Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 171

سورة آل عمران

یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَضۡلٍ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾ۚ٪ۛ  8

They receive good tidings of favor from Allah and bounty and [of the fact] that Allah does not allow the reward of believers to be lost -

وہ خوش ہوتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اس سے بھی کہ اللہ تعالٰی ایمان والوں کے اجر کو برباد نہیں کرتا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

They rejoice in a grace and a bounty from Allah, and that Allah will not waste the reward of the believers. Muhammad bin Ishaq commented, "They were delighted and pleased because of Allah's promise that was fulfilled for them, and for the tremendous rewards they earned." Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "This Ayah encompasses all the believers, martyrs and otherwise. Rarely does Allah mention a bounty and a reward that He granted to the Prophets, without following that with what He has granted the believers after them." The Battle of Hamra' Al-Asad Allah said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

171۔ 1 یہ استبشار پہلے استبشار کی تاکید اور اس بات کا بیان ہے کہ ان کی خوشی محض خوف و حزن کے فقدان کی ہی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی نعمتوں اور اس کے بےپایاں فضل و کرم کی وجہ سے بھی ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے پہلی خوشی کا تعلق دنیا میں رہ جانے والے بھائیوں کی وجہ سے اور یہ دوسری خوشی اس انعام و اکرام کی ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے خود ان پر ہوا (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللہِ وَفَضْلٍ۝ ٠ ۙ وَّاَنَّ اللہَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ ١٧١ ۚۛۧ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ ضيع ضَاعَ الشیءُ يَضِيعُ ضَيَاعاً ، وأَضَعْتُهُ وضَيَّعْتُهُ. قال تعالی: لا أُضِيعُ عَمَلَ عامِلٍ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 195] ( ض ی ع ) ضاع ( ض ) الشیئ ضیاعا کے معنی ہیں کسی چیز کا ہلاک اور تلف کرنا ۔ قرآن میں ہے : لا أُضِيعُ عَمَلَ عامِلٍ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 195] اور ( فرمایا ) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ العنکبوت/ 27] ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا [يوسف/ 57] . والأُجرة في الثواب الدنیوي، وجمع الأجر أجور، وقوله تعالی: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ [ النساء/ 25] كناية عن المهور، والأجر والأجرة يقال فيما کان عن عقد وما يجري مجری العقد، ولا يقال إلا في النفع دون الضر، نحو قوله تعالی: لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 199] ، وقوله تعالی: فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ [ الشوری/ 40] . والجزاء يقال فيما کان عن عقدٍ وغیر عقد، ويقال في النافع والضار، نحو قوله تعالی: وَجَزاهُمْ بِما صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيراً [ الإنسان/ 12] ، وقوله تعالی: فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ [ النساء/ 93] . يقال : أَجَر زيد عمراً يأجره أجراً : أعطاه الشیء بأجرة، وآجَرَ عمرو زيداً : أعطاه الأجرة، قال تعالی: عَلى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمانِيَ حِجَجٍ [ القصص/ 27] ، وآجر کذلک، والفرق بينهما أنّ أجرته يقال إذا اعتبر فعل أحدهما، وآجرته يقال إذا اعتبر فعلاهما «1» ، وکلاهما يرجعان إلى معنی واحدٍ ، ويقال : آجره اللہ وأجره اللہ . والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی: اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] . ( ا ج ر ) الاجر والاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دنیوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا اجر تو خدا کے ذمے ہے ۔ { وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ } [ العنکبوت : 27] اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے ۔ { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا } [يوسف : 57] اور جو لوگ ایمان لائے ۔ ۔۔۔ ان کے لئے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے ۔ الاجرۃ ( مزدوری ) یہ لفظ خاص کر دنیوی بدلہ پر بولا جاتا ہے اجر کی جمع اجور ہے اور آیت کریمہ : { وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ } [ النساء : 25] اور ان کے مہر بھی انہیں ادا کردو میں کنایہ عورتوں کے مہر کو اجور کہا گیا ہے پھر اجر اور اجرۃ کا لفظ ہر اس بدلہ پر بولاجاتا ہے جو کسی عہد و پیمان یا تقریبا اسی قسم کے عقد کی وجہ سے دیا جائے ۔ اور یہ ہمیشہ نفع مند بدلہ پر بولا جاتا ہے ۔ ضرر رساں اور نقصان دہ بدلہ کو اجر نہیں کہتے جیسے فرمایا { لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ } [ البقرة : 277] ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا ۔ { فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ } ( سورة الشوری 40) تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے الجزاء ہر بدلہ کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی عہد کی وجہ سے ہو یا بغیر عہد کے اچھا ہو یا برا دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ { وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا } [ الإنسان : 12] اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم ( کے ملبوسات) عطا کریں گے ۔ { فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } ( سورة النساء 93) اس کی سزا دوزخ ہے ۔ محاورہ میں ہے اجر ( ن ) زید عمرا یا جرہ اجرا کے معنی میں زید نے عمر کو اجرت پر کوئی چیز دی اور اجر عمر زیدا کے معنی ہوں گے عمرو نے زید کو اجرت دی قرآن میں ہے :۔ { عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ } [ القصص : 27] کہ تم اس کے عوض آٹھ برس میری خدمت کرو ۔ اور یہی معنی اجر ( مفاعلہ ) کے ہیں لیکن اس میں معنی مشارکت کا اعتبار ہوتا ہے اور مجرد ( اجرتہ ) میں مشارکت کے معنی ملحوظ نہیں ہوتے ہاں مال کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں ۔ محاورہ ہی ۔ اجرہ اللہ واجرہ دونوں طرح بولا جاتا ہے یعنی خدا اسے بدلہ دے ۔ الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : { اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ } [ القصص : 26] اسے اجرت پر ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو میں ( استئجار کا لفظ ) ملازم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧١ (یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍلا) ( وَّاَنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) اب آگے جو آیات آرہی ہیں ان کے بارے میں تاریخ و سیرت کی کتابوں میں دو قسم کی روایات آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ کفار کی فوج کے واپس چلے جانے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض ضروری امور نمٹائے اور شہداء کی تدفین کی۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اچانک خیال آیا کہ یہ کفار چلے تو گئے ہیں ‘ لیکن ہوسکتا ہے انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو کہ اس وقت تو مسلمان اس حالت میں تھے کہ ہم انہیں ختم کرسکتے تھے ‘ لہٰذا وہ کہیں دوبارہ پلٹ کر حملہ آور نہ ہوجائیں۔ چناچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو قریش کے تعاقب کے لیے تیار ہوجانے کا حکم دیا ‘ تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ہم نے ہمت نہیں ہاردی۔ اس کے باوجود کہ اہل ایمان کے جسم زخموں سے چور چور تھے ‘ اتنا بڑا صدمہ پہنچا تھا ‘ وہ پھر تیار ہوگئے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جان نثاروں کی ایک جماعت کے ساتھ کفار کے تعاقب میں حمراء الاسد تک گئے جو مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔ ادھر ابوسفیان کو واقعتا اپنی غلطی کا احساس ہوچکا تھا اور وہ مقام روحاء پر رک کر اپنی فوج کی ازسرنو تنظیم کر کے واپس پلٹ کر مدینہ پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کر رہا تھا۔ ادھر سے آنے والے ایک تاجر سے اس نے کہا بھی تھا کہ جا کر مسلمانوں کو بتادو کہ میں بہت بڑا لشکر لے کر دوبارہ آ رہا ہوں۔ لیکن جب ابوسفیان نے دیکھا کہ مسلمانوں کے عزم و حوصلہ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور وہ ان کے تعاقب میں آ رہے ہیں تو ارادہ بدل لیا اور لشکرکو مکہ کی طرف کوچ کا حکم دے دیا۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ بیان ہوتا ہے کہ ابوسفیان جاتے ہوئے یہ کہہ گیا تھا کہ اب اگلے سال بدر میں دوبارہ ملاقات ہوگی۔ یعنی ایک سال پہلے بدر میں جنگ ہوئی تھی ‘ اب احد میں ہمارا مقابلہ ہوگیا۔ اب اگلے سال پھر ہمارے اور تمہارے درمیان تیسرا مقابلہ بدر میں ہوگا۔ چناچہ اگلے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام (رض) کو لے کر بدر تک گئے۔ یہ مہم بدرصغریٰکہلاتی ہے۔ ادھر سے ابوسفیان پورے لاؤ لشکر کے ساتھ آگیا اور اس مرتبہ بھی کچھ لوگوں کے ذریعہ سے اہل ایمان میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی کہ لوگو کیا کر رہے ہو ‘ قریش تو بہت بڑا لشکر لے کر آ رہے ہیں ‘ تم اس کا مقابلہ نہ کر پاؤ گے ! تو اس کے جواب میں مسلمانوں نے صبر و توکل کا مظاہرہ کیا اور وہ کلمات کہے جو آگے آ رہے ہیں۔ تو یہ آیات دونوں واقعات پر منطبق ہوسکتی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اوپر غزوہ احدکاقصہ مذکور ہوچکا آگے اس سے متعلق ایک دوسرے غزوہ کا ذکر ہے جو غزوہ حمراء الاسد کے نام سے مشہور ہے وہ یہ کہ جب کفار قریش میدان احد سے مکہ واپس ہوئے تو رستہ میں جا کر اس پر افسوس کیا کہ باوجود غالب آجانے کے لوٹ آئے سو اب چل کر سب کا استیصال کردیں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور پھر وہ مکہ ہی کی طرف ہولیے لیکن بعض راہ گیروں سے کہہ گئے کہ کسی تدبیر سے مسلمانوں کے دل میں ہمارا رعب جمادیا جائے آپ کو وحی سے یہ امر معلوم ہوگیا اور آپ ان کے تعاقب میں مقام حمراء الاسد تک پہنچے حمراء الاسد مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے وہاں آپ نے تین روز قیام فرمایا اس مقام پر ایک قافلہ تجار کا گزر رسول اللہ نے ان سے مال تجارت خرید فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس میں نفع دیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ نفع ہمراہی مسلمانوں کو تقسیم فرمایا آیات آئندہ میں اسی قصہ کی طرف اشارہ ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کے بعد یہ خصوصیت کہ ان کے دل ان لوگوں کے حالات کے اندر مشغول ہیں اور دلچسپی لے رہے ہیں جو اس دنیا میں زندہ رہ رہے ہیں اور ان کے زندہ رہنے والوں کے انجام کے بارے میں بہت ہی مطمئن ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ ان سے بھی اللہ تعالیٰ راضی ہے ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ ” اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ‘ ان کے لئے بھی کسی رنج وخوف کا موقعہ نہیں ہے ۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں اور فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔ “ وہ اپنے بھائیوں سے منقطع نہیں ہوگئے ‘ جو ابھی وہاں نہیں پہنچے اور ان سے جدا ہوگئے ہیں ۔ وہ زندہ ہیں ‘ ان کے ساتھ ہیں اور دنیا اور آخرت میں پیچھے آنے والوں سے جو کچھ ملنے والا ہے ‘ اس پر وہ بہت ہی خوش ہیں اور وہ اس لئے شاداں وفرحاں ہیں کہ ان آنے والوں کے لئے بھی کسی رنج اور خوف کا موقعہ نہیں ہے ۔ وہ اپنے رب کے ہاں جو اعلیٰ درجے کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس سے انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ آنے والوں کے بھی مزے ہیں ۔ اس لئے کہ ان پر بےبہا فضل وکرم ہورہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا مومنین صادقین کے ساتھ یہی تعلق ہوتا ہے کہ وہ ان کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ زندگی کے خصائص میں سے کون ساوہ خاصہ ہے جو ان شہداء فی سبیل اللہ کو حاصل نہیں ہے ؟ اور وہ کیا چیز ہے جو آنے والے مومنین سے ان کو ممتاز کرتی ہے اور یہ کہ ان کے اس انتقال کی وجہ سے پھر حسرت ‘ فقدان اور وحشت اور افسوس کا کیا موقعہ ہے ؟ یعنی پسماندگان کے لئے افسوس کا کیا موقع ہے کہ وہ افسوس کرتے ہیں ۔ یہ تو نہایت خوشی کا موقعہ ہے ۔ یہ تو رضامندی اور محبت کا موقعہ ہے کہ ایک شخص ہم سے جدا ہوکر اللہ کے ہاں پہنچ گیا۔ اور اس انتقال کے ساتھ ساتھ ہم سے ملحق بھی ہے ۔ اگر موت فی سبیل اللہ ہے ‘ تو وہ موت نہیں ہے اور خود مجاہدین کے اپنے شعور کے مطابق بھی وہ موت نہیں ہے ۔ ان لوگوں کے لئے بھی موت نہیں ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں بلکہ یہ زندگی کے میدان کی وسعت ہے ۔ اس کے شعور کی وسعت ہے ‘ اس کی صورتوں کی وسعت ہے ۔ یہ حیات ‘ شہید کی حیات ‘ زندگی کی سرحدوں کے آگے چلی جاتی ہے ۔ اسی طرح اس زندگی کے مظاہر بدل جاتے ہیں۔ یہ زندگی دنیا کی تنگ دامانی سے نکل کر ایک وسیع میدان میں داخل ہوجاتی ہے ۔ اس کے سامنے وہ پردے اور رکاوٹیں نہیں ہوتیں جو ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں ۔ گویا زندگی اپنی شکل و صورت سے منتقل ہوکر دوسری شکل و صورت میں داخل ہوجاتی ہے ۔ ایک زندگی ختم ہوتی اور دوسری شروع ہوتی ہے ۔ اس آیت نے زندگی کو جو نیا مفہوم دیا ہے ‘ یا قرآن کریم کی اس جیسی دوسری آیات شہداء کی زندگی کو جو مفہوم عطا کرتی ہیں ‘ اس کے اثرات یہ ہوئے کہ مجاہدین کرام کے قدم طلب شہادت میں ہر وقت رواں دواں رہے ۔ اور ان کی ایک مثال وہ نمونے ہیں جو ہم نے جنگ احد کے بیان کے آغاز میں دئیے ہیں ۔ اس حقیقت اور عظیم حقیقت کے بیان کے بعد کہ اہل ایمان کے لئے جو کچھ اللہ کے ہاں تیار کیا ہوا ہے ‘ اس پر شہداء خوشیاں منا رہے ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ یہاں وضاحت فرماتے ہیں کہ وہ اہل ایمان ہیں ‘ کون ہیں اور ان کا ان کے رب کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

263 پہلے بیان فرمایا کہ شہداء کو اپنے بھائیوں (بعد میں شہید ہونے والوں یا جملہ مومنوں) کے نیک انجام کی بنا پر انتہائی خوشی ہوگی اب یہاں ان کی اپنی خوشی کو بیان فرمایا ہے نِعْمَۃً مِّنَ اللہِ اور فضل سے وہ تمام نعمتیں اور اللہ کی وہ تمام نوازشیں مراد ہیں جو عالم غیب میں شہداء پر ہوتی ہیں۔ مثلاً جب شہید زخموں سے گھائل اور خاک و خوں میں لت پت ہو کر اپنی جان جان آفریں کے سپرد کرتا ہے اس وقت اس کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں۔ اسے جنت میں اپنا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے اسے عذاب قبر سے مامون و محفوظ کردیا جاتا ہے قیامت کے دن وہ فزع اکبر (سب سے بڑی گھبراہٹ) سے محفوظ رہے گا۔ اسے عزت اور وقار کا تاج پہنایا جائے گا۔ اور اسے گناہ گاروں کے حق میں شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی وغیر ذالک (قرطبی ج 4 ص 276) اور وَ اِنَّ اللہَ لَایَضِیعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ یہ نعمۃ پر مطوف ہے قیامت کے دن یہ حقیقت بھی شہداء کی خوشی اور مسرت میں اضافہ کا باعث ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے کسی عمل کو اکارت اور رائیگاں نہیں فرما رہا۔ بلکہ ان کے ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل پر بھی اجر وثواب اور جزاء جمیل عطا فرما رہا ہے۔ اس سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ آخرت کا اجر وثواب کوئی شہداء ہی سے مخصوص نہیں بلکہ تمام مؤمنین کو ان کے تمام اعمال صالحہ پر اجر وثواب ملے گا۔ یعنی کما انہ تعالیٰ لا یضیع اجر المجاھدین والشھداء کذالک لا یضیع اجر المؤمنین (خازن ج 1 ص 376) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اور اپنے مخاطب جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے تو ان کو دوسرے مردوں کی طرح مردہ نہ سمجھ بلکہ وہ تو ایک قسم کی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے مقرب اور اس کے ہاں مقبول ہیں اور ان کو روزی دی جاتی ہے اور ان کو رزق ملتا ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ اپنی نعمت اور اپنے فضل و کرم سے عطا فرمایا ہے وہ اس سے خوب خوش و خرم ہیں اور اس کی وجہ سے بہت مگن ہیں اور جس طرح وہ اپنی حالت پر مگن ہیں اسیطرح ان لوگوں کے متعلق بھی خوش اور مطمئن اور پر امید ہیں جو دنیا میں ابھی زندہ ہونے کی وجہ سے ان کے پیچھے رہ گئے ہیں اور ابھی ان تک نہیں پہنچے اور ان سے ملے نہیں کہ اگر وہ بھی ہماری طرح شہید ہو کر یہاں آئے تو نہ ان کو کوئی خوف پیش آئے گا اور نہ وہ کسی طرح غمگین ہوں گے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم کی وجہ سے خوش ہوتے ہیں اور نیز اس وجہ سے خوش ہوتے ہیں کہ اللہ ت عالیٰ اہل ایمان کے اعمال کا اجر وثواب ضائع نہیں کیا کرتا۔ (تیسیر) ان آیتوں کا تعلق یا تو شہداء احد سے ہے اور یا شہداء بیر معونہ سے ہے جن کو عامر بن طفیل کی جماعت نے شہید کیا تھا اور وہ سب کے سب قرآن کے قاری تھے کافر ان کو قرآنی تعلیم کی غرض سے لے گئے تھے اور راستے میں ان کو شہید کر ڈالا ان لوگوں کے متعلق بعض اور آیات بھی چند روز کے لئے نازل ہوئی تھیں جو بعد میں اٹھا لی گئیں کیونکہ مسلمان ان کے جبراً قتل سے بڑے متاثر تھے اس لئے ان کے متعلق کوئی آیت نازل ہوئی تھی جو چند دن کے بعد منسوخ ہوگئی۔ بہرحال جہاد میں جو لوگ قتل کردیئے جاتے ہیں اور میدان کار زار میں جو حضرات شہید ہ جاتے ہیں ان کے متعلق عوام کے خیالات کی اصلاح مقصود ہے اور منافقوں کو اور کافروں کو یہ بات بتانی ہے کہ وہ لوگ بڑے مرتبے کے ہیں تم ان کی موت کو حقیر اور معمولی موت سمجھتے ہو حالانکہ وہ زندہ ہیں اور ایک خاص قسم کی زندگی ان کو میرس ہے اگرچہ اس زندگی کی کیفیت زندوں کی سمجھ میں نہ آئے۔ لاتحسبن کا خطاب عام ہے اور جو خطاب کی صلاحیت رکھتا ہو وہ مخاطب ہے اور ہوسکتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یہ خطاب خاص ہو مگر ہم نے پہلا قول اختیار کیا ہے۔ عند ربھم سے مراد مرتبہ کا قرب اور ان کی مقبولیت ہے حدیث شریف میں آتا ہے۔ شہداء کی ارواح سبز رنگ کے یا سفید رنگ کے پرندوں کے پیٹ میں رہتی ہیں اور جنت کی نعمتوں سے متمتع ہوتی ہیں۔ جنت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی آتی ہیں۔ شام کو ان کی ارواح عرش الٰہی کے نیچے قندیلوں میں آ کر بسیرا کرتی ہیں اور چونکہ شہداء کے بھی مختلف درجات ہیں اس لئے ہوسکتا ہے کہ بعض کی ارواح جنت میں جاتی ہوں اور بعض اس نہر پر رہتی ہوں جو جنت کے دروازے کے باہر ہے اور وہاں ان کو ان کا رزق پہونچا جاتا ہو۔ فرحین کا مطلب یہ ہے کہ وہ انتہائی خوشی میں ہیں اس انعام کے سبب جو اللہ نے ان پر کیا ہے اور اس سے بڑھ کر اور کیا فضل ہوگا کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے کم اور تمام مسلمانوں سے زائد ان کی ارواح کو سرور اور لذت حاصل ہے پھر اس خوشی کے علاوہ اپنے ان مخلص ساتھیوں کی طرف سے بھی مطمئن ہیں جو ابھی تک شہید ہو کر ان تک نہیں پہنچے اور یہ اطمینان اس بنا پر ہے کہ جو بشارتیں سنا کرتے تھے ان سے خود سود مند ہو رہے ہیں اس لئے پر امید ہیں کہ ساتھی بھی شہید ہوں گے تو وہ بھی ہر قسم کے خوف اور ہر قسم کے غم سے مامون ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لم یلحق و ابھم سے شہید اور غیر شہید دونوں قسم کے مخلص مسلمان مراند ہوں اور مطلب یہ ہو کہ جو مسلمان ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں اور ابھی نہیں آئے وہ اگر شہید ہو کر آئیں گے تب تو ہمارے ساتھمل ہی جائیں گے اور اگر اپنی موت سے بھی مر کر آئے اور ایمان و خلوص لے کر آئے تب بھی ہر قسم کے خوف اور حزن سے مامون ہوں گے۔ خلاصہ یہ کہ وہ ان دو قسم کی خوشیوں سے لذت اندوز ہو رہے ہیں ایک تو یہ کہ خود عیش میں ہیں اور آزادی کے ساتھ سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہر جگہ کی سیر کرتے پھرتے ہیں دوسرے یہ کہ پیچھے آینوالوں کی طرف سے مطمئن اور مسرور ہیں کہ وہ آجائیں گے تو ان کو بھی ایک خاص پر لطف زندگی میسر ہوجائے گی اگر شہید ہو کر آئے تو سبحان اللہ ! اور اگر شہید نہ ہوئے خلوص و ایمان کے ساتھ آئے تو بھی مامون زند گی کے وارث بنا دیئے جائیں گے ۔ آخر میں ان دونوں خوشیوں کا سبب صراحتہ فرمایا کہ وہ خوش ہیں ایک تو اس سبب سے کہ وہ خود اچھی حالت میں ہیں اور دوسرے اس سبب سے کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی اہل ایمان کے اعمال کا اجر ضائع نہیں فرماتا بلکہ جو مسلمان جس مرتبہ کا عمل لے کر آتا ہے اس کو اس کے مرتبہ کے موافق درجہ اور ثواب عنایت فرماتا ہے اس مسرت و شادمانی سے بڑھ کر اور کیا مسرت ہوسکتی ہے کہ کوئی شخص خود اپنی جانب سے اور اپنے متعلقین کی جانب سے مطمئن اور پر امید ہو تنبیہ شہدا کے متعلق ہم مفصل بحث دوسرے پارے کے تیسرے رکوع میں کرچکے ہیں اور وہاں بتا چکے ہیں کہ عام برزخ کی زندگی ہر شخص کے ادراک میں نہیں آسکتی لیکن یہ یقینی ہے کہ مرنے کے بعد زندگی ضرور اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس عالم کی زندگی کے مختلف مدارج ہیں ایک انبیآ کی زندگی ہے ایک وہ زندگی ہے جو شہداء کو حاصل ہے ایک وہ زندگی ہے جو علماء کو حاصل ہے ایک وہ زندگی ہے جو حافظ قرآن کو حاصل ہے اسی طرح درجہ بدرجہ ہے۔ انبیاء کی زندگی اتنی قوی ہے کہ اس کا اثر اس عالم میں بھی پایا جاتا ہے مثلاً ان کی بیویوں سے نکاح نہ کرنا۔ ان کے ورثہ کا تقسیم نہ ہونا ان کے جسم کا قبر میں محفوظ رہنا (ان کی ارواح کا جسم کے ساتھ قائم رہنا) قبر پر جا کر سلام کرنے والے کے سلام کو سننا اور اس کا جواب دینا شہداء کی زندگی ان سے کم درجہ کی ہے مثلاً ان کے عمل کا بڑھتے رہنا ، عالم برزخ میں ان کی ارواح کا عرش الٰہی کے نیچے رہنا ان کو جنت کا رزق پہنچنا اللہ تعالیٰ کا ان سے دریافت کرنا کہ تم کیا چاہتے ہو اور ان کا یہ کہنا کہ ہم کو دنیا میں پھر بھیج دیتا کہ تیرے دین کی خدمت کرتے ہوئے پھر شہید ہوں اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ مرنے کے بعد کسی کو واپس بھیجنا ہمارے فیصل شدہ امر کے خلاف ہے پھر ان کے جسم کو زمین کا نہ کھانا اور قبر میں سلامت رہنا۔ احادیث میں اس زندگی کو جن الفاظ سے تعبیر کیا ہے اس کی حقیقت کو سمجھنا بھی عوام کے ادراک سے خارج ہے ۔ البتہ نفوس قدسیہ اور اہل سلوک حضرات اس زندگی کو سمجھتے ہوں تو سمجھتے ہوں۔ لم یلحقوا بھم من خلضھم سے اکثر مفسرین نے مجاہدین کو مراد لیا ہے اس لئے ہم نے ترجمے میں وہ مشہور قول اختیار کیا ہے لیکن بعض حضرات نے مجاہدین اور عام مخلصین دونوں مراد لئے ہیں ہم نے تیسیر اور تسہیل میں دونوں تفسیروں کی رعایت رکھی ہے۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں شہیدوں کو مرنے کے بعد ایک طرح کی زندگی ہے کہ اور مردوں کو نہیں۔ کھانا پینا اور عیش اور خوشی پوری ہے اوروں کو قیامت کے بعد ہوگی۔ (موضح القرآن) اب آگے غزوہ بدر صغریٰ اور غزوئہ حمر الاسد کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)