Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 122

سورة آل عمران

اِذۡ ہَمَّتۡ طَّآئِفَتٰنِ مِنۡکُمۡ اَنۡ تَفۡشَلَا ۙ وَ اللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾

When two parties among you were about to lose courage, but Allah was their ally; and upon Allah the believers should rely.

جب تمہاری دو جماعتیں پست ہمتی کا ارادہ کر چکی تھیں اللہ تعالٰی ان کا ولی اور مددگار ہے اور اسی کی پاک ذات پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

When two parties from among you were about to lose heart, but Allah was their Wali (Supporter and Protector). And in Allah should the believers put their trust. Al-Bukhari recorded that Jabir bin `Abdullah said, "The Ayah, إِذْ هَمَّت طَّأيِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَ (When two parties from among you were about to lose heart) was revealed about us, (the two Muslim tribes of) Bani Harithah and Bani Salamah. I (or we) would not be pleased if it was not revealed, because Allah said in it, وَاللّهُ وَلِيُّهُمَا (but Allah was their Wali (Supporter and Protector))." Muslim recorded this Hadith from Sufyan bin Uyaynah. Reminding the Believers of Their Victory at Badr Allah said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

122۔ 1 یہ اوس اور خزرج کے دو قبیلے (بنو حارث اور بنو سلمہ) تھے 122۔ 2 اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے ان کی مدد کی اور ان کی کمزوری کو دور فرما کر ان کی ہمت باندھ دی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١١] جب عبداللہ بن ابی تین سو ساتھیوں سمیت واپس چلا گیا تو انصار کے دو قبیلوں بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے دلوں میں کمزوری واقع ہوئی اور کفار کے مقابلہ میں مسلمانوں کی قلیل تعداد دیکھ کر دل چھوڑنے لگے مگر چونکہ سچے مسلمان تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا چناچہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ہم انصار کے حق میں اتری۔ اگرچہ اس میں ہمارا عیب بیان کیا گیا ہے۔ تاہم ہمیں یہ پسند نہیں کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی۔ کیونکہ اس میں (اللہ ولیھما) (اور اللہ دونوں فرقوں کا مددگار تھا) کے الفاظ بھی مذکور ہیں۔ (بخاری، کتاب التفسیر)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ ۔۔ : ان دو جماعتوں سے مراد انصار کے دو قبیلے بنو سلمہ اور بنو حارثہ ہیں (جو عبداللہ بن ابی کی واپسی دیکھ کر دل شکستہ ہوگئے اور انھوں نے واپس آنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ ) [ بخاری، التفسیر، باب ( إذ ھمت الطائفتان۔۔ ) : ٤٥٥٨ ] آیت ١٢٣ : وانتم اذلۃ : اس لفظ سے مسلمانوں کی قلت تعداد اور ضعف حال کی طرف اشارہ ہے۔ مقام بدر مدینہ سے قریباً بیس میل جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔ غزوۂ بدر بروز جمعہ ٢٧ رمضان المبارک ٢ ھ ( ١٣ مارچ ٦٢٤ ء) کو پیش آیا۔ اس آیت میں جنگ احد میں شکست کے اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معرکۂ بدر کے واقعات پر غور و فکر کی دعوت اور آئندہ ثابت قدم رہنے کے لیے تقویٰ کی تعلیم دی ہے۔ جنگ بدر کی تفصیل کے لیے سورة انفال (٤١) ملاحظہ کیجیے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر )

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Next comes verses 122 beginning with the words إِذْ هَمَّت طَّائِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا (When two of your groups tended to lose heart while Allah was their guardian). These &two groups& refer to the Bani Harithah of the tribe of Aws and Bani Salamah of the tribe of Khazraj. These &two groups lost the courage to fight when they saw the hypocrite, ` Abdullah ibn Ubayy and his men breaking away. But, Allah, in his grace, helped them come out of this state of apprehensiveness. Here, the fact was that their weakness was caused by the thought, and certainly not because of any weakness in faith. Ibn Hisham, the famous historian of Muslim battles has made this very clear. Then, the very Qur&anic statement, وَاللَّـهُ وَلِيُّهُمَا (while Allah was their guardian) is a testimony to their perfect faith. Therefore, some elders from these two tribes used to say: |"No doubt, the verse contains a complaint against us, but at the same time it bears a good news for us in the words: وَاللَّـهُ وَلِيُّهُمَا ; (while Allah was their guardian). 3. Towards the end of the verse, it has been said: وَعَلَى اللَّـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ |"And it is in Allah alone that the believers must place their trust.|" Here, it has been made clear that Muslims should not rely on their superiority in men and materials. Not that they have to ignore material needs of the combat; of course, they should have whatever they can get together subject to their means, but the crucial thing is that they must place their total trust in Allah, and Allah alone. The apprehension of weak¬ness that overtook Banu Harithah and Banu Salamah was caused by this material lack of strength. Therefore, توکل tawakkul or trust in Allah was suggested as the treatment of all sorts of apprehensions. Tawakkul توکل is one of the superior human qualities. It does not mean that one should cut off all his connections with the effort to collect material support. On the contrary, one should collect what is obviously needed to the best of his ability, use it, and then, let Allah take care of the outcome. It is also necessary that one should not become proud of what has been collected as material assets, instead, |"We trust in Allah|" should be the sole concern. The good example of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is before us. That he himself organized the fighting strength of Muslims during this Jihad, assembled weapons and other war materials to the best of his ability, prepared battle plans appropriate to the time and place. Once on the war front, he set up entrenchments with combat-ready Companions placed therein. These were all part of the material-functional management of the battle. By making use of these with his own blessed hands, our beloved master, the last and foremost of prophets, demonstrated that material facilities are also a blessing of Allah Almighty. Ignoring them or turning away from them cannot be called what توکل tawakkul is. Here, the attitude of a Muslim slightly differs from that of a non-Muslim. A Muslim would, given his ability and means, collect all sorts of necessary material support, yet when it comes to trust and tawakkul that he would place in none but Allah. The non-Muslim is bereft of this spiritual dimension for he relies on his brute material strength. The manifestation of this difference has been common sight throughout all Islamic battles. 4. The focus now turns to a particular battle where Muslims had demonstrated perfect توکل tawakkul and Allah Almighty had blessed them with support and success. The reference to the battle of Badr, in the following words, has appeared in this very context.

