Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 80

سورة آل عمران

وَ لَا یَاۡمُرَکُمۡ اَنۡ تَتَّخِذُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرۡبَابًا ؕ اَیَاۡمُرُکُمۡ بِالۡکُفۡرِ بَعۡدَ اِذۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۰﴾٪  16

Nor could he order you to take the angels and prophets as lords. Would he order you to disbelief after you had been Muslims?

اور یہ نہیں ( ہو سکتا ) کہ وہ تمہیں فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لینے کا حکم دے کیا وہ تمہارے مسلمان ہونے کے بعد بھی تمہیں کُفر کا حکم دے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلاَ يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُواْ الْمَلَيِكَةَ وَالنِّبِيِّيْنَ أَرْبَابًا ... Nor would he order you to take angels and Prophets for lords. The Prophet does not command worshipping other than Allah, whether a sent Messenger or an angel. ... أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ Would he order you to disbelieve after you have submitted to Allah's will! meaning, he would not do that, for whoever calls to worshipping other than Allah, will have called to Kufr. The Prophets only call to Iman which commands worshipping Allah Alone without partners. Allah said in other Ayat, وَمَأ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ And We did not send any Messenger before you (O Muhammad) but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I, so worship Me". (21:25) وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah (Alone), and avoid Taghut (all false deities)." (16:36) and, وَاسْيلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَأ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـنِ ءَالِهَةً يُعْبَدُونَ And ask those of Our Messengers whom We sent before you: "Did We ever appoint gods to be worshipped besides the Most Gracious (Allah)!" (43:45) Allah said concerning the angels, وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّى إِلَـهٌ مِّن دُونِهِ فَذلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِى الظَّـلِمِينَ And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him (Allah)," such a one We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers. (21:29)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

80۔ 1 یعنی نبیوں اور فرشتوں (یا کسی اور کو) رب والی صفات کا حامل باور کرانا یہ کفر ہے۔ تمہارے مسلمان ہوجانے کے بعد ایک نبی یہ کام بھلا کس طرح کرسکتا ہے ؟ کیونکہ نبی کا کام تو ایمان کی دعوت دینا ہے جو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کا نام ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اللہ کی پناہ اس بات سے ہے کہ ہم اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کریں یا کسی کو اس کا حکم دیں اللہ نے مجھے نہ اس لئے بھیجا ہے نہ اس کا حکم ہی دیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر۔ بحوالہ سیرۃ ابن ہشام)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا يَاْمُرَكُمْ ۔۔ : اور نہ نبی کا یہ حق ہے کہ تمہیں اس بات کا حکم دے کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو۔ یہ کام تو صریح کفر ہے، پھر ایک پیغمبر تمہارے مسلمان ہونے کے بعد تمہیں کفر کا حکم کیسے دے سکتا ہے ؟ 3 اس آیت میں یہود و نصاریٰ کے طرز عمل پر چوٹ ہے، جنھوں نے انبیاء اور فرشتوں کی تعظیم میں اس قدر غلو کیا کہ ان کو رب تعالیٰ کے مقام پر کھڑا کردیا۔ انبیاء اور صالحین کی قبروں پر عمارتیں بنا کر ان میں ان کی تصویریں بنا ڈالیں۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ (رض) نے ایک کنیسہ (گرجے) کا ذکر کیا، جو انھوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، جس میں تصویریں تھیں۔ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : ” ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی ہوتا اور وہ فوت ہوجاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے ہاں ساری مخلوق سے بدتر ہوں گے۔ “ [ بخاری، مناقب الأنصار، باب ھجرۃ الحبشۃ : ٣٨٧٣ ] اب آپ کو مسلمانوں کے ہر شہر اور تقریباً ہر محلے میں یہی نقشہ نظر آئے گا۔ جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبر کو چونا گچ کرنے، اس پر عمارت بنانے یا اس پر (مجاور بن کر) بیٹھنے سے منع فرمایا۔ [ مسلم، الجنائز، باب النھی عن تجصیص القبر والبناء علیہ : ٩٧٠، عن جابر (رض) ] بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) کو حکم دیا کہ ہر تصویر کو مٹا دو اور ہر اونچی قبر کو برابر کر دو ۔ [ مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر : ٩٦٩ ] استاذ محمد عبدہ (رض) لکھتے ہیں کہ اس آیت : (ۭ اَيَاْمُرُكُمْ بالْكُفْرِ ) سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی نبی یا فرشتے کی پرستش صریح کفر ہے اور کوئی ایک تعلیم یا فلسفہ، جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی سکھائے یا اللہ کے کسی نبی یا بزرگ کو رب تعالیٰ کے مقام پر بٹھائے، وہ ہرگز اللہ تعالیٰ یا اس کے نبی کی تعلیم نہیں ہوسکتی۔ ” اَيَاْمُرُكُمْ “ میں استفہام انکاری ہے، یعنی یہ ممکن ہی نہیں، کیونکہ انبیاء تو لوگوں کو عبادتِ الٰہی کی تعلیم دینے اور مسلمان بنانے کے لیے مبعوث ہوتے ہیں نہ کہ الٹا کافر بنانے کے لیے۔ (قرطبی، ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا يَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰۗىِٕكَۃَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرْبَابًا۝ ٠ ۭ اَيَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۝ ٨٠ ۧ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٠ (وَلاَ یَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلآءِکَۃَ وَالنَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا ط) ۔ مشرکین مکہ نے فرشتوں کو رب بنایا اور ان کے نام پر لات ‘ منات اور عزیٰ جیسی مورتیاں بنا لیں ‘ جبکہ نصاریٰ نے اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اپنا رب بنا لیا۔ (اَیَاْمُرُکُمْ بالْکُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) اللہ کا وہ بندہ جسے اللہ نے کتاب ‘ حکمت اور نبوت عطا کی ہو ‘ کیا تمہیں کفر کا حکم دے سکتا ہے جبکہ تم فرمانبرداری اختیار کرچکے ہو ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

