Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 26

سورة آل عمران

قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الۡمُلۡکِ تُؤۡتِی الۡمُلۡکَ مَنۡ تَشَآءُ وَ تَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ ۫ وَ تُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ؕ بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۶﴾

Say, "O Allah , Owner of Sovereignty, You give sovereignty to whom You will and You take sovereignty away from whom You will. You honor whom You will and You humble whom You will. In Your hand is [all] good. Indeed, You are over all things competent.

آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Encouraging Gratitude Allah said, قُلِ ... Say, O Muhammad, while praising your Lord, thanking Him, relying in all matters upon Him and trusting in Him. ... اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ... O Allah! Possessor of the power, meaning, all sovereignty is Yours. ... تُوْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاء وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاء وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء ... You give power to whom You will, and You take power from whom You will, and You endue with honor whom You will, and You humiliate whom You will. meaning, You are the Giver, You are the Taker, it is Your will that occurs and whatever You do not will, does not occur. This Ayah encourages thanking Allah for the favors He granted His Messenger and his Ummah. Allah transferred the Prophethood from the Children of Israel to the Arab, Qurashi, Makkan, unlettered Prophet, the Final and Last of all Prophets and the Messenger of Allah to all mankind and Jinn. Allah endowed the Prophet with the best of qualities from the prophets before him. Allah also granted him extra qualities that no other Prophet or Messenger before him was endowed with, such as granting him (more) knowledge of Allah and His Law, knowledge of more of the matters of the past and the future, such as what will occur in the Hereafter. Allah allowed Muhammad's Ummah to reach the eastern and western parts of the world and gave dominance to his religion and Law over all other religions and laws. May Allah's peace and blessings be on the Prophet until the Day of Judgment, and as long as the day and night succeed each other. This is why Allah said, قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ (Say: "O Allah! Possessor of the power"), meaning, You decide what You will concerning Your creation and You do what you will. Allah refutes those who thought that they could decide for Allah, وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns (Makkah and Ta'if)!" (43:31) Allah refuted them by saying, أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ Is it they who would portion out the Mercy of your Lord! (43:32), meaning, "We decide for Our creation what We will, without resistance or hindrance by anyone. We have the perfect wisdom and the unequivocal proof in all of this, and We give the Prophethood to whom We will." Similarly, Allah said, اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ Allah knows best with whom to place His Message. and, انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ See how We prefer one above another (in this world). (17: 21) ... بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ In Your Hand is the good. Verily, You are able to do all things. Allah said,

مالک الملک کی حمد و ثناء اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کی تعظیم کرنے اور اس کا شکریہ بجا لانے اور اسے اپنے تمام کام سونپنے اور اس کی ذات پاک پر پورے بھروسہ کا اظہار کرنے کے لئے ان الفاظ میں اس کی اعلیٰ صفات بیان کیجئے جو اوپر بیان ہوئی ہیں ۔ یعنی اے اللہ تو مالک الملک ہے ، تیری ملکیت میں تمام ملک ہے ، جسے تو چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے اپنا دیا ہوا واپس لے لے ، تو ہی دینے اور لینے والا ہے تو جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے اور جو نہ چاہے ہو ہی نہیں سکتا ، اس آیت میں اس بات کی بھی تنبیہہ اور اس نعمت کے شکر کا بھی حکم ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کو مرحمت فرمائی گئی کہ بنی اسرائیل سے ہٹا کر نبوت نبی عربی قریشی امی مکی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی گئی اور آپ کو مطلقاً نبیوں کے ختم کرنے والے اور تمام انس و جن کی طرف رسول بن کر آنے والے بنا کر بھیجا ، تمام سابقہ انبیاء کی خوبیاں آپ میں جمع کر دیں بلکہ ایسی فضیلتیں آپ کو دی گئیں جن سے اور تمام انبیاء بھی محروم رہے خواہ وہ اللہ کے علم کی بابت ہوں یا اس رب کی شریعت کے معاملہ میں ہوں یا گذشتہ اور آنے والی خبروں کے متعلق ہوں ، آپ پر اللہ تعالیٰ نے آخرت کے کل حقائق کھول دئیے ، آپ کی امت کو مشرق مغرب تک پھیلا دیا آپ نے دن اور آپ کی شریعت کو تمام دینوں اور کل مذہبوں پر غالب کر دیا ، اللہ تعالیٰ کا درود و سلام آپ پر نازل ہو اب سے لے کر قیامت تک جب تک رات دن کی گردش بھی رہے اللہ آپ پر اپنی رحمتیں دوام کے ساتھ نازل فرماتا رہے ۔ آمین ، پس فرمایا کہو اے اللہ تو ہی اپنی خلق میں ہیر پھیر کرتا رہتا ہے جو چاہے کر گزرتا ہے ، جو لوگ کہتے تھے کہ ان دو بستیوں میں سے کسی بہت بڑے شخص پر اللہ نے اپنا کلام کیوں نازل نہ کیا اس کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ( اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ) 43 ۔ الزخرف:32 ) کیا تیرے رب کی رحمت کو بانٹنے والے یہ لوگ ہیں ، جب ان کے رزق تک کے مالک ہم ہیں جسے چاہیں کم دیں جسے چاہیں زیادہ دیں تو پھر ہم پر حکومت کرنے والے یہ کون؟ کہ فلاں کو نبی کیوں نہ بنایا ؟ نبوت بھی ہماری ملکیت کی چیز ہے ہم ہی جانتے ہیں کہ اس کے دئیے جانے کے قابل کون ہے؟ جیسے اور جگہ ہے آیت ( اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ) 6 ۔ الانعام:124 ) جہاں کہیں اللہ تعالیٰ اپنی رسالت نازل فرماتا ہے اسے وہی سب سے بہتر جانتا ہے ، اور جگہ فرمایا ( آیت انظر کیف فضلنا بعضھم علی بعض ) دیکھ لے کہ ہم نے کسی طرح ان میں آپس میں ایک کو دوسرے پر برتری دے رکھی ہے ، پھر فرماتا ہے کہ تو ہی رات کی زیادتی کو دن کے نقصان میں بڑھا کر دن رات کو برابر کر دیتا ہے ، زمین و آسمان پر سورج چاند پر پورا پورا قبضہ اور تمام تر تصرف تیرا ہی ہے ، اسی طرح جاڑے کی گرمی اور گرمی کو جاڑے سے بدلنا بھی تیری قدرت میں ہے ، بہارو خزاں پر قادر تو ہی ہے ۔ تو ہی ہے کہ زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالے کھیتی سے دانے اگاتا ہے اور دانہ سے کھیتوں کو لہلہاتا ہے ، کھجور گٹھلی سے اور گٹھلی کھجور سے تو ہی پیدا کرتا ہے مومن کو کافر کے ہاں اور کافر کو مومن کے ہاں تو ہی پیدا کرتا ہے ، مرغی انڈے سے اور انڈا مرغی سے اور اسی طرح کی تمام تر چیزیں تیرے ہی قبضہ میں ہیں ، تو جسے چاہے اتنا مال دے دے جو نہ گنا جائے نہ احاطہ کیا جائے اور جسے چاہے بھوک کے برابر روٹی بھی نہ دے ، ہم مانتے ہیں کہ یہ کام حکمت سے پر ہیں اور تیرے ارادے اور تیری چاہت سے ہی ہوتے ہیں ، طبرانی کی حدیث میں ہے اللہ کا اسم اعظم اس ( آیت قل اللھم الخ ، ) میں ہے کہ جب اس نام سے اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرما لیتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

26۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قوت وطاقت کا اظہار ہے شاہ کو گدا بنا دے، گدا کو شاہ بنا دے، تمام اختیارات کا مالک ہے یعنی تمام بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں تیرے سوا کوئی بھلائی دینے والا نہیں شرکاء خالق بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ لیکن ذکر صرف خیر کا کیا گیا ہے شر کا نہیں اس لئے کہ خیر اللہ کا فضل محض ہے بخلاف شر کے یہ انسان کے اپنے عمل کا بدلہ ہے جو اسے پہنچتا ہے یا اسلئے کہ شر بھی اس کے قضا وقدر کا حصہ ہے جو خیر کو متضمن ہے اس اعتبار سے اس کے تمام افعال خیر ہیں (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠] اس آیت میں اگرچہ خطاب عام ہے، جس میں اہل کتاب، مشرکین عرب اور مسلمان سب شامل ہیں۔ تاہم ربط موضوع کے لحاظ سے بالخصوص یہ خطاب یہود اور کفار سے ہے جو جنگ خندق کے موقعہ پر یوں کہہ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ اپنے بچاؤ کی خاطر خندق کھود رہے ہیں، نہ کچھ کھانے کو پاس موجود ہے اور نہ ہی کوئی اسلحہ جنگ ہے لیکن قیصر و کسریٰ کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، یہ دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے ؟ یہود اور کفار کی اسی پھبتی کا جواب اس جامع قسم کی دعا میں دیا گیا ہے کہ عزت و ذلت اور اقتدار وغیرہ سب کچھ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ آج جو حاکم ہیں کل محکوم بن جائیں اور جو شہنشاہ ہیں وہ گدا بن جائیں جو کمزور ہیں وہ طاقتور بن جائیں۔ بھلا جو ہستی مردہ کو زندہ سے اور زندہ کو مردہ سے نکال سکتی ہے وہ مقتدر سے محتاج اور محتاج سے مقتدر کیوں نہیں بنا سکتی ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْك : سیبویہ اور خلیل نے کہا ” اللّٰهُمَّ “ اصل میں ” یَااللّٰہُ “ تھا، شروع سے ” یا “ کو حذف کیا تو آخر میں میم مشدد لگا دی۔ ” مٰلِكَ الْمُلْكِ “ سے پہلے بھی ” یا “ پوشیدہ ہے، اس لیے لفظ ” مٰلِكَ “ منصوب ہے۔ ( شوکانی) گویا اس دعا میں اللہ کے ذاتی اور صفاتی دونوں ناموں سے دعا کرنا سکھایا گیا ہے۔ یہودی غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ حکم و نبوت کا یہ سلسلہ ہمیشہ ان میں رہے گا، دوسری قوم اس کا حق نہیں رکھتی، مگر جب نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک امی قوم بنی اسماعیل سے مبعوث ہوگئے تو ان کے غیظ و غضب اور حسد کی انتہا نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی والا اور ساری بادشاہی کا مالک ہے۔ وہ جس قوم کو چاہتا ہے دنیا میں عزت و سلطنت سے نواز دیتا ہے۔ لہٰذا نبوت جو بہت بڑی عزت ہے، اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جسے چاہا پسند فرما لیا۔ اللہ تعالیٰ پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ یہاں دعا کے انداز میں مسلمانوں کو بشارت بھی دے دی کہ تمہیں اس دنیا میں غلبہ و اقتدار حاصل ہوگا اور خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے، لہٰذا تمہیں چاہیے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاؤ۔ ” الْخَيْرُ “ میں الف لام استغراق کا ہے اور ”ۭبِيَدِكَ “ خبر پہلے آنے سے تخصیص پیدا ہوگئی ہے، اس لیے ترجمہ ” تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے “ کیا گیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In these verses, Muslims have been taught and prompted to make a particular prayer which, in a subtle way, gives an indication that they are going to overpower disbelievers. This has its proof in the background in which these verses were revealed. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) promised that Byzantine and Persia will be tak¬en, the hypocrites and the Jews laughed at the idea. Thereupon, this verse was revealedI. 1. Ruh al-Ma& ani from al-Wahidi, from Ibn ` Abbas and Anas (رض) Commentary The background of Revelation: An episode from the Battle of Khandaq The recurring defeat of the disbelievers of Makkah at Badr and Uhud and their general failure to register any gains in their hostility against Muslims coupled with the growing strength of Muslims and the rise of Islam had made them very nervous, almost reckless. The whole thing ended up in a conspiracy. The disbelievers of Arabia, the Jews and the Christians all joined in a united front against Muslims and resolved to attack Madinah and fight a conclusive battle. This they did, determined to eradicate Islam and Muslims from the face of the earth. The battle is called &al-Ahzab& in the Qur&an, and &Khandaq خندق in history, because the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had decided in consultation with his Companions (رض) that a khandaq خندق or trench be dug around parts of Madinah to block the unhindered attack of the enemy during this battle. According to narrations in al-Baihaqi, Abu Nu&aim and Ibn Khuzai¬mah, when the task of digging the trench was entrusted to the Islamic army, the plan was to allot the digging of a forty hand-span long trench to a group of ten men each. This trench was several miles long and fairly deep and wide, so that the enemy would find it impossible to cross over. Then, the digging had to be completed in the shortest possible time which made the noble Companions (رض) put in whatever time and energy they had in this effort, so much so that they found it difficult to leave the job and take time for even the most pressing of their needs. They were working non-stop on hungry stomachs. Surely, a modern army engineering service with its latest equipment would have not found this kind of job any easier to handle. Here, it was the power of faith which made the completion of this difficult assignment possible. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was taking part in this digging op¬eration as an individual like everybody else. By chance, the diggers came upon a huge rock in a certain part of the trench. Those who were assigned to dig that part of the trench tried their best to break it apart but they became helpless and gave up. They asked Sayyidna Salman al-Farisi to go to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، tell him about the problem and seek his instructions in this connection. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) immediately came at the spot, took the pick-axe in his blessed hands and struck at the rock. The rock was shat-tered into pieces and from it rose a streak of light which illuminated the area far and wide. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: In this light, I see the palaces and buildings of Hirah in the country of Persia. He struck again and a second beam of light rose. He said: &In this light, I was shown the red palaces and buildings of the Byzantinians.& When he struck the third time and the flame beamed its light around, he said: &In this I was shown the great palaces of San&a in Yemen.& Then, he said: &I share the good news given by Jibra&il. (علیہ السلام) with you that my com¬munity of Muslims will prevail over all these countries.& When the hypocrites of Madinah heard about it, they found an oc¬casion to ridicule Muslims - &just look at these people, here they are all scared of the enemy, digging trenches without eating and resting, not knowing for sure if their own lives will be safe, yet they are dreaming of running over Persia, Byzantine and Yemen!& It was in answer to a people so unfair and unjust that Allah Almighty revealed the verse: قُلِ اللَّـهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ‌ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿٢٦﴾ Say: |"0 Allah, 0 Lord of the Kingdom, You give kingdom to whom You will, and take kingdom away from whom You will; and You bestow honour on whom You will, and bring disgrace to whom You will. In Your hand lies the good. You are surely powerful over everything.|" (3 : 26) Appearing in the form of a prayer, this verse so eloquently brings into focus the most perfect power of Allah as it manifests itself in the rise and fall of nations and in the revolutions that rock countries. At the same time it gives a hint that the prophecy made by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) will come to pass and Persia and Byzantine will .fall to Muslims. Here, enemies of Islam have been warned that they have not learnt their lesson from the rise and fall of past wielders of power for they judge events and personalities from the material angle while the truth is that all powers and governments of the world are in the hands of the most pristine power of Allah, the One in whose hands lies all honour and disgrace. There is no doubt that He is capable of making the poor and the meek sit on thrones and wrest power from kings and monarchs. Why then, should it be difficult for him to choose these ragged believers digging trenches to rule over Persia, Syria, Iraq and Yemen? Things usually considered bad, may ultimately prove not to be that bad: Towards the end of the verse, the expression بِيَدِكَ الْخَيْرُ‌ translated as ` in Your hand lies the good& needs some explanation. It will be noticed that in the earlier part of the verse both giving and taking of power and bestowing of honour and bringing of disgrace were mentioned side by side. It would have seemed in keeping with the occasion if the word, شر ‘sharr’ (evil) would have been coupled with &khair& (good). But, the text elects to use the word, &khair& (good) alone and thereby points out to something real and significant in human affairs. The point worth not¬ing is that a person or a people may regard something as unwelcome, and it may even be so for that particular person or people, but looked at from the wider angle of the whole community of nations, it may not be really evil. The Arab poet, Mutanabbi has put it very succinctly when he said: مصایب قوم عند قوم فواید The calamities of one group are the gains of another. In short, the evil of things we regard as evil is partial. Looked at from its relationship to the Creator of the Universe and the Lord of all there is, and viewed in the perspective of the totality of the world of our experience, nothing is really evil or bad as such. So given the wis-dom, the power and the consideration of the created universe as a whole, everything is good, &khair& as the verse sees sufficient to say.