اس کے بعد دوسری آیت ہے اذ ھمت طائفتن منکم ان تفشلا۔ یعنی جب تم میں سے دو جماعتیں اس کا خیال کر بیٹھیں کہ ہمت ہار دیں، درآنحالیکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا ان دونوں جماعتوں سے مراد قبیلہ اوس کے بنی حارثہ اور قبیلہ خزرج کے بنی سلمہ ہیں، ان دونوں جماعتوں نے عبداللہ بن ابی کی مثال دیکھ کر اپنے میں کمزوری اور کم ہمتی محسوس کی لیکن اللہ کے فضل نے دستگیری کی اور اس وسوسہ کو وسوسہ کے درجہ سے آگے نہ بڑھنے دیا اور یہ خیال بھی جو انہیں پیدا ہوا، اپنی قلت تعداد، قلت سامان اور مادی کمزوری کی بناء پر تھا، نہ کہ ضعف ایمان کی بناء پر، مغازی کے مشہور امام مورخ ابن ہشام نے اس کو واضح فرمادیا ہے، اور واللہ ولیھما کا جملہ خود ان کے ایمان کامل کا شہادت دے رہا ہے اس لئے ان دونوں قبیلوں کے بعض بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ : |" اگرچہ اس آیت میں ہم پر کچھ عتاب بھی ہے لیکن واللہ ولیھما کی بشارت بھی ہمارے لئے آئی ہے |"۔ اس آیت کے آخر میں فرمایا |" مسلمانوں کو اللہ پر اعتماد رکھنا چاہئے |"، اس میں واضح کردیا کہ کثرت عدد اور سازوسامان پر مسلمانوں کو اعتماد نہیں کرنا چاہئے، بلکہ بقدر استطاعت مادی سامان جمع کرنے کے بعد بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک پر ہونا چاہئے، بنو حارثہ اور بنو سلمہ کو کمزوری اور کم ہمتی کا جو وسوسہ پیدا ہوا تھا وہ اسی مادی ضعف کی بناء پر تھا اس لئے ان کے وسوسہ کا علاج توکل سے بتلایا گیا کہ توکل و اعتماد ان وساوس کے لئے نسخہ اکسیر ہے۔ توکل انسان کی اعلی صفات میں سے ہے، محققین صوفیا نے اس کی حقیقت پر مفصل بحثیں کی ہیں، یہاں اس قدر سمجھئے کہ توکل کے معنی یہ نہیں کہ تمام اسباب ظاہری سے بالکل قطع تعلق کر کے اللہ پر اعتماد کیا جائے، بلکہ توکل یہ ہے کہ تمام اسباب ظاہری کو اپنی قدرت کے مطابق جمع کرے اور اختیار کرے، اور پھر نتائج اللہ کے سپرد کرے، اور ان ظاہری اسباب پر فخر و ناز نہ کرے، بلکہ اعتماد صرف اللہ پر رہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے ہے، خود اسی جہاد میں مسلمانوں کے لشکر کو جنگ کے لئے منظم کرنا، اپنی قدرت کے موافق اسلحہ اور دیگر سامان حرب فراہم کرنا، محاذ جنگ پر پہنچ کر مناسب حال و مقام نقشہ جنگ تیار کرنا، مختلف مورچے بنا کر صحابہ کرام کو ان پر بٹھانا وغیرہ۔ یہ سب مادی انتظامات ہی تو تھے جن کو سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دست مبارک سے استعمال فرماکر بتلادیا کہ مادی اسباب بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں، ان سے قطع نظر کرنے کا نام توکل نہیں، یہاں مومن اور غیر مومن میں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ مومن سب سامان اور مادی طاقتیں حسب قدرت جمع کرنے کے بعد بھی بھروسہ و توکل صرف اللہ پر کرتا ہے، غیر مومن کو یہ روحانیت نصیب نہیں، اس کو صرف اپنی مادی طاقت پر بھروسہ ہوتا ہے، اور اسی فرق کا ظہور تمام اسلامی غزوات میں ہمیشہ مشاہدہ ہوتا رہا ہے۔ اب اس کے بعد اس غزوہ کی طرف ذہن کو منتقل کیا جارہا ہے جس میں مسلمانوں نے کامل توکل کا مظاہرہ کیا تھا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی و نصرت سے سرفراز کیا تھا،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا۝ ٠ ۙ وَاللہُ وَلِيُّہُمَا۝ ٠ ۭ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۝ ١٢٢ همم الهَمُّ الحَزَنُ الذي يذيب الإنسان . يقال : هَمَمْتُ الشّحم فَانْهَمَّ ، والهَمُّ : ما هممت به في نفسک، وهو الأصل، وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِها[يوسف/ 24] ( ھ م م ) الھم کے معنی پگھلا دینے والے غم کے ہیں اور یہ ھممت الشحم فا نھم کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں میں نے چربی کو پگھلا یا چناچہ وہ پگھل گئی اصل میں ھم کے معنی اس ارادہ کے ہیں جو ابھی دل میں ہو قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِها[يوسف/ 24] اور اس عورت نے ان کا قصد کیا وہ وہ اس کا قصد کرلیتے۔ طَّائِفَةُ وَالطَّائِفَةُ من الناس : جماعة منهم، ومن الشیء : القطعة منه، وقوله تعالی: فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] ، قال بعضهم : قد يقع ذلک علی واحد فصاعدا وعلی ذلک قوله : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] ، والطَّائِفَةُ إذا أريد بها الجمع فجمع طَائِفٍ ، وإذا أريد بها الواحد فيصحّ أن يكون جمعا، ويكنى به عن الواحد، ويصحّ أن يجعل کراوية وعلامة ونحو ذلك . الطائفۃ (1) لوگوں کی ایک جماعت (2) کسی چیز کا ایک ٹکڑہ ۔ اور آیت کریمہ : فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] تویوں کیوں نہیں کیا کہ ہر ایک جماعت میں چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا علم سیکھتے ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ کبھی طائفۃ کا لفظ ایک فرد پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، اور اگر مومنوں میں سے کوئی دوفریق ۔۔۔ اور آیت کریمہ :إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے چھوڑ دینا چاہا ۔ طائفۃ سے ایک فرد بھی مراد ہوسکتا ہے مگر جب طائفۃ سے جماعت مراد لی جائے تو یہ طائف کی جمع ہوگا ۔ اور جب اس سے واحد مراد ہو تو اس صورت میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جمع بول کر مفر د سے کنایہ کیا ہو اور یہ بھی کہ راویۃ وعلامۃ کی طرح مفرد ہو اور اس میں تا برائے مبالغہ ہو ) فشل الفَشَلُ : ضعف مع جبن . قال تعالی: حَتَّى إِذا فَشِلْتُمْ [ آل عمران/ 152] ، فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ [ الأنفال/ 46] ، لَفَشِلْتُمْ وَلَتَنازَعْتُمْ [ الأنفال/ 43] ، وتَفَشَّلَ الماء : سال . ( ف ش ل ) الفشل ( س ) کے معنی کمزوری کے ساتھ بزدلی کے ہیں قرآن پاک میں ہے : حَتَّى إِذا فَشِلْتُمْ [ آل عمران/ 152] یہاں تک کہ تم نے ہمت ہاردی اور حکم ( پیغمبر میں جھگڑا کرنے لگے ۔ فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ [ الأنفال/ 46] تو تم بزدل ہوجاؤ گے ۔ اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا ۔ لَفَشِلْتُمْ وَلَتَنازَعْتُمْ [ الأنفال/ 43] تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور ( جو ) معاملہ ) درپیش تھا اس ) میں جھگڑنے لگتے ۔ تفسل الماء : پانی بہہ پڑا ۔ ولي والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ، إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] ، وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] ، ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] ، نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] ، وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] ، قال عزّ وجلّ : قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] ، وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] ، ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] ( و ل ی ) الولاء والتوالی الوالایتہ ( بکسر الواؤ ) کے معنی نصرت اور والایتہ ( بفتح الواؤ ) کے معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دلالتہ ودلالتہ کی طرح ہے یعنی اس میں دولغت ہیں ۔ اور اس کے اصل معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ الوالی ولمولی ۔ یہ دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں اور مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ولی المومنین ومولاھم دونوں طرح بول سکتے ہیں ۔ چناچہ معنی اول یعنی اسم فاعل کے متعلق فرمایا : ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] جو لوگ ایمان لائے ان کا دوست خدا ہے إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] میرا مددگار تو خدا ہی ہے ۔ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] اور خدا مومنوں کا کار ساز ہے ۔ ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] یہ اسلئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کار ساز ہے ۔ نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] خوب حمائتی اور خوب مددگار ہے ۔ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] اور خدا کے دین کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست ہے ۔ اور ودسرے معنی یعنی اسم مفعول کے متعلق فرمایا : ۔ قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] کہدو کہ اے یہود اگر تم کو یہ دعوٰی ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں ۔ وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] اور پیغمبر ( کی ایزا ) پر باہم اعانت کردگی تو خدا ان کے حامی اور ودست دار ہیں ۔ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] پھر قیامت کے تمام لوگ اپنے مالک پر حق خدائے تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے ۔ وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٢) اسی وقت یہ واقعہ بھی ہوا کہ مسلمانوں میں سے دو جماعتوں بنو سلمہ اور بنو حارث نے اپنے دلوں میں یہ سوچا کہ دشمن تو شکست کھاچکا ہے اس لیے اب ہم بھی احد کے دن (اس مرحلے پر) دشمنوں سے مقابلہ نہ کریں اللہ تعالیٰ اس خیال سے ان دونوں کی حفاظت فرمانے والا تھا (یعنی مجاہدین صحابہ کی ان دونوں جماعتوں نے دشمن کا ڈٹ کا مقابلہ کیا) اور مومنین پر تو یہ چیز لازم ہے کہ فتح ونصرت ہر ایک حالت میں اللہ تعالیٰ ہی پر انحصار کریں۔ شان نزول : (آیت) ” اذ ھمت طآئفتن منکم “۔ (الخ) بخاری ومسلم نے جابر (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ ہمارے قبائل میں سے بنو سلمہ اور بنی حارث کے بارے میں (آیت) ” اذ ھمت طآئفتن منکم “۔ (الخ) یہ آیت نازل ہوئی ہے اور ابن ابی شیبہ (رح) نے مصنف میں اور ابن ابی حاتم (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ غزوہ بدر کے دن مسلمانوں کو یہ اطلاع ہوئی کہ کرزبن جابر محاربی مشرکین کو کمک روانہ کررہا ہے اس پر مسلمان پریشان ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” الن یکفیکم “۔ سے ” مسومین “۔ تک یہ آیات نازل فرمائیں، پھر کرز کو شکست کی اطلاع پہنچ گئی تو نہ مشرکین کے لیے کمک آئی اور نہ مسلمانوں کی امداد کے لیے پانچ ہزار فرشتے نازل ہوئے۔ جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کرکے مدد دے ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٢ (اِذْ ہَمَّتْ طَّآءِفَتٰنِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلاَلا) انہوں نے کچھ کمزوری دکھائی ‘ حوصلہ چھوڑنے لگے اور ان کے پاؤں لڑکھڑائے۔ (وَاللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ط) (وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ) َجنگ کے آغاز سے پہلے انصار کے دو گھرانوں بنو حارثہ اور بنوسلمہ کے قدم وقتی طور پر ڈگمگا گئے تھے ‘ بربنائے طبع بشری ان کے حوصلے پست ہونے لگے تھے اور انہوں نے واپسی کا ارادہ کرلیا تھا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ثبات عطا فرمایا اور ان کے قدموں کو جما دیا۔ پھر ان کا ذکر قرآن میں کردیا گیا۔ اور وہ اس پر فخر کرتے تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں (مِنْکُمْ ) اور (وَاللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ط) کے الفاظ میں کیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ تین سو منافقین جو میدان جنگ سے چلے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر تک نہیں کیا۔ گویا وہ اس لائق بھی نہیں ہیں کہ ان کا براہ راست ذکر کیا جائے۔ البتہ آخر میں ان کا ذکر بالواسطہ طور پر (indirectly) آئے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

95. This refers to Banu Salamah and Banu Harithah, whose morale had been undermined as a result of the withdrawal of 'Abd Allah b. Ubayy and his followers.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :95 یہ اشارہ ہے بنو سلمہ اور بنو حارثہ کی طرف جن کی ہمتیں عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی واپسی کے بعد پست ہو گئی تھیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

41: جب آنحضرتﷺ مقابلے کے لئے مدینہ منورہ سے نکلے تو آپ کے ساتھ ایک ہزار آدمی تھے ؛ لیکن منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی راستے میں یہ کہہ کر اپنے تین سو آدمیوں سمیت واپس چلا گیا کہ ہماری رائے یہ تھی کہ دشمن کا مقابلہ شہر کے اندر رہ کر کیا جائے، ہماری رائے کے خلاف آپ باہر نکل آئے ہیں اس لئے ہم جنگ میں شریک نہیں ہوں گے، اس موقع پر سچے مسلمانوں کے دو قبیلے بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے دل بھی ڈگمگاگئے اور ان کے دل میں بھی خیال آیا کہ تین ہزار کے مقابلے میں صرف سات سوافراد بہت تھوڑے ہیں اور ایسے میں جنگ لڑنے کے بجائے الگ ہوجانا چاہئے ؛ لیکن پھر اللہ نے مدد فرمائی اور وہ جنگ میں شامل ہوئے اس آیت میں انہی کی طرف اشارہ ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

صحیحین میں حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) سے روایت ہے کہ خزرج قبیلہ کی ایک شاخ بنی سلمہ اور اوس قبیلہ کی شاخ کی شاخ بنی حارثہ کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی ہے ١۔ جس وقت عبد اللہ بن ابی منافق نے لوگوں کو بہکا کر میدان جنگ سے مدینہ کی واپسی کی صلاح دی تو بنی سلمہ اور بنی حارثہ نے بھی مدینہ کی واپسی کا دل میں خیال کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ مقلب القلوب نے فورا ان کے دلوں کو پھیر دیا اور وہ عبد اللہ بن ابی کے ساتھ مدینہ کو واپس نہیں گئے اسی واسطے فرمایا کہ اللہ ان کا دستدار تھا کہ ان کو اتنے بڑے گناہ سے بچا لیا ورنہ ان کے دل میں اس گناہ کا خیال جم چکا تھا ان دونوں قبیلوں کے لوگ کہا کرتے تھے کہ آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے سات اپنی ہی دوست داری کا ذکر فرما دیا ہے۔ اس لئے اگرچہ اس آیت میں ہماری نامردی کا ذکر ہے۔ مگر یہ آیت ہم کو بڑی عزت کا باعث ہے ابن جریر اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں اسماء بنت یزید بن سکن (رض) سے روایت کی ہے کہ اسماء نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا مقلب القلوب کہتے ہوئے سن کر آپ سے پوچھا کہ حضرت کا دل بھی پھرجاتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں ہر آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں میں ہے چاہے اسے قائم رکھے یا جس طرف چاہے موڑ دے ١۔ اسی طرح کی روایت مسلم ٢ اور ترمذی ٣ میں بھی عبد اللہ بن بن عمروبن عاص (رض) سے ہے۔ اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی برے کام کا دل میں وسوسہ آ کر پھر دل اسی برے کام سے پھرجائے تو اس کی مدد غیبی سمجھ کر آدمی کو اللہ کا شکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ ہر نعمت شکر سے بڑھا کرتی ہے۔ اگر آدمی اس نعمت پر شکر کرے گا تو دن بدن اللہ تعالیٰ اس کو برے کاموں سے زیادہ بچائے گا اور رفتہ رفتہ یہ شخص بڑا نیک ہوجائے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:122) ہمت۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ہم۔ مصدر۔ ہم یھم (نصر) اس نے ارادہ کیا۔ طائفتان۔ دو گروہ ۔ دو جماعتیں۔ دو فرقے۔ طائفۃ کا تثنیہ ہے۔ جنگ احد کے لئے (7 شوال بروز ہفتہ 3 ھجری کو) جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہزار مجاھدین کے ہمراہ مدینہ شریف سے نکلے۔ تو رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی ہمراہ تھا لیکن راستہ میں شوط کے مقام پر وہ اپنے تین سو ہمراہیوں کے ساتھ الگ ہوگیا۔ اس کی دیکھا دیکھی قبیلہ اوس کی شاخ بنی حارثہ اور خزرج کی شاخ بنی سلمہ جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے ان کے دل میں بھی جنگ سے واپسی کا خیال ہوا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی دستگیری کی اور اس لغزش کے ارتکاب سے ان کو بچا لیا۔ تفشلا۔ وہ دونوں بزدلی کریں۔ فشل یفشل (سمع) فشل بزدل ہونا۔ بزدلی کرنا۔ ہمت ہار دینا۔ مضارع کا صیغہ تثنیہ مؤنث غائب۔ نون اعرابی ان کی وجہ سے گرگیا۔ واللہ۔ میں واؤ حالیہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ان دو گروہوں سے مراد انصار (رض) کے دو قبیلے۔ بنو سلمہ اور بنو حارثہ۔ ہیں جو عبد اللہ ابن ابی کی جماعت کی واپسی دیکھ کر دل شکشتہ ہوگئے تھے۔ اور نھوں نے واپس آنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ (قربطی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ صحابہ پر خدا تعالیٰ کی کیسی عنایت تھی کہ بیان جرم کے ساتھ ان کو بشارت ولایت خاصہ بھی سنادی جس میں وعدہ معافی مفہوم ہوتا ہے اور جرم بھی کتنا خفیف بتلایا کہ واپسی نہیں صرف کم ہمتی پھر اس کا بھی وقوع نہیں بلکہ خیال پس یا تو صدور اتناہی ہوا ہو یا بعض صادر کو ذکر نہیں فرمایا اور تقدیر اول پر عتاب کی وجہ ان حضرات کا غایت تقرب ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ دو گروہ کون تھے ؟ صحیحین میں اس بارے میں سفیان بن عیینہ کی حدیث نقل ہے ۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلیم تھے ۔ وہ عبداللہ بن ابی کی دغابازانہ حرکت سے متاثر ہوگئے تھے ‘ اس لئے اس حرکت نے اسلامی صفوں میں پہلے ہی قدم پر اضطراب پیدا کردیا تھا ‘ قریب تھا کہ یہ دو گروہ بزدلی دکھاتے اور کمزور ہوکر بیٹھ جاتے لیکن اللہ کی مدد آپہنچی اور اللہ نے ان کے قدم مضبوط کردئیے ۔ جس طرح اس آیت میں صراحت ہے وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا……………” اور اللہ ان کا مددگار تھا۔ “ حضرت عمر فرماتے ہیں میں نے جابر بن عبداللہ سے سنا ‘ وہ کہتے تھے یہ آیت ہمارے متعلق نازل ہوئی ہے ۔” یاد کرو جب دو گروہ تم سے بزدلی دکھانے پر آمادہ ہوگئے تھے ۔ “ انہوں نے کہا یہ دو گروہ ہم تھے ‘ بنو حارثہ اور بنو سلیم اور میں ایسا نہیں چاہتا (یا مجھے یہ بات اچھی نہیں آتی ) کہ آیت نازل نہ ہوتی ‘ اس لئے کہ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا…………… یعنی اللہ ان کا دوست اور مددگار ہے۔ “ (بخاری ومسلم) یوں دلوں کی گہرائیوں میں خفیہ اور پوشیدہ بات کو ظاہر کردیا جاتا ہے اور اس بات کا علم صرف اللہ ہی کو تھا کہ یہ قبائل بزدلی پر آمادہ ہیں۔ اس لئے کہ یہ کمزوری ان کے دل میں ایک لحظہ کے لئے در آئی تھی اور فوراً ہی اللہ نے انہیں گرنے سے بچالیا ۔ ان کے دل سے اس کمزوری کو دور کردیا ‘ اور اللہ نے اپنی دوستی کی وجہ سے ان کی تائید فرمائی ۔ اور وہ پیچھے لوٹنے کے بجائے آگے بڑھے ۔ اس معرکہ کے واقعات کو بیان کرنے کے دوران اللہ نے اس کو دہرایا تاکہ اس معرکے کے واقعات اور مناظر کو زندہ وتابندہ صورت میں پیش کیا جائے ۔ اور نفوس انسانی کے دلوں میں جو بات کھٹکتی ہے اسے ریکارڈ پر لایا جائے ‘ اور لوگوں کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے ۔ تمہارے دلوں کی باتوں سے خبردار ہے ‘ اسی لئے اللہ نے فرمایا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ……………” اللہ سننے والا ہے اور خبردار ہے ۔ “ تاکہ ان کے دلوں میں یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھ جائے اور انہیں بتایا جائے کہ نجات کی راہ کیا ہے اور ان کے احساس میں یہ بات بٹھائی جائے کہ اللہ ان کا مددگار ہے ‘ معاون ہے اور ان کا دوست ہے اور کسی بھی کمزوری میں ان کا ہاتھ پکڑنے والا ہے ۔ جب وہ گرنے کے قریب ہوں تو وہ ان کا دستگیر ہے ۔ یہ اس لئے کہا کہ انہیں معلوم ہوجائے کہ کمزوری اور ضعیفی کے وقت انہوں نے کہاں سے نصرت طلب کرنی ہے اور کہاں انہوں نے پناہ لینا ہے ؟ اس لئے انہیں اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ جس جہت کے سوا مسلمانوں کے لئے اور کوئی جہت نہیں ہے ۔ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ……………” اور اہل ایمان کو صرف اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے۔ “ غرض یہ کہ پہلے ہی منظر کی یہ دونوں جھلکیاں نہایت ہی باموقع دکھائی گئی ہیں اور نہایت ہی موزوں فضا میں ‘ جھلکیاں اپنی موسیقی کے زیروبم کو یکجا کرتی ہیں اور نہایت ہی مناسب موقعہ پر اپنے رمزیہ شان کے ساتھ نظروں کے سامنے آتی ہیں ۔ ایسے ماحول میں کہ لوگوں کے دل لبیک کہنے ‘ اثر لینے اور ان حقائق کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ ان دوتمہیدی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم دلوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے ‘ ان کی تربیت کرتا ہے اور انہیں صحیح سمت پر لگاتا ہے اور اثر اندازی ایسے واقعات کے بطور تبصرہ کی جاتی ہے کہ وہ ابھی تازہ ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ فرق معلوم ہوجاتا ہے جو روایت قصص اور بیان واقعات میں قرآن کریم اختیار کرتا ہے ‘ اور جو طریق بیان عام انسانی مصادر تاریخ میں اختیار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ انسانی مصادر میں واقعات کی بڑی تفصیل ہوتی ہے ۔ لیکن تفصیلات کے باوجود وہ واقعات دلوں میں نہیں اترتے ۔ نہ ان کا انسانی زندگی سے کوئی تعلق ہوتا ہے ‘ نہ ان سے دلوں کو زندہ کرنا ‘ انہیں گرمی عطا کرنا مقصود ہوتا ہے اور نہ انسانوں کی ہدایت وتربیت مطلوب ہوتی ہے جیسا کہ قرآن مجید اپنے بیان قصص میں ان امور کو پیش نظر رکھتا ہے اور نہایت ہی مستحکم اسلوب بیان ہے ۔ یوں اس معرکے کے بیان کا آغاز ہوتا ہے جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب نہ ہوئی اگرچہ وہ فتح ونصرت کے قریب پہنچ گئے تھے ۔ اس معرکے کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ ایک شخص (عبداللہ بن ابی ) اپنے نظریہ حیات کے مقابلے میں اپنی ذات اور شخصیت کو ترجیح دیتا ہے اور اس کی اتباع میں وہ سب لوگ اس کے پیچھے چلے جاتے ہیں جن کے ذاتی اعتبارات ان کے عقیدے کے مقابلے میں زیادہ اہم تھے ۔ پھر آغاز ہی میں دو گروہ بھی حالات سے قدرے متاثر ہوجاتے ہیں حالانکہ یہ صالح تھے اور اس معرکے کا انجام یوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اپنی فوجی ڈیوٹی کو چھوڑ کر مال غنیمت کے لالچ میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور ان کی وجہ سے ان لوگوں کو بھی ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے جنہوں نے اس معرکے میں قربانی کے اعلیٰ نمونے پیش کئے ۔ محض اس لئے کہ بعض لوگوں نے نظم کی خلاف ورزی کی یا ان کے نظریہ ٔ حیات میں ابھی تک کچھ کمزوریاں موجود تھیں۔ اس سے پہلے کہ اس معرکے کی تفصیلات بیان کی جائیں اور ان پر تبصرہ کیا جائے ‘ جس میں مسلمانوں کو شکست کھانی پڑی ‘ اس معرکے کا ذکر کیا جاتا ہے ‘ جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی یعنی غزوہ بدر تاکہ اس شکست کے ساتھ اس فتح ونصرت کو بھی وہ پیش نظر رکھیں ۔ اور دونوں کا موازنہ کرکے فتح وشکست کے اسباب پر غور کریں ۔ اور یہ بھی یقین سے جان لیں کہ فتح ونصرت کو بھی وہ پیش نظر رکھیں ۔ اور دونوں کا موازنہ کرکے فتح وشکست کے اسباب پر غور کریں ۔ اور یہ بھی یقین سے جان لیں کہ فتح ونصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہی کچھ پیش آتا ہے جو اللہ کے ہاں مقرر ہوتا ہے۔ اور تقدیر الٰہی جس طرح نصرت میں کارفرماہوتی ہے ‘ اسی طرح شکست بھی مقدر ہوتی ہے ۔ فتح کی تہہ میں حکمت ہوتی ہے اور شکست کے پس پشت بھی اللہ کی حکمت کار فرماہوتی ہے ۔ اور دونوں حالات میں نتیجہ کار اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے ‘ ہر حال میں وہی ہے جو مسبب الاسباب ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

غزوہ احد کے موقعہ پر صحابہ کرام (رض) سے مشورہ : ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ احد پیش آیا۔ مشرکین مکہ کو غزوۂ بدر میں چونکہ بہت بڑی شکست ہوئی تھی جس میں تین سو تیرہ نہتے مسلمان دشمن کی تین گنا تعداد پر غالب آئے اور دشمن کے ستر آدمی مقتول ہوئے اور ستر کو قیدی بنا کر مدینہ منورہ لایا گیا اس لیے قریش مکہ کو بدلہ لینے کی بہت بڑی فکر تھی۔ لہٰذا آپس میں خوب زیادہ چندہ کیا اور قریش آپس میں مجتمع ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کرنے کے لیے مکہ معظمہ سے نکلے قریش مکہ اپنے اموال اور فوج اور سپاہ کو لے کر مدینہ منورہ پہنچے تو احد پہاڑ کے قریب پڑاؤ ڈال لیا۔ آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرات صحابہ سے مشورہ کیا آپ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر ہی مقابلہ کیا جائے باہر نہ نکلیں لیکن وہ مسلمان جو گزشتہ سال غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ہم شہر سے باہر نکلیں گے اور احد جا کر ہی ان سے لڑیں گے ان حضرات کا اندازہ تھا کہ جس طرح مسلمان سال گزشتہ بدر میں دشمن کے مقابلہ میں فتح یاب ہوچکے ہیں اس مرتبہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ ضرور غالب ہوں گے۔ یہ حضرات برابر اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو باہر نکلنے پر آمادہ کرلیا آنحضرت سرورعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیاری فرما لی۔ زرہ پہن لی اور خود (لوہے کی ٹوپی) اوڑھ لی آپ مشورہ کی وجہ سے آمادہ تو ہوگئے لیکن ہتھیار پہننے سے پہلے آپ نے فرمایا دیا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں ایک مضبوط زرہ کے اندر ہوں جس کی تعبیر میں نے یہ دی کہ اس سے مدینہ منورہ مراد ہے اور میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری تلوار کچھ کند ہوگئی اس کی تعبیر میں نے یہ دی کہ تمہارے اندر کچھ شکستگی ہوگی اور میں نے یہ بھی خواب دیکھا کہ ایک بیل کو ذبح کیا جا رہا ہے اور وہ بھاگ رہا ہے۔ مطلب اس خواب کے بیان کرنے کا یہ تھا کہ مدینہ منورہ ہی کے اندر رہنا چاہیے اور یہ کہ جنگ ہونے کی صورت میں مسلمانوں میں شکستگی ہوگی۔ بعد میں بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ ہماری تاریخ یہ ہے کہ جب کبھی اندر رہتے ہوئے جنگ لڑی ہے تو ہم کامیاب ہوئے ہیں اور جب کبھی باہر نکل کر جنگ کی ہے تو دشمن فتح یاب ہوا ہے۔ لہٰذا رائے یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے اندر ہی رہیں باہر نہ نکلیں جن حضرات نے خوب جماؤ کے ساتھ باہر نکلنے کا مشورہ دیا تھا بعد میں ان کو بھی ندامت ہوئی جب آپ کی خدمت میں دوسرا مشورہ پیش کیا اور عرض کیا کہ آپ کی جیسی رائے ہو آپ اس پر عمل فرمائیں تو آپ نے فرمایا کسی نبی کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ سامان جنگ سے آراستہ ہوجائے اور دشمن کی طرف نکلنے کا حکم دے دے تو وہ قتال کیے بغیر واپس ہوجائے۔ میں نے تم کو پہلے اس امر کی دعوت دی تھی کہ مدینہ ہی میں رہیں لیکن تم لوگوں نے نہیں مانا پس اب اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور دشمن سے مڈ بھیڑ ہوجائے تو جماؤ کے ساتھ جنگ کرنا۔ اور اللہ نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کرو۔ اس کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو لے کر احد کی طرف تشریف لے چلے اس وقت آپ کے ساتھ ایک ہزار کی نفری تھی اور دشمن کی تعداد تین ہزار تھی۔ احد جاتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جگہ قیام کیا تو رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول تین سو آدمیوں کو لے کر واپس چلا گیا۔ لہٰذا مسلمانوں کی تعداد سات سو رہ گئی۔ عبداللہ بن ابی جب اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس ہوگیا تو انصار کے دو قبیلے بنی سلمہ اور بنی حارثہ کی نیت بھی ڈانواں ڈول ہوگئی اور ان کے اندر بھی بزدلی کا اثر ہونے لگا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو استقامت دی اور یہ بھی لشکر اسلام کے ساتھ ٹھہر گئے اسی کو آیت بالا میں فرمایا : (اِذْ ھَمَّتْ طَّآءِفَتٰنِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلَا وَ اللّٰہُ وَلِیُّھُمَا وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ) (اور جب ارادہ کیا دو جماعتوں نے تم میں سے کہ بزدل ہوجائیں اور اللہ ان کا ولی ہے اور اللہ پر بھروسہ کریں مومن بندے) ۔ حضرت سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کے دامن میں پہنچ گئے اور وہاں ایک گھاٹی میں نزول فرمایا آپ نے اور آپ کے لشکر نے احد کی طرف پشت کرلی تاکہ احد پیچھے رہے اور دشمن سے احد کے سامنے میدان میں قتال کیا جاسکے۔ وہیں ایک پہاڑی پر پچاس صحابہ کو مقرر فرما دیا اور ان کا امیر حضرت عبداللہ بن جبیر کو بنا دیا اور ان حضرات سے فرمایا کہ تم لوگ اسی پہاڑ پر ثابت قدم رہنا۔ فتح ہو یا شکست تم یہاں سے مت ٹلنا۔ اگر تم یہ دیکھو کہ ہم کو پرندے بھی بوٹی بوٹی کر کے لے اڑیں تب بھی اس جگہ سے نہ جانا ان حضرات کا کام یہ تھا کہ دشمن کے لشکروں کو مقررہ پہاڑی سے نیزے مارتے رہیں تاکہ وہ ان کی طرح سے گزرتے ہوئے لشکر اسلام پر حملہ نہ کردیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔ اور جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر (رض) کے ہاتھ میں تھا۔ آپ نے اپنے لشکر کی ترتیب دی اور ان کے ٹھکانے مقرر فرمائے، میمنہ اور میسرہ کی تعیین فرمائی جس کو آیت بالا میں اس طرح بیان فرمایا : (وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَھْلِکَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ) (اور جب آپ اپنے گھر سے صبح کے وقت نکلے کہ مسلمانوں کو قتال کے لیے مقامات بتا رہے تھے) جب جنگ شروع ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور فتحیاب فرمایا لیکن پھر یہ ہوا کہ جن پچاس افراد کو تیر اندازی کے لیے ایک پہاڑی پر مامور فرما دیا تھا انہوں نے جب فتح و ظفر دیکھی تو ان میں آپس میں اختلاف ہوگیا ان میں سے بعض صحابہ کہنے لگے کہ اب یہاں ٹھہرنے کی ضرورت کیا ہے اب تو ہم فتحیاب ہو ہی چکے لہٰذا اس جگہ کو چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں، اور بعض صحابہ نے فرمایا کہ جو بھی صورت ہو ہمیں جم کر رہنے کا حکم ہے، جماعت کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر (رض) اور ان کے کچھ ساتھی وہیں جمے رہے اور اکثر حضرات نے جگہ چھوڑ دی اور مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے۔ دشمن کے پاؤں اکھڑ چکے تھے، اور وہ شکست کھا کر راہ فرار اختیار کرچکا تھا لیکن جب اس نے یہ دیکھا کہ تیر انداز پہاڑی سے اتر چکے ہیں تو پلٹ کر پھر جنگ شروع کردی، اب صورت حال بدل گئی مسلمانوں کو شکست ہوگئی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

187 پہلا نمونہ یہ اِذْ عَدَوْتَ سے بدل ہے۔ اور طائفتان سے انصار کے دو قبیلے مراد ہیں۔ یعنی قبیلہ خزرج کے بنو سلمہ اور قبیلہ اوس کے بنو حارثہ والطائفتان بنو سلمۃ من الخزرج وبنو حارثۃ من الاوس (قرطبی ص 185 ج 4) اور ھَمٌّ پختہ ارادہ اور حدیث نفس یعنی وسوسہ دونوں میں مستعمل ہے۔ لیکن یہاں وسوسہ اور حدیث نفس مراد ہے والظاھر ان ھذا لھم لم یکن عن عزم۔ ب کان مجر حدیث نفس و وسوسۃ (روح ص 43 ج 4) اور فَشْلٌ کے معنی بزدلی اور کم ہمتی دکھانے ہیں۔ ہوا یوں کہ جب عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین اپنے تین سو منافق ساتھیوں کو لے کر میدان جنگ سے یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ جب ہماری بات نہیں مانی گئی تو ہم کیوں ان کا ساتھ دیں اور مفت میں اپنی جانیں ضائع کریں (عبداللہ بن ابی نے بھیحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشورہ دیا تھا کہ جنگ کے لیے مدینہ سے باہر نہ جائیں بلکہ شہر ہی میں رہیں اگر مشرکین نے شہر پر حملہ کیا تو یہیں ان سے جنگ کریں گے) تو مسلمانوں کے ان دونوں گروہوں کو قلت سامان اور قلت عدد کی بنا پر خیال گزرا کہ وہ بھی آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹ جائیں۔ غرضیکہ ان کی بزدلی اور کم ہمتی دکھانے کی وجہ شک ونفاق یا ضعف ایمان نہیں تھا۔ بلکہ مادی وسائل کی کمی کی وجہ سے ان کے ارادے میں ضعف آگیا۔ وذالک انہ انما کان ذالک منھما عن ضعف ووھن اصابھما غیر شک فی دینھما (سیرت ابن ہشام ص 112 ج 3) لیکن ابھی یہ ارادہ وسوہ کی حد سے آگے نہیں بڑھا تھا اور نہ ہی انہوں نے اس پر عمل کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دستگیری فرمائی اور ان کی ہمتیں پھر سے مضبوط کردیں۔ اور اپنی مدد اور نصرت سے ان کو تھام لیا اور دونوں قبیلے نئے جوش شجاعت کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی لغزش سے درگذر فرمایا۔ یہ کم ہمتی کے اظہار کا ارادہ وقتی طور پر صبر وتقوی سے ذہول کا نتیجہ تھا۔ ادھر خدا پر بھروسہ اور تقوی سے ذہن مادی وسائل کی قلت و کثرت کی طرف منتقل ہوا۔ ادھر فوراً ہی اس کا برا نتیجہ سامنے آگیا۔ 188 یہاں اللہ تعالیٰ نے تمام ایمان والوں کو نصیحت فرمائی کہ انہیں صرف خدا کی ذات پر اعتماد اور بھروسہ اور ظاہری سازوسامان کو اسباب عادیہ کی حد تک اختیار کرنا چاہیے اور ان کو کامیابی اور ناکامی میں موثر حقیقی نہیں سمجھنا چاہیے بعض جاہل صوفی ترک اسباب کا نام توکل رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ نظریہ سراسر اسلام کے خلاف ہے اور خودحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ حسنہ کے بھی مخالف ہے۔ قال سھل من قال ان التوکل یکون بترک السبب فقد طعن فی سنۃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (قرطبی ص 189 ج 4) توکل کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ پر بھروسہ کرے اور یقین رکھے کہ اللہ کی قضا پوری ہو کر رہے گی اور ہر کام کے لیے اللہ نے تکوینی طور پر جو اسباب عادیہ مقرر فرمائے ہیں ان کو عمل میں لائے اور ان کو محض عادی وسائل خیال کرے اور موثر حقیقی صرف خدا کو جانے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور اے نبی ! آپ اس واقعہ کو یاد کیجئے جب آپ صبح ہی صبح اپنے اہل خانہ سے باہر نکلے تھے اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کی غرض سے مختلف مقامات پر بٹھا رہے تھے اور مختلف ٹھکانوں پر ان کو جمانے اور بٹھانے کے لئے آمادہ کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اس وقت کی تمام باتیں سنتا اور تمام حالات کو جانتا تھا اور اس وقت یہ قصہ بھی پیش آیا تھا کہ تم میں سے مسلمانوں کی دو جماعتیں یعنی بنو سلمہ اور بنو حارثہ بزدلی دکھانے اور ہمت ہارنے پر آمادہ ہوگئے تھے اور ان کے دل میں بزدلانہ خیالات پیدا ہو چلے تھے اور وہ عبد اللہ بن ابی کی طرح اپنے گھروں کو لوٹ جانے کا قصہ کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان دو قبیلوں کا مددگار اور سازگار تھا اور مسلمانوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھا کریں اور اسی پر اعتماد کیا کریں۔ (تیسیر) فسل۔ ضعف اور جین کو کہتے ہیں یعنی کمزوری اور بزدلی اہل سے مراد حضرت عائشہ ہیں یعنی حضرت عائشہ کے مکان سے علی الصباح نکلے تھے اور لشکر کے ہمراہ تشریف لے گئے تھے۔ ھمت کا مطلب یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی کی دیکھا دیکھی ان کو بھی یہ خیال ہوا کہ ہم بھی چلے جائیں اور اپنے گھر جا بیٹھیں لیکن یہ خیال چونکہ محض ہم کے درجہ میں تھا اس لئے اس کا وقوع نہیں ہوا پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی سرپرستی اس کی مدد اور اس کی حفاظت شامل حال تھی اس لئے یہ لوگ فرار سے محفوظ رہے۔ ولیھما کا ترجمہ بعض حضرات نے عاصمھما کیا ہے بہرحال جس کو خدا تعالیٰ کی حمایت اور نصرت حاصل ہو وہ کس طرح گناہ کا مرتکب ہوسکتا تھا۔ حضرت جابر بن عبد اللہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ آیت ہمارے لئے بڑی مسرت کا موجب ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ولایت اور اس کے ولی ہونے کی خوشخبری ہے اور یہ بھی صحابہ (رض) پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ ان پر جو تعریض فرمائی وہ بشارت آمیز فرمائی اور یہ جو طائفتان میں منکم کی قید لگائی اس کا مفاد یہ ہے کہ دو قبیلے جنہوں نے ایسا ارادہ کیا تھا یہ تم ہی میں سے تھے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ عبد اللہ بن ابی اور اس کی پارٹی تم میں سے یعنی مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ گو ان دو قبیلوں نے ایسا خیال کیا تھا مگر اللہ ان کا ولی تھا بھلا کب ان کو ایسا کرنے دیتا چناچہ اس نے ان کی ہمت بندھوا دی اور آئندہ کے لئے بھی ہم تم کو اور سب مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ فقط اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھا کریں اور اس قسم کے امتحانات اور ابتلا کے مواقع سے نہ گھبرایا کریں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب حضرت مکہ سے مدینہ آئے اس کے ڈیڑھ برس کے بعد جنگ بدر ہوئی مکہ کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نے فتح دی مسلمانوں کو ستر آدمی کافر مارے گئے اور ستر اسیر آئے اگلے سال کافر جمع ہو کر مدینہ پر چڑھ آئے۔ حضرت نے مسلمانوں سے مشورت کی اکثر کہنے لگے ہم شہر میں لڑیں گے اور حضرت کی مرضی بھی یہی تھی اور بعض کہنے لگے کہ یہ عار ہے بلکہ میدان میں مقابل ہونگے آخری مشورت قبول ہوئی۔ جب حضرت شہر سے باہر نکلے عبد اللہ بن ابی کافر تھا مدینہ کا ساکن وہ بھی شریک جنگ تھا ناخوش ہو کر پھر گیا کہ ہمارے قول پر عمل نہ کیا اور اس کے بہکانے سے دو قبیلے انصار کے بھی پھر چلے آخر ان کے سردار عوام کو سمجھا کرلے آئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تقویت دیتا ہے کہ اللہ پر توکل چاہئے اطاعت حکم میں اندیشہ نہ کرے۔ (موضح القرآن) پھر چلے کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے بھی قصد کیا اور سردار عوام کو سمجھا کرلے آئے اس کا مطلب یہ ہے کہ سرداروں کے سمجھانے سے انہوں نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔ اب آگے جنگ بدر میں جو نصرت اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کو حاصل ہوئی تھی اور جس کی بڑی وجہ مسلمانوں کا استقلال اور تقویٰ کی پابندی تھی اس کا بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)