Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 70

سورة آل عمران

یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ اَنۡتُمۡ تَشۡہَدُوۡنَ ﴿۷۰﴾

O People of the Scripture, why do you disbelieve in the verses of Allah while you witness [to their truth]?

اے اہل کتاب تم ( باوجود قائل ہونے کے پھر بھی ) دانستہ اللہ کی آیات کا کیوں کفر کر رہے ہو؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

O People of the Scripture!: Why do you disbelieve in the Ayat of Allah, while you bear witness.) You know for certain that Allah's Ayat are true and authentic. يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

70۔ 1 قائل ہونے کا مطلب ہے کہ تمہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت و حقانیت کا علم ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۔۔ : اللہ کی آیات سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی وہ بشارتیں ہیں جو پہلے انبیاء سے منقول تھیں۔ یہود ان کو صحیح سمجھتے تھے مگر مانتے نہیں تھے۔ اللہ کی آیات سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارتوں پر مشتمل آیات کے ساتھ ساتھ عقائد و احکام وغیرہ پر مشتمل دوسری آیات بھی مراد ہوسکتی ہیں، یعنی وہ لوگ صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق ہی نہیں، بلکہ دوسری آیات کو بھی اللہ کا کلام سمجھنے کے باوجود ان پر ایمان نہیں لاتے تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The words in أَنتُمْ تَشْهَدُونَ (you are yourselves a witness - 70) and in أَنتُمْ تَعْلَمُونَ (you know ( 71) should not be taken to mean that disbelief will become permissible for them if they do not attest to the truth or have no knowledge about it. This is because kufr (disbelief) is intrinsically an abominable thing to practice. This is prohibited under all conditions. However, the mention of kufr (disbelief) after knowledge and attesta¬tion is to increase the impact of reproachment.

معارف و مسائل : (انتم تشھدون) اور (انتم تعلمون) کے الفاظ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اگر وہ اقرار حق نہ کریں یا ان کو علم نہ ہو تو ان کے لئے کفر جائز ہوگا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ کفر اپنی ذات کے اعتبار سے ایک قبیح فعل ہے، یہ ہر حالت میں ناجائز ہے، البتہ علم و اقرار کے بعد کفر اختیار کرنے میں ملامت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ وَاَنْتُمْ تَشْہَدُوْنَ۝ ٧٠ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول : أشهد . والثاني يجري مجری القسم، فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما، ( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو شہادت قبول ہوگی بلکہ اشھد ہی کہنا ضروری ہے ۔ ( 2) قسم کی جگہ پر آتا ہے چناچہ اشھد باللہ ان زید ا منطلق میں اشھد بمعنی اقسم ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٠) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی مرسل ہیں، پھر کیوں انکار کرتے ہو، اور کیوں اپنی کتابوں میں حق بات کے ساتھ باطل کو ملاتے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٠ (یٰٓاََہْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَاَنْتُمْ تَشْہَدُوْنَ ) تم قرآن اور صاحب قرآن (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حقانیت کے قائل ہو ‘ ان کو پہچان چکے ہو ‘ دل میں جان چکے ہو !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