خلاصہ تفسیر ان آیات میں امت محمدیہ کو ایک دعا و مناجات کی تلقین اس انداز سے کی گئی ہے کہ اس کے ضمن میں امت محمدیہ کے کفار پر غلبہ پانے کی طرف اشارہ بھی ہے، جیسا اس کے شان نزول سے ثابت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روم وفارس فتح ہوجانے کا وعدہ فرمایا تو منافقین و یہود نے استہزاء کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کما فی روح المعانی عن الواحدی عن ابن عباس و انس (رض) ۔ مختصر تفسیر ان آیات کی یہ ہے : ( اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ( اللہ تعالیٰ سے) یوں کہیے کہ اے اللہ مالک تمام ملک کے آپ ملک ( کا جتنا حصہ چاہیں) جس کو چاہیں دیدیتے ہیں اور جس ( کے قبضہ) سے چاہیں ملک ( کا حصہ) لے لیتے ہیں اور جس کو آپ چاہیں غالب کردیتے ہیں اور جس کو آپ چاہیں پست کردیتے ہیں آپ ہی کے اختیار میں ہے سب بھلائی بلا شبہ آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں، آپ (بعض موسموں میں) رات ( کے اجزاء) کو دن میں داخل کردیتے ہیں (جس سے دن بڑا ہونے لگتا ہے) اور ( بعض موسموں میں) ان ( کے اجزاء) کو رات میں داخل کردیتے ہیں ( جس سے رات بڑھنے لگتی ہے) اور آپ جان دار چیز کو بےجان سے نکال لیتے ہیں ( جیسے بیضہ سے بچہ) اور بےجان چیز کو جان دار سے نکال لیتے ہیں ( جیسے پرندے سے بیضہ) اور آپ جس کو چاہتے ہیں بیشمار رزق عطا فرماتے ہیں۔ معارف و مسائل اس آیت کا شان نزول اور غزوہ خندق کا واقعہ : بدر و احد میں مشرکین مکہ کی مسلسل شکست اور مسلمانوں کے خلاف ہر جدو جہد میں ناکامی کے ساتھ مسلمانوں کی مسلسل ترقی اور اسلام کی روز افزوں اشاعت نے قریش مکہ اور تمام غیر مسلموں میں ایک بوکھلاہٹ پیدا کردی تھی، جس سے وہ اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہورہے تھے، جس کا نتیجہ ایک عام سازش کی صورت میں یہ ظاہر ہوا کہ مشرکین عرب اور یہود و نصاری سب کا ایک متحدہ محاذ مسلمانوں کے خلاف بن گیا، اور سب نے ملکر کر مدینہ پر یکبارگی حملہ اور فیصلہ کن جنگ کی ٹھان لی، اور ان کا بےپناہ لشکر اسلام اور مسلمانوں کو دنیا سے مٹا ڈالنے کا عزم لے کر مدینہ پر چڑھ آیا، جس کا نام قرآن میں غزوہ احزاب اور تاریخ میں غزوہ خندق ہے، کیونکہ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) کے ساتھ مشورہ سے یہ طے فرمایا تھا کہ غنیم کے راستہ میں مدینہ سے باہر خندق کھودی جائے۔ بیہقی اور ابو نعیم اور ابن خزیمہ کی روایت میں ہے کہ خندق کھودنے کا کام مجاہدین اسلام صحابہ کرام (رض) کے سپرد ہوا تو چالیس چالیس ہاتھ لمبی خندق دس دس آدمیوں کے سپرد تھی، یہ خندق کئی میل لمبی اور خاصی گہری اور چوڑی تھی جس کو غنیم عبور نہ کرسکے، اور کھدائی کے لئے تکمیل جلد سے جلد کرنا تھی، اس لئے جاں نثار صحابہ کرام (رض) بڑی محنت سے اس میں مشغول تھے کہ قضائے حاجت اور کھانے وغیرہ کی ضروریات کے لئے یہاں سے ہٹنا مشکل ہورہا تھا، مسلسل بھوکے رہ کر یہ کام انجام دیا جارہا تھا، اور یقینا کام ایسا تھا کہ آج کل کی جدید آلات والی پلٹن بھی ہوتی تو اس تھوڑے وقت میں اس کام کا پورا کرنا آسان نہ ہوتا، مگر یہاں ایمانی طاقت کام کر رہی تھی جس نے بآسانی تکمیل کرادی۔ سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ایک فرد کی حیثیت سے اس کھدائی کے کام میں شریک تھے، اتفاقا خندق کے ایک حصہ میں پتھر کی بڑی چٹان نکل آئی، جن حضرات کے حصہ میں خندق کا یہ ٹکڑا تھا وہ اپنی پوری قوت صرف کر کے عاجز ہوگئے، تو حضرت سلمان فارسی (رض) کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا کہ اب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا حکم ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی وقت موقع پر تشریف لائے اور کدال آہنی خود دست مبارک میں لے کر ایک ضرب لگائی تو اس چٹان کے ٹکڑے ہوگئے، اور ایک آگ کا شعلہ بر آمد ہوا جس سے دور تک اس کی روشنی پھیل گئی، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے اس روشنی میں بحیرہ ملک فارس کے محلات و عمارات دکھلائی گئیں۔ پھر دوسری ضرب لگائی اور پھر ایک شعلہ برآمد ہوا تو فرمایا کہ اس کی روشنی میں مجھے رومیوں کے سرخ سرخ محلات و عمارات دکھلائی گئیں، پھر تیسری ضرب لگائی اور روشنی پھیلی تو فرمایا کہ اس میں مجھے صنعاء یمن کے عظیم محلات دکھلائے گئے، اور فرمایا کہ میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ مجھے جبرئیل امین نے خبر دی ہے کہ میری امت ان تمام ممالک پر غالب آئے گی۔ منافقین مدینہ نے یہ سنا تو ان کو استہزاء و تمسخر کا موقع ہاتھ آیا، مسلمانوں کا مذاق اڑایا، کہ دیکھو ان لوگوں کو جو حریف مقابل کے خوف سے خندق کھودنے میں اس طرح مشغول ہیں کہ ان کو اپنی ضروریات کا بھی ہوش نہیں، اپنی جانوں کی حفاطٹ ان کو مشکل ہورہی ہے، ملک فارس و روم اور یمن کی فتوحات کے خواب دیکھ رہے ہیں، حق تعالیٰ نے ان بیخبر ظالموں کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی۔ (قل اللھم مالک الملک توتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر) جس میں مناجات و دعا کے پیرایہ میں قوموں کے عروج و زال اور ملکوں کے انقلاب میں حق جل شانہ کی قدرت کاملہ کا بیان ایک نہایت بلیغ انداز سے کیا گیا ہے، اور فارس و روم کی فتوحات کے بارے میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشنگوئی کے پورا ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا، اس میں دنیا کے انقلابات سے بیخبر قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ سے ناواقف، قوم نوح اور عاد وثمود کے واقعات سے غافل اور جاہل، دشمنان اسلام کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم ظاہری شان و شوکت کے پرستار یہ نہیں جانتے کہ دنیا کی ساری طاقتیں اور حکومتیں سب ایک ذات پاک کے قبضہ قدرت میں ہیں، عزت و ذلت اسی کے ہاتھ ہے، وہ بلا شبہ اس پر قادر ہے کہ غریبوں اور فقیروں کو تخت و تاج کا مالک بنادے، اور بڑے بڑے بادشاہوں سے حکومت و دولت چھین لے، اس کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ آج کے خندق کھودنے والے فقیروں کو کل شام و عراق اور یمن کی حکومت عطا فرمادے۔ ذرہ ذرہ ہر کا پابستہ تقدیر ہے زندگی کے خواب کی جامی یہی تعبیر ہے جو چیزیں عادۃ بری سمجھی جاتی ہیں انجام کے اعتبار سے وہ بھی بری نہیں : آیت کے اخیر میں فرمایا (بیدک الخیر) |" یعنی آپ کے ہاتھ میں ہے ہر بھلائی |" شروع آیت میں چونکہ حکومت دینے اور واپس لینے کا نیز عزت اور ذلت دونوں کا ذکر تھا، اس لئے بظاہر مقتضائے مقام یہ تھا کہ اس جگہ بھی (بیدک الخیر والشر) کہا جاتا، یعنی ہر بھلائی اور برائی آپ کے ہاتھ میں ہے، لیکن اس آیت میں اس جگہ صرف لفظ |" خیر |" لاکر ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جس چیز کو کوئی شخص یا کوئی قوم برائی یا مصیبت سمجھتی ہے اور وہ اس خاص قوم کے لئے گو تکلیف و مصیبت ہوتی ہے لیکن اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو مجموعہ عالم کے اعتبار سے وہ برائی نہیں ہوتی، قوموں کے عروج ونزول اور اس میں مصائب کے بعد فوائد کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو عربی کے مشہور شاعر متنبی کا یہ مصرعہ ایک زندہ حقیقت بن کر سامنے آجاتا ہے کہ : مصائب قوم عند قوم فوائد |" یعنی ایک قوم کے مصائب دوسری قوم کے فوائد ہوتے ہیں |" مجموعہ عالم کے مصالح و فوائد پر نظر کرنے والا کسی نہ کسی درجہ میں اس حقیقت کو پاسکتا ہے کہ اس میں جتنی چیزیں خراب اور بری سمجھی جاتی ہیں، وہ اپنی ذات میں چاہے بری سمجھی جائیں، مگر پورے عالم کو اگر ایک جسم فرض کرلیا جائے تو وہ اس کے چہرہ کے خال اور بال ہیں، خال اور بال اگر بدن سے الگ کر کے دیکھے جائیں تو ان سے زیادہ خراب کوئی چیز نہیں، لیکن ایک حسین چہرہ کا جزء ہونے کی حالت میں یہی چیزیں رونق حسن ہوتی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو ہم برا کہتے ہیں اور برا سمجھتے ہیں ان کی برائی جزوی ہے اور خالق کائنات اور رب العالمین کی نسبت اور مجموعہ عالم کی مصلحت کے اعتبار سے کوئی چیز شر یا خراب نہیں، کسی نے خوب کہا ہے : نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں اس لئے اس آیت کے ختم میں صرف لفظ |" خیر |" پر اکتفا کر کے فرمایا گیا (بیدک الخیر) کیونکہ خالق کائنات کی حکمت اور حکومت اور مجموعہ عالم کی مصلحت کے لحاظ سے ہر چیز خیر ہی خیر ہے، یہاں تک پہلی آیت کا مضمون ختم ہوا، جس میں تمام عالم عناصر کی طاقتوں اور دنیا کی سب حکومتوں کا حق تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہونا بیان فرمایا ہے

