Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 199

سورة آل عمران

وَ اِنَّ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَمَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ خٰشِعِیۡنَ لِلّٰہِ ۙ لَا یَشۡتَرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۹۹﴾

And indeed, among the People of the Scripture are those who believe in Allah and what was revealed to you and what was revealed to them, [being] humbly submissive to Allah . They do not exchange the verses of Allah for a small price. Those will have their reward with their Lord. Indeed, Allah is swift in account.

یقیناً اہلِ کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالٰی پر ایمان لاتے ہیں اور تمہاری طرف جو اُتارا گیا ہے اور ان کی جانب جو نازل ہوا اس پر بھی ، اللہ تعالٰی سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالٰی کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے بھی نہیں ، ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے ، یقیناً اللہ تعالٰی جلد حساب لینے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Condition of Some of the People of the Scriptures and their Rewards Allah says; وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُوْمِنُ بِاللّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَأ أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلّهِ ... And there are, certainly, among the People of the Scripture (Jews and Christians), those who believe in Allah and in that which has been revealed to you, and in that which has been revealed to them, humbling themselves before Allah. Allah states that some of the People of the Book truly believe in Him and in what was sent down to Muhammad, along with believing in the previously revealed Books, and they are obedient to Him and humble themselves before Allah. ... لااَ يَشْتَرُونَ بِأيَاتِ اللّهِ ثَمَنًا قَلِيلاً ... They do not sell the verses of Allah for a small price. for they do not hide what they know of the glad tidings about the description of Muhammad, his Prophethood, and the description of his Ummah. Indeed, these are the best people among the People of the Book, whether they were Jews or Christians. Allah said in Surah Al-Qasas, الَّذِينَ ءَاتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُوْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَأ إنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ أُوْلَـيِكَ يُوْتُونَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُواْ Those to whom We gave the Scripture before it, they believe in it (the Qur'an). And when it is recited to them, they say: "We believe in it. Verily, it is the truth from our Lord. Indeed even before it we were Muslims. These will be given their reward twice over, because they are patient. (28:52-54) Allah said, الَّذِينَ اتَيْنَـهُمُ الْكِتَـبَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَوَتِهِ أُوْلَـيِكَ يُوْمِنُونَ بِهِ Those to whom We gave the Book, recite it (follow it) as it should be recited (i.e. followed), they are the ones who believe therein. (2:121) وَمِن قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ And of the people of Musa there is a community who lead with truth and establish justice therewith. (7:159) لَيْسُواْ سَوَاءً مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ أُمَّةٌ قَأيِمَةٌ يَتْلُونَ ءَايَـتِ اللَّهِ ءَانَأءَ الَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ Not all of them are alike; a party of the people of the Scripture stand for the right, they recite the verses of Allah during the hours of the night, prostrating themselves in prayer. (3:113) and, قُلْ ءَامِنُواْ بِهِ أَوْ لاَ تُوْمِنُواْ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلٌّذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَأ إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولاً وَيَخِرُّونَ لِلٌّذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا Say: "Believe in it (the Qur'an) or do not believe (in it). Verily, those who were given knowledge before it, when it is recited to them, fall down on their faces in humble prostration." And they say: "Glory be to our Lord! Truly, the promise of our Lord must be fulfilled." And they fall down on their faces weeping and it increases their humility. (17:107-109) These qualities exist in some of the Jews, but only a few of them. For instance, less than ten Jewish rabbis embraced the Islamic faith, such as Abdullah bin Salam. Many among the Christians, on the other hand, embraced the Islamic faith. Allah said, لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّا نَصَارَى Verily, you will find the strongest among men in enmity to the believers the Jews and those who commit Shirk, and you will find the nearest in love to the believers those who say: "We are Christians." (5:82) until, فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُواْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَا So because of what they said, Allah rewarded them Gardens under which rivers flow (in Paradise), they will abide therein forever. (5:85) In this Ayah, Allah said, ... أُوْلَـيِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ ... for them is a reward with their Lord. When Jafar bin Abi Talib recited Surah Maryam to An-Najashi, King of Ethiopia, in the presence of Christian priests and patriarchs, he and they cried until their beards became wet from crying. The Two Sahihs record that; when An-Najashi died, the Prophet conveyed the news to his Companions and said, إِنَّ أَخًا لَكُمْ بِالْحَبَشَةِ قَدْ مَاتَ فَصَلُّوا عَلَيْه A brother of yours from Ethiopia has passed, come to offer the funeral prayer. He went out with the Companions to the Musalla lined them up in rows, and after that led the prayer. Ibn Abi Najih narrated that Mujahid said that, إِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ (And there are, certainly, among the People of the Scripture), refers to those among them who embraced Islam. Abbad bin Mansur said that; he asked Al-Hasan Al-Basri about Allah's statement, وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُوْمِنُ بِاللّهِ (And there are, certainly, among the People of the Scripture, those who believe in Allah). Al-Hasan said, "They are the People of the Book, before Muhammad was sent, who believed in Muhammad and recognized Islam. Allah gave them a double reward, for the faith that they had before Muhammad, and for believing in Muhammad (after he was sent as Prophet)." Ibn Abi Hatim recorded both of these statements. The Two Sahihs record that Abu Musa said that the Messenger of Allah said, ثَلَثَةٌ يُوْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْن Three persons will acquire a double reward. He mentioned among them, وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ امَنَ بِنَبِيِّهِ وَامَنَ بِي A person from among the People of the Book who believed in his Prophet and in me. Allah's statement, لااَ يَشْتَرُونَ بِأيَاتِ اللّهِ ثَمَنًا قَلِيلاً (They do not sell the verses of Allah for a small price), means, they do not hide the knowledge that they have, as the cursed ones among them have done. Rather, they share the knowledge without a price, and this is why Allah said, ... أُوْلَـيِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ for them is a reward with their Lord. surely, Allah is Swift in account. Mujahid commented on the verse, سَرِيعُ الْحِسَابِ ((Surely, Allah is) swift in account), "He is swift in reckoning," as Ibn Abi Hatim and others have recorded from him. The Command for Patience and Ribat Allah said,

