Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 56

سورة آل عمران

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَاُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۫ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۵۶﴾

And as for those who disbelieved, I will punish them with a severe punishment in this world and the Hereafter, and they will have no helpers."

پھر کافروں کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And I will make those who follow you superior to those who disbelieve till the Day of Resurrection. Then you will return to Me and I will judge between you in the matters in which you used to dispute. As to those who disbelieve, I will punish them with a severe torment in this world and in the Hereafter, and they will have no helpers. This is what Allah did to the Jews who disbelieved in `Isa and the Christians who went to the extreme over him. Allah tormented them in this life; they were killed, captured, and lost their wealth and kingdoms. Their torment in the Hereafter is even worse and more severe, وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ And they have no Waq (defender or protector) against Allah. (13:34)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence In the previous verse (56), it was said that Allah will be the final judge and decision-maker in what they used to differ in between them-selves. This verse describes that decision. Commentary Are the sufferings of this world beneficial for the next life? The words |"I shall punish them in this world and in the Hereafter|" in verse 56 may create a little doubt. Since the statement here relates to the Judgment to be pronounced on the Last Day, how can the state¬ment -&I shall punish them in this world and in the hereafter`- be ex¬plained as this world of ours would not exist at that time and even though it exists today, but the Judgment is to be given on the Day of Resurrection? This difficulty can be resolved by turning to an analogy. This saying is similar to the saying of a judge to a culprit -&Right now I am sending you to the jail for a year; if you misbehave there, I shall make it for two years&- which simply means that those two years will be counted from the day the punishment is being awarded. Based on this, it is certain that following any misbehaviour the two-year punishment will become effective. So, given the misconduct, the validity of this whole will regulate itself for one more year as &add-on&. The same applies here as the punishment in the world has already been given; now the punishment of the Hereafter will be added on and the sum-total will be finally executed on the Last Day, that is, having been punished in the world will not serve as expiation for the punishment of the Hereafter. This is contrary to the condition of believers who, when struck by suffering in the mortal world, have their sins forgiven and find the punishment due in the Hereafter lightened or ward¬ed off. For this reason, a hint to this effect has been made in لَا يُحِبُّ الظَّالِمِي and Allah does not like transgressors -v. 57), that is, believers are dear because of their belief and the beloved ones are always treated in such a manner. The disbelievers are detested because of their disbelief and those detested do not receive such treatment. (Bayan a1-Qur&an)