68. This refutation is directed at all the false concepts which were attributed to the Messengers of God by various nations, and then made an integral part of the religious scriptures. These concepts were false in that they elevated either the Prophets or the angels to the level of deities

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :68 یہ ان تمام غلط باتوں کی ایک جامع تردید ہے جو دنیا کی مختلف قوموں نے خدا کی طرف سے آئے ہوئے پیغمبروں کی طرف منسوب کر کے اپنی مذہبی کتابوں میں شامل کر دی ہیں اور جن کی رو سے کوئی پیغمبر یا فرشتہ کسی نہ کسی طرح خدا اور معبود قرار پاتا ہے ۔ ان آیات میں یہ قاعدہ کلیہ بتایا گیا ہے کہ ایسی کوئی تعلیم جو اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی و پرستش سکھاتی ہو اور کسی بندے کو بندگی کی حد سے بڑھا کر خدائی کے مقام تک لے جاتی ہو ، ہرگز کسی پیغمبر کی دی ہوئی تعلیم نہیں ہو سکتی ۔ جہاں کسی مذہبی کتاب میں یہ چیز نظر آئے ، سمجھ لو کہ یہ گمراہ کن لوگوں کی تحریفات کا نتیجہ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:80) ولا یامرکم۔ ثم یقول پر عطف ہے اور اس کا فاعل بشر ہے جو ابتدائی آیۃ میں مذکور ہے اور وہ بندہ نہیں حکم دے گا تمہیں۔ ایامرکم۔ تعجب اور استفہام انکاری کے طور پر ہے یعنی وہ ایسا حکم ہرگز نہیں دیگا۔ ضمیر فاعل بشر کی طرف راجع ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