ایمان والوں اور مجاہدین کے قابل رشک اعزاز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے اس فرقے کی تعریف کرتا ہے جو پورے ایمان والا ہے قرآن کریم کو بھی مانتا ہے اور اپنے نبی کی کتاب پر بھی ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کا ڈر دل میں رکھ کر اللہ تعالیٰ فرمانوں کی بجا آوری میں نہایت تندہی کے ساتھ مشغول ہے رب کے سامنے عاجزی اور گریہ وزاری کرتا رہتا ہے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جو پاک اوصاف اور صاف نشانیاں ان کی کتابوں میں ہیں اسے دنیا کے بدلے چھپاتا نہیں بلکہ ہر ایک کو بتاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو مان لینے کی رغبت دلاتا ہے ۔ ایسی جماعت اللہ تعالیٰ کے پاس اجر پائے گی خواہ وہ یہودیوں کی ہو خواہ نصرانیوں کی ، سورہ قصص میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے آیت ( اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَهُمْ ۘ اَلَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ) 6 ۔ الانعام:20 ) جنہیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دے رکھی ہے وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور جب یہ کتاب ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے تو صاف کہ دیتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے یہ برحق کتاب ہمارے رب کی ہے ہم تو پہلے سے ہی اسے مانتے تھے انہیں انکے صبر کا دوہرا اجر دیا جائے گا اور جگہ ہے جنہیں ہم نے کتاب دی اور جسے وہ اسے صحیح طور پر پڑھتے ہیں وہ تو اس قرآن پر بھی فوراً ایمان لاتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت ( وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف:159 ) حضرت موسیٰ کی قوم میں سے بھی ایک جماعت حق کی ہدایت کرنے والی اور حق کے ساتھ عدل کرنے والی ہے دوسرے مقام پر بیان ہے آیت ( لَيْسُوْا سَوَاۗءً ۭ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاۗىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ ) 3 ۔ آل عمران:113 ) یعنی اہل کتاب سب یکساں نہیں ان میں ایک جماعت راتوں کے وقت بھی اللہ کی کتاب پڑھنے والی ہے اور سجدے کرنے والی اور جگہ ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم کہو کہ لوگوں تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں پہلے سے علم دیا گیا ہے جب ان کے سامنے اس کلام مجید کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہے تو وہ اپنے چہروں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے یقینا اس کا وعدہ سچا ہے اور سچا ہو کر رہنے والا ہے یہ لوگ روتے ہوئے منہ کے بل گرتے ہیں اور خشوع و خضوع میں بڑھ جاتے ہیں یہ صفتیں یہودیوں میں پائی گئیں گو بہت کم لوگ ایسے تھے مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام اور آپ ہی جیسے اور جگہ ہے آیت ( لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا ) 5 ۔ المائدہ:82 ) اسے خالدین فیھا آخر آیت تک ، مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں سے عداوت اور دشمنی رکھنے میں سب سے زیادہ بڑھے ہوئے یہود ہیں اور مشرک اور ایمان والوں سے محبت رکھنے میں پیش پیش نصرانی ہیں ، اب فرماتا ہے ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر عظیم کے مستحق ہیں ، حدیث میں یہ بھی آچکا ہے کہ حضرت جعفر بن ابو طالب نے جب سورہ مریم کی تلاوت شاہ نجاشی کے دربار میں بادشاہ اراکین سلطت اور علماء نصاریٰ کے سامنے کی اور اس میں آپ پر رقت طاری ہوئی تو سب حاضرین دربار مع بادشاہ رو دیئے اور اس قدر متاثر ہوئے کہ روتے روتے ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں ، صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ نجاشی کے انتقال کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو دی اور فرمایا کہ تمہارا بھائی حبشہ میں انتقال کر گیا ہے اور اس کے جنازے کی نماز ادا کرو اور میدان میں جا کر صحابہ کی صفیں مرتب کر کے آپ نے ان کے جنازے کی نماز ادا کی ۔ ابن مردویہ میں ہے کہ جب نجاشی فوت ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کیلئے استغفار کرو تو بعض لوگوں نے کہا دیکھئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس نصرانی کیلئے استغفار کرنے کا حکم دیتے ہیں جو حبشہ میں مرا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ گویا اس کے مسلمان ہونے شہادت قرآن کریم نے دی ، ابن جریر میں ہے کہ ان کی موت کی خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دی کہ تمہارا بھائی اصحمہ انتقال کر گیا ہے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور جس طرح جنازے کی نماز پڑھاتے تھے اسی طرح چار تکبیروں سے نماز جنازہ پڑھائی اس پر منافقوں نے وہ اعتراض کیا اور یہ آیت اتری ابو داؤد میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نجاشی کے انتقال کے بعد ہم یہی سنتے رہے کہ ان کی قبر پر نور دیکھا جاتا ہے ، مستدرک حاکم میں ہے کہ نجاشی کا ایک دشمن اس کی سلطنت پر حملہ آور ہوا تو مہاجرین نے کہا کہ آپ اس سے مقابلہ کرنے کیلئے چلئے ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں آپ ہماری بہادری کے جوہر دیکھ لیں گے اور جو حسن سلوک آپ نے ہمارے ساتھ کیا ہے اس کا بدلہ بھی اتر جائے گا لیکن نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کی امداد کے ساتھ بچاؤ کرنے سے اللہ کی امداد کا بچاؤ بہتر ہے اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مراد اہل کتاب کے مسلمان لوگ ہیں ، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھے اسلام کو پہچانتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کا بھی شرف انہیں حاصل ہوا تو انہیں اجر بھی دوہرا ملا ایک تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے ایمان کا دوسرا اجر آپ پر ایمان لانے کا ، بخاری مسلم میں حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے جن میں سے ایک اہل کتاب کا وہ شخص ہے جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور مجھ پر ایمان لایا اور باقی دو کو بھی ذکر کیا ، اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر نہیں بیچتے یعنی اپنے پاس علمی باتوں کو چھپاتے نہیں جیسے کہ ان میں سے ایک رزیل جماعت کا شیوہ تھا بلکہ یہ لوگ تو اسے پھیلاتے اور خوب ظاہر کرتے ہیں ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے یعنی جلد سمیٹنے اور گھیرنے اور شمار کرنے والا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ اسلام جیسے میری پسندیدہ دین پر جمے رہو شدت اور نرمی کے وقت مصیبت اور راحت کے وقت غرض کسی حال میں بھی اسے نہ چھوڑو یہاں تک کہ دم نکلے تو اسی پر نکلے اور اپنے ان دشمنوں سے بھی صبر سے کام لو جو اپنے دین کو چھپاتے ہیں امام حسن بصری وغیرہ علماء سلف نے یہی تفسیر بیان فرمائی ہے مرابطہ کہتے ہیں عبادت کی جگہ میں ہمیشگی کرنے کو اور ثابت قدمی سے جم جانے کو اور کہا گیا ہے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کو یہی قوم ہے حضرت عبداللہ بن عباس سہل بن حنیف اور محمد بن کعب قرضی کا صحیح مسلم شریف اور نسائی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ کس چیز سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجوں کو بڑھاتا ہے ، تکلیف ہوتے ہوتے بھی کامل وضو کرنا دور سے چل کر مسجدوں میں آنا ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی رباط ہے یہی مرابط ہے یہی اللہ تعالیٰ کی راہ کی مستعدی ہے ، ابن مردویہ میں ہے کہ ابو سلمہ سے ایک دن حضرت ابو ہریرہ نے پوچھا اے میرے بھتیجے جانتے ہو اس آیت کا شان نزول کیا ہے؟ انہوں نے کہا مجھے معلوم نہیں آپ نے فرمایا سنو اس وقت کوئی غزوہ نہ تھا یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو مسجدوں کو آباد رکھتی تھی اور نمازوں کو ٹھیک وقت پر ادا کرتے تھے پھر اللہ کا ذکر کرتے تھے انہیں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ تم پانچوں نمازوں پر جمے رہو اور اپنے نفس کو اور اپنی خواہش کو روکے رکھو اور مسجدوں میں بسیرا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ۔ یہی اعمال موجب ایمان ہیں ، ابن جریر کی حدیث میں ہے کیا میں تمہیں وہ اعمال نہ بتاؤں جو گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں ناپسندیدگی کے وقت کامل وضو کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا تمہاری مستعدی اسی میں ہونی چاہئے اور حدیث میں زیادہ قدم رکھ کر چل کر مسجد میں آنا بھی ہے ، اور روایت میں ہے کہ گناہوں کی معافی کے ساتھ ہی درجے بھی ان اعمال سے بڑھتے رہتے ہیں اور یہی اس آیت کا مطلب ہے لیکن یہ حدیث بالکل غریب ہے ، ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں یہاں رابطوا سے مطلب انتظار نماز ہے ، لیکن اوپر بیان ہو چکا ہے کہ یہ فرمان حضرت ابو ہریرہ کا ہے واللہ اعلم ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رابطوا سے مراد دشمن سے جہاد کرنا اسلامی ملک کی حدود کی نگہبانی کرنا اور دشمنوں کو اسلامی شہروں میں نہ گھسنے دینا ہے اس کی ترغیب میں بھی بہت سی حدیثیں ہیں اور اس پر بھی بڑے ثواب کا وعدہ ہے ، صحیح بخاری شریف میں ہے ایک دن کی یہ تیاری ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے افضل ہے ، مسلم شریف کی حدیث میں ہے ایک دن رات کی جہاد کی تیاری ایک ماہ کے کامل روزوں اور ایک ماہ کی تمام شب بیداری سے افضل ہے اور اسی تیاری کی حالت میں موت آجائے تو جتنے اعمال صالحہ کرتا تھا سب کا ثواب پہنچتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے روزی پہنچائی جاتی ہے اور فتنوں سے امن پاتا ہے ، مسند احمد میں ہے ہر مرنے والے کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ کی تیاری میں ہو اور اسی حالت میں مر جائے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور اسے فتنہ قبر سے نجات ملتی ہے ابن ماجہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن اسے امن ملے گا ، مسند کی اور حدیث میں ہے اسے صبح شام جنت سے روزی پہنچائی جاتی ہے اور قیامت تک اس کے مرابط کا اجر ملتا رہتا ہے ، مسند احمد میں ہے جو شخص مسلمانوں کی سرحد کے کسی کنارے پر تین دن تیاری میں گزارے اسے سال بھر تک کی اور جگہ کی اس اس تیاری کا اجر ملتا ہے ، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان نے اپنے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ایک مرتبہ فرمایا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سنی ہوئی بات سناتا ہوں میں نے اب تک ایک خاص خیال سے اسے نہیں سنایا آپ نے فرمایا ہے اللہ جل شانہ کی راہ میں ایک رات کا پہرہ ایک ہزار راتوں کی عبادت سے افضل ہے جو تمام راتیں قیام میں اور تمام دن صیام میں گزارے جائیں ۔ دوسری روایت میں اس حدیث کو اب تک بیان نہ کرنے کی وجہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ مجھے ڈر تھا کہ اس فضیلت کے حاصل کرنے کیلئے کہیں تم سب مدینہ چھوڑ کر میدان جنگ میں نہ چل دو اب میں سنا دیتا ہوں ہر شخص کو اختیار ہے کہ جو بات اپنے لئے پسند کرتا ہے اس کا پابند ہو جائے دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پہنچا دی لوگوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا اے جناب باری تعالیٰ تو گواہ رہ ، ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت شرحبیل بن سمط محافظت سرحد میں تھے اور زمانہ زیادہ گزر جانے کے بعد کچھ تنگ دل ہو رہے تھے کہ حضرت سلمان فارسی ان کے پاس پہنچے اور فرمایا آؤ میں تجھے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سناؤں آپ نے فرمایا ہے ایک دن سرحد کی حفاظت ایک مہینہ کے صیام و قیام سے افضل ہے اور جو اسی حالت میں مر جائے وہ فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے اعمال قیامت تک جاری رہتے ہیں ۔ ابن ماجہ میں ہے کہ ایک رات اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرہ دینا تاکہ مسلمان امن سے رہیں ہاں نیت نیک ہو گو وہ رات رمضان کی نہ ہو ایک سو سال کی عبادت سے افضل ہے جس کے دن روزے میں اور جس کی راتیں تہجد میں گزری ہوں اور ایک دن کی رب العزت کی راہ میں تیاری تا کہ مسلمان باحفاظت رہیں طلب ثواب کی نیت سے ماہ رمضان کے بغیر اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال کے روزوں اور تہجد سے افضل ہے ، مسلمان باحفاظت رہیں طلب ثواب کی نیت سے ماہ رمضان کے بغیر اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال کی برائیاں اس کے نامہ اعمال میں نہیں لکھی جائیں گی اور نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس مرابط کا اجر قیامت تک اسے ملتا رہے گا یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر ہے اس کے ایک راوی عمرو بن صبح متہم ہیں ، ابن ماجہ کی ایک اور غریب حدیث میں ہے کہ ایک رات کی مسلم لشکر کی چوکیداری ایک ہزار سال کی راتوں کے قیام اور دنوں کے صیام سے افضل ہے ہر سال کے تین سو ساٹھ دن اور ہر دن مثل ایک ہزار سال کے اس کے راوی سعید بن خالد کو ابو زرعہ وغیرہ ہیں ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے بلکہ امام حاکم فرماتے ہیں اس کی روایت سے موضع حدیثیں بھی ہیں ، ایک منقطع حدیث میں ہے لشکر اسلام کے چوکیدار پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہو ( ابن ماجہ ) حضرت سہل بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ حنین والے دن ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے شام کی نماز میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اتنے میں ایک گھوڑا سوار آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آگے نکل گیا تھا اور فلاں پہاڑ پر چڑھ کر میں نے نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ میدان میں جمع ہو گئے ہیں یہاں تک کہ ان کی اونٹنیاں ، بکریاں ، عورتیں اور بچے بھی ساتھ ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا انشاء اللہ یہ سب کل مسلمانوں کی مال غنیمت ہو گا پھر فرمایا بتاؤ آج کی رات پہرہ کون دے گا ؟ حضرت انس بن ابو مرثد نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں آپ نے فرمایا جاؤ سواری لے کر آؤ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس گھاٹی پر چلے جاؤ اور اس پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جاؤ خبردار تمہاری طرف سے ان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ صبح تک نہ ہو ، صبح جس وقت نماز کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے دو سنتیں ادا کیں اور لوگوں سے پوچھا کہو تمہارے پہرے دار سوار کی تو کوئی آہٹ نہیں سنی لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اب تکبیر کہی گئی اور آپ نے نماز شروع کی آپ کا خیال اسی گھاٹی کی طرف تھا نماز سے سلام پھیرتے ہی آپ نے فرمایا خوش ہو جاؤ تمہارا گھوڑے سوار آ رہا ہے ہم نے جھاڑیوں میں جھانک کر دیکھا تو تھوڑی دیر میں ہمیں بھی دکھائی دے گئے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس وادی کے اوپر کے حصے پر پہنچ گیا اور ارشاد کے مطابق وہیں رات گزاری صبح میں نے دوسری گھاٹی بھی دیکھ ڈالی لیکن وہاں بھی کوئی نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا رات کو وہاں سے تم نیچے بھی اترے تھے ، جواب دیا نہیں صرف نماز کیلئے اور قضاء حاجت کیلئے تو نیچے اترا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اپنے لئے جنت واجب کر لی اب تم اس کے بعد کوئی عمل نہ کرو تو بھی تم پر کوئی حرج نہیں ، ( ابو داؤد و نسائی ) مسند احمد میں ہے ایک غزوہ کے موقعہ پر ایک رات کو ہم بلند جگہ پر تھے اور سخت سردی تھی یہاں تک کہ لوگ زمین میں گڑھے کھود کھود کر اپنے اوپر ڈھالیں لے لے کر پڑے ہوئے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت آواز دی کہ کوئی ہے جو آج کی رات ہماری چوکیداری کرے اور مجھ سے بہترین دعا لے تو ایک انصاری کھڑا ہو گیا اور کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں تیار ہوں آپ نے اسے پاس بلا کر نام دریافت کر کے اس کے لئے بہت دعا کی ابو ریحانہ یہ دعائیں سن کر آگے بڑھے اور کہنے لگے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی پہرہ دوں گا آپ نے مجھے بھی پاس بلا لیا اور نام پوچھ کر میرے لئے بھی دعائیں کیں لیکن اس انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ دعا کم تھی پھر آپ نے فرمایا اس آنکھ پر جہنم کی آنچ حرام ہے جو اللہ کے ڈر سے روئے اور اس آنکھ پر بھی جو راہ اللہ میں شب بیداری کرے ، مسند حمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص مسلمانوں کے پیچھے سے ان کا پہرہ دے اپنی خوشی سے بغیر سلطان کی اجرت و تنخواہ کے وہ اپنی آنکھوں سے بھی جہنم کی آگ کو نہ دیکھے گا مگر صرف قسم پوری ہونے کے لئے جو اس آیت میں ہے آیت ( وان منکم الا واردھا ) یعنی تم سب اس پر وارد ہو گئے ، صحیح بخاری میں ہے دینار کا بندہ برباد ہوا اور کپڑوں کا بندہ اگر مال دیا جائے تو خوش ہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناخوش ہے ، یہ بھی برباد ہوا اور خراب ہوا اگر اسے کانٹا چبھ جائے تو نکالنے کی کوشش بھی نہ کی جائے خوش نصیب ہوا اور پھلا خوب پھولا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے بکھرے ہوئے بال ہیں اور گرد آلود قدم ہیں اگر چوکیداری پر مقرر کر دیا گیا ہے تو چوکیدارہ کر رہا ہے اور اگر لشکر کے اگلے حصے میں مقرر کر دیا گیا ہے تو وہیں خوش ہے لوگوں کی نظروں میں اتنا گرا پڑا ہے کہ اگر کہیں جانا چاہے تو اجازت نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو قبول نہ ہو ، الحمد اللہ اس آیت کے متعلق خاصی حدیثیں بیان ہو گئیں اللہ تعالیٰ کے اس فضل و کرم پر ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور شکر گزاری سے رہتی دنیا تک فارغ نہیں ہو سکتے ۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر المومنین خلیفتہ المسلمین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میدان جنگ سے ایک خط لکھا اور اس میں رومیوں کی فوج کی کثرت ان کی آلات حرب کی حالت اور ان کی تیاریوں کی کیفیتیں بیان کی اور لکھا کہ سخت خطرہ کا موقعہ ہے ، یہاں سے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا جواب گیا جس میں حمد و ثنا کے بعد تحریر تھا کہ کبھی کبھی مومن بندوں پر سختیاں بھی آجاتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بعد آسانیاں بھیج دیتا ہے ۔ سنو ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی سنو پروردگار عالم کا فرمان ہے آیت ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا ) 3 ۔ آل عمران:200 ) حضرت عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ نے سن ١٧٠ یا ١٧٧ھ میں شہر طرسوس میں حضرت محمد بن ابراہیم بن سکینہ کو جبکہ وہ ان کو وداع کرنے آئی تھی اور یہ جہاد کو جا رہے تھے یہ اشعار لکھوا کر حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کو بھجوائے یا عابد الحرمین لو ابصرتنا لعلمت انک فی العبادۃ تلعب من کان یخضب خدہ بلموعہ فنحورنا بلمائنا تتخضب من کان یتعب خلیہ فی باطل فنخیولنا یوم الصبیحتہ تتعب ریح العبیر لکم ونحن عبیرنا رھج السنابک والغبار الاطیب ولقد اتانا من مقال نبینا قول صحیح صادق لا یکذب لا یستوی غبار خیل اللہ فی انف امری ودخان نار تلھب ھذا کتاب اللہ ینطق بیننا لیس الشھید بمیت لا یکذب اے مکہ مدینہ میں رہ کر عبادت کرنے والے اگر تو ہم مجاہدین کو دیکھ لیتا تو بالیقین تجھے معلوم ہو جاتا کہ تیری عبادت تو ایک کھیل ہے ، ایک وہ شخص ہے جس کے آنسو اس کے رخساروں کو تر کرتے ہیں اور ایک ہم ہیں جو اپنی گردن اللہ کی راہ میں کٹوا کر اپنے خون میں آپ نہا لیتے ہیں ۔ ایک وہ شخص ہے جس کا گھوڑا باطل اور بیکار کام میں تھک جاتا ہے اور ہمارے گھوڑے حملے اور لڑائی کے دن ہی تھکتے ہیں ۔ اگر کئ خوشبوئیں تمہارے لئے ہیں اور ہمارے لئے اگر کئ خوشبو گھوڑوں کے ٹاپوں کی خاک اور پاکیزہ گرد و غبار ہے ۔ یقین مانو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچ چکی ہے جو سراسر راستی اور درستی والی بالکل سچی ہے کہ جس کسی کے نام میں اس اللہ تعالیٰ کے لشکر کی گرد بھی پہنچ گئی اس کے ناک میں شعلے مارنے والی جہنم کی آگ کا دھواں بھی نہ جائے گا اور لو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب جو ہم میں موجود ہے اور صاف کہہ رہی ہے اور سچ کہہ رہی ہے کہ شہید مردہ نہیں ۔ محمد بن ابراہیم فرماتے ہیں جب میں نے مسجد حرام میں پہنچ کر حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ کو یہ اشعار دکھائے تو آپ پڑھ کر زار زار روئے اور فرمایا ابو عبدالرحمن نے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر ہوں صحیح اور سچ فرمایا اور مجھے نصیحت نامہ میرے پاس لائے اس کے بدلے میں تمہیں ایک حدیث لکھواتا ہوں وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسا عمل بتائے جس سے میں مجاہد کا ثواب پالوں ، آپ نے فرمایا کیا تجھ میں یہ طاقت ہے کہ نماز ہی پڑھتا رہے اور تھکے نہیں اور روزے رکھتا چلا جائے اور کبھی بےروزہ رہے اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طاقت کہاں؟ میں اس سے بہت ہی ضعیف ہوں آپ نے فرمایا اگر تجھ میں اتنی طاقت ہوتی اور تو ایسا کر بھی سکتا تو بھی مجاہد فی سبیل اللہ کے درجے کو نہ پہنچ سکتا ، تو یہ بھی جانتا ہے کہ مجاہد کے گھوڑے کی رسی دراز ہو جائے اور وہ ادھر ادھر چر جائے تو اس پر بھی مجاہد کو نیکیاں ملتی ہیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر حال میں ہر وقت ہر معاملہ میں اللہ کا خوف کیا کرو ۔ جناب رسول اکرم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا اے معاذ جہاں بھی ہو اللہ کا خوف دل میں رکھ اور اگر تجھ سے کوئی برائی ہو جائے تو فوراً کوئی نیکی بھی کر لے تا کہ وہ برائی مٹ جائے اور لوگوں سے خلق و مروت کے ساتھ پیش آیا کر ۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ چاروں کام کر لینے سے تم اپنے مقصد میں کامیاب اور بامراد ہو جاؤ گے دنیا اور آخرت میں فلاح و نجات پالو گے ۔ حضرت محمد بن کعب قرظی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے تم میرا لحاظ رکھو میرے خوف سے کانپتے رہو مجھ سے ڈرتے رہو میرے اور اپنے معاملہ میں متقی رہو تو کل جبکہ تم مجھ سے ملو گے نجات یافتہ اور بامراد ہو جاؤ گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

199۔ 1 اس آیت میں اہل کتاب کے اس گروہ کا ذکر ہے جسے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے ایمان اور ایمانی صفات کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوسرے اہل کتاب سے ممتاز کردیا، جن کا مشن ہی اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا، آیات الٰہی میں تحریف و تبدیل کرنا اور دنیا کے عارضی اور فانی مفادات کے لئے کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ مومنین اہل کتاب ایسے نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور اللہ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچنے والے نہیں۔ حافظ ابن کثیرنے لکھا ہے کہ آیت میں جن مومنین اہل کتاب کا ذکر ہے، یہودیوں کی تعداد دس تک بھی نہیں پہنچی البتہ عیسائی بڑی تعداد میں مسلمان ہوئے اور انہوں نے دین حق کو اپنایا۔ (تفسیر ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠٠] یہود میں کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو اللہ سے ڈرنے والے، حرام خوری سے بچنے والے دیانتدار اور نیک سرشت تھے۔ اگرچہ ایسے لوگ بہت کم تھے، تاہم تھے اور ان کا ذکر پہلے سورة آل عمران کی آیت ١١٣ تا ١١٥ میں گزر چکا ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور ایسے لوگ دوہرے ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایک اپنے نبی اور کتاب پر ایمان لانے کا دوسرے نبی آخرالزمان اور قرآن پر ایمان لانے کا۔ چناچہ آپ نے فرمایا ہے کہ تین آدمیوں کو دہرا اجر ملے گا، ایک تو اس کو جس کی کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے، ادب سکھلائے پھر اس سے نکاح کرلے دوسرے اس یہودی یا عیسائی کو جو اپنے پیغمبر پر ایمان لایا، پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان لایا۔ تیسرے اس غلام کو جو اللہ اور اپنے آقا دونوں کا حق ادا کرے۔ (بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل من اسلم من اھل الکتاب)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ ۔۔ : اس آیت میں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) کے اس گروہ کا ذکر ہے جو سچے دل سے مسلمان ہوگئے تھے، ان کے ایمان اور ایمانی صفات کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے انھیں دوسرے اہل کتاب سے ممتاز فرما دیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں، پہلی کتابوں اور قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں، اللہ سے ڈرنے والے ہیں، اللہ کی آیات کے بدلے دنیاوی مفاد حاصل نہیں کرتے، ان کے لیے اللہ کے ہاں ان کا اجر محفوظ ہے، بلکہ دوہرا اجر ہے، جیسا کہ سورة حدید (٢٨) میں ہے۔ یہ صفات یہود میں بہت کم تھیں۔ علمائے یہود میں سے عبداللہ بن سلام (رض) جیسے ان صفات کے حامل چند لوگ اور تھے، جن کی تعداد دس سے زیادہ نہ تھی، البتہ نصرانیوں میں سے بہت سے لوگوں نے ایمان قبول کیا، جن میں حبشہ کے بادشاہ اصحمہ نجاشی بھی شامل تھے، ان کی موت کی خبر آنے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں ان پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی۔ [ بخاری، مناقب، باب موت النجاشی : ٣٨٧٧، عن جابر (رض) ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلہِ۝ ٠ ۙ لَا يَشْتَرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا۝ ٠ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۝ ١٩٩ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا خشع الخُشُوع : الضّراعة، وأكثر ما يستعمل الخشوع فيما يوجد علی الجوارح . والضّراعة أكثر ما تستعمل فيما يوجد في القلب ولذلک قيل فيما روي : روي : «إذا ضرع القلب خَشِعَتِ الجوارح» قال تعالی: وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] ، وقال : الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] ، وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] ، وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] ، خاشِعَةً أَبْصارُهُمْ [ القلم/ 43] ، أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] ، كناية عنها وتنبيها علی تزعزعها کقوله : إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] ، وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] ، يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] . ( خ ش ع ) الخشوع ۔ ( ان ) کے معنی ضواعۃ یعنی عاجزی کرنے اور جھک جانے کے ہیں ۔ مگر زیادہ تر خشوع کا لفظ جوارح اور ضراعت کا لفظ قلب کی عاجزی پر بولا جاتا ہے ۔ اسی لئے ایک روایت میں ہے :۔ (112) اذا ضرعت القلب خشعت الجوارح جب دل میں فروتنی ہو تو اسی کا اثر جوارح پر ظاہر ہوجاتا ہے قرآن میں ہے : وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پید اہوتی ہے ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں ۔ وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے ۔ وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] آوازیں پست ہوجائیں گے ۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ۔ أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] یہ ان کی نظروں کے مضطرب ہونے سے کنایہ ہے ۔ جیسا کہ زمین وآسمان کے متعلق بطور کنایہ کے فرمایا ۔ إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے ۔ وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی ۔ يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر۔ اور پہاڑ اڑانے لگیں ( اون ہوکر ) ثمن قوله تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] . الثَّمَنُ : اسم لما يأخذه البائع في مقابلة البیع، عينا کان أو سلعة . وکل ما يحصل عوضا عن شيء فهو ثمنه . قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمانِهِمْ ثَمَناً قَلِيلًا [ آل عمران/ 77] ، ( ث م ن ) الثمن اصل میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو فروخت کرنے والا اپنی چیز کے عوض خریدار سے وصول کرتا ہے خواہ وہ زر نقد ہو یا سامان ۔ قرآن میں ہے :۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اسے تھوڑی سی قیمت یعنی چند درہموں پر بیچ ڈالا ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ العنکبوت/ 27] ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا [يوسف/ 57] . والأُجرة في الثواب الدنیوي، وجمع الأجر أجور، وقوله تعالی: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ [ النساء/ 25] كناية عن المهور، والأجر والأجرة يقال فيما کان عن عقد وما يجري مجری العقد، ولا يقال إلا في النفع دون الضر، نحو قوله تعالی: لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 199] ، وقوله تعالی: فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ [ الشوری/ 40] . والجزاء يقال فيما کان عن عقدٍ وغیر عقد، ويقال في النافع والضار، نحو قوله تعالی: وَجَزاهُمْ بِما صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيراً [ الإنسان/ 12] ، وقوله تعالی: فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ [ النساء/ 93] . يقال : أَجَر زيد عمراً يأجره أجراً : أعطاه الشیء بأجرة، وآجَرَ عمرو زيداً : أعطاه الأجرة، قال تعالی: عَلى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمانِيَ حِجَجٍ [ القصص/ 27] ، وآجر کذلک، والفرق بينهما أنّ أجرته يقال إذا اعتبر فعل أحدهما، وآجرته يقال إذا اعتبر فعلاهما «1» ، وکلاهما يرجعان إلى معنی واحدٍ ، ويقال : آجره اللہ وأجره اللہ . والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی: اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] . ( ا ج ر ) الاجر والاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دنیوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا اجر تو خدا کے ذمے ہے ۔ { وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ } [ العنکبوت : 27] اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے ۔ { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا } [يوسف : 57] اور جو لوگ ایمان لائے ۔ ۔۔۔ ان کے لئے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے ۔ الاجرۃ ( مزدوری ) یہ لفظ خاص کر دنیوی بدلہ پر بولا جاتا ہے اجر کی جمع اجور ہے اور آیت کریمہ : { وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ } [ النساء : 25] اور ان کے مہر بھی انہیں ادا کردو میں کنایہ عورتوں کے مہر کو اجور کہا گیا ہے پھر اجر اور اجرۃ کا لفظ ہر اس بدلہ پر بولاجاتا ہے جو کسی عہد و پیمان یا تقریبا اسی قسم کے عقد کی وجہ سے دیا جائے ۔ اور یہ ہمیشہ نفع مند بدلہ پر بولا جاتا ہے ۔ ضرر رساں اور نقصان دہ بدلہ کو اجر نہیں کہتے جیسے فرمایا { لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ } [ البقرة : 277] ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا ۔ { فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ } ( سورة الشوری 40) تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے الجزاء ہر بدلہ کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی عہد کی وجہ سے ہو یا بغیر عہد کے اچھا ہو یا برا دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ { وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا } [ الإنسان : 12] اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم ( کے ملبوسات) عطا کریں گے ۔ { فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } ( سورة النساء 93) اس کی سزا دوزخ ہے ۔ محاورہ میں ہے اجر ( ن ) زید عمرا یا جرہ اجرا کے معنی میں زید نے عمر کو اجرت پر کوئی چیز دی اور اجر عمر زیدا کے معنی ہوں گے عمرو نے زید کو اجرت دی قرآن میں ہے :۔ { عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ } [ القصص : 27] کہ تم اس کے عوض آٹھ برس میری خدمت کرو ۔ اور یہی معنی اجر ( مفاعلہ ) کے ہیں لیکن اس میں معنی مشارکت کا اعتبار ہوتا ہے اور مجرد ( اجرتہ ) میں مشارکت کے معنی ملحوظ نہیں ہوتے ہاں مال کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں ۔ محاورہ ہی ۔ اجرہ اللہ واجرہ دونوں طرح بولا جاتا ہے یعنی خدا اسے بدلہ دے ۔ الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : { اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ } [ القصص : 26] اسے اجرت پر ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو میں ( استئجار کا لفظ ) ملازم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ سرع السُّرْعَةُ : ضدّ البطء، ويستعمل في الأجسام، والأفعال، يقال : سَرُعَ ، فهو سَرِيعٌ ، وأَسْرَعَ فهو مُسْرِعٌ ، وأَسْرَعُوا : صارت إبلهم سِرَاعاً ، نحو : أبلدوا، وسَارَعُوا، وتَسَارَعُوا . قال تعالی: وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] ، وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] ( س ر ع ) السرعۃ اس کے معنی جلدی کرنے کے ہیں اور یہ بطا ( ورنگ گردن ) کی ضد ہے ۔ اجسام اور افعال دونوں کے ( ان کے اونٹ تیز رفتاری سے چلے گئے ) آتے ہں ۔ جیسا کہ اس کے بالمقابل ایلد وا کے معنی سست ہونا آتے ہیں ۔ سارعوا وتسارعو ایک دوسرے سے سبقت کرنا چناچہ قرآن میں ہے : وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] اور اپنے پروردگار کی بخشش ( اور بہشت کی ) طرف لپکو ۔ وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] اور نیکیوں پر لپکتے ہیں ۔ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] اس روز زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور جھٹ جھٹ نکل کھڑے ہوں گے ۔ حسب الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً وحُسْبَاناً ، قال تعالی: لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] ، وقیل : لا يعلم حسبانه إلا الله، ( ح س ب ) الحساب کے معنی گنتے اور شمار کرنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ حسبت ( ض ) قرآن میں ہے : ۔ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] اور برسوں کا شمار اور حساب جان لو ۔ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔ اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩٩) یعنی قرآن کریم اور توریت پر بھی اعتقاد رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں پوری طرح مستعد ہیں اور اس کے حضور عجز کرتے ہیں، کم حقیقت معاوضہ کے بدلہ توریت میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت وصفت کو نہیں چھپاتے جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور اس کے دیگر ساتھی ہیں۔ ان حضرات کو جنت میں ثواب ملے گا اور اللہ تعالیٰ جب حساب لیں گے تو بہت جلدی یعنی آسانی کے ساتھ حساب کردیں گے، آگے اللہ تعالیٰ جہاد اور تکالیف پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب فرماتے ہیں کہ قرآن کریم اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھنے والو ! اپنے نبی کے ساتھ جہاد میں اس قدر ثابت قدم رہو کہ دشمنوں کو مغلوب کردو۔ شان نزول : (آیت) ” وان من اھل الکتب “۔ (الخ) امام نسائی (رح) نے حضرت انس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جب شاہ حبش اصمحہ نجاشی (رض) کے انتقال کی خبر آئی تو رسول اکرم (رض) نے صحابہ کرام (رض) سے فرمایا ان پر نماز پڑھو، صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ایک عبدحبشی کی نماز پڑھیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ابن جریر (رح) نے جابر (رض) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور مستدرک میں عبداللہ بن زبیر (رض) سے مروی ہے کہ یہ آیت شاہ نجاشی (رض) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩٩ (وَاِنَّ مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ باللّٰہِ ) ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہے ‘ وہ عاجزی اور تواضع اختیار کرتے ہیں۔ (اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) ۔ وہ حساب لینے میں دیر نہیں لگاتا۔ آخری آیت پھر بہت جامع ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(199 ۔ 200) ۔ مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن زبیر ١ سے اور نسائی میں حضرت انس (رض) سے اور تفسیر ابن جریر میں حضرت جابر (رض) سے جو روایت اس آیت کی شان نزول میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ نجاشی بادشاہ حبشہ کا جب انتقال ہوگیا تو آپ نے صحابہ کو ساتھ لے کر بقیع میں جا کر نجاشی کی صلوٰۃ الغائب پڑھی۔ بعض منافقوں نے یہ چرچا کیا کہ نصرانی غلام حبشہ کی نماز مسلمانوں سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیوں پڑھوائی اس چرچے کو غلط ٹھہرانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ٢۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ سب اہل کتاب ایک سے نہیں ہیں بعض وہ ہیں کہ عہد کے بعد اللہ کے احکام کو بدلتے اور چھپاتے ہیں جن کا ذکر اوپر گذرا۔ اور بعض وہ ہیں جو اللہ کی کتابوں پر پورا ایمان رکھتے ہیں جیسے عبد اللہ بن سلام (رض) اور ان کے ساتھی اور نجاشی ان لوگوں کو اللہ اجر دے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجاشی در پردہ مسلمان تھا۔ حاکم نے اس شان نزول کو صحیح بتایا ہے ٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یہ آیت ان اہل کتاب (یہود اور عیسا ئیوں) کے حق میں نازل ہوئی ہے جو سچے دل سے مسلمان ہوگئے تھے، بعض روایات میں ان کی کل تعدادد 80 مذکور ہے جن میں عبد اللہ بن سلام اور اصجمہ نجاشی بادشاہ حبشہ بھی شامل ہے۔ نجا شی کی موت کی خبر آنے پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ اس کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھائی۔ (لباب النقول، کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کے بعد اہل کتاب میں سے ایمان والوں کا خصوصی ذکر اور اجر۔ اس سورت میں یہودیوں کے کردار کا ضمناً اور عیسائیوں کے کردار اور عقائد کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔ جس میں ان کے فکر و عمل کی کمزوریوں کی نشان دہی کی گئی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وضاحت فرمائی کہ اہل کتاب تمام کے تمام ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے ‘ شب زندہ دار، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والے بھی ہیں۔ اس فرمان سے پہلے مومنوں کی دعاؤں کی قبولیت اور بلا امتیاز ان کو اجر وثواب کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اب اختتام پر ضروری سمجھا گیا ہے کہ اہل کتاب کے ان لوگوں کو اطمینان دلایا جائے جو، تورات اور انجیل کے بعد قرآن مجید پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو دنیا کی حقیر اور قلیل قیمت کے بدلے فروخت کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ انہوں نے دنیا میں معمولی صلہ پانے کی بجائے آخرت کے اجر وثواب کی خاطر ایسا کیا ہے۔ جس بنا پر انہیں یہ تسلی دی گئی ہے کہ ان کا اجر ان کے رب کے ہاں محفوظ ہے۔ جوا نہیں اللہ تعالیٰ بہت جلد عطا کرنے والا ہے۔ ” حضرت عبداللہ بن قیس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین آدمی ہیں جنہیں دوہرا اجر ملے گا۔ 1 اہل کتاب میں سے جو اپنے نبی اور محمد کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لایا۔ 2 غلام جو اللہ کا حق ادا کرنے کے ساتھ اپنے مالک کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ 3 ایسا آدمی جس کے پاس لونڈی ہو اس نے اس کی اچھی تعلیم و تربیت کی پھر اسے آزاد کرکے اس کے ساتھ نکاح کرلیا۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ وأھلہ ] مسائل ١۔ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے لیے اللہ کے ہاں بڑا اجر ہوگا۔ ٢۔ اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورت کے مضامین ختم ہونے سے قبل روئے سخن پھر اہل کتاب کی طرف مڑجاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اہل کتاب میں بعض لوگ ایسے ہیں جو مومنین کی طرح صحیح العقیدہ ہیں ۔ اور یہ لوگ قافلہ ایمان میں شامل ہوگئے ہیں ۔ وہ اسی کے ساتھ جارہے ہیں ۔ اس لئے ان کی جزا بھی وہی ہوگی جو اہل ایمان کی ہوگی ۔ یہ اہل کتاب کے ساتھ اختتامی خطاب ہے ۔ اس سے قبل اہل کتاب کے فرقوں اور ان کے مختلف مواقف کے بارے میں اس سورت کے ایک بڑے حصے میں بات ہوئی تھی ۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان کے اعلیٰ نمونوں کی اس نمائش گاہ اور دعا اور قبولیت دعا کے اس منظر میں اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کے نمونے اس نمائش میں رکھنے کے قابل ہیں ۔ اس لئے کہ اہل کتاب میں سے بعض لوگ صحیح راستے پر گامزن ہوگئے ہیں ۔ وہ صحیح انجام تک آپہنچے ہیں ۔ وہ تمام کتب پر ایمان لے آئے ہیں ۔ (موجودہ اور سابق) وہ اللہ اور اس کے درمیان بلحاظ اطاعت فرق بھی نہیں کرتے ۔ وہ اللہ کے رسولوں میں سے بھی کسی میں فرق نہیں کرتے ۔ وہ اس کتاب پر بھی ایمان لائے جو ان کی طرف نازل ہوئی اور اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں جو مسلمانوں پر نازل ہوئی ہے ۔ اور یہی اسلامی نظریہ حیات کی خصوصیت ہے کہ وہ قافلہ ایمانی کی طرف قرب و محبت کی نظروں کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اس کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ نظریہ کی ایک ہی لائن ہے جو ذات باری کے ساتھ موصول ہے ۔ وہ اسلامی نظریہ حیات کو ایک وحدت سمجھتا ہے ۔ اسے کلی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ یہاں اہل کتاب مومنین کی خصوصیات میں سے جس اہم خصوصیت کو ظاہر کیا جارہا ہے وہ ان کی صفت خشوع و خضوع ہے اور ان کی یہ صفت کہ وہ اللہ کی آیات کے بدلے اس دنیا کے ثمن قلیل کو قبول نہیں کرتے ۔ یہ صفات اس لئے ذکر کی گئیں کہ انہیں دوسرے اہل کتاب کی صفوں سے چھانٹ کر الگ کردیا جائے جن میں یہ دونوں کمزوریاں موجود تھیں ۔ یعنی متکبر بھی تھے اور بےحیا بھی تھے ۔ آیات کو چھپاتے بھی تھے اور ان میں تحریف بھی کرتے تھے ۔ اور یہ کام وہ نہایت ہی گھٹیا مقصد کے لئے کرتے تھے ۔ اور ان کے ساتھ وہی وعدہ اجر کیا جاتا ہے جو اہل ایمان کے ساتھ ہے اور یہ اجر دستی طور پر ادا ہوگا کوئی ٹال مٹول نہ ہوگی۔ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ……………(اللہ تعالیٰ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا ۔ )

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مومنین اہل کتاب کا اجر مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب سب ہی ایسے نہیں جو کفر پر جمے رہیں۔ اور اللہ کے آخری نبی اور آخری کتاب کے انکار پر تلے رہیں۔ بلکہ ان میں ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور جو کتاب تم پر یعنی اہل اسلام پر نازل ہوئی ہے اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور جو کتاب ان پر اتاری گئی (یعنی ان کے انبیاء (علیہ السلام) کے واسطہ سے ہے) اس پر بھی ایمان لاتے ہیں، ان میں عناد اور تکبر نہیں ہیں۔ وہ اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور اللہ کی آیات کے ذریعہ تھوڑی سی قیمت حاصل نہیں کرتے یعنی یہ لوگ طالب دنیا نہیں ہیں جو پوری کی پوری آخرت کے مقابلہ میں ذرا سی چیز ہے یہ لوگ آخرت کے طالب ہیں اللہ کی رضا چاہتے ہیں، اللہ کے ہاں ان کو اپنا اجر ملے گا، لہٰذا حق کو نہیں چھپاتے، اور اللہ کی آیات کو صحیح صحیح بیان کرتے ہیں، اپنی قوم سے کسی طرح کی رشوت کے طالب نہیں۔ (اُولٰٓءِکَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ ) (ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس) یعنی ان کے اعمال کا ثواب ان کو ملے گا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اضافت عہد کے لیے ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کو وہ اجر عطا کردیا جائے گا جس کا ان سے وعدہ فرمایا ہے جو سورة قصص میں مذکور ہے۔ (اُولٰٓءِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا) کہ انہیں دہرا اجر دیا جائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا۔ اسباب النزول صفحہ ١٣٤ میں حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت انس اور حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ آیت بالا نجاشی کے بارے میں نازل ہوئی (جو حبشہ کا بادشاہ تھا اور وہیں اس نے اسلام قبول کرلیا تھا) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نجاشی کی موت کی خبر دی آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ چلو اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو تمہاری اس سر زمین کے علاوہ دوسری جگہ وفات پا گیا۔ آپ بقیع کی طرف روانہ ہوگئے اور جب اس کی نماز جنازہ پڑھانے لگے تو نجاشی کا جنازہ آپ کے سامنے کردیا گیا (یہ بطور معجزہ تھا) آپ نے نماز جنازہ پڑھی اور اس کے لیے استغفار کیا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ اس کے لیے استغفار کرو اس پر منافقین کہتے لگے کہ دیکھو یہ ایک حبشی نصرانی کی نماز جنازہ پڑھا رہے ہیں جس کو انہوں نے دیکھا بھی نہیں اور جو ان کے دین پر بھی نہیں تھا۔ اس پر آیت (وَ اِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ ) آخر تک نازل ہوئی۔ پھر حضرت مجاہد اور ابن جریج اور ابن زید سے صاحب اسباب النزول نے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ان تمام اہل الکتاب کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔ سبب نزول خاص ہوتے ہوئے بھی الفاظ کا عموم تمام اہل کتاب مومنین کو شامل ہے۔ (اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) (بےشک اللہ جلدی حساب لینے والا ہے) ابرار اور صالحین کو ان کا بدلہ دیا جائے گا اور کافر اور اشرار کو ان کا بدلہ دے دیا جائے گا یہ دنیاوی زندگی گزرنے میں جو دیر لگ رہی ہے اس کو دیر نہ سمجھنا چاہیے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

298 پہلے وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ الَّذِینْ اُوْتُوْا لْکِتٰبَ الخ (رکوع 19) میں مسئلہ توحید کو نہ ماننے والے اہل کتاب کو زجر کے مقابلہ میں یہاں ان کے لیے بشارتِ اخروی ہے جو ان میں دعویٰ مذکورہ مان چکے ہیں اور اس میں نہ ماننے والوں کے لیے ترغیب کا پہلو بھی موجود ہے۔ یعنی اکثر اہل کتاب مسئلہ توحید نہیں مانتے۔ حالانکہ ان میں سے بعض مان چکے ہیں۔ اگر یہ مسئلہ حق نہ ہوتا تو وہ کیوں مانتے۔ اس لیے انہیں بھی مسئلہ توحید پر ایمان لے آنا چاہئے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اے پیغمبر ! آپ کو ان کافروں کا شہر بشہر تجارت اور دنیوی فوائد کے لئے چلنا پھرنا اور آنا جانا کسی غلطی اور دھوکے میں مبتلا نہ کردے یہ بہت تھوڑا سافائدہ ہے جو تھوڑے دنوں کے لئے ہے اور مرنے کے بعد کچھ بھی نہیں پھر ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور وہ جہنم بہت ہی بری آرام گاہ ہے لیکن برعس اس کے وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے رہنے کیلئے ایسے باغات ہیں جن کے محلات اور سیرگاہ کے نیچے نہریں بہ رہی ہونگی ان باغوں میں وہ ہمیشہ سکونت پذیر ہوں گے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مہمانی اور مہمانی کا سامان ہوگا اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ نیک لوگوں کے لئے کفار کے ان چند روزہ دنیوی سازو سامان سے بدرجہا بہتر ہیں اور یقیناً اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ضرور ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی کتاب اور اس تعلیم پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہیح اور اس کتاب کے ساتھ بھی اعتقاد رکھتے ہیں جو ان کی طرف بھیجی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے میں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس کے لئے عاجزی کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے مقابلہ میں دنیا کا کم حقیقت معاوضہ نہیں حاصل کرتے پھرتے اور اللہ کی آیات بےحقیقت قیمت کے عوض فروخت نہیں کیا کرتے ایسے لوگوں کو ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ملے گا۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی مزدوری اور حق الخدمت ان کے پروردگار کے پاس موجود ہے۔ یقین مانو ! کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے والا ہے اور وہ بہت جلد ہی حساب بےباق کردیا کرتا ہے۔ (تیسیر) لایغرنک میں خطاب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنی رائے پر ثابت رہنے کا حکم دیا گیا ہے یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ آپ میں کوئی تزلزل رونما تھا اور اس قسم کا کوئی خیال کرنا حضور انور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عصمت کے بھی منافی نہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب آپ کو ہے مگر مراد آپ کی امت ہو۔ جیسا کہ عام طور پر حکم سردار اور حاکم کے نام ہو مگر مراد اس کے متبعین اور ماتحت ہوتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب ہر مخاطب کو ہو۔ تقلب کے معنی لوٹ پلٹ۔ چلت پھرت آنا جانا۔ خواہ وہ تجارت کی غرض سے ہو یا نفع کی غرض سے ہو بہرحال شہر بشہر کا ان کا جانا اور دنیوی منافع اور مکاسب کا حاصل کرنا اور سیرو تفریح کے مزے اڑانا یہ باعث رشک نہ ہونا چاہئے اور اس سے کسی مغالطہ میں مبتلا نہ ہو جیسا کہ بعض لوگوں کو خیال ہوجاتا ہے کہ یہ اللہ کے دشن تو دنیا بھر کے مزے لوٹتے پھرتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر ہر قسم کے مصائب میں مبتلا ہیں تو کافروں کا یہ عیش اور یہ عارضی فائدہ قابل التفات نہ ہونا چاہئے یہ مزے آخرت کے مقابلے میں اول تو کوئی حقیقت نہیں رکھتے پھر یہ لوگ آخرت میں ہر فائدے سے محروم ہیں کیونکہ ان کا آخری ٹھکانا دوزخ ہے۔ مہد کے معنی ہم بتاچکے ہیں کہ مہد اصل میں تو اس جگہ کو کہتے ہیں جو بچہ کے سونے کیلئے بناتے ہیں لیکن عام طور سے فرش ، بچھونا اور رہنے کی جگہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے مہاد کا ترجمہ منزل کیا ہے تقلب کو متاع فرمانے میں مسبب کو سبب کے قائم مقام کردیا ہے ورنہ تقلب متاع کا سبب ہے لکن الذین اتقوا کا یا تو یہ مطلب ہے کہ جو لوگ ان میں سے اپنے پروردگار سے ڈریں اور ایمان لے آئیں تو ان کیلئے آخرت میں بھی ثواب ہے۔ اور یا یہ مطلب ہے کہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ نفس تقلب اور مکاسب و منافع کا مقتضا جہنم اور ثواب آخرت سے محرومی نہیں بلکہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں وہ باوجود تجارت کرنے اور شہر ور شہر جاکر نفع حاصل کرنے کے بھی اجر وثواب کے حقدار ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کا اجر وثواب تو اہل تقویٰ کے لئے ہے اگر وہ تاجر ہوں اور شہر بہ شہر آتے جاتے بھی ہوں تو وہ آخرت سے محروم نہ ہوں گے کیونکہ تجارت کرنا یا سیرو سیاحت کی غرض سے یا تبدیلی آب و ہوا کی غرض سے سفرک رنا یا تفریح کے لئے کہیں آنا جانا اگر تقویٰ کے ساتھ ہو تو موجب جہنم نہیں ہے۔ آخرت کی محرومی کا اصل سبب تو کفر ہے۔ نزلا کے معنی مہمانی یا وہ چیز جو مہمان کے لئے تیار کی جائے۔ بہرحال اہل تقویٰ کا یہ مرتبہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوں گے اور جن باغات کا ذکر کیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مہمانی کا سامان ہوگا۔ وما عند اللہ خیرا کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ہم نے تیسیر میں عرض کیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اپنے بندوں کے لئے جو کچھ بھی ہے یعنی جو چیزیں ہم نے ذکر کی ہیں اس کے علاوہ بھی جو کچھ ہے۔ مثلاً قرب، رحمت، کرامت، رویت یہ مذکورہ اور غیر مذکورہ سب چیزیں بہرحال متاع قلیل سے بدرجہا بہتر ہیں۔ آخر میں بعض ان اہل کتاب کا ذکر فرمایا جو مسلمان ہوگئے تھے ان کے اوصاف میں چند باتیں فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان، قرآن اور اسلامی تعلیمات پر ایمان اور توریت و انجیل پر اعتقاد اللہ تعالیٰ کی جناب میں خشوع اور خضوع اور کتمان حق کا ترک یعنی رشوتیں لے کر اور دنیوی عزت و وجاہت کی خاطر جو تحریف و تبدیل کرتے تھے یا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت چھپاتے تھے اس سے توبہ۔ ایسے نو مسلموں کے لئے بھی اجر وثواب کا وعدہ فرمایا۔ حساب جلدی لینا کنا یہ ہے۔ جلدی اجرت کے مل جانے کا جو حساب جلدی کرے گا وہ بےباق بھی جلدی کردے گا اور جو حساب کا لیچڑ ہوگا وہ بھگتان کا بھی لیچڑ ہوگا۔ یا جلدی کا مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب ہے اور یہ حساب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لے گا۔ ہم تفصیل پہلے عرض کرچکے ہیں اردو میں بھی دونوں محاورے استعمال ہوتے ہیں ایک حساب جلدی لینا یعنی حساب لینے میں تاخیر نہ کرنا اور ایک جلدی لینا یعنی جلدی سے کردینا اور سیکنڈوں میں ختم کردینا۔ ان اللہ سریع الحساب میں دونوں کی گنجائش ہے ہوسکتا ہے کہ لکن الذین اتقوا سے مراد نو مسلم یہودی عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہوں۔ اور ان من اھل الکتاب سے مراد نو مسلم نصرانی نجاشی اور اس کے ساتھی ہوں اور ہوسکتا ہے کہ دونوں آیتوں کا تعلق فقط نو مسلم یہود سے ہو یا فقط نو مسلم نصاریٰ سے ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لکن سے مراد نو مسلم کافر ہوں اور ان من اھل الکتاب سے نو مسلم یہودو نصاریٰ ہوں۔ شان نزول میں روایات مختلفہ ہیں۔ البتہ وان من اھل الکتاب سے نجاشی کا مراد ہونا یقیناً راجج اور صحیح ہے۔ (واللہ اعلم) چونکہ شروع سورت میں بخران کے نصاریٰ اور وفد نجران کے شہادت کا جواب تھا اس لئے آخر میں نجاشی کے اسلام اور اس کے اج وثواب کا تذکرہ اور اس کے خشوع و خضوع کا ذکر فرمانا مناسبت کے اعتبار سے بعید از قیاس نہیں ہے۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ جب نجاشی کا انتقال ہوا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اس پر بعض لوگوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ ایک حبشی کے لئے جو حبشہ میں رہتا تھا استغفار کا حکم کرتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ابن جریر کی روایت میں ہے جب نجاشی مرگیا جس کا نام اصحمہ تھا تو آپ نے اصحاب کو حکم دیا کہ تمہارا بھائی اصحمہ مرگیا ہے پھر آپ نے باہر نکل کر جنازے کی نماز کی طرح نماز پڑھی چار تکبیریں کہیں اس پر منافقوں نے کہا ایک حبشی کے لئے نماز پڑھتے ہیں جو حبشہ میں مرا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ (1) کفار کی خوشحالی اور عیش کو دیکھ کر متاثر نہ ہو اور مخالطہ نہ کھائو یہ چند روزہ نفع سے جو ناقابل التفات ہے کیونکہ یہ تمام منافع آخرت کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔ (2) اس کا یہ مطلب نہ سمجھنا کہ اگر کوئی مسلمان خوشحال ہو اور تجارت سے نفع کماتا ہو تو اس کا سفر بھی موجب حرماں ہے اور اس کا بھی آخری ٹھکانا جہنم ہے نہیں بلکہ مسلمان اس سے مستثنا ہیں۔ (3) تقویٰ سے مراد یہاں بھی ہر مرتبہ کا تقویٰ ہے جو قائلیں توحید و رسالت کو بھی شامل ہے اسی لئے ہم نے ترجمہ مسلمان کیا ہے اور جب معمولی درجہ کا موحد مسلمان مستثنا ہے تو متقی بالاولیٰ مستثنا ہوں گے۔ (4) ایسے خوش حال مسلمانوں کے لئے خواہ وہ نو مسلم ہی ہوں باغ ہیں اور نہریں ہیں اور یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور مہمانی ہیں۔ (5) یہ تمام مذکورہ چیزیں اور ان کے علاوہ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے وہ نیک لوگوں کے لئے کافروں کی خوش حالی سے کہیں بہتر ہے۔ (6) اہل کتاب میں خواہ وہ نصرانی ہوں یا یہودی ہوں جو کتب سماویہ پر اعتقاد رکھے گا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعتقاد رکھے گا اور اللہ کے سامنے عاجزی کرے گا اور آیات الٰہی کو کم حقیقت قیمت پر فروخت کرتا نہ پھرے گا اور رشوتیں لے کر احکام الٰہی کو بدلے گا نہیں اور حق بات کو چھپائے گا نہیں تو ایسے نو مسلم لوگوں کے لئے اللہ کے پاس ان کا اجر وثواب موجود ہے اور ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوگا جو مسلمانوں کے ساتھ ہوگا۔ (7) اللہ تعالیٰ کے حساب لینے میں تاخیر نہیں ہے اور وہ بہت جلد حساب لے لیتا ہے اس کے حساب کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ (8) خاشعین للہ سے معلوم ہوا کہ یہ نومسلم اہل کتاب کا ذکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو عام طور سے غیر مسلم اہل کتاب بھی مانتے تھے لیکن ان میں خشوع نہ تھا اور اسی بنا پر وہ نبی آخر الزماں اور قرآن کریم کی مخالفت کرتے تھے۔ (واللہ اعلم) اب سورت کے ختم پر تمام معاملات پر جو اہل اسلام کو کفار کی جانب سے پیش آئے تھے اور جن کا ذکر اس سورت میں آتا رہا ہے ان معاملات کے لئے ایک ضابطہ بیان کرتے ہیں اور اسی ضابطہ پر اس سورت کو ختم فرمایا ہے۔ (تسہیل)