ربط آیات اوپر آیت میں مذکور تھا کہ |" میں ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان قیامت کے روز عملی فیصلہ کروں گا |" اس آیت میں اس فیصلہ کا بیان ہے۔ خلاصہ تفسیر : تفصیل ( فیصلہ کی) یہ ہے کہ جو لوگ (ان اختلاف کرنے والوں میں) کافر تھے سو ان کو (ان کے کفر پر) سخت سزا دوں گا ( مجموعہ دونوں جہان میں) دنیا بھی ( کہ وہ تو ہوچکی) اور آخرت میں بھی ( کہ وہ باقی رہی) اور ان لوگوں کا کوئی حامی ( طرف دار) نہ ہوگا اور جو لوگ مومن تھے اور انہوں نے نیک کام کئے تھے سو ان کو اللہ تعالیٰ ان کے (ایمان اور نیک کاموں کا) ثوابدیں گے اور (کافر کو سزا ملنے کی وجہ یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ محبت نہیں رکھتے ( ایسے) ظلم کرنے والوں سے ( جو اللہ تعالیٰ یا پیغمبروں کے منکر ہوں یعنی چونکہ یہ ظلم عظیم ہے، معافی کے قابل نہیں، اس لئے مبغوض شدید ہو کر سزا یاب ہوجاتا ہے) یہ ( قصہ مذکورہ) ہم تم کو ( بذریعہ وحی کے) پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں جو کہ (آپ کے) منجملہ دلائل (نبوت) کے ہے اور منجملہ حکمت آمیز مضامین کے ہے۔ معارف و مسائل : مصائب دنیا کفار کے لئے کفارہ نہیں ہوتے مومن کے کفارہ ہو کر مفید ہوتے ہیں : (فاعذبھم عذابا شدیدا فی الدینا والاخرۃ) اس آیت کے مضمون پر ایک خفیف سا اشکال ہوتا ہے، کہ قیامت کے فیصلہ کے بیان میں اس کہنے کے کیا معنی کہ میں دنیا و آخرت میں سزا دوں گا، کیونکہ اس وقت تو سزائے دنیوی نہیں ہوگی۔ حل اس کا یہ ہے کہ اس کہنے کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی حاکم کسی مجرم کو یہ کہے کہ اس وقت تو ایک سال کی قید کرتا ہوں، اگر جیل خانہ میں کوئی شرارت کی تو دو سال کی سزا کروں گا، فقط اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ دو سال آج کی تاریخ سے ہوں گے، پس اس بنا پر یقینی ہے کہ شرارت کے بعد دو سال کا حکم ہوجاوے گا، حاصل یہ ہوتا ہے کہ شرارت پر اس مجموعہ کی تکمیل بطور انضمام ایک سال زائد کے مرتب ہوجاوے گی۔ اسی طرح یہاں سمجھنا چاہئے کہ دنیا میں تو سزا ہوچکی اس کے ساتھ سزائے آخرت منضم ہو کر مجموعہ قیامت کے روز تکمیل کردیا جائے گا۔ یعنی سزائے دنیا کفارہ نہ ہوگا سزائے آخرت کے لئے بخلاف اہل ایمان کے کہ اگر ان پر دنیا میں کوئی مصیبت وغیرہ آتی ہے تو گناہ معاف ہوتے ہیں اور عاقبت کی عقوبت خفیف یا دفع ہوجاتی ہے، اور اسی وجہ سے اس کی طرف لا یحب الظالمین میں اشارہ فرمایا گیا، یعنی اہل ایمان بسبب ایمان کے محبوب ہیں، محبوب کے ساتھ ایسے معاملات ہوا کرتے ہیں اور اہل کفر بسبب کفر کے مبغوض ہیں، مبغوض کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہوتا۔ (بیان القرآن)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۝ ٠ ۡوَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۝ ٥٦ «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء کلام کے لئے آتا ہے جیسے امابعد فانہ کذا ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا شدید والشِّدَّةُ تستعمل في العقد، وفي البدن، وفي قوی النّفس، وفي العذاب، قال : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] ، عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ، يعني : جبریل عليه السلام، ( ش دد ) الشد اور شدۃ کا لفظ عہد ، بدن قوائے نفس اور عذاب سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے ۔ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا ؛نہایت قوت والے سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا[يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٦) چناچہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں بالخصوص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے منکر تھے ان پر دنیا میں تلوار اور جزیہ مسلط کردیا (یعنی یا تو وہ مفتوح ہوگئے اور یا زیر تسلط آگئے ، ) اور آخرت میں نار جہنم کی سخت ترین سزادوں گا اور وہ دنیا وآخرت میں کوئی تدبیر کرکے بھی عذاب الہی کو ٹال نہیں سکیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن اپنے اسلوب کے مطابق بیک وقت حق کے منکروں اور اہل ایمان کے انجام کا فرق بیان کرتا ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار اور دین حق سے انحراف کیا۔ وہ دنیا اور آخرت میں شدید عذاب سے دوچار کیے جائیں گے اور ان کا کوئی حامی ومدد گار نہیں ہوگا۔ آخرت کے عذاب کے بارے میں قرآن مجید کافر کی خوفناک موت سے لے کر جہنم میں اس کے دخول اور سزاؤں کا موقع بموقع تفصیل کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔ جہاں تک دنیا کے عذاب کا تعلق ہے اس کی کئی شکلیں اور صورتیں ہوسکتی ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق صاحب کردار ایمان داروں کو ایسا غلبہ نصیب فرمائے گا کہ اللہ کے باغی اور منکر دنیا میں ان کے سامنے سرنگوں ہو کر رہیں۔ جس طرح قرون اولیٰ میں اللہ کے منکرذلیل ورسوا ہوئے تھے اسی طرح قرب قیامت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ان کا ذلیل ہونا یقینی ہے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُقَاتِلَ الْمُسْلِمُوْنَ الْیَھُوْدَ فَیَقْتُلُھُمُ الْمُسْلِمُوْنَ حَتّٰی یَخْتَبِیءَ الْیَھُوْدِيُّ مِنْ وَّرَآءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ فَیَقُوْلُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ یَامُسْلِمُ یَاعَبْدَ اللّٰہِ ھٰذَا یَھُوْدِيٌّ خَلْفِيْ فَتَعَالْ فَاقْتُلْہُ إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّہٗ مِنْ شَجَرِ الْیَھُوْدِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الفتن وأَشراط الساعۃ، باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر الرجل فیتمنی الخ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہ کریں۔ مسلمان ان کو قتل کریں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا تو وہ پتھر اور درخت کہے گا۔ اے مسلمان ! اے اللہ کے بندے ! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ تو آگے بڑھ کر اسے قتل کردے لیکن غرقد درخت ایسا نہیں کہے گا کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔ “ قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ وہ جہنم کے ساتھ جنت اور کفار کی ذلت کے ساتھ مومنوں کی عظمت اور اللہ کا فضل وکرم بیان کرتا ہے تاکہ قرآن کی تلاوت کرنے والے کے دل پر اس بات کا اثر اور اس کے لیے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنا آسان ہوجائے۔ یہاں مزید فرمایا کہ یہ اللہ کی کتاب کی آیات ہیں جو آپ پر پڑھی جارہی ہیں اور یہ حکمتوں سے لبریز نعمت ہے جس کا دل چاہے اسے قبول کرے۔ مسائل ١۔ کافر دنیا اور آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ٢۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پورا پورا اجر عطا فرمائیں گے۔ ٣۔ آخرت میں کفار کی کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات نصیحت اور حکمت سے لبریز ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن دنیا وآخرت میں عذاب پانے والے : ١۔ یہودی دنیا میں ذلیل اور آخرت میں سخت عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ (البقرۃ : ٨٥) ٢۔ اللہ کی مسجدوں سے روکنے والے دنیا وآخرت میں ذلیل ہوں گے۔ (البقرۃ : ١١٤) ٣۔ کفار کو دنیا وآخرت میں شدید عذاب ہوگا۔ (الرعد : ٣٤، آل عمران : ٥٦) ٤۔ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن اور فسادی دنیا وآخرت میں عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔ (المائدۃ : ٣٣) ٥۔ بچھڑے کے پجاری دنیا وآخرت میں ذلیل ہوں گے۔ (الاعراف : ١٥٢) ٦۔ منافقین کو دنیا وآخرت میں سزا ہوگی۔ (التوبۃ : ٧٤) ٧۔ فحاشی پھیلانے والوں کو دنیا وآخرت میں ذلت اٹھانی پڑے گی۔ (النور : ١٩) ٨۔ دین حق جھٹلانے والوں کو دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب عظیم ہوگا۔ (الزمر : ٢٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کے لیے وعید عذاب شدید اور اہل ایمان کے لیے اجر وثواب کا وعدہ دنیا میں مومن اور کافر سبھی زندہ رہتے ہیں اور کھاتے کماتے ہیں۔ یہ سب دنیاوی امور ہیں آخرت میں تو ایمان مدار نجات یافتہ ہوگا ایمان اور اعمال صالح کی بنیاد پر جنت ملے گی اور اس وقت اعمال کا پورا پورا بدلہ اللہ پاک کی طرف سے دے دیا جائے گا اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے لیے دنیا میں بھی سزا ہے اور آخرت میں بھی، یہ سزا مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ جب مسلمان جہاد کرتے تھے (جواب بھی واجب ہے) اس وقت کافر ان کے ہاتھوں قتل ہوتے تھے قید ہوتے تھے غلام باندی بنائے جاتے تھے جزیہ دینے پر مجبور ہوتے تھے۔ اور اب بھی ان کے ملکوں میں تباہی آتی رہتی ہے۔ نئی بیماریاں زلزلے وغیرہ مصائب و آلام کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور اگر کہیں دنیاوی حال اچھا ہے تو وہ استدراج ہے اور مسلمانوں کے ملکوں میں جو کبھی اس طرح کی کوئی چیز آجاتی ہے۔ وہ کفارہ سیئات کا ذریعہ بنتی ہے۔ نصاریٰ کا دنیا میں یہودیوں پر فائق اور غالب رہنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ آخرت میں نجات کے مستحق ہوں گے۔ کیونکہ وہاں کی نجات کا تعلق اس ایمان سے ہے جو اللہ کے ہاں معتبر ہے۔ نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس طرح نہیں مانتے جیسا انہوں نے اپنے بارے میں ارشاد فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ) اور سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان نہیں لاتے (ان کی تشریف آوری کی بشارت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دی تھی) اس لیے کافروں میں شمار ہیں اور کفر کی وجہ سے آخرت میں ان کو سخت اور دائمی عذاب ہوگا اور یہودی بھی کفر اختیار کیے ہوئے ہیں وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی ایمان نہیں لائے اور سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو بھی نہیں مانتے لہٰذا وہ بھی آخرت میں عذاب دائمی کے مستحق ہیں۔ آخر میں فرمایا (ذٰلِکَ نَتْلُوْہُ عَلَیْکَ مِنَ الْاٰیٰتِ ) کہ اے محمد یہ جو کچھ ہم پڑھ کر سناتے ہیں یہ ان آیات یعنی دلائل واضحہ میں سے ہے جو آپ کی نبوت کی تصدیق کرتے ہیں ان چیزوں کو کوئی شخص نہیں جان سکتا جب تک کہ پرانی کتاب نہ پڑھی ہو یا کسی معلم سے علم حاصل نہ کیا ہو آپ کو یہ دونوں باتیں حاصل نہیں لہٰذا یہ ساری معلومات متعینہ طور پر وحی کے ذریعہ آپ کو معلوم ہوئیں ( وَ الذِّکْرِ الْحَکِیْمِ ) اور ذکر حکیم یعنی قرآن محکم بھی ہم آپ کو سناتے ہیں جو باطل سے محفوظ ہے اور حکمتوں سے پر ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

80 اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہیں مانتے تھے اور انہیں قتل کرنا چاہتے تھے یا جنہوں نے ان کو معبود بنا لیا تھا۔ آخرت کا عذاب تو ظاہر ہے اور دنیا کے عذاب سے قید وبند اور قتل کا عذاب مراد ہے۔ چناچہ دنیا میں بھی ان لوگوں کو عذاب دیا گیا اور آخرت میں بھی دیا جائیگا۔ وکذالک فعل بمن کفر بالمسیح من الیہود او غلافیہ او اطراہ من النصاری عذبھم فی الدنیا بالقتل والسبی واخذ الاموال وازالۃ الایدی عن الممالک وفی الدار الآخرۃ عذابھم اشد واژق۔ (ابن کثیر ج 1 ص 367) اور ان کافروں کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا جن کو انہوں نے اپنے حاجت روا اور مشکلشکا سمجھ رکھا ہے وہ انہیں نہ دنیا میں خدا کے عذاب سے بچا سکیں گے اور نہ آخرت میں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi