Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 190

سورة آل عمران

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۹۰﴾ۚ ۙ

Indeed, in the creation of the heavens and the earth and the alternation of the night and the day are signs for those of understanding.

آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Proofs of Tawhid for People of Understanding, their Characteristics, Speech, and Supplications Allah said, إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ ... Verily, in the creation of the heavens and the Earth, referring to the sky in its height and spaciousness, the earth in its expanse and density, the tremendous features they have of rotating planets, seas, mountains, deserts, trees, plants, fruits, animals, metals and various beneficial colors, scents, tastes and elements. ... وَاخْتِلَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ... And in the alternation of night and day, as one follows and takes from the length of the other. For instance, at times one of them becomes longer than the other, shorter than the other at times and equal to the other at other times, and the same is repeated again and again, and all this occurs by the decision of the Almighty, Most Wise. This is why Allah said, ... لاايَاتٍ لاُِّوْلِي الاالْبَابِ there are indeed signs for men of understanding, referring to the intelligent and sound minds that contemplate about the true reality of things, unlike the deaf and mute who do not have sound comprehension. Allah said about the latter type, وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ وَمَا يُوْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom. And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him. (12:105-106) Allah then describes those who have good minds,

مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر طبرانی میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے انہوں نے کہا اژدھا بن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس حضرت عیسیٰ ( علیہ اسلام ) کیا نشانیاں لائے تھے جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کر دینا اور کوڑھی کو اچھا کر دینا اور مردوں کو زندہ کر دینا ۔ اب یہ قریش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت ( اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ) 2 ۔ البقرۃ:164 ) اتری یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان جیسی بلندر اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت اور لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے پھرنے والے اور ایک جاٹھہرنے والے ستارے اور زمین کی بڑی بڑی پیدوارا مثلاً پہاڑ ، جنگل ، درخت ، گھس ، کھیتیاں ، پھل اور مختلف قسم کے جاندار ، کانیں ، الگ الگ ذائقے والے اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے اور مختلف خواص والے میوے وغیرہ کیا یہ سب آیات قدرت ایک سوچ سمجھ والے انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں کر سکتیں ؟ جو اور نشانیاں دیکھنے کی ضرورت باقی رہے پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہو جانا یہ سب اس عزیز وحلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں جو پاک نفس والے ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے کے عادی ہیں اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے اور کان کے بہرے نہیں جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے کہ وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور غورو فکر نہیں کرتے ، ان میں سے اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے کے پھر بھی شرک سے نہیں بچ سکے ۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ اٹھتے بیٹتھے لیٹتے اللہ کا نام لیا کرتے ہیں ، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عمران بن حصین سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی سہی ، یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو ، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت وقدرت علم و حکمت اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں ، حضرت شیخ سلیمان درانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جسچیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے ، حضرت فضیل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن کا قول ہے کہ غورو فکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا اور بسا اوقات یہ بیت پڑھتے ۔ اذا المراء کانت لہ فکرۃ ففی کل شئی لہ عبرۃ یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑ گئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا جب رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہہ ہو ، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غورو فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جس قدر یہ بڑھ جائے اسی قدر راستے انسان پر وہ کھل جاتے ہیں جو اسے جنت میں پہنچا دیں گے ، حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہوگا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہو گی اور جتنی سمجھ زیادہ ہو گی اتناعلم نصیب ہو گا اور جس قدر علم زیادہ ہو گا نیک اعمال بھی بڑھیں گے ، حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر افضل عبادت ہے ، حضرت مغیث اسود مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو قبرستان ہر روز جایا کرو تا کہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کر دو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو اسکی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہو جاتے ہیں حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک راہب سے ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ پاخانہ پیشاب ڈالنے کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے کہا اے بندہ حق اس وقت تیرے پاس دو خزانے ہیں ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے کی جگہ ۔ حضرت عبداللہ بن عمر کھنڈرات پر جاتے اور کسی ٹوٹے پھوٹے دروازے پر کھڑے رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے اے اجڑے ہوئے گھرو تمہارے رہنے والے کہاں گئے؟ پھر خود فرماتے سب زیر زمین چلے گئے سب فنا کا جام پی چکے صرف اللہ تعالیٰ کی جات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس کا ارشاد ہے دو رکعتیں جو دل بستگی کے ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے افضل ہیں جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی ، حسن بصری فرماتے ہیں ابن آدم اپنے پیٹ کے تیسرے حصے میں کھا تیسرے حصے میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر اپنے انجام پر اور اپنے اعمال پر خور و فکر کر سکے ، بعض حکیموں کا قول ہے جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے بغیر نظر ڈالتا ہے اس غفلت کیوجہ سے اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑ جاتی ہیں ، حضرت عامر بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے ، مسیح ابن مریم سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے ، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا ، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا ، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا ، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر ، امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے ہوئے رو دیئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں نے دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہو گئیں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے اس میں عبرت و نصیحت ہے اور وعظ و پند ہے ، حسین بن عبدالرحمن نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے ، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں ۔ مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے ہیں زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اپنی مخلوق کو عبث اور بیکار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے ، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں تو اس سے منزہ ہے کہ کسی چیز کو بیکار بنائے اے خالق کائنات اے عدل و انصاف سے کائنات کو سجانے والے اے نقصان اور عیبوں سے پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے ہم تیرے عذابوں سے نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہو جائیں ، یہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ جسے تو جہنم میں لے گیا اسے تو نے برباد اور ذلیل و خوار کر دیا مجمع حشر کے سامنے اسے رسوا کیا ، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں انہیں نہ کوئی چھڑا سکے نہ بچا سکے نہ تیرے ارادے کے درمیان آسکے ، اے رب ہم نے پکارنے والے کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے ، مراد اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لاچکے اور تابعداری بجا لائے پس ہمارے ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے تو نے ہم سے جو وعدے اپنے نبیوں کی زبانی کئے ہیں انہیں پورے کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے ، مسند احمد کی حدیث میں ہے عسقلان دو عروس میں سے ایک ہے یہیں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء ٹھائیں گے جو وفد بن کر اللہ کے پاس جائیں گے یہیں شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں ان کے کٹے ہوئے سر ہوں گے ان کی گردن کی رگوں سے خون جاری ہوگا یہ کہتے ہوں گے اے اللہ ہم سے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت تو نے کئے ہیں انہیں پورے کر ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے یہ بندے سچے ہیں اور انہیں نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے جس غسل کے بعد پاک صاف گورے چٹے رنگ کے ہو کر نکلیں گے اور ساری جنت ان کے لئے مباح ہو گی جہاں چاہیں جائیں آئیں جو چاہیں کھائیں پئیں ۔ یہ حدیث غریب ہے اور بعض تو کہتے ہیں موضوع ہے واللہ اعلم ۔ ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا ( ابو یعلیٰ ) اس حدیث کی سند بھی غریب ہے ، احادیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کیلئے جب اٹھتے تب سورہ آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے چنانچہ بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ کے گھر رات گزاری یہ ام المومنین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ تھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپ حضرت میمونہ سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے آیت ( ان فی خلق السموات ) سے آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے ہوئے مسواک کی وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی حضرت بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی ۔ صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین حضرت میمونہ لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہو گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آکر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کر دو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آکر صبح کی نماز پڑھائی ، ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے حضرت عبداللہ فرماتے ہیں مجھے میرے والد حضرت عباس نے فرمایا کہ تم آج کی رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے گئے میں بیٹھا رہا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے ہوئے ہو میں نے کہا والد صاحب کا حکم ہے کہ رات آپ کے گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سر رکھ کر سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر آپ جاگے اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا ( سبحان الملک القدوس ) پڑھا پھر سورہ آل عمران کے خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی ( اللھم اجعل فی قلبی نورا وفی سمعی نورا وفی بصری نورا وعن یمینی نورا وعن شمالی نورا ومن بین یدی نورا ومن خلفی نورا ومن فوقی نورا ومن تحتی نورا واعظم لی نورا یوم القیامتہ ) ( ابن مردویہ ) یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے اس آیت کی تفسیر کے شروع میں طبرانی کے حوالے سے جو حدیث گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہو سکتی ہے جو ابن مردویہ میں ہے کہ حضرت عطاء ۔ حضرت ابن عمر حضرت عبید بن عمیر ۔ حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس آئے آپ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا حضرت صدیقہ نے پوچھا عبید تم کیوں نہیں آیا کرتے؟ حضرت عبید نے جواب دیا اماں جان صرف اس لئے کہ کسی شاعر کا قول ہے زرغباتزد دحبا یعنی کم کم آؤ تا کہ محبت بڑھے ، حضرت ابن عمر نے کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المومنین ہم یہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں کہ سب سے زیادہ عجیب بات جو آپ نے آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں ۔ حضرت عائشہ رو دیں اور فرمانے لگیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کام عجیب تر تھے ، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے ساتھ سوئے پھر مجھ سے فرمانے لگے عائشہ میں اپنے رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے جانے دے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں ، اب آپ کھڑے ہوئے اور ایک مشک میں سے پانی لے کر آپ نے ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہو گئے پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہو گئی پھر سجدے میں گئے اور اس قدر روئے کہ زمین تر ہو گئی پھر کروٹ کے بل لیٹ گئے اور روتے ہی رہے یہاں تک کہ حضرت بلال نے آ کر نماز کیلئے بلایا اور آپ کے آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں رو رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں ، آپ نے فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے آیت ( اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ) 2 ۔ البقرۃ:164 ) افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اسے پڑھے اور پھر اس میں غورو تدبر نہ کرے ۔ عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہم حضرت عائشہ کے پاس گئے ہم نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ ہم نے اپنے نام بتائے اور آخر میں یہ بھی ہے کہ نماز کے بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے رخسار تلے ہاتھ رکھا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی اور حضرت بلال کے جواب میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اور آیتوں کے نازل ہونے کے بارے میں عذاب النار تک آپ نے تلاوت کی ، ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

190۔ 1 یعنی جو لوگ زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرتے ہیں، انہیں کائنات کے خالق اور اس کے اصل فرمانروا کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اتنی طویل و عریض کائنات کا یہ لگا بندھا نظام، جس میں ذرہ برابر خلل واقع نہیں ہوتا، یقینا اس کے پیچھے ایک ذات ہے جو اسے چلا رہی ہے اور اس کی تدبیر کر رہی ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات۔ آگے انہی اہل دانش کی صفات کا تذکرہ ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اور کروٹوں پر لیٹے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ اِنَّ فِیْ خَلَقِ السَّماوَاتِ سے لے کر آخر سورت تک آیات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو جب تہجد کے لئے اٹھتے تو پڑھتے اور اس کے بعد وضو کرتے (صحیح بخاری، کتاب التفسیر۔ صحیح مسلم۔ کتاب صلوٰۃ المسا فرین) ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨٩] یعنی عقلمند انسان جب زمین و آسمان کی پیدائش، سورج اور چاند کی گردش اور سیاروں کے احوال، دن رات کی آمدورفت کے مضبوط اور مربوط نظام میں غور کرتا ہے کہ کس طرح سب سیارے ایک معین رفتار اور معین قانون کے تحت فضاؤں میں گردش کر رہے ہیں اور ان کے اس انضباط میں کبھی لمحہ بھر کا بھی فرق نہیں پڑتا تو اسے یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ تمام تر کارخانہ کائنات ایک ہی قادر مطلق اور مختار کل فرمانروا کے ہاتھ میں ہوسکتا ہے۔ جس نے اپنی عظیم قدرت و اختیار سے کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو اپنی اپنی حدود میں جکڑ رکھا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ حدود سے تجاوز کرسکے۔ اگر اس عظیم الشان کارگاہ کا ایک پرزہ یا کوئی کارندہ اس مالک الملک کی قدرت و تصرف سے باہر ہوتا تو کارخانہ عالم کا یہ مربوط اور مستحکم نظام ہرگز قائم نہ رہ سکتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) اس آیت سے آخر سورت تک آیات کی بڑی فضیلت ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو ان آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [ بخاری، التفسیر، باب : ( ربنا إنک من تدخل النار ) : ٤٥٧٠، ٤٥٧١، عن ابن عباس (رض) ] 2 لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ : ” الْاَلْبَابِ “ یہ ” لُبٌّ“ کی جمع ہے، جس کا معنی خالص عقل ہے، اس لیے ترجمہ ” عقلوں والوں “ کیا ہے۔ یعنی جو لوگ زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرتے ہیں، انھیں کائنات کے خالق اور اس کے اصل فرماں روا کی پہچان ہوجاتی ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اتنی طویل و عریض کائنات کا یہ لگا بندھا نظام، جس میں ذرا خلل واقع نہیں ہوتا، یقیناً اس کے پیچھے ایک ذات ہے جو اسے چلا رہی ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات۔ اس میں عقلوں والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اکیلے مالک ہونے کی، اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کاریگری کی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حاکمیت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ نظام فلکی اور اس کی تفصیلات، چاند سورج، ستاروں کی تعداد، ان کے درمیانی فاصلے، ان کے باہمی تعلقات و تاثرات، ان کی گردشوں کی پیمائش، گرہن کے اسباب و اوقات، ان کے طلوع و غروب اور نور و حرارت وغیرہ کے قاعدے و ضابطے، غرض اس قسم کی تفصیلات سے علم ہیئت کی کتابوں کے دفتر کے دفتر بھرے پڑے ہیں۔ رہی زمین تو اس کی شکل و صورت، اس کی پیمائش، اس کے پہاڑ اور سمندر، اس کی معدنیات، اس کی کشش، اس کی ہواؤں اور موسموں کے تغیرات وغیرہ کے لیے تو کوئی ایک فن بھی پوری طرح کافی نہ ہوا، بلکہ جغرافیہ، جغرافیہ طبعی، جیالوجی، فنریالوجی، میٹرالوجی اور آرکیالوجی، اللہ جانے کتنے فنون پر فنون نکلتے چلے آ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی کاریگری کے اندازے اور تخمینے ختم ہونے میں نہیں آ رہے۔ اب ” لِّاُولِي الْاَلْبَابِ “ کے بجائے غیر مسلم قومیں ان چیزوں پر غور میں مصروف ہیں اور چونکہ ان کا ہدف ہی دنیا ہے، اس لیے دنیا کے بیشمار فائدے حاصل کر رہے ہیں، بلکہ انہی فنون کے ذریعے سے انھوں نے مسلمانوں کو مغلوب کر رکھا ہے، ہدف کی غلطی کی وجہ سے انھیں ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ کاش ! مسلمان ان فنون میں پوری طرح حصہ لیتے تو یہ سارے علوم دین کی سربلندی اور توحید کی دعوت کا زبردست ذریعہ بنتے اور دنیا پر غلبے کے کام آتے، کیونکہ مسلمان تو ( رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ ) کا ہدف سامنے رکھتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse 189 appearing immediately earlier particularly and strongly stressed upon Tauhid, the Oneness of Allah. So, the verse (190) which follows here, presents the proof of Tauhid and, along with it, mentions the merit of those who act strictly in accordance with the dictates of Tauhid and, by implication, it also motivates others to do the same. In addition, the earlier mention of pain caused by the disbelievers bears congruity to the verses appearing presently. This can be under-stood in the background in which the disbelievers, out of hostility, requested the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he should turn Mount Safa into solid gold. Thereupon, this verse was revealed indicating that there were so many proofs confirming the Truth all around them - why would they not deliberate in them? As for the reality of their request to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) it was not motivated to find out the Truth. Instead, it was out of hostility - so, they would have still not believed, even if their request was granted. Commentary The background of Revelation Commenting on the background of revelation concerning these verses, Ibn Hibban in his Sahih and Ibn ` Asakir in his History have reported that the Companion ` Ata ibn Abi Rabah (رض) went to Sayyidah ` A&ishah (رض) and said to her: &Of the things about the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، tell me what you saw as most unique out of the many states of his life.& Thereupon, Sayyidah ` A&ishah (رض) said: &Which state are you talking about? In reality, everything about him was unique. Yet, I would tell you about one very unique event. It so happened that the noble Prophet, may Allah bless and protect him, came to me one night and entered into the comforter with me. Then, he said: &Allow me to worship my Lord.& He rose from the bed, made وضو Wudu and stood up for Salah. And in this standing position of قیام Qiyam, he wept, so much so that his tears trickled down his blessed chest. Then, he bent down for Ruk’ u رکوع and there too he wept. Then he did his Sajdah and kept weeping in the Sajdah very much like before. Then, he raised his head and continued weeping until came the morning. Sayyidna Bilal (رض) came in and informed him about the time of the صلاۃ الفجر Fajr Salah. Sayyidna Bilal (رض) says: I submitted: &my master, why do you weep like that? Is&nt it that Allah Almighty has forgiven you all your past and future sins?& He said: &So then, should I not continue to be a grateful servant of Allah? And in offering this gratitude of mine, why should I not shed tears, especially tonight when Allah Almighty has revealed this blessed verse to me: --- إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ Surely, in the creation of the heavens and the earth... (190) After that he said: |"Ruined is the person who recited these verses but failed to deliberate therein.|" So, in order to deliberate into this verse, let us begin by answering some questions first. What does &the creation of the heavens and the earth& mean? Since خَلْق Khalq is a verbal noun which signifies creation or origina¬tion, it means that there are, in the creation of the heavens and the earth, great signs of Allah Almighty. Therefore, all those Divinely created beings and things in the heavens and the earth also get to be included therein. Then, among these created beings there are king¬doms after kingdoms - each having different types and states - yet each and every such created being is comprehensively pointing out to its Creator. Then, going a little deeper, one would discover that &the heavens& is inclusive of all heights and &the earth& covers all lows. Thus, high or low, all dimensions owe their existence to Allah Almighty. The different forms of &the alternation of the night and day& Let us now determine the meaning of &the alternation of the night and day&. The word اخْتِلَاف &Ikhtilaf translated here as &alternation& is derived from the Arabic usage: اَختلفِ فلان فلاناً (Such and such person arrived after such and such person). So, the Arabic expression translated as the alternation of the night and day& means that the night goes and the day comes and when the day goes, night comes. The word اخْتِلَاف Ikhtilaf translated here as &alternation& could also be taken to mean increase or decrease. For example, during winter, the night is long and the day is short; while during the summer, the order is reversed. Similarly, the difference between the night and day is also mused by the difference in the geographical location of countries. For example, countries closer to the North Pole have longer days as compared to areas farther away from it. So, it should not be difficult to infer from each such phenomena the essential proof of the most perfect power of Allah Almighty. What is the meaning of the word, آیت Ayat ? Ayat (آیت) is the plural of Ayah (آیہ) and is used to express more than one single meaning. Miracles are known as آیت Ayat. It is also applied to the verses of the Holy Qur&an. It is also used in a third sense, that of proof and sign. Here, in the present context, this very third sense is what is intended - meaning that, in these manifestations, there are great signs of Allah, and the proofs of His power. Wise are those who believe in Allah and always remember Him To determine the meaning of the expression أُولِي الْأَلْبَاب ، we look into the word &albab& which is the plural of لُب lub. Lexically, it means the essence. Since the essence of everything is its sum-total and the key to its nature and uses, therefore, human wisdom has been called lub, for wisdom is the essence of human nature. Thus, أَلْبَاب &albab& means the people of wisdom&. Now the problem before us is how to identify the people of wisdom because the whole world claims to be wise. Not even a moron would be ready to admit being devoid of wisdom, reason or sense. Therefore, the Holy Qur&an has told us about some signs which are, in fact, the most sound criterion of wisdom. The first such sign is Faith in Allah. Think of the knowledge which comes from the senses such as hearing, seeing, smelling and tasting and communication, something also found in non-rational animals. Now, it is the job of wisdom or reason to arrive, through signs, circumstantial evidence and proofs, at a particular conclusion which is beyond sense-perception and through which it may become possible to grasp the final link of the chain of causes. Keeping this rule in view, just think about this universe around us. It should not be too difficult to realize that this wonderfully organised system - comprising the heavens and the earth and containing the whole of creation in between them which is further streamlined by the most deft management of everything, big or small, existing therein - certainly points out to a special Being that has to be the highest and the foremost in terms of Knowledge, Wisdom, Power and Authority. A Being who originated and fashioned all these components with the wisest of consideration and under Whose intention and will this whole system keeps operating. That Being, as obvious, can only be that of the most-exalted Allah. How well some spiritual master has put it in a few words: ہر گیا ہے کہ از زمین روید وَحدَہُ لَا شَرِ‌يكَ لَهُ گوید Every blade of grass sprouting from the earth Says: He is One; there are no partners in Him.

