Sequence In the previous verse (56), it was said that Allah will be the final judge and decision-maker in what they used to differ in between them-selves. This verse describes that decision. Commentary Are the sufferings of this world beneficial for the next life? The words |"I shall punish them in this world and in the Hereafter|" in verse 56 may create a little doubt. Since the statement here relates to the Judgment to be pronounced on the Last Day, how can the state¬ment -&I shall punish them in this world and in the hereafter`- be ex¬plained as this world of ours would not exist at that time and even though it exists today, but the Judgment is to be given on the Day of Resurrection? This difficulty can be resolved by turning to an analogy. This saying is similar to the saying of a judge to a culprit -&Right now I am sending you to the jail for a year; if you misbehave there, I shall make it for two years&- which simply means that those two years will be counted from the day the punishment is being awarded. Based on this, it is certain that following any misbehaviour the two-year punishment will become effective. So, given the misconduct, the validity of this whole will regulate itself for one more year as &add-on&. The same applies here as the punishment in the world has already been given; now the punishment of the Hereafter will be added on and the sum-total will be finally executed on the Last Day, that is, having been punished in the world will not serve as expiation for the punishment of the Hereafter. This is contrary to the condition of believers who, when struck by suffering in the mortal world, have their sins forgiven and find the punishment due in the Hereafter lightened or ward¬ed off. For this reason, a hint to this effect has been made in لَا يُحِبُّ الظَّالِمِي and Allah does not like transgressors -v. 57), that is, believers are dear because of their belief and the beloved ones are always treated in such a manner. The disbelievers are detested because of their disbelief and those detested do not receive such treatment. (Bayan a1-Qur&an)
ربط آیات اوپر آیت میں مذکور تھا کہ |" میں ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان قیامت کے روز عملی فیصلہ کروں گا |" اس آیت میں اس فیصلہ کا بیان ہے۔ خلاصہ تفسیر : تفصیل ( فیصلہ کی) یہ ہے کہ جو لوگ (ان اختلاف کرنے والوں میں) کافر تھے سو ان کو (ان کے کفر پر) سخت سزا دوں گا ( مجموعہ دونوں جہان میں) دنیا بھی ( کہ وہ تو ہوچکی) اور آخرت میں بھی ( کہ وہ باقی رہی) اور ان لوگوں کا کوئی حامی ( طرف دار) نہ ہوگا اور جو لوگ مومن تھے اور انہوں نے نیک کام کئے تھے سو ان کو اللہ تعالیٰ ان کے (ایمان اور نیک کاموں کا) ثوابدیں گے اور (کافر کو سزا ملنے کی وجہ یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ محبت نہیں رکھتے ( ایسے) ظلم کرنے والوں سے ( جو اللہ تعالیٰ یا پیغمبروں کے منکر ہوں یعنی چونکہ یہ ظلم عظیم ہے، معافی کے قابل نہیں، اس لئے مبغوض شدید ہو کر سزا یاب ہوجاتا ہے) یہ ( قصہ مذکورہ) ہم تم کو ( بذریعہ وحی کے) پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں جو کہ (آپ کے) منجملہ دلائل (نبوت) کے ہے اور منجملہ حکمت آمیز مضامین کے ہے۔ معارف و مسائل : مصائب دنیا کفار کے لئے کفارہ نہیں ہوتے مومن کے کفارہ ہو کر مفید ہوتے ہیں : (فاعذبھم عذابا شدیدا فی الدینا والاخرۃ) اس آیت کے مضمون پر ایک خفیف سا اشکال ہوتا ہے، کہ قیامت کے فیصلہ کے بیان میں اس کہنے کے کیا معنی کہ میں دنیا و آخرت میں سزا دوں گا، کیونکہ اس وقت تو سزائے دنیوی نہیں ہوگی۔ حل اس کا یہ ہے کہ اس کہنے کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی حاکم کسی مجرم کو یہ کہے کہ اس وقت تو ایک سال کی قید کرتا ہوں، اگر جیل خانہ میں کوئی شرارت کی تو دو سال کی سزا کروں گا، فقط اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ دو سال آج کی تاریخ سے ہوں گے، پس اس بنا پر یقینی ہے کہ شرارت کے بعد دو سال کا حکم ہوجاوے گا، حاصل یہ ہوتا ہے کہ شرارت پر اس مجموعہ کی تکمیل بطور انضمام ایک سال زائد کے مرتب ہوجاوے گی۔ اسی طرح یہاں سمجھنا چاہئے کہ دنیا میں تو سزا ہوچکی اس کے ساتھ سزائے آخرت منضم ہو کر مجموعہ قیامت کے روز تکمیل کردیا جائے گا۔ یعنی سزائے دنیا کفارہ نہ ہوگا سزائے آخرت کے لئے بخلاف اہل ایمان کے کہ اگر ان پر دنیا میں کوئی مصیبت وغیرہ آتی ہے تو گناہ معاف ہوتے ہیں اور عاقبت کی عقوبت خفیف یا دفع ہوجاتی ہے، اور اسی وجہ سے اس کی طرف لا یحب الظالمین میں اشارہ فرمایا گیا، یعنی اہل ایمان بسبب ایمان کے محبوب ہیں، محبوب کے ساتھ ایسے معاملات ہوا کرتے ہیں اور اہل کفر بسبب کفر کے مبغوض ہیں، مبغوض کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہوتا۔ (بیان القرآن)