غیر اللہ کو رب بنانے کی ممانعت : پھر فرمایا (وَ لَا یَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلآءِکَۃَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا) (کہ نبی تم کو یہ حکم نہیں دیتا کہ تم فرشتوں کو اور پیغمبروں کو اپنا رب بنا لو) تمام انبیاء (علیہ السلام) توحید کی دعوت دینے کے لیے تشریف لائے تھے وہ غیر اللہ کو رب ماننے کی دعوت کیسے دے سکتے تھے ؟ (اَیَاْمُرُکُمْ بالْکُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) (کیا نبی تم کو کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم اللہ کے فرمانبر دار ہو) ۔ اگر تم موحد ہو تو نبی تم کو توحید سے کیوں ہٹائے گا ؟ وہ شرک کی دعوت نہیں دے سکتا۔ ہاں اپنی نبوت اور رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دے گا۔ جس کا وہ مامور ہے اور جس پر ایمان لائے بغیر تم مومن نہیں ہوسکتے اور تمہارا عقیدہ توحید اس پر ایمان لائے بغیر تمہیں نجات نہیں دلا سکتا۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت یہ تھی کہ صرف اللہ کے بندے بنو اسی کی عبادت کرو نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اسی کی دعوت دی اور اسی دعوت پر محنت کی۔ اور آپ کے صحابہ (رض) نے بھی اسی دعوت کے لیے مشقت اٹھائی اور جہاد کیے۔ ایک مرتبہ فارس کے جہاد کے موقع پر حضرت ربعی بن عامر (رض) بطور سفیر رستم کے پاس تشریف لے گئے۔ رستم اہل فارس کا صاحب اقتدار تھا۔ رستم نے کہا کہ تم لوگ کیوں آئے ہو انہوں نے فرمایا کہ اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ ہم بندوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت کی طرف لے جائیں اور موجودہ دین میں ان کے ظلم سے بچا کر اسلام کے عدل کی طرف لے آئیں۔ (کما ذکر ابن کثیر فی البدایۃ فی ذکر یوم القادسیہ) دور حاضر میں بہت سے ایسے پیر و فقیر ہیں جنہیں نہ شریعت سے تعلق ہے نہ طریقت کو جانتے ہیں، سجا دے بنے ہوئے گدیاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ اپنے مریدوں سے خود اپنے کو سجدہ کراتے ہیں اور ان قبروں کو بھی جن کو کسب دنیا کا ذریعہ بنا رکھا ہے طریقت تو شریعت کی خادم ہے۔ بیعت اور ارشاد اور تصوف و سلوک اسی لیے ہے کہ انسان اللہ کے بندے بنیں اور اس کی عبادت میں لگیں نہ اس لیے کہ غیر اللہ کو سجدے کیے جائیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

