| Perfect Tense | Imperfect Tense | Imperative | Active Participle | Passive Participle | Noun Form |
دَرَسَ |
يَدْرُسُ |
اُدْرُسْ |
دَارِس |
مَدْرُوْس |
دَرْس/دِرَاسَة |
دَرَسَ الدَّارُ: گھر کے نشان باقی رہ گئے اور نشان کا باقی رہنا چونکہ شے کے فی ذاتہ مٹنے کو چاہتا ہے اس لئے دُرُوسٌ کے معنیٰ اِنْمِحَائُ یعنی مٹ جانا کرلئے جاتے ہیں اسی طرح دَرَسْتُ الْکِتَابَ وَالْعِلْمَ کے اصل معنیٰ کتاب یا علم کو حفظ کرکے اس کا اثر لے لینے کے ہیں اور اثر کا حاصل ہونا مسلسل قرأت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے دَرَسْتُ الْکِتَابَ کے معنیٰ مسلسل پڑھنا کے آتے ہیں۔قرآن پاک میں ہے: (وَ دَرَسُوۡا مَا فِیۡہِ ) (۷۔۶۹) اور جو کچھ اس(کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ (بِمَا کُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡکِتٰبَ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ ) (۳۔۷۹) کیونکہ تم کتاب(خدا کی ) تعلیم دیتے اور اسے پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو۔ (وَ مَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ کُتُبٍ یَّدۡرُسُوۡنَہَا) (۳۴۔۴۴) اور ہم نے نہ تو ان کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور آیت کریمہ: (وَلِیَقْولْوا دَرَسْتَ) (۶۔۱۰۵) میں ایک قرأت دَارَستَ بھی ہے جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم نے کتاب کو دوسروں سے پڑھ لیا۔بعض نے کہا ہے کہ: (وَدَرَسْوا مَافِیْہ) (۷۳۔۱۶۹) کے معنیٰ یہ ہیں کہ انہوں نے اس پر عمل ترک کردیا اور یہ دَرَسَ القَوْمُ المَکَانَ کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ یعنی انہوں نے مکان کے نشانات مٹادیئے۔ دَرَسَتِ الْمَرَأۃُ (کنایہ) عورت کا حائضہ ہونا۔دَرَسَ الْْبَعِیْرُ: اونٹ کے جسم پر خارش کے اثرات ظاہر ہونا۔
Surah:3Verse:79 |
تم پڑھتے
studying (it)"
|
|
Surah:6Verse:105 |
تو پڑھ کر آیا
"You have studied"
|
|
Surah:7Verse:169 |
اور انہوں نے پڑھا
while they studied
|
|
Surah:34Verse:44 |
وہ پڑھتے ہوں ان کو
which they could study
|
|
Surah:68Verse:37 |
تم پڑھتے ہو
you learn
|