹ کر حملہ کردیا۔ غرض سخت ابتری پھیل گئی۔ ساتھ کفار نے یہ افواہ اڑا دی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے۔ اس خبر نے مسلمانوں کے حواس گم کردیئے بعض بےجگری سے لڑے کہ اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے اور بعض پریشان ہوگئے کہ اب کس لئے لڑیں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زخمی ہوئے آپ کے دندان مبارک شہید ہوگئے رخ انور سے خون جاری ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دس بارہ جاں نثارہ رہ گئے۔ باقی سب میدان میں منتشر ہوگئے۔ امام رازی (رح) نے ساتھ رہ جانے والوں کے چند نام گنوائے ہیں جن میں پہلا نام سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کا ہے۔ فرماتے ہیں۔ لم یبق معہ الا ابوبکر وعلی وعباس وطلحہ وسعد۔ (تفسیر کبیر) کہ ایک انصاری نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ کر اعلان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرف تشریف رکھتے ہیں چناچہ مہاجرین وانصار آپ کے گرد جمع ہوگئے اور مشرکین کو میدان سے بھاگنا پڑا۔ اکثر جلیل القدر صحابہ (رض) شہید ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رخ انور زخمی ہوا مگر فتح بہرحال اسی لشکر کی شمار ہوگئی جو میدان میں مقیم رہا اور جو بھاگ گیا وہ ہزیمت خوردہ تھا۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ درہ پر مقررہ صحابہ (رض) نے مال غنیمت لوٹنے کے لئے درہ چھوڑ دیا مگر یہ بات اس وجہ سے درست نہیں کہ غنیمت ہمیشہ ایک جگہ جمع ہوتی تھی۔ اور پھر سب پر تقسیم ہوتی تھی نہ کہ جس نے لوٹ لیا ، وہ مال اسی کا ہوگیا اس لئے یہ تو بات ہی غیر مناسب ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ سمجھے ، فتح ہوگئی۔ اب ہمارا کام ختم ہوگیا اور جوش فتح میں دوسری سپاہ کے ساتھ آملے اگرچہ اتباع رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عمداً نہ چھوڑا۔ اجتہاداً خطا ہوئی مگر دنیا کی تکلیف تو اس پر بھی مرتب ہوئی۔ نیز صحابہ (رض) کے خلوص پر انعامات بھی بےبہا مرتب ہوئے اور شہادت وجاں نثاری کا موقع نصیب ہوا۔ یہاں جو متعدد امور مستفید ہوتے ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں ، 1 ۔ اذغدوت من اھلک ، یعنی آپ اہل و عیال میں تھے مگر اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کھڑے ہوئے یعنی اولیت دین کو حاصل ہے اور باقی تمام تعلقات درجہ ثانی میں ہیں۔ 2 ۔ ام المومنین حضرت عائشہ الصدیقۃ (رض) اہل بیت رسول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طاہر بی بی ہیں اگر اس بات میں تردد پیدا ہوا تو ایسا شخص نص قرآنی کا منکر ہو کر کافر ٹھہرے گا۔ مشاروت اور منشائے شیخ : 3 ۔ اگرچہ مشاورت درست ہے مگر منشائے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لحاظ مقدم ہے اگر آپ خلاف منشاء پر راضی ہوجائیں تو دینی نقصان نہ ہوگا مگر دنیاوی تکلیف ضرور مرتب ہوگی اور یہی حال طالب کا شیخ کے ساتھ ہونا چاہیے کہ شیخ کو اس کی منشاء کے خلاف رائے نہ دے یعنی اگر دونوں طرف جواز ہو تو اس طرف کو اختیار کرے جو شیخ کو منظور ہو ورنہ نہ دنیاوی نقصان ہوگا۔ 4 ۔ تبوالمومنین مقاعد للقتال ، کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مومنین کو ترتیب سے جما رہے تھے بلحاظ عہدہ ورتبہ بھی اور بلحاظ فرائض ومناصب بھی اور مناسب اور موزوں مقامات پر بھی۔ یعنی ہر کام میں جنگ ہو یا امن ایک ترتیب ضروری ہے۔ 5 ۔ اس مقررہ نظام کے تابع رہنا بہرحال ضروری ہے عمداً مخالفت دین کے نقصان کا باعث ہوگی اور نادانی سے اگر سرزد ہوئی تو بھی دنیاوی نقصان ضرور ہوگا۔ طالبان طریقت کے لئے یہ جملہ اموراشد ضروری ہیں۔ حفاظت الٰہیہ : فرمایا ، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے حتیٰ کہ جب دو جماعتوں نے کم ہمتی دکھانے کا قصد کیا ، یعنی بنی سلمہ اور بنی حارثہ نے جب وہ ابن ابی منافق کی اس بات سے اثر پذیر ہوئے کہ یہ لڑائی تو اپنے آپ کو خواہ مخواہ ہلاکت میں ڈالنا ہے تو اللہ نے انہیں سنبھال لیا۔ اور ایسی نامردی سے محفوظ فرمایا۔ واللہ ولیھما اللہ ان کا مددگار تھا۔ یہ برکت ان کے خلوص کی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت کی ظاہر فرمائی کہ اگرچہ حالات ظاہر ی نے ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی کہ یہاں سے پلٹ جانا چاہیے مگر چونکہ وہ مخلص تھے اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی اور انہیں ثابت قدم رکھا۔ حالانکہ منافقین پلٹ کر چلے گئے تھے انہیں اس سعادت سے محروم کردیا کہ وہاں نفاق تھا۔ سو ولایت خلوص کا نام ہے اور ایسے لوگ معصوم نہیں ہوتے مگر محفوظ ضرور ہوتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ان کی حفاظت فرماتے ہیں۔ لہٰذا بدکاروں کو ولی تسلیم کرنا جہالت ہے۔ نیز مومنین کا بھروسہ تو اللہ پر ہوتا ہے یعنی جملہ اسباب ظاہری پر پوری محنت ودیانت سے عمل کرنے کے بعد نتائج کو اللہ کے سپرد کردیتے ہیں۔ ترک سبب تو کل نہیں ہے بلکہ اسباب اختیار کرکے ذات باری پر بھروسہ کرے اور نتائج کی امید اس کی ذات سے رکھے۔ وہ ایسا قادر ہے کہ بغیر اسباب کے بھی اور اسباب کی کمی کے باوجودبھی جس طرح چاہے نتائج مرتب فرما سکتا ہے جیسے یوم بدر اس نے تمہاری مدد فرمائی حالانکہ کفار کے مقابلے میں تم لوگ بہت کمزور تھے۔ یہ واقعہ 17 رمضان المبارک 2 ھ کو پیش آیا۔ بدر مکہ معظمہ سے آتے ہوئے مدینہ کی طرف راستے میں ایک مقام ہے ۔ جہاں مشرکین مکہ اور مسلمانوں کے درمیان سب سے پہلا معرکہ بپا ہوا۔ مشرکین تعداد میں ایک ہزار چنے ہوئے۔ جنگ جو بہادروں کا لشکر لائے تھے ، بہترین اسلحہ وافر راشن ، غرض ہر لحاظ سے مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ اور مسلمان تعداد میں تین سو تیرہ ، اسلحہ نہ ہونے کے برابر سواریاں بہت کم ، اور یہی حال راشن کا تھا۔ پھر ان تین سو تیرہ میں کچھ کمسن تھے تو کچھ حضرات عمر رسیدہ بھی۔ لشکر کفار نے پہلے پہنچ کر میدان کے جنگی اعتبار سے مفید حصے پر قبضہ جمالیا تھا۔ غرض باعتبار اسباب کے ہر لحاظ سے کفار مضبوط تھے مگر نصرت الٰہی کا کیا کہنا کہ اس قدر ذلت آمیز شکست سے دو چار ہوئے کہ ان کے چیدہ چیدہ افراد میں سے ستر نامور سردار قتل ہوئے اور اتنے ہی مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوئے جبکہ مسلمان شہداء کی تعداد صرف چودہ تھی۔ یہ بظاہر تو ایک چھوٹی سے اور مقامی سطح کی جنگ تھی مگر اپنے اثرات کے لحاظ سے اس نے پوری دنیا کو متاثر کیا اور بقول ہٹی ، یہ اسلام کی پہلی فتح مبین تھی۔ (ہسٹری آف عریبیہ) اور ارشادات رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس مختصر سے لشکر پر اسلام کی فتح کی بنیاد رکھی گئی جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا میں عرض کیا تھا کہ اے بار الٰہا ! اگر یہ لوگ آج یہاں کھیت رہے تو کبھی کوئی شخص تیری عبادت نہ کرسکے گا کہ آج میں سارے کا سارا اسلام کفر کے مقابلے پر لے آیا ہوں۔ اللہ کریم نے عظیم الشان فتح نصیب فرمائی اور اسلامی ریاست کی بنیاد مضبوط تر بنیادوں پر استوار ہوئی۔ اللہ سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو کہ اصل طریقہ شکر یہی ہے قرآن کریم نے مسلمان کو تمام مصائب کا علان اور جملہ پریشانیوں کا حل ایک لفظ میں ارشاد فرمادیا ہے اور وہ ہے تقویٰ میں صبر اور صلوٰۃ میں شکر اور کہیں ذکر۔ موقع کی مناسبت سے یہ تمام امور بتلائے گئے ہیں جو درحقیقت تقویٰ کے حصے ہیں اور لفظ تقویٰ تمام امور کو شامل ہے۔ یہاں تقویٰ میں شکر فرع کے طور پر بیان ہوا ہے یعنی شکر کرنے کی عملی صورت خلوص دل سے اللہ کی اطاعت میں اپنی پوری کوشش صرف کرنے کا نام ہے اور یہی سب کچھ تصوف و سلوک کا محاصل ہے۔ اذتقول للمومنین…………فینقلبوا خائبین۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے موقع پر ارشاد فرما رہے تھے کہ کیا تمہاری تقویت کے لئے یہ امر کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد تین ہزار ملائکہ کے لشکر جرار سے کرے جو صرف اسی غرض سے آسمان سے نازل ہوں یعنی یہ کام وہ فرشتے انجام نہ دیں جو پہلے ہی مختلف امور کی انجام دہی کے لئے زمین پر موجود ہیں بلکہ ایک خاص مقام کے حامل فرشتے جو صرف اس کام کو انجام دینے کے لئے نازل ہوں جو تمہیں کرنا ہے اور فرمایا اس سے بھی زیادہ کہ اگر تم صبر اور تقویٰ پر بدستور قائم رہو۔ کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ پہلے بھی وصف تقویٰ اور صبر سے متصف تھے تو نزول ملائکہ ہوا۔ اب اگر یہ وصف کمال کی طرف بڑھتا رہے تو ملائکہ کی تعداد بھی زیادہ کردی جائے گی کہ اگر کفار یکبارگی تم پر ٹوٹ پڑیں تو پانچ ہزار کا لشکر جو نشان زدہ گھوڑوں پر سوار ہو تمہاری مدد کو پہنچ جائے۔ یہ مختلف مدارج اور کیفیات ہیں فنا فی اللہ کی ، کہ جس قدر قرب بڑھتا جائے ، برکات میں زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ فرشتے لڑائی کے لئے مکلف نہ تھے بلکہ یہ کام مسلمانوں کو انجام دینا تھا مگر ان کے قلوب اس قدر مستغرق تھے جمال باری میں کہ ان کا کام ملائکہ کے سپرد ہوا اور وہ بھی خاص درجہ کے فرشتے مقرر ہوئے۔ اب صورت یہ ہوتی ہے کہ انسان اگر ذات باری سے دور ہوتا چلاجائے تو دل انوارت سے خالی ہو کر شیطان کی قرار گاہ بن جاتا ہے پھر جوں جوں دور ہو شیطان کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے کہ ظلمت بڑھتی چلی جاتی ہے لیکن قرب الٰہی کی صورت میں ابتداء ہی نورانیت کے ظہور سے ہوتی ہے اور جوں جوں ترقی نصیب ہو نورانیت بڑھتی چلی جاتی ہے جس کی وجہ سے ملائکہ مقربین کا نزول قلب پر ہوتا ہے۔ اور اس کے لئے بشارت ، سکون اور اطمینان کا باعث بنتے ہیں۔ یہاں بھی نزول ملائکہ کا سبب یہی ارشاد ہوا ہے کہ ، بشریٰ لکم ولتطمئن قلوبکم۔ تمہارے لئے بشارت کا سبب ہوں اور دلوں کو قرار بخشیں ، نیز شیاطین اور ان کے مسکن قلوب پریشان ہوں ورنہ تو اللہ قادر ہے اصل غلبہ اور مدد اسی کی ہے جو حکیم ، دانا بھی اور زبردست اور قادر بھی ہے۔ اور یہ سب نزول برکات اور ملائکہ اس نے اس لئے فرمایا ہے کہ کفار میں سے بعض کو ہلاک کرے اور باقیوں کو ذلت آمیز شکست سے دو چار کرکے خائب و خاسر لوٹا دے۔ کرامات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین : میدان بدر میں بعض کفار فرشتوں کے ہاتھوں بھی ہلاک ہوئے کہ بعض صحابہ (رض) فرماتے ہیں جب میں نے کافر پہ وار کرنا چاہا تو اس سے پہلے کہ میری تلوار اس پر پڑے اس کا سر تن سے کٹ چکا ہوتا۔ اسی طرح بعض جسمانی طور پر کمزور صحابہ (رض) نے بڑے طاقتور مشرکوں کو قیدی بنا لیا جس کے بارے وہ کفار بھی کہتے تھے کہ میں نہیں جان سکتا کہ اس نے مجھے کس طرح باندھ لیا ہے بس اتنی خبر ہے کہ میں اس کے ہاتھوں میں ہل نہیں سکتا تھا۔ اسی طرح میدان احد میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بہت سے مشاہدات بیان ہوئے ہیں جیسے حضرت انس بن نصررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پہاڑ کے دامن سے جنت کی خوشبو آرہی ہے اسی طرح لپکے اور شہید ہوگئے ، یا حضرت مصعب بن عمیر (رض) کی شہادت پر ایک فرشتے نے بڑھ کر جھنڈا تھام لیا اور گرنے نہ دیا۔ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے مصعب (رض) ! آگے بڑھو تو فرشتے نے کہا میں مصعب (رض) نہیں ہوں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ فرشتہ ہے یا حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کا بیان کہ میں تیر پھینکتا تھا تو ایک سفید رنگ کا جوان مجھے واپس لادیتا تھا۔ یہ واقعات تفسیر کبیر میں صفحہ 33 پر ارشاد ہوئے ہیں۔ صفحہ 35 پر امام رازی (رح) فرماتے ہیں ، کہ رویت ملائکہ کے بارے جسے شبہ گزرے وہ قرآن اور نبوت کا منکر ہے۔ اور اگر اقرار کرنے والا ہے تو ایسا شبہ اس کے دل میں نہیں آسکتا اور نزول ملائکہ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ تمام مفسرین اور جملہ مورخین متفق ہیں۔ ان جملہ امور میں معجزات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور کرامات صحابہ (رض) واضح ہیں اور یہ سب قرب الٰہی کی برکات کا ظہور ہے۔ نیز غیر نبی کو یہ مقام حاصل ہوسکتا ۔ کہ فرشتوں کو دیکھے یا ان سے کلام کرے یا کسی کو اس درجہ کی فناء تمام نصیب ہو کہ وہ جس کی طرف متوجہ ہو وہ کام اللہ کی طرف سے انجام پاجائے اور اسی طرح صوفیا توجہ اور القا سے طالبین کے دلوں کو مضبوط اور روشن کرتے ہیں اور یہ کام نبی کی اطاعت کے سبب اپنی حیثیت کے مطابق نصیب ہوتے ہیں۔ لیس لک من الا مرشیئ………………واللہ غفور رحیم۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب احد میں زخمی ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت رنج ہوا۔ اور ارشاد فرمایا کہ وہ قوم کیسے فلاح پاسکتی ہے جس نے اپنے نبی کا چہرہ (رخ انور) خون آلود کردیا۔ درآں حالیکہ وہ ان کو اللہ کی طرف بلاتا ہے تو ارشاد ہوا ہر فرد کا معاملہ رب العٰلمین سے ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس میں کچھ دخل نہیں ۔ اگر چاہے تو توبہ کی توفیق ارزاں کردے اور چاہے تو انہیں عذاب کرے کہ وہ ناحق پر تو ہیں ہی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کرنا ہی سزاوار ہے کہ یہی عبدیت کامل ہے کہ انسان ہر حال میں اظہار عجز کرے اور اس کی مملکت کو جاننے کا مدعی نہ ٹھہرے۔ یہی ظاہر ہوا کہ بعض کو تو مثالی تو بہ نصیب ہوئی جیسے حضرت خالد اور حضرت عکرمہ بن ابوجہل (رض) جلیل القدر صحابہ اور عالی قدر سالار ہوئے اور بعض کفر میں بھٹکتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔ دراصل ہر شخص کی کیفیات قلبی اور اللہ کے ساتھ تعلق باطنی پر اجر مرتب ہوتے ہیں جن کی حقیقت کو جاننا صرف اللہ ہی کو سزاوار ہے کہ ارض وسماء اور جو کچھ ان میں ہے سب کا مالک وہی ہے اور وہی منتظم بھی ہے جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب میں مبتلا کردے۔ بخش دینے میں تو کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ غفور اور رحیم ہے اس کی رحمت ہر چیز سے سابق ہے ، اور مبتلائے عذاب کرنے کا سبب پہلے ارشاد ہوا کہ فانھم طلمون۔ کہ وہ خود ناحق کرنے والے ہیں۔ شیخ کا کام صرف توجہ دینا ہے : یہ بات واضح ہوئی کہ شیخ توجہ تو دے سکتا ہے مگر اثر تب مرتب ہوگا جب طالب کے دل میں بھی خالص طلب ہو ورنہ اللہ دلوں کے حال جانتا ہے جنہیں جاننا شیخ کے لئے ضروری نہیں اور اکثر وہ معاف فرمادیتا ہے اور دلوں کو خلوص عطا فرمادیتا ہے مگر بعض بدنصیب اپنے قلبی اثرات کے باعث تباہی کے گڑھے میں بھی گر جاتے ہیں۔ اللہ کریم ہم سب کو اپنے عذابوں سے محفوظ رکھے ! آمین۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 121 تا 129 غدوت (تو صبح کے وقت نکلا) اھلک (تیرے گھر والے) تبوئ (تو جگہ (مورچوں پر) بٹھارہا تھا) مقاعد للقتال (لڑائی کے ٹھکانے (مورچے) ھمت (ارادہ کیا) طائفتین (دونوں جماعتیں) تفشلا (وہ دونوں بزدلی دکھائیں) ولیھما (اللہ ان دونوں کا دوست ہے) فلیتوکل (پھر بھروسہ کرنا چاہیے) اذلة (کمزرر، خوار) الن یکفیکم (کیا تمہیں کافی نہیں ہوگا) ان یمدکم (یہ کہ تمہاری مدد کی جائے) ثلٰثة اٰلاف (تین ہزار) منزلین (اترنے والے) حمسة اٰلافٍ (پانچ ہزار) مسومین (نشان لگے ہوئے (پلے ہوئے) بشرٰی (خوش خبری) لتطمئن (تاکہ تمہیں اطمینان ہو) یقطع (تاکہ کٹ جائے) یکبت (ذلیل کردیتا ہے) ینقلبوا (وہ پلٹ جائیں) خائبین (ذلیل (ہوکر) من الامر (اختیار سے) ۔ تشریح : آیت نمبر 121 تا 129 گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اگر تم صبر تقویٰ اختیار کرو گے تو کفار کی تمام فریب کاریاں اور چالاکیاں تمہیں نقصان نہ پہنچاسکیں گی۔ لیکن تم نے صبر وتقویٰ میں ذرا بھی کوتاہی کی یقیناً کفار کی چالیں تمہیں نقصان پہنچادیں گی۔ اس کے لئے بطور مثال فرمایا گیا کہ دیکھو کچھ زیادہ دور کی بات نہیں ہے غزوۂ احد اور غزوۂ بدر کے واقعات اس حقیقت پر گواہ ہیں۔ غزوۂ بدر جہاں کفار بڑی تعداد تھی اور مسلمان بےسروسامان تھے وہاں صبر کی وجہ سے مسلمانوں کو ایک ایسا غلبہ حاصل ہوا کہ کفر کے ایوانوں میں زلزلے آگئے لیکن غزوۂ احد میں ظاہری شکست کے اسباب یہ ہیں کہ وہاں چند لوگوں میں صبر وتقویٰ میں ذرا کمی آئی تو تمہیں دشمنان اسلام کے ہاتھوں کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اگر صبر سے کام لیا جاتا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکامات کی پوری طرح پابندی کی کا تی تو یقیناً غزوۂ احد میں اتنے زبردست نقصانات نہ اٹھانا پڑتے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یہ قصہ غزوہ احد کا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار کا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور اس پر خوش ہونے کی پہلی مثال غزوۂ احد ہے۔ جس کا نقشہ پیش کیا جار رہا ہے۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتح سے نوازا تھا۔ شکست سے بچنے کے لیے نظم و ضبط ‘ حوصلہ اور تقو ٰی نہایت ضروری ہے۔ مسلمانوں نے ٢ ہجری ١٧ رمضان المبارک کے دن بدر کے میدان میں اہل مکہ کو شکست فاش دی تھی۔ جس کا بدلہ لینے کے لیے مکہ والوں نے شوال ٣ ہجری میں مدینہ پر یلغار کردی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دفاعی منصوبہ بندی کے لیے مشاورت کا اہتمام فرمایا جس میں آپ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ مدینہ سے باہر جانے کے بجائے شہر میں رہ کر دفاع کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی اور منافقین نے اس بات کی بھرپور تائید کی۔ لیکن صحابہ (رض) کی اکثریت کی رائے یہ تھی کہ مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنا چاہیے۔ چناچہ جمعہ ادا کرنے کے بعد آپ نے مدینہ سے باہر نکلنے کا فیصلہ فرمایا۔ آپ اپنے گھر تشریف لائے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) نے آپ کی دو زرہیں پہننے میں معاونت کی۔ جب آپ جرنیلی شان کے ساتھ گھر سے باہرنکلے تو صحابہ کرام (رض) نے اپنی رائے پر نظر ثانی کرتے ہوئے عرض کی کہ ہمیں آپ کی رائے کے مطابق مدینے میں ہی دفاع کرنا چاہیے لیکن ارشاد ہوا کہ نبی کی شان اور غیرت کے منافی ہے کہ وہ پختہ عزم کرنے کے بعد فیصلہ کن جنگ کیے بغیر جنگی لباس اتار دے۔ اس طرح آپ احد کے قریب پہنچے اور ہفتہ کی صبح کو مورچہ بندی کا آغاز فرمایا۔ جونہی مورچہ زن ہونے کا آغاز ہوا تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر اس احتجاج کے ساتھ واپس ہوا کہ ہماری رائے کا احترام نہیں کیا گیا۔ منافقین کے اس اقدام نے کفار کے حوصلے بڑھائے جبکہ مسلمانوں میں سراسیمگی پھیلی۔ یہاں تک کہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے لوگوں نے بھی واپس جانے کے لیے چہ میگوئیاں کیں۔ ان آیات میں اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمانو ! وہ وقت یاد کرو۔ جب اللہ کا رسول تمہاری صف بندی کر رہا تھا اور عین اس وقت تم میں سے دو گروہوں نے کم ہمتی کا مظاہرہ کرنا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ثابت قدم رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ محبت رکھتا تھا جس کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔ مومنوں کو چاہیے کہ حالات اچھے ہوں یا برے ہر حال میں اللہ پر بھروسہ کرتے رہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت میں ہماری کمزوری کی نشان دہی کی گئی ہے جس میں ہماری پستی کا پہلو نکلتا ہے لیکن باوجود اس کمزوری کے ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ” وَلِیُّھُمَا “ کا ارشاد فرما کر ہمیں اپنی محبت اور دوستی کا اعزاز بخشا ہے۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) یَقُوْلُ فِیْنَا نَزَلَتْ (إِذْ ھَمَّتْ طَّاءِفَتَانِ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا) قَالَ نَحْنُ الطَّاءِفَتَانِ بَنُوْ حَارِثَۃَ وَبَنُوْ سَلِمَۃَ وَمَانُحِبُّ أَنَّھَا لَمْ تُنْزَلْ لِقَوْلِ اللّٰہِ (وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب إذ ھمت طائفتان منکم أن تفشلا ] ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ جب تم میں سے دو جماعتیں ہمت ہارنے کا سوچ چکی تھیں۔ کہتے ہیں ہم دو جماعتیں بنو حارثہ اور بنو سلمہ تھے ہمارے جذبات کے برعکس یہ آیت نازل ہوئی جبکہ اس میں ہے کہ اللہ دونوں گروہوں کا سر پرست اور مددگار ہے۔ “ مسائل ١۔ مومنوں کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ٢۔ جہاد میں بزدلی دکھانا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔ ٣۔ اللہ کی رحمت شامل حال ہو تو آدمی کی بگڑی حالت درست ہوجاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن کا دوست ؟ ١۔ اللہ مومنوں کا دوست ہے۔ (آل عمران : ٦٨) ٢۔ اللہ متقین کا دوست ہے۔ (الجاثیۃ : ١٩) ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو روشنی کی طرف لاتا ہے۔ (البقرۃ : ٢٥٧) ٤۔ اللہ کے دوستوں کو کوئی خوف و غم نہیں ہوگا۔ (یونس : ٦٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس ٢٧ ایک نظر میں اس سے پہلے اس سورت میں ہم مناظرہ اور مباحثہ کے میدان میں تھے ‘ بیانات اور تبصرے ہورہے تھے ‘ ہدایات اور تنبیہات کا ذکر تھا ‘ لیکن اس دوسرے سبق میں ہم کلام وبیان کے میدان سے نکل کر اب سیف وسنان کے میدان جا اترے ہیں ۔ سیف وسنان کا یہ معرکہ ٔ احد کے نام سے مشہور ہے۔ غزوہ احد صرف میدان جنگ میں ہی نہیں لڑا گیا اس معرکے کا میدان بہت ہی وسیع تھا ‘ یہ انسانی ضمیر اور عقائد کے اندر بھی برپا ہوا تھا ‘ میدان جنگ تو اس کے وسیع کارزار کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا ۔ یہ معرکہ نفس انسانی کی گہرائیوں میں ‘ انسان کے تصورات اور اس کے شعور میں ‘ انسانی خواہشات اور اس کے میلانات میں اور اس کے اقدامات اور اس کی رکاوٹوں میں برپا تھا۔ اس معرکہ کے اندر قرآن کریم نے نفس انسانی کی تربیت نہایت ہی لطیف ‘ گہرے ‘ موثر اور جامع طریقہ تربیت کے مطابق کی اور اس پر قرآن نے ان دشمنوں پر زیادہ توجہ دی جو میدان معرکہ میں اسلام کے خلاف برسر پیکار تھے ۔ اس معرکہ میں داخل ہوتے ہیں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی لیکن انجام کار یہ فتح شکست میں بدل گئی۔ آغاز فتح مبین سے ہوا اور انجام ہزیمت اور شکست وریخت سے ہوا ‘ لیکن اس شکست وریخت کے نتیجے میں مسلمانوں کو علم ومعرفت واقفیت اور تجربے کے میدان میں واضح فتح نصیب ہوئی ‘ ان کی آنکھیں کھل گئیں ‘ انہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ حقائق دیکھ لئے جنہیں قرآن نے بار بار بیان کیا تھا۔ ان کا شعور ان حقائق کے حوالے سے یقین کی حد تک پختہ ہوگیا ‘ ان کے نفوس پاک ہوگئے ‘ ان کی صفوں میں گندے عناصر چھٹ کر الگ ہوگئے ‘ اور جماعت مسلمہ آگے بڑھنے لگی ۔ وہ ان لوگوں کے بوجھ سے آزاد ہوگئی جن کے نظریات صاف ستھرے نہ تھے ‘ جن کی اقدار حیات ناپختہ تھیں ‘ جن کی فکر ڈانواڈول تھی ۔ یہ مسئلہ یوں حل ہوا کہ اسلامی صفوں سے منافقین کی اکثریت چھٹ کر الگ ہوگئی ‘ نفاق کی علامات واضح ہو کر سامنے آگئیں اور سچائی کے اوصاف نکھر کر واضح ہوگئے ۔ اقوال میں بھی اور افعال میں بھی ۔ شعور میں بھی اور طرز عمل میں بھی اس معرکے کے نتیجے میں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ایمان کے تقاضے کیا ہیں ‘ دعوت ایمانی کے تقاضے کیا ہیں ‘ اور تحریک ایمانی کو لے کر اٹھنے کے تقاضے کیا ہیں ۔ نیز اس تحریک کو لے کر چلنے کے لئے کس قدر علمی استعداد کی ضرورت ہے ‘ کس قدر یکسو ہوکر تیاری کی ضرورت ہے ‘ اور کس قدر مستحکم تنظیم کی ضرورت ہے ۔ اور اس تنظیم وانتظامات کے بعد کس قدر سنگین سمع و اطاعت کی ضرورت ہے ۔ اور تنظیم اور سمع و اطاعت کے بعد کس قدرتوکل علی اللہ کی ضرورت ہے ۔ اس راہ کے ہر قدم پر اللہ پر مکمل بھروسے کی ضرورت ہے اور پوری جدوجہد کرکے بھی نتیجہ ‘ نصرت کی شکل میں ہو یا شکست کی صورت میں ‘ اللہ پر چھوڑدینا ہے۔ زندہ رہ کر غازی ہونا یا مر کر شہید ہونا ہے ‘ کیا کرنا ہے اور کدھر جانا ہے یہ سب امور اللہ کے ہاتھ میں دے دینا ہے۔ ان واقعات کے نتیجے میں جماعت مسلمہ کے جو بیلنس شیٹ بنی اور ان واقعات کے بعد جماعت کو قرآن کریم نے جو ہدایات دیں ‘ اپنی قدر و قیمت کے اعتبار سے وہ اس مال غنیمت کے مقابلے میں بہت زیادہ اہم تھیں جو فتح مبین کی صورت میں مسلمانوں کو حاصل ہوتا ‘ اس صورت میں کہ مسلمان احد کے میدان سے فتح ونصرت لے کر واپس ہوتے ۔ اس لئے کہ اس دور میں مسلمانوں کو ان تجربات کی ضرورت ہزار درجے زیادہ تھی بہ نسبت اس کے کہ وہ میدان سے فتح ونصرت اور مال غنیمت لے کر لوٹتے ۔ اس طرح جماعت مسلمہ کے بعد آنے والی امت کے لئے تجربات کا جو سرمایہ چھوڑا گیا وہ زیادہ اہم اور باقی رہنے والا تھا ‘ بہ نسبت اس فتح اور مال غنیمت کے جو فتح کی صورت میں مسلمان حاصل کرتے ۔ اس شکست کے پس منظر میں عالم بالاکا منصوبہ یہ تھا کہ اس واقعہ کے ذریعہ وہ نقائص ظاہر کردئیے جائیں جو مسلمانوں کی صفوں میں پائے جاتے تھے مثلاً ان کی جسمانی کمزوریاں ‘ اخلاقی کمزوریاں اور فکری ژولیدگی ۔ اور ظاہر ہے کہ صرف شکست کھانے کی صورت ہی میں یہ کمزوریاں ظاہر ہوسکتی تھیں ۔ عالم بالاکا منصوبہ یہ تھا کہ اس وقت ‘ اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ‘ ٹھیک قدرتی طور پر اور سلسلہ اسباب کے اندر ‘ مسلمانوں کو شکست ہو ‘ اور اس وقت مسلمانوں کے لئے یہ شکست زیادہ مفید تھی ‘ تاکہ جماعت مسلمہ ان تجربات سے دوچار ہو اور اسے عبرت حاصل ہو اور اس طرح اس کی عملی تربیت ہو ‘ اس کی سوچ پختہ ہوجائے اور وہ واقعات کو اپنے فطری انداز میں سمجھے ‘ نیز اس کی صفوں میں کھرے اور کھوٹے کا امتیاز ہوجائے ۔ اس کی تنظیم اور تربیت میں جو جھول پائی جاتی تھی وہ دور ہوجائے اور پھر آنے والی امت کے لئے تجربات اور واقعات کا ایک عظیم سرمایہ ریکارڈ پر آجائے ‘ جو اس قدر قیمتی ہو کہ جس کی قیمت نہ چکائی جاسکتی ہو ‘ یعنی اس معرکے میں فتح ونصرت سے بھی اس کی قیمت زیادہ ہو ۔ یہ معرکہ میدان کارزار میں ختم ہوا اور اب قرآن کریم کے صفحات میں اسے لیا گیا ‘ جو میدان جنگ سے بڑا میدان ہے ‘ پھر یہ معرکہ نفس انسانی کے میدان میں شروع ہوا اور آخر کار وہ جماعت مسلمہ کی اجتماعی زندگی کے میدان میں شروع ہوا ‘ یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے اس جماعت کو بنایا ‘ علم و حکمت کی اساس پر اور تجزیہ وبصیرت کی روشنی میں اور پھر جس طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی اس کے مطابق یہ جماعت تیار ہوئی ۔ اسی میں اس جماعت کی بھلائی تھی کہ اسے ضرر پہنچے ‘ اسے اذیتیں دی جائیں ‘ اسے مبتلائے مصیبت کیا جائے ‘ اور اسے رنج والم سے دوچار کیا جائے ۔ اس معرکہ کے واقعات پر یہاں جو اختتامیہ دیا گیا ہے اور جو تبصرہ کیا گیا ہے اس میں جو چیز قابل التفات اور قابل تعجب ہے وہ یہ ہے کہ اس میں معرکہ کے مناظر اور واقعات کے بیان کے ساتھ ساتھ ان واقعات کے بارے میں ہدایات بھی ساتھ ساتھ موقعہ پر دی گئی ہیں اور ان ہدایات کے ساتھ ایسی ہدایات بھی دی گئیں ہیں جن سے تزکیہ نفس اور تطہیر قلب ونظر کا سامان کیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کے افکار کو گرد و غبار سے صاف کیا گیا ہے ۔ ان کے افکار و تصورات کو خواہشات نفسانیہ کے قیود سے آزاد کیا گیا ہے ‘ مسلمانوں کے کردار سے طمع و لالچ ‘ بغض وکینہ ‘ حرص اور بخل ‘ پوشیدہ خواہشات اور فسق وفجور کو بڑی حکمت کے ساتھ پاک کیا گیا ہے ۔ اور ان تعقیبات اور تبصروں میں خصوصاً معرکہ کارزار کے واقعات کے اندر سودی کاروبار سے بھی بحث کی گئی ہے اور سود خوری سے روکا گیا ہے جو بظاہر بےجوڑ نظر آتی ہے اور اس کے بعد یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر اہم معاملے میں مشورہ ضرور کیا جائے ‘ اور اس پر عمل کیا جائے ‘ اس کے باوجود جنگ احد کے بارے میں جو شوریٰ ہوئی اور فیصلے ہوئے ‘ اس کے نتائج بظاہر اچھے نہ نکلے تھے اور جنگ میں شکست ہوگئی تھی ۔ یہ بات بھی قابل تعجب ہے (تفصیلی بحث بعد میں آتی ہے) پھر اس کے بعد قرآن کریم ‘ اس موقعہ پر انسانی نفسیات پر بھی بحث کرتا ہے ‘ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو لے لیتا ہے ۔ اس زندگی کے مختلف پہلوؤں اور مختلف حرکات کے مباحث کو ایک دوسرے کے اندر ملادیا جاتا ہے ۔ یہ مختلف النوع مباحث ایک دوسرے کے ساتھ متکامل نظر آتے ہیں اور بعض اوقات یہ عجیب نظر آتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس ربانی طریقہ کار سے واقف ہیں انہیں وسیع اور مختلف النوع مباحث کی ملاوٹ اور ایک دوسرے کے ساتھ گذ مڈ کرنے پر کوئی تعجب نہیں ہوتا ‘ اس لئے تحریک اسلامی جس معرکہ میں کو دی ہے ‘ وہ صرف میدان کارزار ہی کا معرکہ نہیں ہے جس میں صرف اسلحہ ‘ گھوڑے اور افراد کار سازوسامان درکار ہوتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ جنگی تدابیر اور جنگی چالیں کام میں لائی جاتی ہیں ۔ بلکہ یہ ایک وسیع اور ہمہ گیر معرکہ ہوتا ہے اور میدانی جنگ اس کا ایک حصہ یا شعبہ ہوتا ہے ۔ اصل معرکہ وہ عظیم کشمکش ہے اور تھی جو انسانی ضمیر کی دنیا میں برپا ہوتی ہے ‘ یہ کشمکش اس وقت جماعت کی اجتماعی تنظیم کے اندر برپا تھی ‘ اس معرکہ کا تعلق انسانی ضمیر کی پاکیزگی سے تھا ‘ انسانی ضمیر کو خالص اور خالی کرنا مقصود تھا ‘ اور اسے ان تمام آلودگیوں سے پاک کرنا مطلوب تھا ‘ جن سے اس کی صفائی اور پاکیزگی متاثر ہوتی تھی ۔ اور انسانی ضمیر قرب الٰہی سے دور بیٹھ جاتا تھا ۔ نیز اس معرکے کا تعلق ان تنظیمی امور سے بھی تھا جن پر جماعت مسلمہ کی زندگی کا دارومدار تھا ‘ اسلامی نظام زندگی کے مطابق ‘ یعنی وہ شورائی نظام جس پر پوری اجتماعی زندگی کی عمارت اٹھائی گئی تھی ‘ یعنی صرف نظام حکومت میں ہی نہیں بلکہ پورے اسلامی نظام حیات میں جو باہم تعاون کے اصول پر قائم ہے اور جس میں سود خوری جیسا ظالمانہ نظام ممنوع ہے اس لئے کہ سود خوری اور باہم تعاون دو متضاد اصول ہیں۔ اسلام ‘ جماعت مسلمہ کی تربیت صرف ایک میدانی جنگ کے بعد نقطہ نظر سے نہ کررہا تا ‘ بلکہ وہ اس کی تربیت اس عظیم کشمکش کے حوالے سے کررہا تھا جو وسیع تر میدان میں برپا تھی ‘ انسانی نفس کے میدان میں انسان کی عملی زندگی کے میدان میں اسلام نے ربا کی طرف توجہ کی تو اسے حرام قرار دیا ‘ وہ انفاق کی طرف متوجہ ہوا تو وہ خوشحالی ہو یا بدحالی اس پر لوگوں کو ابھارا۔ اس نے اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کو اللہ کی رحمت کے لئے ضروری قرار دیا ۔ اس نے غصہ پینے اور عفو و درگزر کا حکم دیا ‘ اس نے احسان اور استغفار کا حکم دیا۔ گناہ پر اصرار کرنے سے منع کیا اور توبہ کا حکم دیا ۔ اور ان سب امور کو اللہ کی رضامندی کے اسباب قراردیا ۔ انہیں بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے لئے رحم دل کرکے بھیجا گیا۔ اس نے حکم دیا کہ مشکل سے مشکل اوقات میں شوریٰ کے اصول کو قائم رکھاجائے شوریٰ کے اصول کو قائم رکھا جائے ‘ اس نے حکم دیا کہ معاملات میں راستی کو اختیار کیا جائے اور بددیانتی نہ کی جائے ۔ دولت کو خرچ کیا جائے اور بخل وکنجوسی سے اجتناب کیا جائے ۔ غرض یہ اور دوسری ہدایات غزوہ احد پر تبصرے کے دوران فرمائی گئیں ۔ اسلام نے ان سب احکام کی طرف توجہ دی اس لئے کہ یہ وہ عناصر ہیں جن کے ذریعے جماعت مسلمہ کو وسیع تر معرکہ اور کشمکش کے لئے تیار کیا جارہا تھا۔ جس میں میدان جنگ میں قتال بھی شامل تھا مگر یہ معرکہ صرف قتال تک محدود نہ تھا بلکہ یہ وسیع تر ذمہ داریوں کا معرکہ تھا تاکہ اس کے نتیجے میں ایک عظیم انقلابی فتح حاصل کی جائے ۔ یہ عظیم اور مکمل فتح اپنی لپیٹ میں نفس انسانی ‘ اس کی تمام خواہشات ‘ اور اس کی ہر قسم کی حرص و لالچ ‘ اس کی تمام کینہ پروری کو لے لے ۔ نیز پر امن حالات میں بھی یہ جماعت مسلمہ کے لئے اقدار واطوار کے میدان میں فتح عظیم پر مشتمل ہو۔ اسلام نے ان تمام امور پر پوری توجہ کرکے یہ فیصلہ کیا کہ پوری انسانیت کی تکوین اور اس کی تشکیل اور اس کی سرگرمیوں کا جائزہ اسلامی نظریہ حیات کے نقطہ نظر کے مطابق لیا جائے اور پوری انسانیت کو ایک ہی محور کے گرد گھمایا جائے ‘ وہ محور کیا تھا ؟ یہ کے بندگی صرف اللہ کی ہوگی ‘ پرستش صرف اللہ کی ہوگی ‘ انسان پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ اللہ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے ‘ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں ‘ اور اللہ کا منہاج زندگی اس پوری کائنات پر چھاجائے اور پوری انسانیت اپنے حالات میں سے ہر حال میں اسی منہاج کے مطابق زندگی بسر کرے ۔ اور انسانی زندگی کے مختلف حالات اسلامی نظام زندگی کے رابطے مربوط ہوں اور انسانی تگ ودو کے تمام نتائج بھی اسلامی منہاج کے نتائج کے مطابق ہوں اور نفس انسانی کی تمام حرکات اور تمام تنظیمات اور انسانی نظم ونسق کی تمام جزئیات ان آخری نتائج کے برآمد ممد اور مؤثر ثابت ہوں۔ اس لئے جنگ احد پر تبصرے کے درمیان کئی دوسرے مباحث پر بھی گفتگو کی گئی جو اس معرکے کے ساتھ بےجوڑ ہرگز نہیں ہیں ‘ اس لئے کہ نفس انسانی جب تک اپنے شعور وادراک اور اپنی عادات اور اخلاق میں فاتح نہ ہوگا وہ معرکہ قتال میں کبھی فاتح نہیں ہوسکتا ۔ اور وہ لوگ جو مقابلے کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگادئیے تھے ۔ (١٥٥) اور جو لوگ نظریاتی جنگوں میں ‘ اپنے انبیاء کی قیادت میں سرخرو ہوئے تھے ‘ وہ اس لئے سرخرو ہوئے تھے کہ وہ ان معرکوں میں کودنے سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کرچکے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ سے کامیابی کی التجا کے ساتھ آگے بڑھے تھے اور اللہ کے مضبوط سہارے پر بھروسہ کرتے ہوئے میدان کارزار میں کودے تھے ۔ اس لئے گناہوں سے پاکیزگی ‘ اللہ کے ساتھ جڑنا ‘ اللہ پر بھروسہ رکھنا دراصل وہ سازوسامان ہے جس کے نتیجے میں نصرت اور فتح نصیب ہوا کرتی ہے ۔ اس لئے ان عوامل کو میدان جنگ سے دور نہیں کیا جاسکتا ‘ لہٰذا سودی نظام معیشت کو ختم کرکے باہم تعاون (Co-operation) کے نظام کو قائم کرنا بھی گویا فتح مندی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے ۔ سودی معاشرے کے مقابلے میں باہمی تعاون وتکافل کا معاشرہ فتح مندی سے زیادہ قریب ہے ۔ اس طرح غصے کو پی جانا اور غلطیوں کو معاف کردینا بھی سامان جنگ میں سے اہم ہتھیار ہے ‘ اپنے نفس امارہ کو قابو میں رکھنا بھی ایک قسم کی جنگی تربیت ہے ۔ معاشرہ کا معاشی لحاظ سے باہم کفیل ہونا ‘ باہم انس اور محبت رکھنا ‘ ایک دوسرے کی کو تاہیاں معاف کرنا وغیرہ بھی ایک ایسی فعال قوت عامل ہے جو فتح کی ضامن ہے ۔ ان عوامل کے ساتھ کچھ مزید حقائق بھی تھے جن پر اس سبق میں شروع سے آخر تک بھروسہ کیا گیا ہے ‘ مثلاً تقدیر الٰہی کی اہمیت اور یہ کہ اللہ نے جن باتوں کا فیصلہ کیا ہوا ہے انہوں نے وقوع پذیر ہونا ہی ہے ‘ اس لئے جو غلطی ہوگئی ‘ اس سلسلے میں اپنے تصورحیات اور اپنے خیالات کو قطعیت کے ساتھ درست کرلیا جائے کہ جو کچھ ہوا وہ سنت الٰہی ہے مطابق ہوا ‘ انسانی سرگرمیوں اور اس کی مساعی ‘ انسان کے درست طرزعمل اور اس کی غلطیوں ‘ انسان کی اطاعت امر اور اس کی معصیت ‘ اسلامی منہاج کو مضبوطی سے پکڑلینا اور اس میں کوتاہی کرنا ‘ ان سب کے نتائج سنت الٰہی کے مطابق مرتب ہوتے ہیں اور سنت الٰہی کے یہ سب مظاہر پردہ تقدیر کے پیچھے سے ٹھیک ٹھیک نمودار ہوتے ہیں اور یہ سب مشیئت الٰہی کے نمونے ہوتے ہیں اور جو کچھ واقع ہوجائے وہ اللہ کے طے شدہ فیصلے ہوتے ہیں ‘ اس لئے ان پر کوئی تأسف کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسی نکتے کو آخر میں ‘ جماعت مسلمہ کو خطاب کرتے ہوئے یوں بیان کیا جاتا ہے کہ اگر تمہیں فتح نصیب ہو تو اتراؤ نہیں ‘ اس میں تمہارا کچھ بھی نہیں ہے ‘ تم اللہ کی تدبیر اور اس کی تقدیر کے آلات ہو اور یوں تمہیں جہاد کے میدان میں لاکر اللہ اپنی قدرت کے نمونے دکھارہا ہے ۔ اس لئے اس تمام جدوجہد کا اجر اللہ پر ہی ہے ‘ اس لئے کہ تم اللہ کا کام کررہے ہو ‘ تمہارے لئے بطور استحقاق اس دنیا میں فتح مندی کے ثمرات میں کوئی ثمرہ لازمی نہیں ہے اور نہ فتح لازم ہے ۔ یہ تو اللہ ہے کہ جسے چاہے فتح دے اور وہ یہ فتح دنیاوی مقاصد کے لئے کبھی عطا نہیں کرتا ‘ بلکہ وہ ان مقاصد عالیہ کے لئے عطا کرتا ہے ‘ جو اس کو مطلوب ہیں ‘ اسی طرح شکست بھی جب کسی کے حصے میں آتی ہے تو وہ بھی سنت الٰہیہ کے مطابق واقعہ ہوتی ہے ‘ اور اس کے حقیقی اسباب کود جماعت مسلمہ کے اندر کمزوریوں اور کمیوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں اور شکست میں بھی ‘ اللہ کے علم کے مطابق کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ‘ مثلاً جماعت مسلمہ کا تزکیہ نفس ‘ اس کی صفوں سے غلط لوگوں کا چھانٹ کر الگ کرنا ‘ حقائق اور تلخ حقائق کا اظہار ‘ اعلیٰ قدروں کا استحکام اور حسن وقبح کے پیمانوں کا قیام اور آئندہ آنے والوں کے لئے عبرت اور نصیحت آموزی کے لئے نمونوں اور مثالوں کا قیام ۔ اسلام کی نظر میں عسکری کامیابی ‘ سیاسی کامیابی یا اقتصادی کامیابی کی اس وقت تک کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ‘ جب تک یہ کامیابی ربانی نظام حیات کی اساس پر نہ ہو ‘ اور اس سچائی کو غلبہ نصیب نہ ہو جسے اللہ تعالیٰ لوگوں کی زندگیوں میں قائم کرنا چاہتے ہیں ‘ تاکہ ہر فتح اللہ کی فتح ہو اور اسلامی نظام زندگی کے لئے ہو۔ اگر یہ صورت حال نہ ہو تو پھر جو بھی فتح ہوگی وہ جاہلیت کی فتح ہوگی کسی دوسری جاہلیت کے مقابلے میں ہوگی ‘ فتح کے نتیجے میں نہ زندگی کو کوئی فائدہ ہوگا نہ انسانیت کا کوئی بھلا ہوگا۔ بھلائی تو یہ ہوگی کہ بھلائی کے جھنڈے محض سچائی کے لئے بلند ہوں اور سچائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ہے ‘ اس میں تعدد ممکن نہیں ہے اور وہ اسلامی اور الٰہی منہج حیات ہے ‘ جس کے علاوہ کسی اور منہاج کے لئے زندہ رہنے کیا کوئی حق نہیں ہے ۔ اور اسلامی نظام حیات کی فتح اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک یہ فتح سب سے پہلے نفس انسانی کے میدان میں واقع نہ ہو ‘ اس کے بعد انسان کی عملی زندگی میں حق کو یہ فتح نصیب نہ ہو۔ جب نفس انسانی اپنی ذات میں اپنی خودی کو گم کردے ‘ اپنی ذات سے لالچ اور خواہش نفس کو ختم کردے ‘ اسے گندگیوں اور کینہ پروری سے پاک کردے ‘ وہ پوری طرح نفسانی بندھن توڑ دے اور اس کی نظریں صرف ذات باری کی طرف اٹھ رہی ہوں اور وہ ان تمام بوجھوں اور بندھنوں سے آزاد ہوجائے جن میں وہ جکڑا ہوا ہے ‘ غرض جب وہ پوری جدوجہد کرکے اور پوری تگ ودو کے بعد اپنی ظاہری مادی قوت ‘ اپنے مادی وسائل ‘ اپنے ظاہری اسباب سے آزاد ہوکر صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے لگے ‘ اور جب وہ اپنی پوری زندگی کے معاملات میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کرے اور اللہ کی اس حاکمیت کے قیام کو اپنی تمام جدوجہد اور فتح ونصرت کا مقصد اعلیٰ سمجھے ‘ غرض جب وہ یہ تمام امور اچھی طرح مکمل کرلے توتب میدان کارزار میں اس کی عسکری کامیابی ‘ کسی ملک میں اس کی سیاسی کامیابی اور اقتصادی کامیابی صحیح فتح تصور ہوگی ‘ اور تب جاکر اس کی فتح اللہ کے نزدیک فتح ہوگی ورنہ وہ در اصل وہ ایک جاہلیت کی دوسری جاہلیت پر فتح تصور ہوگی ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قسم کی فتح کی نہ کوئی قیمت اور نہ کوئی وزن ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ معرکہ بدر پر تبصرہ کے درمیان درج بالا امور پر بھی بحث کی گئی ہے جو بظاہر بےجوڑ نظر آتی ہے ۔ متنوع امور کو اکٹھا کیا گیا ہے اور اس معرکہ پر اختتامیہ اور تبصرہ میں ان تمام امورکو شامل کیا گیا ہے ‘ اور ان امور کو اس وسیع میدان جنگ میں لایا گیا ہے ‘ جس کا ایک حصہ میدان بدر ہے ‘ جس کے بہت سے پہلوؤں میں سے احد ایک پہلو ہے ۔ ........ ٭ ٭ ٭ ........ اس سے پہلے کہ ہم معرکہ احد کے واقعات پر قرآنی تبصرہ پیش کریں ‘ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ احد کے واقعات کو اس ترتیب کے ساتھ پیش کردیا جائے جس کے ساتھ وہ کتب سیرۃ میں بیان ہوئے ہیں ۔ تاکہ ہم ان مقامات کو اچھی طرح سمجھ سکیں جن پر اللہ کی جانب سے تبصرہ ہو اور ہم اس بات کا ادراک کرسکیں کہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ تربیت کیا ہے ‘ جو اللہ نے قرآن کریم میں ان واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے اختیار کیا ہے ؟ حالات یہ تھے کہ مسلمانوں کو بدر میں مکمل فتح نصیب ہوئی تھی ۔ اور یہ ایک ایسا واقعہ تھا اور جن ظروف واحوال میں یہ پیش آیا تھا ‘ ان میں یہ ایک بہت بڑا معجزہ نظر آتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کے ہاتھوں کفر کے علم برداروں اور بڑے بڑے سرداروں کے سر قلم کروائے ۔ جو لوگ قتل ہوئے وہ قریش کے سردار تھے ۔ اس کے بعد ابوسفیان بن حرب قریش کا سردار مقرر ہوا۔ سردار مقررہوتے ہی اس نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لئے تیاریاں شروع کردیں ‘ ابوسفیان کا قافلہ بدر میں مسلمانوں کا ٹارگٹ تھا ‘ جس کے پاس قریش کا کافی تجارتی مال تھا۔ اس قافلے میں وہ بچ نکلا تھا ‘ بدر کے بعد مشرکین نے یہ فیصلہ کیا کہ اس قافلے کا تمام تجارتی سامان بطور ابتدائی سرمایہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں استعمال کیا جائے۔ ابوسفیان نے تین ہزار افراد پر مشتمل ایک فوج تیار کی جو قریش ‘ اس کے حلیفوں اور حبشیوں پر مشتمل تھی ۔ ماہ شوال ٣ ہجری میں وہ فوج لے کر نکلا ۔ یہ لوگ اپنے ساتھ اپنی عورتیں بھی لے کر آئے تاکہ ان کے بچاؤ کے جوش میں وہ بھاگنے کی کوشش نہ کریں ۔۔ اس نے مدینہ کا رخ کیا اور جبل احد کے قریب اس نے ڈیرے ڈالے ۔ اس موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشورہ کیا ۔ سوال یہ تھا کہ آپ باہر جاکر مقابلہ کریں یا مدینہ میں ٹھہر جائیں ۔ خود رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے یہ تھی کہ مسلمان باہر نہ نکلیں بلکہ مدینہ کے اندر قلعہ بند ہوجائیں ۔ مرد تنگ گلیوں اور مقامات جنگ پر لڑیں اور عورتیں مکانوں کی چھتوں سے جنگ میں حصہ لیں ۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس رائے میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بھی موافق اور ہم رائے تھا۔ اس پر صحابہ کرام (رض) کی ایک بڑی تعداد آگے بڑھی اور ان میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو جوان تھے اور جو بدر کی جنگ میں حصہ نہ لے سکے تھے ۔ ان لوگوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں باہر جاکر میدان جنگ میں لڑنا چاہئے ۔ انہوں نے اپنے مشورے پر کافی اصرار بھی کیا ۔ یہ بات ظاہر ہوگئی کہ جماعت میں اکثریت کی رائے یہی ہے ۔ آپ اٹھے اور آپ اپنے مکان ‘ حجرہ عائشہ (رض) میں داخل ہوئے اور اپنی زرہ پہن کر واپس تشریف لائے ۔ اتنی دیر میں ان لوگوں کی رائے بدل چکی تھی ۔ انہوں نے سوچا کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو باہر جاکر لڑنے پر خوامخواہ مجبور کردیا۔ اب انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! اگر آپ مدینہ کے اندر رہنے کو پسند فرماتے ہیں تو ایسا کرلیں ۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کیونکہ نبی جب اپنی ذرہ پہن لیتا ہے تو وہ اسے اس وقت تک نہیں اتارتا جب تک اس کے اور دشمن کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ نہ کردے ۔ “ یوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں پیغمبرانہ سبق دیا اور وہ سبق یہ تھا کہ شوریٰ کا ایک مقررہ وقت ہوتا ہے ‘ اور جب شوریٰ کا وقت ختم ہوجائے اور عزم و ارادہ کا وقت آجائے اور طے شدہ فیصلے پر عمل کا وقت آجائے تو اس وقت صرف اللہ پر توکل کیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد پھر تردد کا کوئی موقعہ نہیں ہوتا۔ نہ دوبارہ شوریٰ کا انعقاد ہوتا ہے اور نہ آراء کے بارے میں دوبارہ سوچا جاتا ہے ۔ شوریٰ کے بعد تو معاملات اپنے انتہاء کو پہنچ جاتے ہیں اور اب فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو وہ چاہے ظاہر کردیتا ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب دیکھاتھاق کہ آپ کی تلوار ایک جگہ سے ٹوٹ کر کند ہوگئی ہے اور ایک گائے ذبح ہورہی ہے ‘ اور یہ کہ انہوں نے اپنا ہاتھ ایک مضبوط زرہ میں ڈالا ہے ۔ آپ نے اس خواب کی تعبیر یوں کی ‘ تلوار کند پڑنے کے معنی یہ ہیں کہ میرے خاندان میں سے کوئی شخص فوت ہوگا ‘ گائے ذبح ہونے کی تعبیر آپ نے یہ فرمائی کہ آپ کے کچھ رفقاء قتل ہوں گے اور زرہ کا مفہوم آپ نے مدینہ سے لیا۔ اس لئے اس خواب کے بعد معرکہ احد کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ‘ لیکن اس کے باوجود آپ نے شوریٰ کے طریقہ کار اور فیصلے پر عمل فرمایا ‘ نیز شوریٰ کے بعد اپنی تگ ودو کے ذریعہ فیصلوں پر عمل کیا ۔ یہ اس لئے کہ آپ ایک امت کی تربیت فرما رہے تھے ‘ اور اقوام کی تربیت وقعات و حوادث سے ہوا کرتی ہے ۔ اور تجربات کا ایک طویل سلسلہ ہوتا ہے جس کانچوڑ چند واقعات کی شکل میں نکلتا ہے ۔ مزید برآں یہ کہ آپ کے فیصلوں کے ذریعہ تقدیر الٰہی کا اظہار ہونا تھا ‘ وہ فیصلے جن پر آپ کا شعور پختہ تھا ‘ جن پر آپ کا دل مطمئن تھا ۔ اس لئے آپ تقدیر الٰہی کے مطابق کام کررہے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود آپ کا دل ان واقعات کو محسوس کررہا تھا ۔ بہر حال رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہزار صحابہ کرام کو لے کر نکلے ‘ مدینہ میں جو لوگ رہ گئے تھے ‘ ان کو نماز پڑھانے کے لئے آپ نے ابن ام مکتوم کو مقرر فرمایا ۔ جب آپ مدینہ اور احد پہاڑ کے درمیان پہنچے تو رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اس لشکر سے ایک تہائی حصہ کو لے کر واپس ہوگیا ‘ اس نے یہ کہا کہ وہ میری مخالفت کرتے ہیں اور نوجوانوں کی بات سنتے ہیں ۔ حضرت جابر کے والد عبداللہ عمروبن حرام ‘ نے ان کا پیچھا کیا ‘ انہیں سخت وسست کہا اور باصرار انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ لوٹ آئیں ۔ اس نے انہیں پکارا ” آؤ اور اللہ کی راہ میں لڑو ‘ یا کم ازکم مدافعت کرو۔ “ انہوں نے جواب دیا :” اگر ہمیں یقین ہوتا کہ آپ لڑتے ہیں تو ہم واپس نہ ہوتے ۔ “ اس پر حضرت عبداللہ انہیں خوب گالیاں دے کر واپس ہوگئے۔ اس کے بعد انصار میں سے بعض لوگوں نے یہ تجویز پیش کی ۔ اس موقعہ پر یہود سے مدد لی جائے جو ہمارے حلیف ہیں ۔ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس تجویز کو بھی رد کردیا ۔ اس لئے کہ یہ معرکہ دراصل کفر اور ایمان کا معرکہ تھا ‘ یہودیوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہ تھی ‘ اور فتح ونصرت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ اور یہ فتح تب آتی ہے جب اللہ پر توکل کیا جائے اور قلوب اللہ کے لئے خالص ہوجائیں۔ آپ نے فرمایا :” کون لوگ ہیں جو ہمارے ساتھ ان لوگوں کے مقابلے کے لئے ریگستان میں اتریں ۔ “ اس پر آپ کے ساتھ انصار میں سے کچھ لوگ نکلے تو آپ وادی کے آخری حصہ میں اترے ‘ آپ نے اپنی پیٹھ احد پہاڑ کی طرف کی اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس وقت تک جنگ شروع نہ کریں جب تک آپ حکم نہ دیں۔ جب صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات سو افراد پر مشتمل فوج کو جنگ کے لئے ترتیب دیا ۔ ان میں صرف پچاس گھوڑ سوار تھے ‘ آپ نے پچاس تیر اندازوں پر عبداللہ بن جبیر کو کمانڈر مقرر فرمایا اور ان لوگوں کو حکم دیا کہ آپ گھاٹی میں جہاں ان کی ڈیوٹی لگا رہے ہیں وہ وہاں جمے رہیں اور اس پوسٹ کو کسی حال میں خالی نہ چھوڑیں ‘ اگرچہ وہ دیکھیں کہ پرندے لشکر اسلام کا گوشت نوچ رہے ہوں ‘ یہ لوگ فوج کی پشت پر پہاڑ میں تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ مشرکین پر تیروں کی بارش کردیں تاکہ وہ پشت پر مسلمانوں پر حملہ آور نہ ہوجائیں ۔ ابن عمیر کو جھنڈا دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فوج کے ایک طرف زبیر بن العوام کو مقرر فرمایا اور دوسری طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مصعب ابن عمیر کو مقرر فرمایا۔ احد کے دن نوجوانوں نے اپنے آپ کو جنگ کے لئے پیش کیا ۔ آپ نے ان کا معائنہ فرمایا اور جن کو جنگ میں حصہ لینے کے ناقابل پایا انہیں مسترد کردیا ۔ ان عبداللہ ابن عمرو ‘ اسامہ بن زید ‘ اسید بن ظہیر ‘ براء بن عازب ‘ زید بن ارقم وزید بن ثابت ‘ عرابہ ابن اوس اور عمرابن حزام تھے ۔ اور جن لوگوں کو قابل قراردیا گیا وہ سمرہ ابن جندب اور رافع بن خدیج تھے ۔ یہ پندرہ سال کے تھے ۔ قریش نے تین ہزار فوجیوں کو جنگ کے لئے تیار کیا ۔ ان میں سے دوصد گھوڑ سوار تھے ‘ انہوں نے میمنہ پر خالد ابن الولید اور میسرہ پر عکرمہ ابن ابی جہل کو مقرر کیا ۔ آج رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی تلوار ابودجانہ سماک ابن حرب کو عطا فرمائی اور وہ ایک ایسے بہادر سورما تھے جو جنگ کے وقت نہایت شوکت اور تعلی کا مظاہرہ کیا کرتے تھے ۔ مشرکین میں سے پہلے جو شخص نمودار ہوا وہ ابوعامر فاسق تھا۔ یہ ابوعامر رایب کے لقب سے مشہور تھا ‘ مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا نام ابو عامر فاسق رکھ دیا ۔ یہ شخص دورجاہلیت میں قبیلہ اوس کا سردار تھا ۔ جب اسلام آیا تو وہ اسلام کے خلاف ہوگیا اور اس نے علی الاعلان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عداوت شروع کردی ۔ اس نے مدینہ چھوڑ دیا اور قریش سے جاملا اور انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جمع کرتا رہا اور انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جنگ پر آمادہ کرتا رہا ۔ وہ انہیں یقین دلاتا کہ اس کی قوم جب اسے دیکھے گی تو وہ اس کی بات مان کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ دے گی ۔ یہ سب سے پہلے مسلمانوں کے سامنے آیا۔ اس نے اپنی قوم کو پکارا ‘ اور اس نے اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے جواب دیا : اے فاسق اللہ آپ کو آنکھیں نہ دے ۔ اس پر اس نے جواب دیا کہ میرے بعد میری قوم تباہ ہوگئی ہے ۔ اس کے بعد اس نے مسلمانوں کے ساتھ شدید جنگ کی ۔ اور جب لڑائی شروع ہوئی تو ابودجانہ نے داد شجاعت دی ۔ ان کے ساتھ ابوطلحہ ابن عبداللہ ‘ حمزہ ابن عبدالمطلب ‘ علی ابن ابی طالب ‘ نضر بن انس اور سعد ابن زبیر نے کارہائے نمایاں سر انجام دئیے ۔ دن چڑھتے ہی مسلمانوں نے کفار کو شکست دے دی ۔ ان میں سے انہوں نے ستر بہادر اور معتبر افراد کو قتل کردیا اور باقی دشمنان خدا ہزیمت اٹھاکر بھاگ گئے ‘ وہ کیمپ میں عورتوں کے پاس پہنچ گئے ۔ عورتوں نے اپنے کپڑے سمیٹ لئے اور بھاگنے لگیں۔ تیراندازوں نے جب دیکھا کہ کفار کو شکست ہوگئی ہے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے ہیں تو انہوں نے اپنے مقامات خالی کردیئے جہاں انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مامور فرمایا تھا اور حکم دیا تھا کہ وہ انہیں ہرگز نہ چھوڑیں ۔ ان لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا کہ مال غینمت لٹ رہی ہے یارو ! ان کے امیر نے انہیں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم یاددلایا مگر انہوں نے ایک نہ سنی ۔ ان کا خیال تھا کہ مشرکین اب لوٹیں گے نہیں چناچہ یہ لوگ بھی مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور گھاٹی کو انہوں نے خالی کردیا۔ خالد بن ولید کو یہ معلوم ہوا کہ گھاٹی کو تیراندازوں نے کردیا ہے ‘ اس لئے وہ مشرکین کے گھوڑ سواروں کو لے کر گھاٹی کے راستے حملہ آور ہوئے ‘ انہوں نے دیکھا کہ راستہ خالی ہے ‘ یوں خالد کی جنگی چال کامیاب ہوئی اور وہ مسلمانوں پر پشت کی جانب سے ٹوٹ پڑا اور جس وقت مشرکین اور شکست خوردہ لشکر نے دیکھا کہ خالد مسلمانوں پر چڑھ دوڑا ہے تو انہوں نے آگے کی طرف سے انہیں گھیرے میں لے لیا ۔ اب اس معرکے کی صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہوگئی ‘ میدان جنگ مسلمانوں کے خلاف ہوگیا۔ مسلمانوں کی صفوں میں افراتفری مچ گئی ۔ لوگوں کے اندر اضطراب پھیل گیا اور وہ سخت خائف ہوگئے ۔ اس لئے کہ خالد کا حملہ اس قدر ہولناک اور اس قدر اچانک تھا کہ کسی کو بھی اس کی توقع نہ تھی ۔ بہت سے لوگ مارے گئے اور مسلمانوں میں سے جس کی قسمت میں شہادت لکھی ہوئی تھی وہ شہید ہوا۔ اب مشرکین کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک راہ پانے کا موقعہ مل گیا ۔ آپ تنہاء رہ گئے تھے ‘ آپ کی حفاظت کے لئے اس قدر تھوڑے افرد رہ گئے تھے کہ انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے ۔ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کیا اور شہید ہوگئے ۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا ‘ آپ کے نچلے جبڑے اور دانت مبارک زخمی ہوا اور آپ کے سر پر خود ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ‘ مشرکین نے آپ کو پتھروں سے مارا ‘ یہاں تک کہ آپ ایک پہلو پر گرگئے ۔ اس کے بعد آپ ایک گڑھے میں گرگئے جو ابو عامر فاسق نے کھودا تھا اور اوپر سے ڈھانپ دیا تھا کہ مسلمان اس میں گرجائیں اور زرہ کے حلقے آپ کے چہرہ مبارک میں گھس گئے تھے ۔ اس خوفناک صورتحال کے عین درمیان کسی نے یہ آواز دی کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے ہیں ۔ چناچہ اس خوفناک آواز نے ان کی رہی سہی قوت بھی ختم کردی ۔ چانچہ بچے کچھے مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی خبر سن کر وہ اس قدر مایوس ہوئے اور اس قدر کبیدہ خاطر ہوئے کہ ان کی قوت نے جواب دے دیا ۔ اب انہوں نے جنگ کا خیال ہی دل سے نکال دیا۔ تمام لوگ بھاگ کھڑے ہوئے مگر انس بن نضر نہیں بھاگے ۔ وہ حضرت عمر ابن الخطاب ، طلحہ ابن عبداللہ کے پاس پہنچے جو بعض مہاجرین اور انصار کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ انہوں نے ہاتھ لٹکائے ہوئے تھے ‘ تو انہوں نے کہا : تم لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہو ‘ انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے ہیں ۔ تو انہوں نے کہا :” تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد زندہ رہ کر تم لوگ کیا کروگے ؟ “ اٹھو اور جس مقصد کے لئے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جان دے دی اس کے لئے جان دے دو ۔ “ اس کے بعد انس ابن نضر کفار پر ٹوٹ پڑے ‘ اس وقت انہیں سعد ابن معاذ ملے اور انہوں نے انہیں پکار کر کہا :” سعد میں جنت کی ہوا احد کے اس پار سے محسوس کررہا ہوں۔ “ اس کے بعد انہوں نے سخت لڑائی کی یہاں تک کہ شہید ہوگئے ۔ ان کے جسم پر ستر سے کچھ اوپر زخم آئے تھے ‘ انہیں کوئی پہچان بھی نہ سکا ۔ آخر کار ان کی لاش کو ان کی بہن نے ان کی انگلیوں سے پہچان لیا۔ اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کی طرف متوجہ ہوئے ۔ سب سے پہلے انہیں خود کے نیچے سعید بن مالک نے پہچانا ۔ انہوں نے باآواز بلند چیخ لگائی ۔ اے گروہ مسلماناں ! مبارک مبارک ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ہیں ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ سے اشارہ کیا ” خاموش رہو “ مسلمان آپ کے پاس جمع ہوگئے ۔ آپ کے ساتھ گھاٹی پر چڑھ گئے ۔ ان میں حضرت ابوبکر ۔ عمر ابن الحارث ‘ ابن صمہ انصاری وغیرہ تھے ۔ جب وہ پہاڑ پر کافی اوپر چڑھ گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابی ابن خلف ملا ۔ وہ اپنے عود نامی گھوڑے پر سوار تھا ۔ وہ اس گھوڑے کو مکہ میں چارہ دیتے وقت کہتا :” اس پر میں محمد کو قتل کروں گا۔ “ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا :” ان شاء اللہ میں اسے قتل کروں گا ‘ جب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پایا تو حارث نیزہ لیا اور اس سے اللہ کے دشمن کے سینے کی بالائی ہڈی (Collar Bon) پر وار کیا ۔ وہ اس طرح شور کرتے ہوئے بھاگا جس طرح بیل ۔ اسے یقین ہوگیا کہ وہ مارا گیا ہے ۔ جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیشین گوئی کی تھی ۔ واپس ہونے سے پہلے وہ راستے ہی میں مرگیا۔ اس موقعہ پر ابوسفیان پہاڑ کے اوپر آیا اور آواز دی :” کیا تم میں محمد ہیں ؟ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے جواب نہ دو ۔ پھر اس نے کہا : کیا تم میں ابوصدیق ہیں ؟ پھر بھی مسلمانوں نے جواب نہ دیا۔” کیا تم میں عمر ابن الخطاب ہیں ؟ پھر بھی اسے کوئی جواب نہ دیا گیا ۔ اس نے صرف ان تینوں کے بارے میں پوچھا ۔ اس پر اس نے اپنی قوم سے کہا ” جہاں تک ان تین افراد کا تعلق ہے ان کا کام تم نے تمام کردیا ہے ۔ اس موقعہ پر حضرت عمر (رض) ضبط نہ کرسکے اور کہا :” اے اللہ کے دشمن ! جن کا ذکر تم نے کیا ہے وہ سب زندہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان لوگوں کو باقی رکھا ہے جنہیں تم پسند نہ کروگے ۔ اس کے بعد اس نے کہا بعض لوگوں نے شہداء کی لاشوں کو مثلہ بنایا ہے ۔ میں نے تو ان کو اس بات کا حکم نہ دیا تھا ‘ مگر ان کی اس حرکت پر میں نے برا بھی نہیں منایا ۔ (اس میں اس کا اشارہ اس واقعہ کی طرف تھا جس میں اس کی بیوی ہند نے حضرت حمزہ کی لاش کے ساتھ کیا تھا ۔ حبشی نے جب اسے قتل کیا ‘ ہند نے ان کا پیٹ پھاڑا ‘ ان کا کلیجہ نکالا ‘ اس نے اسے چبایا اور پھر پھینک دیا ۔ ) اس کے بعد اس نے نعرہ لگایا اُعلُ ہُبُل………(ہبل سربلند ہو) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اسے جواب نہیں دے رہے ‘ صحابہ نے کہا ہم کیا جواب دیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم کہو اللّٰہُ اَعلٰی وَاَجَلّ……………(اللہ سربلند ہے اور جلیل القدر ہے) پھر اس نے کہا لَنَا عُزّٰی وَلَا لَکُم……………(ہمار امعبود عزیٰ ہے اور تمہارا کوئی عزیٰ نہیں) اس پر پھر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم لوگ اسے جواب نہیں دے رہے ۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا جواب دیں ؟ آپ نے فرمایا تم کہو اَللّٰہُ مَولَانَا وَلَامَولَالَکُم……………(اللہ ہمارا مالک ہے اور تمہارا مالک کوئی نہیں ہے) اس پر ابوسفیان نے کہا :” آج کا دن بدر کے بدلے میں ہے ۔ “ اور جنگ میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا :” بالکل برابری نہیں ہے ‘ ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور تمہارے مقتول دوزخ میں ہیں ۔ “ جب یہ معرکہ ختم ہوا تو مشرکین لوٹے ۔ اس مسلمانوں کو شک گزرا کہ شاید وہ مدینہ میں جاکر عورتوں کو غلام بنائیں گے اور لوٹ مار کریں گے ۔ یہ بات ان پر بہت ہی بھاری گزری ۔ اس رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” علی ! تم نکلو ‘ ان کے پیچھے پیچھے جاؤ ‘ دیکھو وہ کیا کرتے ہیں ؟ ان کا ارادہ کیا ہے ؟ اگر انہوں نے گھوڑوں کو ایک طرف چھوڑا اور سامان اونٹوں پر لادا تو وہ مکہ کی طرف جارہے ہوں گے اور اگر انہوں نے اونٹوں کو چلایا اور گھوڑوں پر سوار ہوئے تو سمجھو کہ وہ مدینہ پر چڑھائی کا ارادہ کررہے ہیں۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ اگر انہوں نے مدینہ کا ارادہ کیا تو میں ان کی طرف ضرور چلوں گا اور مدینہ میں ان سے لڑوں گا۔ حضرت علی فرماتے ہیں میں نکلا ‘ ان کے پیچھے چلا ‘ دیکھوں وہ کیا کرتے ہیں ؟ انہوں نے گھوڑوں کو چھوڑدیا اور اونٹوں پر سوار ہوگئے ۔ جب وہ کچھ راستہ طے کرکے آگے نکلے تو انہوں نے ایک دوسرے کو ملامت کی ۔ انہوں نے کہا تم نے کچھ بھی نہ کیا ۔ تم نے ان کی قوت کو تو ختم کردیا مگر تم نے ان کو چھوڑدیا ۔ اور ان میں سے بعض سردار ایسے رہ گئے جو تمہارے لے پھر جمع ہوں گے ۔ اس لئے یہیں سے لوٹ جاؤ اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکو ۔ یہ بات رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں اعلان کیا اور حکم دیا کہ نکلیں اور دشمن کو راستے ہی میں جالیں ۔” اب ہمارے ساتھ وہی شخص جاسکتا ہے جو احد میں حاضر ہوا تھا۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عبداللہ بن ابی نے درخواست کی کہ ” میں تمہارے ساتھ جاتا ہوں۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” نہیں۔ “ مسلمانوں نے اس قدر خوفناک صورت حال میں بھی آپ کی پکار پر لبیک کہا حالانکہ وہ زخموں سے چور چور تھے ۔ انہوں نے کہا :” ہم نے سنا اور مانا۔ “ حضرت جابرابن عبداللہ نے اجازت چاہی اور کہا اللہ کے رسول میں ہر مقام پر آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں مگر احد کے دن میرے والد نے مجھے روک لیا کہ میں اپنی بہنوں کی حفاظت کے لئے رہوں ۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اپنے ساتھ چلنے کی خصوصی اجازت دی ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان مدینہ سے نکلے ۔ حمراء الاسد تک جاپہنچے ۔ یہاں آپ کو معبد ابن ابومعبد خزاعی آکر ملے ۔ یہ مسلمان ہوگئے تھے لیکن ابوسفیان کو ان کے اسلام کے بارے میں علم نہ تھا۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا کہ وہ ابوسفیان سے ملیں اور انہیں ڈرائیں ۔ وہ مقام روحاء میں اسے ملے ۔ ابوسفیان کو اس کے مسلمان ہونے کا علم نہ تھا ۔” معبد تمہارے پیچھے کون آرہا ہے ؟ اس سے ابوسفیان نے پوچھا ۔ اس نے جواب دیا :” محمد اور اس کے ساتھی آرہے ہیں ۔ تم سے وہ جلے ہوئے ہیں اور وہ اس قدر جمعیت کے ساتھ آرہے ہیں ‘ جس قدر جمعیت ان کے ساتھ کبھی نہ نکلی تھی ۔ محمد کے جو ساتھی اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے وہ نادم ہوگئے ہیں۔ “ اس پر ابوسفیان نے کہا :” تمہاری رائے کیا ہے ؟ “ اس نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب تک تم کوچ کرتے ہو ‘ وہ لشکر اس پہاڑی کے پیچھے سے نمودار نہ ہوجائے ۔ “ اس پر ابوسفیان نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اس سے ایک بار پھر پنجہ آزمائی کریں اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔ اس پر معبد نے کہا :” ایسا ہرگز نہ کرو ‘ میں تمہارا ناصح مشفق ہوں ۔ اس پر وہ مکہ کی طرف واپس لوٹے ۔ راستے میں ابوسفیان کو بعض مشرکین ملے جو مدینہ جارہے تھے ۔ ابوسفیان نے کہا کیا تم محمد کو میرا یہ پیغام پہنچا دوگے ؟ اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں اور تمہارے گھوڑوں کو اپنے ہاں ٹھہراؤں گا جب تم مکہ آؤ۔ تو ان جانے والوں نے کہاں ہاں ہم پیغام دیں گے ۔ اس پر ابوسفیان نے کہا محمد کو یہ پیغام دے دو کہ ہم نے ایک بار دوبارہ جنگ لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاکہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا حَسبُنَا اللّٰہَ وَنِعمَ الوَکِیلُ……………(ہمیں اللہ کا فی ہے اور وہ بہترین وکیل ہے ) اور اس پیغام سے ان پر کوئی اثر نہ ہوا ‘ مسلمان تین دن تک وہاں ٹھہرے اور ابوسفیان کا انتظار کرتے رہے ‘ اس کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ مشرکین اپنی راہ پر بہت دور جاچکے ہیں تو مسلمان مدینہ کو لوٹ آئے۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

غزوہ احد کا تذکرہ ان آیات میں غزوہ احد کا تھوڑا سا ذکر ہے۔ پھر آئندہ رکوع میں اور اس کے بعد والے رکوع میں تفصیل سے اس غزوہ کا تذکرہ فرمایا۔ حضرت سرورعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ معظمہ میں جب اسلام کی دعوت دی تو مکہ کے مشرکین آپ کے دشمن ہوگئے۔ بڑی بڑی مشکلات سے گزرتے رہے دشواریاں پیش آتی رہیں۔ تیرہ سال تک محنت و مجاہدہ کرتے ہوتے اور مشقت اٹھاتے ہوئے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے اسلام کی دعوت دی لیکن مکہ معظمہ کے مشرکوں نے آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا اور انصار مدینہ کی دعوت پر آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئے یہاں آکر بھی مشرکین مکہ نے پیچھا نہ چھوڑا اور یہود مدینہ نے اندرونی خلفشار اور دشمنی کا سلسلہ جاری رکھا منافقوں کا بھی ظہور ہوا یہ لوگ ظاہری طور پر اسلام کا نام لیتے تھے اور اندر سے کاٹ کرتے تھے چونکہ یہودی بہت بڑے دشمن تھے اس لیے ان سے میل محبت کا تعلق رکھنے سے منع فرمایا جس کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوچکا اس وقت کے موجودہ دشمن یہودی تھے (جو مدینہ میں رہتے تھے) اور مشرکین مکہ بھی دشمن تھے ان سب سے میل و محبت سے منع فرمایا اور ہمیشہ کے لیے تمام مسلمانوں کو یہ ممانعت کردی گئی۔ مشرکین مکہ اپنی دشمنی کی وجہ سے ہجرت کے دوسرے سال بہت بھاری تعداد میں مسلمانوں سے لڑنے کے لیے چڑھ آئے اور مقام بدر میں فیصلہ کن جنگ ہوئی سب کی نظروں کے سامنے حق و باطل کا فیصلہ ہوگیا غزوہ بدر کا واقعہ کچھ اسی رکوع میں آنے والی آیات میں بیان فرمایا اور کچھ سورة آل عمران کے دوسرے رکوع میں گزر چکا۔ اور تفصیل کے ساتھ سورة انفال کے پہلے اور دوسرے رکوع میں اور چھٹے اور ساتویں رکوع میں بیان فرمایا۔ ہم اس کو تفصیل سے سورة انفال کی تفسیر میں انشاء اللہ بیان کریں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

186 ۔ اب یہاں سے جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ والجمہور علی انھا غزوۃ احد (قرطبی ص 184 ج 4) ۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا اس کا تعلق اِنْ تَصْبِرُوْا الخ سے ہے یعنی اگر تم ہمت و استقلال، صبر و استقامت سے کام لو گے تو کافر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ آگے صبر وتقویٰ کے نتائج اور اس کے لیے دو نمونوں کا بیان ہے۔ جنگ بدر میں مشرکین کو مسلمانوں کے ہاتھوں انتہائی ذلت ورسوائی کے ساتھ شکست اٹھانا پڑی۔ ان کے ستر سردار اور جنگجو بہادر قتل ہوگئے اور ستر گرفتار ہو کر مسلمانوں کے قیدی ہوئے مالی نقصان اس کے علاوہ تھا اور ذلت ورسوائی اتنی ہوئی کہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ اب وہ شکست خوردہ مشرکین انتقامی جنگ کی تیاری کرنے لگے۔ چناچہ واقعہ بدر سے ایک سال بعد 30 ھ؁ کے اواخر میں جنگی تیاریاں مکمل کرلیں۔ اب ان کی تعداد تین ہزار تھی جن میں سات سو زرہ پوش دو سو گھڑ سوار اور باقی شتر سوار تھے۔ اور ان کا کوئی لڑاکا خالی ہاتھ نہ تھا۔ مشرکین چونکہ جوش انتقام میں دیوانے ہوئے جا رہے تھے اس لیے تمام قبیلوں کے سرداروں نے بھی زرہ پوش دو سو گھڑ سوار اور باقی شتر سوار تھے۔ اور ان کا کوئی لڑاکا خالی ہاتھ نہ تھا۔ مشرکین چونکہ جوش انتقام میں دیوانے ہوئے جارہے تھے اس لیے تمام قبیلوں کے سرداروں نے بھی جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ حد یہ مشرکین کی عورتوں نے بھی اس جنگ میں شرکت کی جو باجوں اور ڈھولکوں کیساتھ مقتولین بدر کے مرثیے گا گا کر اپنے جوانوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا رہی تھیں اور مسلمانوں کے ساز و سامان کا یہ حال تھا کہ مجاہدین کی تعداد صرف ایک ہزار تھی اور پوری فوج میں صرف دو گھوڑے تھے اور تمام مجاہدین کے پاس تلواریں بھی نہیں تھیں اور پھر عین اس وقت جب کہ دشمن سامنے آیا اور مسلمان ابھی نماز صبح ہی میں مصروف تھے۔ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین اپنے تین سو ساتھیوں کو ساتھ لے کر میدان جنگ سے واپس آگیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب مسلمان مجاہدین کی تعداد صرف سات سو رہ گئی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ سے پہلے تمام مجاہدین کی صفیں مناسب جنگی ترتیب کے مطابق بنائیں اور مختلف فوجی دستوں کو مختلف مورچوں پر متعین فرمایا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی صف بندی کی حالت کا ذکر فرمایا ہے۔ وَاللہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi