Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 197

سورة آل عمران

مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۟ ثُمَّ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۹۷﴾

[It is but] a small enjoyment; then their [final] refuge is Hell, and wretched is the resting place.

یہ تو بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے ، اس کے بعد ان کا ٹھکانہ توجہنّم ہے اور وہ بُری جگہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

A brief enjoyment; then their ultimate abode is Hell; and worst indeed is that place for rest. This Ayah is similar to several other Ayat, such as, مَا يُجَـدِلُ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ إِلاَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَ يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِى الْبِلَدِ None disputes in the Ayat of Allah but those who disbelieve. So, let not their ability of going about here and there through the land deceive you! (40:4) قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ Verily, those who invent a lie against Allah, will never be successful. (A brief) enjoyment in this world! and then unto Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve. (10:69-70) نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ We let them enjoy for a little while, then in the end We shall oblige them to (enter) a great torment. (31:24) فَمَهِّلِ الْكَـفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْداً So, give a respite to the disbelievers; deal gently with them for a while. (86:17) and, أَفَمَن وَعَدْنَـهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاَقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَـعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ Is he whom We have promised an excellent promise (Paradise) which he will find true -- like him whom We have made to enjoy the luxuries of the life of (this) world, then on the Day of Resurrection, he will be among those brought up (to be punished in the Hell-fire). (28:61) After Allah mentioned the condition of the disbelievers in this life and their destination to the Fire, He said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

197۔ 1 یعنی دنیا کے وسائل، آسائش اور سہولتیں بظاہر کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، درحقیقت متاع قلیل ہی ہیں کیونکہ بالاخر انہیں فنا ہونا ہے اور ان کے بھی فنا ہونے سے پہلے وہ حضرات خود فنا ہوجائیں گے، جو ان کے حصول کی کوششوں میں اللہ کو بھی فراموش کئے رکھتے ہیں اور ہر قسم کے اخلاقی ضابطوں اور اللہ کی حدوں کو بھی پامال کرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَتَاعٌ قَلِيْلٌ۝ ٠ ۣ ثُمَّ مَاْوٰىھُمْ جَہَنَّمُ۝ ٠ ۭ وَبِئْسَ الْمِھَادُ۝ ١٩٧ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ أوى المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ( ا و ی ) الماویٰ ۔ ( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور اویٰ الیٰ کذا ۔ کے معنی ہیں کسی کے ساتھ مل جانا اور منضم ہوجانا اور آواہ ( افعال ) ایواء کے معنی ہیں کسی کو جگہ دینا قرآن میں ہے { إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ } ( سورة الكهف 10) جب وہ اس غار میں جار ہے { قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ } ( سورة هود 43) اس نے کہا کہ میں ( ابھی ) پہاڑ سے جا لگوں گا ۔ جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ بِئْسَ و «بِئْسَ» كلمة تستعمل في جمیع المذام، كما أنّ نعم تستعمل في جمیع الممادح، ويرفعان ما فيه الألف واللام، أو مضافا إلى ما فيه الألف واللام، نحو : بئس الرجل زيد، وبئس غلام الرجل زيد . وينصبان النکرة نحو : بئس رجلا، ولَبِئْسَ ما کانوا يَفْعَلُونَ [ المائدة/ 79] ، أي : شيئا يفعلونه، ( ب ء س) البؤس والباس بئس ۔ فعل ذم ہے اور ہر قسم کی مذمت کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ نعم ہر قسم کی مدح کے لئے استعمال ہوتا ہے ان کا اسم اگر معرف بالللام ہو یا معرف باللام کی طرف مضاف ہو تو اسے رفع دیتے ہیں جیسے بئس الرجل زید وبئس غلام الرجل زید ۔ اور اسم نکرہ کو نصب دیتے ہیں جیسے قرآن میں ہے ؛ ۔ { بِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ } ( سورة المائدة 79) یعنی بلا شبہ وہ برا کرتے تھے مهد المَهْدُ : ما يُهَيَّأُ للصَّبيِّ. قال تعالی: كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا [ مریم/ 29] والمَهْد والمِهَاد : المکان المُمَهَّد الموطَّأ . قال تعالی: الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْداً [ طه/ 53] ، ومِهاداً [ النبأ/ 6] م ھ د ) المھد ۔ گہوارہ جو بچے کے لئے تیار کیا جائے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا [ مریم/ 29] کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے ۔ کیونکہ بات کریں ۔ اور ۔ اور المھد والمھاد ہموار اور درست کی ہوئی زمین کو بھی کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْداً [ طه/ 53] وہ ( وہی تو ہے ) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا ۔ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْداً [ طه/ 53] کہ ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا :

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩٧ (مَتَاعٌ قَلِیْلٌ قف) یہ تو محض چند روزہ زندگی کے لیے ہم نے انہیں کچھ ساز و سامان دے دیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

ماوہم۔ اسم ظرف مکان۔ مقام سکونت۔ ٹھکانہ۔ ماوی مصدر بھی ہے۔ المھاد۔ اسم ۔ بچھونا۔ ٹھکانہ مراد ہے۔ قرار گاہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اوپر کی آیات میں مومنوں سے غفران ذنوب اور ثواب عظیم کا وعدہ فرمایا ہے حالا ن کہ وہ فقر وفاقہ کی حالت میں بسر کر رے ہیں تھے ان کے بالمقابل کفا نہایت عیش وتنعم میں تھے ان کو دیکھ کر بعض اوقات مسلمان غلط فہمیوں کا شکار ہوجاتے اور مختلف خیالات کی دنیا میں چلے جا نے لہذا ان آیات میں مسلمانوں کا ذہن صاف کرنے کے لیے کفار کا انجام بیان فرمایا ہے اور مسلمانوں کو تسلی دی ہے۔ (کبیر) مروی ہے کہ بعض مسلمانوں نے کہا اللہ تعالیٰ کے دشمن تو بڑی عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہم نہایت عسرت اور تنگی میں مبتلا ہیں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی فرا کا بیان ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں ناز ہوئی ہے (المنا) مقصد یہ ہے کہ کفار کے شہروں میں تجا رتی کا روبار ان کی خوشحالی اور مال و دولت کی فروانی کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلو میں کسی قسم کا حزن وغم اور بغض نہیں آتا چاہیے نہ ان کے پاس کا شکار ہونا چاہیے ارونہ منا فیقن ہی کو جو شدت و خوف کے وقت پکار اٹھتے ہیں۔ ماوعد نا اللہ روسولہ غرور۔ ( احزاب آیت 12) یعنی پیغمبر نے تو ہم سے محض فریب اور دھو کے کا وعدہ کیا ہے اس استدلال کرنا چاہیے یہ چند روزہ زندگی کا سامان اور عارضی بہار ہے مرنے کے بعد ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ہو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے اس کے مخاطب بظاہر تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مگر مراد امت ہے (المنار۔ شوکانی) اس کے اگلی آیت میں مومنین کی جزا کا ذکر فرمایا ہے تاکہ مزید تشفی حاصل ہو اور چونکہ کفار کے مقابلہ میں بیان کی جارہی ہے اس لیے لکن کا لفظ بطور استدراک ذکر فرمادیا۔ (المنار )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ کیونکہ مرتے ہی اس کا نام و نشان بھی نہ رہے گا

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کے احوال و اموال دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں گزشتہ آیت میں اہل ایمان کا اجر وثواب بتایا ہے اہل ایمان میں تنگدست فقراء اور مساکین بھی ہوتے ہیں۔ اور دنیاوی احوال و اموال کے اعتبار سے ان میں ایک گونہ کمزوری ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی تسلی کے لیے فرمایا کہ اہل کفر کو جو دنیا میں ادھر ادھر آنے جانے اور اموال کمانے کی قدرت اور وسعت دی گئی ہے یہ کوئی قابل رشک چیز نہیں ہے ان لوگوں کی خوشحالی تمہیں دھوکہ میں نہ ڈالے یہ تو چند دن کی بہار ہے اس کے بعد ان کے لیے عذاب ہی عذاب ہے۔ عذاب بھی معمولی نہیں بلکہ جہنم کا عذاب ہے جو آگ ہی آگ ہے ایسی خوشحالی پر کیا رشک کرنا جس کے کچھ عرصہ کے بعد آگ کے دائمی عذاب میں داخل ہونا پڑے۔ اسباب النزول صفحہ ١٣٤ میں لکھا ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ خوشحال تھے تجارت کرتے تھے اور دنیا کے سازو سامان سے منتفع ہوتے تھے۔ بعض اہل ایمان کے منہ سے نکل گیا کہ اللہ کے دشمن تو اچھے حال میں ہیں اور ہم بھوک اور مشقت سے ہلاک ہو رہے ہیں اس پر آیت لَایَغُرَّنَّکَ آخر تک نازل ہوئی۔ جہنم کے بارے میں کہیں (بِءْسَ الْمَصِیْرُ ) اور کہیں (بِءْسَ الْمِھَادُ ) فرمایا اور کہیں دوسرے الفاظ میں اس کا برا ٹھکانا ہونا بتایا۔ یہاں (بِءْسَ الْمِھَادُ ) برا بچھونا جو فرمایا ہے سیاق کلام کے اعتبار سے نہایت ہی برمحل ہے۔ کیونکہ جو لوگ اصحاب اموال ہوتے ہیں دنیاوی چیزوں سے منتفع اور متمتع ہونے کے جو ان کے طریقے ہیں، ان میں جہاں عمدہ کھاناپینا اور لباس فاخرہ ہوتا ہے وہاں بسترے بھی عمدہ اور نرم ہوتے ہیں۔ آیت شریفہ میں بتادیا کہ ان کے یہاں کے بستروں کو نہ دیکھو ان کے اصلی اور دائمی بستر پر نظر کرو جو دوزخ کی آگ کا ہوگا، وہاں آرام کا نام نہیں اور نیند کا گمان نہیں۔ نزول قرآن کے وقت سفر کے ذرائع یہی چو پائے تھے گھوڑے، اونٹ خچر وغیرہ۔ دور حاضر میں سیارے اور طیارے ہیں جن سے تقلب کا مفہوم بہت زیادہ واضح ہے ایک شخص ایک ہی دن میں ایشیا میں بھی ہے اور یورپ میں بھی دوسرا شخص امریکہ جاتا ہے پھر شام تک واپس بھی آجاتا ہے، ایشیا والوں کے لیے افریقہ اور آسٹریلیا ایسے ہیں جیسے کبھی دو تین میل کی مسافت تک جا کر واپس آجاتے تھے۔ یہ تقلب کا بہت بڑا مصداق ہے، قرآن مجید میں جو لفظ تقلب ہے قیامت تک آنے والی سواریوں کے لیے شامل ہے۔ سورة مومن میں بھی اس مضمون کو بیان فرمایا (مَا یُجَادِلُ فِیْ اٰیٰتِ اللّٰہِ اِِلَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَلاَ یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْبِلاَدِ ) (نہیں جھگڑتے ہماری آیات کے بارے میں مگر وہی لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ سو دھوکہ میں نہ ڈالے آپ کو شہروں میں ان کا چلنا پھرنا) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi