Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 2

سورة الروم

غُلِبَتِ الرُّوۡمُ ۙ﴿۲﴾

The Byzantines have been defeated

رومی مغلوب ہوگئے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فِي أَدْنَى الاَْرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ

معرکہ روم وفارس کا انجام یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا ۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی ۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے ۔ مسند احمد حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں ۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا رومی عنقریب پھر غالب آجائیں گے ۔ صدیق اکبر نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کرلو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے ۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خدمت نبوی میں یہ خبر پہنچائی آپ نے فرمایا تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لئے لفظ بضع استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آگئے ۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے ۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے ۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آگئے حضرت عبداللہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گذرچکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا ۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر کی شرط سات سال کی تھی ۔ حضور نے ان سے پوچھا کہ بضع کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں؟ جواب دیا کہ دس سے کم ۔ فرمایا پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چنانچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی ۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے ۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے ۔ اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے حضرت صدیق اکبر سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی کو سچا مانتے ہو؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر شرط ٹھہری اور مدت گذر چکی اور رومی غالب نہ آئے ۔ حضور کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ رنجیدہ ہوئے اور جناب صدیق اکبر سے فرمایا تم نے ایساکیوں کیا ؟ جواب ملا کہ اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کرکے آپ نے فرمایا پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کرلو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے ۔ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھاکر شرط منظور کرلی ۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آگئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے ۔ اور رومیہ کی بنا انہوں نے ڈال لی ۔ حضرت صدیق نے قریش سے شرط کا مال لیا اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے فرمایا اسے صدقہ کردو ۔ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے ۔ اس میں ہے کہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے ( ترمذی ) ایک بہت عجیب وغریب قصہ امام جنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ فرماتے ہیں فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے ۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں ۔ اب تم مشورہ کرلو کہ کسے سردار بناؤ؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے ۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے ۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے ۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو ۔ بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا ۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا ۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے ۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز وشاداب ملک کو ویران وغارت کردیا ۔ اور اذرعات اور صرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا ۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آگئے ۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے ۔ کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے ۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے ۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہماے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے ۔ اس بات کا یقین کرلو اس لئے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی ہے ۔ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابو الفضل تم جھوٹ کہتے ہو ۔ آپ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے ۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط بدتا ہوں ۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آگئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا ۔ حضرت صدیق اکبر نے یہ شرط قبول کرلی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا بضع کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولاجاتا ہے ۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو ۔ حضرت ابو بکر چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا ؟ آپ نے فرمایا سنو میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں ۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو ۔ چنانچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آگئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے ۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہر براز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آگیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں ۔ یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی ۔ کسریٰ نے شہر براز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کرکے اسکا سر میرے پاس بھیج دو ۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ تم اتنی جلدی نہ کرو ۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات کے ساتھ دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فورا تعمیل کرو شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہوگیا اس نے اعلان کردیا کہ شہر براز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کردیا ۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہر بزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو ۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آجائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا ۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہاکہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے ، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں ۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کر لی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا ۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے ۔ اس نے منظور کرلیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لئے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے ۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہوگیا ۔ ذرا سوچ لے ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فورا تخت سے نیچے اترگیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنادیا ۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں ۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا ۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آجائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لئے چل پڑا ۔ لیکن احتیاطا اپنے ساتھ پانچ ہزار سوارلے لئے ۔ اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے جاسوسوں نے آکر خبردی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں ۔ چنانچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لئے ۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے ۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جاکر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بےہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا ۔ خیمہ میں پہنچ کر شہر براز نے کہا اے بادشاہ روم بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کرلیا ہے ۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہمارا حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کرلیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آجائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں ۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کرلی ۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئی جن کامطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کردئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے ۔ دونوں اس پر اتفاق کرکے کھڑے ہوگئے اور ہر ایک نے اپنے ترجمان کا کام تمام کردیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کردیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہوئے ۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے ۔ اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے ۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کرچکے ہیں سورۃ بقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے ۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں ۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے ۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے ۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہوجاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا ۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا ۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا ۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی ۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کرلیا ۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا ۔ یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا ۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے ۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے ۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے ۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی ۔ اسی کو امانت کبرٰ کہا جاتا ہے ۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے ۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئی ۔ ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان کے علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا ۔ جس قدر جی میں آئی کمی یازیادتی اصل دین مسیح میں کی ۔ اور اصل مذہب محرف ومبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے ۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا ۔ صلیب کی پرستش شروع ہوگئی ۔ خنزیر کو حلال کرلیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لئے جیسے عید صلیب عید قدرس عید غطاس وغیرہ وغیرہ ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے ۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی ۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی ۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا ۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار گرجے بنادئیے ۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا ۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا ۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے ۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر سطوریہ ۔ یہ سب سطور کے مقلد تھے ۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ انکے بہتر ( ٧٢ ) فرقے ہوگئے ۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا ۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا بہت بڑا عالم تھا دانائی زیرکی دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا ۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کر لی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی ۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے ۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا ۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا ۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کرسکا ۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا ۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کرلیجئے ۔ کسریٰ اس پر راضی ہوگیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا ۔ قیصر نے اسے قبول کرلیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کرسکتی ۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کرلوں اور آپ کو سونپ دو ۔ اس نے یہ درخواست منظور کر لی اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لئے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جارہا ہوں ۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آجاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کرلینا ۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا ۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا ۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے ۔ اس نے قتل عام شروع کیا ۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کردیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا ۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کرلیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کرڈالا ۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا ۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اسکے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تونے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں ۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی ۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کردیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا ۔ قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حملہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کرسوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کئی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا ۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسرا کے لشکر کے پاس سے گذریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گذرگیا ہے ۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں ۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا ۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کرکے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا ۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں ۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آگئے فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے ۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آگئے ۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آگئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے ۔ واللہ اعلم ۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آگئے قرآن کریم میں لفظ بضع کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطا دس سال تک رکھنے چاہئے تھے کیونکہ بضع کے لفظ اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے اس کے بعد قبل اور بعد پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ ہے کہ اس کے بعدحکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آجائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آگئے ۔ ابن عباس سدی ثوری اور ابو سعید یہی فرماتے ہیں ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ زہری اور قتادۃ وغیرہ کا یہی قول ہے بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چنانچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا ۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پہنچاجو آپ نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معرفت بصری کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابو سفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ۔ ابو سفیان نے کہا میں ہوں ۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگر یہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا ابو سفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کردیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقینا میں جھوٹ بولتا ۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے ۔ مثلا حضور کے حسب نسب کہ نسبت آپ کے اوصاف وعادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے ابو سفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بدعہدی وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں ۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے؟ ابو سفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی ۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے ۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی واللہ اعلم ۔ لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہوچکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی اس لئے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی ۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کرکے نذر کو پوری کرنے کے لئے روانہ ہوا واللہ اعلم ۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں ۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لئے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب ۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا ۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں ۔ خود قرآن میں موجود ہے کہ ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لئے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کرلے ۔ پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے ۔ حضرت زبیر کلامی فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا آخر آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگذر فرمانے والا ہے ۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آجائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پرودگار کا فیصلہ ہے ۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یاخلاف ہوجائے ۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے ۔ اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں ۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بہ یک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں ۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں ۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت ۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتادیا کرتے ہیں ۔ ابن عباس فرماتے ہیں دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے ۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Backdrop of revelation of the Surah - the story of war between Rum and Persia In the last verse of Surah ` Ankabut& Allah Ta’ ala had given the good tiding to those who would strive and struggle in His way. It was promised that for such people, He would open the doors toward Him, and that they would succeed in their objectives. The story that marks the beginning of Surah Ar-Rum is a manifestation of that very Divine help. The war referred to in this Surah was fought between Romans and Persians, who were both disbelievers, and had nothing to do with the Muslims. The people of Persia were fire-worshippers, while those of Rum were Christians, and hence, the People of the Book. So, naturally the people of Rum were relatively closer to Muslims. Many of their beliefs, such as faith in the Hereafter, the prophethood, and revelations, were common to Islamic beliefs. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) made use of this part of their beliefs in his letter when he wrote to the king of Rum ( Rome) inviting him to accept Islam تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ (come to a word common between us and you - 3:64). In fact it was this affinity between Islam and Christianity that caused the Persians to attack رُوم Rum. It happened when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was still living in Makkah. According to Hafiz Ibn Hajar, this war was fought in Syria at a place between Adhru’ at and Busra. The Pagans of Makkah aspired for the victory for the Persians in this war, because the Persians shared them in their belief in polytheism, but the Muslims wished the triumph of the Christians, as they were closer to Islam in their beliefs. But as it happened, the Persians defeated the Christians, and conquered the land right up to Constantinople, and built a temple there for worshipping fire. This victory was the last for Chosroe Parvez. After that, his decline sat in, and ultimately he was removed by the Muslims. (Qurtubi). At the defeat of Christians, the infidels of Makkah rejoiced, and taunted the Muslims that their favourites have lost. They also claimed that as the Persian infidels defeated the Roman Christians, the same way Makkans would also beat down the Muslims. This claim hurt the Muslims to some extent. (Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim) The opening verses of Surah Ar-Rum relate to this incident in which it is predicted as a good tiding that the people of Rum will overcome the Persians again in a few years time. When Sayyidnu Abu Bakr (رض) learnt about these verses, he went to the infidels in the market place and suburbs of Makkah and announced that there was no occasion for them to be happy as after a few years, the Christians would overcome the Persians again. Hearing this &Ubayy ibn Khalaf challenged him and said it could not be so, and that he was only telling a lie. Sayyidna Abu Bakr (رض) said |"0 enemy of Allah! You are a liar, I am willing to bet on this issue that in case the Christians would not overcome the Persians in three years time, I will give you ten camels, and if they did overcome, then you will have to give me ten camels|". (This was a case of gambling, but gambling was not prohibited by then). After saying that Sayyidna Abu Bakr (رض) went to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and narrated the episode. On that, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him that he did not fix the time of three years, because Qur&an has used the word Bid& Sinin (a few years) under which the time limit could be anything between three to nine years. Therefore, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked Sayyidna Abu Bakr (رض) to go back to the person with whom he had made the bet and ask him that he would bet for hundred camels instead of ten, but the time limit would be nine (and according to some other reports, seven) years and not three. Sayyidna Abu Bakr (رض) followed the instructions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and &Ubayy Ibn Khalaf also agreed on the terms of the new bet. (Ibn Jarir) (1) (1) &Ubayy readily accepted the new terms because he was fully confident that the Romans could not defeat the Persians. Given the circumstances prevalent at that time, such an unshaken confidence of &Ubayy was not misconceived. The way the Persians had beaten the Roman Empire had left no room for their uprising again. The prediction that the Romans will be victorious against Persians had no basis in the visible possibilities, when it was made. Nobody could foresee, in the world of causes and effects, that such an event might take place. Edward Gibbon, the famous historian of the Roman Empire, has observed: |"Placed on the verge of the two great empires of the East, Muhammad observed with secret joy the progress of their mutual destruction; and in the midst of the Persian triumphs he ventured to foretell that, before many years should elapse, victory would again return to the banners of the Romans. At the time when this prediction is said to have been delivered, no prophecy could be more distant from its accomplishment, since the first twelve years of Heraclius announced the approaching dissolution of the empire”. It is gathered from various ahadith that this incident had happened five years before the hijrah. After the passage of exactly seven years, at the time of the battle of Badr, the Romans defeated Persians. By that time, &Ubayy Ibn Khalaf had died. So Sayyidna Abu Bakr (رض) demanded a hundred camels from his heirs according to the terms of the bet, to which they complied and handed over the agreed number of camels. Some versions of the incident state that before the hijrah, Ubayy Ibn Khalaf expressed his apprehension to Sayyidna Abu Bakr (رض) that the latter might leave Makkah, and in such a situation he would not let him go unless he appointed a guarantor for himself. It was to ensure that when the period of the bet would expire, the guarantor should arrange to deliver a hundred camels. Sayyidna Abu Bakr (رض) appointed his son, ` Abdur Rahman (رض) ، as his guarantor. When Sayyidna Abu Bakr (رض) won the bet according to the agreement and got hold of one hundred camels, he took them to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، who asked him to give them in charity (sadaqah). Abu Ya` la has quoted these words in Ibn ` Asakir on the authority of Sayyidna Bra& Ibn ` Azib ھٰذا السُحتُ تَصَدَّق بِہٰ. That is, &this is prohibited. Give it in charity (sadaqah).& (Ruh ul-Ma ani). Gambling Qimar, that is, gambling, is absolutely prohibited according to the categorical Qur&anic injunction. After hijrah to Madinah when liquor was banned, gambling was also prohibited simultaneously. It was declared an act of Shaitan: إِنَّمَا الْخَمْرُ‌ وَالْمَيْسِرُ‌ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِ‌جْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ (The truth is that wine, gambling, altar-stones and divining arrows are filth, a work of Shaitan - 5:90) Maysir (مَیسِر) and Azlam (& اَزلَام) are nothing but different forms of gambling, which have been prohibited in this verse. Betting, in which money or commodities are placed on stake and won or lost according to conditions agreed, is also a form of gambling. The bet made between Sayyidna Abu Bakr (رض) and &Ubayy ibn Khalaf was also a form of gambling. But this incident had happened before the hijrah, when the injunction for banning the gambling was not revealed. Therefore, the commodity won in this case was not حَرَام haram (prohibited). (Gibbon, The decline and fall of the Roman Empire, chapter 46, vol. 2, p. 125, Great Books, V.38, published by the University of Chicago, 1990) Had it not been a news given by Allah Ta’ ala, nobody could have dared to predict such an unlikely event. In particular, it was impossible for a claimant to prophethood that he would put his future at stake by predicting an event that was so improbable. This foretelling, therefore, is one of the solid proofs of the prophethood of Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . (Muhammad Taqi ` Usmni ) The question that arises here is that why did the Holy Prophet ask Sayyidna Abu Bakr 4 to give away the camels in charity when they were not haram (prohibited), especially when in some other versions of the hadith the word سُحت suht is used, which is commonly understood as haram? The answer to this query, as given by the religious jurists, is that although at that time those camels were halal (permitted) but the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not like earning through gambling, even at that time. He therefore, asked Sayyidna Abu Bakr to give them away in charity, as they were below his stature. It is identical to the situation that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and Sayyidna Abu Bakr (رض) did not taste liquor ever, even during the time when it was not prohibited. As regards the use of the word suht (سُحت), in the first place the scholars of hadith did not accept this narration as correct; and even if it is accepted as authentic, it should be kept in mind that this word has several meanings. One meaning is haram (prohibited), and the other is abominable and undesirable. It is related in one had ith that once-the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said خَسبُ الحَجَّامِ سُحتُ that is, ` The earning of the one who undertakes treatment by cupping is suht&. The majority of religious scholars have taken the meaning of suht here as undesirable or disgusting. Imam Raghib Isfahani in his Mufradat-ul-Qur&an and Ibn Athir in his Nihayah have proved the different meanings of the word suht in the usage of Arabic language and ahadith of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Acceptance of this interpretation of the religious scholars is also necessary because if in fact these camels were haram, then according to religious law this was to be returned to the person from whom it was taken. The commodity, which is haram, can only be given in charity (sadaqah) under any one of the three situations: One, when the owner of the commodity is not known. Two, when it is not possible to deliver the commodity to the owner. And third, when there is any religious complication in the delivery of the commodity. وَاللہُ سبحانَہُ و تعالیٰ اَعلَم