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ۝ ٠ ۡوَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ۝ ٠ ۭ بِيَدِكَ الْخَيْرُ۝ ٠ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝ ٢٦ «اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ملك ( مالک) فالمُلْك ضبط الشیء المتصرّف فيه بالحکم، والمِلْكُ کالجنس للمُلْكِ ، فكلّ مُلْك مِلْك، ولیس کلّ مِلْك مُلْكا . قال : قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وقال : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا[ الأعراف/ 188] وفي غيرها من الآیات ملک کے معنی زیر تصرف چیز پر بذیعہ حکم کنٹرول کرنے کے ہیں اور ملک بمنزلہ جنس کے ہیں لہذا ہر ملک کو ملک تو کہہ سکتے ہیں لیکن ہر ملک ملک نہیں کہہ سکتے قرآن میں ہے : ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] اور نہ نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اٹھ کھڑے ہونا ۔ اور فرمایا : ۔ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] یا تمہارے کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا[ الأعراف/ 188] کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا علی بذلقیاس بہت سی آیات ہیں إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق ہے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نزع نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] . وَانْتَزَعْتُ آيةً من القرآن في كذا، ونَزَعَ فلان کذا، أي : سَلَبَ. قال تعالی: تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وقوله : وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] قيل : هي الملائكة التي تَنْزِعُ الأرواح عن الأَشْباح، وقوله :إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] وقوله : تَنْزِعُ النَّاسَ [ القمر/ 20] قيل : تقلع الناس من مقرّهم لشدَّة هبوبها . وقیل : تنزع أرواحهم من أبدانهم، والتَّنَازُعُ والمُنَازَعَةُ : المُجَاذَبَة، ويُعَبَّرُ بهما عن المخاصَمة والمُجادَلة، قال : فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ [ النساء/ 59] ، فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ [ طه/ 62] ، والنَّزْعُ عن الشیء : الكَفُّ عنه . والنُّزُوعُ : الاشتیاق الشّديد، وذلک هو المُعَبَّر عنه بإِمحَال النَّفْس مع الحبیب، ونَازَعَتْنِي نفسي إلى كذا، وأَنْزَعَ القومُ : نَزَعَتْ إِبِلُهم إلى مَوَاطِنِهِمْ. أي : حَنَّتْ ، ورجل أَنْزَعُ : زَالَ عنه شَعَرُ رَأْسِهِ كأنه نُزِعَ عنه ففارَقَ ، والنَّزْعَة : المَوْضِعُ من رأسِ الأَنْزَعِ ، ويقال : امرَأَةٌ زَعْرَاء، ولا يقال نَزْعَاء، وبئر نَزُوعٌ: قریبةُ القَعْرِ يُنْزَعُ منها بالید، وشرابٌ طَيِّبُ المَنْزَعَةِ. أي : المقطَع إذا شُرِبَ كما قال تعالی: خِتامُهُ مِسْكٌ [ المطففین/ 26] . ( ن زع ) نزع ( ن زع ) نزع اشئی کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں ۔ جیسا کہ کمانکو در میان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور محبت یا عداوت کے دل سے کھینچ لینے کو بھی نزع کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ۔ ہم سب نکال ڈالیں گے ۔ آیت کو کسی واقعہ میں بطور مثال کے پیش کرنا ۔ نزع فلان کذا کے معنی کسی چیز کو چھین لینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور آیت کریمہ : ۔ وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ نازعات سے مراد فرشتے ہیں جو روحوں کو جسموں سے کھینچتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی وہ لوگوں کو اس طرح اکھیڑ ڈالتی تھی ۔ میں تنزع الناس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہو اپنی تیز کی وجہ سے لوگوں کو ان کے ٹھکانوں سے نکال باہر پھینک دیتی تھی بعض نے کہا ہے کہ لوگوں کی روحوں کو ان کے بد نوں سے کھینچ لینا مراد ہے ۔ التنازع والمنازعۃ : باہم ایک دوسرے کو کھینچا اس سے مخاصمت اور مجا دلہ یعنی باہم جھگڑا کرنا مراد ہوتا ہے ۔ چناچہ ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ [ النساء/ 59] اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو رجوع کرو ۔ فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ [ طه/ 62] تو وہ باہم اپنے معاملہ میں جھگڑنے لگے ۔ النزع عن الشئی کے معنی کسی چیز سے رک جانے کے ہیں اور النزوع سخت اشتیاق کو کہتے ہیں ۔ وناز عتنی نفسی الیٰ کذا : نفس کا کسی طرف کھینچ کرلے جانا کس کا اشتیاق غالب آجانا ۔ انزع القوم اونٹوں کا پانے وطن کا مشتاق ہونا رجل انزع کے معنی سر کے بال بھڑ جانا کے ہیں ۔ اور نزعۃ سر کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں سے بال جھڑ جائیں ۔ اور تانیث کے لئے نزعاء کی بجائے زعراء کا لفظ استعمال ہوتا ہے بئر نزدع کم گہرا کنواں جس سے ہاتھ کے عز العِزَّةُ : حالةٌ مانعة للإنسان من أن يغلب . من قولهم : أرضٌ عَزَازٌ. أي : صُلْبةٌ. قال تعالی: أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] ( ع ز ز ) العزۃ اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان کو مغلوب ہونے سے محفوظ رکھے یہ ارض عزاز سے ماخوذ ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں۔ قرآن میں ہے : ۔ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ عزت تو سب خدا ہی کی ہے ۔ ذلت يقال : الذُّلُّ والقُلُّ ، والذِّلَّةُ والقِلَّةُ ، قال تعالی: تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [ المعارج/ 44] ، وقال : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] ، وقال : سَيَنالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ [ الأعراف/ 152] ، وذَلَّتِ الدّابة بعد شماس، ذِلًّا، وهي ذَلُولٌ ، أي : ليست بصعبة، قال تعالی: لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ [ البقرة/ 71] بغیر تاء کے ذل اور تار کے ساتھ ذلتہ کہا جاتا ہے جیسا کہ قل اور قلتہ ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [ المعارج/ 44] اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی ۔ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] اور ( آخری کار ) زلت ( اور رسوائی ) اور محتاجی ( اور بےتوانائی ) ان سے چنٹادی گئی ۔ سَيَنالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ [ الأعراف/ 152] پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور ذلت ( نصیب ہوگی ) منہ زوزی کے بعد سواری کا مطیع ہوجانا اور اس قسم کی مطیع اور مئقاد سواری کا ذلول ( صفت فاعلی ) کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ [ البقرة/ 71] کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ۔ نہ تو زمین جوتتا ہو ۔ يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ قَدِيرُ : هو الفاعل لما يشاء علی قَدْرِ ما تقتضي الحکمة، لا زائدا عليه ولا ناقصا عنه، ولذلک لا يصحّ أن يوصف به إلا اللہ تعالی، قال : إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [ البقرة/ 20] . والمُقْتَدِرُ يقاربه نحو : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ، لکن قد يوصف به البشر، وإذا استعمل في اللہ تعالیٰ فمعناه القَدِيرُ ، وإذا استعمل في البشر فمعناه : المتکلّف والمکتسب للقدرة، يقال : قَدَرْتُ علی كذا قُدْرَةً. قال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] . القدیر اسے کہتے ہیں جو اقتضائے حکمت کے مطابق جو چاہے کرسکے اور اس میں کمی بیشی نہ ہونے دے ۔ لہذا اللہ کے سوا کسی کو قدیر نہیں کہہ سکتے ۔ قرآن میں ہے : اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر ۔۔۔۔ قادر ہے ۔ اور یہی معنی تقریبا مقتقدر کے ہیں جیسے فرمایا : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں ۔ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُقْتَدِرُونَ [ الزخرف/ 42] ہم ان پر قابو رکھتے ہیں ۔ لیکن مقتدر کے ساتھ کبھی انسان بھی متصف ہوجاتا ہے ۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق مقتدر کا لفظ استعمال ہو تو یہ قدیر کے ہم معنی ہوتا ہے اور جب انسان کا وصف واقع ہو تو اس کے معنی تکلیف سے قدرت حاصل کرنے والا کے ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قدرت علی کذا قدرۃ کہ میں نے فلاں چیز پر قدرت حاصل کرلی ۔ قرآن میں ہے : ( اسی طرح ) یہ ریا کار ) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ نہیں لے سکیں گے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

صرف اللہ ہی مالک الملک ہے قول باری ہے (قل اللھم مالک الملک توتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء، آپ کہیئے خدایا ! ملک کے مالک توج سے چاہتا ہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے) قول باری (مالک الملک) کے متعلق ایک قول ہے کہ یہ ایسی صفت ہے جس کا اللہ کے سوا اور کسی کو استحقاق نہیں اس لیئے کہ وہی ہر ملک کا یعنی سارے جہان کا مالک ہے۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں کے امورکامالک ہے۔ ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کا مالک ہے اور بندوں کے ہاتھ میں کچھ ہے اس کا بھی وہی مالک ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہاں ملک سے مراد نبوت ہے۔ قول باری (تؤتی الملک من تشاء) کی تفسیر میں دواحتمال ہیں اول یہ کہ اللہ تعالیٰ مال ودولت خدم وحشم اور ان جبسی چیزوں کی ملکیت مسلمانوں اور کافروں سب کو عطا کرتا ہے۔ دوم امت مسلمہ کے امور کی تدبیر اور ان کے متعلق حکمت عملی یہ چیز صرف عادل مسلمانوں کے لیئے مخصوص ہے۔ کافر اورفاسق اس محروم ہیں۔ امت کے امور کی تدبیر اور ان کے متعلق حکمت عملی کا تعلق کے ادامر اور نواہی سے ہے جن کے سلسلے میں کسی کافر اورفاسق پر اعتماد نہیں کای جاسکتا۔ اسی طرح کفر اورفسق کے حامل افراد کو اہل کو ! ہل ایمان متعلق حکمت عملی اختیار کرنے کا کام سپرد کرنا کسی طرح جائزہی نہیں ہے۔ اس لیے کہ قول باری ہے (ولا ینال عھدی الظالمین، اور میراعہد ظالموں کو نہیں پہنچ سکتا) اگریہ کہاجائے کہ قول باری ہے (الم ترالی الذی حاج ابراھیم فی ربہ ان اتاہ اللہ، الملک ، کیا تم اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم کے ساتھ اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا تھا اس بناپر کہ اللہ نے اسے حکومت عطاکی تھی) اس آیت میں یہ خبردی گئی ہے کہ اللہ کافروں کو بھی حکومت و سلطنت کی نعمت سے نوازتا ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس میں یہ احتمال ہے۔ کہ اگر کافرکوملک دینے کی بات ہے تو اس سے مراد مال ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ملک یعنی نبوت عطاکرنا ہے۔ ازوئے حکمت امر اورنہی کے معاملے کی سپرداری جائز ہے۔ کافروں سے دوستی ممنوع ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٦) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اللہ تعالیٰ سے اس طرح عرض کیجیے، اے اللہ ہمیں نیکی کے راستے پر چلا، اے تمام ملک کے مالک آپ ملک کا جتنا حصہ جس کو چاہیں دے دیتے ہیں یعنی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کو اور جس سے چاہیں مثلا فارس وملک روم لے لیتے ہیں اور جسے چاہیں یعنی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عزت دیتے ہیں اور عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں اور اہل فارس اور روم کو رسوا کرتے ہیں۔ عزت، بادشاہت اور مال غنیمت، نصرت و دولت یہ آپ کے قبضہ قدرت میں ہے اور آپ ہر شے پر قدرت رکھتے ہیں۔ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جس وقت مکہ مکرمہ فتح ہوا تھا تو اس نے کہا کہ فارس وروم کی بادشاہت ان کو کیسے حاصل ہوسکتی ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ آیت قریش کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں وہ کہتے تھے کہ کسری بادشاہ دیباج کے بستروں پر سوتا ہے، اگر آپ نبی ہیں تو پھر آپ کی بادشاہت کہاں گئی (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح ) شان نزول : (آیت) ” قل اللہم ملک الملک (الخ) ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پروردگار دعا فرمائی کہ روم اور فارس کی بادشاہت آپ کی امت کو دے دی جائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٦ (قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ ) کل ملک تیرے اختیار میں ہے۔ (تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ ) (وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُز) (وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ ) (وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ط) (بِیَدِکَ الْخَیْرُ ط) اس کے دونوں معنی ہیں۔ ایک یہ کہ کل خیر و خوبی تیرے ہاتھ میں ہے اور دوسرے یہ کہ تیرے ہاتھ میں خیر ہی خیر ہے۔ بسا اوقات انسان جسے اپنے لیے شر سمجھ بیٹھتا ہے وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ (آیت ٢١٦) میں ہم پڑھ چکے ہیں : (وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْءًا وَّہُوَخَیْرٌ لَّکُمْج وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْءًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ط) ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: جب غزوۂ احزاب کے موقع پر آنحضرتﷺ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی توکفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑرہی ہے اور ان پر فاقے گزررہے ہیں مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کرلیں گے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرماکر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(26 ۔ 27) ۔ قتادہ سے ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں روایت کی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ سے ملک روم وفارس اپنی امت کے قبضہ میں آجانے کی ایک روز دعا کی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ٢۔ اور اپنے نبی کی تسکین فرمائی کہ ملک روم وفارس کیا چیز ہے اس پاک ذات کے دست قدرت میں بڑے بڑے تصرفات ہیں کبھی راتیں بڑی ہیں کبھی کے دن کبھی نبوت بنی اسرائیل میں تھی آج بنی اسماعیل میں ہے وہ صاحب تصرف جو چاہے کرسکتا ہے۔ چناچہ پھر ایسا ہی ہوا کہ بڑے بڑے ملک آپ کے اور آپ کی امت کے قبضہ میں آگئے طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اسم اعظم اسی آیت میں ١۔ طبرانی میں حضرت انس (رض) سے بسند صحیح روایت ہے کہ جو کوئی شخص اس آیت کو پڑھے گا، اس پر اگر احد پہاڑ کے برابر بھی قرضہ ہو تو اللہ تعالیٰ وہ ادا کرادے گا ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:26) تنزع۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو چھین لیتا ہے۔ تو اکھاڑ پھینکتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یہود اس غلط فہمی مبتلا تے کہ حکم و نبوت کا یہ سلسلہ ہمشہ ان میں رہے گا۔ دوسری قوم اس کا استحقاق نہیں رکھتی مگر جب نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک متی قوم بنی اسمعیل سے مبعوث ہوگئے تو ان کے غیظ وغضب اور حسد کی انتہا نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی کودو کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خود مختار اور مالک الملک ہے۔ وہ جس قوم کو چاہتا ہے دنیا میں عزت و سلطنت سے نوازا دیتا ہے۔ لہذا نبوت جو بہت بڑی عزت ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا پسند فرما لیا اللہ تعالیٰ پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ یہاں دعا کے انداز میں مسلمانوں کو بشارت بھی دے دی کہ تمہیں اس دنیا میں غلبہ واقتدار حاصل ہوگا اور آنحضرت خاتم الا نبیا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے ْ لہذا تمہیں چاہیے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاو

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 27 اللھم (میرے اللہ) مٰلک الملک (سلطنت کے مالک) توتی (تودیتا ہے) تشاء (توچاہتا ہے) تنزع (تو کھینچ لیتا ہے) تعز (تو عزت دیتا ہے) تذل (توذلت دیتا ہے) بیدک الخیر (تیرے ہاتھ میں خیر ہے) تولج (تو داخل کرتا ہے) تخرج (تونکالتا ہے) المیت (مراد، بےجان) الحی (زندہ) ترزق (تودیتا ہے تو رزق دیتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 27 سورة ال عمران کی آیت 26 اور 27 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کائنات میں ساری قدرت و طاقت صرف اللہ ہی کی ہے۔ عزت ، ذلت، موت، حیات اور حکومت واقتدار وہ جسکو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جس سے چاہے چھین لیتا ہے۔ وہ جس کو دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جسے نہ دینا چاہے تو کوئی اسے دلوا نہیں سکتا۔ ہر چیز کی بھلائی اسی ایک کے قبضہ قدرت میں ہے۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ حضرت معاذ ابن جبل (رض) نے فرمایا کہ میں ایک دفعہ نماز جمعہ میں شریک نہ ہوسکا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ تم جمعہ میں کیوں موجود نہیں تھے۔ عرض کیا کہ میں نے ایک یہودی سے کچھ قرض لے رکھا تھا۔ میں اس کو ادا نہ کرسکا وہ یہودی میرے دروازے پر تاک لگائے بیٹھا رہا کہ میں نکلوں تو وہ مجھے پکڑلے۔ اس لئے میں باہر نہ نکل سکا اور جمعہ کی نماز نکل گئی اور میں جمعہ کی نماز سے محروم رہا۔ آپ نے فرمایا اے معاذ کیا تم اس بات کو پسند کروگے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قرض کو تم سے دور کردے اور ادائیگی کے اسباب پیدا کردے۔ میں عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا تم ہر روز یہ آیت پڑھا کرو۔ قل اللھم ملک الملک سے بغیر حساب تک۔ آپ نے فرمایا اے معاذ اگر تیرے اوپر زمین کے برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تعالیٰ ادا فرمادے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب اسلام کی عظمت، غلبہ اور نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزت ختم کرنے کے درپے ہیں جب کہ عزت وذلت، اختیار و اقتدار، موت وحیات اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ یہودی اپنے آپ کو سلسلۂ نبوت کا وارث سمجھتے ہیں جس بنا پر انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکانے کی سازش کی اور اسی بنا پر یہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کے درپے ہوئے اور رہتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا میں سب سے پاک، معزز اور اللہ تعالیٰ کے مقرب یہودی ہیں لہٰذا جب بھی غلبۂ اسلام یا مسلمانوں کی عزت واقبال کی بات ہو تو یہ لوگ اپنے آپ سے باہر ہوجاتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ان کا حسدوبغض اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا۔ جب کبھی مسلمانوں کو تابناک مستقبل کے بارے میں خوشخبری سنائی جاتی تو یہودی طعنہ زن ہوتے کہ جنہیں پہننے کے لیے کپڑا، کھانے کے لیے روٹی، سر چھپانے کے لیے مکان میسر نہیں اور جن کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں کیا یہ لوگ سلطنت رومہ پر قابض اور ایران کے فاتح بنیں گے ؟ ایسے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ عظیم دعا سکھلائی گئی جو دعا بھی ہے مستقبل کی پیش گوئی بھی اور مسلمانوں کے عقیدے کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔ اس میں مسلمان اپنے مولا کے حضور اس خواہش کا اظہار اور فریاد کرتا ہے کہ الٰہی ! اس لا محدود اور بےکنار مملکت کا تو ہی مالک اور بادشاہ ہے تیرے اختیار میں ہے کہ تو گداؤں کو بادشاہ بنادے اور بادشاہوں کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردے۔ عزت والوں کو ان کی سر مستیوں کی وجہ سے ذلیل کردے اور لوگوں کی نظروں میں ناچیز اور حقیروں کو معزز اور محترم ٹھہرادے۔ پوری کی پوری خیر تیرے ہی قبضہ میں ہے بلاشک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ لیکن یہودیوں کی طرح کتنے لوگ اور حکمران ہیں جو ” أَنَا وَلَا غَیْرِیْ “ کے نعرے لگاتے ہیں کہ ہمارے اقتدار اور اختیار کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔ ہماری طرف بڑھنے والے ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔ لیکن جب احکم الحاکمین کا فیصلہ صادر ہوا تو جو ہاتھ بادشاہوں، افسروں اور لیڈروں کے گلے میں پھول پہنایا کرتے تھے وہی ہاتھ ان کی موت کا سبب ثابت ہوئے۔ یہاں اسی عقیدے کی ترجمانی کی گئی ہے۔ الٰہی ! تو ہی رات کو دن میں اور دن کی روشنی کو رات کی تاریکیوں میں گم کرتا ہے۔ تو مردہ سے زندہ پیدا کرتا اور زندہ سے مردہ نکالتا ہے۔ تیرے ہی ہاتھ میں ہماری روزی ہے تو جسے چاہے بغیر حساب کے عطا فرماتا ہے۔ دعا کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح رات کے اندھیروں کے بعد دن کا اجالا ہوتا ہے اسی طرح مصائب اور مشکلات کے بعد آسانیاں ہوا کرتی ہیں۔ جس طرح دن کی روشنی کو رات کی تاریکیاں آلیتی ہیں ایسے ہی تندرستی کے بعد بیماری، دولت کے بعد غربت اور کامیابی کے بعد ناکامی آدمی کا مقدر بن جاتی ہے۔ گویا کہ جس طرح زندگی دن رات سے عبارت ہے اسی طرح غمی و خوشی اور بیماری و تندرستی آپس میں جڑے ہوئے اور زندگی کا حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بےحساب رزق دینے کا معنیٰ یہ ہے کہ جب وہ دینے پر آتا ہے تو لینے والے کو بھی اندازہ نہیں رہتا۔ یہ اس کے بےحساب رزق دینے کا ہی نتیجہ ہے کہ مالداروں نے اپنا حساب و کتاب رکھنے کے لیے کئی کئی کیشیئر اور کلرک رکھے ہوتے ہیں۔ اب تو کیش گننے کے لیے کمپیوٹر اور مشینیں ایجاد ہوچکی ہیں۔ اس کے باوجود بھی مال داروں کو اپنی جائیداد اور سرمایہ کا اندازہ نہیں ہوتا اس میں سرمایہ دار کی محنت سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی رزّاقی اور اس کی مشیت کا دخل ہوتا ہے جس کی حکمت وہی جانتا ہے۔ مسائل ١۔ اقتدار وزوال اور عزّت و ذلّت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ ٢۔ ہر قسم کی خیر اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرنے والا ہے۔ ٤۔ وہ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ نکالتا اور بےحساب رزق دینے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے اختیارات : ١۔ اللہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ (آل عمران : ٢٧) ٢۔ اللہ جسے چاہتا ہے معزز اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٣۔ اللہ مردے کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ (الاحقاف : ٣٣) ٤۔ اللہ سب کو مار کر دوسری مخلوق پیدا کرسکتا ہے۔ (النساء : ١٣٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کے بعد ہر مومن اور خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوں ‘ اللہ کو اپنی الوہیت میں ایک سمجھتے ہوئے ‘ اسے اس جہاں کا واحد نگہبان سمجھتے ہوئے ‘ خود بشر کی زندگی میں بھی اور اس کائنات کی تدبیر میں بھی کیونکہ یہ دونوں پہلو اللہ کی خدائی اور اس کی حاکمیت کے مظاہر ہیں اور ان میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ نہ اس کا کوئی مثیل اور شبیہ ہے ۔ یہ نہایت ہی دھیمی اور پر مشیئت آواز ہے ۔ اس کی لفظی ترکیب دعائیہ ہے ۔ لیکن اس کی روح میں گیری معنویت اور خشوع و خضوع ہے ۔ اس میں اس ………کھلی کائنات کی کھلی کتاب پر نظر التفات ڈالی گئی ہے ۔ بڑی نرمی اور بڑی محبت کے ساتھ انسان کے شعور میں ابال آتا ہے اس کو بتایا گیا ہے کہ وہ باری مدبر کائنات ہے اور ساتھ ہی انسانی امور کا بھی مدبر ہے۔ اس کی ہمہ گیر تدبیر کو یکجا کرکے ایک عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ عظیم سچائی یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ اور نگہبان اور اس کے اندر اس انسان کا الٰہ ونگہبان ایک ہی ہیں ۔ یہ انسان اس کائنات کا ایک حصہ ہے ۔ وہ اس سے علیحدہ کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اور دونوں میں اصل متصرف اللہ ہے ۔ صرف اللہ کے نظام زندگی سے اس کائنات کی شان ہے ۔ انسان کا فریضہ بھی یہی ہے ۔ اور جس طرح یہ کائنات اللہ کے دین سے خارج نہیں ہوسکتی ۔ اسی طرح انسان کے لئے بھی دین الٰہی سے خارج ایک قسم کا انحراف ہے ‘ حماقت ہے اور فساد ہے ۔ اللہ فرماتے ہیں : قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ” کہو اے ملک کے مالک ! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے ‘ چھین لے ‘ جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔ “ یہ وہ حقیقت ہے ‘ جو عقیدہ وحدالوہیت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ ایک خدا کا مفہوم یہ ہے کہ وہی ایک مالک ہے ۔ وہ مالک الملک ہے ۔ اس کے ساتھ اس میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنی جانب جو کچھ چاہتا ہے اور جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اس کی یہ عطا عاریتاً ہوتی ہے جب چاہتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اپنا ملک واپس لے لیتا ہے۔ اس لئے یہاں کوئی کسی چیز کا بھی اصلی مالک نہیں ہے کہ اپنی ذاتی خواہش کے مطابق اس میں تصرف کرے ۔ انسانوں کی ملکیت عارضی ہے ۔ عطائی ہے ۔ اور یہ ان شرائط وقیود کے تحت ہے جن کے تحت عطا کنندہ نے عطا کی ہے ۔ اس کی تعلیمات کے تحت حکومت اور ملکیت میں تصرف ہوگا۔ اگر عطا کنندہ کے شرائط کے خلاف کیا گیا تو وہ باطل ہوگا۔ اس دنیا میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس قسم کے ہر تصرف کو مسترد کردیں اور آخرت میں خود اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے حساب و کتاب لیں گے ۔ نیز یہ اس کے اختیار میں ہے کہ وہ جسے چاہے عزت بخشے اور جسے چاہے ذلیل کردے۔ اس کے حکم اور ارادہ کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈالنے والا نہیں ہے ۔ اس پر کسی کا کوئی جبر نہیں اور اس کے فیصلوں کو کوئی رد کرنے والا بھی نہیں ہے ۔ وہ صاحب الامر ہے ۔ تمام امور اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ وہی اللہ ہے اور شرک سے پاک ‘ اور اس کے اس اختصاص اور اس کبریائی میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی اس نگہبانی میں سب کا بھلا ہے ۔ وہ اس کائنات اور انسان کی نگہبانی انتہائی عدل کے اصولوں پر کرتا ہے ۔ جسے چاہتا ہے مملکت اور سلطنت دیتا ہے ۔ اور جس سے چاہتا ہے لے لیتا ہے ۔ اور یہ سب کچھ انصاف وعدل کے ساتھ ۔ جسے چاہتا ہے معزز بنا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کردیتا ہے اور یہ سب کچھ عدل کے ساتھ ۔ وہ ہر حالت میں خیر ہی خیر ہے ۔” اس کے ہاتھ میں بھلائی ہے ۔ “” وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے معالم التنزیل صفحہ ٢٧٩: ج ١ میں حضرت ابن عباس و حضرت انس (رض) سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح فرما لیا تو آپ نے اپنی امت کو فارس اور روم کے فتح ہونے کی خوشخبری دی یہ سن کر منافقوں اور یہودیوں نے کہا اجی انہیں فارس اور روم کیسے مل جائیں گے ؟ وہ تو بڑے غلبہ والے اور قوت والے لوگ ہیں کیا محمد کو یہ کافی نہیں کہ مکہ اور مدینہ مل گیا ہے اسی پر بس نہیں کرتے جو آگے بڑھ کر ملک فارس اور ملک روم کے بارے میں بھی لالچ کر رہے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب فرمایا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں یوں دعا کریں کہ اے اللہ آپ ملک کے مالک ہیں آپ جسے چاہیں ملک دیں اور جس سے چاہیں ملک چھین لیں اور جسے چاہیں عزت دیں اور جسے چاہیں ذلت دیں، اس میں دعا بھی ہے اور منافقین اور یہودیوں پر تعریض بھی ہے کہ اللہ ملک کا مالک ہے وہ جسے چاہے ملک دے سکتا ہے اور جس سے چاہے چھین سکتا ہے۔ اس نے مدینہ سے یہودیوں کا اقتدار ختم فرمایا اور مکہ معظمہ سے قریش کا اقتدار ختم فرمایا اور دونوں شہر اور ان کے ملحقات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کو عطا فرما دئیے یہ حضرات بےسرو سامان تھے ان کو اصحاب مال اور اصحاب شوکت پر غلبہ دیا اور فتح عطا فرمائی اللہ ہی نے فارس و روم کو اقتدار دیا ہے وہ ان سے چھین کر ان کے ملکوں کا اقتدار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت کو دے سکتا ہے یہ لوگ فارس اور روم کی شان و شوکت اور کرو فر کو دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کو نہیں دیکھتے جس نے ان کو اقتدار دیا ہے، جو اقتدار دے سکتا ہے وہ اقتدار لے بھی سکتا ہے ملک کا دینا اور چھین لینا عزت دینا اور ذلت دینا سب اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ پھر (بِیَدِکَ الْخَیْرُ ) کہ ساری خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ خیر و شر سب اللہ ہی کے قبضہ میں ہے لیکن ایک کے ذکر پر اکتفا فرمایا دوسری چیز اسی سے سمجھ آگئی اور بعض حضرات نے فرمایا کہ کیونکہ یہ مقام دعا ہے اس لیے خیر پر اکتفاء کیا گیا (اور شر کی نفی بھی نہیں کی) کیونکہ مانگنے والا اسی بات کا ذکر کرتا ہے جس سے اس کا مطلب ہو جب لینا ہے تو یہی کہے گا کہ آپ کے ہاتھ میں خیر ہے اس موقعہ پر یوں کیوں کہے کہ آپ کے ہاتھ میں شر بھی ہے۔ آخر میں فرمایا : (اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) اس میں اجمالی طور پر پوری آیت کے مضمون کو دھرا دیا گیا ہے اور الفاظ کے عموم نے یہ بھی بتادیا کہ اوپر جو چیزیں مذکور ہیں ان کے علاوہ اور تمام چیزوں پر بھی اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