114 یعنی جس طرح خدا کا کوئی پیغمبر لوگوں کو اپنی پکار اور عبادت کی دعوت نہیں دے سکتا اسی طرح وہ اللہ کے سوا دوسرے پیغمبروں اور فرشتوں کی پکار اور عبادت کی تلقین وتبلیغ بھی نہیں کرسکتا۔ 115 استفہام تعجب اور انکار کیلئے ہے یعنی یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ جب تم توحید کا اقرار کرچکے ہو تو کوئی پیغمبر تمہیں کفر اور شرک کرنے کا حکم دے اس سے معلوام ہوا کہ خدا کے سوا کسی کو (خواہ وہ پیغمبر ہو یا فرشتہ) خدائی صفات میں شریک ماننا۔ خدا کے سوا کسی کی عبادت کرنا اور حاجات میں پکارنا کفر ہے۔ اللہ کے نیک بندوں کی طرف شرکیہ عقائد کی نسبت کے بارے میں حضرت شیخ (رح) نے ایک جامع قاعدہ بیان فرمایا۔ جو حسب ذیل ہے۔ یہ تو ناممکن ہے کہ قرآن مجید یا اللہ کی کسی دوسری کتاب میں اللہ کے کسی نیک بندے کی طرف کوئی شرکیہ عبارت منسوب ہو کیونکہ اللہ کی تمام کتابیں مسئلہ توحید بیان کرنے کے لیے نازل ہوئیں اور سب میں مسئلہ توحید کے خلاف کوئی چیز نہیں۔ ہاں اگر کوئی عبارت متشابہات میں سے ہو تو اس کا حکم پہلے گذر چکا ہے کہ اس کا مطلب محکمات کی روشنی میں بیان کیا جائے اگر اس طرح بھی اسکا مطلب سمجھ میں نہ آئے تو اس کا علم خدا کے سپرد کیا جائے اور اگر ایسی شرکیہ عبارت قرآن یا آسمانی کتاب کے علاوہ کسی دوسری کتاب میں منسوب کی جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں اول یہ کہ جس نیک بندے کی طرف وہ عبارت منسوب کی گئی ہے۔ حقیقت میں وہ نیک ہے ہی نہیں۔ اس لیے وہ عبارت مردود ہے۔ دوم یہ کہ وہ بندہ تو واقعی بزرگ اور نیک ہے۔ اس لیے اب یا تو یہ کہا جائیگا کہ اس شرکیہ عبارت کی نسبت اس نیک بندے کی طرف صحیح نہیں شرک پسند لوگوں نے اس پر افترا کیا ہے لہذا وہ عبارت قابل رد ہے۔ جس طرح حضرت سید عبدالقادر جیلانی (رح) کی طرف ایک شرکیہ قصیدہ منسوب کردیا گیا ہے جو قطعاً حضرت شیخ کا نہیں ہے اور اگر اس عبارت کی نسبت اس بزرگ کی طرف صحت سے ثابت ہوجائے تو اس عبارت میں مناسب تاویل کر کے کتاب وسنت کے مطابق اس کا مطلب بیان کیا جائے گا۔ لیکن اگر وہ عبارت قابل تاویل بھی نہ ہو اور اس کا کوئی صحیح مطلب نہ نکل سکتا ہو تو اس عبارت کو بھی رد کردیا جائے گا اور سمجھا جائیگا کہ یہ بات اس بزرگ کی زبان سے غلبہ حال میں صادر ہوئی ہوگی جو احکام شرعیہ میں حجت نہیں۔ یہاں تک توحید کا بیان تھا آگے رسالت کا بیان ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1۔ کسی بشر سے ایسی بات نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب اور صحیح فہم و دانش اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے یوں کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور اس کی توحید کو ترک کر کے میرے بندے بن جائو وہ تو یہی کہے گا کہ تم لوگ چونکہ کتاب الٰہی کی دوسروں کو تعلیم دیتے ہو اور چونکہ خود بھی اس کتاب الٰہی کو پڑھتے ہو اس لئے تم سچے اور پکے اللہ والے بن جائو یعنی صرف اسی کی عبادت کرو اور نہ ایسا بشر تم سے یہ کہے گا اور نہ تم کو وہ تعلیم د ے گا کہ تم فرشتوں کو اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو اپنا رب قرار دے لو اور ان کو اپنا رب بنا بیٹھو کیا کہیں یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہارے مسلمان ہوئے پیچھے تم کو کفر کی بات کہے اور تم کو کفر کرنے پر آمادہ کرے۔ ( تیسیر) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ وفد نجران کی گفتگو میں بعض یہودی بھی شامل ہوگئے تھے ایسی حالت میں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کی طرف بلا رہے تھے حاضرین میں سے ابو رافع قرظی یہودی نے کہا اے محمد کیا تم یہ چاہتے ہو کہ نصاریٰ جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں ہم لوگ آپ کی عبادت کریں آپ نے یہ سن کر فرمایا خدا کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی کو غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دوں نہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے مبعوث فرمایا اور نہ مجھے اس امر کا حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کو غیر اللہ کی عبادت کا حکم کروں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا تھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپس میں ایک دوسرے کے ملاقات کے وقت سلام علیک کرتے ہیں اور آپ سے بھی ملاقات کے وقت سلام علیک کرتے ہیں تو ہم آپ کو سجدہ کیوں نہ کیا کریں اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں سجدہ نہ کرو اور کسی کو یہ لائق نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مخلوق میں سے کسی کو سجدہ کرے البتہ تم اپنے نبی کا اکرام اور اس کی عزت کرسکتے ہو اور اس کی اہل کے حق کا اعتراف کرسکتے ہو لیکن سجدہ نہیں کرسکتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی مقاتل اور ضحاک کا قول یہ ہے کہ نصاریٰ نے کہا تھا کہ ہم کو تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ حکم دے گئے تھے کہ مجھ کو رب قرار دینا اور مجھے رب بنانا۔ بہر حال آیت مذکورہ بالا میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی جانب سے صفائی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے انبیاء میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کرسکتا اور نہ کسی پیغمبر کی یہ مجال ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو آسمانی کتاب عطا فرمائے خواہ وہ قرآن ہو یا توریت و انجیل ہو اور اس کو حکم یعنی دین کا صحیح فہم یا فیصلہ کی قوت عطا کی جائے اور نبوت دی جائے اور اس قدر نعمتوں کے بعد وہ لوگوں کو توحید کی دعوت دینے کی بجائے معاذ اللہ اپنا بندہ بنانے کی دعوت دے اور ان سے یہ کہے کہ تم میرے بندے بن جائو بلکہ وہ تو لوگوں سے یہ کہے گا کہ تم ربانی یعنی توحید کے مبلغ ، یا فقیہ اور عالم ، یا خلق کے خیر خواہ یا حلال و حرام کے عالم یا علم و عمل میں کامل ، مکمل اور مخلص بن جائو اور علم و عمل کا اور قرب الٰہی کا انتہائی مرتبہ حاصل کرو کیونکہ تم اللہ کی کتاب پڑھاتے ہو اور خود پڑھتے ہو ۔ اس تعلیم و تدریس کا مقتضا یہی ہے کہ تم ربانی ہو اور اللہ والے ہو جائو اور اگر عالم بالکتاب نہ بھی ہو تب بھی من و جہ تو علم رکھتے ہو اور موحدین کے لئے اتنا ہی کافی ہے اور وہ بشر جس کو روحانیت کے ان مراتب سے نوازا گیا ہو وہ یہ بھی لوگوں سے نہیں کہہ سکتا کہ تم فرشتوں کو یا نبیوں کو رب بنا لو جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہم کو یہ حکم دے گئے تھے اور بھلا تم بھی تو ذرا سوچو کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ جب تم مسلمان ہوچکے تو تمہارے مسلمان ہوئے پیچھے وہ بشر مذکورتم کو کافر بننے والی بات کہے گا اور تم کو کفر کرنے کی ترغیب دے گا ۔ آیت کی جو تقریر فقیر نے کی ہے اس کے بعد کوئی شبہ نہ رہے گا اور نہ کسی شبہ کا جواب دینے کی ضرورت ہوگی ۔ ربانی جس طرح بہت بڑے مرتبے کے آدمی کو کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح صرف موحد پر بھی بولا جاسکتا ہے اگرچہ بظاہر آیت میں یہود مخاطب تھے لیکن واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے خلاف ہر ابل باطل کا آیت میں رد ہے اور بزرگوں کا نام لے کر جو اہل باطل غلط کارروائیاں کرتے ہیں ان کا اس آیت میں رد کیا گیا ہے ۔ رہی یہ بات کہ یہود اگر مخاطب ہیں تو ان کو مسلمان کس طرح کہا گیا اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنے کو مسلمان سمجھتے تھے اس لئے ان کے خیال کی بناء پر کہہ دیا کہ کسی مسلمان کو پیغمبر شرک کی تعلیم یا شرک کا امر کس طرح کرسکتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ صرف کتاب کی تعلیم دینا اور کتاب کو پڑھنا ہی خدا پرست بننے کا سبب ہو اور ایک عام آدمی جو کتاب پڑھ سکتا ہو اس کو ربانی بننے کے لئے نہ کہا جائے کیونکہ ہم تسہیل میں اس کا جواب دے چکے ہیں کہ من وجہ تو ہر شخص کو علم ہوتا ہے اس لئے کو نوار بانیین کا حکم ہر شخص کو ہے اگرچہ اہل علم کی ذمہ ذاری زیادہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود مسلمان سے کہتے تھے کہ تمہارا نبی ہم کو کہتا ہے کہ بندگی کرو اللہ کی ہم آگے سے اسی کی بندگی کرتے ہیں مگر وہ چاہتا ہے کہ میری بندگی کرو سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس کو اللہ نبی کرے اور وہ لوگوں کو کفر سے نکال کر مسلمانی میں لا دے پھر کیونکر ان کو کفر سکھا دے مگر تم کو یہ کہتا ہے کہ تم میں جو آگے دینداری تھی کتاب کا پڑھنا اور سکھانا وہ نہیں رہی اب میری صحبت میں وہی کمال حاصل کرو۔ ( موضح القرآنض اب آگے عہد کے سلسلے میں مزید تفصیل بیان فرماتے ہیں کہ ایک عہد تو وہ فطری یا وہ عام عہد ہے جو الست بربکم کے عہد سے مشہور ہے اس کے علاوہ ہم نے تمام انبیاء علیہم الصلوٰ ۃ والسلام سے بھی عہد لیا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)