معارف و مسائل قصہ ناول سورت روم اور فارس کی جنگ : سورة عنکبوت اس آیت پر ختم ہوتی ہے جس میں حق تعالیٰ نے اپنے راستہ میں جہاد و مجاہدہ کرنے والوں کے لئے اپنے راستے کھول دینے اور ان کے لئے مقاصد میں کامیابی کی بشارت دی تھی۔ سورة روم کی ابتداء جس قصہ سے ہوئی ہے وہ اسی نصرت الہیہ کا ایک مظہر ہے اس سورت میں جو واقعہ روم اور فارس کی جنگ کا مذکور ہے یہ دونوں کفار ہی تھے، ان میں سے کسی کی فتح کسی کی شکست بظاہر اسلام اور مسلمانوں کے لئے کوئی دلچسپی کی چیز نہیں، مگر ان دونوں کفار میں اہل فارس مشرکین آتش پرست تھے اور روم و نصاری اہل کتاب اور ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے کفار میں اہل کتاب مسلمانوں سے نسبتاً قریب ہیں۔ کیونکہ بہت سے اصول دین آخرت پر ایمان، رسالت اور وحی پر ایمان، ان کے ساتھ قدر مشترک ہے۔ اسی قدر مشترک سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اس مکتوب میں کام لیا جو روم کے بادشاہ کو دعوت اسلام دینے کے لئے بھیجا تھا کہ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاۗءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ الایتہ اہل کتاب کے ساتھ مسلمانوں کا ایک گونہ قرب ہی اس کا سبب بنا کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام مکہ مکرمہ کے زمانہ میں فارس نے روم پر حملہ کیا۔ حافظ ابن حجر وغیرہ کے قول کے مطابق ان کی یہ جنگ ملک شام کے مقام اذرعات اور بصری کے درمیان واقع ہوئی۔ اس جنگ کے دوران میں مشرکین مکہ یہ چاہتے تھے کہ فارس غالب آجائے کیونکہ وہ بھی شرک و بت پرستی میں ان کے شریک تھے اور مسلمان یہ چاہتے تھے کہ روم غالب آئیں، کیونکہ وہ دین و مذہب کے اعتبار سے اسلام کے قریب تھے۔ مگر ہوا یہ کہ اس وقت فارس روم پر غالب آگئے، یہاں تک کہ قسطنطنیہ بھی فتح کرلیا اور وہاں اپنی عبادت کے لئے ایک آتشکدہ تعمیر کیا اور یہ فتح کسری پرویز کی آخری فتح تھی، اس کے بعد اس کا زوال شروع ہوا اور پھر مسلمانوں کے ہاتھوں اس کا خاتمہ ہوا۔ (از قرطبی) اس واقعہ پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمانوں کو عار دلائی کہ تم جس کو چاہتے تھے وہ ہار گیا اور جیسا کہ روم اہل کتاب کو بمقابلہ فارس شکست ہوئی ہمارے مقابلہ میں تم کو شکست ہوگی۔ اس سے مسلمانوں کو رنج ہوا (ابن جریر، ابن ابی حاتم) قرآن میں سورة روم کی ابتدائی آیتیں اسی واقعہ کے متعلق نازل ہوئیں جن میں یہ پیشین گوئی اور بشارت دی گئی ہے کہ چند سال بعد پھر روم فارس پر غالب آجائیں گے۔ حضرت صدیق اکبر نے جب یہ آیات سنیں تو مکہ کے اطراف اور مشرکین کے مجامع اور بازار میں جاکر اس کا اعلان کیا کہ تمہارے خوش ہونے کا کوئی موقع نہیں، چند سال میں پھر روم فارس پر غالب آجائیں گے، مشرکین مکہ میں سے ابی بن خلف نے مقابلہ کیا اور کہنے لگا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ صدیق اکبر نے فرمایا کہ خدا کے دشمن تو ہی جھوٹا ہے اور میں تو اس واقعہ پر شرط کرنے کو تیار ہوں کہ اگر تین سال کے اندر روم غالب نہ آگئی تو دس اونٹنیاں میں تمہیں دوں گا اور وہ غالب آگئے تو دس اونٹیاں تمہیں دینا پڑیں گی (یہ معاملہ قمار کا تھا مگر اس وقت قمار حرام نہیں تھا) یہ کہہ کر صدیق اکبر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے تو تین سال کی مدت متعین نہیں کی تھی کیونکہ قرآن میں اس کے لئے لفظ بِضْعِ سِنِيْنَ مذکور ہے، جس کا اطلاق تین سے نو سال تک ہوسکتا ہے، تم جاؤ اور جس سے یہ معاہدہ ہوا ہے اس سے کہہ دو کہ میں دس اونٹینوں کے بجائے سو کی شرط کرتا ہوں، مگر مدت تین سال کے بجائے نو سال اور بعض روایات کی رو سے سات سال) مقرر کرتا ہوں۔ صدیق اکبر نے حکم کی تعمیل کی اور ابی بن خلف اس نئے معاہدہ پر راضی ہوگیا۔ (ابن جریر بسندہ عن مجاہد وروی القصتہ الترمذی عن ابی سعید الخدری و دینار بن مکرم الاسلمی بتغیر یسیر) روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پانچ سال پہلے پیش آیا ہے اور پورے سات سال ہونے پر غزوہ بدر کے وقت روم دوبارہ فارس پر غالب آگئے اس وقت ابی بن خلف مر چکا تھا۔ صدیق اکبر نے اس کے وارثوں سے اپنی شرط کے مطابق سو اونٹنیوں کا مطالبہ کیا، انہوں نے اونٹیاں دے دیں۔ بعض روایات میں ہے کہ ہجرت سے پہلے ابی بن خلف کو جب اندیشہ ہوا کہ ابوبکر بھی شاید ہجرت کر کے چلے جائیں تو اس نے کہا کہ میں آپ کو اس وقت تک نہ چھوڑوں گا جب تک آپ کوئی کفیل پیش نہ کریں کہ میعاد معین تک روم غالب نہ آئے تو سو اونٹنیاں وہ مجھے دے دے گا۔ حضرت صدیق اکبر نے اپنے صاحبزادے عبدالرحمن کو اس کا کفیل بنادیا تھا۔ جب شرط کے مطابق صدیق اکبر جیت گئے اور سو اونٹنیاں ان کو ہاتھ آئیں تو وہ سب لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ ان اونٹنیوں کو صدقہ کردو اور ابو یعلی، ابن عساکر میں حضرت براء بن عازب کی روایت ہے اس میں یہ الفاظ منقول ہیں ہذا السحت تصدق بہ، یہ تو حرام ہے اس کو صدقہ کردو (روح المعانی) مسئلہ قمار : قمار یعنی جوا از روئے نصوص قرآن حرام قطعی ہے۔ ہجرت مدینہ کے بعد جس وقت شراب حرام کی گئی اسی کے ساتھ قمار بھی حرام کردیا گیا اور اس کو شیطانی عمل قرار دیا۔ آیت اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ میں میسر اور ازلام جوے (قمار) ہی کی صورتیں ہیں جن کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ دو طرفہ لین دین اور ہار جیت کی شرط جو حضرت صدیق اکبر (رض) نے ابی بن خلف کے ساتھ ٹھہرائی یہ بھی ایک قسم کا جوا اور قمار ہی تھا، مگر یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے جب قمار حرام نہیں تھا اس لئے اس واقعہ میں جب یہ قمار کا مال آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا تو کوئی مال حرام نہیں تھا۔ اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اس کے صدقہ کردینے کا حکم کیوں فرمایا، خصوصاً دوسری روایت میں جو اس کے متعلق لفظ سحت آیا ہے جس کے مشہور معنی حرام کے ہیں یہ کیسے درست ہوگا ؟ اس کا جواب حضرات فقہاء نے یہ دیا ہے کہ یہ مال اگرچہ اس وقت حلال تھا مگر قمار کے ذریعہ اکتساب مال اس وقت بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پسند نہ تھا، اس لئے صدیق اکبر کی شان کے مناسب نہ سمجھ کر ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے شراب حلال ہونے کے زمانے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صدیق اکبر نے کبھی استعمال نہیں فرمائی۔ اور لفظ سحت جو بعض روایات میں آیا ہے اول تو اس روایت کو محدثین نے صحیح تسلیم نہیں کیا اور اگر صحیح بھی مانا جائے تو یہ لفظ بھی کئی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسے بمعنے حرام مشہور ہے دوسرے معنی اس کے مکروہ و ناپسندیدہ کے بھی آتے ہیں۔ جیسا ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسب الحجام سحت یعنی پچھنے لگانے والے کی کمائی سخت ہے یہاں جمہور فقہاء نے اس کے معنی ناپسندیدہ اور مکروہ کے لئے ہیں اور امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں اور ابن اثیر نے نہایہ میں لفظ سحت کے یہ مختلف معانی محاورات عرب اور احادیث نبویہ سے ثابت کئے ہیں۔ حضرات فقہاء کا یہ کلام اس لئے بھی واجب القبول ہے کہ اگر واقع میں یہ مال حرام تھا تو شرعی اصول کے مطابق یہ مال اسی شخص کو واپس کرنا لازم تھا جس سے لیا گیا ہے مال حرام کو صدقہ کرنے کا حکم صرف ان صورتوں میں ہوتا ہے جبکہ اس کا مالک معلوم نہ ہو یا اس کو پہنچانا مشکل ہو یا اس کو واپس کرنے میں کوئی اور شرعی قباحت ہو۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

شان نزول : الۗمّۗ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ (الخ) امام ترمذی نے ابو سعید سے روایت نقل کی ہے کہ بدر کے دن رومی اہل فارس پر غالب آگئے جس کی وجہ سے مسلمان خوش ہوئے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ الم سے بنصر اللہ تک یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ اہل روم ایک قریب کے موقع میں مغلوب ہوگئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب اور ابن جریر نے بھی ابن مسعود سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور ابن ابی حاتم نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ پتا چلا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت سے پہلے جبکہ مسلمان مکہ مکرمہ میں تھے مشرکین مسلمانوں سے مباحثہ کیا کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ رومی اہل کتاب ہونے کے مدعی ہیں اور ان پر مجوسی غالب آگئے اور تم بھی اس بات کے دعویدار ہو کہ اس کتاب کی وجہ سے جو کہ تمہارے نبی کریم پر نازل ہوئی ہے تم بھی ہم پر غالب آجاؤ گے تو اب مجوسی رومیوں پر کیسے غالب آگئے حالانکہ رومی تو اہل کتاب ہیں تو ہم بھی تم پر غالب آجائیں گے جیسا کہ اہل فارس روم پر غالب آگئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ اور ابن جریر نے اسی طرح عکرمہ اور یحییٰ بن عمیر اور قتادہ سے روایت کیا مگر پہلی روایت میں غلبت غیب کے زبر کی قرات کے ساتھ روایت کیا ہے کیونکہ یہ آیت مبارکہ بدر کے دن جس وقت مسلمان کافروں پر غالب ہوئے نازل ہوئی اور دوسری روایت میں پیش کے ساتھ یہ لفظ روایت کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فارس کے رومیوں پر غلبہ کرجانے کے بعد عنقریب مسلمان بھی ان پر غلبہ پائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 from what lbn `Abbas and the other Companions and their followers have said, it appears that the Muslims' sympathies in this war between Byzantium and Iran were with Byzantium and of the disbelievers of Makkah with Iran. This had several reasons. First, the Iranians had given it the colour of a crusade between Magianism and Christianity, and, apart from the object of political conquest, they were making it a means of spreading Magianism. In the letter that Khusrau Parvez wrote to the Emperor Heraclius after the conquest of Jerusalem, he had clearly mentioned his victory as a proof of the truth of Magianism. In principle, the Magian creed resembled the polytheistic creed of the people of Makkah, because the Magis too, were disbelievers of Tauhid they believed in two gods and worshipped the fire. That is why the mushriks of Makkah were in sympathy with them. Contrary to them, the Christians, however corrupted their monotheism might be, still regarded belief in One God as the basis of religion, believed in the Hereafter and admitted Revelation and Prophethood as the source of guidance. Thus, their religion in principle resembled Islam, and therefore, the Muslims were naturally in sympathy with them, and could not like that a polytheistic people should dominate them. Secondly, the people who believe in a previous Prophet before the advent of a new Prophet are naturally regarded and counted as Muslims until the message of the new Prophet reaches them and they clearly discard it. (Please see E.N. 73 of Surah AI-Qasas also). At that time only five to six years had passed since the Holy Prophet's advent as a Prophet and his message had not yet reached outside Arabia. Therefore, the Muslims did not look upon the Christians as disbelievers, but they certainly regarded the Jews as disbelievers because they had rejected the Prophet Jesus (may peace be upon him) to be a Prophet. Thirdly, the Christians from the very beginning had been treating the Muslims with sympathy as already mentioned above in Al-Qasas: 52-55, and in AI-Ma'idah: 82-85, and many of them were even accepting the message of the Truth with an open heart. Then, the way the Christian king of Habash had given refuge to the Muslims on their migration there and turned down the demand of the disbelievers of Makkah to return them, also required that the Muslims should wish the Christians well as against the Magians.

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:2) غلبت الروم ۔ غلبت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب ، مغلوب ہوئی۔ شکست کھائی۔ ہرادی گئی۔ الروم سے مراد سلطنت روم۔ روم کی فوجیں یا خود اہل روم ہیں۔ الروم سے مراد یہاں قدیم رومن ائمپائر کا وہ مشرقی حصہ ہے جو 295 ء میں اس سے کٹ کر ایک مستقل حصہ بن گیا تھا۔ یہ سلطنت 1454 ء تک رہی اس میں شام فلسطین۔ ایشیائے کوچک کے علاقے سب شامل تھے 1454 ء کے بعد یہ سلطنت ترکوں کے قبضہ میں آگئی۔ حکومت روم کی جس شکست کا یہاں ذکر ہے وہ 14، 613 ء میں وقوع پذیر ہوئی ۔ جب مسیح رومیوں کو مجوس ایران کے مقابلہ میں سخت ہزیمت اٹھانا پڑی اور انطاکیہ دمشق کے علاقوں پر ایرانیوں نے قبضہ کرلیا۔ اور ہزاروں عیسائیوں کو یہ تیغ کردیا گیا۔ اس زمانہ میں مکہ میں واضح طور پر مشرکین اور اہل اسلام دو جماعتوں میں بٹ گئے تھے اہل ایران کو فتح پر اہل مکہ شاداں تھے کہ ان کی طرح کے منکرین توحید کو فتح ہوئی ہے۔ اور مسلمان جو اہل روم کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے کہ کم از کم اہل کتاب تو تھے۔ ان کی شکست پر غمگین نظر آتے تھے اس وقوعہ کے تھوڑے عرصہ بعد 615 ء یا 616 ء میں یہ آیات نازل ہوئیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (ا تا 10) ۔ غلبت (شکست کھا گئے۔ مغلوب ہوگئے) ۔ ادنی (قریب) ۔ بضع (تین سے نو سال تک کی مدت) ۔ اجل (موت۔ مدت) ۔ اشد (زیادہ۔ بڑھ کر) ۔ اثاروا (ثورۃ) (انہوں نے ابھارا۔ اگایا۔ سرسبز کیا) ۔ عمروا (انہوں نے آباد کیا) ۔ اساء وا (انہوں نے برا کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (ا تا 10) ۔ ” سورة الروم کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کردی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں آنے والے ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا تو کفار مکہ نے آپ کی زبردست مخالفت کی اور ستانے اور اذیت دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کفارو مشرکین صحابہ کرام (رض) کو ستانے کے بہانے تلاش کرتے رہتے تھے۔ وہ اس بات سے خوف زدہ تھے کہ اگر انہوں نے اسلامی طرز زندگی کو اختیار کرلیا تو ان کے ذاتی مفادات، مذہبی رسومات اور ان بتوں کی عبدت و بندگی چھوٹ جائے گی جب کو وہ اپنے مشکل وقتوں کا سہارا سمجھتے تھے۔ جب کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کی تعلیم دے رہے تھے کہ سب مل کر ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں باپ دادا سے جو غلط رسمیں چلی آرہی ہیں ان کو چھوڑ دیں اور لکڑی، مٹی اور پتھر سے بنائے گئے وہ معبود جو اپنے وجود کے لئے بھی دوسروں کے ہاتھوں محتاج ہیں ان کی عبادت و پرستش نہ کریں۔ کفر واسلام کی یہی کشمکش جاری تھی کہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے ایرانی شہنشاہ خسرو پرویز نے رومیوں کے انتشار سے فائدہ اٹھا کر اچانک ان پر چڑھائی کردی۔ ملک شام اور بصرہ کے درمیانی علاقے سے حملہ شروع کیا۔ یہ حملہ اس قدر زبردست اور بھر پور تھا کہ رومیوں کے سارے علاقے فتح ہوتے چلے گئے۔ یروشلم، مصر، اردن اور دمشق پر قبضہ کرنے کے بعد رومیوں کے مضبوط گڑھ قسطیطینہ پر تسلط کے بعد وہاں سب سے بڑا آتش کدہ بنا لیا تھا۔ اس طرح رومی مکمل طور پر شکست کھاچکے تھے اور ایرانی مجوسیوں کی کامیابیوں نے انہیں انتہائی مغرور و متکبر بنا دیا تھا۔ ان تمام حالات کی اطلاع مکہ مکرمہ بھی پہنچ رہی تھی ۔ ایرانیوں کی فتح کو کفار و مشرکین اپنی فتح سمجھ رہے تھے وجہ یہ تھی کہ مکہ کے کفار و مشرکین بتوں کو پوجتے تھے اور مجوسی آگ کی پر ستش کرتے تھے دونوں کے مذہبی عقیدے قریب قریب تھے جب کہ مسلمانوں کے نزدیک نصاری اور مجوسی دونوں ہی کافر تھے مگر رومی نصاری یعنی عیسائیوں سے دلچسپی اس لئے تھی کہ وہ کم از کم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عظمت، وحی کی کیفیت اور اللہ کو کسی حد تک مانتے تھے۔ اس لئے ان کو خواہش تھی کہ رومیوں کو اس طرح شکست نہ ہو ۔ مگر رومیوں کی شکست پر شکست سے کفار مکہ کے حو صلے کچھ زیادہ ہو چلے تھے۔ مسلمانوں کو چھیڑنے اور ذہنی اذیت پہنچانے کے لئے کہتے تھے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماننے والوں پر آتش پرست چھا گئے ہیں اور آتش پرستوں نے اللہ کا نام لینے والوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ کر رکھ دیا ہے اسی طرح ہم بھی تم مسلمانوں کو شکست دیں گے اور تمہیں نکال باہر کریں گے۔ رومیوں کی شکست اور کفارومشرکین مکہ کے طعنوں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام سخت رنجیدہ اور پریشان رہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ رہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے سورة روم کی مذکورہ آیتیں نازل کر کے صاف صاف اعلان کردیا کہ اہل ایمان صبر اور برداشت سے کام لیں رومی شکست کھاچکے ہیں لیکن چند برسوں (تین سے نو سال کے عرصے) میں دو بارہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایرانی مجوسیوں پر فتح حاصل کرلیں گے ان کو ان کے ملک میں گھس کر ماریں گے۔ پوری طرح غالب آجائیں گے اور یہ دن اہل ایمان کے لئے بھی خوش خبری والا دن ہوگا ۔ فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ کی مدد سے ہوگا ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔ شدید مایوسی میں قرآن کریم کی ان آیات کو سن کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) خوش ہوگئے۔ چونکہ ان آیات میں نہ صرف رومیوں کے دوبارہ غالب آنے کے لئے فرمایا گیا ہے بلکہ ایمان کو بھی خوش خبری سنا دی گئی تھی کہ ان کو بھی کفار مکہ پر اسی طرح کامیابی حاصل ہوگی۔ قوموں کی زندگی میں دو چار دس برس بڑی مدت نہیں ہوا کرتی۔ اس لئے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے حکم سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی اس کے دوسرے سال ہی ہر قل نے پوری تیاری کے ساتھ ایرانیوں پر اتنے زبردست حملے کئے کہ ایرانی مجوسی ہر محاذ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور رومی فوجوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔ ایرانیوں کو مارتے مارتے وہ قسطنطنیہ پر قابض ہوگئے۔ رومیوں نے آتش پرستوں کے آتش کدے مسمار کردیئے۔ ہزاروں مجوسیوں کا قتل عام کیا اور پوری طرح رومی سلطنت کو دوبارہ قائم کرلیا۔ ان ہی دنوں اللہ نے مسلمانوں کو غزوہ بدر میں زبردست کامیابی عطا کی اور اہل ایمان کو بت پرستوں پر مکمل جنگی اور اخلاقی فتح عطا فرمادی۔ اس طرح قرآن کریم کی پیش گوئی صرف سات سال پوری ہوگئی۔ جب قرآن کریم کی یہ پیش گوئی پوری ہوگئی تو روایات کے مطابق بہت سے کفار نے اسلام قبول کرلیا اور ان کو یقین ہوگیا کہ قرآن اللہ کا سچا کلام ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ صرف ظاہری چیزوں کے دیکھنے کے عادی ہیں اور اپنے عیش و آرام میں پڑ کر آخرت سے غافل ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے اور غور کرنا چاہیے کہ اس کائنات کا خالق ومالک صرف اللہ ہے وہی اس نظام کائنات کو چلا رہا ہے وہ ہر چیز کی حقیقت سے پوری طرح واقف ہے زمین، آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ فضول، بےمقصد اور بےکار پیدا نہیں کیا گیا بلکہ ان کے پیدا کرنے میں بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ اللہ جب تک چاہے گا اس نظام کائنات کو چلائے گا لیکن جب اس کی مدت پوری ہوجائے گی تو کائنات کی اس بساط کو لپیٹ کر رکھ دے گا۔ فرمایا کہ آخرت تو ایک حققیت کا نام ہے جہاں ہر شخص کو اللہ کے سامنے حاضر ہو کر زندگی بھر کا حساب کتاب دینا ہوگا لیکن کبھی کھنی تو اللہ فنا کے اس عمل کو اس دنیا میں بھی دکھا دیتا ہے جس کی سب سے بڑی دلیل ترقی یافتہ قوموں کے دہ کھنڈرات ہیں جہاں کبھی بڑی رونقیں تھیں۔ ہر طرف خوشحالی تھی۔ لوگوں نے خوب محنتیں کر کے عظیم الشان بلڈنگیں بنائی تھیں جن کا اس دور میں تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ ہر طرف باغات، لہلہاتے ہوئے کھیت، مالی لین دین، مال و دولت کی کثرت تھی لیکن جب انہوں نے اپنی ترقیات پر اترانا شورع کیا اور اللہ کی نافرمانیاں شروع کردیں تو اللہ نے ان کو آگاہ کرنے کے لئے اپنے رسول بھیجے جن کو انہوں نے جھٹلایا اور ان کی کسی بات کو نہیں مانا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی نافرمانیاں انہیں لے ڈوبیں۔ ان کی تہذیب و ترقی اور بلند وبالا عمارتیں راکھ کا ڈھیربن گئیں۔ یہ انہوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ ہی اپنے اوپر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر وہ پنی عقل و فکر سے کام لے کر غور کریں تو ان پر یہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ اس کائنات میں ہر طرح کی طاقت و قوت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی اطاعت و فرماں برداری سے ہر طرح کی کامیابیاں ملتی ہیں اور نافرمانیوں سے دنیا اور آخرت میں سوائے تباہی کے کچھ بھی نہیں ملتا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ ایک بار روم اور فارس میں مقام اذرعات و بصری کے درمیان لڑائی ہوئی اور رومی مغلوب ہوگئے، مشرکین مکہ مسلمانوں سے کہنے لگے کہ تم اور رومی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی غیر اہل کتاب ہیں، پس روم پر فارس کا غالب آنا فال ہے اس کی کہ ہم بھی تم پر غالب رہیں گے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ جن میں پیشنگوئی ہے کہ نو سال کے اندر رومی فارسیوں پر غالب آجاویں گے، چناچہ اس سے ساتویں برس پھر دونوں کا مقابلہ ہوا اور رومی غالب آگئے جس سے وہ پیشنگوئی پوری ہوئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن سورۃ العنکبوت کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے راستے ہموار کردیتا ہے جو دنیا کے لیے کوشش کرے گا وہ اپنا مقدر پالے گا۔ اگر آخرت کے لیے کوشاں ہوگا تو آخرت میں اپنا حصہ پائے گا۔ اب اس کا ایک حوالہ دے کر مسلمانوں کو روشن مستقبل کی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ دنیا میں ” اللہ “ کی مدد کی ایک عظیم مثال ملاحظہ فرمائیں کہ ایک وقت تھا کہ جب ایرانیوں کے مقابلے میں رومی شکست فاش سے دوچار ہوئے اور مسلمان کفار کے ہاتھوں مار کھا رہے تھے، ان نازک ترین اور ناقابل یقین حالات میں اعلان ہوتا ہے کہ عنقریب رومی غالب ہونگے۔ شکست میں بھی ” اللہ “ کا حکم کار فرما تھا اور فتح بھی ” اللہ “ کے حکم سے ہوگی ” اللہ “ کی مدد سے اس دن مومن خوش ہوجائیں گے، اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے کیونکہ وہ ہر اعتبار سے غالب اور مہربان ہے۔ وہ جس کو زیر کرنا چاہے وہ دم نہیں مار سکتا جس پر رحم کرنا چاہے وہ زیر نہیں ہوسکتا وہی کامیابی اور شکست دینے پر اختیار رکھتا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت سے آٹھ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ روم میں محلاتی سازشوں کی وجہ سے ایک خونی انقلاب برپا ہوا۔ جس میں روم کے بادشاہ مارلیس اور اس کے خاندان کو قتل کردیا گیا۔ اس کے بعد فوک اس نامی سردار سلطنت روم پر قابض ہوا، حالات کی نزاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے بادشاہ خسرو پرویز نے روم پر حملہ کیا اور یہ جواز بنایا کہ روم کا بادشاہ ماریس میرا محسن تھا، کیونکہ ایران میں اقتدار سنبھالنے کے لیے اس نے خسرو پرویز کی مدد کی تھی۔ اس بات کو بہانہ بناتے ہوئے خسرو نے مسلسل پیش قدمی کر کے روم کا بیشتر علاقہ اپنے قبضہ میں لے لیا یہاں تک کہ روم کے بادشاہ کو اپنی جان بچانی بھی مشکل ہوگئی۔ دوسری طرف حجاز کے مرکز مکہ معظمہ میں عقیدہ توحید کی بنیاد پر زبردست کشمکش برپا تھی۔ اس اثناء میں مسلمانوں کو مجبور کردیا گیا کہ وہ مکہ سے نکل جائیں۔ حالات کی مجبوری کی وجہ سے کچھ مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی جو روم کے زیر اثر عیسائی حکومت تھی۔ اس عالمی کشمکش میں قرآن اعلان کرتا ہے کہ ٹھیک دس سال میں ایرانیوں پر رومی غالب آئیں گے اور اس دن مسلمانوں کو بھی خوشی نصیب ہوگی۔ یاد رہے کہ ” بِضْعَ سِنِیْنَ “ کا ہندسہ ایک سے دس تک بولا جاتا ہے۔ اس دور کے تجزیہ نگار اور سیاست دان خاص کر اہل مکہ اس اعلان کو دیوانے کی بڑ سمجھتے تھے، لیکن وہی ہوا جو قرآن مجید نے اعلان کیا تھا۔ صورت حال یہ تھی کہ مسلمانوں کی ہمدردیاں ایران کے مقابلے میں رومیوں کے ساتھ تھیں کیونکہ رومی اہل کتاب تھے گو ان کی مذہبی حالت بگڑ چکی تھی۔ اس کے باوجود عیسائی اپنے آپ کو توحید کے دعوے دار اور آخرت پر ایمان لانے والے سمجھتے تھے، ان کے مقابلے میں ایرانیوں نے یزدان اور ہر من کے نام پر دو خدا بنا رکھے تھے۔ وہ ان کی عبادت کرتے تھے اس کے ساتھ ایرانیوں کی غالب اکثریت آگ کی پوجا بھی کرتی تھی۔ اسی بنا پر مشرکین کی ہمدردیاں خسرو پرویز کے ساتھ تھیں اور مسلمانوں کے جذبات رومیوں کے ساتھ تھے۔ رومیوں کو شکست ہوئی تو مکہ والوں نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ اسی طرح تم بھی ہمارے مقابلے میں ناکام ہوجاؤ گے۔ ان حالات میں سورة روم کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں دو ٹوک انداز میں مسلمانوں کو خوشخبری دی گئی کہ بیشک تمہارے قریب اور ابھی، ابھی رومی شکست کھا گئے ہیں۔ لیکن ٹھیک دس سال میں یہ ایرانیوں پر فتحیاب ہوں گے اور اس سے مسلمان خوش ہوجائیں گے، اس کے ساتھ مسلمانوں کو بھی اللہ کی مدد حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرتا، حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس خوشخبری کا کفار کی ایک مجلس میں ذکر کیا جس کا کفار نے خوب مذاق اڑایا، سیدنا ابوبکر (رض) کی تکرار ابی بن خلف سے ہوئی تو بات اس نقطہ پر پہنچی کہ اگر رومی غالب ہوئے تو ابی بن خلف دس اونٹ ابوبکر صدیق کے حوالے کرے گا اگر ایرانیوں نے فتح پائی تو دس اونٹ ابوبکر صدیق (رض) ابی بن خلف کو دیں گے۔ اس گفتگو کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر اپنی شرط کی تفصیل بتائی۔ (أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لأَبِی بَکْرٍ فِی مُنَاحَبَۃٍ (الم غُلِبَتِ الرُّومُ ) أَلاَّ اِحْتَطْتَ یَا أَبَا بَکْرٍ فَإِنَّ الْبِضْعَ مَا بَیْنَ الثَّلاَثِ إِلَی التِّسْعِ )[ رواہ الترمذی : باب و من سورة الروم ] آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” بِضْعِ “ کا لفظ ایک سے دس تک کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ابی کے پاس جا کر تین سال کی بجائے دس سال کی شرط لگائیں۔ ابوبکر صدیق (رض) نے اس طرح ہی کیا لیکن اس مرتبہ دس اونٹوں کی بجائے سو اونٹ قرار پائے۔ یاد رہے کہ بعدازاں شریعت میں اس طرح کی شرط لگانے سے منع کردیا گیا ہے۔ (النَّبِیّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَاب اللَّہِ کُلُّ شَرْطٍ لَیْسَ فِی کِتَاب اللَّہِ فَہُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَان ماءَۃَ شَرْطٍ کِتَاب اللَّہِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّہِ أَوْثَقُ وَالْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ )[ رواہ البخاری : باب المکاتب ] نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے ؟ کہ وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں اور ہر ایسی شرط ناجائز ہے۔ جس کا کتاب اللہ میں وجود نہ ہو اگرچہ ایسی سو شرائط ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کی کتاب برحق ہے اور اللہ کی شرائط مستقل ہیں ولاء کا حق دار وہی ہے جو غلام کو آزاد کرائے۔ “ مسائل ١۔ قرآن مجید کی پیشین گوئی کے مطابق رومی ٹھیک ٩ سال کے اندر ایرانیوں پر فتح یاب ہوئے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے رومیوں کی فتح کے ساتھ ہی مسلمانوں کو بدر کے مقام پر زبردست فتح عطا فرمائی۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی مدد سے کمزور بھی فتح پاتے ہیں : ١۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (آل عمران : ١٢٣) ٢۔ غار ثور میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کی مدد فرمائی۔ (التوبۃ : ٤٠) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کے مقابلے میں بیت اللہ کا تحفظ فرمایا۔ (الفیل : مکمل) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (القصص : ٥) ٥۔ ” اللہ “ کی مدد سے قلیل جماعتیں کثیر جماعتوں پر غالب آئیں۔ ( البقرۃ : ٢٤٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل فارس پر رومیوں کے غالب ہونے کی پیشین گوئی اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا ابی بن خلف سے ہار جیت کی بازی لگانا حضرات مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان آیات کا سبب نزول ذکر فرماتے ہوئے لکھا ہے کہ فارس اور روم کے درمیان جنگ ہونے کی صورت بن گئی تھی، اہل فارس جن کا بادشاہ کسریٰ تھا، یہ لوگ مشرک تھے، اور رومیوں کا بادشاہ قیصر تھا یہ لوگ اہل کتاب تھے۔ اہل اسلام کی خواہش تھی کہ روم والے فارس پر غالب ہوجائیں کیونکہ اہل روم اہل کتاب تھے اور مشرکین کی خواہش تھی کہ فارس والے اہل روم پر غالب ہوجائیں کیونکہ وہ اہل شرک تھے، قریش مکہ کے ہم مذہب تھے، کسریٰ نے بھی اپنا لشکر بھیجا اور قیصر نے بھی، اور مقام اذرعات اور بصریٰ پر دونوں لشکر کی مڈبھیڑ ہوئی۔ یہ شام کا علاقہ ہے جو سرزمین عرب سے قریب ہے جس میں مسلمان رہتے تھے۔ جنگ کے نتیجہ میں اہل فارس رومیوں پر غالب آگئے جب یہ خبر پھیلی تو مسلمانوں کو رنج ہوا اور کفار مکہ نہ صرف یہ کہ خوش ہوئے بلکہ انہوں نے مسلمانوں سے یہ بھی کہا کہ تم اہل کتاب ہو اور نصاریٰ یعنی رومی بھی اہل کتاب ہیں اور ہمارے بھائی اہل فارس تمہارے رومی بھائیوں پر غالب آگئے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر تم نے ہم سے جنگ کی تو ہم بھی تم پر غالب ہوجائیں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں جن میں بتادیا کہ عنقریب ہی رومی لوگ اہل فارس پر چند سال میں غالب ہوجائیں گے۔ یہ پیشین گوئی فرماتے ہوئے لفظ بِضْعِ سِنِیْنَ فرمایا ہے، لفظ بِضْعِ عربی زبان میں تین سے لے کر نو تک کے عدد کے لیے بولا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے بتادیا کہ جس دن اہل روم اہل فارس پر غالب ہوں گے اس دن اہل ایمان خوش ہوں گے۔ جب مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں تو ابوبکر صدیق (رض) نے کفار مکہ سے کہا کہ تم آج اس بات پر خوش ہو رہے ہو کہ تمہارے ہم مذہب غلبہ پاگئے، تم خوشی نہ مناؤ اللہ کی قسم ہم فارس پر غالب ہوں گے جیسا کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خبر دی ہے۔ اس پر ابی بن خلف نے کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو، حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے جواب میں فرمایا کہ اے اللہ کے دشمن ! تو جھوٹا ہے، چل تو مشارطہ کرلے، یعنی ہم اور تم اپنے درمیان ایک میعاد مقرر کرلیں اور دس دس اونٹ لینے دینے کی ذمہ داری قبول کرلیں، اگر اس مدت میں رومی فارس پر غالب آگئے تو مجھے دس اونٹ دے گا اور اگر اہل فارس غالب ہوگئے تو میں دس اونٹ دوں گا آپس میں اس کا معاہدہ کرلیا گیا اور تین سال کی مدت مقرر کرلی گئی۔ حضرت ابو بکرصدیق (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جو معاملہ اور معاہدہ کیا تھا وہ خدمت عالی میں پیش کردیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تو بِضْعِ سِنِیْنَ فرمایا ہے جس میں تین سے لے کر نو سال کے درمیان رومیوں کے غالب ہونے کی خبر دی ہے لہٰذا تم ایسا کرو کہ مدت بڑھا لو جو آپس میں لینا دینا طے کیا ہے اس میں بھی اضافہ کرلو۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے پھر ابی بن خلف سے ملاقات کی ابی نے دیکھتے ہی کہا کہ تم نے جو شرط باندھی ہے اس پر نادم ہو رہے ہو، حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے فرمایا میں نادم نہیں ہوں اپنی بات پر قائم ہوں بلکہ مجھے مدت اور اونٹوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے بعد مدت مقررہ کو آپس میں طے کرکے نو سال کردیا گیا اور بجائے دس دس اونٹ دینے کے ہر جانب سے سو سو اونٹ دینے کی بات ہوگئی۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ سات سال کے اندر ہار جیت ہونے پر معاہدہ و معاملہ کیا گیا تھا ابی بن خلف کو یہ خوف ہوا کہ کہیں ابوبکر (رض) مکہ معظمہ سے باہر چلے جائیں، وہ ان سے آکر کہنے لگا کہ مجھے ضامن دے دو ، اگر شرط میں تم ہارے تو تمہارے ضامن سے مقررہ تعداد میں اونٹ لے لوں گا، اس پر حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنے بیٹے ١ ؂ عبد اللہ کو ضامن بنا دیا (کچھ عرصہ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لے آئے) اس کے بعد ابی بن خلف کو مکہ معظمہ سے نکلنے کی ضرورت پیش آئی، وہ قریش مکہ کے ساتھ جنگ احد کے موقع پر مکہ معظمہ روانہ ہونے لگا، اس پر ابی بن خلف سے ابوبکر (رض) نے کہا تو مجھے ضامن دے دے اگر تیری ہار ہوجائے تو تیرے ضامن سے سو اونٹ لے لوں، چناچہ اس نے ایک شخص کو ضامن بنا دیا اس کے بعد یہ ہوا کہ واقعہ حدیبیہ کے پہلے سال اہل روم اہل فارس پر غالب آگئے جبکہ مشارطہ اور معاہدہ کو چھ سال گزر گئے تھے اور ساتواں سال شروع ہوچکا تھا (ابی بن خلف زندہ نہ تھا اس سے پہلے مقتول ہوچکا تھا) رومیوں نے جو اہل فارس پر غلبہ پایا تو اس سے حضرت ابوبکرصدیق (رض) کی جیت ہوگئی اور ابی بن خلف کے وارثوں سے سو اونٹ وصول کرلیے گئے۔ حضرت ابوبکرصدیق (رض) یہ مال لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس مال کو صدقہ کردو۔ ٢ ؂ چونکہ مذکورہ مشارطہ قمار یعنی جوا ہے اس لیے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ جس وقت معاہدہ کیا تھا اس وقت قمار یعنی جوا ممنوع نہ تھا، جب مال وصول ہوا اس وقت قمار کی حرمت نازل ہوچکی تھی، یہ وجہ صدقہ کا حکم فرمانے کی سمجھ میں آتی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت تک حرمت نازل نہ ہوئی ہو یوں ہی مسلمانوں کی عام ضرورتوں میں خرچ کرنے کا حکم فرمایا ہو۔ اور بعض روایات میں اس کے لیے جو لفظ حرام وارد ہوا ہے اگر روایۃً صحیح ہو تو مکروہ اور ناپسندیدہ کے معنی میں لیا جائے گا۔ (کما قال صاحب الروح) (لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ بَعْدُ ) (اللہ ہی کے لیے اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی) یعنی جو کچھ پہلے ہوا کہ اہل فارس غالب ہوئے اور رومی مغلوب ہوئے اور جو اس کے بعد ہوگا کہ رومی غالب ہوں گے اور اس کے علاوہ جو بھی کچھ ہوگا وجود میں آئے گا وہ ١ ؂ معالم التنزیل میں عبد اللہ بن ابی بکر (رض) اور روح المعانی میں عبد الرحمن بن ابی بکر (رض) ہے۔ ٢ ؂ یہ تفصیل ہم نے معالم التنزیل جلد ٣ ص ٤٧٥ سے نقل کی ہے، اس سلسلہ میں اور بھی متعدد روایات ہیں جنہیں حافظ ابن کثیر (رض) نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے، روح المعانی میں سنن ترمذی سے نقل کیا ہے کہ غزوہ بدر کے موقعہ پر رومیوں نے اہل فارس پر غلبہ پایا، امام ترمذی (رض) نے اس کی سند کو حسن بتایا ہے، غزوۂ بدر ٢ ھ میں ہوا تھا اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے یوں کہا جائے گا کہ حضرت ابو بکرصدیق (رض) نے ابی بن خلف ہی سے سو اونٹ وصول کیے کیونکہ ابی بن خلف کی موت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نیزہ مارنے سے ہوئی تھی، یہ واقعہ غزوہ احد کا ہے جو ٣ ھ میں پیش آیا تھا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ رومیوں اور فارس کے مجوسیوں کے درمیان اذرعات اور بصری یا اردن اور فلسطین کے درمیان جنگ ہوئی جس میں رومی مغلوب ہوگئے۔ مسلمانوں کی خواہش تھی کہ رومی غالب ہوں کیونکہ وہ اہل کتاب (نصاری) ہیں اس لیے اہل کتاب پر فارس کے مشرکوں (مجوسیوں) کے غلبے کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت صدمی اور غم لاحق ہوا اور دوسری طرف مشرکین مکہ بہت خوش ہوئے کہ ان کے بھائی (مجوسی) اہل کتاب پر غالب آگئے۔ فی ادنی الارض الخ یعنی ایسی زمین میں جو فارس کی نسبت ارض مکہ سے زیادہ قریب ہے۔ وا دنی الارض اقربھا فان کانت الواقعۃ فی اذرعات فھی ادنی الارض بالنظر الی مکۃ) (بحر ج 7 ص 162) ۔ وقدجاء من طرق عدیدۃ ان الحرب وقع بین اذرعات و بصری وقال ابن عباس والسدی بالاردن و فلسطین (روح ج 21 ص 17) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

2۔ اہل روم مغلوم ہوگئے ، یعنی رومی فارس سے کمزور پڑگئے اور دب گئے اور ان کو شکست ہوگئی۔