60. Another rendering of this could be, 'and you yourselves bear witness' to Muhammad's prophethood. However it is translated the sense remains the same. In fact, the impeccable purity of the life of the Prophet, the astounding impact of his teachings and training on the lives of his Companions, and the loftiness of the teachings of the Qur'an all constituted such illustrious signs of God that it was very difficult for anyone conversant with the lives of the Prophets and the tenor of Divine Scriptures to doubt the prophethood of Muhammad (peace be on him) . It is a fact that many Jews and Christians (especially their scholars) came, to recognize in their hearts that Muhammad was the very Prophet whose coming had been announced by the preceding Prophets. This fact was so overwhelming that, despite their intransigence, they could not help but give verbal expression, at times, to the truth of the Prophet's teachings. This is why the Qur'an repeatedly blames them for maliciously misrepresenting the signs of God which they saw with their own eyes and to which they themselves attested.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :60 دوسرا ترجمہ اس فقرہ کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”تم خود گواہی دیتے ہو“ ۔ دونوں صورتوں میں نفس معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی ، اور صحابہ کرام کی زندگیوں پر آپ کی تعلیم و تربیت کے حیرت انگیز اثرات ، اور وہ بلند پایہ مضامین جو قرآن میں ارشاد ہو رہے تھے ، یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کی ایسی روشن آیات تھیں کہ جو شخص انبیا کے احوال اور کتب آسمانی کے طرز سے واقف ہو اس کے لیے ان آیات کو دیکھ کر آنحضرت کی نبوت میں شک کرنا بہت ہی مشکل تھا ۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ بہت سے اہل کتاب ( خصوصاً ان کے اہل علم ) یہ جان چکے تھے کہ حضور وہی نبی ہیں جن کی آمد کا وعدہ انبیا سے سابقین نے کیا تھا ، حتٰی کہ کبھی کبھی حق کی زبردست طاقت سے مجبور ہو کر ان کی زبانیں آپ کی صداقت اور آپ کی پیش کردہ تعلیم کے برحق ہونے کا اعتراف تک کر گزرتی تھیں ۔ اسی وجہ سے قرآن باربار ان کو الزام دیتا ہے کہ اللہ کی جن آیات کو تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو ، جن کی حقانیت پر تم خود گواہی دیتے ہو ان کو تم قصداً اپنے نفس کی شرارت سے جھٹلا رہے ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

27: یہاں آیتوں سے مراد تورات اور انجیل کی وہ آیتیں ہیں جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کی خبر دی گئی تھی، اور مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تم تورات اور انجیل کے من جانب اللہ ہونے کی گواہی دیتے ہو، اور دوسری طرف ان پیشینگوئیوں کے مصداق یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار کرتے ہو جو بالواسطہ ان آیتوں کا انکار ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:70) تشھدون۔ تم شاہد ہو۔ تم حاضر ہو۔ تم گواہی دیتے ہو۔ شھود جس کے معنی حاضر ہونے کے اور موجود ہونے کے ہیں۔ یا شھادۃ سے جس کے معنی گواہی دینے کے ہیں۔ ای وانتم تعلمون حقیق تھا بلا شبھۃ بمنزلۃ علم المشاھدۃ اور تم بلاشک حقیقت کو بمنزلہ علم مشاہدہ کے جانتے ہو۔ (روح المعانی)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 آیات اللہ سے مراد نبوت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کے بارے میں وہ بشارتیں ہیں جو اگلے انبیا ( علیہ السلام) سے منقول تھیں۔ یہود ان کے اپنے طور پر صحیح سمجھتے تھے مگر آیات علی العموم بھی مرادہو سکتی ہیں۔ (شوکان وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

97 دوسرا شکوہ : امام رازی فرماتے ہیں کہ پہلے اس طائفہ کا ذکر کیا جو جاہل اور نادان تھا۔ اب یہاں ان علماء اہل کتاب کو مخاطب فرمایا جو اللہ کی ان آیات کو جانتے تھے جو توراۃ میں موجود تھیں اور حضرت خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ آیات سے توراۃ وانجیل کی وہ آیتیں مراد ہیں جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین صرف اسلام اور توحید ہے۔ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بما فی کتبکم من ان الدین عند اللہ الاسلام وانتم تشاھدون ذالک (روح ج 3 ص 199) یعنی جب تم اپنی کتابوں میں لکھا ہوا دیکھتے ہو کہ توحید حق اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سچا پیغمبر ہے تو پھر دیدہ دانستہ کیوں اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 4۔ اہل کتاب میں سے بعض لوگ دل سے یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح تم کو دین حق سے گمراہ اور بےراہ کردیں مگر وہ سوائے اپنے آپ کے کسی اور کو گمراہ نہیں کرسکتے ۔ یعنی خود ہی گمراہی کے وبال میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو اس وبال میں مبلا ہونے کی خبر بھی نہیں۔ اے اہل کتاب تم کیوں آیات خداوندی کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم ان کے آیات الٰہی ہونے کے قائل اور مقر ہو۔ ( تیسیر) بعض اہل کتاب نے معاذ بن جبل ، حذیفہ بن الیمان اور عمار بن یاسر وغیرہم کو اپنے مذہب میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی اور یہ کہا تھا کہ تم لوگ ہمارے دین میں آ جائو اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ اگرچہ آیت کا مورد خاص ہے لیکن حکم عام ہے یعنی اگرچہ اہل کتاب کے بعض لوگوں کے باوجود گمراہ ہونے کی عام خواہش یہ ہے کہ وہ تم کو بھی گمراہ کردیں حالانکہ گمراہ کرنا ان کے اختیار میں نہیں ۔ کوئی بدقسمت خود اسلام کو چھوڑ کر گمراہ ہوجائے تو یہ دوسری بات ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ اپنی ان حرکات سے خود اپنے ہی کو گمراہ کر رہے ہیں اور وہ گمراہی یہ کہ وبال اور گناہ میں گرفتار ہو رہے ہیں اور دعوت الی الباطل کے وبال میں مبتلا ہو رہے ہیں اور اس وبال کا ان کو شعور اور اطلاع بھی نہیں کہ ان مغویانہ سرگرمیوں کا ضرر ان کو کس طرح پہنچے گا ۔ ہماری تقریر سے وہ شبہ دور ہوگیا ہوگا جو عام طور سے کیا جاتا ہے کہ جب وہ خود گمراہ ہیں تو پھر گمراہ اپنے کو کیا گمراہ کرے گا ۔ اس طرح تو تحصیل حاصل ہوگا جواب صاف ہے کہ گمراہی سے مراد گمراہی کے وبال میں گرفتار ہونا ہے ۔ اہل کتاب چونکہ توریت اور انجیل کی صداقت کے قائل اور مقر تھے اور ان کتابوں میں نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور ان کے قرآن کا ذکر تھا اس لئے فرمایا کہ تم آیات الٰہی کے قائل ہوتے ہوئے بھی پھر ان آیات کے منکر ہو۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ خلوت میں بیٹھ کر تم بھی اس کا اعتراف کرتے ہو کہ یہ رسول وہی معلوم ہوتا ہے جس کا ہماری کتابوں میں ذک رہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روز مرہ قرآن کے نزول کا مشاہدہ کرتے رہتے ہو اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات کو دیکھتے رہتے ہو ۔ پھر کیوں قرآن کے منکر ہوتے ہو اور اس رسول پر ایمان نہیں لاتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی توریت کے قائل ہو پھر اسی کے خلاف کہتے ہو۔ ( موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) کے فرمانے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بایات اللہ سے مراد توریت ہے اب مطلب یہ ہوگا کہ تم توریت کے کلام الٰہی ہونے کے قائل ہو ۔ پھر اس کے بتائے ہوئے پیغمبر پر ایمان نہیں لاتے تو اس کتاب کا انکار کررہے ہو جس کو خود کلام الٰہی مانتے ہو۔ بہر حال قرآن کا انکار بھی توریت کے بلکہ جملہ کتب سماویہ کے انکار کو مستلزم ہے ۔ مدعایہ ہے کہ قرآن کے منکر ہونے سے توریت کا انکار بھی لازم آتا ہے دونوں طرح مطلب بیان کیا جاسکتا ہے۔ خواہ آیات اللہ سے قرآن مراد لیا جائے خواہ آیات اللہ سے تورات مراد لی جائے۔ ( واللہ اعلم) اب آگے ان کی تلبیس اور تحریف وغیرہ کی مذمت کا بیان ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)