36:۔ ذکر توحید بار سوم۔ قُلِ اللّٰھُمَّ ۔ جب دلائل عقلیہ ونقلیہ سے ثابت ہوگیا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ (معبود) نہیں تو اب اسکا ثمرہ بیان فرمایا کہ غائبانہ حاجات میں صرف اللہ ہی کو پکارو اور پکارتے وقت یوں کہا کرو اے اللہ ان صفات کے مالک میری فلاں حاجت پوری کر۔ اَللّٰھُمَّ ۔ خلیل اور سیبویہ اور بصرہ کے نحویوں کی رائے میں اصل میں یَا اَللہُ تھا۔ حرف ندا کو حذف کر کے اس کے عوض میں میم مشددہ مفتوحہ کا آخر میں اضافہ کردیا گیا۔ مٰلِکَ الْمُلْکِ ۔ امام مبرد اور زجاج کے نزدیک یہ اللّٰھُمَّ کی صفت ہے اور اسی لیے منسوب ہے کیونکہ منادی مفرد مبنی علی الضم کی صفت جب مضاف ہو تو وہ منصوب ہوتی ہے۔ وانتصاب مالک علی الوصفیۃ عند المبرد والزجاج (روح ج 3 ص 113، کبیر ج 2 ص 638) اور مُلْک بضم میم سے کامل قدرت واختیار اور مکمل غلبہ واقتدار مراد ہے تو مَالِکُ الْمُلْکِ کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی متصرف اور ہر قسم کے اختیار واقتدار کا واحد مالک ہے۔ تمام تصرفات اور اختیارات اسی کے قبضہ میں ہیں اور ان میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ فمالک الملک ھو الملک المحقیقی المتصرف بما شاء کیف شاء ایجادا او اعداما وامتۃً وتعذیبا واثابۃ من غیر مشارک ولا مانع (روح ج 3 ص 113) جب یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی مالک الملک علی الاطلاق ہے تو اس کے بعد کچھ تصرفات کا ذکر کیا۔ جو اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں۔ تُؤْتِیْ الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ ۔ یہ جملہ مع معطوفات منادی سے حال ہے۔ کیونکہ منادی معنیً مفعول ہوتا ہے۔ یا یہ جملہ مع معطوفات منادی کی صفت ہے اور جملہ (جو اگرچہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے) جب کسی مفرد معرفہ کے ساتھ مخصوص ہو تو وہ معرفہ کے حکم میں ہوتا ہے اور معرفہ کی صفت واقع ہوسکتا ہے۔ کما فی الرضی قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ اور یہاں ملک سے مراد حکومت وسلطنت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو جسے چاہتا ہے دنیا کی حکومت دے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ جیسا کہ آئے دن حکومتوں میں ردوبدل اور انقلاب رونما ہوتا رہتا ہے۔ اَلْخَیْرُ مبتدا مؤخر ہے اور اس میں الف لام استغراق کے لیے ہے۔ بِیَدِکَ خبر مقدم ہے تاکہ حصر اور تخصیص کا فائدہ دے۔ اور یَد سے یہاں قدرت اور قبضہ مراد ہے۔ یعنی ہرق سم کی خیر اور بھلائی صرف تیری ہی قدرت اور صرف تیرے ہی قبضہ واختیار میں ہے اور متصرف علی الاطلاق تو ہی ہے۔ تیرے سوا کوئی مالک ومختار، قادر و کارساز، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں۔ تعریف الخیر للتعمیم وتقدیم الخبر للتخصیص ای بقدرتک الخیر کلہ لا بقدرة احد من غیرک تتصرف فیہ قبضا وبسطا جسما تقتضیہ مشیتک (ابو السعود ج 2 ص 641) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3۔ اے پیغمبر ! آپ یوں کہیئے اے اللہ ! مالک تمام ملک کے تو جس کو چاہتا ہے اپنے ملک کا کوئی حصہ عنایت کردیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک واپس لے لیتا ہے اور تو جس کو چاہے غلب دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے پست اور ذلیل کردیتا ہے تیری ہی قبضے اور اختیار میں خیر ہے بلا شبہ ہر چیز پر تو پوری طرح قادر ہے۔ ملک سے مراد تمام عالم امکان ہے حضرت حق تعالیٰ کو اپنی کائنات پر چونکہ ہر قسم کے تصرف کا حق حاصل ہے اس لئے جس کو جس قدر چاہتا ہے ملک دے دیتا ہے اور جس سے جس قدر حصہ ملک واپس لینا چاہتا ہے اس کے قبضے سے نکال لیتا ہے اور واپس کرلیتا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے غلبہ اور اقتدار دے دیتا ہے ۔ خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں اسی طرح جس کو پست اور ذلیل کرنا چاہے پست اور ذلیل کردیتا ہے ۔ خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں خیر کا مالک تو ہی ہے۔ چونکہ یہاں طلب خیر مقصود ہے اس لئے خیر کا ذکر فرمایا ۔ ورنہ ظاہر ہے کہ جس طرح خیر اس کے اختیار میں ہے اسی طرح شر بھی اس کے اختیار میں ہے جیسا کہ آخری ٹکڑے میں اس طرف بھی ہے ۔ انک علی کل شئی قدیر میں خیر و شر دونوں داخل ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ادب کی رعایت سے شرکا ذکر نہ فرمایا ہو۔ مالک الملک کی ترکیب میں دو احتمال تھے ہم نے ایک کی رعایت ترجمہ میں اور دوسرے کی رعایت تیسیر میں کی ہے جس طرح اس آیت میں مسلمانوں کے اطمینان کا سامان ہے اور ان کو یہ بتایا ہے کہ سلطنت خواہ مادی ہو یا روحانی عزت خواہ دنیوی ہو یا اخروی یہ سب اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔ وہ جب چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے کسی کو اپنے ملک کا کچھ حصہ دے دیتا ہے اس لئے مسلمانوں کو گھبرانا اور پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ قوموں کی نشیب و فراز اور اتار چڑھائو ہمارے ہی اختیار میں ہیں۔ یہ ہوسکتا ہے کہ آج کے غریب کسان اور اونٹ و بکریاں چرانے والے لوگ کل روم وفارس کے تاجدار بنا دیئے جائیں ۔ یہ کوئی مستعبد نہیں ہے اسی طرح اس آیت میں جب جاہ حب ریاست کے متوالوں کو بھی تنبیہ ہے ۔ جیسا کہ وفد نجران کے امیر الوفد ابوحارثہ بن علقمہ نے کہا بھی تھا کہ اگر ہم مسلمان ہوجائیں اور اسلام قبول کرلیں تو ہمارے وہ تمام وظائف جو عیسائی سلطنتوں سے ہم کو ملتے ہیں بند ہوجائیں گے اور اس وقت جو عزت و آبروہم کو حاصل ہے وہ جاتی رہے گی ۔ اس پر تنبیہ فرمائی کہ تمام عالم تو ہمارا ہے ہم جس کو چاہتے ہیں اپنے ملک کا کوئی حصہ کسی کو دے کر حکمران بنا دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں کسی سے حکمرانی چھین لیتے ہیں۔ آج جن سلطنتوں کے تم وظیفہ یاب ہو اگر کل وہ سلطنتیں بھی نہ رہیں تو کیا کرو گے اور اس حصہ ملک کے اگر مسلمان حاکم ہوگئے جس کے آج عیسائی ہیں تو پھر تمہارا کیا حشر ہوگا ۔ اب اسی اتار چڑھائو اور تاریخی انقلاب پر ایک اور استدلال فرماتے ہیں اور اس کا طریقہ بھی خوب ہی اختیار فرماتا ہے ۔ یعنی وہ بھی اللھم ملک الملک کا ایک حصہ ہے اور اسی دعا کا جز ایک ہے جو اپنے پیغمبر کو تعلیم فرمائی ہے مگر ایک ٹکڑا دعویٰ ہے عموم مالکیت کا اور دوسرا ٹکڑا اس عموم کی دلیل ہے کہ زمین کی حکومتوں کی الٹ پلٹ اسے کیا مشکل ہے جو دن رات کی الٹ پلٹ کرتا ہے تاریک زمانہ کو روشن کرتا اور روشن حصہ کو بےنور کردیتا ہے اور اس کے نزدیک پست اقوام کو اونچا کردینا اور اونچوں کو نیچا کردینا کون سا مشکل کام ہے جو مردوں سے زندہ اور زندوں سے مردہ نکالتا ہے ۔ سبحان اللہ ! کیا ترکیب ہے اور کیا حسن بیان اور کیا خوب استدلال ہے، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)