Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 63

سورة آل عمران

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۶۳﴾  14

But if they turn away, then indeed - Allah is Knowing of the corrupters.

پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ تعالٰی بھی صحیح طور پر فسادیوں کو جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَإِن تَوَلَّوْاْ ... And if they turn away, by abandoning this truth, ... فَإِنَّ اللّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ then surely, Allah is All-Aware of those who do mischief. for those who abandon the truth for falsehood commit mischief, and Allah has full knowledge of them and will subject them to the worst punishment. Verily, Allah is able to control everything, all praise and thanks are due to Him, and we seek refuge with Him from His revenge.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٦۔ ١] اہل نجران نے حق بات کو قبول نہ کیا اور مباہلہ کے بجائے صلح اور جزیہ کو یعنی اہل الذمہ بن کر رہنے کی ترجیح دی۔ تو ان کی حکومت انہی کے پاس رہی۔ اگر وہ مباہلہ کو قبول بھی کرتے اور اپنے اہل و عیال لے کر واپس نہ آتے یا صلح کی پیش کش کے بغیر واپس چلے آتے تو ان کا شمار مفسدوں میں ہوتا اور ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو یہودیوں کا ہوا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ عَلِيْمٌۢ بِالْمُفْسِدِيْنَ۝ ٦٣ ۧ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ فسد الفَسَادُ : خروج الشیء عن الاعتدال، قلیلا کان الخروج عنه أو كثيرا،. قال تعالی: لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] ، ( ف س د ) الفساد یہ فسد ( ن ) الشئی فھو فاسد کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کے حد اعتدال سے تجاوز کر جانا کے ہیں عام اس سے کہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ قرآن میں ہے : ۔ لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] تو آسمان و زمین ۔۔۔۔۔ سب درہم برہم ہوجائیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٣ (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌم بالْمُفْسِدِیْنَ ) یہاں آکر اس سورة مبارکہ کے نصف اول کا پہلا اور دوسرا حصہ مکمل ہوگیا ‘ جو 31 , 32 , 34 آیات پر مشتمل ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ وفد نجران والوں نے مباہلہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا اور یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ لوگ محض دینا کی خاطر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اختیار کرنے سے انکار کر رہے ہیں ورنہ ان کے پاس اپنی ضد پر اڑے رہنے کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں ہے ایک حدیث میں ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر یہ لوگ مباہلہ کرلیتے تو یہ وادی ان پر آگ برساتی۔ اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرماتے ہیں کہ اگر یہ لوگ مباہلے کے لئے نکلتے تو اپنے گھروں کو اس طرح لوٹتے کہ نہ کوئی مال پاتے اور نہ اہل و عیال۔ (ابن کثیر۔ شوکانی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

نصاریٰ نجران سے مال لینے پر صلح : اور وہ یہ کہ ہر سال دو ہزار جوڑے کپڑوں کے پیش کیا کریں گے۔ ایک ہزار ماہ صفر میں اور ایک ہزار ماہ رجب میں، آپ نے ان سے اس بات پر صلح کرلی اور فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اہل نجران پر عذاب منڈلا رہا تھا اگر وہ مباہلہ کرلیتے تو مسخ کردیئے جاتے اور بندر اور خنزیر بنا دیئے جاتے اور ان کے سارے علاقے کو آگ جلا کر ختم کردیتی اور نجران کے لوگ بالکل ختم ہوجاتے یہاں تک کہ پرندے بھی درختوں پر نہ رہتے۔ اور ایک سال بھی پورا نہ ہوتا کہ تمام نصاریٰ ہلاک ہوجاتے۔ تفسیر ابن کثیر میں صفحہ ٣٦٩: ج ١ بحوالہ مسند احمد حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ یہ لوگ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مباہلہ کرنے کو تیار ہو رہے تھے اگر مباہلہ کے لیے نکل آتے تو (میدان مباہلہ سے) اس حال میں واپس ہوتے کہ نہ مال پاتے نہ اہل و عیال میں سے کسی کو پاتے۔ (اور خود بھی مرجاتے) نصاریٰ مباہلہ کے لیے راضی نہ ہوئے اور اپنے باطل دین پر قائم رہے اور یہ جانتے ہوئے کہ محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعی اللہ کے رسول ہیں ایمان نہ لائے اور ایمان سے رو گردانی کر بیٹھے اور آج تک ان کا یہی طریقہ ہے حضرات علماء کرام نے بارہا مناظروں میں شکست دی ہے۔ ان کی موجودہ انجیل میں تحریف ثابت کی ہے ان کے دین کو مصنوعی خود ساختہ دین بارہا ثابت کرچکے ہیں لیکن وہ اپنے دنیاوی اغراض سیاسیہ اور غیر سیاسیہ کی وجہ سے دین اسلام کو قبول نہیں کرتے اور دنیا بھر میں فساد کر رہے ہیں جس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مباہلہ کی دعوت دی تھی اس وقت سے لے کر آج تک ان کا یہی طریقہ رہا ہے اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا : (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌم بالْمُفْسِدِیْنَ ) (کہ اگر یہ لوگ رو گردانی کریں تو اللہ مفسدوں کو خوب جاننے والا ہے) یہ وعید اس وقت سے لے کر آج تک کے نصاریٰ کو اور آج کے بعد جو نصاریٰ حق سے اعراض کریں گے قیامت تک ان سب کو شامل ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

88 اتنی واضح تصریحات کے بعد بھی جو لوگ حق قبول نہ کریں اور توحید سے سرتابی کریں اور شرکیہ عقائد پھیلا کر شروفساد برپا کرنے میں مصروف رہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ایسے مفسدین کو خوب جانتا ہے ان کا کوئی کام اس سے پوشیدہ نہیں وہ ان کو ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2۔ بلا شبہ جو کچھ مذکور ہو یہی حق اور سچی بات ہے اور بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی مبعود ہونے کے لائق نہیں اور یقینا اللہ تعالیٰ قوت و طاقت اور بڑی حکمت و دانش کا مالک ہے ۔ پھر اگر یہ لوگ ان دلائل واضح اور براہین ساطمہ کے بعد بھی سرتابی اور روگردانی کریں تو آپ ان سے بات ختم کر دیجئے اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد کر دیجئے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ اہل فساد اور شرارت کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جو افسانے یہود و نصاریٰ نے گھڑ رکھے ہیں وہ صحیح نہیں ہیں بلکہ اصل حقیقت وہ ہے جو ہم نے بیان کردی ہے اور ان تمام واقعات مذکورہ میں یہ امر بالکل منکشف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی حقیقی معبود ہے اور نہ کوئی عبادت کے لائق اور قابل ہے کیونکہ وہی کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے اور جب کوئی دوسرا اس جیسا نہ عزیز ہے نہ حکیم ہے تو کوئی دوسرا معبود کیونکر ہوسکتا ہے۔ آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ اگر معاندین ان تمام دلائل کو سننے کے بعد بھی حق کی طرف مائل نہیں ہوتے تو آپ ان کی فکر نہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ ان شرارت پسندوں سے خوب واقف ہے وہ ان کو ان کی کارروائیوں پر سزا دے گا ۔ اب آگے ایک اور انداز سے دین حق کی دعوت دی جاتی ہے یہ دعوت یا تو صرف نجران کے عیسائیوں کو ہے اور یا عام طور پر نصاریٰ اور یہود دونوں کو ہے اور یہی دوسری صورت ظاہر ہے۔ ( تسہیل)