ربط آیات : چونکہ اوپر اختصاص سے توحید مفہوم ہوئی، اگلی آیت میں توحید پر دلیل لاتے ہیں اور اس کے ساتھ توحید کے کامل اقتضاء پر عمل کرنے والوں کی فضیلت بیان فرماتے ہیں، جس میں اشارة دوسروں کو بھی ترغیب ہے اس اقتضاء پر عمل کرنے کی، اوپر جو کفار سے ایذائیں پہنچنے کا مضمون تھا، آیت آئندہ کو اس سے بھی مناسبت ہے، اس طرح کہ مشرکین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عناداً یہ درخواست کی کہ صفاء پہاڑ کو سونے کا بنادیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ حق کے دلائل تو بہت ہیں، ان میں کیوں نہیں فکر کرتے۔ اور ان لوگوں کی یہ درخواست حقیقتا حق کے لئے نہ تھی، بلکہ عنادًا تھی جس سے درخواست پورا ہونے پر بھی ایمان نہ لاتے۔ خلاصہ تفسیر بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں دلائل (توحید کے موجود) ہیں اہل عقل (سلیم کے) کے (استدلال کے) لئے جانے کی حالت یہ ہے (جو آگے آتی ہے اور یہی حالت ان کے عاقل ہونے کی علامت بھی ہے کیونکہ عقل کا اقتضاء دفع مضرت و تحصیل منفعت ہے اور اس پر اس حالت کا مجموعہ دال ہے۔ وہ حالت یہ ہے) کہ وہ لوگ (ہر حال میں دل سے بھی اور اس زبان سے بھی) للہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں، کھڑے بھی بیٹھے بھی لیٹے بھی اور آسمانوں اور زمین کے پیدا ہونے میں (اپنی قوت عقیلہ سے) غور کرتے ہیں (اور غور کا جو نتیجہ ہوتا ہے یعنی حدوث ایمان یا تجدید وتقویت ایمان اس کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں کہ اسے ہمارے پروردگار آپ نے اس مخلوق کو لایعنی پیدا نہیں کیا (بلکہ اس میں حکمتیں رکھی ہیں جن میں ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ اس مخلوق سے سمجھتے ہیں (اس لئے ہم نے استدلال کیا اور توحید کے قائل ہوئے) سو ہم کو (موحد و مومن ہونے کی وجہ سے) عذاب دوزخ سے بچا لیجئے (جیسا کہ شرعاً اس کا یہ مقتضی ہے گو کسی عارض سے یہ اقتضاء ضعیف ہوجاوے اور چندے عذاب ہونے لگے، ایک عرض تو ان لوگوں کی یہ تھی اور وہ اسی مضمون ایمان کے مناسب اور معروضات بھی کرتے ہیں جو آگے آتے ہیں) اے ہمارے پروردگار (ہم اس لئے عذاب دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں کہ) بیشک آپ جس کو (بطور اصل جزاء کے) دوزخ میں داخل کریں اس کو واقعی رسوا ہی کردیا، (مراد اس سے کافر ہے) اور ایسے بےانصافوں ا (جن کی اصلی جزاء دوزخ تجویز کی جاوے) کوئی بھی ساتھ دینے والا نہیں اور آپ کا وعدہ ہے اہل ایمان کے لئے رسوا نہ کرنے کا بھی اور نصرت کرنے کا بھی، بس ایمان لا کر ہماری درخواست ہے کہ کفر کی اصلی جزاء سے بچایئے، ایمان کا اصل مقتضاء یعنی دوزخ سے نجات مرتب فرمایئے۔ ) اے ہمارے پروردگار ہم نے (جیسے مصنوعات کی دلالت سے عقلی استدلال کیا اسطرح ہم نے) ایک (حق کی طرف) پکارنے والے کو (مراد اس سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں بواسطہ یا بلاواسطہ) سنا کر وہ ایمان لانے کے لئے اعلان کر رہے ہیں کہ (اے لوگو) تم اپنے پروردگار (کی ذات وصفات) پر ایمان لاؤ سو ہم ( اس دلیل نقلی سے استدلال کر کے بھی) ایمان لے آئے ( اس درخواست میں ایمان باللہ کے ساتھ ایمان بالرسول بھی ضمناً آ گیا، پس ایمان کے دونوں جزو یعنی اعتضاد توحید و اعتقاد رسالت کامل ہوگئے۔ اے ہمارے پروردگار پھر (اس کے بعد ہماری یہ درخواست ہے کہ) ہمارے (بڑے) گناہوں کو بھی معاف فرما دیجئے اور ہماری (چھوٹی) بدیوں کو ہم سے (معاف کر کے) زائل کر دیجئے اور (ہمارا انجام بھی جس پر مداوا ہے درست کیجئے اس طرح کہ) ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ شامل رکھ کر) موت دیجئے (یعنی نیکی پر خاتمہ ہو) ۔ اے پروردگار اور (جس طرح ہم نے اپنی مضرتوں سے محفوظ رہنے کے لئے درخواست کی ہے جیسے دوزخ و رسوائی اور ذنوب وسیات، اسی طرح ہم اپنے منافع کی دعا کرتے ہیں کہ) ہم کو وہ چیز (یعنی ثواب و جنت) بھی دیجئے، جس کا ہم سے اپنے پیغمبروں کی معرفت آپ نے وعدہ فرمایا ہے (کہ مومنین و ابرار کو اجر عظیم ملے گا) اور (یہ ثواب و جنت ہم کو اس طرح دیجئے کہ ثواب ملنے سے پہلے بھی) ہم کو قیامت کے روز رسوا نہ کیجئے جیسا کہ بعض کو اول سزا ہوگی پھر جنت میں جاویں گے، مطلب یہ کہ اول ہی سے جنت میں داخل کر دیجئے اور) یقیناً آپ (تو) وعدہ خلافی نہیں کرتے (لیکن ہم کو یہ خوف ہے کہ جن کے لئے وعدہ ہے یعنی مؤمنین و ابرار کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ ہم ان صفات سے موصوف نہ رہیں جن پر وعدہ ہے، اس لئے ہم آپ سے یہ التجائیں کرتے ہیں کہ ہم کو اپنے وعدہ کی چیزیں دیجئے، یعنی ہم کو ایسا کر دیجئے اور ایسا ہی رکھئے جس سے ہم وعدہ کے مخاطب و محل ہوجاویں۔ ) معارف و مسائل اس آیت کے شان نزول سے متعلق ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور محدیث ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے کہ عطاء بن ابی رباح حضرت عائشہ کے پاس تشریف لے گئے اور کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حالات میں جو سب سے زیادہ عجیب چیز آپ نے دیکھی ہو وہ مجھے بتلایئے، اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا : آپ کس کی شان پوچھتے ہو ؟ ان کی تو ہر شان عجیب ہی تھی، ہاں ایک واقعہ عجیب سناتی ہوں، وہ یہ ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک رات میرے پاس تشریف لائے اور لحاف میں میرے ساتھ داخل ہوگئے پھر فرمایا کہ اجازت دو کہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کروں، بستر سے اٹھے، وضو فرمایا، پھر نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور قیام میں اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو سینہ مبارک پر بہہ گئے، پھر رکوع فرمایا اور اس میں بھی روئے پھر سجدہ کیا اور سجدہ میں بھی اسی قدر روئے پھر سر اٹھایا اور مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی، حضرت بلال آئے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کی اطلاع دی، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ حضور اس قدر کیوں گریہ فرماتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا تو کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں ؟ اور شکریہ میں گریہ وزاری کیوں نہ کروں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آج کی شب مجھ پر یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ہے : ان فی خلق السموات والارض الآیتہ اس کے بعد آپ نے فرمایا بڑی تباہی ہے اس شخص کے لئے جس نے ان آیتوں کو پڑھا اور ان میں غور نہیں کیا۔ لہٰذا آیت پر غور و فکر کے سلسلے میں مندرجہ ذیل مسائل پر غور کرنا ہے۔ خلق السموات والارض سے کیا مراد ہے :۔ پہلا یہ کہ خلق السموت والارض سے کیا مراد ہے ؟ خلق مصدر ہے، جس کے معنی ایجاد و اختراع کے ہیں، معنی یہ ہوئے کہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیاں ہیں، اس لئے اس میں تمام وہ مخلوقات اور مصنوعات باری تعالیٰ بھی داخل ہوجاتی ہیں جو آسمان اور زمین کے اندر ہیں، پھر ان مخلوقات میں قسم قسم کی مخلوقات ہیں جن میں ہر ایک کے خواص و کیفیات علیحدہ علیحدہ ہیں اور ہر مخلوق اپنے خالق کی پوری طرح نشان دہی کر رہی ہے، پھر اگر زیادہ غور کیا جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ السموات میں تمام رفعتیں داخل ہیں اور الارض میں تمام پستیاں داخل ہیں، سو جس طرح اللہ تعالیٰ رفعتوں کا خالق ہے اسی طرح پستیوں کا بھی خالق ہے۔ اختلاف لیل و نہار کی مختلف صورتیں :۔ دوسرا یہ کہ اختلاف لیل و نہار سے کیا مراد ہے ؟ لفظ اختلاف اس جگہ عربی کے اس محاورہ سے ماخوذ ہے کہ اختلف فلان فلانا، یعنی وہ شخص فلاں شخص کے بعد آیا، پس اختلاف اللیل و النہار کے معنی یہ ہوئے کہ رات جاتی ہے اور دن آتا ہے اور دن جاتا ہے تو رات آتی ہے۔ اختلاف کے دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اختلاف سے زیادتی و کمی مراد لی جائے سردیوں میں رات طویل ہوتی ہے اور دن چھوٹا ہوتا ہے اور گرمیوں میں اس کے برعکس ہوتا ہے، اسی طرح رات دن میں تفاوت ملکوں کے تفاوت سے بھی ہوتا ہے، مثلاً جو ممالک قطب شمالی سے قریب ہیں ان میں دن زیادہ طویل ہوتا ہے بہ نسبت ان شہروں کے جو قطب شمالی سے دور ہیں اور ان امور میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مسئلہ پر روشن دلیل ہے۔ لفظ آیات کی تحقیق :۔ تیسرا امر یہ ہے کہ لفظ ” آیات “ کے کیا معنی ہیں ؟ آیات، آیتہ کی جمع ہے اور یہ لفظ چند معانی کے لئے بولا جاتا ہے، آیات، معجزات کو بھی کہا جاتا ہے اور قرآن مجید کی آیات پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، اس کے تیسرے معنی دلیل اور نشانی کے بھی ہیں، یہاں پر یہی تیسرے معنی مراد ہیں، یعنی ان امور میں اللہ کی بڑی نشانیاں اور قدرت کے دلائل ہیں۔ چوتھا امر اولوالالباب کے معنی سے متعلق ہے، الباب، لب کی جمع ہے، جس کے معنی مغز کے ہیں اور ہر چیز کا مغز اس کا خلاص ہی ہوتا ہے، اور اسی سے اس کی خاصیت و فوائد معلوم ہوتے ہیں، اسی لئے انسانی عقل کو لب کہا گیا ہے، کیونکہ عقل ہی انسان کا اصلی جوہر ہے، اولوالالباب کے معنی ہیں عقل والے۔ عقل والے صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے اور ہر حال میں اس کا ذکر کرتے ہیں :۔ اب یہاں یہ مسئلہ غور طلب تھا کہ عقل والوں سے کون مراد ہیں، کیونک ساری دنیا عقلمند ہونے کی مدعی ہے، کوئی بیوقوف بھی اپنے آپ کو بےعقل تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں، اس لئے قرآن کریم نے عقل والوں کی چند ایسی علامات بتلائی ہیں جو درحقیت عقل کا صحیح معیار ہیں، پہلی علامت اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے، غور کیجئے تو محسوسات کا علم کان، آنکھ، ناک، زبان، وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے ج بےعقل جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے اور عقل کا کام یہ ہے کہ علامات و قرائن اور دلائل کے ذریعہ کسی ایسے نتیجہ تک پہنچ جائے جو محسوس نہیں ہے، اور جس کے ذریعہ سلسلہ اسباب کی آخری کڑی کو پایا جاسکے۔ اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے کائنات عالم پر غور کیجئے آسمان اور زمین اور ان میں سمائی ہوئی تمام مخلوقات اور ان کی چھوٹی بڑی چیزوں کا مستحکم اور حیرت انگیز نظام عقل کو کسی ایسی ہستی کا پتہ دیتا ہے، جو علم و حکمت اور قوت وقدرت کے اعتبار سے سب سے زیادہ بالاتر ہو اور جس نے ان تمام چیزوں کو خاص حکمت سے بنایا ہو اور جس کے ارادہ اور مشیت سے یہ سارا نظام چل رہا ہو اور وہ ہستی ظاہر ہے کہ اللہ جل شانہ، ہی کی ہو سکتی ہے، کسی عارف کا قول ہے۔ ہر گیا ہے کہ از زمین ردید وحدہ، لاشریک لہ گوید انسانی ارادوں اور تدبیروں کے فیل ہونے کا ہر جگہ اور ہر وقت مشاہدہ ہوتا رہتا ہے، اس کو اس نظام کا چلانے والا نہیں کہا جاسکتا، اس لئے آسمان اور زمین کی پیدائش اور ان میں پیدا ہونے والی مخلوقات کی پیدائش میں غور و فکر کرنے کا نتیجہ عقل کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی اطاعت و ذکر جو اس سے غافل ہے وہ عقلمند کہلانے کا مستحق نہیں، اس لئے قرآن کریم نے عقل والوں کی یہ علامت بتلائی :

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ۝ ١٩٠ ۚۙ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ لب اللُّبُّ : العقل الخالص من الشّوائب، وسمّي بذلک لکونه خالص ما في الإنسان من معانيه، كَاللُّبَابِ واللُّبِّ من الشیء، وقیل : هو ما زكى من العقل، فكلّ لبّ عقل ولیس کلّ عقل لبّا . ولهذا علّق اللہ تعالیٰ الأحكام التي لا يدركها إلّا العقول الزّكيّة بأولي الْأَلْبَابِ نحو قوله : وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً إلى قوله : أُولُوا الْأَلْبابِ [ البقرة/ 269] ( ل ب ب ) اللب کے معنی عقل خالص کے ہیں جو آمیزش ( یعنی ظن دوہم اور جذبات ) سے پاک ہو اور عقل کو لب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ انسان کے معنوی قوی کا خلاصہ ہوتی ہے جیسا کہ کسی چیز کے خالص حصے کو اس کا لب اور لباب کہہ دیتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ لب کے معنی پاکیزہ اور ستھری عقل کے ہیں چناچہ ہر لب کو عقل کہہ سکتے ہیں لیکن ۔ ہر عقل لب ، ، نہیں ہوسکتی یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام احکام کو جن کا ادراک عقول زکیہ ہی کرسکتی ہیں اولو الباب کے ساتھ مختض کیا ہے جیسے فرمایا : وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً إلى قوله : أُولُوا الْأَلْبابِ [ البقرة/ 269] اور جس کو دانائی ملی بیشک اس کو بڑی نعمت ملی اور نصیحت تو وہی لو گ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں ۔ اور اس نوع کی اور بھی بہت سی آیات ہیں ؛

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩٠) کفار مکہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے تھے جس چیز کے تم دعویدار ہو اس کے ثبوت کے لیے کوئی واضح دلیل لے کر آؤ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں اپنے دلائل قدرت بیان فرماتے ہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں فرشتے، چاند، سورج، ستارے اور بادل پیدا کیے گئے اور زمین کے پیدا کرنے اور اس میں جو کچھ پہاڑ، دریا، سمندر، درخت وجانور ہیں اور رات دن کے آنے میں عقل سلیم والوں کے لیے اس کی توحید کے بےپناہ دلائل موجود ہیں۔ شان نزول : (آیت) ” ان فی خلق السموت والارض “۔ (الخ) طبرانی (رح) اور ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ قریش یہود کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس کیا معجزات لے کر آئے، انہوں نے کہا عصا اور یدبیضاء اور اس کے بعد نصاری کے پاس آئے، ان سے بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا کہ آپ مادر زاد اندھے کو اور برص کے بیمار کو اچھا کردیتے تھے اور مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے ، پھر یہ لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ہمارے لیے صفا پہاڑی کو سونے کا کردے، آپ نے دعا فرمائی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

سورة آل عمران کا آخری رکوع قرآن مجید کے عظیم ترین مقامات میں سے ہے۔ اس کی پہلی چھ آیات کے بارے میں روایت آتی ہے کہ جس شب میں یہ نازل ہوئیں تو پوری رات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رقت طاری رہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ‘ بیٹھے ‘ لیٹے ہوئے روتے رہے۔ نماز تہجد کے دوران بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رقت طاری رہی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت طویل سجدہ کیا ‘ اس میں بھی گریہ طاری رہا اور سجدہ گاہ آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ دیر لیٹے رہے لیکن وہ کیفیت برقرار رہی۔ یہاں تک کہ صبح صادق ہوگئی۔ حضرت بلال (رض) جب فجر کی نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ کو اس کیفیت میں دیکھا تو وجہ دریافت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ‘ میں کیوں نہ روؤں کہ آج کی شب میرے رب نے مجھ پر یہ آیات نازل فرمائی ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان آیات کی تلاوت فرمائی (اس روایت کو امام رازی نے تفسیر کبیر میں بیان کیا ہے) یعنی وہ گریہ اور رقت شکر کے جذبے کے تحت تھی۔ یہ بھی نوٹ کیجیے کہ یہ سورة آل عمران کا بیسواں رکوع شروع ہو رہا ہے اور سورة البقرۃ کے بیسویں رکوع کی پہلی آیت کے الفاظ یہ تھے : ( اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍص وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) اسی آیت الآیات کا خلاصہ یہاں آگیا ہے : آیت ١٩٠ (اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ ) (لَاٰیٰتٍ لّاُولِی الْاَلْبَابِ ) سورۃ البقرۃ کی آیت ١٦٤ ان الفاظ پر ختم ہوئی تھی : ( لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ یہاں ان لوگوں کو اولوا الالبابکا نام دیا گیا۔ یہ ہدایت کا پہلا قدم ہے کہ کائنات کو دیکھو ‘ مظاہر فطرت کا مشاہدہ کرو ؂ کھول آنکھ ‘ زمین دیکھ ‘ فلک دیکھ ‘ فضا دیکھ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ ! یہ سب آیات الٰہیہ ہیں ‘ ان کو دیکھو اور اللہ کو پہچانو۔ اگلا قدم یہ ہے کہ جب اللہ کو پہچان لیا تو اب اسے یاد رکھو۔ یعنی ؂ َ فقر قرآں اختلاط ذکر و فکر فکر را کامل نہ دیدم جز بہ ذکر !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

134. This section constitutes the conclusion of the present surah. It is related not so much to the verses which immediately precede it as to the entire surah. In order to grasp its significance one should particularly bear in mind our introductory remarks to this surah. (See pp. 229 ff. above.)

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :134 یہ خاتمہ کلام ہے ۔ اس کا ربط اوپر کی قریبی آیات میں نہیں بلکہ پوری سورة میں تلاش کرنا چاہیے ۔ اس کو سمجھنے کے لیے خصوصیت کے ساتھ سورة کی تمہید کو نظر میں رکھنا ضروری ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(190 ۔ 194) ۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے شان نزول اس آیت کی دہی بیان کی ہے جو اِنَّ فیِْ خلق السموا ات (٢۔ ١٦٤) کے تحت میں اس سے پہلے سورة بقر میں بیان ہوچکی۔ لیکن حافظ ابن کثیر نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور سورة بقرہ بھی بلا خلاف مدنی ہے۔ اور قریش کا یہ سوال کہ صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے مکہ میں تھا۔ پھر یہ شان نزول کیونکر صحیح ہوسکتی ہے ١۔ جواب اس اعتراض کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری ٢ میں دیا ہے کہ قریش کا وہ سوال اگرچہ مکہ میں تھا مگر اس زمانہ میں نہیں تھا۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت سے پہلے مکہ میں مقیم تھے بلکہ یہ سوال ہجرت کے بعد اس زمانہ کا ہے۔ جب قریش میں اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں صلح تھی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 حضرت ابن عباس (رض) بیان فرماتے ہیں کہ یہود کے سکھائے پڑھائے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے موقع بہ موقع یہ مطالبہ کرتے رہئے کہ جب حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے ید بیضا اور احیا موتی جیسے معجزاے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی کم از کم کو صفا کو سونا تو بنادیں۔ ایسے مطالبوں کے جو اب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ایمان لانے کے لیے ایسی باتوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ سمجھدار لوگوں کے لیے کائنات میں اللہ تعالیٰ کی قدر کی لاکھوں نشانیاں مو جود ہیں ( درمنشور) مگر حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کو شان نزول قرار دینا مشکل ہے کیونکہ یہ آیات مدنی ہیں اور صفا کو سونا بنانے کا مطا لبہ مکہ میں کیا گیا تھا۔ (ابن کثیر) فائدہ اس آیت سے آخر سورت تک آیات کی بڑی فضیلت ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو ان کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 190 200 اسرارو معارف ان فی خلق السموت والارض……………انک لا تخلف المیعاد۔ عقل سلیم کے لئے تو موجودات عالم ہی میں عظمت باری کے دلائل موجود ہیں اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسا سراپا رحمت نبی بھی مبعوث ہو جس کی ہر ادا عقل انسانی کو عاجز کئے دیتی ہے تو انکار صرف وہی کرسکتے ہیں جو شعور انسانی سے بیگانہ ہوں اور استعداد فطرت کو ضائع کرچکے ہیں۔ ہاں ! اگر عقل باقی ہو تو ارض وسماء کی تخلیق اور شب وروز کے آنے جانے میں معرفت الٰہی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ یہاں اولوالالباب ارشاد ہوا ہے ” لب “ کسی بھی شے کے مغزیا جو ہر کو کہا جاتا ہے جیسے عقل ظاہر تو ہر حیوان میں موجود ہے۔ دن اور رات کی تمیز رکھتے ہیں۔ غذا حاصل کرنے اور آرام کرنے سے آشنا ہیں لیکن دن رات کے متعلق سوچنا ، یہ کیسے آتے ہیں ؟ اور جاتے ہیں ؟ کون ہے جس نے انہیں اس قدر پابند بنادیا ہے کہ اپنے راستے سے رائی برابر پرے نہیں ہوپاتے۔ اپنے اوقات میں صدیوں سے بغیر کسی غلطی کے پوری پابندی سے رواں دواں ہیں ۔ یہ سبزے ، چارے یہ غذا ، پھول پھل اور پتیاں کون بنارہا ہے ؟ ایک تو خود ارض وسما کی تخلیق عظمت خالق کی بہت روشن دلیل ہے اور پھر تخلیق کا ایک مسلسل عمل اربوں کھربوں بلکہ انسانی شمار سے کہیں زیادہ درختوں پر پتے ، پھل یا پھول ، گھاس پھوس اور کیڑے مکوڑے سے لے کر بہت بڑے بڑے جاندار ، خود انسان۔ یہ کتنے ہیں جو ہر لمحہ صفحہ ہستی پر نمودار ہو رہے ہیں ، اور یہ سب کچھ باقاعدہ ایک پروگرام سے اپنے اوقات و حالات کے مطابق انجام پارہا ہے۔ یہ کون سی ہستی ہے جس کا اقتدار واختیار ہر ذرے پر ہر وقت موجود ہے اور وقت کا ایک ایک لمحہ جس کے قبضہ قدرت میں ہے اس کے بارے صرف وہ فکر کرتے ہیں جو صاحب لب ہیں ، جو محض حیوانی عقل نہیں رکھتے بلکہ ایک گہرا شعور رکھتے ہیں اور وہ لوگ کون ہیں ؟۔ فرمایا وہی جو کبھی میری یاد سے بیگانہ نہیں ہوتے کہ سلوک کی ابتداء طالب ہمیشہ دلائل سے کرتا ہے اور صاحب خرد یہ چاہتا ہے کہ عظمت باری اور صفات باری پر دلائل جمع کرے لیکن جب کوئی ذرہ معرفت کا نصیب ہوتا ہے تو پھر دلائل بھی حجابات کی طرح سامنے سے ہٹ جاتے ہیں اور نور معرفت سے دل منور ہو کردوام ذکر میں پہنچ جاتا ہے وہ دلائل کی نسبت ذات کا ذکر عزیز رکھتا ہے کہ دلائل بھی وہاں تک رسائی کے اسباب ہی تو ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگ کھڑے ہوں ، بیٹھے ہوں یا لیٹے ہوں ان کا کوئی حال بھی اس کی یاد اور اس کے ذکر سے فارغ نہیں ہوتا ، ذکر دراصل فعل ہی قلب کا ہے اور مذکورہ معانی میں تو بغیر قلب کے ممکن ہی نہیں کہ زبان ہو یا اعضا وجوارح وہ کسی بھی فعل کے ہمیشہ کرتے رہنے کی اہلیت نہیں رکھتے کام بھی کرتے ہیں اور آرام بھی کرتے ہیں ، اعضا کا وہ فعل ذہن کا وہ خیال جو بھی اطاعت باری کی حدود کے اندر ہوگا ذکر الٰہی شمار ہوگا۔ زبان سے ہر کلمہ خیر ذکر شمار ہوگا۔ مگر ہر آن ذکر کرنا تب ہی ممکن ہے کہ دل ذاکر ہوجائے۔ اب یہ کیسے اور کیوں کر ممکن ہے ؟ تو مختصر الفاظ میں یوں عرض کیا جاسکتا ہے کہ فیوضات نبوی (علیہ السلام) دو طرح سے ہیں۔ ارشادات اور برکات صحبت ، صحابیت کا مقام ارفع برکات صحبت کامرہون منت ہے یہ القائی طور پر نصیب ہوئے۔ اللہ کریم نے امت مرحومہ سے دین کی حفاظت کا کام خوب لیا ، لے رہا ہے اور لیتا رہے گا۔ اس وقت تک جب تک یہ دنیا قائم ہے۔ علمائے ظواہر نے ارشادات رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کی انہیں آنے والی نسلوں تک پہنچایا اور یہ سلسلہ بحمد للہ بحسن و خوبی جاری ہے۔ اسی طرح علمائے کاملین نے علم ظاہر کے ساتھ کمالات باطن کو بھی حاصل کیا اور ان سے مخلوق کے دلوں کو گرمایا۔ یہ عمل انعکاسی ہے جیسے صحبت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ، ان کی صحبت تابعین اور ان کی صحبت میں تبع تابعین اپنی مراد کو پہنچے ، ایسے ہی فیوضات وبرکات صحبت سے سینہ بسینہ ولایت کے مدارج ومقامات منتقل ہوتے ہیں جن میں پہلا قدم ذکر قلبی ہے اور دل جب ذاکر ہوجائے تو پھر ہر دھڑکن میں خدا جانے کے بار اللہ ، اللہ کہہ اٹھتا ہے اس کے ذاکر ہونے کی نشانی یہ ہے کہ فضولیات سے رشتہ توڑ لیتا ہے اور اس کی نگاہ بلند ہوجاتی ہے اس میں تفکر پیدا ہوتا ہے یہ مآل کارکو دیکھنے لگ جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ ارض وسما اور مافیہا کو دیکھ کر کہہ اٹھتا ہے کہ اے ہم سب کو پالنے والے اتنا بڑا کارخانہ تو نے محض عبث نہیں بنایا۔ تیری ذات ایسے عیوب سے بہت بلند ہے اور پاک ہے۔ جب ہم تجھ پر ، تیرے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ، آخرت پر ایمان لائے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے کہ جسے تو نے دوزخ میں ڈال دیا ، اس کی رسوائی میں کوئی کمی نہ رہی اور ایسے ظالم کوئی مددگار بھی نہیں پاسکتے۔ اے اللہ ! ہم نے تیرے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو قبول کیا اور ایمان لائے ، تو ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری لغزشوں سے درگزر فرما ، اور ہمیں نیک بندوں کی صحبت اور ان کا ساتھ اس طرح نصیب فرما کہ انہی کے ساتھ ہماری موت بھی واقع ہو۔ اے ہمارے پروردگار ! جن انعامات کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کے واسطے سے کیا ہمیں وہ عطا فرما اور ہمیں روز محشر رسوا نہ کر کہ تو کبھی وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ یعنی دل جب ذاکر ہوجائے تو وہ امور کے انجام پہ نگاہ رکھتا ہے جس سے یقینا عملی زندگی میں عظیم انقلاب پیدا ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بحیثیت انسان خطا بھی سرزد ہوسکتی ہے مگر فوراً ندامت ہوتی ہے اور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے مغفرت اور کرم کی درخواست کرتا ہے اگر یہ نعمت نصیب نہ ہو تو پھر محض مادی خواہشات اور ان کی تکمیل کی کوششوں میں زندگی تج دیتا ہے۔ فاستجاب لھم ربھم……………واللہ عندہ حسن الثواب۔ سو ان کی دعا ان کے رب نے قبول فرمائی۔ یہاں اجابت دعا کے لئے عجب ترتیب ارشاد ہے کہ صاحب تفسیر کبیر فرماتے ہیں پہلے دلائل سے معرفت کا حصول ارشاد ہوا۔ پھر دوام ذکر اور پتھر تفکر اور اس کے بعد ثناء ان مدارج کے بعد دعا ہے۔ دلائل کی حیثیت : امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ جیسے ارشاد ہوا قاخلع تعلیک انک بالواری المقدس طویٰ ۔ کہ آپ مقدس وادی میں ہیں جوتے اتار دیں ۔ گویا جوتے وہاں تک رسائی کے لئے تھے وادی قدس میں ان کی ضرورت نہ رہی ۔ دلائل بھی معرفت ذات کا راستہ اور زینہ ہی تو ہیں ۔ سو جب یہ مقام نصیب ہوا تو پھر معرفت ذات میں مستغرق ہوگیا اور دلائل کی ضرورت باقی نہ رہی۔ ایسے لوگ ہمیشہ اسم ذات کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔ مشغول ہوئے تو ارشاد فرمایا ان کی دعا قبول ہوئی۔ مستجاب الدعوات : گویا ان مقامات کو پانے والا خوش نصیب ہی مسجاب الدعوات ہوسکتا ہے۔ تو ارشاد ہوا کہ میں کسی بھی عمل کرنے والے کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ مرد ہو یا عورت کی اطاعت باری میں بحیثیت انسان سب برابر ہیں اور ایک دوسرے کا جز ہیں۔ یعنی ولایت کے اعلیٰ مدارج عورت بھی حاصل کرسکتی ہے پھر مثال اطاعت ارشاد فرمائی کہ ایسے لوگ جنہوں نے گھر بار اطاعت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہ قربان کردیئے۔ اس کے باوجود انہیں کفار کی طرف سے ایذا رسانی ہوتی رہی حتیٰ کہ نوبت جہاد تک پہنچی ۔ وہ لڑے شہید ہوئے لیکن دنیا کی ہر نعمت ، جائیداد ، گھر بار ، مال و دولت ، اعزہ و اقارب حتیٰ کہ جان تک خدمت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہ نچھاور کردی۔ ان سے اگر کچھ لغزشیں بھی ہوئی ہیں تو میں معاف کردوں گا۔ اور ایسے باغات ومحلات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے بدلہ ہے جس کے پاس بہت ہی بہتر اور سب سے حسین اجر ہے۔ عظمت صحابہ (رض) پر تو یہ آیت روشن دلیل ہے ہی ان اولوالعزم افراد کی ہمیت افزائی کو بھی کافی ہے جو آج بھی یا آئندہ لذات مادی سے اطاعت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کریں اور اللہ کی رضا کو پانے میں کوشاں ہیں۔ یہاں تک انعامات باری کا ذکر تھا اگرچہ بعض اوقات ان کے ساتھ دنیوی مصائب بھی ہوں آگے کفر کی مصیبت کا بیان ہے خواہ اس کے ساتھ دنیا کی لذتیں بھی شامل ہوں ، ارشاد ہے۔ لایغرنک……………وبئس المھاد۔ اے مخاطب ! تو کفار کی عیش کو شی پہ دھوکہ نہ کھا۔ غرور سے مراد ایسی شے ہے جو بظاہر بہت بھلی نظر آئے مگر نتیجتاً سخت مضر ثابت ہو۔ یہی حال کفار کے عیش و آرام کا ہے کہ اول تو وہ صرف دیکھنے والے کو آرام نظر آتا ہے ۔ اندر تو دکھ اور مصیبت ہی ہوتی ہے کہ ان کا دل کبھی اطمینان سے آشنا نہیں ہوتا۔ اور یہ عارضی نظر آنے والا آرام بھی بہت تھوڑی مہلت لئے ہوئے ہے۔ محض چند روزہ ہے پھر تو ان کے لئے جہنم ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے کہ جہاں اوڑھنا بچھونا آگ ہے اور کھانا پینا تک آگ ہی آگ ہے (اللہ اس سے پناہ میں رکھے) لکن الذین اتقوا……………وما عنداللہ خیر للابرار۔ اس کے مقابل جن لوگوں نے تقویٰ یعنی احتراز عن المنہیات وعن ترک المامورات (منع کئے گئے امور سے بچنا اور احکام کی بجا آوری کو ترک کرنے سے بچنا) اختیار کیا۔ ان کے لئے جنت ہے جہاں سدا بہار ہی بہار ہے اور نہریں جاری ہیں۔ لطف یہ ہے کہ کبھی وہاں سے نکالے نہ جائیں گے کہ یہ اللہ کی مہمانی ہے اور خوش بخت لوگوں کے لئے اللہ کے پاس بہت ہی بہتر اور بہت ہی اعلیٰ شے ہے۔ وان من اھل الکتاب…………………سریع الحساب۔ اور بیشک اہل کتاب میں سے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے ہیں ، یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لانا اور محض کتب سابقہ یا ادیان سابقہ کے ساتھ وابستہ رہنا باعث نجات نہیں ہوسکتا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی تکذیب کتب سابقہ کے ساتھ بھی انکار کی موجب ہے۔ ارشاد ہوا کہ ان میں سے بھی جو اللہ پر اور جو کچھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا ہے اس پر۔ ایسے تمام انبیاء پر جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے تشریف لائے ایمان لاتے ہیں۔ اور اللہ کے لئے نہایت عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ کی آیات کو معمولی منافع پر یعنی دنیاوی مفاد کے لئے بیچ نہیں دیتے۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ کریم کے پاس اجر ہے ، اور بہت جلد حساب کرلیتا ہے یعنی اس کے حضور تمام معلومات حاضر ہیں اور سب کے ثواب و عذاب کی کیفیت آشکارا ہے۔ یایھا الذین امنوا صبروا………………لعلکم تفلحون۔ اس سورة مبارکہ میں متعدد چیزیں نازل ہوئی۔ اصول جیسے کہ توحید ، نبوت اور آخرت اور فروع مثلاً احکام اور عبادات ، حج ، جہاد وغیرہ بیان ہوئے آخر میں ایک جامع آیت نازل فرمائی جو گویا پوری سورة کا خلاصہ ہے کہ امور دو طرح پر ہیں۔ ذاتی اور اجتماعی۔ ذاتی امور میں صبر کرنے کا حکم فرمایا جیسے ایمان پر صبر اور توحید ، رسالت ، آخرت پر اور عبادات پر صبر ، نیز گناہ سے بچنے پر صبر اور مصائب دنیا پہ صبر ، بھوک ، افلاس یا بیماری وغیرہ پر ۔ ایسے مصابرہ بھی صبر ہی سے بنا ہے اس سے مراد اجتماعی امور ہیں جیسے اخلاق عالیہ پر صبر اور ترک رذائل پر صبر ، یعنی ایسے امور جو اس کے اور کسی دوسرے کے درمیان ہیں اچھی طرح سے ادا کرنے پر صبر ، جیسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔ یا کفار کے مقابل احقاق حق اور جہاد ، نیز غضب وشہوات پر صبر اور مسلسل اس عمل کا جاری رکھنا کہ تادم واپسیں نہ امور ذاتی میں نہ اجتماعی تعلقات میں دامن صبر چھوٹے ، ہر حال میں اطاعت باری پہ کاربند رہو اور اسلامی سرحد ان کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت تیار ہو یعنی اپنی ذات سے لے کر اسلامی ریاست تک جو ذمہ داریاں تم پر عائدہوتی ہیں پوری محنت سے ان کے ادا کرنے میں مشغول رہو ، اور شدائد پر صبر کرو انعامات پر بھی شکر کرو یہی صبر ہے۔ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے حتیٰ کہ اچھی طرح وضو کرنا ، نماز باجماعت کے لئے کوشاں رہنا بھی اس میں داخل ہے۔ ایسے ہی قومی اور ملکی امور میں مسلمانوں اور اسلامی ریاست کی حفاظت اور فلاح و بہبود میں کوشاں رہنا۔ دوست اعزہ و اقارب اور متعلقین کی بہتری کے لئے کوشش کرنا خواہ ذاتی آرام چھوڑنا پڑے۔ یہ جملہ امور اس ایک آیت میں داخل ہیں۔ ان تمام امور میں اللہ کا خوف اور حضوری حاصل رہے تاکہ تم اپنی مراد کو پاسکو۔ یعنی تصوف ایک بھر پور زندگی کا نام ہے جو اطاعت الٰہی اور دوام ذکر میں بسر ہو ، اور جس کا فائدہ ذات ، اقارب ، قوم اور ملک تک پہنچے۔ اللہ کریم ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے ! آمین۔ سورۃ آل عمران 11 رجب 1405 ھ کو تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی ذالک

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 190 تا 195 قیام (کھڑے ہوئے) کفر (اتاردے، دور کردے) قعود (بیٹھے ہوئے) مع الابرار (نیک لوگوں کے ساتھ) جنوب ( پہلوؤں (جنب کی جمع) لاتخزتا (ہمیں رسوا نہ کر) یتفکرون (وہ غوروفکر کرتے ہیں ) استجاب (قبول کیا) ماخلقت (تو نے پیدا نہیں کیا) لا اضیع (میں ضائع نہ کروں گا) ھٰذا باطل (اس کو بےفائدہ) عامل (کام کرنے والا) سبحٰنک (آپ کی ذات پاک ہے) اوذوا (ستائے گئے) اخزیت (تونے رسوا کردیا ) حسن التواب (بہترین ثواب) منادی (آواز دینے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 190 تا 195 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی پیدائش میں غور فکر کرنے اور کھڑے ، بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے اللہ کا ذکر کرنے والے اہل عقل و دانش ہیں اور جب وہ اس کائنات پر غور کرتے ہیں تو بےساختہ ان کی زبانوں پر یہ آجاتا ہے کہ اے پروردگار ہم کسی چیز کی مصلحت اور حقیقت کو سمجھیں یا نہ سمجھیں آپ نے کسی چیز کو بےکار پیدا نہیں کیا۔ اس کائنات میں ساری طاقت وقدرت اے پروردگار آپ ہی کی ہے۔ ہمیں اس دنیا کی بھلائی کے ساتھ آخرت کی کامیابیاں عطا فرمائیے اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچالیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ ہمارے نبی کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں ہم ان کو بہترین ثواب عطا فرماتے ہوئے ان کو دوزخ کی آگ سے محفوظ کردیں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٢٩ ایک نظر میں یہ سورت جس قدر سبقوں اور دروس پر مشتمل تھی یہ ان میں سے آخری درس ہے ۔ اس سورت میں اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں اہم عناصر کی ایک بڑی تعداد کا ذکر ہوا ہے ۔ اور ان عناصر کو ہر قسم کے اجمال ‘ اشتباہ اور اہل کتاب کے ساتھ مجادلوں اور مشرکین کے ساتھ مباحثے کرکے ان اساسی عناصر کو منقطع کیا گیا ہے۔ اس پوری سورت میں اسلامی نظام زندگی کی نوعیت اور جان ومال کے حوالے سے اس کے تقاضوں کا بیان ہوا ہے ۔ جماعت مسلمہ کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ان فرائض کو کس طرح ادا کرے گی ۔ اور مشکل حالات کے ابتلا میں اس کا رویہ کیا ہوگا اور خوشحالی کے حالات میں وہ ابتلا سے کس طرح عہدہ برآہوگی اور وہ اسلامی نظریہ حیات اور اس کے عظیم فرائض اور ڈیوٹیوں کو کس طرح سرانجام دے گی ‘ جو نفس کے حوالے سے بھی ہیں اور مال کے حوالے سے بھی ہیں ۔ یہی وہ مضامین تھے جو اس پوری سورت کا محور تھے اور جنہیں ہم نے پارہ سوئم اور چہارم کی تفسیر فی ظلال القرآن میں بیان کیا۔ اب یہ آخری درس ایک طرح کی آخری ضرب یا ضربات ہیں ۔ یہ آخری ضربات اس سورت میں موضوع کے ساتھ نہایت ہی متناسب ہیں ۔ اور یہ آخری ضرب بھی اپنے موضوع کے اعتبار سے اور طرز ادا کے اعتبار سے سابقہ ضربات سے بالکل ہم آہنگ ہے ۔ اس کے اندر ایک نہایت ہی گہری حقیقت کا بیان ہوا ہے ۔ یہ کہ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے ۔ اس کے اندر ایمان ویقین کے بیشمار دلائل اور علامات موجود ہیں ۔ اس کائنات سے اس ذات کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے جو اسے بڑی حکمت کے ساتھ چلارہی ہے ۔ اس سے اظہارہوتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی سے وراء ایک اخروی زندگی ہے ۔ اس زندگی کا حساب و کتاب اور مکافات عمل وہاں ہوگا ۔ ان دلائل کو کون پڑھ سکتا ہے ‘ اس آیات واشارات کو کون پاسکتا ہے ‘ اس حکمت کا ادراک کون کرسکتا ہے ؟ اور اس کائنات کی آواز کون سن سکتا ہے ؟ یہ صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جو اولوالالباب ہیں ‘ جو اصحاب دانش وبنیش ہیں ۔ وہ لوگ جو اس کتاب مفتوح پر سے یونہی نہیں گزرجاتے اور وہ ان ظاہر و باہر آیات اور نشانیوں سے آنکھیں بند نہیں کرلیتے ۔ یہ حقیقت اس کائنات کے حوالے سے اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں سے ایک عنصر ہے ۔ اور اس کے اور انسانی فطرت کے درمیان ایک عمیق ربط ہے ۔ اور فطرت انسانی اور فطرت کائنات کے درمیان گہری داخلی مفاہمت اور ہم آہنگی ہے ۔ یہ کائنات ایک جہت سے اپنے خالق کے وجود پر دلالت کرتی ہے ۔ اور دوسری جہت سے اس سے وہ ناموس اکبر معلوم ہوتا ہے ۔ جو مقصدیت ‘ گہری حکمت اور قصد و ارادے آپ کے حوالے سے اس کائنات کے اندرکارفرما ہے ۔ اور اس کا روح رواں ہے ۔ اور اس ناموس اکبر کا فہم و ادراک اس نقطہ نظر سے بہت ہی اہم ہے کہ اس کائنات ‘ اس کے خالق الٰہ العالمین کے بارے میں انسان کیا موقف اختیار کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کائنات اس موجودہ دنیا کے بارے میں اسلامی افکار کا اہم خزانہ اور منبع ہے ۔ اس کے بعد اس درس میں ‘ صاحبان عقل و دانش اور عالمان علم کائنات کی اس خشوع دعا کی قبولیت کا ذکر ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کائنات کی اس کتاب مفتوح کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں اور یہ کائنات جن دلائل کو پیش کرتی ہے یہ ان پر غور کرتے ہیں ۔ اور یہ کائنات جو مقاصد بتاتی ہے ۔ یہ اس پر بھی تامل کرتے ہیں ۔ اور دعا کی قبولیت کے ساتھ ساتھ ہدایات کیا دی جاتی ہیں ؟ یہ کہ عمل پیہم ‘ جہاد مسلسل ‘ صبر و محبت اور ایمان تقاضوں کی بجاآوری ہی دراصل وہ تحفے ہیں جو ان لوگوں کو ملتے ہیں ۔ جو اس کائنات کی کتاب مفتوح کو اللہ ترسی کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ اور پھر آخر میں اہل کفر کی پوزیشن کو حقیر بنایا گیا ہے ۔ اگرچہ ان کے پاس اس دنیا کا سازوسامان زیادہ ہے۔ یہ کچھ بھی نہیں ہے ‘ اصل دولت تو وہ ہے جو آخرت میں ملے گی مومنین کو اس کی بات کرنی چاہئے۔ اس سورت میں اہل کتاب اور مسلمانوں کے خلاف ان کے موقف کے بارے میں تفصیلی بات کی گئی تھی ۔ اس آخری سبق میں اہل کتاب میں سے بعض اچھے لوگوں کا ذکر بھی کردیا گیا ہے ۔ اور آخرت میں ان کی جزا اور صفت خشوع کا ذکر خصوصی طور پر کیا گیا۔ اس نسبت سے کہ اہل ایمان میں سے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا تھا جو اس کائنات کی کتاب مفتوح کا مطالعہ کرتے تھے اور ان کے اندر بھی صفت خشوع اور انابت سے دعا کی تھی ۔ اور انہوں نے اس امر کو نہایت ہی شرمناک سمجھا کہ اللہ کی آیات کو معمولی دام کے عوض فروخت کیا جائے ۔ جیسا کہ بعض اہل کتاب یہ کام کرتے تھے اور جن کا ذکر اس سورت میں ہوچکا ہے ۔ اس کے بعد پوری سورت کا خاتمہ آتا ہے اور اس میں اس پوری سورت کی ہدایت کا خلاصہ دیا گیا ہے ۔ اور جماعت مسلمہ کو یہ کہا گیا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا خلاصہ ہے۔ یہ ان کے فرائض اور پروگرام کا خلاصہ ہے ۔ اور اسی میں ان کی فلاح مضمر ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ” اے ایمان والو ! صبر سے کام لو ‘ پرستوں کے مقابلے میں پامردی دکھاؤ ‘ حق کی خدمت کے لئے کمربستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ امید ہے فلاح پاؤگے۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

عقلمندوں کی صفات اور ان کی دعائیں ان آیات میں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں کو اور زمین کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے کا جو نظام رکھا ہے جس کے مطابق رات اور دن آگے پیچھے آتے رہتے ہیں اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ یعنی یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ ان کا پیدا فرمانے والا قادر مطلق ہے، خالق ہے، حکیم ہے، یہ نشانیاں ایسی ہیں کہ عقل والے ان کو دیکھتے ہیں اور ان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب یہ جو کچھ آپ نے پیدا فرمایا ہے بےکار، عبث اور لایعنی نہیں ہے۔ ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں اور تو ہمیں عذاب دوزخ سے بچا دینا۔ درمیان میں ان عقل والوں کی یہ صفت بیان فرمائی کہ یہ لوگ کھڑے اور لیٹے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ زبان سے اور دل سے اللہ کو یاد کرتے ہیں اللہ کی ذات وصفات کا تذکرہ کرنا اس کی تکوین و تخلیق بیان کرنا اس کی قدرت اور حکمت کا تذکرہ کرنا یہ سب ذکر اللہ میں داخل ہے جن لوگوں کو اللہ کی معرفت حاصل ہوجائے وہی حقیقت میں عقل والے ہیں اور ان کے عقل مند اور عارف ہونے کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔ بیٹھے ہوں، لیٹے ہوں، کھڑے ہوں چل رہے ہوں کسی حال میں ذکر اللہ سے غافل نہیں ہوتے۔ حضرت ابو ہریرۃ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ کسی جگہ پر بیٹھے جس میں انہوں نے اللہ کو یاد نہ کیا اور اپنے نبی پر درود نہ بھیجا تو یہ مجلس ان کے لیے نقصان کا باعث ہوگی، اللہ چاہے تو ان کو عذاب دے اور چاہے تو مغفرت فرمائے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص کسی جگہ میں لیٹا اس میں اللہ کو یاد نہ کیا تو اس کا لیٹنا اللہ کی طرف سے اس کے لیے نقصان کا باعث ہوگا اور جو شخص کسی جگہ میں چلا اس نے اس چلنے کے دوران اللہ کو یاد نہ کیا تو یہ چلنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے نقصان کا باعث ہوگا۔ (التر غیب ٤٠٩: ج ٢) درحقیقت اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی اس عالم کی روح ہے جب تک اس دنیا میں ایک مرتبہ بھی اللہ اللہ کہا جاتا رہے گا اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی۔ (کمارواہ مسلم صفحہ ٨٤: ج ١) آج کل بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں عقلمند سمجھا جاتا ہے ان لوگوں نے اپنے طور پر سائنس کی معلومات میں اور دیگر امور کی معرفت حاصل کرنے میں بہت محنت کی ہے۔ لیکن ان معلومات کے ذریعہ انہوں نے خالق کائنات جل مجدہ کو نہیں پہچانا۔ ان میں بہت سے تو خالق جل مجدہ کے وجود ہی کے منکر ہیں اور جو لوگ اسے موجود مانتے ہیں، وہ بھی اس کی صفات جلال و جمال کو نہیں ماتنے۔ اور اس کو تکوینی حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اس کے مظاہر قدرت سے اس کی معرفت حاصل کرنے کی بجائے مادہ ہی کو یا طبیعت ہی کو سب کچھ مانتے ہیں۔ اور یوں کہتے ہیں کہ طبیعت خود ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گئی یہ ان لوگوں کی اپنے خالق کی معرفت سے محرومی ہے، پھر انہیں یہ احساس نہیں کہ ہم کیوں پیدا ہوئے اور اس دنیا کے بعد ہمارا کیا بنے گا، اور یہ کہ ہمارے خالق نے زندگی گزارنے کا جو نظام بھیجا ہے وہ ہم پر قبول کرنا فرض ہے، ان کے علوم اور تجربات سب اسی دنیا تک ہیں۔ (یَعْلَمُوْنَ ظَاھِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غٰفِلُوْنَ ) اولو الالباب (عقل والے لوگوں) کی جو دعائیں ذکر فرمائی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔ (رَبَّنَآ اِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَہٗ ) (کہ اے ہمارے رب بلاشبہ آپ جسے دوزخ میں داخل فرمائیں اسے رسوا فرمائیں گے) اور یہ ایسی رسوائی ہے جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں۔ دوزخ کا عذاب (عَذَابٌ مُّھِیْنٌ) یعنی ذلیل کرنے والا ہے اور وہاں کی رسوائی سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں۔ تمام اولین و آخرین کے سامنے ذلیل ہونا بہت بڑی رسوائی ہے لوگ یہ تو سوچتے ہیں کہ دنیا میں رسوائی نہ ہو اور آخرت کی رسوائی سے محفوظ رہنے کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔ (وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَخْزَی وَھُمْ لاَ یُنْصَرُوْنَ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

289 یہ بھی دعوی توحید پر عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کی پیدائش میں اور دن رات کی آمد و رفت میں عقل و فہم رکھنے والوں اور غور و فکر کرنے والوں کے لیے اللہ کی توحید، اس کی کمال صنعت و حکمت کے واضح دلائل موجود ہیں۔ اگر نظام فلکی کو دیکھا جائے تو اس میں سورج اور چاند، لا تعداد ستارے، آسمانوں اور سیاروں کی حرکات اور گردش فلک، آسمان کے آثار و نتائج، زمین کی شکل و صورت، اس پر اگنے والی کھیتیاں، باغات، پھل پھول اور زمین کے پیٹ کے خزانے، موسموں کی تبدیلی، دن رات کا اختلاف۔ دن رات کی کمی بیشی، غرضیکہ یہ امور اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ ان سب کا پیدا کرنے والا اور اس پورے نظام کا نظم و نسق قائم رکھنے والا بڑا ہی مدبر، صنعت و حکمت میں فرد اور صفات کمال میں واحد و یکتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 4 یقیناً آسمانوں کے اور زمین کے بنانے میں اور رات اور دن کے آگے پیچھے یکے بعد دیگر آنے جانے میں اہل عقل و خرد اور صحیح عقل رکھنے والوں کے لئے توحید کے بڑے بڑے دلائل موجود ہیں۔ (تیسیر) اوپر کی آیت میں وللہ ملک السمٰوٰت والارض ایک دعویٰ تھا اس آیت میں اس کی دلیل ہے۔ ہم پارہ سیقول کے چوتھے رکوع میں عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں شکوک و شبہات کرنے والے دو قسم کے ہیں ایک تو وہ جو خدا کے وجود ہی کے منکر ہیں اور دوسرے وہ جو اس کے وجودکو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ کسی نہ کسی کو شریک کردیتے ہیں پہلی قسم کے آدمی کو ملحد یا دہریہ کہتے ہیں۔ اور دوسری قسم کے آدمی کو مشرک کہتے ہیں۔ آج کل یورپ میں بکثرت لوگ ملحد اور اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکر ہیں اور ایشیا میں بکثرت لوگ مشرک ہیں۔ قرآن عام طور سے توحید کے دلائل بیان کرنے میں ان ہر دو فریق کو سامنے رکھتا ہے اور یہ بات ہم کئی دفعہ عرض کرچکے ہیں کہ جہاں تک انسانوں کے اعتقادیات کا تعلق ہے یہی چند مسائل ہیں جس میں دنیا بھر کے کافر اور مشرک ایک طرف ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ماننے والی اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھنے والے ایک طرف ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا وجود اس کی توحید۔ اس کے بھیجے ہوئے پیغامبر۔ قرآن کریم اور دیگر کتب سماویہ۔ قیامت، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا، چونکہ یہ مسائل نہایت اہم ہیں اس لئے قرآن کریم نے اعتقادی مباحث میں ان چیزوں سے بار بار بحث کی ہے اور مختلف عنوانات سے بحث کی ہے چناچہ اس موقعہ پر بھی باتیں سمجھ لیجئے کہ یہ عالم امکان اپنے وجود میں جس طرح ایک واجب الوجود محتاج ہے اسی طرح وہ واجب الوجود ہر ممکن کی شرکت سے بھی پاک ہے۔ واجب الوجود کا تعدد بدیہی طور پر محال ہے۔ سہل اردو میں یہ بات اس طرح سمجھ لیجئے کہ کوئی بد دن صانع کے نہیں ہوا کرتا جب آپ کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو فوراً دہن اس کے بنانے والے کی جانب جاتا ہے خواہ وہ چیز کتنی معمولی ہو یا غیر معمولی ہو جب بددن بنانے والے کے کوئی چیز نہیں بن سکتی تو یہ عالم خود بخود کس طرح بن سکتا ہے۔ لہٰذا کوئی اس کا بنانے والا ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور وہی اس کا خالق ہے اور جب وہی سب کائنات کا خالق اور مالک ہے تو پھر اس عالم کے بنانے میں کسی کی شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب کوئی اور تھا ہی نہیں تو شرکت کیسی۔ اس عالم امکان کا ہر ذرہ اپنے وجود اور اپنی ذات میں واجب الوجود کا محتاج ہے اور جو چیز اپنے وجود نبوت میں محتاج ہوگی وہ چیز اپنے جملہ لوازمات میں محتاج ہوگی۔ لہٰذا ایک طرف احتیاج ہی احتیاج اور دوسری طرف وجوب ہی وجوب۔ تو ایسی حالت میں شرکت باری کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ رہا واجب الوجود کا تعدد تو انشاء اللہ تعالیٰ بشرط زندگی سورة انبیاء میں عرض کریں گے یا کسی اور موقعہ پر ذکر آجائے گا۔ یہ مسئلہ تو قرآن کریم میں اکثر مقامات پر زیر بحث آئے گا۔ لب کہتے ہیں عقل خالص کو اسی لئے ہم نے اس کا ترجمہ صحیح عقل کیا ہے کیونکہ عقل و خرد کا تو ہر شخص مدعی ہے لیکن ہر شخص کی عقل کو یہ رسائی کہاں کہ وہ وجوب و امکان کو سمجھ سکے اس لئے قرآن عقل سلیم اور عقل صحیح سے اپیل کرتا ہے جوہر قسم کے شوائب واوہام سے پاک ہو۔ صاحبان الباب کی آگے کی آیت میں حالت بیان ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نبی سے معجزہ مانگنا کیا ضرور جو بات وہ کہتا ہے یعنی توحید اس کی نشانیاں سارے عالم میں نمودار ہیں۔ (موضح القرآن) شاہ صاحب (رح) نے شان نزول کی جانب اشارہ فرمایا ہے جیسا کہ ہم اوپر کہہ چکے ہیں اب اولی الالباب کے اوصاف بیان ہوتے ہیں۔ (تسہیل)